370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 12)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

نمیر کافی گہری نیند میں سو رہا تھا تب اسے نیند میں احساس ہوا کہ اس کا موبائل بج رہا ہے اس نے ہاتھ آگے بڑھا کر اپنا موبائل اٹھایا ایک نظر الارم پیس میں دیکھا ساڑھے تین بج رہے تھے۔۔۔ اپنے موبائل پر نہال کی کال دیکھ کر اسے حیرت ہوئی

“ہیلو”

نمیر نیند میں ڈوبی ہوئی آواز میں بولا

“اسلام علیکم میں پوچھ سکتا ہوں نہال بیگ سے آپ کا کیا ریلیشن ہے”

نمیر کے کان میں اجنبی آواز ٹکرائی تو نمیر کا دماغ بیدار ہوا

“آپ کون بات کر رہے ہیں نہال کہاں ہیں اس وقت”

نمیر بولنے کے ساتھ اٹھ کر بیٹھا اور لیمپ ان کیا

“دیکھئے نہال کے موبائل میں لاسٹ کال اسی نمبر پر ملی تھی اس لئے میں نے یہ نمبر ڈائل کیا ہے تاکہ میں اپکو انفارم کرسکو آپ پلیز ان کے گھر والوں کو انفارم کر دیں۔۔۔ نہال کا کار ایکسیڈنٹ ہونے کے باعث وہ اس وقت ہاسپیٹل میں کافی کریٹیکل کنڈیشن میں ہے”

نمیر پر یہ خبر بجلی کی طرح گری وہ کال ڈسکنیکٹ کرتا ہوا باہر نکلا

****

“عنایہ بیٹا دروازہ کھولیے”

دروازے پر مسلسل ہونے والی دستک سے بھی اس کی آنکھیں نہیں کھل رہی تھی ایک تو وہ سوتی بھی بہت گہری نیند تھی۔۔۔ اوپر سے کل رات کو اس نے بہت دیر تک نہال کا انتظار کیا۔۔۔ نہال کی انوکھی فرمائش پر اس نے کل رات مہندی پر پہنا ہوا چٹاپٹی کا غرارہ ابھی تک نہیں بدلا تھا نہال نے میسج پر عنایہ کو اپنے انے کا بتایا،،، عنایہ اس کا انتظار کرتے کرتے سوگئی

مسلسل دروازے پر ہونے والی دستک نے آخرکار اس کو اٹھنے پر مجبور کر ہی دیا وہ دوپٹہ سر پر ٹکاتی ہوئی بیڈروم کا دروازہ کھولنے لگی

“خیریت تو ہے بوا اتنی صبح صبح آپ نے جگا دیا صبح کے ساڑھے نو بج رہے تھے اور آج چھٹی کا دن تھا عموماً چھٹی کے دن صبح تھوڑا لیٹ اٹھا جاتا تھا مگر بوا کو جلدی اٹھتا دیکھ کر عنایہ کو حیرت ہوئی اس لئے پوچھ بیٹھی

“خیریت ہی تو نہیں ہے بیٹا جی اب آپ کو کیا بتاؤں میں”

بوا عنایہ کو مہندی کے ڈریس میں اس کے مہندی بھرے ہاتھ دے کر آبیدہ ہونے لگی

“کیوں کیا ہوگیا۔۔۔۔ ماموں جان کہاں پر ہیں”

عنایہ کو سب سے پہلا خیال فرمان کا آیا تبھی وہ اپنے کمرے سے نکل کر فرمان کے کمرے میں جانے لگی مگر بوا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا

“فرمان صاحب اور بیگم صاحبہ آدھے گھنٹے پہلے ہسپتال گئے ہیں”

بوا عنایہ کے ہاتھ دیکھتی ہوئی بولی جن پر مہندی کا بڑا گہرا رنگ آیا تھا

“بوا پلیز پہلیاں مت بجھائے خدا کے لیے مجھے بتائیے کیا ہوا ماموں جان کو”

عنایہ گھبراتی ہوئی بوا سے پوچھنے لگی

“فرمان صاحب ٹھیک ہیں بیٹا۔۔۔ کل رات نہال بابا کی کار کا ایکسیڈینٹ ہوگیا انکی حالت کافی تشویش ناک ہے سب اس وقت ہسپتال میں موجود ہیں”

بوا اپنے انسو صاف کرتی ہوئی بولی عنایہ نہال کے ایکسیڈینٹ کی خبر سن کر دو قدم پیچھے ہٹی وہ بے یقینی سے بوا کو دیکھنے لگی اسکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں یکدم مفلوج ہوگئی صرف اس کے دماغ میں ایک ہی بات گردش کر رہی تھی نہال کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے اس سے پہلے وہ لڑکھڑا کر زمین پر گرتی بوا نے اس پکڑ کر کرسی پر بٹھایا اب وہ عنایہ کے لیے پانی لینے گئی۔۔۔۔ عنایہ اب خود بھی اپنے ہاتھوں میں رچی مہندی کو خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی

****

نمیر رات میں ہی ڈاکٹر کے بتائے ہوئے اسپتال میں نہال کے پاس پہنچ گیا جہاں نہال کو ٹریٹمینٹ دیا جا رہا تھا۔۔۔ نہال کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال پہنچانے والا کوئی ڈاکٹر تھا جو رات میں اسی جگہ سے گزر رہا تھا جہاں نہال کی گاڑی تباہ کن حالت میں کھڑی تھی۔۔۔ ڈیڑھ سے دو گھنٹے بعد ڈاکٹر نے نمیر کو اپنے روم میں بلا کر یہ بری خبر سنائی کہ دماغ پر خون کے کلوٹز جمنے کی وجہ سے نہال کومے میں جا چکا ہے،،، واپس ہوش میں آنے کی مدت کیا ہے اس کے بارے میں واضح کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔۔۔ ہوسکتا ہے دو دن دو ماہ دو سال یا پھر وہ ساری زندگی کومے کی حالت میں رہے۔۔۔۔ ڈاکٹر نے ساتھ میں اس اندیشے سے بھی نمیر کو جانکاری دی بہت زیادہ ممکن تھا نہال کے ہوش میں آنے کے بعد اس کی میموری جا چکی ہو یہ ساری خبریں نمیر کو نڈھال کئے دے رہی تھیں۔۔۔ اس میں نہال کے لیے اچھی خبر کوئی نہیں تھی سوائے اس کے کہ اس کی جان بچ گئی ہے مگر بیڈ پر لیٹے نہال کو زندہ لاش بنے دیکھ کر نمیر کو رونا آنے لگا

صبح سات بجے کے قریب نمیر نے موبائل سے کال کرکے نوفل کو نہال کے بارے میں بتایا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ ثروت کو اپنے ساتھ اسپتال لیتا آئے اس کے بعد نمیر نے فرمان کو بھی کال کر کے ساری صورتحال سے آگاہ کیا اور خود آنکھیں بند کیے تھکے ہوئے انداز میں کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا

جب ثروت نے نہال کو پٹیوں میں جگڑے زخمی حالت میں دیکھا تو نوفل اور نمیر دونوں کا ثروت کو سنبھالنا مشکل ہو گیا تھوڑی دیر بعد فرمان اور عشرت بھی اسپتال پہنچ گئے،،،، عشرت خود بھی نہال کی حالت کو دیکھ کر رو پڑی۔۔۔ نہال کو دیکھ کر دکھ فرمان کو بھی ہوا مگر اسے رہ رہ کر اپنی بھانجی عنایا کا خیال آ رہا تھا نہال کو ابھی بھی ائی سی یو میں رکھا گیا تھا۔۔۔۔ سب اس کی حالت دیکھ کر غمزدہ تھے

نوفل نمیر کے کہنے پر ثروت کو بہلاتا ہوا اسپتال سے تھوڑی دیر کے لیے گھر لے گیا جس پر ثروت راضی نہیں تھی تھوڑی دیر بعد فرمان اور عشرت بھی اپنے گھر کے لیے نکل گئے پندرہ سے بیس منٹ گزرے تھے نمیر کے موبائل پر عنایہ کی کال آئی وہ ہسپتال میں موجود تھی

“تم یہاں کیسے پہنچی عنایہ”

نمیر نے عنایہ کے پاس پہنچ کر اس سے سوال کیا

“ڈرائیور کے ساتھ آئی ہوں اسے صرف ہاسپٹل کا علم تھا آپ مجھے نہال کے پاس لے چلیں”

عنایہ نے اس وقت بہت مشکلوں سے اپنی آنسوؤں کو ضبط کیا ہوا تھا۔۔۔

ایک پل اسے دیکھ کر نمیر کو اس پر ترس آیا۔۔۔۔ یہ وقت ان سب کے لئے کسی آزمائش سے کم نہیں کا مگر ان میں سے کوئی یہ نہیں جانتا کہ آزمائش کا وقت ان سب کے لیے اب شروع ہوچکا ہے اس سے بڑی آزمائش ایک اور ان کی تقدیر میں لکھی جا چکی تھی

****

“عنایہ سنبھلو خود کو”

نہال کو بیڈ کر بے ہوشی کی حالت میں لیٹا دیکھ کر عنایہ کا ضبط جواب دے گیا وہ نہال کی حالت دیکھ کر بلک بلک کر رونے لگی۔۔۔۔ کل اس کی شادی ہونے والی تھی کل سے متعلق ہر عام لڑکی کی طرح ڈھیر سارے خواب اس نے جاگتی آنکھوں سے دیکھ ڈالے تھے مگر آج اس بھیانک حقیقت کو دیکھ کر اس کا دل بری طرح تڑپ گیا تھا

“کیسے سنبھالو خود کو۔۔۔ آپ کو معلوم نہیں ہے کتنی بزدل اور کمزور ہوں میں۔۔۔ ایسا کیوں ہوگیا نمیر بھائی پلیز آپ نہال سے بولیے ناں مجھے ڈر لگ رہا ہے،،، خوف آ رہا ہے ان کو اسطرح دیکھ کر”

عنایہ کے رونے میں شدت آئی تو نمیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دینے لگا۔۔۔ نمیر اور عنایہ کاریڈور میں موجود تھے تب نمیر کو دور سے نوفل آتا دکھائی دیا

“تمہاری ضد پر میں آنٹی کو چھوڑ کر آگیا ہوں مگر ان کا اکیلا رہنا مناسب نہیں ہے تم ایسا کرو تھوڑی دیر کے لئے گھر کا چکر لگالو اور ریسٹ بھی کرلو۔۔۔ یہاں کی فکر مت کرو میں یہاں پر موجود ہوں شام تک”

نوفل سر کے اشارے سے عنایہ کو سلام کرکے نمیر سے مخاطب ہوا اور نمیر کے منع کرنے کے باوجود نوفل نے نمیر کو گھر بھیج دیا نمیر عنایہ کو گھر ڈراپ کرنے کے بعد ثروت کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا

“آپ اندر نہیں آئے گے”

نمیر نے فرمان کے گھر کے پاس کار روکی تو عنایہ نمیر سے پوچھنے لگی

“نہیں ماما اکیلی ہیں بس گھر جاؤگا تم اپنا خیال رکھنا” نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا

“آپ رات سے ہاسپٹل میں ہیں۔۔۔ یقیناً آپ نے کچھ بھی نہیں کھایا ہوگا آپ یہاں پر ناشتہ کرلے پھر ثروت آنٹی کے پاس چلے جائیے گا”

عنایہ نمیر کا احساس کرتی ہوئی بولی نمیر کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے

“اس وقت کچھ بھی کھانے کا دل نہیں کر رہا”

نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا عنایہ کار سے اترنے لگی تو نمیر دوبارہ بولا

“لیکن اگر تم میرے ساتھ ناشتہ کروگی تو پھر میں ناشتہ کرلوں گا”

نمیر کو لگا یقیناً عنایہ نے بھی ناشتہ نہیں کیا ہوگا وہ بھی اس کے احساس سے بولا عنایہ مسکرا تو نہیں سکی،، سر اقرار میں ہلا کر کار سے اتر گئی اس کے پیچھے نمیر بھی کار سے اتر کر گھر کے اندر داخل ہوا۔۔۔۔ نمیر کچن میں عنایہ پر نظر ڈال کر وہی ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھ گیا

“بیٹا اگئے آپ دونوں اب نہال بابا کی طبیعت کیسی ہے”

بوا نے ناشتہ بناتی عنایہ کو دیکھ کر نمیر سے سوال کیا

“تسلی بس اس بات کی ہے کہ اس کی سانسیں چل رہی ہیں اور دل دھڑک رہا ہے آپ پلیز نہال کے لیے دعا کریں”

نمیر کے لہجے میں زمانوں کی تھکن موجود تھی

“اللہ بہت کارساز ہے وہ اپنا کرم کرے گا آپ پریشان مت ہو اور عنایہ بیٹا آپ بھی یہاں آ کر بیٹھو میں آپ دونوں کے لیے ناشتہ بناتی ہوں”

بوا عنایہ کو کہتی خود ان دونوں کے لئے ناشتہ بنانے لگی عنایہ نمیر کے سامنے چیئر پر بیٹھ گئی نمیر اسے دیکھنے لگا مگر وہ گہری سوچ میں گم تھی۔۔۔۔ اپنے ہاتھ پر دوسرے کسی ہاتھ کے لمس سے وہ سوچوں کی دنیا سے واپس آئی اس نے ٹیبل پر رکھے اپنے ہاتھ پر نمیر کا ہاتھ دیکھا اور پھر نمیر کو دیکھا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا

“میں اس وقت تمہارا درد سمجھ سکتا ہوں،،، یہ وقت ہم سب کے لیے بہت گڑا ہے نہال کو لے کر سب بہت دکھی ہیں مگر اس وقت عنایہ تمہیں تھوڑی ہمت سے کام لینا ہو گا پلیز تھوڑا سا خود کو اسٹونگ بناؤ”

نمیر عنایہ کا ہاتھ تھامے اس کا حوصلہ بڑھاتا ہوا کہنے لگا دوسرے ہاتھ سے وہ اپنے آنسو پونچھے لگی رونے کے باعث اس کی آنکھیں سوجھ چکی تھی

“جانتی ہو نہال نے تمہیں تمہارے بارے میں ایک بات کبھی نہیں بتائی ہوگی۔۔۔ معلوم ہے وہ بات کیا ہے”

نمیر عنایہ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ ہٹا کر اسے پوچھنے لگا عنایہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی

“تم مسکراتی ہوئی بہت پیاری لگتی ہو حسین لڑکی”

نمیر اسمائل دیتا ہوا عنایہ کو کہنے لگا نمیر کی بات سن کر وہ ہلکا سا مسکرائی مگر وہ نمیر کو یہ نہیں بول سکی یہ بات نہال نے کہی بار اسے بتائی تھی

“چلو اب ناشتہ کرنے میں میرا ساتھ دو”

بوا ناشتہ لے کر آئیں تو نمیر عنایہ سے بولا

وہ دونوں ناشتہ کر رہے تھے ابھی ناشتے کا دوران تھا کہ عشرت اپنے کمرے سے نکل کر آئی۔ ۔۔ اسے عنایہ پر ویسے ہی کم غصہ نہیں تھا۔ ۔۔۔۔ نمیر کے ساتھ اسے ٹیبل پر بیٹھے دیکھ کر عشرت کو آگ لگ گئی

“بے غیرت،، منحوس،، ڈائن اپنے ہونے والے شوہر کو کھا اب یہاں بیٹھی بےشرمو کی طرح کھانے کھا رہی ہے” عشرت وہی سے چلاتی ہوئی عنایہ کے پاس آئی۔۔۔ عشرت کی بات سن کر عنایہ کے منہ میں جاتا نوالہ پلیٹ میں گر گیا وہی نمیر نے ناگواری سے عشرت کو دیکھا