Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 3)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 3)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“کیا تم نے اس پولیس والے کے منہ پر تھپڑ مار دیا”
عنایہ آج کالج آئی تو شانزے نے اسے کل والا قصہ سنایا جس پر عنایہ تقریباً چیختی ہوئی بولی وہ دونوں اس وقت کالج کے لان میں گھاس کر بیٹھی ہوئی تھی
“تو اور کیا کرتی بےہودہ انسان بلاوجہ میں فری ہونے کی کوشش کر رہا تھا”
شانزے سر جھٹکتی ہوئی بولی
“تمہیں معلوم ہے شانزے پولیس والے کتنے خطرناک ہوتے ہیں،، یقیناً وہ کوئی شریف انسان ہوگا جس نے تمہاری اس حرکت کے بعد بھی تمہیں چھوڑ دیا۔۔۔ اگر تمہارے تھپڑ مارنے کے بدلے وہ کچھ الٹا سیدھا کر دیتا تو۔۔۔ او مائی گاڈ قسم سے تم بھی نا کبھی کبھی بےتکی حرکتیں کرنے لگ جاتی ہو”
عنایہ فطرتاً ویسے ہی ڈر پوک تھی۔۔۔ اسے اپنی دوست کی دلیری سے خوف آنے لگا
“ایویں کچھ الٹا سیدھا کر دیتا منہ نہ توڑ دیتی میں اس کا۔۔۔۔ ایک تو وہ مرد اوپر سے پولیس والا،،، فل ہیرو بننے کی ٹرائی کررہا تھا اب کسی بھی لڑکی سے ٹھرک پن کرنے سے پہلے تھپڑ ضرور یاد کرے گا خیر لعنت بھیجو اس قصے پر یہ بتاؤ کل تمہاری مامی اور اس نک چڑی کزن کا موڈ ٹھیک رہا”
شانزے اور عنایہ کی دوستی کو دو سال کا عرصہ ہوا تھا مگر ان دو سالوں میں ان دونوں کی دوستی کافی گہری ہو گئی تھی۔۔۔ وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے گھر کے حالات سے اچھی طرح باخبر تھی
“میں کوشش کرتی ہوں مما بابا کی برسی والے دن کمرے سے باہر ہی نہ نکلو،، کل بھی میں نے ایسا ہی کیا تھا”
عنایہ شانزے کو بتاتی ہوئی گھاس پر رکھے ہوئے نوٹس سمیٹنے لگی کیوکہ اب کلاس کا ٹائم ہونے والا تھا
“یو منہ چھپاکر بیٹھ جانا کوئی مسئلہ کا حل نہیں ہوتا عنایہ،، کتنی بار میں نے تم سے کہا ہے تھوڑا اسٹرونگ بنو اور اپنے اندر کونفیڈنس پیدا کرو مانا کہ وہ تمہارے پیرنٹس کا گھر نہیں ہے ماموں کا گھر ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تمہاری مامی اور وہ نکچڑی، بات بات پر ہی تمہیں باتیں سنائے”
شانزے کا دو بار ہی کالج سے عنایہ کے گھر جانا ہوا تھا تبھی اس نے عشرت اور منال کا عنایہ کے ساتھ تحقیر بھرا رویہ دیکھا وہ تب سے ہی عنایہ کو اسی طرح نصیحت کرتی رہتی
“اصل بات یہی ہے کہ وہ گھر میرے پیرنٹس کا نہیں ان لوگوں کا ہے خیر چلو کلاس کا ٹائم ہوگیا ہے”
عنایہ نے شانزے سے کہا تو شانزے بھی کلاس لینے کے ارادے سے کھڑی ہوگئی
****
“عنایہ”
کالج سے چھٹی کے وقت جب عنایہ کالج سے باہر نکل کر گاڑی تلاش کر رہی تھی تو پیچے سے اسے کسی نے پکارا
“نہال بھائی آپ یہاں۔۔۔۔ کیسے ہیں آپ”
عنایہ نے پلٹ کر دیکھا تو نہال کو کھڑا پایا۔۔۔ اس نے چونکنے کے ساتھ خیریت بھی پوچھی
“میں ٹھیک ہو،،، کار وہاں کھڑی ہے آو میں ڈراپ کردیتا ہوں”
نہال نے عنایہ کو دیکھتے ہوئے کہا
“وہ ڈرائیور آتا ہی ہوگا”
عنایہ نے ججھکتے ہوئے کہا
“ڈرائیور کو تو میں واپس بھیج چکا ہو”
نہال اسے دیکھتے ہوئے بتانے لگا
“مگر کیوں”
عنایہ نے حیرت سے پوری آنکھیں کھول کر دیکھا
“میں نے سوچا تمہیں میں ڈراپ کر دوں اسلیے اسے بھیج دیا، لیکن اگر تم میرے ساتھ نہیں جانا چاہتی تو کوئی بات نہیں، میں اسے واپس بلا لیتا ہو،، وہ راستے میں ہی ہوگا”
نہال نے بولنے کے ساتھ ہی اپنا موبائل پاکٹ سے نکال کر ڈرائیور کو کال کرنے لگا
“ارے نہیں رہنے دیں”
عنایہ ایک دم بولی۔۔۔ نہال کال کاٹ کر اسے دیکھنے لگا
“میرا مطلب تھا اٹس اوکے آپ ہی چھوڑ دیں مجھے گھر”
نہال کے دیکھنے پر عنایہ جلدی سے بولی اسے ڈر تھا کہیں وہ برا ہی نہ مان جائے،،، اس کے ساتھ جانے میں ایسی کوئی قباحت بھی نہیں تھی اخر کو وہ مامی کے بھانجے تھے اور اس کے ٹیوٹر بھی
“سیٹ بیلٹ باندھ لو”
نہال اپنی سیٹ پر بیٹھا تو عنایہ سے کہتا ہوا کار اسٹارٹ کرنے لگا
“یہ نہیں بند ہو رہی”
کوشش کے باوجود جب عنایہ سے بیلٹ نہیں لگی تو عنایہ نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا
“دکھاؤ”
نہال بولنے کے ساتھ سیٹ بیلٹ لگانے لگا عنایہ سانس روکی ہوئی بالکل اسٹریٹ ہوگئی۔۔۔ نہال نے پوری احتیاط کے ساتھ کہ عنایہ کو اس کی انگلیاں نہ ٹچ ہو اسکے بیلٹ باندھی
“تمہاری عادت ابھی تک نہیں بدلی،،، مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے تین سال پہلے جب تمہیں نمریکلز سمجھ نہیں آتے تھے،، تو تم اسے سمجھنے کی کوشش چھوڑ دیتی تھی”
نہال نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے عنایہ کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔ جس پر عنایہ مسکرا دی
“آپ کو کتنا غصہ آتا ہوگا ناں اس وقت”
عنایہ کو وہ وقت یاد آنے لگا جب عنایہ کے دسویں بار کہنے پر
‘کہ مجھے سمجھ میں نہیں آیا’
نہال بغیر غصہ کیے اسے گیارہویں بار سمجھا رہا ہوتا تھا
“نہیں مجھے غصہ بہت کم کسی بات پر آتا ہے”
نہال ڈرائیو کرتا ہوا عنایہ کو دیکھ کر بولا۔۔۔ پھر دونوں ہی اپنی اپنی جگہ چپ ہوگئے
“چاکلیٹ”
نہال نے ڈیش بورڈ سے چاکلیٹ نکال کر عنایہ کی طرف بڑھائی
“تھینکس، آپ کو کیسے پتہ چلا مجھے چاکلیٹ پسند ہے”
عنایہ نے نہال سے چاکلیٹ لیتے ہوئے پوچھا
“ہر لڑکی کو ہی پسند ہوتی ہے تو مجھے لگا تمہیں بھی اچھی لگتی ہوگی”
نہال نے اسے بغیر دیکھے جواب دیا۔۔۔ نہال کے جواب میں عنایہ نے کچھ بھی نہیں کہا،،، کار میں ایک بار پھر خاموشی ہوگئی
“تم چاہو تو یہ چاکلیٹ ابھی کھا سکتی ہو میں تم سے نہیں مانگوں گا”
نہال کی آواز نے ایک بار پھر خاموشی کو توڑا،،، نہال کی بات پر عنایہ نے اس کی طرف دیکھا مگر وہ بغیر مزاق کیے سنجیدگی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا
“اس وقت میرا دل نہیں چاہ رہا لیکن اگر آپ یہ کھانا چاہیں تو کھا سکتے ہیں”
عنایہ نے اسے آفر کی
“کھا سکتا ہوں مگر مجھے چاکلیٹز پسند نہیں”
نہال نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے اسے دیکھ کر کہا ایک بار دوبارہ کار میں خاموشی چھا گئی
“تمہاری اسٹڈیز کیسی چل رہی ہیں، کوئی پرابلم تو نہیں تمہیں”
اس بار بھی سوال نہال نے ہی پوچھا
“نہیں کوئی پرابلم نہیں، اچھی چل رہی ہے اسٹیڈیز”
عنایہ ہاتھ میں موجود چاکلیٹ کو الٹ پلٹ کرنے لگی
“اگر کبھی کوئی پرابلم ہو تو تم بغیر ججھکے مجھ سے ہیلپ لے سکتی ہو”
نہال اسے دیکھتا ہوا کہنے لگا
“شیور”
عنایہ مسکرا کر اسے دیکھتی ہوئی بولی اور پھر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔۔۔ شاید آج زندگی میں پہلی دفعہ نہال اس سے اتنی باتیں کر رہا تھا۔۔۔۔ اس سے پہلے تو وہ سلام کا جواب دینے کے علاوہ اور کوئی دوسری بات نہیں کرتا تھا۔۔۔ یہاں تک کہ پڑھنے کے دوران بھی اس نے کبھی کوئی فالتو بات نہیں کی تھی اور آج وہ اتنا فرینک ہو رہا تھا عنایہ کی سمجھ سے باہر تھا
“میں کیا الٹا سیدھا سوچنے لگی بیچارے نہال بھائی کے بارے میں،، ایک تو وہ مجھے گھر ڈراپ کر رہے ہیں اوپر سے وہ میرے ٹیچر بھی رہے ہیں”
“اور آپ کا آج یہاں میرے کالج کے پاس سے سے کیسے گزرنا ہوا”
اب کی بار جب خاموشی طویل ہوگئی تو عنایہ نے سوال کیا
“میں آج یہاں پر خاص تمہیں ڈراپ کرنے کے لئے آیا ہوں”
نہال نے دوبارہ اس کو دیکھ کر سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔ عنایہ کو معلوم تھا کہ وہ مذاق کر رہا ہے مگر وہ اتنا سنجیدہ ہو کر کیسے مذاق کر سکتا تھا یہ عنایہ کو سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔ عنایہ دوبارہ خاموش ہوگئی مگر اب گھر آگیا اور عنایہ سے سیٹ بیلٹ بھی کھل گئی
“تھینک یو”
عنایہ نے کار سے اترتے ہوئے نہال کا شکریہ ادا کیا
“کس بات کے لئے”
نہال اس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“مجھے گھر ڈراپ کرنے کے لئے اور اس چاکلیٹ کے لیے”
عنایہ کے بات پر نہال نے مسکرا کر اسے دیکھا
“میں چاہتا ہوں میں بھی تمہارا شکریہ ادا کرو”
نہال اب اس کو غور سے دیکھتا ہوا کہنے لگا
“تو پھر آپ ایسا کریں آپ کار سے اتر کر گھر آجائے۔۔۔ میں آپ کو چائے پلا دیتی ہوں پھر آپ میرا شکریہ ادا کردیے گا”
وہ واقعی بہت خوبصورت تھی اور بہت معصوم بھی نہال نے اس کو دیکھتے ہوئے سوچا
“نہیں،،، میں چاہتا ہوں کہ میں آج رات تمہیں میسج پر شکریہ ادا کرو”
نہال آنکھوں میں چمک لیے اس کو بولتا ہوا کار اسٹارٹ کر کے وہاں سے چلا گیا۔۔۔ اور بہت کوششوں کے بعد بھی عنایہ کو اس کی بات بالکل سمجھ میں نہیں آئی
*****
“ایکسکیوزمی میم آپ بنا پرمشن کے اس طرح اندر نہیں جا سکتی”
منال جوکہ یونیورسٹی سے سیدھا نمیر سے ملنے آفس آگئی تھی اس کے روم میں جانے لگی تو اس سے پہلے سیکرٹری بول اٹھی منال نے مڑ کر اسے غور سے دیکھا اور اس کی طرف چلتی ہوئی آئی
“شاید تم نئی اپوائنٹ ہوئی ہو اس لیے جانتی نہیں ہوں کہ کون ہوں میں،، ابھی نمیر سے کہہ کے دو منٹ میں اس جاب سے فارغ کرا دوں گی اگر آئندہ میرا راستہ روکا تو”
منال اس کو وارن کرتی اور حقارت بھری نظر سیکرٹری پر ڈال کر روم کے اندر چلی گئی جہاں نمیر کسی سے فون پر محو گفتگو تھا۔۔۔ نمیر نے منال کو دیکھ کر بھی فون پر اپنی گفتگو جاری رکھی،،،، منال نمیر کو ہی دیکھ رہی تھی جیسے وہ اسکے فون رکھنے کا ویٹ کر رہی ہو۔۔۔ دس منٹ بعد نمیر نے اپنی بات مکمل کرکے فون رکھا
“کالز کیوں نہیں پک کر رہے تھے میری، صبح سے”
منال ٹیبل پر دونوں ہاتھ جما کر نمیر سے پوچھنے لگی
“میٹنگ میں مصروف تھا کہو کیسے آنا ہوا”
نمیر نے روکھے لہجے میں اس سے پوچھا یہ لب و لہجہ وہ صرف نمیر کا ہی برداشت کرتی تھی
“فورگاڈ سے نمیر یوں بچوں کی طرح بی ہیو مت کیا کرو،،، میں کل واقعی بزی تھی اس لیے تمھاری برتھ ڈے میں نہیں آ سکی مگر رات کو بارہ بجے سب سے پہلے تمہیں میں نے ہی وش کیا تھا”
منال اب کرسی پر بیٹھ کر نمیر کو مناتی ہوئی بولی۔۔۔ کل نمیر کا برتھ ڈے تھا اور منال کا اپنی یونیورسٹی کی فرینڈز کے ساتھ مووی دیکھنے جانے کا پروگرام بن گیا
“یہی تو میں نوٹ کررہا ہوں پچھلے چند ماہ سے،، اب تم کچھ زیادہ ہی بزی رہنے لگی ہو۔۔۔۔ مانا کہ برتھ ڈے پارٹی ارینج نہیں تھی بس نہال نوفل اور ماما ہی تھے مگر تمہیں اگے میری فیملی کا حصہ بننا ہے آئی تھنک تمہارے لیے دوسری سب چیزوں سے زیادہ امپورٹنٹ میں اور مجھ سے ریلیٹڈ رشتے ہونے چاہیے”
نمیر نے منال کو جتاتے ہوئے کہا،،، نمیر اور منال کے رشتے میں پہل اور محبت کا اظہار منال کی طرف سے ہوا تھا۔۔۔ پہل لڑکی کرے نمیر کے لیے بات کوئی خاص معنی نہیں رکھتی تھی۔۔۔ منال اس کی کزن تھی، خوبصورت اور پڑھی لکھی تھی سب سے بڑھ کر وہ دونوں سے بچپن سے ایک دوسرے کی عادتوں سے واقف تھے مگر تین چار مہینوں سے نمیر آہستہ آہستہ منال کے رویے میں تبدیلی محسوس کر رہا تھا
“نمیر میرے لیے تم امپورٹنٹ ہو،، تمہاری ہی امپورٹنس ہے یار اگر تمہاری ناراضگی کا خیال نہیں ہوتا تو یونیورسٹی سے سیدھا تمہارے پاس آ جاتی اب جلدی سے موڈ ٹھیک کرو اپنا”
منال اپنی کرسی سے اٹھ کر نمیر کے پاس آئی اس کی کرسی کے دونوں ہینڈل پکڑ کر اس کی طرف جھکتی ہوئی ایک ادا سے بولی
“اور اگر میں ناراضگی برقرار رکھو تو تم مجھے منانے کے لئے ایک عدد کس تو کر ہی لوں گی”
نمیر اس کی بولڈنس کو چیلنج کرتا ہوا بولا
“زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے،، شرافت سے اٹھو اور لنچ کرواؤ مجھے”
اب منال باقاعدہ اسے بازو سے پکڑ کر اٹھانے لگی
“ایسا کرتے ہیں لنچ یہی منگوا لیتے ہیں چار بجے ایک کلائنڈ کے ساتھ ڈیلینگ ہے”
نمیر موبائل پر ارڈر دینے کے لیے نمبر ڈائل کرتا ہوا بولا
“چار بجنے میں ابھی پورے دو گھنٹے باقی ہیں ہم دونوں ابھی اور اسی وقت باہر جا رہے ہو”
منال اس کا موبائل اس کی پاکٹ میں رکھتی ہوئی بولی
“معلوم ہے میں تمہاری باتیں کیوں مان لیتا ہوں”
نمیر نے منال کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“کیوکہ میں خوبصورت ہوں اور تم مجھ سے پیار کرتے ہو”
منال اترا کر بولی
“نہیں اس لئے کہ پیار تم مجھ سے کرتی ہو اور خوبصورتی کا کیا ہے خوبصورت تو وہ بھی تھی”
آخری جملہ نمیر نے آہستہ سے بولا منال جو کہ روم سے باہر نکل رہی تھی پلٹ کے اس کو دیکھا
“کون تھی خوبصورت”
منال نمیر کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“کوئی نہیں۔۔۔ جلدی چلو واپس بھی آنا ہے”
نمیر کہتا ہوا آفس کے روم سے سے باہر نکل گیا
****
“ارے ثروت آنٹی آپ آئی ہیں۔۔۔ کیسی ہیں مجھے معلوم ہوتا آپ آئی ہیں تو نمیر کو زبردستی اندر بلا لیتی ابھی وہی گھر چھوڑ کر گیا ہے مجھے”
منال نے گھر آتے ہی ثروت کو دیکھتے ہوئے کہا اور اس کے گلے لگ گئی
“اچھا تو خوب گھوما پھرا جا رہا ہے نمیر کے ساتھ،، ویسے عشرت کیا خیال ہے ان دونوں کی لگامیں کھینچنی چاہیے یا مضبوطی سے کسی پائیدار بندھن میں ان دونوں کو فوراً باندھ دینا چاہیے”
ثروت نے پاس بیٹھی عشرت سے مشورہ مانگا اس سے پہلے عشرت کچھ بولتی منال بول اٹھی
“آنٹی پلیز نمیر سے میں نے کہہ دیا ہے کم از کم تین سال سے پہلے تو شادی کا سوچنا بھی نہیں”
منال کا ایک دم یوں بول دینا ثروت کو برا لگا،، وہ ثروت کی بھانجی تھی اسے عزیز تھی مگر اتنا بے باک ہو کر بولنا اور یوں شادی سے پہلے گھومنا پھرنا ثروت کو یہ انداز ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا،،، وہ گھر جا کر ابھی نمیر کے کان کھینچنے کا ارادہ رکھتی تھی
“منال زرا کم بولا کرو چلو کمرے میں جاو اپنے”
عشرت بڑی بہن کا ایک دم خاموش ہونا محسوس کر گئی اس لیے منال کو ٹوکتے ہوئے کہا جس پر منال برخلافِ توقع اٹھ کر چلی گئی
“اور یہ عنایہ کہاں ہے نظر نہیں آرہی”
ثروت نے موضوع بدلتے ہوئے عشرت سے پوچھا
“ہونا کہاں ہے پڑی ہوگی اپنے کمرے میں عنایہ او عنایہ”
عشرت نے ثروت کو بتاتے ہی عنایہ کو آوازیں دے ڈالی
“جی مامی آپ نے بلایا۔۔۔ او ثروت آنٹی کیسی ہیں آپ؟؟ کب آئی”
عنایہ جو کہ عشرت کے بلانے پر ڈرائنگ روم میں آئی مگر ساتھ بیٹھی ثروت کو دیکھ کر خوش دلی سے اس سے مخاطب ہوئی۔۔۔ اسے مامی کی بہن اور نمیر دونوں ہی پسند تھے وہ دونوں شروع سے ہی اسے بہت اچھے طریقے سے ملتے تھے
“تم اپنے ہجرے سے باہر نکلو گی تو تمہیں معلوم ہوگا کوئی کب آیا ہے نہ ادب ہے نہ لحاظ ہے کہ بندہ آئے گئے کو پوچھ لے”
ثروت کے کچھ بولنے سے پہلے عشرت عنایہ کو ڈپٹتے ہوئے کہنے لگی
“عشرت کیا ہو جاتا ہے تمہیں، لہجے میں نرمی لایا کرو بات کرتے ہوئے۔۔۔ اسے خبر نہیں ہوگی کہ میں آئی ہو ورنہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ عنایہ مجھ سے ملنے نہ آئے۔۔۔ یہاں بیٹھو عنایہ میرے پاس”
ثروت نے عشرت کو سمجھاتے ہوئے عنایہ کو اپنے پاس بیٹھنے کے لیے کہا وہ مسکرا کر ثروت کے پاس بیٹھ گئی جس پر عشرت جل کر رہ گئی۔۔۔ اس کا اپنی بڑی بہن کا یوں عنایہ سے ہمدردی کرنا اور محبت کرنا ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا
“ابھی یہی بیٹھی باتیں کرتی رہوں گی آپا کے لئے چائے پانی کا بھی انتظام کروں گی جاؤ جا کر بوا سے کہو کہ رات کے کھانے میں کوئی ڈھنگ کا کھانا بنائے”
تھوڑی دیر بعد جب عشرت نے ثروت کو عنایہ سے مسکرا کر باتیں کرتے ہوئے دیکھا تو عشرت نے فوراً عنایا کو دیکھ کر کہا جس پر عنایہ اٹھ کر کچن کی طرف چلی گئی
“عشرت میں دیکھ رہی ہوں تمہارا رویہ دن بدن اس بچی کے ساتھ ہتک آمیز ہوتا جا رہا ہے”
ثروت نے اپنی چھوٹی بہن کو ملامت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے دوبارہ ٹوکا
“ارے آپا اسی کے بھلے کے لیے ٹوکتی ہو تاکہ دوسرے گھر جاکر جوتے نہ کھانا پڑے،، اچھی شکل و صورت سے کیا ہوتا ہے سسرال میں عادت و اطوار بھی دیکھے جاتے ہیں”
عشرت بات بناتی ہوئی بولی
“یہی بات تم منال کے لیے بھی سوچا کرو بلکہ اسے زیادہ ضرورت ہے سمجھانے کی،، خیر یہ بتاؤ فرمان کب تک آئے گا ضروری بات کرنی ہے مجھے اس سے”
ثروت کے بولنے کی دیر تھی فرمان گھر میں داخل ہوا
“کیسی ہیں آپا آپ۔۔۔ کب تشریف لائی”
فرمان نے ثروت کو دیکھ کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا ثروت سے بات کرتے ہوئے فرمان کے لہجے میں ہمیشہ عزت و احترام شامل ہوتا تھا
“تھوڑی دیر ہوئی ہے مجھے آئے ہوئے تم سناؤ کیسے مزاج ہیں”
ثروت نے فرمان سے پوچھا۔۔۔ اتنے میں عنایہ ٹرالی میں چائے رکھے دیگر لوازمات کے ساتھ ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تب تک منال بھی چینج کرکے ڈرائنگ روم میں آ چکی تھی
“ہاں تو آپا کیا ضروری بات کرنی تھی آپ نے فرمان سے”
عنایہ سب کو چائے سرو کر رہی تھی تب عشرت نے ثروت کو مخاطب کیا
“آنٹی چائے”
عنایہ نے ثروت کے آگے چائے کا کپ سوسر سمیت بڑھاتے ہوئے کہا تو ثروت نے مسکرا کر چائے کا کپ اس سے لیا ساتھ ہی عنایہ کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے پاس بٹھایا
“منال بیٹا باقی سب کو چائے آپ سرو کرو”
ثروت نے منال کو دیکھتے ہوئے کہا وہ عنایہ کو گھورتی ہوئی، ثروت کو دیکھکر مسکرائی صوفے سے اٹھ کر باقی سب کو چائے سرو کرنے لگی
“ہاں تو بھئی فرمان میں تم سے آج اپنے نہال کے لئے عنایہ کا ہاتھ مانگنے آئی ہو۔۔۔ بھئی تمہاری بھانجی مجھے اپنے بڑے بیٹے کے لئے بے حد پسند ہے اور نہال تمہارے سامنے ہی پلا بڑھا ہے اس کا مزاج، کردار، عادت ان سب سے تم واقف ہو۔۔۔ اب تم مجھے جلدی سے بتاؤ اگر کوئی اعتراض نہیں ہے تو میں باقاعدہ رسم کرنے کب آو”
ثروت نے اپنے برابر میں بیٹھی ہوئی عنایہ کا ہاتھ تھام کر فرمان سے بولا۔۔۔۔ ثروت عنایہ کے ساتھ ساتھ کمرے میں موجود تمام نفوس کو بھی حیران کر گئی
“آپا آپ کی بات پر بھلا مجھے کیا اعتراض ہوگا نہال جیسے سلجھے ہوئے اور فرمانبردار بچے کے لیے کون سا باپ نہیں چاہے گا کہ وہ اس کا داماد بنے عنایہ میرے لئے بالکل منال کی طرح ہے۔۔۔۔ اگر عنایہ کی اس رشتے میں مرضی شامل ہے تو میں بہت خوش ہوں”
فرمان واقعی عنایہ کے لئے بہت خوش تھا کیوکہ عنایہ جتنی حساس طبیعت کی مالک تھی اس کے ساتھ کوئی سلجھا ہوا لڑکا ہی سوٹ کرتا اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ نہال ایک سلجھا ہوا اور اچھے اخلاق والا لڑکا تھا
“تو اس میں کونسی بڑی بات ہے عنایہ سے اس کی مرضی ابھی پوچھ لیتے ہیں۔۔۔ ہاں بھئی عنایہ بتاؤ جلدی سے،، اپنے نہال کی دلہن بنا کر لے جاؤ تمہیں اپنے گھر”
ثروت نے عنایہ کے تھامے ہوئے ہاتھ پر دباؤ ڈال کر مسکراتے ہوئے پوچھا جس پر عنایہ نے ایک نظر ثروت کو دیکھا اور فوراً نظریں نیچے جھکا لی۔۔۔۔ جس پر ثروت کے ساتھ ساتھ فرمان بھی مسکرا دیا جبکہ عشرت اور منال کو یہ منظر ایک آنکھ نہیں بھایا مگر وہ دونوں ہی اپنی اپنی جگہ خاموش رہی
“نہیں،،، میں چاہتا ہوں کہ میں آج رات تمہیں میسج پر شکریہ ادا کرو”
سر جھکا کر بیٹھی ہوئی ہے عنایہ کو نہال کا آج دوپہر میں بولا گیا جملہ یاد آیا اور اب وہ اس کا مفہوم بھی سمجھ گئی تھی
“نہال”
آج پہلی بار بغیر بھائی کا لفظ کہے اس نے دل میں نہال کا نام لیا اس کا دل عجیب انداز میں دھڑکا۔۔۔ عنایہ اپنا سر اور زیادہ جھکا گئی اسے ڈر تھا کہ کہیں کوئی اس کا چہرہ دیکھ کر اس کے دل کی بات نہ جان لے
