Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Last updated: 24 November 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

"مجھے چھوڑ دو تمہیں خدا کا واسطہ ہے"
فرحین روتی ہوئی، مسلسل گڑگڑاتے ہوئی التجا کر رہی تھی مگر وہ اپنی ساری انسانیت بھلائے ہوئے،، اس پر جھکا ہوا اپنی ہوس مٹانے میں مگن تھا باہر سے آتی تیز میوزک کی آواز فرحین کی چیخوں اور آہ و پکار کو دبا رہی تھی۔۔۔ مسلسل مزاحمت کرتی فرحین کبھی اس کا منہ تو کبھی بال نوچتی،، تو کبھی اس کی شرٹ اپنی مٹھیوں سے دبوچ رہی تھی مگر اس وقت اس شخص پر شیطان غالب تھا۔۔۔ وہ اپنی ہوس مٹا کر فرحین کے سسکتے تڑپتے وجود سے پر ہٹا تو فرحین نے پاس پڑے مٹی میں اٹے اپنے دوپٹے سے اپنا نیم برہنہ وجود ڈھانپنے لگی
"میری عزت کو پامال کرکے تم کیا سمجھتے ہو، میں بدنامی کے ڈر سے چپ ہو کر بیٹھ جاؤ گی ابھی باہر جاکر پوری یونیورسٹی کے سامنے تمہاری اصلیت سب کو بتاؤں گی"
تھوڑی دیر بعد فرحین اپنے آنسو صاف کر کے دوپٹہ اپنے گرد لپیٹتے ہوئے باہر جانے لگی
"رکو فرحین یہ سب کچھ مجھ سے انجانے میں ہوا ہے پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو،، میں شرمندہ ہوں"
وہ فرحین کا راستہ روکتے ہوئے کہنے لگا اب اس کے چہرے پر واقعی شرمندگی کے آثار نمایاں تھے
"تمہارے شرمندہ ہونے سے میری عزت واپس نہیں آسکتی،، لٹیرے ہو تم،، انسانی روپ میں بھیڑیے۔۔۔ سب کو تمہارا گھناونا روپ دکھاؤں گی تاکہ میری طرح تم بھی اپنا منہ دکھانے کے قابل نہ رہو"
فرحین اس پر تھوکتی ہوئی حقارت بھری نظر ڈال کر دروازے کے پاس پہنچی تبھی اس نے فرحین کو روکنے کے لیے دونوں بازوں سے پکڑا
"فرحین پلیز ایک دفعہ میری بات سن لو،، میں۔۔۔ میں بہک گیا تھا۔۔۔ میں اپنی غلطی کا مداعوا تم سے شادی کی صورت کرنے کے لیے تیار ہوں مگر پلیز کسی کو کچھ مت بتانا"
اس نے فرحین کو روکتے ہوئے کہا اس وقت ان لوگوں کی الوداعی پارٹی تھی باہر سارے اسٹوڈنٹس اور ٹیچرز موجود تھے
"غلطی۔۔۔ تم اسے غلطی کہتے ہو،، گناہ کیا ہے تم نے۔ ۔۔ گناہ گار ہو تم۔۔۔ تم جیسے گھٹیا، نفس کے غلام سے شادی کرنے سے بہتر ہے میں خودکشی کر لوں"
وہ جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑاتی ہوئی کلاس روم کے دروازے کھولنے لگی تبھی اس نے دوبارہ فرحین کا ہاتھ پکڑ کر اسے پیچھے دھکا دیا۔۔۔ فرحین فوری طور پر اپنا توازن برقرار نہ رکھ پائی اور پیچھے پڑی ہوئی شیشے کی میز پر جاگری۔ ۔۔ یوں پیچھے میز پر گرنے سے فرحین کے سر کے پچھلے حصے سے خون نکلنے لگا
"او گاڈ فرحین یہ،، یہ کیا ہوگیا۔۔۔ ایم سوری میں ایسا نہیں چاہتا تھا"
وہ فرحین کے پاس پہنچ کر اسے دیکھتا ہوا کہنے لگا ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔ اتنے میں اسے محسوس ہوا جیسے کلاس روم کی طرف کوئی آرہا ہے وہ بنا سوچے سمجھے کلاس کے دوسرے دروازے سے باہر نکل گیا
اس واقعے کو گزرے ہوئے چھ سال ہو چکے تھے مگر آج بھی جب اسے یہ واقعہ یاد آتا تھا تو نئے سرے سے وہ اپنے آپ کو ندامت میں گھرا ہوا محسوس کرتا تھا۔۔۔ عام دنوں میں تو وہ اپنے ضمیر کی آواز کو دبا دیتا تھا مگر خاص اس دن جس دن اس کے ہاتھوں فرحین کی عزت اور جان گئی تھی،،، اس کا ضمیر اس پر کوڑے برساتا اور چیخ چیخ کر اسے گناہگار کہتا