Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 15)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
صبح الارم کی آواز پر نمیر کی آنکھ کھلی وہ اٹھ کر بیٹھا تو اس کی نظر سامنے صوفے پر گئی جہاں پر عنایہ سکڑی سمٹی اپنا دوپٹہ اوڑھے صوفے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔ ایک لمحے کے لئے نمیر کو احساس ہوا وہ ساری رات ٹو سٹر صوفے پر کیسے سوئی ہوگی۔۔۔۔ نمیر بیڈ سے آٹھ کر اس کے پاس آیا۔۔۔ عنایہ کو آواز دے کر اٹھانے ہی لگا تھا نمیر کی نظر اس کے چہرے پر پڑی وہ جھک کر غور سے عنایہ کو دیکھنے لگا سوتے ہوئے وہ نمیر کو کوئی معصوم سی بچی لگی
“حسین لڑکی”
نمیر کے دل سے بے ساختہ آواز آئی۔۔۔ حسین لڑکی کہہ کر وہ پہلے بھی اکثر عنایہ کو پکارتا تھا۔۔۔ مگر آج غور سے اور اتنے قریب سے عنایہ کو دیکھ کر اسے احساس ہوا اس نے کتنا صحیح اس کا نام رکھا تھا
“میں ایسا کیوں سوچ رہا ہوں”
نمیر عنایہ کو دیکھ کر دل ہی دل میں اپنے آپ سے مخاطب ہوا
“بیوی”
ایک اور آواز اس کے اندر سے ابھری۔۔۔ نمیر نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر عنایہ کے گال کو نرمی سے چھوا۔۔۔ کئی احساسات اس کے اندر پیدا ہونے لگے
“نکاح کے تین بول ایسی طاقت رکھتے ہیں تمہاری فیلنگز خود ہی چینج ہوجائے گی”
نمیر کو ثروت کی بات یاد آئی،،، وہ ماتھے پر آئے عنایہ کے بال ہٹانے لگا
“نہال کی محبت” ایک اور آواز اس کے اندر سے ابھری نمیر نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور ایکدم کھڑا ہوگیا۔۔۔ اب اس کا دم گھٹنے لگا اس نے کمرے میں موجود کھڑکی کھولی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا
“کیا یہ احساس ساری زندگی مجھے تڑپاتا رہے گا کہ میں نے میں نے اپنی بھائی کی محبت سے شادی کی”
نمیر تلخی سے سوچنے لگا۔۔۔ اس نے ایک نظر دوبارہ عنایہ پر ڈالی،، کمرے میں اچھا خاصہ اجالا ہونے کے باوجود وہ گہری نیند میں سو رہی تھی اسے عنایہ کی نیند پر رشک آنے لگا
“عنایہ”
نمیر نے وہی سے اس کو آواز دی مگر وہ اپنے نام کی پکار پر بھی ٹس سے مس نہیں ہوئی نمیر دوبارہ اس کے پاس آیا
“عنایہ اٹھو صوفے سے جا کر بیڈ پر لیٹ جاؤ”
نمیر عنایہ کے پاس کھڑا ہو کر اسے کہنے لگا مگر عنایہ دائی کروٹ لیے صوفے پر گہری نیند سو رہی تھی۔۔۔ کوئی جواب نہ پا کر اس کا بازو ہلانے کے غرض سے نمیر نے اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ہی تھا وہی عنایہ نیند میں سیدھی ہو کر لیٹی۔۔۔ نمیر نے فوراً اپنا ہاتھ پیچھے کیا،،، اسی لمحے عنایہ اپنی آنکھیں کھول چکی تھی اور وہ نمیر کو ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے بھی دیکھ چکی تھی اس لئے فوراً اٹھ کر بیٹھ گئی اور بیٹھنے کے ساتھ ہی اپنا دوپٹہ درست کرنے لگی اب وہ مشکوک نظروں سے نمیر کو دیکھنے لگی
“کون سا نشہ کر کے سو رہی ہو تم کہ تمہاری آنکھیں ہی نہیں کھل رہی ہیں کب سے آواز دیئے جا رہا ہوں۔۔۔۔ کیا دونوں کانوں کے اندر روئی ٹھونسی ہوئی ہے”
عنایہ کو اپنی طرف شک بھری نظروں سے دیکھ کر وہ الٹا اسی پر چڑھ دوڑا معلوم نہیں وہ اس کے بارے میں کیا سوچ رہی تھی نمیر یہ سوچ کر مزید جھنجھلایا
“کیا کوئی کام تھا آپ کو مجھ سے” عنایہ اب اپنے بالوں کو رول کرکے جوڑا بناتے ہوئے اسے پوچھنے لگی
“آفس جانا ہے مجھے کپڑے نکالو میرے اور ناشتہ ریڈی کرو”
اب نمیر اسے یہ تو ہرگز نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اسے بیڈ پر آرام سے لیٹنے کے غرض سے جگا رہا تھا اس لیے اسے آرڈر دیتا ہوا خود واش روم چلا گیا
کل تک ان کو ان کے کپڑے کون نکال کے دیتا تھا۔۔۔ عنایہ سوچتی ہوئی وارڈروب کی طرف بڑھی وارڈروب کا دروازہ کھول کر،،، ترتیب سے ہینگ ہوئی شرٹز میں سے رائل بلو کلر کی شرٹ کے ساتھ بلیک ڈریس پینٹ نکالی۔۔۔
وارڈروب میں موجود دراز کے اندر بہت ساری ٹائی رول ہوئی الگ الگ چھوٹے پیکٹس میں موجود تھی۔۔۔ آفس ٹائم میں اس نے اکثر نمیر کو اسی طرح فل ڈریس اپ یا ڈریس پینٹ،، شرٹ کے ساتھ ٹائی میں دیکھا تھا۔۔۔ اب ٹائی سلیکٹ کرنا اس کے لیے مغزماری کا کام تھا اس لیے وہ ڈراز بند کر کے نمیر کے کپڑے وارڈروب کے ہینڈل پر ہینگ کر کے کمرے سے باہر نکل گئی
“ارے بیٹا تم صبح صبح اٹھ کر کچن میں کیوں چلی آئی یہاں آ کر بیٹھو حمیدہ آتی ہوگی”
ثروت اپنے کمرے سے باہر آئی تو عنایہ کو کچن میں دیکھ کر اس سے کہنے لگی
“جی انٹی”
عنایہ اتنا کہہ کر ثروت کے پاس ڈائننگ ٹیبل پر کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی
“نمیر جاگ گیا”
ثروت عنایہ کو غور سے دیکھ کر پوچھنے لگی
“جی جاگ گئے ہیں آفس کے لیے تیار ہورہے ہیں”
عنایہ نظر یں جھکا کر اپنے ناخنوں کو کھرچتی ہوئی بولی اتنے میں حمیدہ آکر کچن میں ناشتہ تیار کرنے لگی
“نمیر کا رویہ کل رات تمہارے ساتھ ٹھیک رہا”
ثروت جانچتی نظروں سے عنایہ کو دیکھ کر پوچھنے لگی جس پر عنایہ نے نظر اٹھا کر ثروت کو دیکھا
“اس سے کیا پوچھ رہی ہیں،، آپکو جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھ لیں میرے بارے میں،، ویسے بھی اس کی زبان صرف میرے سامنے چلتی ہے باقی سب کے سامنے تو یہ ایسی بن جاتی ہے جیسے اس کے منہ میں زبان ہی نہ ہو”
نمیر بولتا ہوا آیا اور کچھ کرسی کھسکا کر عنایہ کے سامنے بیٹھا عنایہ نے شکوہ کناں نظر اس پر ڈالی وہ عنایہ کی نکالی ہوئی ڈریسنگ میں موجود تھا جس پر بلیک کلر کی ٹائی کا اضافہ تھا جس پر بلو اور گرے کلر کی دھاریاں موجود تھی
“یہ کون سا طریقہ ہے نمیر اپنی بیوی سے بات کرنے کا،،، میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا جیسے تم نے میری بات مان کر ہمیشہ ایک اچھے بیٹے کا ثبوت دیا ہے اسی طرح میں امید رکھو گی تم عنایہ کے لیے اچھے شوہر ہونے کا ثبوت دو۔۔۔ اگر تم اس کی طرف سے غفلت اور لاپرواہی برتو گے تو میں تم سے خفا ہوگئی اور مجھے معلوم ہے تم مجھے خفا نہیں کروگے”
ثروت نمیر کو دیکھتی ہوئی بولنے لگی،، حمیداں ٹیبل پر ناشتہ رکھنے لگی جب کہا عنایہ دونوں ماں بیٹے کو دیکھنے کے بعد اب ایسے پوز کرنے لگی جیسے اس کا نہیں کسی اور کا ذکر ہو رہا ہے انکے بیچ
“ایکسیلنٹ ماما آپ تو میری توقع سے بھی بڑھ کر اچھی ساس ثابت ہورہی ہیں مگر تھوڑا بہت گائیڈ آپ کو اپنی بہو کو بھی کرنا چاہیے،، یہ اگر میرے کہنے پر عمل کرے گی، میری پسند نہ پسند اور میرے مزاج،، موڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے میرے ساتھ ایڈجسٹ کرے گی تو ہی اچھی بیوی ثابت ہوسکتی ہے آدر وائز اچھی بیوی بنانے کے مجھے دوسرے بھی طریقے بھی آتے ہیں”
نمیر ثروت کو دیکھتا ہوا کہنے لگا جس پر عنایہ کا جھکا ہوا سر مزید جھگ گیا
“ایک بات اور اگر آپ کی بہو کو مجھ سے کسی بھی قسم کی شکایت ہے کہ میں اس سے لاپرواہی برت رہا ہوں یا اس کے حقوق و فرائض میں کہیں کوئی کمی رہ گئی ہو تو پلیز اسے کہیے گا کہ یہ آپ کی بجائے ڈائیرکٹ مجھ سے بات کرے”
اب کی بار نمیر عنایہ کی طرف ایسے دیکھتا ہوا بولا جیسا عنایہ نے ثروت سے اس کی کوئی شکایت لگائی ہو عنایہ سر اٹھا کر نمیر کو دیکھنے لگی
“تمہیں اپنے حقوق وفرائض کا خود خیال رکھنا چاہیے تاکہ اسے مجھ سے یا تم سے کوئی شکایت کا موقع نہ ملے”
ثروت واضح لفظوں میں نمیر کو جتاتی ہوئی بولی
“جی بالکل آج سے ہی خیال رکھوں گا” نمیر کے کہنے پر عنایہ نے ایک بار پھر اسے دیکھا
“دیکھ کیا رہی ہو ناشتہ سرو کرو۔۔۔ آفس کے لیے لیٹ ہو رہا ہوں میں”
عنایہ کے اس کی طرف دیکھنے پر نمیر اس سے مخاطب ہوا عنایہ کرسی سے اٹھ کر نمیر اور ثروت کو ناشتہ سرو کرنے لگی
“کل سے کمپلیٹ ڈریسنگ نکالنا اور صبح کا ناشتہ اب ڈیلی تم تیار کرنا میرے لئے”
عنایہ کیٹل سے چائے نکالنے لگی تب نمیر اس کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ ثروت نمیر کو گھورنے لگی جس پر وہ کندھے اچکا کر ثروت کو دیکھتا ہوا بولا
“بیوی ہے یہ میری،، جیسے مجھے اسکی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہے۔۔۔ ویسے ہی میری تمام ضرورتوں کا خیال رکھنا اس کا فرض ہے”
نمیر بولتا ہوا ناشتہ کرنے لگا
“کالج کے لئے ریڈی کیوں نہیں ہوئی تم ابھی تک”
عنایہ کے منہ میں پہلا نوالہ گیا ہی تھا نمیر نے اس کو دیکھ کر سوال کیا
“میری بکس ماموں کی طرف رہ گئی ہیں”
نمیر کو دیکھ کر وہ آہستگی سے بولی
“کوئی بات نہیں بیٹا بکس آجائے گے تم دو دن بعد آرام سے چلی جانا کالج،، ویسے بھی کل ہی تو شادی ہوئی ہے” ثروت نے بیچ میں مداخلت کرتے ہوئے کہا جس پر عنایہ اس کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی
“شادی کرکے کونسا تیر مارا ہے یا کوئی انوکھا کارنامہ انجام دیا ہے جس کی خوشی میں کالج کی چھٹیاں کی جائیں،، میں شام میں بکس لیتا آؤ گا کل صبح سے تم کالج کے لیے مجھے ریڈی ملوگی۔ ،۔۔ آفس جانے سے پہلے میں تمہیں کالج ڈراپ کروں گا۔۔۔ واپسی پر ڈرائیور لے آئے گا”
نمیر عنایہ پر حکم صادر کرتا ہوا بولا جس پر عنایہ جی کہہ کر خاموش ہوگئی
“تھوڑی دیر بعد ڈرائیور کے ساتھ نہال کے پاس چلی جاؤں گی،، تم مجھے آفس سے واپسی پر پک کر لینا”
ثروت کے منہ سے نہال کا ذکر سن کر عنایہ کے دل میں پھانس سی چھبی،، جس سے اس کے چہرے کے تاثرات تبدیل ہوئے جو نمیر کی نظروں سے چھپ نہیں سکے۔۔۔ اس نے ثروت کو سر ہلا کر جواب دیا اب وہ مگ ہاتھ میں تھامے گھونٹ گھونٹ چائے حلق میں اتارتا ہوا عنایہ کے چہرے پر چھائی افسردگی دیکھنے لگا۔۔۔ ناشتے کے بعد وہ ثروت کو خدا حافظ کہہ کر آفس کے لیے روانہ ہوگیا
“تم پریشان مت ہونا بیٹا یوں اچانک اس طرح شادی ہونے کی وجہ سے نمیر کا مائینڈ تھوڑا ڈسٹرب ہے ورنہ تم تو اس کی نیچر اچھی طرح جانتی ہوں اپنے سے منسلک رشتوں کو لے کر وہ بہت زیادہ حساس ہے۔۔۔ مجھے تمہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ تم نمیر کا خیال رکھنا،،، میں جانتی ہوں تم اس کا خیال رکھو گی کیوکہ تم میری اچھی بیٹی ہو اور اسی وجہ سے میرا انتخاب بھی”
نمیر کے آفس جانے کے بعد ثروت مسکرا کر عنایہ کو سمجھانے لگی۔۔۔ عنایہ اس کی بات پر مسکرا بھی نہیں سکی نہ وہ یہ کہہ سکی وہ اچھی بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ انسان بھی ہے جیسے اس کے بیٹے کا مائنڈ اپ سیٹ ہے ویسے اس کا بھی مائنڈ اپ سیٹ ہوا ہے اگر نمیر اپنے سے منسلک رشتوں کو لے کر حساس ہے تو۔۔۔ اس نے کونسا اپنا اور عنایہ کے رشتے کو دلی طور پر قبول کیا ہے جو وہ عنایہ کے لیے حساس ہوگا یہ سوچ کر عنایہ کا دل مزید خراب ہونے لگا
“تھوڑی دیر بعد نہال کے پاس ہاسپٹل جاؤں گی آج اسے آئی سی یو سے پرائیویٹ روم میں شفٹ کر دیں گے۔۔۔۔ اگر مجھے آنے میں دیر ہو جائے تو پریشان مت ہونا اور گھر کے کسی بھی کام کو ہاتھ لگانے کی ضرورت نہیں ہے آرام کرو اور بیٹا نمیر کے آنے سے پہلے اپنا ڈریس چینج کرکے اچھا سا تیار ہو جانا۔۔۔ نئی شادی ہے تمہاری اس طرح رہو گی تو اس کی طبیعت پر بھی اچھا اثر نہیں پڑے گا،، میں تمہیں اور نمیر کو اچھی خوشحال زندگی گزارتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہوں ابھی تمہیں تھوڑا مشکل لگے گا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا”
ثروت پیار سے اسے سمجھاتی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی
****
“کیا کل نمیر اور عنایہ کی شادی ہوگئی ہے اور آپ مجھے اب بتا رہی
ہیں”
منال موبائل کان پر لگائے صوفے سے شاک کی کیفیت میں اٹھی
“کیوں تم نے انکی شادی میں آکر روڑے ڈالنے تھے جو تمہیں پہلے سے بتا دیتی۔۔ ۔ کیسا اچھا لڑکا ہمارے ہاتھ سے نکل گیا،،، مجھے تو یہ ملال ہی کم نہیں تھا کہ نمیر نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اوپر سے وہ ملا بھی تو کس کو اس نصیبوں جلی اور سبز قدم کو۔۔۔ کیا بتاو کیسے ارے چلے ہیں میرے دل پر نکاح کے وقت”
عشرت اب بیٹی سے موبائل پر بات کرتی ہوئی دل ہلکا کرنے لگی
“تو نمیر نے اس منہوس عنایہ کو مجھ پر فوقیت دی۔۔۔۔ اپنا ایگریمنٹ پورا کر لوں پھر دیکھتی ہوں میں آکر ان دونوں کو”
منال سے یہ نیوز ہضم کرنا مشکل ہو رہی تھی تبھی وہ جلتی ہوئی بولی
“اے بی بی بات غور سے سنو اب تمہارے کسی بھی ڈرامے یا اداکاری کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔ یہ اداکاری کے جوہر اپنی فلموں میں دکھاؤ یہاں پر ڈرامے کر کے ہمارا مزید تماشہ مت بنانا۔۔۔ بہت مشکل سے ہماری عزت اور بات سنبھالی ہے ویسے بھی اب پچھتانے کا کیا فائدہ جب چڑیاں چک گئیں کھیت”
عشرت اپنی بیٹی کے انداز دیکھ کر چمک کر بولی
“کیسی باتیں کر رہی ہے مما میں ایسے ہی ان دونوں کو چھوڑ دوں گی۔۔۔ نمیر میری پسند تھا میری محبت،،، واپس آکر منا لیتی میں اسے۔۔۔ خیر بگڑا تو اب بھی کچھ نہیں ہے واپس آجاو پھر دیکھتی ہو نمیر کو بھی اور اس عنایہ کی بچی کو بھی”
منال نے زہر خواندہ لہجے میں کہتے ہوئے کال ڈسکنیکٹ کرکے موبائل صوفے پر اچھالا نمیر اور عنایہ کو ایک ساتھ سوچ کر اس کا موڈ خراب ہونے لگا
******
“آج کالج نہیں جانا تمہیں”
نائلہ نے کمرے میں آ کر شانزے سے پوچھا جو چائے کا مگ دونوں ہاتھوں سے تھامے کسی گہری سوچ میں گم تھی نائلہ کی آواز پر اپنے خیالوں سے نکل کر دنیا میں واپس آئی
“نہیں ڈیٹ شیٹ مل گئی ہے ویسے بھی آج کل کالج میں کوئی خاص پڑھائی نہیں ہورہی ہے”
شانزے نے چائے کا آخری گھونٹ لیتے ہوئے نائلہ کو جواب دیا
“اور تمہاری سہیلی عنایہ کیسی ہے۔۔۔ کیا رخصت ہوکر وہ اپنے سسرال چلی گئی”
نائلہ تخت پر بیٹھتی ہوئی شانزے سے عنایہ کے بارے میں پوچھنے لگی کیوکہ کل رات کو شانزے کے گھر آنے کے بعد ان دونوں کی آپس میں زیادہ بات نہیں ہوئی تھی
“جی کل ہی ثروت آنٹی اسے اپنے ساتھ لے گئی تھی،، کتنے عجیب لوگ ہیں عنایہ کے گھر والے پہلی منگنی کروا کے اس شخص کے خواب دیکھنے کی اجازت دی اور جب عنایہ اس شخص کو دل ہی دل میں اپنا ماننے لگی تو اچانک اسے بتایا گیا کہ اب وہ تمہارا شوہر نہیں بن سکتا لہذا اس کے خواب دیکھنا بند کرکے اب دوسرے کے بارے میں سوچو”
شانزے تلخی سے کہنے لگی مگر یہ بات وہ عنایہ کے سامنے کرکے اس کا مزید دل نہیں دکھا سکتی تھی
“اسی کا نام زندگی ہے بس آگے اللہ اس بچی کے نصیب اچھے کرے۔۔۔ نوفل نے چکر نہیں لگایا کافی دنوں سے وہ بھی وہاں موجود ہو گا ٹھیک ہے نا وہ”
نائلہ شانزے کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“اب ہر وقت تو وہ چکر نہیں لگائے گا اپنے بھی کام ہوگے اسے آپ کچھ زیادہ ہی یاد نہیں کرنے لگی ہیں اسے،، ویسے کل رات کو اسی نے مجھے گھر چھوڑا تھا”
شانزے نظریں ملائے بغیر نائلہ کو بتانے لگی کہیں وہ اس کی آنکھوں میں کچھ پڑھ نہ لے
“ہر وقت چکر نہیں لگا تھا مگر فون کر کے میری طبیعت خیریت تو اکثر معلوم کرتا ہے۔۔۔ ایک دو دن سے کال بھی نہیں آئی اس لیے پوچھ رہی تھی۔۔۔ نوفل اچھا لڑکا ہے شانزے میں نے اس کی آنکھوں میں اپنے لیے احترام اور تمہارے لیے پسندیدگی محسوس کی ہے۔۔۔۔ جیسا میں سوچ رہی ہو اگر ایسا ہو جائے تو مجھے دلی طور پر بہت خوشی ہوگی”
نائلہ مسکراتی ہوئی شانزے سے بولی تو شانزے نے ماں کو حیرت سے دیکھا وہ جس بات کو چھپانا چاہ رہی تھی،، وہ اس کی ماں کی بھی دلی خواہش تھی
“امی ہمہیں نوفل کو آپی کے بارے میں بتانا چاہیے”
شانزے کچھ سوچتی ہوئی بولی
“کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں اسے کچھ بھی بتانے کی،، کہیں تم نے اسے فرحین کے بارے میں کچھ بتایا تو نہیں”
نائلہ پریشان ہو کر شانزے سے پوچھنے لگی
“میں نے اسے ایسا کچھ نہیں بتایا مگر جیسا آپ نوفل کے بارے میں سوچ رہی ہے ایک طرح سے پھر حقیقت تو اسے معلوم ہونی چاہیے”
شانزے نائلہ کو دیکھتی ہوئی بولی تو نائلہ نظریں چرا گئی
“مجھے جب اور جو مناسب لگے گا میں اس کو بتا دوں گی مگر شانزے تم اسے کچھ نہیں بولوں گی وعدہ کرو مجھ سے”
نائلہ کو بہت سے خدشات لاحق ہونے لگے تو وہ شانزے کو دیکھ کر بولی۔۔۔
شانزے نے نائلہ کی بات ماننے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور ناشتے کی ٹرے لے کر کچن میں چلی گئی
****
“کیسے ہو کب آئے ہاسپٹل”
نمیر آفس سے ہاسپٹل پہنچا تو ثروت کے علاوہ وہاں پر نوفل بھی موجود تھا۔۔۔ ثروت کی دوست نہال کو دیکھنے آئی تو نمیر اور نوفل کوریڈور میں کھڑے ہوگئے وہی نمیر اس سے پوچھنے لگا
“تمہارے آنے سے ایک گھنٹے پہلے آیا تھا،، میرے سامنے ہی نہال کو آئی سی یو سے روم میں شفٹ کیا ہے”
نوفل نمیر کو بتانے لگا
“ڈاکٹر سے بات ہوئی تمہاری کیا کہتے ہیں ڈاکٹر نہال کے بارے میں”
نمیر آفس سے پانچ منٹ پہلے ہی آیا تھا اسلیے نوفل سے معلومات لینے لگا
“کوئی ایسی گہری یا خطرناک چوٹ نہیں جس کی وجہ سے نہال کو ائی سی یو روم میں رکھا جائے البتہ نہال اس گہری نیند اسے کب جاگے ہے اس کا کچھ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔۔۔ اس لیے فی الحال اسے پرائیویٹ روم میں شفٹ کردیا گیا ہے” نوفل نمیر کو دیکھ کر بتانے لگا
“یعنی کوئی خاص پروگریس نہیں ہے” نمیر مایوس کن لہجے میں بولا
“اس طرح مایوس مت ہو نمیر جس دن نہال کومے سے واپس آجائے گا سب پہلے جیسا ٹھیک ہو جائے گا”
نوفل نمیر کو مایوس دیکھ کر اس کی ہمت باندھتا ہوا کہنے لگا
“ریئلی،، سب پہلے جیسے ٹھیک ہو جائے گا،، تمہیں ایسا لگتا ہے۔۔۔۔ اب نہال کے ہوش میں آنے کے بعد بھی نہ ہی کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے اور نہ ہی کچھ پہلے جیسا ہوسکتا ہے”
نمیر تلخی سے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔ جس پر نوفل ایک منٹ کے لئے خاموش ہوگیا پھر بولا
“دیکھو نمیر جو بھی کچھ ہوا اس میں نہ نہال کا قصور تھا،، نہ تمہارا اور نہ ہی عنایہ بھابھی کا۔۔۔۔ یار یہ سب تقدیر کے کھیل ہوتے ہیں ہم اپنی لائف میں آگے کا پلان کر رہے ہوتے ہیں یہ جانے بغیر کے اوپر والے کی کیا پلاننگ ہے۔۔۔ تم نے یہ تو سنا ہوگا کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں۔۔۔ یہی سمجھ لو نہال اور عنایہ بھابھی کا ساتھ اتنا ہی لکھا تھا۔۔۔ اصل میں ان کو تمہاری زندگی میں آنا تھا تمہاری وائف بن کر۔۔۔ تم اس حقیقت کو ایکسیپٹ کرو”
نوفل نمیر کو دیکھ کر سمجھ آنے لگا
“تم جانتے ہو کل رات سے میرے اندر ایک جنگ چھڑی ہے کس کشمکش کا شکار ہو میں تمہیں اندازہ نہیں ہوسکتا۔۔۔ میرا دل اس حقیقت کو قبول نہیں کر رہا ہے اس لڑکی کو میں کیسے بیوی ایکسیپٹ کرو جو میرے بھائی کی پسند تھی،،، جس سے میرے بھائی کی شادی ہونے والی تھی۔۔۔ اگر میں اپنے دل کو سمجھاتا ہوں کہ اب حقیقت اس کے برعکس ہے تو کوئی آواز میرے اندر سے آتی ہے مجھے ایسا کرنے سے روکتی ہے”
نوفل کو اس وقت نمیر بہت بے بس اور لاچار لگا
“دیکھو نمیر میری ایک بات غور سے سنو اس حقیقت کو اب تمہیں اپنے دل اور دماغ میں بٹھانا ہے کہ عنایہ بھابھی تمہاری بیوی ہے شادی کی ہے یار تم نے اور شادی کوئی مذاق بات نہیں ہوتی ہے۔۔۔۔ نہال کی عنایا بھابھی سے صرف منگنی ہوئی تھی منگنی کوئی ایسا پائیدار رشتہ نہیں ہے منگنی تو انسان دس کر کے توڑ دیتا ہے مگر شادی۔۔۔ شادی کے بعد تو ایک مرد اور عورت شادی مضبوط رشتے میں باندھ جاتے ہیں۔۔۔ میں مانتا ہوں اس بات کو نہال پسند کرتا تھا عنایہ بھابی کو اور ہوسکتا ہے اسکے ہوش میں آنے کے بعد یہ نیوز اسکے لیے کسی شاک سے کم نہیں ہوگی مگر وہ ایک میچور پرسن آہستہ آہستہ وہ حالات کی مناسبت سے ساری سچویشن کو سمجھتے ہوئے اس حقیقت کو قبول کرے گا مگر یہ جب کی بات ہے جب نہال ہوش میں آئے گا،،، ہم اس کے لیے دعا کرسکتے ہیں انشاءاللہ وہ جلد ہی ٹھیک ہو جائے گا لیکن اس وقت کیلئے ضروری ہے کہ تم اپنے اور عنایہ بھابھی کے رشتے پر غور کرو اس کو سمجھو۔۔۔ انہیں وائف سمجھ کر اپنے اور ان کے رشتے کا احساس دلاو۔۔۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ رشتہ بنانے کے لیے عورت ہی ہر دفعہ پہل کرے۔۔۔ نمیر اب شادی کر ہی لی ہے تو دل سے اس رشتے کو بھی قبول کرو اپنے دماغ سے یہ بات نکال دو کہ وہ نہال کی منگیتر تھی بلکے یہ سوچو اب وہ تمہاری وائف ہے”
نوفل کی باتیں ڈرائیونگ کے دوران اس کے دماغ میں گردش کر رہی تھی وہ چپ چاپ اس وقت ڈرائیونگ کر رہا تھا ثروت نے بھی اس سے کوئی بات نہیں کی
“ارے لگتا ہے ہمارے ایریے کی لائٹ گئی ہے”
ثروت کی آواز پر نمیر نے چونک کر اسے دیکھا پھر اس کا دھیان عنایہ کی طرف گیا۔۔۔۔ نمیر نے کار کی اسپیڈ تیز کردی یقیناً وہ پاگل لڑکی اندھیرے میں ڈر رہی ہوگی۔۔۔ کیوکہ اتفاق سے آج گھر میں کوئی نوکر بھی موجود نہیں تھا جو جنریٹر آن کر دیتا حمیدہ کھانا بنا کر شام میں ہی گھر چلی گئی تھی
“آپ ایک منٹ کار میں ہی بیٹھے میں عنایہ کو دیکھ کر پھر جنریٹر آن کرتا ہوں”
نمیر ثروت کو کہتا ہوا کار سے اتر کر موبائل کی فلش لائٹ آن کر کے عنایہ کو پکارتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھا
****
ثروت کے اسپتال جانے کے بعد عنایہ نمیر کے روم میں آئی خالی بیڈ دیکھ کر اسے دوبارہ نیند آنے لگی رات کو تو ویسے بھی کافی دیر سے سوئی تھی اور بے آرام ہوکر سوئی تھی اوپر سے صبح ہی صبح نمیر نے اسے جگا دیا تھا یہی سوچتے ہوئے عنایہ بیڈ پر لیٹ گئی اور نمیر کے ساتھ اپنا رویہ سوچنے لگی اس نے کبھی نہیں سوچا تھا نمیر اس سے کبھی اتنی سختی سے بھی بات کر سکتا ہے خیر سوچا تو اس نے کبھی نمیر سے شادی کا بھی نہیں تھا۔۔۔ نمیر کا یہ نیا رویہ عنایہ کو تکلیف دے رہا تھا ابھی ایک بھی دن نہیں گزرا تھا اور اسے نمیر کے ساتھ اسے اپنی پوری زندگی گزارنی تھی باقی کی زندگی اس کی کیسی گزرے گی یہی سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی
دو بجے کے قریب حمیدہ کے زور زور سے اسکا کندھا ہلانے پر عنایہ کی آنکھ کھلی
“عنایہ بی بی کب سے اٹھا رہی ہو جی آپ کو”
حمیدہ عنایہ کے سر پر کھڑی ہوئی اسے بولنے لگی
“ہاں رات کو ٹھیک طرح سے سو نہیں پائی تھی”
اب وہ اسے کیا بتاتی نیند کے معاملے میں وہ شروع سے ہی ایسی تھی کالج جانے کے وقت بوا بھی اسے چار سے پانچ بار اٹھانے آتی تھی
“جی جی وہ تو میں سمجھ گئی تھی رات کو نیند پوری نہیں ہوئی ہوگی”
ْحمیدہ دانت نکالتے ہوئے بولی بےوقت کی ہنسی اور بات عنایہ کے سر پر سے گزر گئی
“کوئی کام کیا تمہیں”
عنایہ حمیدہ سے پوچھنے لگی
“جی کھانا کھانے کے لیے بلا رہی تھی بڑی بیگم صاحبہ نمیر صاحب تو رات کو آئے گے۔۔۔۔ میں نے سوچا آپ سے دوپہر کے کھانے کا پوچھ لو آخر کو نئی دلہن ہو آپ اس گھر میں”
حمیدہ نے دوبارہ بولا لفظ دلہن پر عنایہ نے حمیدہ کو دیکھا۔۔۔ اب وہ اپنی نیند والی بات پر حمیدہ کی معنی خیز جملے اور ہنسی پر شرمندہ ہوگئی
“تم چلو میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں”
عنایہ حمیداں کو کہہ کر واش روم چلے گئی
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد وہ دوبارہ نمیر کے بیڈروم میں آگئی وارڈروب کھول کر،، ڈریسنگ روم سے اپنا سوٹ کیس لاکر اپنا سامان ایک خالی پورشن میں سیٹ کرنے لگی باقی پرفیومز،،، باڈی اسپرے اور تھوڑا بہت میک اپ کا سامان ڈریسر پر موجود نمیر کے پرفیومز کے ساتھ سیٹ کردیا
اب اس نے اپنے حلیے پر غور کیا اس نے کل رات جو سونے کے لئے ڈریس پہنا تھا وہ اب بھی اسی ڈریس میں موجود تھی شاید اسی وجہ سے ثروت نے اس کو ٹوکا تھا۔۔۔ نمیر کے لیے تیار ہونے کا سوچ کر اس کا دل ہی نہیں چاہا کہ وہ ڈریس چینج کرے مگر اب شاید اس سے ہمیشہ آگے بھی اپنا آپ مار کر چلنا تھا۔۔۔ اس لئے لائٹ کلر کا ایک ڈریس نکال کر وہ شاور لینے چلی گئی بالوں میں برش کر کے لائٹ سی لپ اسٹک لگالی تاکہ ثروت ناراض نہ ہو۔۔ شام سات بجے حمیدہ سب کام نپٹا کر عنایہ سے اجازت لے کر اپنے گھر چلی گئی
تھوڑی دیر شانزے سے موبائل پر بات کرکے اب عنایہ نے فرمان کو کال ملائی اس کی خیریت پوچھنے لگی ابھی فرمان سے بات کرکے فارغ ہوئی تھی کہ لائٹ چلی گئی
لائٹ جانے سے عنایہ نے پریشان ہونا شروع کردیا بار بار اس کے دماغ میں ایک ہی خیال آ رہا تھا کہ وہ پورے گھر میں اکیلی تھی موبائل کی لائیٹ سے اس کی ڈھارس نہیں ہورہی تھی بدقسمتی سے موبائل کی بیٹری لو ہوئی اور موبائل بھی آف ہو گیا اب وہ زور شور سے دعا کر رہی تھی کہ کوئی آ جائے مگر آج کل اس کی دعائیں عرش پر نہیں پہنچ رہی تھی خوف کے بعد اسے رونا آنے لگا
“میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے” عنایہ روتے ہوئے شکوہ کرنے لگی
“تمہیں آئندہ بارش سے کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ اگر کسی سے ڈر لگے تو میرے سینے پر اپنا سر رکھ لینا یقیناً میری پناہوں میں تم خود کو محفوظ تصور کرو گی”
عنایہ کے کانوں میں نہال کی آواز گونجی
“کہاں چلے گئے نہال مجھے چھوڑ کر،،، مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ پلیز آجائیں”
عنایہ روتی ہوئی کہنے لگی
“عنایہ”
چند منٹ بعد عنایہ کے کانوں نے اپنے نام کی پکار سنی
“نہال”
عنایہ کے لب پڑپڑائے وہ بیڈ سے اتر کر دیوانہ وار،، ٹارچ ہاتھ میں پکڑے نمیر کے سینے سے جا لگی
“کہاں چلے گئے تھے آپ،،، آپ کو معلوم ہے نا اندھیرے سے ڈر لگتا ہے مجھے”
وہ نمیر کے سینے سے لگی سختی سے نمیر کے شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچے روتی ہوئی چیخ کر بولی۔۔۔ نمیر کو اندازہ ہوگیا وہ بری طرح ڈری ہوئی تھی اس نے اس نے عنایہ کو خود سے الگ کرنے کے بجائے اس کے گرد اپنے ہاتھوں باندھ کر عنایہ کو مکمل اپنے حصار میں لیتے ہوئے بولا
“آئی ایم سوری مجھے دیر ہوگئی لیکن میں آگیا ہوں نا عنایہ۔۔۔۔ پرامس اب تمہیں کبھی بھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا،، نہ خود سے دور کروں گا ہمیشہ تمہارا خیال رکھوں گا بس اب رونا بند کرو”
کل رات سے صبح تک کی تلخی عنایہ کے رونے سے کہاں غائب ہوگئی تھی نمیر کو خود بھی اندازہ نہیں ہوا۔۔۔ نوفل کی باتوں کا اثر تھا یا پھر قائم ہونے والے رشتے کی کشش وہ کافی جلدی نمیر کے دل میں نرم گوشہ بنانے میں کامیاب ہوئی تھی
“مجھے کبھی تنہا چھوڑیے گا نہال پرومس کریں آپ ہمیشہ ہی میرے ساتھ رہیں گے”
عنایہ نمیر کے سینے میں منہ چھپائے آنکھیں بند کئے ہوئے بولی جیسے وہ اس کے حصار میں خود کو محفوظ تصور کر رہی ہو
عنایہ کے منہ سے نہال کا نام سن کر نمیر نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے الگ کیا ویسے ہی لائٹ آگئی اور کمرہ روشنی میں نہا گیا۔۔۔ عنایہ نے اپنے سامنے نمیر کو کھڑا پایا۔۔۔۔ جو غصے میں گھورتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا
