370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 28)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“کون”

ڈور بیل کی آواز پر نائلہ نے پوچھنے کے ساتھ دروازہ کھولا۔۔۔۔ وہ اپنے سامنے اعجاز اس کے بھائی بھاوج جمشید اور قاضی کو دیکھ کر حق دھک رہ گئی

“دروازے پر ہی کھڑا رکھنا ہے یا اندر آنے کا راستہ بھی دینا ہے”

جمشید بدتمیزی سے بولتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوا تو ناچار نائلہ کو راستہ دینا پڑا باری باری سب گھر کے اندر داخل ہوگئے۔۔۔ نائلہ کا دل بیٹھنے لگا

“جمعہ تو کل ہے ناں”

نائلہ نے اعجاز کی بھابھی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا وہ لوگ قاضی سمیت ایک دن پہلے ہی آگئے تھے یقیناً ان کا آج ہی نکاح کا ارادہ تھا۔۔۔ نوفل نے کل ہی اسے اطمینان دلایا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا اور وہ بے فکر ہو جائے

“ہماری بات کوئی حدیث کا درجہ رکھتی ہے اگر ایک دن پہلے نکاح ہوجائے گا تو کون سا دنیا کا نظام بدل جائے گا اور اچھے کاموں میں دیر کیسی”

اعجاز کی بھاوج نائلہ کو دیکھ کر چمک کر بولی

“شانزے کہاں ہے جاو اسے بتاؤ کے تیار ہو جائے ابھی اور اسی وقت اس کا نکاح ہے جمشید سے”

اعجاز نائلہ کو دیکھتا ہوا بولا وہ افسوس بھری نظر اعجاز پر ڈال کر شانزے کے کمرے میں چلی گئی

****

“کیا ہوا آپ اتنا گھبرائی ہوئی کیوں ہے اور یہ کمرے کا دروازہ کیوں بند کر دیا”

شانزے جو کہ شاور لے کر ابھی واش روم سے نکلی تھی نائلہ کو پریشان حال دیکھ کر ایک دم بولی

“بھاگ جاو پیچھے کے دروازے سے تمہارا باپ اپنے بھائی بھاوج کے ساتھ قاضی بھی لے کر آگیا ہے،،، جمشید سے تمہارا نکاح کرانے کے لئے اس گھر کو حاصل کرنے کے لیے یہ لوگ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔۔۔ میں اس موالی کے ساتھ نکاح کروا کے تمہاری زندگی کو برباد ہوتا ہوا کیسے دیکھ سکوں گی”

نائلہ نے باقاعدہ رونا شروع کر دیا

“امی آپ پریشان مت ہوں یہ لوگ میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے”

شانزے کا دل خود بھی اندر سے ڈر رہا تھا مگر وہ روتی ہوئی نائلہ کو تسلی دیتی ہوئی بولی۔۔۔ شانزے نے نوفل کو کال ملانے کے غرض سے موبائل اٹھایا ہے نوفل کی خود کال آنے لگی

“نوفل ابو تایا،، تائی نکاح خواہ کو لے کر اس وقت ہمارے گھر پر موجود ہیں”

شانزے نے کال ریسیو کرتے ہی بولنا شروع کر دیا

“میری بات غور سے سنو شانزے،، بیس منٹ تک کسی بھی طرح سب سنبھال لوں اور کسی بھی کاغذ پر سائن مت کرنا میں پہنچنے والا ہوں۔۔۔ تم مینج کر لو گی ناں”

نوفل کی آواز کے ساتھ ٹریفک کی آوازیں بھی وہ باآسانی سن سکتی تھی شانزے کو اس کی بات سن کر اطمینان ہوا

“میں مینج کر لوگی،،، تمہارا انتظار کر رہی ہوں پلیز جلدی سے آ جاؤ دیر مت کرنا”

شانزے کی آواز میں وہ بے بسی اچھی طرح محسوس کر سکتا تھا کال کاٹ کر اس نے صدیق کے کار کی اسپیڈ مزید تیز کروائی

دس منٹ پہلے جب وہ پولیس اسٹیشن میں موجود تھا تب جمال (رکشے والا) نے اسے شانزے کے گھر اعجاز سمیت 4 افراد کے آنے کی اطلاع دی تھی یعنی نوفل نے جو کل کا پلان بنایا ہوا تھا اسے آج اس پر عمل کرنا تھا۔۔۔ اس لیے بغیر دیر کیے اپنے ساتھ تصدیق کے علاوہ تین پولیس کے اہلکار کو لے کر پولیس وین میں شانزے کے گھر کے لئے نکل گیا

“صدیق جلدی پہنچنا ہے تیز ڈرائیو کرو”

نوفل نے تیسری بار صدیق کو سختی سے ٹوکا

“سر آپ فکر نہیں کریں پولیس بیشک موقع واردات پر جرم ہونے کے بعد پہنچتی ہے مگر صدیق آپ کو آج وقت سے پہلے پہنچا دے گا”

صدیق جو کہ پہلے ہی تیز ڈرائیو کر رہا تھا مزید کار کی اسپیڈ تیز کرتا ہوا بولا

“ہاں نہال میری بات غور سے سنو،، بیس منٹ کے اندر اندر نمیر کو لے کر عنایہ کی دوست کے گھر پہنچوں”

نوفل کو ایک اور ضروری کام یاد آیا تو اس نے فوراً نہال کو کال ملائی

“کیا ہوا سب خیریت تو ہے نا”

نہال آج ہی آفس آیا تھا اور آفس کے ورکرز کو اکٹھا کرکے پچھلے دو ماہ کی پروگریس کا پوچھ رہا تھا تبھی نوفل کی اس کے پاس کال آئی

“ہاں سب خیریت ہے شانزے کے گھر کا ایڈریس سینڈ کر رہا ہوں اگر میرے نکاح میں شریک ہونا ہے تو بیس منٹ کے اندر یہاں پہنچو،، ورنہ تم دونوں بھائی شکوہ نہیں کرنا کہ میں نے بتایا نہیں۔۔۔ سخت ایمرجنسی کی صورتحال میں بھی تم دونوں کو انوائٹ کر کے میں نے اپنا فرض نبھا دیا ہے”

نوفل نے کال کاٹی۔۔۔ دوسری طرف نہال نوفل کی بات سنتے ہی چیئر سے کھڑا ہوگیا

“آپ سب اپنی اپنی سیٹوں پر واپس جائیں۔۔۔ ظفر صاحب آپ یہ فائل چیک کریں اور آج ہونے والی میٹنگ تین سے چار گھنٹے لیٹ یعنی 9 بجے تک کا ٹائم رکھ دیں”

نہال اپنا ہینگ ہوا کوٹ پہنتے ہوئے مینجر کو ہدایت دیتا ہوا گاڑی کی چابی اور موبائل اٹھا کر باہر نکلا کار میں بیٹھ کر وہ نمیر کو نوفل کی کار کے بارے میں بتانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ نمیر اس وقت آفس کے کام کے سلسلے میں آؤٹ نکلا ہوا تھا

****

“اے اندر سے دروازہ بند کرکے کیوں بیٹھ گئی ہو تم دونوں ماں بیٹی کھولو دروازہ۔۔۔ ورنہ ابھی جمشید کو بلاتی ہوں”

دس منٹ گزرنے کے بعد جب شانزے اور نائلہ کمرے سے باہر نہیں نکلی تو شانزے کی تائی نے زور زور سے دروازہ پیٹنا شروع کر دیا۔۔۔ شانزے نے اٹھ کر دروازہ کھولا

“آرام سے کیا توڑنا ہے دروازہ کو”

شانزے اپنی تائی کو دیکھ کر بولی

“اے آنکھیں نیچے کر کے ادب سے بات کر آج سے تیری تائی کے ساتھ ساتھ تیری ساس بھی کہلاؤ گی۔۔ زیادہ اکڑ دکھائی نا چٹیاں میں بل دے کر معافی مانگواوں گی تجھ سے”

شانزے کی تائی اپنے بھاری بھرکم وجود کے ساتھ نکاح سے پہلے ہی ان دونوں ماں بیٹی کو اپنی باتوں سے ڈرانے کا ارادہ رکھتی ہوئی بولی

“ادب سے ان سے بات کی جاتی ہے جو ادب کے معنوں سے باخبر ہوں مگر آپ اور آپ کی فیملی کا اس لفظ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔۔۔ کوشش کریے گا اس بات کی کہ میں آپ کی بہو نہ بنو تو اچھا ہوگا۔۔۔ ورنہ نیوز چینل میں یہ خبر نشر ہوگی کہ ایک بہو نے اپنے شوہر سمیت اپنے ساس سسر کے کھانے میں چوہے مارنے والی دوا ملاکر تینوں کو جان سے مار کر ان کی لاشوں کو گٹر میں پھینک دیا”

شانزے کے بولنے پر نائلہ پریشان ہوگئی وہی تائی اس کی چلتی ہوئی زبان پر اسے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگی

“ارے توبہ اعجاز ذرا اپنی بیٹی کی زبان تو دیکھ اور اس کے خیالات سن ہمارے بارے میں”

تائی اپنے دونوں گال تھپتھپاتی ہوئی اعجاز کو دیکھ کر بولی

“اے لڑکی بہت زبان چل رہی ہے تیری یاد نہیں ہے تھوڑے دن پہلے کیا حشر کرنے والا تھا میں”

اعجاز کے کچھ بولنے سے پہلے جمشید چیختا ہوا شانزے کو دیکھ کر بولا

“شاید تم اس دن اپنا حشر بھول گئے کس طرح اس ایس۔پی نے کتوں کی طرح تمہاری دھلائی بھرے مجمع کے سامنے کی تھی اور کسطرح تم دم دبا کر تم وہاں سے بھاگے تھے۔۔۔۔ کس منہ سے تم قاضی کو لے کر آئے ہو تم جیسے ڈرپوک اور بھگوڑے آدمی سے شادی کرنے سے بہتر میں ساری زندگی کنوارا رہنا پسند کرو گی”

شانزے بنا خوف کے جمشید کو دیکھتی ہوئی بولی جبکہ نائلہ اس کا بازو بار بار کھینچ کر اسے زیادہ بولنے سے روک رہی تھی

“‏شانزے اگر اب تمہاری زبان چلی تو میں ہاتھ اٹھانے میں دیر نہیں لگاؤں گا۔۔۔ شرافت سے اس نکاح نامے پر سائن کرو”

اعجاز بولنے کے ساتھ ہی اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا

“کس حق سے آپ ہاتھ اٹھانے کی بات کر رہے ہیں۔۔۔ جب آپ باپ ہوکر اپنی تمام تر ذمہ داریوں سے منہ موڑ کر مجھے میری ماں کو اور بہن کو چھوڑ کر چلے گئے تھے تو اب آپ مجھ سے کیا توقع کر رہے ہیں میں سر جھکا کر آپ کا حکم بجا لاؤں گی۔۔۔ اب دوبارہ ہاتھ اٹھانے کی یا مجھ سے زور زبردستی نکاح کرانے کا سوچیے گا بھی نہیں،، نکاح میں لڑکی کی دلی رضہ مندی شامل ہونی چاہیے اتنا تو آپ بھی جانتے ہوں گے”

شانزے نے اپنے باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا

“یہ جو تیری بیٹی بناء ڈرے اتنی تقریریں کر رہی ہے ذرا معلوم کر اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ ۔۔ ضرور کوئی چکر ہے تیری بیٹی کا کسی کے ساتھ”

اب کی بار شانزے نے اپنے تایا کو افسوس سے دیکھا اس سے پہلے کوئی کچھ بولتا دروازہ بجنے لگا

“اس وقت کون آگیا،، اے مولوی جلدی سے نکاح پڑھوا یہ دروازہ اب نکاح کے بعد ہی کھلے گا”

اعجاز کا بھائی بولا

“مجھے یہ نکاح قبول نہیں ہے سمجھ میں نہیں آرہا آپ کو”

شانزے اپنے تایا کے سامنے چیختی ہوئی بولی

“اب بول نکاح کے لیے راضی ہوگی یا نہیں”

اچانک جمشید چاقو نکال کر نائلہ کی گردن پر رکھتا ہوا بولا

“میری امی کو چھوڑو ورنہ میں تمہاری جان لے لوں گی”

شانزے چیخ کر جمشید سے بولی

اتنے میں صحن میں کسی کے کودھنے کی آواز آئی سب کی توجہ صحن کی طرف مندمل ہوئی،،، صحن میں کودنے والے نے باہر کا دروازہ کھولا تو گھر کے اندر پولیس داخل ہوئی

“کیا تماشا لگا رکھا ہے تم لوگوں نے یہاں پر”

نوفل کمرے میں داخل ہوکر سب پر نظر ڈالتا ہوا گرجدار آواز میں بولا اس کے پیچھے مزید چار پولیس والے موجود تھے جنھوں نے ہاتھوں میں بندوقیں تھامی ہوئی تھی۔۔۔ اعجاز سمیت تایا تائی جمشید سب کو سانپ سونگھ گیا،،، وہی نائلہ اور شانزے کا سانس بحال ہوا

“ایس۔ پی یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے تم کون ہوتے ہو بیچ میں مدالت کرنے والے”

اعجاز کا بھائی ہمت کرتا ہوا نوفل سے بولا۔۔۔ نوفل چلتا ہوا اس کے پاس آیا

“ابھی علم ہو جائے گا تمہیں کہ میں کون ہوتا ہوں”

نوفل بولتا ہوا جمشید کے پاس آیا اور چاقو اس کے ہاتھ سے لے کر اس کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کیا

“اے ایس۔ پی یہ تم اپنے ساتھ اچھا نہیں کر رہے ہو۔۔۔ تم جانتے نہیں ہو کہ میرا کن لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا ہے”

اعجاز کا بھائی دوبارہ نوفل کو دھمکاتا ہوا بولا

“صدیق اب کی بار کسی نے بھی آواز نکالی تو اپنی بندوق سے اس کی کھوپڑی کھول لینا اور اس چلغوزے کو حراست میں لو۔۔۔ کافی علاقوں کا بدمعاش بنا پھرتا ہے کل میں تھانے میں آکر اس کی ساری بدمعاشی خود نکالوں گا”

نوفل نے جمشید کو گریبان سے پکڑ کر صدیق کی طرف دھکا دیا اب اس کا رخ قاضی کی طرف تھا۔۔۔۔ نوفل نے اپنی جیب سے خاکی لفافہ نکال کر اس میں سے دوسرا نکاح نامے میں کا فارم نکالا۔۔۔ اتنے میں نمیر اور نہال بھی وہاں پہنچ گئے

“ہاں تو قاضی صاحب نکاح شروع کریں”

نہال اور نمیر سے ملنے کے بعد اس نے سب کو کرسیوں پر بیٹھنے کا اشارہ کیا وہی نائلہ کی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھا۔۔۔ نائلہ نے مسکرا کر سر ہلایا اور شانزے کے سر پر دوپٹہ پہنانے لگی

“میں شانزے کا باپ ہوں اور اس نکاح کے لیے ہرگز راضی نہیں ہوں”

اعجاز کرسی پر بیٹھا ہمت کرکے بولا

نوفل اٹھ کر اعجاز کے برابر والی کرسی پر بیٹھا

“اب بھی راضی نہیں ہیں آپ”

وہ اپنی ریوالور ٹیبل پر اعجاز کے سامنے رکھتا ہوا سنجیدگی سے پوچھنے لگا جس پر اعجاز خاموش ہوگیا

اچھی خاصی سنجیدہ صورتحال میں بھی نہال اور نمیر اپنی مسکراہٹ چھپانے پر مجبور ہوگئے۔۔۔ نوفل کے اشارہ کرنے پر قاضی نے نوفل کا شانزے سے نکاح پڑھوایا