Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 36)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 36)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“کیسے ہو نمیر”
نمیر ڈرائنگ روم میں داخل ہوا عشرت کو سلام کر کر صوفے پر بیٹھنے لگا تک منال اس سے پوچھنے لگی
“بہت خوش”
نمیر نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے منال کو جواب دیا جس پر وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی
“اپنی بیوی کو بھائی کے ساتھ بھیج کر آخر تم کیسے خوش رہ سکتے ہو”
عشرت نے نمیر پر چوٹ کی نمیر کو اندازہ ہوگیا وہ عادت سے مجبور آنے کے ساتھ ہی حمیدہ سے باری باری سب کا پوچھ چکی تھی
“میرا بھائی میری بیوی کا جیٹھ ہے اور مجھے ان کے ایک ساتھ کہیں پر بھی جانے سے کوئی اعتراض نہیں ہے اور میرے خیال میں کسی دوسرے کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے”
نمیر عشرت کو جتاتا ہوا بولا
“ارے واہ بھئی تم تو شادی کے بعد کافی آزاد خیال ہو گئے ہو۔۔۔ وہ تم ہی تھے ناں جس نے مجھ سے اس بنا پر رشتہ ختم کیا تھا کیوکہ میں غیر مردوں کے ساتھ فلموں میں نظر آو گی تو اب تمہاری یہ سوکالڈ عزتِ نفس کو کیسے گوارا ہوگا۔۔۔ کہ تمہاری بیوی اپنے ایکس فیونس کے ساتھ شہر بھر میں گھوم رہی ہے”
اب کی بار منال اس پر چوٹ کرتی ہوئی بولی
“انسان انسان کی بات ہوتی ہے منال اب تم اپنے آپ کو میری بیوی سے تو مت ملاؤ اور اب جو بھی کوئی بات کرنا بہت سوچ سمجھ کے کرنا کیوکہ ایک طرف میری بیوی ہے اور دوسری طرف میرا بھائی”
نمیر منال کو وارننگ کرنے کے انداز میں بولا۔۔۔ اس وقت وہ ان لوگوں پر اپنا غصہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا جو اس کو عنایہ اور نہال پر آ رہا تھا
“یہی تو تمہیں سمجھنا چاہیے ہے اب تمہاری بیوی اور نہال ایک دوسرے کے ساتھ گھومنے پھرنے لگے تو لوگ باتیں بتائے گے۔۔۔ ظاہری بات ہے نہال اور عنایہ کی منگنی رہ چکی ہے یہ بات تو تمہیں بھی سوچنی چاہیے”
عشرت نے اپنی طرف سے آگ لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی
“خالہ جانی کیا ہے ناں میں آپ ہی کا بھانجا ہو بالکل چکنے گھڑے کی طرح،،، لوگوں کی فضول باتوں کا مجھ پر خاص اثر نہیں ہوتا جیسے آپ پر نہیں ہوتا تھا یاد نہیں ہے آپ کو جب منال فلموں میں کام کرنے گئی تھی لوگوں نے کیسی کیسی باتیں بنائی تھی”
نمیر اپنی طرف سے حساب بےباک کرتا ہوا اٹھا کیوکہ اب ڈرائنگ روم میں ثروت آ چکی تھی۔۔۔ اس نے جتنا وقت ان دونوں ماں بیٹیوں کو دیا وہ اتنی ہی مستحق تھی اس لئے نمیر واپس اپنے روم میں چلا گیا
****
“عنایہ بھابھی، نہال۔۔۔ آپ دونوں اس وقت یہاں پر کیا کر رہے ہیں”
نوفل نے ان دونوں کو سنسان سڑک پر ایک ساتھ کھڑے دیکھا تو حیرت سے پوچھا
“شکر خدا کا تم مل گئے،، عنایہ کار میں بیٹھو جلدی”
نہال نوفل کو جواب دے کر عنایہ کیلئے کار کے پیچھے کا دروازہ کھولا خود بھی کار میں بیٹھتے ہوئے وہ نوفل کو تھوڑی دیر پہلے والی ٹریجیڈی کا بتانے لگا
“او گاڈ تمہیں کس بے وقوف نے کہا تھا کہ رات کو تم اس رستے سے آؤ”
نوفل کی بات سن کر نہال نے سر گھما کر ایک نظر عنایہ کو دیکھا تو وہ شرمندہ ہوگئی
“بس گھر جلدی پہنچنے کے چکر میں کار یہی موڑ لی”
نہال نے عنایہ کی بیوقوفی کا الزام اپنے اوپر لیتے ہوئے نوفل کو بتایا
“چوٹ زیادہ گہری تو نہیں لگی،، اپنی کار کی تم فکر نہیں کرو میں صبح میں یا پھر شام تک معلوم کروا لیتا ہوں”
نوفل کار ڈرائیو کرتا ہوا بولا
“اپنی کار کی مجھے فکر نہیں ہے،، عنایہ ساتھ تھی اس کی فکر تھی،، خیر تم سناؤ اس وقت کہاں جا رہے ہو”
نہال کی بات کر نوفل ایک نظر بیک مرر سے عنایہ کو دیکھا۔۔ اسے یوں نمیر کی بیوی کا اتنی رات گئے نہال کے ساتھ باہر آنا کچھ مناسب نہیں لگا
“نائٹ ڈیوٹی ہے آج میری،، نمیر کیسا ہے اسے تو فکر ہو رہی ہوگی”
نوفل اور نہال باتیں کرنے لگے جبکہ عنایہ کے چہرے پر فکرمندی کے آثار اور بھی نمایاں ہوئے اب اسے گھر سے نکلے چار گھنٹے ہو چکے تھے
****
“میرا دل بیٹھا جا رہا ہے نمیر۔۔۔ کچھ معلوم کرو چار گھنٹے ہوگئے ان دونوں کو گھر سے نکلے ہوئے”
ثروت اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی جبکہ نمیر اس کے کمرے میں مسلسل چکر کاٹتا ہوا ہر تھوڑی دیر بعد ان دونوں کے نمبرز ٹرائی کر رہا تھا جو کافی دیر سے بند جا رہے تھے۔۔۔ پریشانی تو اب اسے بھی شروع ہوگئی تھی۔۔۔۔ عشرت اور منال کافی بات بنا کر اور سنا کر اب جا چکی تھیں
“ماما آپ پریشان مت ہو ورنہ آپ کی طبیعت خراب ہوگی وہ دونوں جلد گھر آجائیں گے”
نمیر ثروت کو اطمینان دلاکر کار کی چابی لے کر ثروت کے کمرے سے نکل کر گھر سے باہر نکلنے لگا تب نہال اور عنایہ گھر کے اندر داخل ہوئے
“نمیر”
عنایہ نمیر کو دیکھ کر جتنی بے قراری سے اس کی طرف بڑھی مگر نمیر کے چہرے کے سرد تاثرات دیکھ کر اس کے قدم وہی رک گئے۔۔۔ وہ خاموشی سے عنایہ کو دیکھ رہا تھا
“کہاں سے انجوائے کر کے آرہے ہو تم دونوں”
نمیر اب عنایہ کے پیچھے آتے نہال کو دیکھتا ہوا طنزیہ لہجے میں سوال کرنے لگا
“بس سمجھو آج تو پکنک ہوتے ہوتے بچ گئی۔۔۔ راستے میں واپسی پر ہماری کار”
نہال اپنے اور عنایہ کے ساتھ ہونے والا واقعہ بتانے لگا مگر نمیر اس کی پوری بات سنے بغیر اپنے کمرے میں چلاگیا عنایہ پلٹ کر نہال کو دیکھنے لگی جس پر نہال کندھے اچکا کر ثروت کے کمرے کی طرف چلا گیا جبکہ عنایہ اپنے بیڈ روم میں نمیر کے پاس جانے لگی
****
نمیر آپ مجھ سے ناراض ہیں ناں”
عنایہ جب اپنے کمرے میں آئی تو نمیر روم کی لائٹ بند کرکے بیڈ پر لیٹ چکا تھا عنایہ بیڈ پر نمیر کے قریب بیٹھ کر اس سے پوچھنے لگی
“نہال بھائی نے کہا تھا میری برتھ ڈے کا کیک کھانا ہے ان کو۔۔۔۔ میں انکے بے حد اصرار کرنے پر ان کے ساتھ گئی تھی کیک لینے اور جانے سے پہلے آپکی اجازت لینے کے لیے کالز بھی کی تھی جو آپ نے پک نہیں کی”
نمیر کے کچھ نہ بولنے پر عنایہ اسے خود ہی وضاحت دینے لگی
“کیک لینے میں کتنی دیر لگتی ہے چار گھنٹے”
نائٹ بلب کی روشنی میں نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا اس سے سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“اس کے بعد نہال بھائی ضد کرنے لگے کہ وہ مجھے گفٹ دلائے گے۔۔۔ میں نے انہیں منع بھی کیا مگر۔۔۔”
عنایہ نمیر کو مزید بتانے لگی
“ہاں پھر اس کے بعد تم دونوں کا ارادہ بن گیا ہوگا ایک ساتھ مووی دیکھنے کا۔۔۔ جاو اپنی جگہ پر عنایہ مجھے نیند آرہی ہے”
نمیر اس کی بات کاٹ کر سخت لہجے میں بولا
“آپ پوری بات سنے بغیر مجھ سے ایسے ناراض نہیں ہو سکتے۔۔۔ ہم راستے میں تھے تب دو لڑکوں نے بائیک پر ہمارا راستہ روکا،، پسٹل دکھا کر ہم دونوں سے موبائل اور پیسے یہاں تک کے کار بھی چھین لی”
عنایہ کو مزید بتاتے ہوئے رونا آنے لگا نمیر ایک پل کے لئے غصہ بھلائے عنایہ کو دیکھنے لگا۔۔۔ اس نے نہال کے سر پر چوٹ تو دیکھی تھی مگر غصے میں اس سے پوچھا نہیں مگر اب اس کا دل چاہا وہ اٹھ کر عنایہ کو گلے لگا کر اس سے پوچھے کہ وہ ٹھیک ہے۔۔۔۔ وہ لازمی بہت زیادہ ڈر گئی ہوگی اس واقعے سے،، ڈر پوک ہی تو تھی وہ مگر اسکو منال اور عشرت کی باتیں یاد آنے لگی جو اس کا کافی دل جلا چکی تھی
“عنایہ تمہیں اس بات کا احساس ہے کہ تمہیں میرے ساتھ کہیں جانا تھا،،، تم نہال کو منع بھی کر سکتی تھی مگر تم نے اسے میرے اوپر ترجیح دی۔۔۔ جبکہ یہ بات نہال اب اچھی طرح جان چکا ہے اور تم بھی سمجھ لو،، میں تمہیں لے کر بہت حساس ہو مجھے تمہارا نہال کے ساتھ صرف ایک حد تک بات کرنا پسند ہے مگر اتنا فری ہونا بالکل پسند نہیں کہ تم اس کے ساتھ باہر گھومتی پھرو اور پیچھے میں بیوقوف بنا لوگوں کو جیٹھ اور بھابھی کے رشتے کو بریف کرتا پھرو”
نمیر کے بولنے پر عنایہ کو مزید رونا آنے لگا،،، وہ نمیر کے سینے پر سر رکھ کر رونے لگی
“عنایہ اپنا رونا بند کرو،، جاؤ جاکر چینج کرو اور اپنی جگہ پر لیٹو”
نمیر کے لہجے میں اب بھی نرمی کی رمق موجود نہیں تھی شاید وہ عنایہ سے ناراض ہی تھا جبھی اپنے دونوں ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھ کر لیٹا رہا
“پہلے آپ بولیں کہ آپ مجھ سے ناراض نہیں ہیں”
عنایہ نمیر کے سینے سے سر ہٹائے بغیر اس سے بولی
“عنایہ تمہیں سنائی دے رہا ہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں”
وہ اس وقت عنایہ کے لاڈ اٹھانے کے موڈ میں ہرگز نہیں تھا اس لئے اپنے لہجے کو سخت بناتا ہوا بولا
“گندے”
عنایہ منہ ہی منہ میں بول کر اٹھی روتی ہوئی اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم میں چینج کرنے چلی گئی
“ڈنر کیا تم نے”
عنایہ جب چینج کر کے بیڈ پر لیٹی۔۔۔ وہ عنایہ سے پوچھے بنا نہیں رہ سکا
“نہیں میں نے ڈنر نہیں کیا اور مجھے بہت زور سے بھوک بھی لگ رہی ہے”
نمیر کے لہجے میں نرمی دیکھ کر عنایہ جھٹ سے بولی
“جاو کچن میں جا کر کھانا کھا لو”
نمیر عنایہ کو فری ہوتا دیکھ کر دوبارہ روکھے لہجے میں بولا
“نہیں میں اکیلی نہیں جاؤ گی۔۔۔ آپ بھی چلے میرے ساتھ”
عنایہ بیڈ سے اٹھ کر دوپٹہ لیتی ہوئی بولی
“زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے جو کہا ہے وہ کرو”
نمیر اس کی بات سن کر روعب جھاڑتا ہوا بولا
“تو غلطی آپ کی ہوئی،، آپ کھانے کا نہیں پوچھتے۔۔۔ پہلے خود فری کرتے اور پھر کہتے ہیں فری مت ہو۔۔۔ اب چلیں میرے ساتھ”
عنایہ اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھانے لگی۔۔۔ نمیر کو اندازہ تھا اس کے آنکھیں دکھانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس لئے خاموشی سے اٹھ گیا اور عنایہ کے ساتھ کچن میں جانے لگا
پورے گھر کی لائٹ بند تھی بارہ بجے کا وقت تھا سب یقیناً سو چکے تھے۔۔ نمیر نے کچن کی لائٹ کھولی۔۔۔ ساتھ ہی کچن میں موجود کرسی پر بیٹھ گیا عنایہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی نمیر کو منانا اتنا مشکل بھی نہیں تھا اس نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا
“نمیر آپ نے کھانا کھایا”
عنایہ فرج کا دروازہ کھولے مڑ کر آئستہ آواز میں نمیر سے پوچھنے لگی
“شکر ہے میری بیوی کو اپنے شوہر کا خیال تو آیا”
نمیر اسکو دیکھتا ہوا کہنے لگا تو عنایہ مسکرا کر اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے گھورنے لگی مگر وہ اندر سے خوش تھی کہ وہ نمیر کا غصہ دور کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔۔۔ وہ اپنے اور نمیر کی لیے ایک ہی پلیٹ میں پاستا نکال کر گرم کرنے لگی
“کیا کوئی آج گھر پر آیا تھا”
فریج میں دو سے زائد کھانے دیکھ کر عنایہ نمیر کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“ہاں خالہ جانی اور منال آئے تھے”
نمیر غور سے اسکے تاثرات دیکھتا ہوا بتانے لگا جو عین توقع کے مطابق منال کا نام سن کر سنجیدہ ہوگئے تھے۔۔ نمیر چلتا ہوا عنایہ کے پاس آیا
“جیسے تم صرف میری ہو اور تمہیں مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا،، ویسے ہی میں بھی صرف تمہارا ہوں یقین کرو، مجھے بھی تم سے کوئی نہیں چھین سکتا”
نمیر نے اسے اتنے وثوق سے اسے یقین دلایا کہ عنایہ نے اپنا سر نمیر کے سینے پر رکھ دیا نمیر کے اسطرح بولنے پر عنایہ کو سکون سا اپنے اندر اترتا محسوس ہوا۔۔۔ نمیر نے عنایہ کی کمر پر اپنے دونوں بازو حائل کرکے اسے اپنی بانہوں میں لیا
“شکر ہے آپ مجھ سے ناراض ہو کر نہیں سوئے گیں۔۔۔ ورنہ مجھے ذرا اچھا محسوس نہیں ہوتا سوتے ہوئے”
عنایہ نمیر کے سینے پر ویسے ہی سر رکھے کہنے لگی
“مگر میری ناراضگی کے باوحود تم سو جاتی،، جبکہ تم سے ناراض ہونے کے بعد مجھے نیند بھی نہیں آتی”
نمیر کی بات سن کر عنایہ نے اس کے سینے سے سر اٹھا کر اپنا چہرہ اوپر کرتے ہوئے نمیر کو مسکرا کر دیکھا۔۔ نمیر اس کی کمر سے اپنا ہاتھ ہٹاکر انگوٹھے سے اسکا گال سہلاتے ہوئے بولا
“تم اتنے قریب آ کر یوں مسکرا کر،، مجھ پر ستم ڈھا رہی ہو حسین لڑکی”
نمیر نے عنایہ کی تھوڑی کے نیچے اپنی انگلی رکھ کر اس کا چہرہ مزید اونچا کیا،، اور جھک کر اس کے ہونٹوں پر اپنے تشنہ ہونٹ رکھ دیے۔۔۔ عنایہ نے نمیر کی شرٹ اپنی مٹھی میں دبوچی تو نمیر اسکی کمر کے گرد اپنے دونوں بازوں سے گرفت مزید سخت کرنے لگا۔۔۔ کچن میں پھیلی اس معنیٰ خیز خاموشی کو قدموں کی چاپ نے ختم کیا کوئی کچن کی طرف آرہا تھا۔۔۔ نمیر نے عنایہ کو اپنی گرفت سے آزاد کیا تو عنایہ دوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی جلدی سے پیچھے ہوئی
“یعنی صحیح وقت پر میں نے چھاپا مارا۔۔۔ کھانا کھایا جا رہا تھا میں بھی کھانے کے چکر میں ہی یہاں پر آیا تھا۔۔۔ کیا میں تم دونوں کو جوائن کر سکتا ہوں”
نہال بولتا ہوا خاص طور پر نمیر کی طرف دیکھ کر اجازت لینے لگا
“ہاں بیٹھو،، عنایہ نہال سے پوچھو وہ کیا کھائے گا”
نمیر کا موڈ جب اپنی بیوی سے ٹھیک ہو چکا تھا تم نہال بھی اس کا بھائی تھا۔۔۔ نمیر کرسی پر بیٹھتا ہوا نارمل لہجے میں بولا۔۔۔ نہال نے نوٹ کیا نمیر کا موڈ پہلے کی بانسبت اس وقت ٹھیک تھا وہ اس وقت غصے میں یا ناراض نہیں تھا۔۔۔ عنایہ بھی اسے کہیں سے ڈری ہوئی یا روئی ہوئی نہیں لگی
“چوٹ کیسے لگی تمہارے”
نہال نمیر کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا تو نمیر اس سے پوچھنے لگا
“عنایہ سے تمہیں معلوم ہو گیا ہوگا ہمارے ساتھ ہونے والی ٹریجڈی کا۔۔ انہی میں سے ایک لڑکے نے پسٹل ماری تھی وہ دراصل عن”
نہال اسے پینڈینٹ کے بارے میں بتانے لگا تبھی ایک دم عنایہ بولی
“آپ کیا لے گیں کھانے میں۔۔۔ رائز اسٹیک یا پاستا”
عنایہ نہال کو دیکھتی ہوئی نہ محسوس انداز میں نفی میں سر ہلاتی ہوئی نہال سے پوچھنے لگی۔۔۔ نہال کو محسوس ہوا وہ نمیر کو پینڈینٹ کے بارے میں بتانے سے منع کر رہی تھی
“اسٹیک”
نہال اس کے اشارے پر اثبات میں سر ہلاتا ہوا عنایہ کو بولا
“ہاں تو کیا بتا رہے تھے تم، وہ دراصل عنایہ کو”
نمیر نے وہی سے بات کا سلسلہ جوڑا
“نہیں عنایہ کا نام میں نے کب لیا۔۔۔ وہ دراصل میں نے ان میں سے ایک لڑکے کو دھکا دیا تو دوسرے نے پسٹل میرے ماتھے پر مارا”
نہال نے اپنی بات مکمل کی۔۔۔ نمیر بیوقوف نہیں تھا جو عنایہ کا ایک دم بیچ میں کھانے کا پوچھنا اور اسے کچھ منع کرنے کے اشارے کے بارے میں نہیں سمجھ پاتا اور نہال جو عنایہ کے متعلق کچھ بتانے جارہا تھا خوبصورتی سے اس بات کا گھمانا بھی نمیر سمجھ گیا
“گھر تک کیسے آئے تم لوگ”
نمیر دوبارہ نہال سے پوچھنے لگا جبھی عنایہ اپنے اور نمیر کے لئے ایک ہی پلیٹ میں پاستا جبکہ نہال کے لئے الگ پلیٹ میں اسٹیک لے کر ٹیبل پر آئی
“نوفل مل گیا تھا اسی نے گھر تک چھوڑا”
نہال نمیر کو بتانے لگا جس پر نمیر نے سر ہلایا۔۔۔ وہ تینوں ہی کھانا کھانے لگے۔۔۔ نہال کو اپنے سامنے ان دونوں کا ایک پلیٹ میں کھانا کھانا اچھا نہیں لگا۔۔۔اس نے سر اپنی پلیٹ کی طرف جھکایا ہوا تھا مگر اسکا دھیان ان دونوں کی طرف تھا۔۔۔۔
نہال صاف محسوس کرسکتا نمیر کا پاستا کھانے کا موڈ نہیں وہ عنایہ کا ساتھ دینے کے لیے کھا رہا ہے۔۔۔۔ تبھی عنایہ کو ہچکی آئی،، اس سے پہلے نہال کا ہاتھ پاس رکھے پانی کے گلاس کی طرف بڑھتا۔۔۔ نمیر عنایہ کو اپنا گلاس تھما چکا تھا۔۔ اب وہ عنایہ کا بچا پانی خود پی رہا تھا۔۔۔ کچھ تھا جو نہال کو اچھا نہیں لگا مگر وہ ضبط کر گیا
“میں سوچ رہا تھا مہران بلڈرز والا پروجیکٹ فائنلئز کرکے اور اس کی ڈیلنگ کرنے تم اسلام آباد چلے جاؤ”
نہال کی بات پر نمیر نے فارک منہ میں لے جاتے ہوئے اس کو دیکھا
“اس پر تو اسٹارٹ سے تم نے ورک کیا ہے آئی تھنک فائنلائز کرنا تمہارا ہی مناسب رہے گا”
نمیر کھانے سے ہاتھ روکتا ہوا بولا
“بات تو تمہاری ٹھیک ہے مگر مجھے نہیں لگ رہا کہ میں پلین کا سفر کر پاوں گا۔ ۔۔۔ ویسے بھی زیادہ نہیں دو دن کی بات ہے۔۔۔۔ اگر تمہیں پرابلم ہے تو اٹس اوکے میں مینج کر لو گا”
نہال پلیٹ کھسکاتے ہوئے بولنے لگا کھانے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی بات بھی مکمل کرچکا تھا
“اٹس اوکے دو دن کی بات ہے میں چلا جاتا ہو اسلام آباد”
نمیر کے کہنے پر ایک دم عنایہ نے سر اٹھا کر نمیر کو دیکھا وہ ان دونوں بھائیوں کی باتوں کے دوران خاموشی سے سر جھکائے کھانا کھا رہی تھی،، بولی تو ابھی بھی کچھ نہیں بس نمیر کو دیکھنے لگی۔۔۔۔ اس کا یوں دیکھنا نمیر کے ساتھ ساتھ نہال بھی نوٹ کر چکا تھا
“عنایہ کیا ڈرنگ دے سکتی ہو پلیز”
نہال عنایہ کی توجہ اپنی طرف دلاتا ہوا بولا۔ ۔۔۔ اسے لگا عنایہ کافی حد تک نمیر سے اٹیچ ہوچکی ہے شاید اسے اب اپنی طرف راغب کرنے میں کافی ٹائم لگے گا
“جی”
وہ نہال کو جواب دیتی ہوئی فریج سے اسکے لیے کولڈرنگ نکالنے لگی جب کہ سردیوں کا آغاز شروع ہوچکا تھا اب کھانے کے بعد عنایہ کو سردی بھی لگ رہی تھی
“ویسے نہال اب تمہیں اپنی شادی کے بارے میں سوچنا چاہیے”
نمیر نے نہال کو دیکھ کر مشورہ دیا کیوکہ وہ نوٹ کر رہا تھا نہال ہر کام کے لیے عنایہ کو مخاطب کرتا تھا۔۔۔ جبکہ اس سے پہلے وہ اپنے سارے کام خود سے کرنے کا عادی تھا
“میں بھی یہی سوچ رہا ہوں اب مجھے سیریس ہوکر کچھ سوچنا پڑے گا”
نہال عنایہ کے ہاتھ سے گلاس لیتا ہوا نمیر کو بولا
نمیر غور سے نہال کو دیکھنے لگا وہ اس کی بات کا مفہوم نہیں سمجھ سکا کہ نہال کیا سوچ رہا ہے۔۔۔ کیا اسے اپنے بھائی پر شک کرنا چاہیے؟؟ نمیر نے خود سے سوال کیا تو وہ اپنی سوچ پر ملامت کرتا ہوا سر جھٹکنے لگا
“نمیر کیا آپ کافی لیں گے”
عنایہ کی آواز پر نمیر نے عنایہ کو دیکھا
“ہاں بیڈروم میں لے کر آ جاؤ کافی”
نمیر عنایہ کو بولتا ہوا چیئر سے اٹھا اس کا ارادہ اب اپنے بیڈروم میں جانے کا تھا۔۔۔ عنایہ مسکرا کر اس کے لیے کافی تیار کرنے لگی
“کیا اگر تم فوراً سو نہیں رہے ہو تو آدھا گھنٹہ دے سکتے ہو۔۔۔ دراصل مہران بلڈرز والے پروجیکٹ پر کچھ ضروری پوائنٹس تم سے ڈسکس کرنے تھے۔۔۔ میں چاہ رہا تھا کام ڈیلے کیے بناء تم پرسوں ہی اسلام آباد نکل جاؤ”
نمیر کو اپنے روم میں جاتا ہوا دیکھ کر نہال خود بھی کھڑا ہوا اور نمیر کو بولا
“عنایہ میری کافی نہال کے روم میں پہنچا دو،، میں 20 منٹ میں آرہا ہوں”
نمیر آنکھوں میں نرم تاثر کے ساتھ عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا جیسے وہ کہنا چاہ رہا ہو کہ وہ اس کا انتظار کرے عنایہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی فریج سے کریم نکالنے لگی
نمیر کو لگا کہ صرف آدھا گھنٹہ ڈسکشن میں لگے گا۔۔ مگر اس کے بعد نہال اسے مزید باتیں کرنے کے موڈ میں تھا نمیر گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا نہال سے باتیں کرنے لگا ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد وہ نہال کو بھی ریسٹ کرنے کا کہتا ہوا اس کی روم سے نکل کر اپنے بیڈروم میں آیا
عنایہ نے اپنے ڈر کی وجہ سے کمرے کی لائٹ جلائی ہوئی تھی مگر وہ خود بیڈ پر سمٹی ہوئی سو رہی تھی۔۔۔ یقیناً وہ اس کا کافی دیر تک انتظار کرتی رہی ہوگی۔۔۔۔ نمیر روم کی لائٹ آف کر کے نائیٹ بلب جلاتا ہوا بیڈ پر آیا عنایہ پر کمفرٹر ڈالا
“اے سلیپنگ بیوٹی سوگئی ہو کیا”
نمیر عنایہ کے ماتھے پر آئے بال نرمی سے پیچھے کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ کوئی جواب نہ پا کر وہ عنایہ کی گردن پر جھکا۔۔۔ بڑھی ہوئی شیو کی وجہ سے عنایہ ہلکا سا کسمسائی جسے نیند میں اسکو یہ مداخلت خاص پسند نہیں آئی۔۔۔ نمیر سرد آہ بھر کر اٹھا عنایہ کا ہاتھ لبوں پر لگا کر اپنے سینے پر رکھتا ہوا خود بھی کمفرٹر اڑھ کر سونے کی کوشش کرنے لگا
