Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 48) 2nd Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 48) 2nd Last Episode
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“بھابھی پلیز یار بولے نا میری بات مانے گی”
نوفل پولیس اسٹیشن سے گھر میں داخل ہوا تو اسے خرم کی آواز اپنے بیڈروم سے آتی سنائی دی وہ شانزے سے کسی بات کی منتیں کر رہا تھا۔۔۔ کل ہی ان سب کی کوئٹہ سے واپسی ہوئی تھی شانزے ابھی بھی نوفل سے ناراض تھی
“کیا باتیں ہے منوانی ہے تم نے اپنی بھابھی سے، بہت کم ہی یہ کسی کو خاطر میں لاتی ہے میرے بھائی”
نوفل بیڈ روم میں آکر بیڈ پر نیم دراز ہوتا ہوا خرم سے بولا
“بھیا آپ کا اور میرا معاملہ الگ ہے آپ کو بیشک وہ خاطر میں نہ لائے۔۔۔ مگر میں ان کا بہت پیارا دیور ہو کیوں بھابھی ایگری کرتی ہے ناں آپ میری بات سے”
خرم نوفل کو چڑا کر شانزے سے پوچھنے لگا
“تمہاری بات سے میں ایگری کرتی ہوں اور تمہاری بات بھی مان لیتی ہوں مگر چوائس میری بھی ہوگی۔۔۔ میں اوکے کرنے کے بعد ہی بات آگے کروگی”
وہ نوفل کو یکسر نظر انداز خرم سے بولی
“او گریٹ یار پھر کل کا ہی پھر ڈن کر لیتا ہوں اور اس کے بعد سارا کچھ آپ کو بھی سنبھالنا ہے۔۔ اب میں چلا” خرم اور وہ نجانے کون سی اپنی باتیں کر رہے تھے۔ ۔۔ بات مکمل ہونے پر خرم خوش ہوکر کمرے سے نکل گیا
“اے ظالم حسینہ وہاں کیا کر رہی ہو یہاں آو نہ زرا”
نوفل نے بیڈ پر لیٹے شانزے کو دیکھ کر مخاطب کیا جو دور رکھی چیئر پر بیٹھی تھی۔۔۔ شانزے اپنی روم کا دروازہ بند کرکے نوفل کے پاس آئی
“اب تو میں تمہیں اور بھی ظالم لگو گی گولی جو چلا چکی ہو تم پر۔۔ اب تمہیں ذرا محتاط رہنا چاہیے”
شانزے کی بات سن کر نوفل نے اپنے چہرے کی مسکراہٹ چھپائی اس کا ہاتھ تھام کر بیڈ پر اپنے پاس بٹھایا خود بھی اٹھ کر بیٹھ گیا
“تمہارے ہاتھ کا تپھڑ کھا مجھے تم سے محبت ہوگئی تھی،،، اور اب گولی کھانے کے بعد ایسا لگ رہا ہے جیسے عشق ہو جائے گا۔۔۔ کافی خراب نشانہ ہے ویسے تمہارا۔۔۔ دل کو چھوتے چھوتے رہ گئی تمہاری چلائی گئی گولی”
نوفل اسے چھیڑنے والے انداز میں بولا تو شانزے نے اس کی سینے پر سر رکھا تھا
“بہت فضول بولتے ہو تم۔۔۔ امی ناجانے کیوں صائمہ خالہ کے پاس رک گئی۔۔۔ اب مجھے بہت فکر ہو رہی ہے نوفل آپی کی وہ عادی نہیں ہے اس طرح اجنبی ماحول میں سب کے ساتھ رہنے کی”
شانزے فرحین کے لیے اپنی فکر مندی ظاہر کرتی ہوئی بولی
“کوئی بھی لڑکی عادی نہیں ہوتی سب کو ہی ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے یار۔۔ اب اسے اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہنا ہے، عادت تو ڈالنی ہوگی،، تم بتاؤ اس طرح کمرے میں کیوں بیٹھی تھی”
نوفل پیار سے شانزے کو سمجھاتا ہوا بولا
“تمہاری امی مجھ سے ناراض ہیں نوفل،، بتاؤ میں ان کو کیسے مناو۔۔۔ ان کو کھانے میں کیا ڈش پسند ہے بلکہ ایسا کرتے ہیں ان کے لیے شاپنگ کر کے آتے ہیں پھر وہ خوش ہو جائیں گی”
فریدہ سے جب وہ فون پر بات کرتی تھی،، فریدہ بہت اچھے طریقے سے اس سے بات کرتی تھی مگر آج وہ کافی روکھے پھیکے لہجے میں شانزے سے بات کر رہی تھی جو شانزے کو کافی فیل ہوا مگر شانزے کو اپنی غلطی کا احساس تھا اس لیے اب اسے ہی اپنی ساس کو منانا تھا
“شاپنگ اور کھانوں سے تو وہ نہیں مانیں گیں اب تو ایک ہی طریقہ ہے ان کو منانے کا”
نوفل اسے بانہوں میں لیتا ہوا سنجیدگی سے بولا
“کیا”
شانزے نوفل سے پوچھنے لگی
“یہی کہ اب ہمیں انکو جلد سے جلد دادی بنانے کے بارے میں سوچنا چاہے وہ بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ”
نوفل شرارت بھرے انداز میں کہتا ہوں اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر جھکا
“نوفل پیچھے ہٹو یہ کونسا وقت ہے”
شانزے اسے اوور ہوتا دیکھ کر آنکھیں دکھا کر بولی
“یار تمہارے موڈ کی وجہ سے میرے چنوں منوں دنیا میں آنے سے لیٹ ہو رہے ہیں پلیز اتنی ظالم نہ بنو اب تو کمشنر صاحب بھی چھٹیاں گزار کر واپس آگئے ہیں وہ پھر سے میری نائٹ ڈیوٹی لگا دیں گے”
نوفل بیچارگی سے بولا تو شانزے ہنس دی
“بالکل سہی ڈیوٹی لگاتے ہیں تمہاری، تمہارے کمشنر صاحب۔۔۔ اچھا میری بات سنو اور خرم کو ایک لڑکی پسند ہے وہ مجھے اس سے ملوانا چاہتا ہے اب امی کو منانے کا کام تمہارا ہے کیوکہ آنٹی تو خرم کی نہیں مانیں گی اور تم باتوں ہی باتوں میں انہیں آرام سے منا سکتے ہو”
شانزے نوفل کو خرم کی بات بتانے لگی مگر وہ اپنے ہی کام میں مگن ہو چکا تھا
*****
کوئٹہ سے رخصت ہونے پر فرحین کو معلوم ہوا عنایہ اس کی دیورانی تھی یعنیٰ نمیر کی بیوی۔۔۔ تو وہ دل ہی دل میں مسکرا دی نمیر کی بیوی اتنی ہی خوبصورت ہونی چاہیے تھی۔۔۔ کافی سال بعد اس نے نمیر کو دیکھا مگر اسے دیکھکر اب اس کا دل بالکل نارمل اسپیڈ میں دھڑک رہا تھا جبکہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوتا تھا۔۔۔
نمیر اور نوفل دونوں نے فرحین سے اپنی شرارت کی معافی مانگی۔۔۔ جب اس نے نہال کو معاف کر دیا تھا تو پھر وہ ان دونوں کو کیسے معاف نہیں کرتی
نمیر، نہال، عنایہ کے علاوہ ایک نیا چہرہ دیکھ کر ثروت کو کافی حیرت ہوئی۔۔۔ اس کے سوالات پر نمیر نے ثروت کو کیا کہہ کر مطمئن کیا نہال نہیں جانتا تھا مگر اسے معلوم تھا،،، ثروت کو نمیر نے اسکی طبیعت کے پیش نظر سچ ہرگز نہیں بتایا ہوگا۔۔۔ جو بھی تھا ثروت نے فرحین کو بہو کے روپ میں قبول کیا اور اس کا خوش دلی سے استقبال کیا
گھر کا ہر فرد اس کا خیال رکھ رہا تھا وہ عنایہ سے جلد گھل مل گئی تھی،، ثروت بھی اسے شفیق خاتون لگی اس نے صبح نہال کے آفس جانے کے بعد بھی کچھ الٹا سیدھا سوال نہیں کیا۔۔۔ وہ اس سے چھوٹی موٹی باتیں اس کی پسند ناپسند کوالیفیکیشن وغیرہ پوچھتی رہی۔۔ دوسری طرف نمیر اس سے فرینگ ہو کر بات کر رہا تھا وہ پہلے کبھی یونیورسٹی میں اس سے فرینک نہیں ہوتا تھا مگر وہ اب اس سے نارمل گھر کے فرد کی طرح ٹریٹ کر رہا تھا
فرحین ابھی اپنے کمرے میں مغرب کی نماز سے فارغ ہوئی تھی،،، سر سے دوپٹہ بھی نہیں اتارا تھا کہ نہال کمرے میں آیا۔۔۔ اس کے ہاتھ میں ایک شاپر موجود تھا جس میں سے گجرے نکال کر وہ فرحین کو پہنانے لگا
“یہ کیوں لائے ہو تم”
فرحین نہال کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی وہ فرحین کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا
“مجھے ان کی مہک بہت اچھی لگتی ہے۔۔۔ میں نے سوچ رکھا تھا جب بھی میری شادی ہوگی تو میں اپنی بیوی کو گجرے لا کر پہنایا کروں گا”
نہال اس کو گجرے پہناتا ہوا بتانے لگا
“تم نے اپنی شادی کے متعلق مجھے تو نہیں سوچ رکھا ہوگا۔۔۔ کوئی تو ہوگی تمہاری زندگی میں جسے تم”
فرحین کی بات مکمل ہونے سے پہلے نہال اس کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھ چکا تھا
“اب میں صرف تمہارے متعلق سوچتا ہوں اور سوچنا چاہتا ہوں”
نہال اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا۔۔۔ وہ فرحین کو دیکھ رہا تھا نماز کے دوپٹے میں لپٹا ہوا اس کا چہرہ نہال کو بھلا لگا
“تم پر اس سٹائل میں دوپٹہ کافی سوٹ کر رہا ہے اچھی لگ رہی ہو تم”
نہال نے فرحین کو دیکھتے ہوئے کہا وہ دونوں نکاح کے بندھن میں تو بند چکے تھے مگر رشتے کا تقاضا ابھی پورا نہیں ہوا تھا
“مجھے خوش رکھنے کے لیے ضروری نہیں کہ تم میری تعریف کرو”
فرحین نہال کو دیکھ کر کہتی ہوئی وہاں سے جانے لگی تب نہال نے اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا فرحین کے قدم وہی رک گئے
“یہ تعریف میں نے تمہیں خوش کرنے کے لئے نہیں کی ہے فرحین میں نے یہ بات دل سے بولی ہے”
نہال فرحین کا رخ اپنی طرف کرتا ہوا بولا اور اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما
“پلیز نہال نہیں”
فرحین کی آنکھوں میں نمی آئی اس نے التجائی انداز میں کہا ویسے ہی نہال نے اپنے ہاتھ اس کے چہرے سے ہٹالیے اور خود بھی پیچھے ہوا
“میں تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتا فرحین،،، نہ ابھی نہ آگے زندگی میں کبھی پلیز اب رونا نہیں”
نہال اس کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا شاید فرحین نے نکاح تو کرلیا تھا مگر وہ ایک دم اتنی جلدی اس رشتے کو ایکسپٹ نہیں کر پا رہی تھی اور اس معاملے میں نہال پوری پوری فرحین کی رضامندی چاہتا تھا
“اوکے ایسا کرتے ہیں آج ہم دونوں باہر ڈنر کرتے ہیں”
نہال اپنا موڈ فرش کرتا ہوا بولا اور فرحین کو اپنا پروگرام بتانے لگا
“مجھے بھیڑ پسند نہیں ہے نہال۔۔۔ لوگوں سے گھبراہٹ ہوتی ہے اب”
فرحین بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی نہال بھی اس کے برابر میں بیٹھا اور آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما
“معلوم ہے فرحین تم بہت پیارے دل کی لڑکی ہو میرے اتنے بڑے گناہ کو معاف کر کے تم نے ظرف دکھایا ہے۔۔۔ مجھے واقعی خوشی ہوگی اگر میں تمہیں خوش رکھوں گا کیا تم میری خوشی کی خاطر ڈنر پر چل سکتی ہو۔۔ بھیڑ تو مجھے بھی پسند نہیں ہے ہم اپنے لئے کیبن بک کروا لیں گے”
نہال اس کا ہاتھ تھامتا ہوا مسکرا کر پوچھنے لگا تو فرحین نے اسے دیکھ کر اقرار میں سر ہلایا
“مجھے لگ رہا تھا آسان نہیں ہے پر اب لگتا ہے اتنا مشکل بھی نہیں ہے”
نہال فرحین کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا
“کیا”
فرحین ناسمجھنے والے انداز میں پوچھنے لگی
“تم سے محبت کرنا” نہال مسکراتا ہوا اس کے پاس سے اٹھ کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا
****
نمیر صبح کے وقت آفس میں نہال کے روم میں، آفس کے ہی کسی کام سے آیا نہال اس وقت اپنے کمرے میں موجود نہیں تھا اس کے لیپ ٹاپ پر نمیر کی نظر پڑی تو آسٹریلیا سے میل آئی ہوئی تھی۔۔۔۔ ای میل پڑھنے کے بعد اس کے ماتھے پر شکنیں ابھری۔۔۔ ویسے ہی نہال دروازہ کھول کر اپنے روم میں آیا
“یہ کیا ہے نہال تم نے آسٹریلیا میں جاب کے لیے اپلائی کیا ہے”
نمیر حیرت سے نہال کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“ہاں میں اگلے ماہ فرحین کے ساتھ آسٹریلیا شفٹ ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں”
نہال نے اپنے لیپ ٹاپ پر ایک نظر ڈال کر اپنے فیس ایکسپریشن نارمل رکھتے ہوئے نمیر کو جواب دیا
“مگر کیوں،، کیا میں وجہ جان سکتا ہوں”
نمیر اب بھی حیرت سے اسے دیکھتا ہوا پوچھ رہا تھا
“کیا وجہ تمہیں معلوم نہیں”
نہال نمیر کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“نہیں مجھے تمہارے آسٹریلیا شفٹ ہونے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آرہی ہے پلیز اب یہ مت بولنا کہ تم شرمندہ ہو اس لیے یہاں رہ کر کسی کو فیس نہیں کر پا رہے ہو”
نمیر نہال کو دیکھتا ہوا چڑ کر بولا
“ایسا ہی ہے نمیر”
نہال نمیر کے جواب میں بولا۔ ۔۔ نمیر نے لمبا سانس کھینچا
“شرمندگی سے منہ چھپا کر تمہیں جب جانا پڑتا جب فرحین زندہ نہیں ہوتی تب تمہارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں رہتا۔۔۔ اب جبکہ تم فرحین سے شادی کر چکے ہوں نائلہ آنٹی اور فرحین تمہیں معاف کر چکی ہیں،، سب کچھ نارمل ہو چکا ہے تو پھر یوں جانے کی وجہ”
نمیر نہال کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“میرے اور فرحین کے بیچ سب کچھ نارمل نہیں ہے۔۔ آئی تھینک ہمارے رشتے کے لئے بھی یہ ضروری ہے”
نہال نے ایک جواز پیش کیا
“جو شادیاں نارمل نہیں ہوتی ان کا ریلیشن بھی نارمل نہیں ہوتا،، وہ سب کچھ تم یہاں اپنی فیملی کے بیچ میں رہ کر نارمل کر سکتے ہو۔۔۔ اگر اکیلے باقی فیملی سے دور، تنہا رہ کر ہسبنڈ وائف کے درمیان سب کچھ ٹھیک ہوجاتا تو میں بھی عنایہ کو لے کر کب کا جا چکا ہوتا۔۔۔ تم ہم سے دور جا کر نہ صرف مجھے اور ماما کو تنہا کر رہے ہو بلکے خود کو بھی اکیلا کر رہے ہو۔۔۔ اور فرحین کو بھی اس کی بہن سے دور کر رہے ہو نہال پلیز اس طرح مت کرو” نمیر نے نہال کو سمجھانا چاہا
“یہ تم کہہ رہے ہو تمہیں معلوم ہے نہ میں کتنا خود غرض ہو گیا تھا میں نے صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچتے ہوئے تمہیں عنایہ سے دور کرنا چاہا۔۔۔ میں کس کس بات سے شرمندہ ہوں مجھے خود نہیں سمجھ میں آتا” نہال نمیر سے نظریں چراتا ہوا بولا
“نہال تو میرے بھائی ہو ایک ہی بھائی۔۔۔ میں تم پر غصہ کر سکتا ہوں مگر تم سے نفرت بالکل نہیں کرسکتا۔۔۔اب جبکہ سب کچھ بالکل ٹھیک ہو چکا ہے تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے تو پلیز یوں مجھے اور ماما کو تنہا مت کرکے جاؤ یار میں ویسے بھی تمہارے کومے میں جانے کے بعد بہت اکیلا ہو گیا تھا،، اب دوسری بار اکیلا نہیں ہونا چاہتا” نمیر کے بولنے کی دیر تھی نہال نے اسے گلے لگا لیا۔۔۔ آج اسے لگا رشتوں کے معاملے میں وہ کتنا خوش نصیب ہے اس کا چھوٹا بھائی اس سے کتنا پیار کرتا ہے ان دونوں کے گلے لگنے سے وقتی کدورتیں ختم ہوچکی تھی
“یہ میری آنکھیں کون سا جذباتی منظر دیکھ رہی ہے بھائی،، مجھے کیو اکیلا چھوڑ دیا تم دونوں نے ظالموں” نوفل دروازہ کھول کر اندر آیا نہال اور نمیر کو گلے لگے دیکھ کر معصومیت سے بولا
جس پر نہال مسکراتا ہوا جو نمیر سے الگ ہوا اور نوفل کی طرف بڑھتا ہوا اسے بھی گلے لگا لیا
“مجھے ہمیشہ تمہاری دوستی پر فخر رہے گا”
نہال اس کے گلے لگتے ہوئے بولا
نوفل کا رخ نمیر کی طرف تھا نوفل اشارے سے نمیر سے پوچھنے لگا کہ یہ کیا سین ہے
“یہ تمہیں گلے اس لیے لگا رہا ہے تاکہ تمہارے جوتوں سے بچ جائے۔۔۔ تمہاری سالی صاحبہ کے ساتھ موصوف آسٹریلیا بھاگنے کا پلان بنا رہے تھے”
نمیر اس کا اشارہ سمجھتے ہوئے نوفل کو بتانے لگا نہال مسکراتا ہوا نوفل سے الگ ہوا
“او میرے بھائی یہ دیکھ میرے جڑے ہوئے ہاتھ ایسا کبھی سوچنا بھی مت ورنہ میری بیوی اپنی بہن کی جدائی میں میرا جینا حرام کر دے گی،، بات بات پر شانزے مجھے طعنے دے گی کیوں کرائی تم نے میری بہن کی شادی اس بھگوڑے کے ساتھ”
نوفل کی بات سن کر ایک بار پھر نمیر اور نہال ہنس دیئے
****
“سنا ہے تم نے کوئٹہ جاکر شادی کر لی ایسی کی ایمرجنسی آگئی تھی جو اپنی ماں اور خالہ جانی کا خیال بھی نہیں آیا”
عشرت نہال کی شادی کی خبر سن کر منال کے ساتھ ثروت سے ملنے پہنچ گئی۔۔۔ نہال اور نمیر افس سے اسی وقت آئے تھے،، ثروت کے علاوہ اس وقت ڈرائنگ روم میں نہال اور فرحین بھی موجود تھے تب عشرت میں نہال سے بولی
“فرحین کو دیکھ کر عشق ہوگیا تھا خالہ جانی جبھی دوسری بار منگی یا مہندی کا چانس نہیں لیا بس جلدی سے نکاح کرلیا۔۔۔ اب آپ بھی منال کے لیے کوئی اچھا سا لڑکا ڈھونڈ ہی لیں”
نہال نے اس عشرت کو دیکھتے ہوئے کہا جبکہ فرحین نہال کی بات پر اس کو دیکھنے لگی دیکھ تو منال بھی اس کو رہی تھی آخری نہال نے اچانک شادی کیسے کرلی منال کو سمجھ میں نہیں آیا
“منال کے لیے کوئی لڑکوں کی کمی ہے کیا،، ہوجائے گی اس کی شادی میری بیٹی کی کونسی عمر نکلی جارہی ہے”
عشرت اتراتی ہوئی بولی،، اسے نہال کی گونگی بیوی ذرا اچھی نہیں لگی جو کب سے خاموش بیٹھی ہوئی تھی
“اللہ اب سب لڑکوں پر رحم کرے اپنا،، اوکے خالہ جانی ڈنر پر ملتے ہیں ابھی آفس سے آیا ہوں ذرا ریسٹ کرو گا،، فرحین ذرا روم میں آنا”
نہال عشرت کو بولتا ہوا ساتھ ہی فرحین کو بھی لے گیا کیوکہ وہ کافی دیر سے عشرت کے گھورنے اور باتوں پر نروس ہو رہی تھی
“چھوٹی بہو کہاں ہے آپ کی آپا۔۔۔ ذرا آداب نہیں سکھائے آپ نے اسے کہ گھر آئے مہمانوں کو سلام بھی کر لیا جاتا ہے”
نہال اور فرحین کے اٹھنے کے بعد عشرت کی توپوں کا رخ اب عنایہ کی طرف ہوگیا
“اس کو معلوم نہیں ہوگا عشرت ورنہ وہ سلام نہ کرے ایسا ممکن نہیں،، کچن میں مصروف ہو گی بچاری۔۔۔ آج صبح ہی نمیر ناشتے پر اس سے بریانی کھانے کی فرمائش کر رہا تھا”
ثروت کا جواب سن کر عشرت منہ بناتی ہوئی چپ ہو گئی جبکہ منال اٹھ کر ڈرائنگ روم سے نکل گئی
****
