370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 39)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

صبح جب عنایہ کی آنکھ کھلی تو اس کی نظر ڈریسر کے سامنے کھڑے نمیر پر پڑی جوکہ بالوں میں برش پھیر رہا تھا

آج چھٹی کا دن تھا وہ تیار ہو کر آخر کہاں جانے کا ارادہ رکھتا تھا عنایہ سوچنے لگی مگر وہ اس سے پوچھ نہیں سکی کیوکہ کل والی حرکت سے وہ نمیر سے ناراض تھی پھر اس کی نظر اپنے کپڑوں پر پڑی کل رات اس نے یہ کپڑے تو نہیں پہنے تھے تو پھر اس کے کپڑے کس نے بدلے بے ساختہ اس نے سر اٹھا کر نمیر کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ بھی آئینے میں سے اسی کو دیکھ رہا تھا عنایہ دوبارہ اپنی نظریں جھکا گئی۔۔۔ اب وہ عنایہ کی طرف رخ کرتا ہوا کلائی میں ریسٹ واچ باندھ رہا تھا

“آپ نے کل میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا”

عنایہ نے اس سے شکوہ کیا مگر وہ اس کی بات کو نظر انداز کرتا ہوا اپنا والٹ اور موبائل پاکٹ میں رکھنے لگا۔۔۔ عنایہ کو اس کے یوں بے رخی برتنے پر مزید غصہ آیا

“اگر اتنا ہی خفا ہے مجھ سے تو کیوں کل رات کو اندر لے کر آئے مجھے، کیوں چینج کیے آپ نے میرے کپڑے۔۔۔ مر جانے دیا ہوتا نہ مجھے خوف سے اور ٹھنڈ سے”

وہ بیڈ سے اٹھ کر نمیر کے سامنے آتی ہوئی بولنے لگی

“زیادہ میرے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے اس وقت،، راستے سے ہٹو”

نمیر سنجیدگی سے بولتا ہوا ڈریسنگ روم میں چلا گیا واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں سفری بیگ موجود تھا اب وہ عنایہ کو نظر انداز کرتا ہوا بیگ میں اپنے کپڑے رکھنے لگا

“نمیر کہاں جا رہے ہیں آپ”

عنایہ کا دماغ بھک سے اڑا وہ چلتی ہوئی نمیر کے پاس آ کر اس سے پوچھنے لگی

“کل رات بارش میں بھیگنے کے بعد کیا تمہارا دماغ بھی پانی میں بہہ گیا۔۔۔ تمہیں نہیں معلوم کہ آج مجھے اسلام آباد جانا ہے آفیشیلی کام سے”

نمیر کپڑے رکھنے کے دوران بولا تو عنایہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی

“مگر آپ نے تو کل مجھ سے کہا تھا کہ آپ مجھے بھی لے کر چلیں گے اپنے ساتھ۔۔۔ تو آپ صرف اپنے کپڑے کیوں رکھ رہے ہیں”

عنایہ اس سے اپنی ناراضگی بھلائے پریشان ہوتی ہوئی وارڈروب سے جلدی جلدی اپنے کپڑے بھی نکالنے لگی

“وہ بات میں نے اسلیے بولی تھی کہ مجھے لگا تم میرے ساتھ زیادہ خوش رہو گی مگر اب مجھے لگ رہا ہے تم میرے بغیر گھر میں زیادہ انجوائے کرو”

نمیر اس کے ہاتھ سے ہینگ کیے اسکے سوٹ لے کر دوبارہ وارڈروب میں رکھتا ہوا بولا تو عنایہ کو دھچکا لگا

“یہ کیا بول رہے ہیں آپ۔۔۔۔ آپ مجھ پر شک کررہے ہیں نمیر”

عنایہ بے یقینی سے آنکھوں میں آنسو لیے نمیر کو دیکھنے لگی۔۔۔ نمیر اسکے پاس آیا اور عنایہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما

“شک نہیں کر رہا ہوں میری جان تم پر۔۔۔ مگر کیا ہے نہ کل رات سے میرا دل بہت جلا ہوا ہے۔۔۔ اس لئے تھوڑی بہت زیادہ سزا کی تو تم بھی مستحق ہو،، اب دو دن تک میرے بغیر گھر میں رہ کر اپنی غلطی ریلائز کرنا جب تک میں اپنا کام نمٹا کر واپس آتا ہوں پھر ڈیسائڈ کر لیتے ہیں کہ اپنے ہنی مون کے لیے کہاں جانا چاہیے”

نمیر اسے بچوں کی طرح بہلاتا ہوا بولا وہ اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھنے ہی لگا تو عنایہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے دھکا دیا

“آپ کون ہوتے ہیں مجھے یوں سزا دینے والے،، کیا کل کم سزا دی تھی آپ نے مجھے۔ ۔۔ جو آج یوں مجھے دو دن کے لیے چھوڑ کر جارہے ہیں۔۔۔ اکیلے میں آپ کو ہرگز نہیں جانے دو گی نمیر”

عنایہ باقاعدہ روتی ہوئی اس کو دیکھ کر بولی نمیر اس کے پاس آیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کرنے لگا

“اس طرح طوفان کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں ہے نہ ہی میں اس برسات سے ڈرنے والا ہوں، نہ ہی تمہیں اپنے ساتھ لے جانے والا خیال رکھنا اپنا”

وہ واقعی اس وقت عنایہ کہ آنسووں سے اپنا ارادہ بدلنے والا نہیں تھا بلکہ نمیر کو لگا دو دن عنایہ اس کے بغیر رہ کر اپنی غلطی پر پچھتائے گی۔۔۔ اور نہال سے بات کرنے سے ایوائیڈ کرے گی تبھی نہال بھی عنایہ کے رویے سے مایوس ہوکر اس سے دور ہو جائے گا۔۔۔ وہ عنایہ کے آنسو صاف کرتا ہوا بیگ لے کر روم سے نکل گیا

****

نمیر اس وقت ہوٹل کے روم میں بیڈ پر لیٹا ہوا اپنے موبائل میں عنایہ کی تصویر دیکھ رہا تھا۔۔۔ آج صبح جب عنایہ رو رہی تھی ایک پل کے لیے نمیر کا دل شدت سے چاہا وہ اسے یہاں اپنے ساتھ لے آئے مگر اس کے آنسو دیکھ کر وہ کمزور نہیں پڑھنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ نہال کی وجہ سے عنایہ کو الگ گھر میں نہیں رکھ سکتا تھا، وہ ثروت کے بغیر الگ ہوکر رہنے کا تصور نہیں کرسکتا تھا اس عمر میں اس کی ماں کو بھی اس کی ضرورت تھی اور وہ خود کونسا ثروت سے دور رہ سکتا تھا۔۔۔ وہ دوسرے گھر میں شفٹ ہوکر ثروت کو اپنے ساتھ نہیں رکھ کر نہال سے بھی دور نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ بس وہ چاہتا تھا نہال اس کی بیوی سے دور رہے اور یہ تبھی ممکن تھا جب عنایہ خود نہال سے بے رخی برتتی

وہ عنایہ کی نیچر سے اچھی طرح واقف تھا، وہ دل کی بالکل صاف تھی اور معصوم بھی،، وہ نہال کا لحاظ کرتے ہوئے کبھی بھی اس سے بدلہاظی نہیں کر سکتی تھی جب تک اس کے پاس کوئی جواز موجود نہ ہو اور وہ عنایہ کو اپنے ساتھ نہ لا کر جواز پیدا کر کے آیا تھا۔۔۔ مگر اب وہ عنایہ کو بری طرح مس کررہا تھا اور عنایہ کے پاس موبائل موجود نہیں تھا اس کی آواز سننے کے لیے نمیر نے لینڈ لائن پر کال کی مگر حمیدہ نے اسے بتایا وہ اپنے کمرے میں موجود سو رہی ہے۔۔۔ نمیر کو صاف محسوس ہوا، ایسا حمیدہ عنایہ کے کہنے پر کہہ رہی تھی۔ ۔۔۔ اور عنایہ وہی موجود تھی نمیر نے لائن ڈسکنیکٹ کردی۔۔۔۔ عنایہ اس سے خفا تھی مگر وہ اس کو واپس گھر جاکر پیار سے منالے گا کیوکہ اس کا اپنا گزارہ اپنی بیوی کہ بناء مشکل تھا بہت جلدی عنایہ نے اس کو اپنا عادی بنا لیا تھا۔۔۔ نمیر عنایہ کی تصویریں دیکھتا ہوا یہ سب باتیں سوچ رہا تھا اس کے موبائل پر منال کی کال آنے لگی

“خیریت”

نمیر نے کال ریسیو کرتے ہوئے منال سے پوچھا

“ہاں خیریت ہی ہے تم باہر آؤ جلدی سے”

منال اس سے بولنے لگی

“میں اس وقت اسلام آباد میں موجود ہو آفس کے کام سے آیا ہوں”

نمیر اسے سنجیدگی سے جواب دینے لگا

“جس ہوٹل میں تم اسٹے کر رہے ہو میں بھی وہی موجود ہوں باہر آو”

منال نے اپنی بات مکمل کر کے کال ڈسکنیکٹ کی۔۔۔۔ نمیر نے پہلے سوچا کہ وہ منال کو کال کرکے منع کردے مگر کچھ سوچ کر اپنی جیکٹ اٹھاتا ہوا روم سے باہر نکل گیا

“تم اسلام آباد میں کیا کر رہی ہو”

نمیر ہوٹل کے روم سے باہر نکلے تو ہوٹل کی لابی میں منال کو کھڑا دیکھا

“میری فرینڈ رہتی ہے یہاں، تو اسی سے ملنے آئی تھی۔۔۔ تم کیسے ہو”

منال نے اسے جواب دے کر نمیر کی خیریت پوچھی

“تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں یہاں پر موجود ہو”

نمیر نے اپنی خیریت بتائے بغیر دوبارہ منال سے پوچھا

“ایک گھنٹے پہلے ہی تمہیں ریسپشن پر دیکھا تھا۔۔ تم کیسے ہو نمیر”

منال نے اس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے دوبارہ اس سے پوچھا

“خوش۔۔۔ تم سناؤ” نمیر اب اس سے پوچھنے لگا

“میں بھی خوش،،، مگر تم جتنی نہیں۔۔ کیا ہم واک کر سکتے ہیں”

منال نمیر کو جواب دیتی ہوئی بولی

“پہلی فلم فلاپ ہو جائے تو بندہ خوش کیسے رہ سکتا ہے۔۔ نیکسٹ کے لئے تھوڑا اور اچھا پرفارم کرنا”

نمیر منال کے ساتھ واک کرتا ہوا اسے سیریس ہوکر مشورہ دینے لگا۔۔۔ جس پر منال کھول کر رہ گئی،، منال کو نمیر کا یوں سنجیدگی سے بھگو بھگو کر مارنے والا انداز ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔۔۔ مگر وہ ضبط کر گئی

“ایک فلم میں کام کرکے میرا شوق پورا ہوگیا مجھے اس کے فلاپ ہونے کا کوئی غم نہیں۔۔۔ غم ہے تو بس اس بات کا کہ تم نے مجھے چھوڑنے اور شادی کرنے میں بہت جلدی کی۔۔۔ کیا یہ تمہاری یہ جیکٹ مل سکتی ہے مجھے”

منال جوکہ سلیو لیس ٹاپ پہنی ہوئی تھی۔۔۔ اپنے دونوں بازوں کو سہلاتی ہوئی نمیر سے بولی سنسان سڑک پر وہ دونوں ہی واک کر رہے تھے

“مجھے پورا یقین ہے دوسری فلم ملنے کے بعد تم جلد ہی میرے چھوڑنے اور شادی کرنے کے غم سے باہر نکل آؤ گی” نمیر اپنی جیکٹ اتار کر منال کی طرف بڑھاتا ہوا بولا

“کب تک یوں ناراض رہو گے مجھے سے نمیر۔۔۔ اپنی غلطی کا احساس ہے مجھے”

وہ نمیر کی جیکٹ لے کر پہنتی ہوئی بولی

“ریلکس یار میں تم سے کوئی ناراض وراض نہیں ہو۔۔۔ تم سے اگر ناراض ہوتا تو یوں باتیں نہیں کر رہا ہوتا۔۔۔ میں نے یہ بات خالہ جانی سے بھی کہی تھی۔۔۔ ہم دونوں کی بیچ صرف ایک ریلیشن نہیں تھا۔۔۔ ہم دونوں آپس میں کزنز بھی ہیں۔۔۔ تمہیں اگر اپنی غلطی کا احساس ہے تو یہ اچھی بات ہے۔۔۔ زیادہ دور جانے کا فائدہ نہیں واپس آجاو عنایہ میری کال کا ویٹ کر رہی ہوگی”

نمیر واپس مڑتا ہوا بولا تو منال کو بھی ہوٹل کی طرف مڑنا پڑا۔۔۔ اس کے منہ سے عنایہ کا نام سن کر منال کے دل میں عنایہ کے لیے نفرت مزید بڑھ گئی

****

صبح سے ہی عنایہ کا دل اداس تھا۔۔ نمیر اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔ وہ سارا دن اپنے کمرے میں بند رہی جب حمیدہ نے اسے بتایا نہال ثروت کو گھر لے کر آگیا ہے تب وہ ثروت سے ملنے گئی اور کافی دیر اس کے پاس بیٹھی اس سے باتیں کرتی رہی پھر اس کو کھانا کھلا کر میڈیسن دے کر خود لان میں اپنے گرد شال لپیٹ کر کرسی کے اوپر پاوں رکھکر بیٹھ گئی۔۔۔ اسے افسوس ہونے لگا نمیر اسے ایک کال تو کرسکتا تھا بےشک اس کے پاس موبائل نہیں تھا مگر اسے لینڈ لائن پر ہی بات کر لیتا ہوں ۔ مگر نمیر نے اسے کال کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا

“ایسے اداس ہو کر کیوں بیٹھی ہو کل شام تک تو نمیر آ ہی جائے گا”

نہال لان میں آکر اس کے برابر والی چیئر پر بیٹھا ہوا اسے کہنے لگا

“آپ کو میری فکر کرنے کی پروا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ کوئی اداس نہیں ہوں میں بلکہ نمیر کی کال کا ویٹ کر رہی ہوں”

وہ نہال سے اکھڑے ہوئے لہجے میں بولی۔۔۔ وہ نہ جانے کیوں اس کے پاس آکر بیٹھ کر اس سے باتیں کرنے لگتا تھا۔۔۔۔ نا وہ کل رات کو اس کے بیڈروم میں آتا نہ نمیر کو غصہ آتا اور نہ وہ نمیر اس کو چھوڑ کر جاتا

“تمہیں میرا فکر کرنا اور پروا کرنا اچھا نہیں لگتا”

نہال عنایہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“میری فکر کرنے کے لئے اور پروا کرنے کے لئے نمیر موجود ہیں۔۔۔ آپ آنٹی کی فکر اور پروا کیا کیجئے اس عمر میں انہیں آپ کی ضرورت ہے”

عنایہ اسے جتاتی ہوئی بولی نہ جانے نہال اسے کیا جتانا چاہ رہا تھا

“نمیر تمہاری کتنی فکر کرتا ہے یہ تو میں کل رات کو دیکھ ہی چکا ہوں۔۔۔ اور اگر اسے تمہاری پرواہ ہوتی تو وہ یوں تمہیں چھوڑ کر اکیلا نہ جاتا”

نہال طنزیہ مسکراتا ہوا سامنے کھڑی کار کو دیکھتا ہوا بولا

“آخر کہنا کیا چاہ رہے ہیں آپ”

عنایہ برا مانتی ہوئی نہال سے پوچھنے لگی نہال سے بات کرکے اس کا موڈ مزید خراب ہوگیا جبھی وہ وہاں سے اٹھی

“یہی کہ اس وقت نمیر کی کال کا ویٹ کرنا بے کار ہے۔۔۔ وہ اسلام آباد میں منال کے ساتھ بزی ہے۔۔ میرا مطلب ہے آج صبح ہی خالہ جانی کی کال آئی تھی انہوں نے بتایا کہ منال اسلام آباد پہنچی ہوئی ہے۔۔۔ ابھی تو دونوں وہاں واک کر رہے ہیں اس کے بعد ان دونوں کا ڈنر کرنے کا پروگرام ہے”

نہال نارمل انداز میں عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ آج دوپہر کو جب نمیر کی لینڈ لائن پر کال آئی تھی تو حمیدہ سے اسی نے کہلوایا تھا کہ عنایہ سو رہی ہے

“نہال بھائی آپ کچھ بھی بولیں گے اور میں مان لو گی شرم آنی چاہیے آپ کو اپنے بھائی کے بارے میں اس طرح بولتے ہوئے”

عنایہ نہال کو کہتی ہوئی غصے میں گھر کے اندر چلی گئی