Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 2)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 2)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“یہ اکرم کو کیوں بلایا آپ نے صبح صبح”
شانزے نے کچن میں کھانے بنانے میں مصروف ناہلہ سے پوچھا
“گھر کا کچھ سامان منگوانا تھا صبح سے طبیعت کچھ بوجھل سی لگ رہی ہے تو سوچا اکرم سے کہہ دو”
ناہلہ نے مصروف انداز میں اپنی بیٹی کو جواب دیا جو تنی ہوئی بھنوں کے ساتھ غصہ ضبط کیے ہوئے اس کے سامنے کھڑی تھی
“تو امی آپ مجھے کہہ دیتی میں لاکر دے دیتی۔۔۔ یوں غیروں سے مدد لینے کی کیا ضرورت ہے”
شانزے نے اسکی بات سن کر اپنا سر جھٹکا
“تم کہاں پرچون کی دکان پر خوار ہوتی، اتنی دور تک بوجھ اٹھا کر لاتی۔۔۔ دوسرا کالج بھی تو جانا تھا تمہیں اکرم کون سا غیر ہے ہمارے کرائے دار کا بیٹا ہے اور نہایت شریف بچہ ہے”
نائلہ نے اپنے سامنے کھڑی 18 سال کی شانزے کو تحمل سے سمجھانا چاہا جو مردوں سے ہر وقت بدظن رہتی
“اس غریب بچے کے باپ نے تین ماہ سے ہمیں کرایہ نہیں دیا ہے جب دیکھو اپنی غریبی کا رونا روتے ہیں یہ لوگ،، ذرا شرم نہیں آتی بندہ یہی سوچ لے دو اکیلی عورتیں کیسے گزارا کر رہی ہوگی۔۔۔ آئندہ کوئی ضرورت نہیں آپ کو اکرم سے مدد لینے کی۔۔۔ جن گھروں میں مرد نہیں ہوتے وہ عورتیں اپنا بوجھ خود اٹھاتی ہیں اور میں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا کہ کوئی بھی کرایہ دار ہو،، اسے اتنا فری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ شریف بچہ کوئی مرد کبھی بھی شریف نہیں ہوتا”
وہ بگڑتے ہوئے موڈ کے ساتھ کچن سے باہر نکلی
“جیسے پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتی شانزے ویسے ہی ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا مرد تو گھر کا سائبان ہوتا ہے بیٹا۔۔۔ عورت کا محافظ ہوتا ہے”
نائلہ بھی کچن سے باہر آتی ہوئی رسانیت سے اپنی بیٹی کو سمجھانے لگی جس کی سوچ چھوٹی عمر سے ہی مردوں کے بارے میں منفی ہو چکی تھی
“عورت کے محافظ ہوتے ہیں مرد، امی یہ بات آپ کہہ رہی ہیں جن کا اپنا شوہر دوسری بیٹی کے پیدا ہوتے ہی آپ کو گھر سے چھوڑ کر بھاگ گیا۔۔۔۔ میں نے تو اپنی زندگی میں دو قسم کے مرد دیکھے ہیں،،، ایک بھگوڑے اور دوسرے عزت کے لٹیرے”
شانزے نے تلخی سے کہتے ہوئے ناہلہ کو دیکھا
“شانزے۔۔۔ کتنی بار کہا ہے ترس کھایا کرو اپنی ماں پر، مت میرے دل کے زخموں کو کھرچا کرو۔۔۔ رحم نہیں آتا تمہیں اپنی ماں پر”
شانزے کی کڑوی باتیں سن کر ناہلہ کو آج بہت کچھ یاد آیا وہ دکھتے دل کے ساتھ شکایتی نظروں سے بیٹی کو دیکھنے لگی
“ترس تو ہم پر ہماری قسمتوں نے نہیں کھایا آپ مجھ سے شکوہ کر رہی ہیں۔۔ کتنی بار میں نے آپ کو کہا میرے سامنے مردوں کے اعلیٰ صفات مت گنوایا کریں۔۔۔ آپ کی باتیں میرے دل میں موجود مردوں کے خلاف بدگمانی کو کبھی کم نہیں کرسکتی”
شانزہ نائلہ سے بول کے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی الماری کی دراز کھول کر اس نے ایک باکس سے کپڑے کا ٹکڑا نکالا۔۔۔ یہ کسی شرٹ کی پھٹی ہوئی فرنٹ پاکٹ تھی جس پر بلیک دھاگے سے(N) این الفابیٹ گندھا ہوا تھا یہ اسے اسی رات فرحین کے پاس سے ملا تھا یقیناً یہ اسی گنہگار کا تھا جس نے اس کی بہن کی زندگی برباد کر دی تھی
“اگر زندگی میں میرا کبھی بھی اس شخص سے سامنا ہوا ناں تمھاری قسم کھا کے کہتی ہوں آپی،،، جان لے لو گی اس کی اپنے ہاتھوں سے”
شانزے اس جیب کے ٹکڑے کو دیکھتی ہوئی بولی
آج اسے کالج نہیں جانا تھا کیوکہ عنایہ بھی آج کالج نہیں آنے والی تھی مگر اب گھر میں ہونے والی تلخی کے باعث وہ کالج جانے کے لئے تیار ہونے لگی جبکہ نائلہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی دوبارہ کچن میں چلی گئی
نائلہ کے پاس یہی اس کا قیمتی اثاثہ شانزے کی صورت بچا تھا۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی کے اندر مرد ذات کو لے کر مزید منفی سوچیں جنم لے۔۔۔ آخر کب تک اسے شانزے کے ساتھ رہنا تھا ایک نہ ایک دن اسے شانزے کی شادی کرنی تھی مگر مردوں کو لے کر اس کی ذات میں تلخی اور سختی سے نائلہ بہت پریشان ہوجاتی۔۔۔ ناہلہ جب بھی کوئی چھوٹی موٹی مثال دے کر شانزے کو سمجھانا چاہتی اسی طرح ان دونوں کے بیچ تلخ کلامی شروع ہوجاتی
نائلہ کی شادی اس کے ماں باپ نے چھوٹی عمر میں ہی کر دی تھی،، نائلہ کی پہلی بیٹی ہونے پر اس کا شوہر اعجاز اس سے خاص خوش نہیں تھا اس کے بعد نائلہ نے وقفے وقفے سے 2 لڑکوں کو جنم دیا مگر بدقسمتی سے دونوں بچے مرے ہوئے پیدا ہوئے۔۔۔ چوتھی بار بیٹے کی خواہش میں ان کے گھر شانزے آئی۔۔۔ اللہ نے شانزے کو زندگی دی مگر نائلہ کا شوہر اعجاز دوسری بیٹی کی پیدائش پر بھی ناخوش تھا شانزے جب دو سال کی تھی تب وہ نائلہ کو طلاق دے کر چلا گیا
نائلہ اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ اپنے باپ کے گھر واپس آگئی مگر ماں باپ کب کس کے ساتھ ہمیشہ رہتے ہیں۔۔۔ بیٹی کے غم میں نائلہ کے ماں باپ ایک کے بعد ایک، دنیا سے چلے گئے۔۔۔ نائلہ نے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے دونوں بیٹیوں کو پڑھایا خود اس نے کیٹرنگ کا کام شروع کردیا چھوٹی موٹی دعوتوں اور تقریبات کے ارڈرز ملنے پر وہ گھر پہ کھانا بناتی اور آفس ورکرز کے لیے روزانہ کھانا بناتی کچھ کرائے کے پیسے آجاتے جس سے اس کی گزر بسر ہو رہا تھا مگر اچانک چھ سال پہلے رونما ہونے والے واقعہ سے اس کی روح تک تڑپ گئی
فرحین کی یونیورسٹی کے کسی لڑکے نے اس کی بیٹی کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کیا۔۔۔ اس دن کو آج بھی یاد کرکے نائلہ کا دل چھلنی ہو جاتا اس واقعے کو چھ سال گزر گئے تھے مگر آج بھی جب شانزے اور اسکے بیچ اس بات کا ذکر ہوتا تب اس کے زخموں سے لہو رسنے لگتا ایک یہی بڑی وجہ تھی شانزے کی مرد ذات سے بدگمانی کی
****
آج کا دن ہی اچھا نہیں تھا یا پھر اسے نائلہ سے لڑ کر اس طرح کالج نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔۔ جو بھی تھا آج کالج آکر وہ صحیح معنوں میں پچھتا رہی تھی،، آدھے گھنٹے پہلے کالج میں دو تنظیموں کے بیچ میں جھگڑا ہوگیا جھگڑا ہونے کی صورت کالج میں پولیس کو بلانا پڑا تصادم کے باعث گولیاں چلنے کی آواز آئی۔۔۔ جس کی صورت بہت سی لڑکیوں کو کالج کے سیکنڈ فلور پر ایک بڑے ہال نما کمرے میں بند کر دیا گیا مگر شانزے اس بات کو لے کر پریشان نہیں تھی۔۔۔ اس کی پریشانی کی وجہ دس منٹ پہلے اکرم کی اس کے موبائل پر آئی ہوئی کال تھی، جس میں اس نے نائلہ کی طبیعت خراب ہونے اور بے ہوش ہونے کی اطلاع دی تھی
شانزے یہ خبر سن کے سچ مچ پریشان ہوگئی تھی کتنی بار اس نے ہال کا دروازہ پیٹا مگر بے سود۔۔۔۔ نائلہ کے سوا اس کو دنیا میں تھا ہی کون،، وہ اس وقت کسی بھی طرح اپنی ماں کے پاس پہنچنا چاہتی تھی پیچھے کے سائڈ کھلی کھڑکی کو دیکھ کر اس کے دماغ میں ایک ہی بات آئی
“اے لڑکی کیا پاگل ہو گئی ہو واپس جاؤں کمرے میں” کونٹسبل صدیق کی آواز پر نوفل نے اوپر دیکھا جہاں صدیق ایک لڑکی سے مخاطب تھا۔۔۔ جو کھڑکی سے باہر نکل چکی تھی اور اس وقت چھچجے پر چڑھی ہوئی نیچے کودنے کا سوچ رہی تھی۔۔۔۔ نوفل اگر آگے بڑھ کر اسے تھام نہ لیتا تو شانزے زمین بوس ہوچکی ہوتی۔۔۔ نوفل نے اپنی گود میں اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس نے ڈر کے مارے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی تھی جبکہ شانزے،، جس نے بنا سوچے سمجھے چھلانگ لگاتے ہوئے آنکھیں بند کی تھی اب وہ آہستہ آہستہ آنکھیں کھولنے لگی
“واہ سر آپ کو تو پولیس کی بجائے کرکٹ میں ہونا چاہیے،، قسم سے کیا کیچ پکڑا ہے”
شانزے اپنے آپ کو اس بے ہودہ انسپکٹر کی گود میں دیکھ کر پہلے ہی اس کی درگت بنانے کا سوچ رہی تھی، پاس کھڑے کانسٹیبل کی بات سن کر مزید تپ گئی
“اے۔۔۔ کیا باپ کا مال سمجھ رکھا ہے، اتارو مجھے اپنی گود سے”
وہ شانزے کو اٹھائے اسے غور سے دیکھنے میں مگن تھا اسکی بات سن کر ایک دم ہوش کی دنیا میں آیا اور شانزے کو نیچے اتارا
“اگلی بار اگر خودکشی کرنے کا ارادہ ہوا تو دوسری منزل کی بجائے دسویں منزل سے چھلانگ لگانا”
نوفل اپنے سامنے کھڑی اس احسان فراموش لڑکی کو دیکھتا ہوا بولا
“اگلی بار اگر میں بیسویں منزل سے بھی چھلانگ لگاو تو ہیرو بن کر مجھے بچانے کی ضرورت نہیں ہے”
شانزے اپنے سامنے کھڑے انسپکٹر کو دیکھتی ہوئی بولی جو اسے ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔۔۔ دوسری نظر اس نے کوریڈور پر ڈالی جو کہ سنسان تھا
“اوئے میڈم آپ کو تو ہمارے سر کا شکریہ ادا کرنا چاہیے ایک تو انہوں نے آپ کی جان بچائی، اوپر سے آپ بدلحاظی کر رہی ہو”
شانزے کے اس طرح جواب دینے پر (صدیق) کونسٹیبل سے اپنے سر کی بےعزتی برداشت نہیں ہوئی اس لیے جھٹ سے بولا
“چپ کرو تم سر کے چمچے۔۔۔ اچھی طرح سمجھتی ہوں میں تمہارے سر کے جیسے انسانوں کو۔۔۔ بس لڑکی دیکھی نہیں فوراً ہیرو بننے کا شوق چڑھ گیا”
شانزے کانسٹیبل کو گھرکتی ہوئی حقارت بھری نظر نوفل کے اوپر ڈال کر بولی
“ارے صدیق ان بی بی کا مسئلہ سمجھا نہیں تم نے،، یہ جلن اس بات کی ہے۔۔۔ صرف ہیرو کی طرح بچانا ضروری نہیں ہوتا بلکہ لڑکی کی جان بچا کر اسے ہیرو کی طرح سے”
نوفل نے بولتے ہوئے شانزے کو بازو سے پکڑ کر خود سے قریب کیا اس سے پہلے وہ کوئی ہیرو والا عملی مظاہرہ کرتا شانزے نے ایک تھپڑ اس کے منہ پر جڑ دیا
نوفل کا مقصد شانزے کے ساتھ کچھ غلط کرنا نہیں تھا وہ صرف اسے ڈرانا چاہتا تھا تاکہ اس کی زبان کو بریک لگے مگر اپنے منہ پڑنے والے تھپڑ سے ایک دم اسی کو بریک لگ گیا۔۔۔ وہ تو شکر تھا کہ کوریڈور میں اس وقت کوئی موجود نہیں تھا یہ تماشا کسی اور نے نہیں دیکھا مگر وہاں موجود کونسٹیبل جو کہ کسی فلمی سین کے انتظار میں ان دونوں کو غور سے دیکھنے میں مصروف تھا،، نوفل کے منہ پر تھپڑ پڑتے ہوئے دیکھ کر وہ کھانستا ہوا وہاں سے رفع دفع ہو گیا
“کیا سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے، اگلی بار ہاتھ لگا کر بتاؤ پھر بتاؤ گی تمہیں اچھی طرح”
شانزے نوفل کو غصے میں گھورتی ہوئی وہاں سے جانے لگی تبھی نوفل نے اس کا بازو پکڑ کر اسے دائیں جانب دیوار پر دھکا دیا۔۔۔ شانزے دیوار سے جا لگی تبھی نوفل نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے دائیں اور بائیں جانب رکھ کر شانزے کا فرار ہونے کا راستہ بند کیا
“میں چاہتا ہوں تم مجھے اگلی بار نہیں ابھی اور اسی وقت بتاؤ”
نوفل اس کے مزید قریب آتا ہوا بولا
“دور رہو مجھ سے نہیں تو مار ڈالوں گی میں تمہیں” شانزے کی آنکھ میں پانی جمع ہونے لگا مگر وہ بے خوفی سے نوفل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی۔۔۔ نوفل بہت غور سے اس کا بے خوف روپ دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس وقت کوریڈور سنسان تھا وہ اس کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا تھا اور اس سچویشن میں کوئی اور لڑکی ہوتی تو یقیناً ڈر بھی جاتی مگر اس لڑکی میں نوفل کو کچھ خاص بات لگی۔۔۔ اس کی آنکھوں میں نمی بےبسی کے باعث تھی مگر وہ نوفل سے خوف کھائے بغیر اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی
“انٹرسٹنگ”
نوفل کہتا ہوا پیچھے ہٹا شانزے تیز قدم اٹھاتی ہوئی کوریڈور سے جانے لگی۔۔ نوفل دور تلک اس کو دیکھتا رہا۔۔۔ پولیس باقی کے حالات پر قابو پاچکی تھی اب کلاس رومز میں موجود طلبہ کو کلاس سے باہر نکالا جا رہا تھا
****
“اف تم دونوں تو گھر میں بھی آفس کی باتیں کرتے رہتے ہو”
ثروت نے تنگ آکر نہال اور نمیر کی طرف دیکھا جو کہ کافی دیر سے اپنی ہی باتوں میں مصروف تھے
“جبھی تو کہتا ہوں جلدی سے منال کو یہاں پر لے آئے،، آپ کی بوریت بھی دور ہوجائے گی اور میرا برسوں پرانا شادی کا خواب بھی پورا ہوگا”
نمیر سنگل صوفے سے اٹھ کر ثروت کے برابر میں آکر بیٹھا جس پر نہال اور ثروت دونوں مسکرا دیے
“بےشرم لڑکے کیسے اپنے منہ سے اپنی ہی شادی کی باتیں کر رہے ہو ماں کے سامنے”
ثروت نمیر کے سر پر ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے بولی۔۔۔ ان کی فیملی کے علاوہ خاندان کا ہر فرد جانتا تھا کہ نمیر اور منال ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں
“تو پھر اور کیا کرو آپ نہال کے چکر میں میری شادی بھی نہیں ہونے دیں گی،، اس کو تو قیامت تک ویسے بھی کوئی لڑکی پسند نہیں آنے والی ایسے ہی بڈھا ہوجائے گا یہ”
نمیر لاڈ سے ثروت کی گود میں لیٹتا ہوا بولا
“مرا جا رہا ہے ماما یہ شادی کے لیے آپ ایسا کریں کل ہی خالہ جانی کے پاس جا کر اس بے صبرے کا رشتہ کرا دیں”
نہال مسکراتا ہوا ثروت کو مشورہ دینے لگا
“اس کے رشتے کی پہلے کیوں بات کروں گی، تم اس سے ایک سال بڑے ہو پہلے تمہاری دلہن اس گھر میں آئے گی اور پھر بعد میں اس بےصبرے کی باری آئے گی۔۔۔ جلدی سے بتاؤ اگر کوئی لڑکی نظر میں ہے تو”
ثروت کی بات سن کر نہال کچھ بولتا اس سے پہلے نمیر بول پڑا
“ماما معلوم تو ہے آپ کو اپنے اس جوان جہاں بیٹے کے بارے میں،، دنیا کی آدھے سے زیادہ لڑکیوں کو تو یہ اپنی بہن مانتا ہے۔۔۔ اب آپ ہی اس کے بارے میں کچھ سوچیں تاکہ میرا بھی نمبر جلد آجائے”
نمیر نے ثروت کی گود میں لیٹتے ہوئے اسے مشورہ دیا جس پر ثروت مسکرا دی جبکہ نہال نمیر کو گھور کر دیکھنے لگا
“مجھے تو فرمان کی بھانجی عنایہ بہت پسند ہے ہر لحاظ سے،،،، وہ سوٹ کرے گی نہال کے ساتھ،، خوبصورت ہے اور بہت فرمابردار بچی ہے”
ثروت نے اپنے دونوں بیٹوں کے سامنے اپنی چوائس رکھی وہ دونوں ہی حیرت سے ثروت کو دیکھنے لگے
“یاہو یعنی کہ آپ اپنی دونوں بہو ایک ہی گھر سے لانے کا ارادہ رکھتی ہیں مان گئے بھئی”
نمیر نے ثروت کو داد دینے والے انداز میں کہا
“مگر ماما عنایہ۔۔۔” نہال ثروت کی بات پر چپ ہوگیا
“کیوں تمہیں پسند نہیں ہے عنایہ اگر کوئی اور پسند ہے تو بتاؤ میں تمہاری چوائس کو اہمیت دو گی پہلے”
ثروت نہال کو چپ دیکھ کر بولی
“ایسی بات نہیں ہے ماما،، وہ اچھی ہے مگر کافی چھوٹی ہے میرا مطلب ہے وہ منال سے بھی چھوٹی ہے”
نہال کی نظروں کے سامنے عنایہ کا حسین چہرہ گھوم گیا۔۔۔۔ بلاشبہ وہ حسین تھی اور بہت معصوم اور کم گو بھی مگر وہ اسے کوئی چھوٹی سی بچی لگتی تھی تین سال پہلے ہی تو عنایہ کے ایکزمز کے دوران فرمان کے کہنے پر وہ اسے پڑھایا کرتا تھا،، تب وہ سعدتمندی سے سر نیچے جھکائے اس سے پڑھتی،، ویسے بھی کبھی اگر ان دونوں کا سامنا ہوجائے تو سلام کے علاوہ وہ نہال سے کوئی ایکسڑا بات نہیں کرتی اور نہ کبھی نہال نے خود سے ایسی کوشش کی
“18سال کی لڑکی چھوٹی نہیں جوان ہوتی ہے میری بھی اسی سال میں شادی ہوئی تھی۔۔۔ نہال وہ بچی مجھے بہت اچھی لگتی ہے،، بے ضرر سی معصوم سی۔۔۔ ابھی سے نہیں پہلے سے ہی میں نے ایسا سوچا ہوا تھا مگر اس بات کا ذکر کسی سے نہیں کیا اگر ایج ڈفرنس کو لے کر تم سوچ رہے ہو تو یہ کوئی ایسا ایشو نہیں جس کا بہانا بنا کر منع کردیا جائے”
ثروت نے نہال کو سمجھاتے ہوئے کہا تو وہ خاموش ہو گیا ایک بار دوبارہ عنایہ کا عکس اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔۔ اب کی بار وہ الگ انداز میں سوچنے لگا اس کے دل کو یہ خیال اتنا برا بھی نہیں لگا
“اب چپ کیوں ہو جواب دو”
ثروت نہال کو خاموش دیکھ کر پوچھنے لگی نے نہال نے صوفے سے کشن اٹھا کر نمیر کو دے مارا جو اسے معنی خیزی سے دیکھ کر مسکرائے جا رہا تھا
“یہ پٹے گا کسی دن میرے ہاتھوں سے”
نہال مسکراتا ہوا اٹھ کر اپنے روم میں چلا گیا جبکہ اسے اپنے پیچھے سے نمیر کا قہقہہ سنائی دیا
“ارے ماما پریشان نہیں ہو،،، ایگری ہے وہ۔۔۔۔ آپ جلدی سے جاکر عنایہ کے رشتے کی بات کرلیے گا” نمیر ثروت کی گود سے اٹھ کر کر ہنستا ہوا اس سے بولنے لگا
