Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 21)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 21)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“یہاں سب سے الگ تھلگ کھڑے ہوکر کیا سوچا جا رہا ہے”
نوفل فرحین کے پاس آتا ہوا بولا۔۔۔
“شازمین کا انتظار کر رہی تھی ابھی تک آئی نہیں وہ”
فرحین نے نوفل کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بتایا
“تو تم یہاں کھڑی ہوکر شازمین کو سوچ رہی تھی”
نوفل نے فرحین کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ دوبارہ مسکرائی
“نہیں میں سوچ رہی تھی یونیورسٹی میں کیسے چار سال گزر گئے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔ کل کی بات لگتی ہے جب یونیورسٹی میں پہلا دن تھا”
اب کے فرحین کی بات سن کر نوفل بھی مسکرایا
“آج یونیورسٹی میں ہم سب کا آخری دن ہے،، یہاں ہم آخری بار جمع ہیں۔۔۔۔ کل سب اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہو جائیں گے معلوم نہیں پھر کون کب کہاں ملتا ہے،، کتنے سال بعد کس کی کس سے ملاقات ہوتی ہے”
نوفل فرحین کو دیکھتا ہوا کہنے لگا نوفل کی بات سن کر فرحین کے چہرے پر مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی
“تمہاری نہال اور نمیر سے دوستی ایسی تو نہیں لگتی کہ تم ان سے بعد میں کانٹیکٹ میں نہ رہو”
فرحین نوفل کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“ارے ان کی بات تھوڑی کررہا ہوں وہ دونوں تو بچپن کے یار ہیں میرے،،، باقی سب کی بات کر رہا ہوں جیسے تمہارا نمیر سے کانٹیکٹ بعد میں ہوں یا نہ ہوں معلوم نہیں”
نوفل فرحین کو غور سے دیکھتا ہوا کہنے لگا جس پر فرحین ایک دفعہ پھر مسکرانا بھول کر نوفل کو دیکھنے لگی
“اس طرح خاموش رہنے سے کام نہیں چلنے والا،، اگر اس کو پسند کرتی ہو تو آج بتا دو یوں سمجھ لو آج ہی تمہارے پاس دن ہے اور موقع بھی،،، مطلب ابھی اسے سر سرمد نے سیمینار کے پاس والے روم میں بھیجا ہے کسی کام سے”
نوفل فرحین کو دیکھتا ہوا بتانے لگا
“وہ روم اس میں تو کسی لڑکی نے خودکشی کی تھی نہ جس کی وجہ سے وہ روم بند رہتا ہے”
فرحین نے حیرت کرتے ہوئے نوفل سے پوچھا
“ہاں یار وہی روم سر سرمد نے وہاں کچھ سامان رکھوایا تھا اسی کو لینے کے لئے نمیر کو بھیجا ہے”
نوفل کی بات سن کر فرحین سر ہلا کر سیمینار ہال کی طرف جانے لگی جس پر نوفل کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ رینگی
*****
اس وقت نوفل کا پورا وجود پسینے میں شرابور تھا وہ اپنی لوڈیڈ ریوالور اپنے ماتھے پر رکھ کر بیڈ کر بیٹھا تھا۔۔۔ زور سے آنکھیں میچ کر اس نے ریوالور کا ٹریگر دبانا چاہا،،، ایک بار پھر اس کے ہاتھ کپکپانے لگے۔۔۔۔ خود سے اپنی جان لے لینا کوئی آسان عمل نہیں تھا،،،، ماتھے پر اپنی ریوالور رکھے وہ ایک بار پھر چھ سال پہلے کی بھیانک رات یاد کرنے لگا۔۔۔ جس کے سبب فرحین نہ صرف اپنی عزت بلکہ جان بھی گنوائی تھی۔۔۔۔ اس کا مقصد صرف فرحین کے ساتھ مذاق کرنا تھا مگر اس کو یہ بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔۔۔ کہ اس کا یہ مذاق کسی معصوم کی زندگی لے لے گا
جب جب اس کا ضمیر اسے کچوکے لگاتا تب وہ بہت پچھتاتا کہ کاش اس نے فرحین کو اس رات اس کمرے میں جانے کے لیے نہ کہا ہوتا کاش نمیر نے فرحین کے پیچھے اس کمرے کی کنڈی نہیں لگائی ہوتی
اسی رات اڑتی اڑتی خبر اسٹوڈنٹ کے بیچ آڈیٹوریم ہال میں گردش کرنے لگی کہ سیمینار کے پاس والے روم میں فرحین کو کسی نے زخمی کر دیا ہے،،، یہ خبر سن کر نوفل اور نمیر دونوں ہکا بکا رہ گئے ایک گھنٹے سے زیادہ ہوگیا تھا انہیں کلاس روم کی کنڈی باہر سے لگائے ہوئے۔۔۔ اپنے بیج کے لڑکوں کے ساتھ باتوں میں لگ کر ان دونوں کا ہی ذہن فرحین کی طرف سے ہٹ چکا تھا۔۔۔ اس خبر کے سنتے ہی بہت سے اسٹوڈنٹس کے ساتھ نمیر اور نوفل نے بھی کلاس روم کی طرف جانے کی کوشش کی مگر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اس جگہ پر کسی بھی اسٹوڈنٹ کو جانا الاؤ نہیں کیا۔۔۔ بہت حد تک کوشش کی گئی کہ فرحین کے ساتھ ہونے والا واقعہ دبا دیا جائے کیوکہ یہ دوسرا حادثہ تھا۔ ۔۔۔ اس سے یونیورسٹی کی ریپوٹیشن پر فرق پڑ سکتا تھا مگر اڑتی اڑتی خبروں سے کافی اسٹوڈنٹ میں چہ میگیاں ہونے لگی کہ اس روم میں فرحین کو کسی نے زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کی کوشش کی
الوداعی پارٹی کے بعد نوفل کے پتہ لگانے پر صرف اتنا معلوم ہوسکا فرحین نامی اسٹوڈنٹ کی الوداعی پارٹی والے دن سیمینار روم کے پاس والی کلاس میں زخمی ہونے کی وجہ سے ڈیتھ ہوگئی تھی
اس کا مذاق فرحین کو اتنا مہنگا پڑ سکتا ہے نوفل نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔ خواب میں تو اس نے کبھی یہ بھی نہیں سوچا تھا شانزے فرحین کی بہن ہوسکتی ہے۔۔۔ اس نے فرحین سے چھوٹا سا مذاق کرنا چاہا تھا مگر شانزے کو فرحین کی بہن بنا کر تقدیر نے اس کے ساتھ بہت بڑا مذاق کیا۔۔۔ پشیماں حالت میں نوفل کی سوچوں کا محور دروازے کھلنے کی آواز پر ٹوٹا
“کیا ہوا ہے تمہیں تین دن سے،،، نہ کال اٹینڈ کر رہے ہو نہ پولیس اسٹیشن جارہے ہو”
شانزے حیرت زدہ ہو کر اس کے کمرے میں آتی ہوئی بولی
“تم یہاں میرے گھر سب خیریت ہے نا”
شانزے آج فرسٹ ٹائم نوفل کے گھر آئی تھی اس لئے نوفل نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا اور اپنا ریوالور سائیڈ پر رکھا
“یہ تو تم بتاؤ خیریت ہے کہ نہیں امی بتا رہی تھی کہ تین دن پہلے تم گھر آئے تھے اور کچھ کہے بنا ہی واپس چلے گئے۔۔۔ اور فون کالز بھی نہیں ریسیو کر رہے تھے صدیق سے تمہارا ایڈریس لے کر یہاں پر آئی ہو”
شانزے نے ایک نظر اس کی ریوالور کو دیکھا پھر بیڈ پر اس کے پاس بیٹھتی ہوئی بولی وہ خود بھی کالج یونیفارم تھی یقیناً وہ پیپر دے کر سیدھا یہی آئی تھی
“مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو چکی ہے شانزے،، بہت بڑی۔۔۔ معلوم نہیں اس کا ازالہ ممکن بھی ہے کہ نہیں”
نوفل اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھامے شانزے کو بولنے لگا
“الٹے سیدھے کاموں سے اپنا اکاؤنٹ بھرو گے تو ایسے ہی پچھتاوا ہو گا ناں۔۔۔۔ یہ اچھی بات ہے کہ تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہے۔۔۔ اب اس طرح افسردہ مت ہو میرے سامنے اس طرح تو تم اور بھی برے لگ رہے ہو”
شانزہ نوفل کے دونوں ہاتھ پکڑ کر کہا تو نوفل نے اپنا چہرہ اوپر کیا شانزے اسے دیکھ کر مسکرانے لگی نوفل اسے دیکھنے لگا
“اگر تمہیں کبھی یہ معلوم ہوا کہ میں نے تمہارا اعتبار توڑا ہے یا تم سے چیٹنگ کی ہے تو تم کیا کرو گی شانزے”
نوفل شانزے کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا شانزے کی مسکراہٹ چہرے سے غائب ہوئی اس کی نظر نوفل کی ریوالور پڑی
“جان لے لو گی تمہاری”
وہ ریوالور اٹھا کر نوفل کے سینے پر رکھتی ہوئی بولی
“مگر کیا ہے ناں میں جاننے لگی ہوں۔۔۔ دنیا کا کوئی بھی مرد کچھ بھی کرلے مگر تم میرے ساتھ چیٹنگ نہیں کر سکتے نہ ہی میرا اعتبار توڑ سکتے ہو۔۔۔۔ بھئی لمبے لمبے فلمی ڈائیلاگ میں بالکل نہیں بول سکتی،، وہ تم ہی پر سوٹ کرتے ہیں اسی فوراً اپنے پرانے والے موڈ میں واپس آ جاؤ۔۔۔۔ امی تمہیں یاد کر رہی ہیں اس لئے سیٹرڈے کے دن تھوڑا ٹائم نکال کر شرافت سے گھر پہ آ جاؤ۔۔۔ تب تو میں بھی امی کے ساتھ ٹائم نکال کر ایک گھنٹہ دے سکتی ہوں ورنہ منڈے کو تو میرا پیپر ہے میں بزی رہو گی۔ ۔۔۔ تمہیں معلوم ہے امی تمہیں اپنا بیٹا ماننے لگی ہیں،،، تم ان کی کال ریسیو نہیں کرتے یا گھر نہیں آتے تو وہ تمہیں مس کرتی ہیں۔۔۔ پھر تم نے کیا سوچا ہے تم نے آرہے ہو ناں سیٹرڈے کو”
شانزے نان اسٹاپ بولتی ہوئی آخر میں اس سے گھر آنے کا پوچھنے لگی
“آنٹی کو کہو میرا انتظار مت کیا کریں میں نہیں آ سکتا،،، اور تمہیں بھی مجھ پر اعتبار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،، اعتبار کے ٹوٹنے سے بہت تکلیف ہوتی ہے”
نوفل کو لگا وہ شانزے اور نائلہ کی محبت کے لائق نہیں ہے اپنے منہ سے تو وہ حقیقت بتانے کی ہمت نہیں رکھتا تھا اس لئے شانزے کے سامنے بے رخی برتتے ہوئے بولا
“کیا مطلب لوں میں تمہارا ان باتوں کا”
شانزے بیڈ سے کھڑی ہو کر اس سے پوچھنے لگی
“مطلب واضح ہے تم چلی جاؤ”
نوفل اس سے نظریں چراتا ہوا بولا
“تم مجھے اپنے گھر سے جانے کے لیے بول رہے ہو”
شانزے کو اپنے اندر کچھ ٹوٹتا محسوس ہوا
“نہیں زندگی سے”
نوفل بولتا ہوا دوسرے کمرے میں چلا گیا جبکہ شانزے بے یقینی سے اس کے لفظوں پر غور کرنے لگی
****
وہ ایک گھنٹے پہلے پیپر دے کر گھر آئی تھی دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوکر شاور لینے چلی گئی اس کے بعد اس کا لمبا سونے کا پروگرام تھا کیوکہ نمیر اور ثروت دونوں ہی اسپتال میں نہال کے پاس موجود تھے۔۔۔ آج رات اسے جاگ کر اپنے نیکسٹ پیپر کی تیاری کرنی تھی جو کہ لاسٹ پیپر بھی تھا۔۔۔ عنایہ شاور لے کر نکلی تو بیڈ پر نمیر کو آنکھیں بند کیے لیٹا پایا۔۔۔۔ بیڈ پر رکھا ہوا دوپٹہ لینے کے لئے عنایہ نے ہاتھ بڑھایا تو نمیر کی آنکھ کھل گئی وہ اسے دیکھنے لگا
“پرسو جو ڈریس میں تمہارے لئے لے کر آیا تھا میرے خیال میں وارڈروب میں سجھانے کے لیے نہیں لے کر آیا تھا جاؤ ابھی اور انہی میں سے کوئی ایک ڈریس پہنو”
نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا نمیر پرسوں ہی اپنے پسند کے کلرز کے اسٹائلش ڈریس عنایہ کے لئے لایا تھا اور یہ بات بھی اس نے واضح کی تھی کہ اب وہ یہی ڈریس پہنے گی
“ابھی تو یہ پہن چکی ہوں نہ کل پہن لوں گی آپ کا لایا ہوا ڈریس”
عنایہ اپنے بالوں کو ٹاول سے رگڑتی ہوئی بولی۔۔۔ یہ پہنا ہوا ڈریس بھی نیا ہی تھا جو اس نے اپنی پسند سے لیا تھا
“تم میری بات کی نفی کرری ہو،،، یہ اچھی بات نہیں ہے۔۔۔ میں نے پہلے دن ہی ماما کے سامنے تم پر واضح کر دیا تھا مجھ سے شادی کی ہے تو میرے مائینڈ اور میرے مزاج کے مطابق تمہیں چلنا پڑے گا”
نمیر بیڈ سے اٹھ کر اسکے سامنے اکر بولا
“نفی کب کر رہی ہو یہی تو کہا ہے کل پہن لوگی آپکا لایا ہوا ڈریس۔۔۔۔ آج دھیان نہیں گیا میرا اسطرف”
عنایہ بیڈ پر ٹاول رکھکر ہیئر برش اٹھاتی ہوئی بولی۔۔۔ نمیر وارڈروب کے پاس جاکر عنایہ کے لیے ایک ڈریس نکال کر لایا
“تمہارا دھیان تب اس طرف جائے گا جب میں یہ ڈریس تمہیں خود پہناو گا”
نمیر نے قریب آکر اس کا دوپٹہ اتارتے ہوئے کہا عنایہ ایک دم پیچھے ہوئی اور دیوار سے ٹک گئی
“پیچھے ہٹیں مت تنگ کریں مجھے اسطرح”
نمیر کو اپنی طرف اتا دیکھ کر عنایہ بولی
“بیوی ہو تم میری،،، تمہارا سارا دھیان میں اپنی طرف دیکھنا چاہتا ہو،،، میری ہر بات تمہارے لیے معنیٰ رکھنی چاہیے۔۔۔ ویسے بھی تمھارے پیپرز تک میں نے تمہیں چھوٹ دی ہے اس کے بعد میں تم سے اپنے سارے جائز مطالبات پورے کرنے کا حق رکھتا ہوں۔۔۔ جاؤ دو منٹ میں چینج کر کے آو”
نمیر کی بات سن کر عنایہ کی سانس تھمنے لگی وہ نمیر کے ہاتھ سے ڈریس لے کر ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔ ۔۔۔ وہ تو منال سے محبت کرتا پھر آخر کیوں وہ اس سے طرح کی بات کر رہا تھا۔۔۔۔ کیا اس کی منال سے محبت ختم ہو گئی تھی اور اگر ختم بھی ہوگئی تھی تو وہ اپنے دل سے نہال کی محبت کیسے ختم کر سکتی تھی عنایہ کے دل میں پھانس سی چبھی
“کیا نہال کے بھائی کے نکاح میں آکر مجھے نہال کے بارے میں ایسا سوچنا چاہیے”
عنایہ کا دل اسی کی نفی کرنے لگا اب نہال کے بارے میں سوچنا ٹھیک نہیں تھا مگر نمیر۔۔۔۔ وہ اس کے بارے میں اس انداز میں کیسے سوچ سکتی تھی۔۔۔ اس نے تو ہمیشہ نمیر کو منال کے ساتھ تھی دیکھا تھا۔۔۔۔ اپنے ساتھ قائم ہونے والے اس دو ماہ کے رشتے کو وہ فوری طور پر قبول نہیں کر پا رہی تھی
ڈریس چینج کرکے وہ واپس روم میں آئی۔۔۔ نمیر موبائل پر محو گفتگو تھا عنایہ کو دیکھ کر کال کاٹ کر موبائل پاکٹ میں رکھتا ہوا عنایہ کے پاس آیا۔ ۔۔ عنایہ پھولے ہوئے منہ کے ساتھ بال بنانے میں مصروف تھی
“کیسا ہو آج کا پیپر”
نمیر بھرپور انداز میں اس کا جائزہ لینے لگا ڈارک بلو کلر کی شارٹ شرٹ،، جس کی چھوٹی سی سلیویز میں عنایہ کے سفید بازو چھلک رہے تھے شفون کا دوپٹہ پھیلا کر اوڑھنے پر بھی اس کا حسین سراپا اور بازو چھپائے نہیں چھپ رہے تھے نمیر اپنی مسکراہٹ چھپائے نرم لہجے میں قریب آکر پوچھنے لگا
“اچھا ہوگیا”
عنایہ نمیر کی قربت محسوس کر کے اتنا ہی کہہ سکی
“انگلش کا پیپر تھا ناں آج”
نمیر اسکی پشت پر پھیلے ہوئے بالوں کو دائیں کندھے سے آگے کرتا ہوا پوچھنے لگا
“جی۔۔۔۔ میں آپکے لیے کھانا لے کر آتی ہو”
نمیر اسکے بالوں سے آتی کنڈشنر کی خوشبو نتھنوں کے ذریعہ اپنے اندر اتار رہا تھا تبھی عنایہ نے فرار ہونا چاہا
“بھوک نہیں صرف پیاس کی طلب ہے اس وقت”
خمار ذدہ لہجے میں کہتا ہوا وہ دوپٹے کے اندر سے چھلکتے ہوئے بازوں پر اپنے ہاتھ دباؤ ڈالتا ہوا کہنے لگا
“پلیز مجھے جانے دیں میتھس کی پریکٹس کرنی ہے”
عنایہ اسکے ہاتھوں کا لمس اپنے بازوؤں پر محسوس کر کے منت بھرے لہجے میں بولی
“میں کراو گا پریکٹس مگر ابھی نہیں رات میں”
وہ عنایہ کا رخ اپنی طرف پھیر کر اس کا چہرہ تھامتا ہوا بولا
“نمیر پلیز”
نمیر کے انداز دیکھ کر عنایہ کی حالت غیر ہونے لگی مگر نمیر عنایہ کے بولنے پر نہیں دروازے کی دستک پر پیچھے ہٹا عنایہ نے شکر ادا کیا
“کیا مسئلہ ہے”
اس وقت نمیر کو حمیداں کی مداخلت ذرا پسند نہیں آئی جب ہی وہ چڑتا ہوا بولا
“وہ جی نوفل صاحب آپ کا ڈرائنگ روم میں انتظار کر رہے ہیں” حمیدہ کی بات سن کر نمیر کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ عنایہ سن ہو کر صوفے پر بیٹھ گئی
