370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 16)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

عنایہ کے منہ سے نہال کا نام سن کر نمیر نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے الگ کیا ویسے ہی لائٹ آگئی اور کمرہ روشنی میں نہا گیا۔۔۔ عنایہ نے اپنے سامنے نمیر کو کھڑا پایا۔۔۔۔ جو غصے میں گھورتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اس سے پہلے وہ اپنے جملے پر پچھتاتی نمیر نے آگے بڑھ کر اس کو دونوں شانوں سے پکڑا

“میں نہال نہیں ہوں نمیر ہوں۔۔۔ نمیر تمہارا شوہر جس سے تمہاری شادی ہوئی ہے۔۔۔ اگلی بار میرے سامنے اپنے حواس بحال رکھنا ورنہ مجھے دو سیکنڈ نہیں لگے گے تمہارے حواس ٹھکانے لگانے میں” نمیر کی انگلیاں اسے اپنے کندھوں میں گھڑتی محسوس ہوئی۔۔۔ عنایہ سے کچھ نہیں بولا گیا بس وہ سانس روکے نمیر کے خطرناک تیور دیکھنے لگی جو اس کو خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا۔۔۔ نمیر ایک جھٹکے سے اس کو چھوڑ کر کمرے سے باہر چلا گیا اور تب عنایہ نے اپنا رکا ہوا سانس بحال کیا

****

نمیر کو اس وقت عنایہ پر اتنا غصہ تھا کہ وہ اگر گھر سے باہر نہیں نکلتا تو شاید اپنے ہاتھوں سے عنایہ کا گلا ہی دبا دیتا۔۔۔ اس وقت وہ اس کے نکاح میں تھی، اس کی بانہوں میں خود کو چھپائے،، وہ کیسے اس کے بھائی کا نام لے سکتی ہے،،، وہ اسے نہال سمجھ کر اس کی طرف بڑھی تھی نمیر کو یہ سوچ مزید کھولانے لگی بھلا اتنا بھی کوئی حواس باختہ کیسے ہوسکتا ہے

وہ کم عمر تھی مگر کم عقل نہیں۔۔۔ اور اگر کم عقل تھی تو اب نمیر اس کی عقل اچھی طرح ٹھکانے لگانے کا ارادہ رکھتا تھا۔۔۔ دو گھنٹے سے مسلسل گاڑی کو لیے سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے کے بعد اب اس نے گاڑی کا رخ دوبارہ گھر کی طرف کیا

****

جس وقت وہ گھر پہنچا تقریباً رات کا ایک بج رہا تھا عنایہ کو صوفے پر سوتا ہوا دے کر نمیر کو مزید پتنگے لگے۔۔۔ وہ اس کا آرام اور سکون برباد کرکے کتنے مزے سے سو رہی تھی۔۔۔ بیڈروم کی لائٹ آن تھی یقیناً اس نے اپنے ڈر کی وجہ سے آن رکھی تھی۔۔۔ نمیر نے اپنے کپڑے لینے کے لیے وارڈروب کھولی تو اس پورشن میں ترتیب سے سب عنایہ کے کپڑے رکھے تھے اس نے مڑ کر ایک نظر سوتی ہوئی عنایہ پر دوبارہ ڈالی۔۔۔ اور وارڈروب کا دوسرا ڈور کھول کر اپنا آرام دہ سوٹ نکالا

جب وہ ڈریسنگ روم میں جانے لگا تو سامنے ڈریسر پر بھی اس کے پرفیومز شیونگ کٹ کے ساتھ عنایہ کی چیزوں کا اضافہ تھا۔۔۔ اور سب سے بڑا اضافہ تو اس کی زندگی میں ہوا تھا،، جو اس وقت اس کے کمرے کے صوفے پر اپنے ہوش و حواس سے غافل تھا۔۔۔ نمیر اپنے کمرے میں اور اپنی زندگی میں اچانک اس اضافے پر اگر خوش نہیں تھا تو ناخوش بھی نہیں تھا۔۔۔ وہ ناخوش کیوں نہیں تھا صوفے کے پاس رک کر عنایہ کو دیکھتا ہوا سوچنے لگا

کیا ہر مرد کی طرح اسے بھی ایک خوبصورت بیوی چاہیے تھی،،،، وہ عنایہ کے خوبصورت چہرے پر اپنی نظروں ٹکائے سوچنے لگا۔۔۔۔ وہ صرف خوبصورت تو نہیں تھی بلکے معصومیت بھی اس کے چہرے کا خلاصہ کرتی تھی وہ غور سے اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھ کر سوچنے لگا۔۔۔۔ دل میں اچانک خواہش جاگی کہ وہ اس کے چہرے کے نقوش کو چھو کر دیکھے۔۔۔ مگر اس کے جاگ جانے کے ڈر سے نمیر نے اپنا ارادہ ترک کیا۔۔۔۔ نمیر اسکو دیکھ کر اسکی نیچر کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔ وہ بالکل شیشے کی ماند تھی بالکل شفاف،،، اندر سے باہر سے ایک جیسی۔۔۔ ہر طرح کی بناوٹ سے پاک۔۔۔ ہاں اسے یہ معلوم تھا وہ ایک ڈرپوک دبو سی لڑکی ہے چھوٹی چھوٹی چیزوں اور باتوں سے ڈر جانے والی۔۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے جب وہ خوف سے نمیر کے گلے لگی تھی تب نمیر کا دل بہت زور سے دھڑکا تھا۔۔۔ اسکے دل کو اچانک کچھ ہوا جیسے کوئی احساس جاگا ہو نمیر کا دل چاہا وہ اسے اپنی بانہوں میں چھپا کر اس کا سارا ڈر نکال دے مگر پھر کیا ہوا یہ سوچ کر نمیر کا موڈ خراب ہونے لگا۔۔۔ وہ سخت قسم کی گھوری عنایہ پر ڈال کر اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا

ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں مبلوس جب وہ ڈریسنگ روم سے باہر نکلا تو عنایہ کو اسی اینگل میں سوتا پایا۔۔۔ نمیر نے اس کو سوتا ہوا دیکھ کر جگانے کا ارادہ ترک کیا مگر جیسے ہی اس کو خیال آیا تھوڑی دیر پہلے وہ اس کی بانہوں میں اسے نہال سمجھ بیٹھی تھی

“اگر میرے بیڈروم میں رہنا ہے پھر تو میرا ہی بن کر رہنا ہوگا۔۔۔۔ جب شوہر میں ہوں تمہارا اور تم میرے نکاح میں ہو تو اصولاً تمہارے حواسوں پر مجھے ہی سوار رہنا چاہیے آج کے بعد ایسا ہی ہوگا”

نمیر نرمی سے اس کے ملائم گال کو چھو کر دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوا

“عنایہ”

نمیر اس کے سر پر کھڑا ہوکر اسے پکارنے لگا مگر جب وہ دو سے تین بار پکارنے پر بھی نہیں اٹھی تو۔۔۔ نمیر اپنا منہ اس کے کان کی طرف لاکر زور سے اس نام پکارا۔۔۔۔ جس سے عنایہ ایک دم ہڑبڑا کر اٹھ گئی اور اب وہ نیند میں ڈوبی آنکھوں سے نمیر کو حیرت سے دیکھ رہی تھی

“سونے کا تم نے کیا کوئی ریکارڈ قائم کرنا ہے،،، میری شکل کیا دیکھ رہی ہوں اٹھو کچن میں چلو اور مجھے کھانا دو” عنایہ کو اپنی طرف گھورتا ہوا دیکھ کر نمیر سنجیدگی سے بولا

“آپ اس وقت کھانا کھائیں گے”

عنایہ نے گھڑی میں ٹائم دیکھا جو کہ رات کے دو بجا رہی تھی اور اس وقت عنایہ کا نیند سے برا حال ہو رہا تھا

“کیوں تم کیا چاہتی ہو کہ میں بھوکا ہی مر جاؤں۔۔۔ تم جیسی بیوی تو کسی دشمن کو بھی نہیں ملنی چاہیے جسے اپنے شوہر کا احساس ہی نہ ہو”

نمیر اسے مزید شرمندہ کرتا ہوا کہنے لگا۔۔۔۔ عنایہ صوفے سے اٹھ کر اپنا دوپٹہ ٹھیک کرنے لگی

“میں نے صرف آپ سے اتنا پوچھا ہے کہ آپ اس وقت کھانا کھائیں گے کیوکہ رات کافی ہو گئی ہے۔۔۔۔ کھانا دینے سے انکار تو نہیں کر رہی میں”

عنایہ اس کو دیکھتی ہوئی افسوس سے بولی

“تم ذرا انکار کر کے تو دیکھو پھر دیکھو کیا کرتا ہوں تمہارے ساتھ”

نمیر اس کے قریب آ کر بولا تو عنایہ کو حیرت ہوئی اسے سمجھ میں نہیں آیا آخر کس بات کو لے کر وہ اس سے لڑنے کے موڈ میں ہے۔۔۔

عنایہ اس کی بات کا کوئی جواب دیئے بنا کچن میں چلی آئی اور فرج سے چاول نکالنے لگی آج حمیدہ نے اس کے کہنے پر ہی یخنیٰ پلاؤ بنایا تھا

“چاول نہیں کھاؤں گا میں اس وقت”

اپنے عقب سے عنایہ کو نمیر کی آواز سنائی دی عنایہ نے بغیر کچھ بولے دوپہر کا رکھا ہوا قورمہ نکالا۔۔۔ نمیر وہی چیئر پر بیٹھ کر اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کرنے لگا اور مائیکرویو اون میں قورمہ گرم کرنے کے بعد وہ چنگیر سے روٹی نکال کر گرم کرنے لگی

“دوپہر کی روٹی نہیں تازہ روٹی بناؤ میرے لئے”

اب وہ عنایہ پر ایک اور حکم صادر کر چکا تھا عنایہ نے گلابی آنکھوں سے جو نیند کی وجہ سے بوجھل ہو رہی تھی ایک نظر نمیر کو دیکھا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ عنایہ نے بغیر کچھ کہے فرج سے آٹا نکالا اور روٹی کے دو پیڑے بنائیے

“چڑیا جتنی خوراک نہیں ہے میری، مرد ہوں میں اور جتنا تمہارے ہاتھ کی روٹی کا سائز ہے بندہ آرام سے چار روٹیاں کھا جائے”

وہ اٹھ کر عنایہ کے پاس آیا تھوڑا سا آٹے نکال کر عنایہ کو تھمایا عنایہ نے اس کا بھی پیڑہ بنایا اور دس منٹ کے اندر تین روٹیاں بنا کر قورمہ پلیٹ میں نکال کر روٹیوں کا چنگیر نمیر کے سامنے رکھتی وہ کمرے میں سونے کے لئے جانے لگی

“کہاں جا رہی ہو یہ دوبارہ گرم کرو روٹیاں بنانے کے چکر میں ٹھنڈا ہوگیا”

نمیر کے کہنے پر عنایہ نے نمیر کو دیکھا ضبط کرتی ہوئی قورمہ دوبارہ گرم کرنے لگی

“جلدی سے کھالیں کہیں روٹیاں ٹھنڈی نہ ہو جائے”

پلیٹ دوبارہ نمیر کے سامنے رکھ کر عنایہ آہستہ سے بولی

“زبان کم چلاؤ پانی کا جگ اور گلاس رکھو ٹیبل پر”

نمیر اس کے تپے ہوئے چہرے کو دیکھ کر ایک بار پھر بولا۔۔۔ عنایہ کا شدت سے دل چاہا کے وہ گلاس ٹیبل پر رکھنے کی بجائے اس کے سر پر دے مارے کیوکہ وہ نوٹ کر رہی تھی وہ کافی دیر سے اسے بلاوجہ زچ کر رہا تھا اس سے پہلے وہ عنایہ کو کبھی اتنا برا نہیں لگا۔۔۔ ٹیبل پر پانی سے بھرا جگ اور گلاس رکھ کر وہ کچن سے نکل گئی

“عنایہ”

اپنے نام کی صدا پر دوبارہ پیر پٹختی ہوئی وہ کچن میں آئی

“آخر ہو کیا گیا ہے آپ کو”

اب عنایہ کی آنکھوں میں نیند کم اور حیرت زیادہ دی آخر وہ کیوں اس کے ساتھ ایسا کر رہا تھا

“تم نے کھانا کھایا تھا”

نمیر سنجیدہ تاثرات سے اس کو دے کر پوچھنے لگا

“جی انٹی کے ساتھ کھا لیا تھا”

آدھا کھانا ٹھونسنے کے بعد اسے عنایہ کا خیال آیا تھا عنایہ تپتی ہوئی سوچنے لگی اور جانے کے لیے واپس مڑی تو دوبارہ نمیر نے اس کو پکارا

“میں تمہاری فکر کر کے کھانا کھانے کا نہیں پوچھ رہا۔۔۔ اس لیے پوچھ رہا ہو تم نے یہ قورمہ ٹیسٹ نہیں کیا اس میں نمک کم ہے چلو نمک اٹھا کر دو مجھے”

نمیر کے بولنے پر عنایہ صدمے سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ پہلی بات تو یہ کہ قورمے میں نمک بالکل مناسب مقدار میں موجود تھا دوسرا یہ کہ نمک دانی کھانے کی ٹیبل پر ہی موجود تھی مگر وہ ہاتھ بڑھا کر نمک دانی لینے کی بجائے اس کام کے لیے بھی عنایہ کو آواز دے رہا تھا

عنایہ اس کے ہاتھ میں نمک دانی پکڑا کر وہی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی

“گڈ یہ پہلا تم نے اچھا کام کیا ہے جب تک شوہر کھانے سے فارغ نہیں ہو جائے بیوی کو اسی طرح اس کے سامنے بیٹھنا چاہیے”

نمیر عنایہ کو بولتا ہوا اب مزے سے کھانا کھانے لگا

“کاش شوہر بھی ایسا ہو جو اپنی بیوی کی نیند کا احساس کر لے”

نہ چاہتے ہوئے بھی عنایہ کے منہ سے شکوہ نکلا

“تو ابھی بیڈ روم میں جاکر تمہیں سونا ہی ہے۔۔۔ کون سا میں تمہیں رات بھر جگانے کا پلان بنانے لگا ہوں”

عنایہ کا شکوہ سن کر نمیر بولا اور چپ کرکے اپنا کھانا کھانے لگا

جبکہ عنایہ اس کی بات سن کر اور اس کے جملے پر غور کر کے خاموشی سے بیٹھی برتنوں کو گھورنے لگی

****

الارم کی آواز پر نمیر کی آنکھ کھلی وہ اٹھ کر عنایہ کے پاس آیا اسے معلوم تھا وہ صرف آواز دینے پر ہرگز نہیں اٹھے گی اس لیے نمیر اس کے نام کی پکڑ کے ساتھ اس کا کندھا زور زور سے ہلانے لگا مگر وہ اپنے کندھے سے نمیر کے ہاتھ جھٹک کر دوبارہ سو گئی تو نمیر اس کو گھورنے لگا

“عنایہ میں آخری بار پوچھ رہا ہو تم اٹھ رہی ہو یا نہیں” نمیر اس کے سر پر کھڑا اسے پوچھنے لگا مگر جواب نہ آنے پر نمیر نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر مضبوطی سے اس کو گود میں اٹھا لیا

“یہ۔ ۔۔۔ یہ کیا ہوگیا ہے آپ کو،،، کیا کر رہے ہیں نیچے اتاریں مجھے”

عنایہ نے اپنا وجود ہوا میں محسوس کیا۔۔۔ آہستہ اس نے آنکھیں کھولیں تو خود کو نمیر کی گود میں پایا وہ خواس باختہ ہو کر ایک دم بوکھلا کر بولی۔۔۔ نمیر نے اس کے بوکھلائے ہوئے چہرے پر نظر ڈالی بنا اس پر ترس کھائے نیچے اتارنے کی بجائے فرش پر پھینک دیا

“حد ہوتی ہے کوئی لڑکی آخر اتنا بے خبر کیسے سو سکتی ہے،، وہ بھی اتنا سارا۔۔۔ تمہارے لئے تو کوئی تابوت منگوانا چاہیے۔۔۔ سر سے پاؤں تک پٹیاں باندھ کر تمہیں اس میں ڈال دینا چاہیے تاکہ تم صدیوں تک آرام سے سوتی رہو۔۔۔ اب زیادہ مجھے گھورنے کی ضرورت نہیں ہے،،، کپڑے نکالو میرے اور ناشتہ بنا کر خود بھی کالج کے لئے تیار ہو جاؤ” نمیر اس کو بات سناتا ہوا واشروم چلا گیا

عنایہ کو رونا آنے لگا بھلا اس طرح کون نیند سے جگاتا ہے کل رات کو اسکو سوتے سوتے چار بج گئے تھے اور ابھی ساڑھے سات بج رہے تھے جب تک وہ آٹھ گھنٹے کی نیند نہ لے اس کا دماغ سارا دن سن رہتا تھا۔۔۔۔وہ فرش سے اٹھ کر وارڈروب کھول کر جو سامنے ڈریسنگ نظر آئی بیڈ پر پٹخ کر بیڈ روم سے باہر نکل گئی

نمیر نے کل رات کو ہی اسے بتا دیا تھا کہ وہ ناشتے میں پر پراٹھا کھائے گا۔۔۔۔ جبکہ حمیدہ کے مطابق وہ زیادہ تر صبح فریش جوس لیتا تھا اور ناشتہ آفس میں کرتا تھا۔۔۔ اور پراٹھا تو وہ کبھی چھٹی والے دن موڈ ہونے پر بنواتا تھا۔۔۔۔ ابھی تک حمیدہ نہیں آئی تھی عنایہ سستی سے ہاتھ چلاتی ہوئی پراٹھا بنانے لگی

“عنایہ”

نمیر کی چنگھاڑتی ہوئی آواز عنایہ کے کانوں میں پہنچی پراٹھا چھوڑ کر بیڈ روم میں آئی مگر نمیر کو دیکھ کر بےساختہ اس نے اپنے ہاتھوں سے چہرہ چھپا لیا کیوکہ وہ بغیر شرٹ کے ٹراؤزر میں کھڑا تھا اور اس کے گلے میں ٹاول ڈلا تھا یقیناً وہ بھی شاور لے کر نکلا تھا

“یہ کیا ڈریسنگ نکالی ہے تم نے کیا جوکر سمجھ رکھا ہے”

نمیر اس کا شرمانا نظر انداز کرکے بیڈ پر پڑی براون پینٹ کے ساتھ لائٹ پینک شرٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ عنایہ اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر بیڈ پر دیکھنے لگی

“مجھے کیا معلوم آپ کو کس طرح کی ڈریسنگ پسند ہے اور لڑکوں کی ڈریسنگ کا مجھے کیا اندازہ”

عنایہ نمیر کی طرف دیکھنے سے مکمل گریز کرتی ہوئی بولی۔۔ نمیر اس کے گریز کو دیکھ کر اس کے پاس آیا

“تو آج سے میری پسند اور ناپسند کے بارے میں اچھی طرح جان لو ڈریسنگ چاہے لڑکے کی ہو یا لڑکی کی،،، ڈریسنگ کا سینس ہر ایک انسان میں ہونا چاہیے۔۔۔ چلو میرے سامنے دوسری ڈریس پینٹ سلیکٹ کرو اسی شرٹ کے ساتھ”

نمیر عنایہ کا بازو پکڑ کر وارڈروب کھول کر اسے وارڈروب کے سامنے کھڑا کرتا ہوا کہنے لگا اور خود اس کی پشت پر کھڑا ہوگیا۔۔۔ ابھی پراٹھا بنانے کا مرحلہ طے نہیں ہوا تھا وہ صبح ہی صبح اس پر دوسرا کام مسلط کر چکا تھا۔۔۔ عنایہ کا دھیان سامنے ہینگ ہوئی پینٹس پر جب جاتا جب وہ اپنے پیچھے،، اتنے نزدیک کھڑے نمیر کا سینہ اپنی کمر سے ٹچ ہوتا محسوس نہ کرتی۔۔۔ نمیر کی قربت سے وہ نروس ہونے لگی اور سامنے ترتیب سے ہینگ ہوئی پینٹس کو کنفیوز ہو کر دیکھنے لگی۔۔ تبھی نمیر نے اسے دونوں کندھوں سے پکڑ کر تھاما

“میں نے تمہیں پینٹ چوز کرنے کو کہا ہے،،، یہاں پر کھڑے کھڑے سونے کو نہیں کہا”

نمیر جھک کر اپنے ہونٹ اس کے کانوں کے قریب لا کر سرگوشی کرتا ہوا بولا عنایہ کو اس کی قربت سے پسینے آنے لگے

“پلیز آپ پہلے پیچھے ہٹیے”

عنایہ گھبراتی ہوئی بولی

“جلدی سے پینٹ چوز کرو ناشتہ بھی کرنا ہے مجھے”

اب کی بار نمیر کی آواز میں سختی کے ساتھ ساتھ عنایہ کو اپنے کندھوں پر اس کے ہاتھ کا دباؤ بھی محسوس ہوا عنایہ نے کانپتے ہاتھوں سے ایک ہینگر تھاما جس میں نیوی بلو پینٹ ہینگ تھی۔۔۔ نمیر نے اس کے کندھے سے اپنا ہاتھ ہٹائے بنا عنایہ کے بازو پر اپنا ہاتھ پھیرتا ہوا ہینگر تک لے گیا۔۔۔ عنایہ نے ہینگر وہی چھوڑ دیا اب وہ عنایہ کا نرم اور گداز ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں پکڑ کر دوسرے ہینگر پر رکھ چکا تھا جس میں گرے پینٹ ہینگ تھی

“تمہارا چوز کیا ہوا کمبینیشن بھی اچھا تھا،،، لیکن اگر غور کرو تو یہ کمبینیشن بھی برا نہیں،، بالکل ہمارے کمبینیشن کی طرح”

بات کرتے ہوئے نمیر کے ہونٹ عنایہ کے بالوں کو چھونے لگے۔۔۔ عنایہ کی پشت نمیر کے سینے سے جڑھی ہوئی تھی۔۔۔ عنایہ پاگل ہو جاتی اگر وہ مڑ کر نمیر کو پیچھے دھکیل کر کمرے سے باہر نہیں نکلتی تو

کچن میں آ کر وہ جلدی جلدی ہاتھ چلا کر پراٹھا بنانے لگی۔۔۔ جب تک نمیر ٹیبل پر آیا عنایہ اس کے لیے ناشتہ بنا چکی تھی

“نمیر یہ بہت غلط بات ہے گھر میں آئے اسے دو دن نہیں ہوئے اور تم نے اسے کام پر لگا دیا”

عنایہ نمیر کو ناشتہ سرو کر کے اپنی چیئر پر بیٹھی ثروت نمیر کو دیکھ کر شکوہ کرتی ہوئی بولی

“غلط بات کونسی ماما،، دو دن بعد بھی اسے میرے سارے کام کرنے ہیں اگر دو دن پہلے کرلے گی تو اس میں کیا برائی ہے۔۔۔۔ ویسے بھی اب ہم دونوں کو ایک ساتھ زندگی گزارنی ہے تو پھر یہ بلاوجہ کی فارمیلیٹز کیوں۔۔۔ اب شادی ہوئی ہے یہ سب تو برداشت کرنا پڑے گا”

عنایہ نے نمیر کو دیکھا تو نمیر اس کو دیکھ کر بول رہا تھا خود نہ جانے وہ اسے کیا جتانا چاہ رہا تھا عنایہ کو تو اس سے خوف ہی آنے لگا۔۔۔۔ عنایہ نے ایک نظر ثروت کو دیکھا تو وہ ناشتہ کرنے میں مصروف تھی۔۔۔ عنایہ چپ کر کے روم میں جانے لگی

“بیٹا ناشتہ تو کرو ناں۔۔۔۔ کہاں جا رہی ہو”

ثروت نے عنایہ کو کرسی سے اٹھتے دیکھا تو ایک دم بولی

“آنٹی کالج کے لیے تیار ہونا ہے لیٹ ہو جاؤں گی،،، کینٹین سے ہی کچھ کھا لوں گی”

عنایہ ثروت کو جواب دینے لگی

“واپس بیٹھو اور ناشتہ کرو اس کے بعد کالج کے لئے تیار ہونا”

اب کی بار نمیر بولا ناچار اسے ناشتے کے لیے بیٹھنا پڑا

نمیر چائے کے گھونٹ بھرتا ہوا ثروت سے باتوں کے دوران عنایہ کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد نظر اٹھا کر دیکھتا وہ کارن فیلکس کے پیالے میں سر جھکائے چھوٹے چھوٹے چمچے منہ میں ڈال رہی تھی

جب نمیر عنایہ کو کالج چھوڑنے گیا وہ تب بھی ایسے ہی سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔ نمیر کو اندازہ تھا وہ اتنی جلدی اس رشتے کو قبول نہیں کر پائے گی۔۔ مگر ان دونوں کی شادی بھی ایک حقیقت تھی۔۔۔۔ اور اس حقیقت کو آج نہیں تو کل اسے قبول کرنا ہی تھا۔۔۔۔ ویسے بھی نمیر کی مردانگی یہ گوارا نہیں کرہی تھی کہ عنایہ اسکے نکاح میں ہوکر اسکے بھائی کی سوچ اپنے دل میں لائے۔ ۔۔۔ نمیر اسے اپنے اور اس کے رشتے کا احساس اس لیے بھی دلانا چاہتا تھا۔۔۔