370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 4)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“دیکھو ذرا اس منحوس کی قسمت کیسے بیٹھے بٹھائے ایسا شاندار لڑکا مل گیا اور آپا کی عقل پر تو مانو جیسے پتھر ہی پڑ گئے ہیں ایسی سیاہ بخت لڑکی کو اپنے گھر کی بہو بنانے کا سوچ رہی ہیں۔۔۔ جو اپنے ماں باپ کو سالم ہی نگل گئی”

ثروت کے جانے کے بعد عشرت منال کے کمرے میں آکر مسلسل ٹہلتے ہوئے بولے جا رہی تھی جبکہ منال اپنے بیڈ پر تکیہ گود میں رکھے ہوئے بیٹھی تھی

“آپ یہاں بیٹھ کر اس کی قسمت پر رشک کرتی رہو،، آدھی عمر اس جاھل کو میں یہاں برداشت کرتی رہی اور اب باقی پوری زندگی مجھے اس کی شکل نمیر کے گھر میں دیکھنا پڑے گی”

منال تپتے ہوئے بولی

“اور تم نا ذرا آپا کے سامنے اپنی زبان کو تالو سے چپکا کر رکھا کرو،، کوئی لڑکی اس طرح اپنا منہ کھول کر اپنی شادی کی بات نہیں کرتی، اب تو اس عنایہ سے پہلے تمہاری شادی کروگی نمیر سے تاکہ تم اپنے قدم مضبوطی سے جما سکو اس گھر میں”

عشرت منال کے پاس بیٹھتی ہوئی بولی

“خدارا مما مجھے ابھی شادی وادی کے چکر میں نہیں پڑنا اور ثروت انٹی کبھی بھی نہال سے پہلے نمیر کی شادی کا سوچ بھی نہیں سکتی اور ایک طرح سے اچھا ہے اس عنایہ کو دفع ہونے دیں کم از کم تین سال تو میں سکون سے گھر میں گزارو گی بغیر اس کی شکل دیکھے ہوئے۔۔۔ اب آپ بھی اپنے کمرے میں جاکر لیٹو کال کرنی ہے مجھے اپنی فرینڈ کو”

منال نے لہجے میں بیزاری لاتے ہوئے عشرت کو بولا وہ اپنی بیٹی کو کڑھے تیوروں سے گھورتی ہوئی اس کے کمرے سے چلی گئی

****

“یہ اکیلے اکیلے کس بات پر مسکرایا جا رہا ہے”

نہال کو مسکراتا ہوا دیکھ کر نوفل نے معنی خیزی سے پوچھا جس پر نہال شرمندہ سا ہو گیا برابر میں بیٹھا ہوا نمیر ہنس پڑا وہ دونوں اس وقت نوفل کے گھر کے میں موجود تھے

“دماغ خراب ہوگیا میرا جو اکیلے میں مسکراؤں گا۔۔۔ وہ تو ایسے ہی کوئی بات یاد آگئی تھی”

نہال اپنی جھینپ مٹاتا ہوا بولا

“جھوٹ بول رہا ہے یہ یقیناً عنایہ کے خیالوں میں کھویا ہوا ہوگا جب سے مما نے اسے بہو بنانے کا سوچا ہے یہ اسی طرح خیالوں میں کھویا ہوا مسکراتا رہتا ہے”

نمیر ہنستا ہوا نوفل کے سامنے اس کا راز فاش کرنے لگا نوفل بھی نمیر کی بات پر ہنسنے لگا

“انسان کے بچے بن جاؤ تم دونوں اور میرا ریکارڈ لگانا بند کرو۔۔۔ تمہیں میرا مسکرانا دکھ رہا ہے اپنے کھوئے کھوئے انداز بھی چیک کرو اور منہ سے پھوٹو جو تم آدھے گھنٹے سے بتانا چاہ رہے ہو مگر بتا نہیں پا رہے ہو”

نہال اب نوفل کو دیکھتا ہوا بولا اس کی بات سن کر نوفل مسکرا دیا

“یار ایک لڑکی ہے تین دن سے دماغ پر چپک کر رہ گئی ہے نکلی ہی نہیں رہی”

نوفل آنکھیں بند کر کے بتانے لگا اس کی آنکھوں کے سامنے شانزے کا عکس لہرایا

“او بھائی تم دوبارہ سے شروع مت ہو جانا کہ ایک بار پھر تمہیں محبت ہو گئی ہے”

نہال اس کے آگے ہاتھ جوڑتا ہوا بولا

“نہیں یار اب کی بار بالکل سیریس والی سچوئیشن ہے فیلنگس ایک دم الگ۔۔۔ کیا بتاؤں تھپڑ گال پر پڑا مگر میٹھا میٹھا درد یہاں ہو رہا ہے”

نوفل نے اپنا ہاتھ دل پر رکھتا ہوا بتانے لگا اس کی بات سن کر نمیر اور نہال دونوں ہنس پڑے

“قسم سے یار تمہارا بھی جواب نہیں،،، یہ تھپڑ والا حسین حادثہ ہوا کب اور کیسے”

نمیر نے دلچسپی لیتے ہوئے نوفل سے پوچھا۔۔۔ نوفل نے کھوئے کھوئے انداز میں اپنی پوری روداد سنائی

“یقین کرو یارو اس کے ایک تپھڑ نے ایک ٹھرکی انسان کو سلا کر اندر کے عاشق کو بیدار کر دیا۔۔ تین دن سے اس ظالم حسینہ کے بارے میں سوچے جا رہا ہوں۔۔۔۔ ظلم یہ کہ کالج کے علاوہ اس کا نام معلوم ہے نہ گھر کا پتا مگر ان شاء اللہ میں جلد ہی ڈھونڈ لوں گا اس ظالم حسینہ کو”

نوفل پورے عظم سے بولا جس پر نمیر اور نہال دونوں مسکرائے

“چلو بھئی میرے علاوہ تم دونوں گدھوں کا بھی بیڑہ پار ہوا مگر اب مجھے سنعیہ اور ماریہ دونوں سے ہمدردی ہے”

نمیر نے اسکول لائف کی دونوں کلاس فیلو کا نام لیا جوکہ ایک سیون کلاس کی اسٹوڈینٹ تھی جبکہ دوسری نائن کلاس کی اسٹوڈنٹ تھی۔۔۔ اور ان دونوں سے ہی نوفل بڑا ہو کر شادی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا

“دو کیوں ایک وہ بھی تو تھی علیشبہ ہماری یونیورسٹی کے فائنل ایئر والی” نہال کے بولنے پر نوفل اور نمیر سنجیدہ ہوکر ایک دوسرے کو دیکھنے لگے

“میں نے نوٹ کیا ہے اکثر یونیورسٹی کے فائنل ائیر کے ذکر پر تم دونوں کو کیا ہو جاتا ہے”

نہال نے سوچا آج وہ ان دونوں سے پوچھ ہی لے اکثر ان تینوں کے بیج جب یونیورسٹی کا ذکر ہوتا تھا خاص کر فائنل ائیر کا تو وہ دونوں ایسے ہی چپ ہو جاتے تھے یا نظریں چرانے لگتے تھے

“یونیورسٹی کے ذکر پر کیا ہونا ہے تم بتاو مگنی کا کیا پروگرام ہے تمہارا۔۔۔ کیا ڈیسائڈ کیا ہے” نوفل نہال پوچھنے لگا۔۔۔ نہال نوفل کو اپنی اور عنایہ کی منگنی کے متعلق بتانے لگا جبکہ نمیر کسی گہری سوچ میں چھ سال پیچھے چلا گیا جہاں اسے یونیورسٹی میں علشباہ کے ساتھ ایک اور چہرہ بھی یاد آیا

****

“یعنی تمہاری مگنی ہونے والی ہے۔۔۔ یہ تو زبردست نیوز ہے بہت بہت مبارک ہو” کالج پہنچ کر عنایہ نے شانزے کو ثروت کے آنے کا مقصد بتایا تو شانزے نے اسے خوش ہو کر مبارکباد دی

“تم مجھے مبارکباد دے رہی ہو اور میں نہال بھائی کا سوچ رہی ہو۔۔۔ وہ تو بہت سیریس ٹائپ انسان ہیں باتیں بھی سوچ سوچ کر کرنے والے،،، پہلے کھبی ان کے متعلق ایسا سوچا نہیں تو تھوڑا عجیب سا لگ رہا ہے”

عنایہ کی باتیں سن کر شانزے نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا

“فٹے منہ،، منگیتر بننے والا ہے وہ تمہارا،، کم سے کم اب اسے بھائی تو نہ بولو۔۔۔ اور باتوں کا کیا ہے پہلے باتیں نہیں کرتے تھے کل کار میں انہوں نے تم سے باتیں کی سمجھو اب باتوں کا دور تو شروع ہو ہی گیا ہے۔۔۔ تمہارے اس چہرے کی چمک دیکھ کر میں یہ اندازہ لگا سکتی ہو تمہیں عجیب لگ رہا ہے مگر برا ہرگز نہیں لگ رہا”

‏شانزے مسکراتی ہوئی بولی

“تم خوش ہو رہی ہوں شانزے،،، مجھے یقین نہیں آرہا تمہیں تو مردوں سے نفرت ہے نا”

عنایہ اس کو دیکھتی ہوئی بولی

“مردوں سے نفرت مجھے اپنے لئے ہے۔۔۔ تمہارے لئے میں اس لئے خوش ہوں کہ تم اپنی مامی اور اس نک چڑی کزن کے شر سے بچی رہو گی”

شانزے نے عنایہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ باتیں کرتے کرتے وہ دونوں کلاس میں پہنچ چکی تھیں

“میرے دل کی دعا ہے کہ بہت جلد تمہاری زندگی میں بھی ایسا مرد آئے جو کم ازکم تمہارے دل میں مردوں کے لیے نہ سہی مگر اپنے لئے اس نفرت کو نکال دے”

عنایہ شانزے کو دیکھتے ہوئے بولی

“دیکھتے ہیں۔۔۔ مگر مجھے لگتا نہیں ایسا ہو”

‏شانزے نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا

****

ٹی پنگ کلر کی شرٹ پر لائٹ گولڈن کام کے ساتھ، ہم رنگ دوپٹہ سر پر ٹکائے اور چوڑی دار پاجامہ پہنے۔۔۔ عنایہ بہت پیاری لگ رہی تھی یہ ڈریس آج کے فنکشن کے لحاظ سے ثروت خود اس کے لئے لے کر آئی تھی۔۔۔ جب وہ اپنے کمرے سے باہر نکلی تو فرمان نے اسے گلے لگا کر ڈھیر ساری دعائیں دی اس کے پر کشش روپ کو دیکھ کر عشرت دل ہی دل میں جل کر رہ گئی

“میں ڈرائیور کو دیکھ کر آتا ہوں عشرت تم منال کو بلا لو”

فرمان عشرت کو کہتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا

“میری شکل کیا دیکھ رہی ہو جاؤ جاکر منال کو بلاکر لاو سنا نہیں فرمان کیا کہہ کر گئے ہیں”

عشرت عنایہ سے کہتی ہوئی سر جھٹک کر خود بھی باہر نکل گئی۔۔۔

اونچی ہیل پہننے کی وجہ سے عنایہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی ہوئی منال کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔۔ کمرے کا دروازہ پہلے ہی معمولی سا کھلا ہوا تھا عنایہ نے جیسے ہی پورا دروازہ کھولا۔۔۔ نمیر اور منال جو کہ ایک دوسرے کے بے حد قریب کھڑے تھے ایک دم دور ہوئے وہی عنایہ بھی شرمندہ ہوگئی

“مینرز نام کی چیز نہیں ہے تم میں،،، یوں کسی کے روم میں آتے ہیں بغیر دروازہ ناک کیے” منال غصے میں کہتی ہوئی عنایہ کے سامنے آئی

“سوری آپی وہ مامی نے بولا تھا کہ منال کو بلاکر لاؤ”

عنایہ آنکھیں نیچے جھکائے آہستہ آواز میں بولنے لگی

“نان سینس”

منال اس کو غصے میں دیکھتی ہوئی روم سے نکل گئی

“عنایہ”

عنایہ بھی روم سے جانے لگی تو نمیر نے اس کو آواز دی ہوں وہ دوبارہ مڑی

“سوری یار،، منال کا موڈ اچھا نہیں تھا شاید اس کے فرینڈز نہیں آرہے فنکشن میں،،، اس وجہ سے وہ تم سے اتنا روڈلی بی ہیو کر گئی”

نمیر اسے منال کی طرف سے وضاحت دینے لگا جبکہ وہ خود بھی جانتا تھا منال عنایہ سے اسی طرح بات کرتی ہے کہی دفعہ نمیر نے منال کو سمجھایا بھی تھا مگر وہ نمیر کی بہت کم باتوں کا اثر اپنے اوپر لیتی تھی

“نہیں آپی ٹھیک کہہ رہی تھی غلطی میری ہے مجھے واقعی ناک کر کے آنا چاہیے تھا”

عنایہ نظریں جھکا کر بولنے لگی تو نمیر کو گلٹ فیل ہونے لگا

“وہ منال سے چین کا لاک نہیں لگ رہا تھا تو اس کو چین پہنا رہا تھا”

نمیر کو خود سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ عنایہ کو کیو وضاحت دے رہا ہے

“ماموں جان اور مامی باہر ویٹ کر رہے ہیں،، ہمیں بھی چلنا چاہیے”

عنایہ نمیر کی بات کے جواب میں بولی اور جانے کے لیے مڑی

“عنایہ”

نمیر نے دوبارہ اسے پکارا عنایہ نے مڑ کر اسے دیکھا تو نمیر اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا

“آج فرسٹ ٹائم میں نے تمہیں اتنا تیار دیکھا ہے۔۔اور تم یوں تیار ہو کر اور بھی زیادہ حسین لگ رہی ہو۔۔۔۔ ایسے ہی تھوڑی میں تمہیں حسین لڑکی بولتا ہوں۔۔۔ بس ایک چیز کی کمی ہے”

نمیر عنایہ کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا

“کیا۔۔۔ کیا کمی رہ گئی”

عنایہ کنفیوز ہو کر پوچھنے لگی

“نمیر اس کا ہاتھ تھام کر اسے ڈریسر کے سامنے لایا اور کندھوں سے تھام کر اس کا رخ کی آئینے کی طرف کیا

“حسین لڑکی اوپر والے نے تمہیں اتنی پیاری صورت سے نوازا ہے اور تم ہر وقت چہرے پر گھبراہٹ کے اثار لائے رہتی ہو۔۔۔ یار آج کے دن تو تھوڑی اسمائل لاو اپنی فیس پر”

نمیر عنایہ کی پشت پر کھڑا ایسے انداز میں بولا عنایہ کے چہرے پر خودبخود مسکراہٹ آگئی جسے دیکھ کر نمیر بھی مسکرا دیا

“اسی چیز کی کمی تھی،،، بس اب سارا وقت نہال کو دیکھ دیکھ کر ایسے ہی اسمائل دینا مجھے پورا یقین ہے،، وہ دو ماہ کے اندر اندر تمہیں رخصت کروا کر ہمارے گھر لے آئے گا”

نمیر نے عنایہ کو چھیڑتے ہوئے کہا جس پر وہ سچ مچ شرما گئی

“کیوٹ یار۔۔۔۔ تم نے نہال کے نام پر ابھی سے بلش کر رہی ہو۔۔۔ یہ بات تو میں اسے ضرور بتاؤں گا”

نمیر مسکراتا ہوا عنایہ کو دیکھ کر بولا

“پلیز نمیر بھائی آپ انہیں کچھ نہیں بولیے گا”

عنایہ نے گھبراتے ہوئے نمیر سے کہا

“انہیں۔۔۔ واہ واہ چلو باہر چلتے ہیں” نمیر عنایہ کے انہیں کہنے پر مسکراتا ہوا باہر نکل گیا