Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 35)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 35)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“پلیز جلدی چلے نہ گھر ٹائم دیکھیں کتنی دیر ہوگئی ہے ہمیں”
عنایہ اب بےزار ہوتی ہوئی نہال سے کہنے لگی
کیک لینے کے بعد وہ اسے مال لے آیا تاکہ عنایہ کے لیے گفٹ لے سکے۔۔۔ عنایہ کے منع کرنے کے باوجود نہال اس کے لئے ایک سے زیادہ چیزیں برتھ ڈے گفٹ کہہ کر لیے جا رہا تھا عنایہ کے خود اکیلی گھر جانے کی دھمکی پر وہ عنایہ کو مال سے لے کر نکلا۔ ۔۔ مگر پھر اچانک نہال کو کافی شاپ دیکھ کر اسے کافی پینے کا خیال آیا تب عنایہ کو اور بھی الجھن ہونے لگی
“کیا ہوگیا ہے عنایہ ریلکس۔۔۔ کافی ختم کرو اپنی پھر چلتے ہیں”
نہال کافی کا سپ لیتے ہوئے کہنے لگا وہ بالکل ریلیکس انداز میں بیٹھا تھا
“نہیں مجھے یہ کافی نہیں ہے پینا ہے کتنا ٹائم ہوگیا اب راستے میں ٹریفک ملے گا گھر سے اتنی دور آنا ہی نہیں چاہیے تھا آپ اٹھے بس”
عنایہ خود چیئر سے اٹھ کر باہر نکلنے لگی تو نہال کو اسکے پیچھے جانا پڑا
“پہلے کے مقابلے میں تھوڑی ضدی ہوگئی ہو تم،، اپنی منوانا آگیا ہے تمہیں،، مگر یہ چینج بھی برا نہیں ہے”
نہال آگے بڑھ کر عنایہ کے لیے کار کا دروازہ کھولنے لگا
“لڑکی میں شادی کے بعد چینجنگ اس کے شوہر کے مزاج کے مطابق آتی ہے آپ کہہ سکتے ہیں، نمیر میری ضد پوری کرتے ہیں اس لیے ایسی ہوگئی ہوں میں”
اسے معلوم تھا آج نمیر کا موڈ بہت خراب ہوگا اس سے۔۔۔ مگر وہ نہال کو کچھ اور جتانا چاہتی تھی
“دو ماہ کم عرصہ ہے کافی جلدی بدلاو آیا ہے تم میں یہی کاالٹی تو مجھے تمہاری پسند ہے کہ تم جلدی اپنا مائنڈ سیٹ کر لیتی ہوں،، اس سے اگے کے لئے آسانی رہے گی۔۔۔۔ ویسے عنایہ تمہیں نہیں لگتا انسان اسی کے سامنے ضد کرتا ہے جہاں اسے توقع ہو کہ اسکی ضد پوری ہوگی” نہال عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا جو مسلسل کار کی سیٹ بیلٹ لگانے کی بجائے اس سے لڑے جا رہی تھی۔۔۔ تبھی نہال اطمینان سے اس کی سیٹ بیلٹ لگانے لگا۔۔۔ اس نے فرسٹ ٹائم کی طرح اب بھی پوری کوشش کی عنایہ کی اس سے انگلیاں ٹچ نہ ہو اور دوسری طرف عنایہ بھی فرسٹ ٹائم کی طرح سانس روکے اسٹریٹ بیٹھی رہی۔۔۔ نہال کو بہت کچھ یاد آیا مگر وقت کب ایک سا رہتا ہے وہ سوچنے لگا جبکہ عنایہ نے سر جھٹکا
“ہر چیز وقت اور توجہ مانگتی ہے تم آرام سے سیٹ بیلٹ لگاتی تو تم سے بھی لگ جاتی”
نہال کار اسٹارٹ کرتا ہوا بولا
“میری ساری توجہ اس وقت نمیر کے اوپر ہے وہ ویٹ کر رہے ہوں گے میرا” عنایہ سامنے دیکھ کر بولی نہال اس کو ایک نظر دیکھتا ہوا ڈرائیونگ کرنے لگا
“آگے جاکر لیفٹ سائیڈ پر گلی میں نوڑ لیے گا وہ راستہ شارٹ پڑے گا”
عنایہ نہال کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی
“شارٹ تو ہے مگر کافی سنسان بھی ہے رات کے وقت ہم دونوں کا وہاں سے جانا مناسب نہیں رہے گا”
نہال نے عنایہ کو دیکھ کر سمجھانا چاہا اور اس کی بات درست بھی تھی
“پلیز ہمیں دو گھنٹے پہلے ہی گزر چکے ہیں یہاں سے جائیں گے تو ٹریفک میں پھنس جائیں گے مزید دیر ہو جائے گی۔۔۔ یا تو آپ میری بات مانے یا پھر میں کار سے اتر رہی ہو”
عنایہ اب تنگ آکر بولی اب وہ نہال کے ساتھ آکر پچھتا رہی کتنا اچھا ہوتا کہ وہ منہ پر ہی منع کر دے دیتی بلاوجہ مروت نبھانے کے لیے اس کے ساتھ آگئی۔۔۔۔ نہال نے خاموشی سے لیفٹ سائیڈ گلی میں کار ٹرن کرلی تو عنایہ تھوڑی ریلیکس ہوئی
کار میں مکمل خاموشی تھی اور روڈ سنسان تھا جبھی ایک بائیک ان کی کار کے پاس سے گزر کر بیچ روڈ پر رکی جس کی وجہ سے نہال کو کار روکنی پڑی۔۔۔ بائیک سے دو لڑکے اتر کر کار کے پاس آئے پسٹل کے اشارے سے ایک لڑکے نے نہال کو کار کا شیشہ نیچے کرنے کو کہا
“اب کیا ہوگا”
عنایہ کار میں بیٹھی گھبرانے لگی
“پریشان مت ہو کچھ نہیں ہوگا”
نہال عنایہ کو تسلی دیتا ہوا بولا مگر ایسی سچویشن میں عنایہ ساتھ تھی اسے خود ٹینشن ہونے لگی وہ لڑکے کے ہاتھ میں پسٹل دیکھ کر کار کا شیشہ نیچے کرنے لگا
“آوئے چلو جلدی سے دونوں گاڑی سے باہر نکلو”
نہال کے شیشہ نیچے کرتے ہی پسٹل ہاتھ میں لیے لڑکا بولا نہال عنایہ کو اترنے کا کہہ کر خود بھی گاڑی سے نکل گیا
“اب جو مال تم لوگوں کے پاس موجود ہے فوراً نکالو بنا کسی کو ہوشیاری کے”
وہی لڑکا دوبارہ نہال کو بولا جبکہ خوف کے مارے عنایہ نہال کا بازو پکڑے کھڑی تھی۔۔۔ نہال نے خاموشی سے اپنا والٹ اور موبائل نکال کر اس لڑکے کے حوالے کیا
“اے لڑکی یہ بندے اور انگوٹھیاں دے گلے سے چین بھی نکال”
دوسرا لڑکا عنایہ کا بیگ چھینتے ہوئے بولا۔۔۔۔ عنایا نے کانپتے ہاتھوں سے کانوں کے ٹاپس اور ائیررینگ اتاری
“یہ گھڑی بھی اتار” پسٹل والا لڑکا نہال سے بولا نہال نے اپنی کلائی پر باندھی گھڑی اتار کر ان کے حوالے کردی
“اے لڑکی یہ چین بھی دے جلدی کر” دوسرا لڑکا عنایہ کو دیکھ کر بولا تو عنایہ نمیر کا دیا ہوا پینڈنٹ دیکھنے لگی
“پلیز یہ مت لیں آپ لوگ”
عنایہ ہمت کر کے بولی
“کیا کر رہی ہو عنایہ،، یہ پینڈیٹ دو انہیں”
نہال عنایہ کو دیکھتا ہوا جلدی سے بولا
“یہ مجھے نمیر نے فرسٹ گفٹ دیا تھا” عنایہ روتی ہوئی بولنے لگی
“نخرے دکھا رہی ہے اتارے اس کے گلے سے”
پستول والا لڑکا اپنے ساتھی سے بولا
“اے ہاتھ مت لگانا اسے”
وہ لڑکا جیسے ہی عنایہ کی طرف بڑھا اور اس کے گلے سے چین کھینچنے لگا ویسے ہی نہال اسے دھکا دیتے ہوئے بولا
“ابے تو ہیرو بن رہا ہے سالے”
جس لڑکے کے ہاتھ میں پسٹل تھی اس نے پسٹل کا بٹ نہال کے سر پر مارتے ہوئے کہا
“پلیز انہیں چھوڑ دیجئے آپ یہ لے لو پلیز۔۔۔ بس آپ ہمیں جانے دیں” عنایہ نے فوراً پینڈنٹ اتار کر انکو دیتے ہوئے رونا شروع کر دیا
“دیکھو تم لوگوں کو جو چاہیے تھا اور وہ جو ہمارے پاس موجود تھا وہ تم لوگ لے چکے ہو اب ہمیں جانے دو”
نہال اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتا ہوا خون کو روک کر کہنے لگا
“گاڑی کی چابی دے جلدی”
نہال سے ایک بار پھر وہ لڑکا بولا
“نہال نے خاموشی سے اپنی کار کی چابی بھی ان کے حوالے کردی اب وہ عنایہ کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر کھڑا رہا۔۔۔۔ ان لڑکوں نے آنکھوں میں اشارے سے بات کی۔ ۔۔ ایک لڑکا بائیک پر بیٹھا جبکہ دوسرا لڑکا گاڑی کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔ ان دونوں کے جاتے ہیں عنایہ کے رونے میں مزید تیزی آگئی
“عنایہ ریلکس وہ لوگ چلے گئے ہیں۔۔۔ پلیز پریشان مت ہو رونا بند کرو۔۔۔ ابھی کوئی کار آتی ہے تو میں لفٹ لے لیتا ہوں”
نہال اپنے ماتھے کی چوٹ کو بھول کر اسے چپ کرانے لگا
“بہت زور سے مارا ہے انہوں نے، آپ کو درد ہو رہا ہوگا ناں” رحمدل فطرت ہونے کی وجہ سے وہ اپنا غصہ بھولتی ہوئی نہال سے روتی ہوئی پوچھنے لگی
“نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں مجھے بالکل درد نہیں ہو رہا”
نہال واقعی اپنا درد بھول کر اس کی طرف مسکراتا ہوا دیکھ کر کہنے لگا۔۔۔ عنایا کو مزید رونا آیا
“مجھے آج نمیر کا دیا ہوا پینڈینٹ پہنا ہی نہیں چاہیے تھا،، وہ لوگ پینڈنٹ بھی لے گئے”
عنایہ کو اب نمیر کا دیا گیا گفٹ یاد آیا تو اسکے رونے میں مزید روانی آگئی
“میں تمہیں ویسے ہی پینڈینٹ لادو گا پلیز تم چپ ہوجاو” نہال اس کو چپ کرانے کی کوشش میں بولا
“مگر وہ نمیر کا دیا ہوا گفٹ تو نہیں ہو سکتا ناں”
عنایا روتی ہوئی بولی تو نہال تلخی سے ہنسا
“آپ کو کار ایسی جگہ سے لے کر آنا ہی نہیں چاہیے تھی”
عنایہ کی بات پر اب کی بار نہال اسکو گھور کر دیکھنے لگا
“کار یہاں پر موڑنے کی فرمائش کس نے کی تھی”
نہال عنایہ کو حیرت سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“تو میں کچھ بھی بولوں گی آپ مان لیں گے میری بات،، حد ہوتی ہے”
عنایہ اب کہ اس پر سارا الزام دھرتی ہوئی بولی جس پر نہال کو ہنسی آنے لگی
“یہ اتنی ٹینشن والی سچوئیشن بن گئی ہے اور آپ کو ہنسی آرہی ہے”
عنایہ پریشان ہو کر بولی اتنے میں دور سے ایک کار آتی دکھائی دی۔۔۔ وہ انہی کے پاس آ رہی تھی نہال نے اس کار کو ہاتھ دے کر روکا
