370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 34)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

شام کا وقت تھا عنایہ نمیر کے آفس سے واپس گھر آنے کا ویٹ کرنے لگی۔۔۔ نمیر نے اسے آج جلدی گھر آنے کا کہا تھا وہ اسے کہیں لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا یہی سوچ کر عنایہ نے نمیر کی پسند کے رنگ کا ڈریس پہنا،، لائٹ سے میک اپ کے ساتھ کانوں میں ڈائمنڈ کے چھوٹے چھوٹے ٹاپس پہنے کے بعد وہ نمیر کا دیا ہوا این ایلفابیٹ والا پینڈنٹ گلے میں ڈالنے لگی ساتھ ہی اس نے انگلیوں میں رینگز پہنی۔ ۔۔ آج وہ نمیر کے لیے بہت دل سے تیار ہوئی تھی۔۔۔ ابھی وہ نمیر کا سوچ کر مسکرا ہی رہی تھی کہ کار کا ہارن سنائی دیا۔۔۔

“نمیر”

دل میں نمیر کا نام پکارتی ہوئی وہ اپنا دوپٹہ سیٹ کرکے کمرے سے باہر نکلی مگر جب باہر اس نے نمیر کی جگہ نہال کی کار دیکھی تو اسے مایوسی ہوئی

“خوبصورت لوگوں کے چہرے پر اداسی بالکل نہیں ججتی”

عنایہ واپس اپنے کمرے میں جانے لگی تو اسے اپنے پیچھے سے نہال کی آواز سنائی دی

“نمیر نہیں آئے ابھی تک،، انہوں نے آفس جاتے وقت بولا تھا کہ وہ شام کو جلدی آجائیں گے”

عنایہ مڑ کر نہال کی بات کو نظرانداز کر کے اس سے نمیر کا پوچھنے لگی

“اوہ تو نمیر کا ویٹ ہو رہا تھا مگر اس کو تو آتے آتے آرام سے دو گھنٹے لگ جائیں گے”

نہال عنایہ کو بتاتے ہوئے اس کی تیاری دیکھنے لگا۔۔۔ نہال کی بات سن کر وہ اداسی سے واپس جانے لگی

“عنایہ”

نہال کے پکارنے پر عنایہ مڑ کر اسے دیکھنے لگی

“کیا ایک کپ چائے مل سکتی ہے، سر میں بہت درد ہو رہا ہے کافی دیر سے”

نہال اس کو دیکھ کر کہنے لگا

“شیور، آپ روم میں جائے میں حمیداں سے کہہ دیتی ہوں”

عنایہ نہال کو دیکھ کر کہتی ہوئی دوبارہ جانے لگی

“عنایہ مجھے اس وقت چائے کی طلب ہے حمیدہ کے ہاتھ کی چائے،، چائے کم جوشاندہ زیادہ لگتی ہے”

نہال کی بات پر عنایہ کو ہنسی آئی کیوکہ حمیدہ کی ہاتھ کی چائے اسے بھی کچھ خاص پسند نہیں تھی

“اوکے میں آپ کے لئے چائے بنا دیتی ہوں”

عنایہ کے بولنے پر آپ کی بار نہال مسکرایا

****

“کم ان”

نہال بیڈ پر لیٹا ہوا تھا تب دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔ عنایہ کے روم میں آتا دیکھا تو نہال اٹھ کر بیٹھا

“بہت بہت شکریہ”

عنایہ نے نہال کی طرف چائے کا کپ بڑھایا تو نہال نے اسے تھامتے ہوئے کہا

“کوئی بات نہیں”

عنایہ بولتی ہوئی واپس جانے لگی

“کیا تم بزی ہو”

نہال کے ایک دم پوچھنے پر عنایہ نے اسے دیکھا

“نہیں بزی تو نہیں تھی بس نمیر کا ویٹ کر رہی تھی”

وہ نہال کو بتانے لگی

“تم یہاں بیٹھ کر بھی ویٹ کر سکتی ہو مجھے برا نہیں لگے گا”

نہال بولنے کے بعد چائے کا سپ لینے لگا

“آپ کے سر میں درد ہو رہا ہے آپ ریسٹ کریں”

عنایہ کو وہاں بیٹھنا بے مقصد لگا تبھی اس نے بولا

“میرے سر کا درد اب کم ہوگیا ہے تم بیٹھ جاؤ ختم ہو جائے گا۔۔۔ میرا مطلب ہے پین کلر لی ہے ابھی اور یہ چائے پی رہا ہوں تو سر کا درد ختم ہو جائے گا”

نہال بولنے کے بعد چائے کے گھونٹ بھرنے لگا۔۔۔ ناچار عنایہ کو وہاں بیٹھنا پڑا۔۔۔ مسلسل دوپٹے کو انگلی میں رول کرتے ہوئے کمرے میں موجود ہر چیز کو غور سے دیکھنے لگی اور نہال اس کو دیکھنے لگا

دو مہینوں میں کافی کچھ بدل گیا تھا ان کے بیج دوستی تو پہلے بھی نہیں تھی مگر منگنی کے بعد روز موبائل پر بات نہ سہی کبھی ملاقات نہ سہی مگر پھر بھی جب کبھی وہ دونوں ملتے تو باتوں کا ڈھیر ہوتا تھا نہال کے پاس اب بھی اس سے کرنے کے لئے ڈھیر ساری باتیں تھی مگر عنایہ۔۔۔۔ شاید اب اس کے پاس نہ باتیں تھی نہ ہی نہال کی باتیں سننے کے لئے وقت اور نہ ہی دلچسپی۔۔۔ نہال نے تلخی سے سوچتے ہوئے چائے کا آخری گھونٹ ختم کیا اور اپنا موبائل اٹھا کر نمیر کا نمبر ڈائل کرنے لگا

“ہاں نمیر بات کہاں تک پہنچی۔۔۔ معاملہ کچھ حل ہوا یا وہی کا وہی مسئلہ اٹکا ہوا ہے”

نہال کو موبائل پر نمیر سے بات کرتے دیکھ کر عنایہ نے چونک کر اس کو دیکھا

“اوکے کتنی دیر ہے تمہیں آنے میں کوئی پروبلم تو نہیں۔۔۔ تم ہینڈل کر لو گے یا پھر میں آجاو”

نہال اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ عنایہ کی ساری توجہ اب نہال کی گفتگو پر تھی

“وہ تو مجھے معلوم ہے تم آسانی سے سب سنبھال سکتے ہو ٹیک کیئر”

نہال مسکراتا ہوا موبائل سائیڈ پر رکھنے لگا

“کیا ہوا سب خیریت تو ہے نا”

عنایہ اب نہال کو دیکھ کر فکرمندی سے پوچھنے لگی

“ہاں سب خیریت ہے، دراصل آفس کے ورکرز کو کچھ ایشوز آرہے تھے۔۔۔ جن پر ہمارے مینجر صاحب نے اور میں نے،، ورکرز کو آرام سے اور سیدھے طریقے سے سمجھایا مگر آج کا دور سیدھے لوگوں کا ہے ہی نہیں اور نہ ہی لوگ اتنے آرام سے بات سمجھتے ہیں۔۔۔ اس لیے اب نمیر ورکرز کو اپنے انداز میں ڈیل کر رہا ہے مجھے اس پر پورا یقین ہے وہ مجھ سے زیادہ بہتر طریقے سے سب سنبھال لے گا”

نہال عنایہ کو دیکھتا ہوا بتانے لگا جس پر عنایہ نے سر ہلایا

“کیا تمہارے ایگزیمز ہو گئے فزکس میں کافی پرابلم ہوئی ہوگی تمہیں”

نہال نے عنایہ کا دماغ اس قصے کی طرف سے ہٹانا چاہا تبھی اس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“ایگزیمز سے تو کب کی فارغ ہوگئی۔۔۔ پرابلم کوئی خاص نہیں ہوئی نمیر نے کافی زیادہ ہیلپ کی میری”

عنایہ روانی سے بولتی ہوئی ایک دم چپ ہوئی نہال اس کو غور سے دیکھ رہا تھا تبھی وہ نظریں چرا گئی

“نمیر ہے ہی ایسا ہر پرابلم کا حل ہوتا ہے اس کے پاس”

نہال سر جھٹک کر مسکراتا ہوا کہنے لگا

“نمیر کو واپسی پر کافی دیر ہو جائے گی میں چلتی ہوں۔۔۔ اب عنایہ کا اندازہ ہوگیا آفس کے مسئلہ مسائل میں الجھ کر وہ یقیناً رات کو ہی گھر آئے گا اس لئے چیئر سے اٹھتی ہوئی بولی

“عنایہ تم ایک چیز بھول رہی ہو”

عنایہ کو اٹھتا ہوا دیکھ کر نہال ایک دم بولا تو عنایہ اسے دیکھنے لگی

“اپنی برتھ ڈے کا کیک آج صبح ہی تم نے کہا تھا کہ وہ ادھار ہے تم پر”

نہال مسکراتا ہوا اسے آج صبح کی بات یاد دلانے لگا

“اف وہ تو میرے ذہن سے ہی نکل گیا اس وقت کیک کیسے ارینج کر سکتی ہوں۔۔۔ کل آپ کو پکا کھلا دوگی اپنے برتھ ڈے کا کیک”

عنایہ پہلے پریشان ہوکر بعد میں خود ہی مسلے کا حل نکالتی ہوئی بولی

“کیک میں صرف ہوپ ناب کا ہی پسند کرتا ہوں چلو ہم لے کر آتے ہیں۔۔۔ واپسی پر تم اپنے لئے کوئی گفٹ لے لینا”

نہال خود ہی پروگرام بنا کر بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہوا

“اس وقت میں اکیلے آپ کے ساتھ کیسے جا سکتی ہوں ابھی تو نمیر بھی گھر پر موجود نہیں ہیں”

عنایہ ایک دم نہال کے پروگرام بنانے پر بوکھلا گئی اس کو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ وہ کیا کہے

“میرے ساتھ اکیلے جانے کیا پرابلم ہے،، جب ہماری انگیجمینٹ بھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔ تم تب بھی میرے ساتھ آرام سے کالج سے گھر آ گئی تھی۔۔۔۔ اب تو تم اسی گھر کی فرد ہو جہاں میں رہتا ہوں اور میرے خیال میں نمیر نیرو مائینڈ ہرگز نہیں ہے کہ میں اس کی وائف کو کہیں لے کر جاؤ تو وہ برا مانے”

نہال اس کی بوکھلاہٹ پر جواز پیش کرتا ہوا بولا

“نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ دراصل مجھے نمیر نے تیار رہنے کا کہا تھا ان کے ساتھ پروگرام تھا باہر جانے کا”

عنایہ اسے ٹالتی ہوئی بولی

“نمیر سے ابھی میری تمہارے سامنے ہی بات ہوئی ہے وہ کہہ رہا تھا رات ہو جائے گی اسے آتے ہوئے اور ہم زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے میں واپس بھی آ جائے گے۔۔۔ میں کار میں ویٹ کر رہا ہوں تمہارا”

نہال اس کو بولتا ہوئے باہر نکل گیا

“اف یہ سمجھتے کیو نہیں آخر مجھے نہیں جانا انکے ساتھ معلوم نہیں کس مشکل میں پھنس گئی ہو میں تو”

عنایہ دل ہی دل میں بولتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی اس نے نمیر کا نمبر دو سے تین بار ڈائل کیا مگر وہ کال نہیں اٹھا رہا تھا۔۔۔ باہر سے کار کے ہارن کی آواز آئی یقیناً نہال اس کو بلا رہا تھا۔۔۔ وہ ہاتھ میں اپنا موبائل اور کندھے پر بیک لٹکا کر ڈال باہر نکل گئی

****

نوفل دوپہر میں چار بجے ہی پولیس اسٹیشن سے گھر آ گیا تھا۔۔۔ فریش ہونے کے بعد وہ شانزے کو ڈھونڈتا ہوا کچن میں آیا تو وہ اسے آٹا گوندھنے میں مصروف نظر آئی نوفل اس کی پشت پر کھڑا ہوکر دونوں کندھوں سے تھامتا ہوا جھک کر اسکے کان میں سرگوشی کرنے لگا

“کیا ہو رہا ہے”

نوفل کے سرگوشی کرنے پر شانزے اپنے چہرے کا رخ اس کی طرف کیا

“تم نے کل امی سے آلو گوشت بنانے کی فرمائش کی تھی تو میں نے سوچا آج تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے خود آلو گوشت بنا دو”

شانزے مسکراتی ہوئی کہنے لگی تبھی نوفل نے اس کے رخساروں کو اپنے ہونٹوں سے چھوا

“میں کچھ ہیلپ کرو”

‏نوفل اب شانزے کے کندھے سے اپنے ہاتھ ہٹاکر اسکے پیٹ کے گرد لپیٹا ہوا آفر کرنے لگا

“تم میری ہیلپ یہ کرو کہ جاکر کمرے میں بیٹھ جاؤ ورنہ تمہاری حرکتوں کی وجہ سے میں خود کی بھی ہیلپ نہیں کر پاؤں گی”

شانزے اس کو گھورتی ہوئی کہنے لگی ٹشو سے ہاتھ صاف کرکے۔۔۔ اب وہ پلیٹ میں رکھے آلو چھیلنے کے غرض سے اٹھانے لگی

“ہمیشہ ظلم کی کرنا تم اپنے ایس۔پی پر ظالم حسینہ”

نوفل نے مزید اس کو اپنے اندر بھیجتے ہوئے کہا

“نوفل ہٹو پیچھے یہ ہمارا بیڈروم نہیں ہے”

شانزے اب سنجیدگی سے اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی۔۔۔ شادی کے بعد تو وہ کچھ زیادہ ہی پھیل گیا تھا صرف نائلہ کی موجودگی کا احساس کر کے وہ سنجیدہ رہتا ورنہ ملازم کے سامنے معنی خیز باتوں پر شانزے اسکو گھوریوں سے ہی نوازتی رہتی

“بیڈ روم نہیں ہے مگر بیڈروم صرف چار قدم پر ہے ان آلووں پر ظلم کرنا چھوڑو اور بیڈ روم میں چل کر کچھ خبر اپنے ایس۔پی کی بھی لو۔۔۔ آج پھر میری نائٹ ڈیوٹی لگ گئی ہے”

نوفل افسوس سے شانزے کہ کندھے پر اپنا سر رکھتا ہوا بولا شانزے کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔ ایک ہفتے میں اس کی چار دفعہ نائٹ ڈیوٹی لگ چکی تھی

“ہنس لو ایک تم اور ایک کمشنر صاحب دونوں ہی بہت ظلم ہیں ذرا مجھ معصوم پر کسی کو ترس نہیں آتا۔۔۔ کمشنر صاحب خود دو دو شادیاں کرکے بیٹھے ہیں کبھی ایک بیوی کے پاس تو کبھی دوسری بیوی کے پہلو میں چھپے پھرتے ہیں اور یہاں مجھ غریب کو ایک بیوی کے پاس نہیں ٹکنے دیتے”

وہ شانزے کے ہاتھ سے آلو رکھ کر اس کا رخ اپنی طرف کر کے بے چارگی سے بولا تو شانزے کو مزید ہنسی آئی

“اچھا پاپا جاؤ بیڈروم میں دس منٹ میں آ رہی ہوں”

وہ نوفل کے دونوں گال زور سے کھینچتی ہوئی بولی۔۔۔ نوفل شانزے کو زور سے ہگ کر کے بیڈ روم میں چلا گیا

شانزے کچن سمیٹ کر بیڈروم میں آئی تو نوفل وارڈروب کھولے کھڑا تھا

“کیا کوئی میرے پیچھے آیا تھا”

نوفل ہاتھ میں خاکی رنگ کا پیکٹ لیے شانزے سے پوچھنے لگا

“ارے ہاں بتانا ہی بھول گئی ایک آدمی آیا تھا وہ تمہارے نام یہ پارسل دے گیا ہے کہہ رہا تھا بعد میں تمہیں کال کرلے گا” شانزے آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر اپنا حلیہ درست کرتی ہوئی نوفل کو بتانے لگی

“تمہیں کیا ضرورت تھی کسی غیر آدمی کے سامنے جانے کی اور یہ چوکیدار کہاں مر گیا تھا”

نوفل کے تاثرات سنجیدہ ہوکر ایک دم غصے والے ہو گئے

“اس آدمی نے خود چوکیدار سے کہا تھا امپورٹنٹ چیز ہے اسے ملازم کو نہیں گھر والے کو دینا ہے اس لیے میں سامنے آئی”

شانزے نوفل کو دیکھ کر نارمل انداز میں بولی

“اوکے۔۔۔ مگر نیکسٹ ٹائم کتنا ہی کوئی امپورٹنٹ پارسل کیوں نہ ہو۔۔۔ نہ تو تم کسی سے کچھ لوگی اور نہ ہی کسی کے سامنے آؤ گی اور اس واچ مین کو بھی میں ذرا ٹائٹ کرتا ہوں”

نوفل کا موڈ ایک دم چینج ہوگیا پارسل ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا

“نوفل تم نے مجھے بیڈ روم میں کیا میری خبر لینے کے لیے بلایا ہے”

شانزے اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر اس سے پوچھنے لگی جس پر نوفل مسکرایا

“ایسے دور سے تمہاری خبر تھوڑی لو گا بلکہ قریب آکر اچھی طرح تمہاری خبر لوں گا”

نوفل شانزے کو اٹھا کر بیڈ پر بیٹھاتا ہوا بولا خود ہاتھ میں پکڑا پارسل کو وارڈروپ میں کپڑوں کے پیچھے خفیہ لاکر میں رکھنے لگا شانزے نے غور سے دیکھا اسے اس لاکر کا علم نہیں تھا

“تم نے مجھے نہیں بتایا وارڈروب کے اس پورشن کے بارے میں”

کیوکہ نوفل نے وہ پارسل شانزے کے سامنے ہی رکھا تھا اس لئے شانزے نوفل سے پوچھنے لگی

“دھیان نہیں گیا ہوگا اس کا کوڈ نائن ٹو زیرو فور ہے۔۔۔ اگر کبھی ایمرجنسی میں کوئی اماونٹ وغیرہ کی ضرورت پڑے تو تم اس میں سے لے سکتی ہوں”

نوفل وارڈروب کا دروازہ بند کر کے شانزے کے پاس آتا ہوا بولا

“بھلا مجھے کیوں ان پیسوں کی ضرورت پڑے گی تم نے میرے اکاونٹ پہلے ہی کافی اماؤنٹ جمع کرادی ہے۔۔۔ ویسے نوفل اس پارسل میں کیا تھا”

شانزے کچھ سوچتی ہوئی نوفل سے پوچھنے لگی

“اور ظلم نہیں کرو مجھ پر ظالم حسینہ صرف اس وقت اپنی اور میری بات کرو”

نوفل خوبصورتی سے شانزے کی بات کو ٹالتا ہوا اسے بانہوں میں بھرتا ہوا بیڈ پر لیٹ گیا

****

نمیر آفس سے گھر آیا تو رات کے آٹھ بچ چکے تھے اسے معلوم تھا گھر پر عنایہ اس کا ویٹ کر رہی ہوں گی مگر آفس میں پیش آنے والے مسائل حل کرتے کرتے یہ وقت ہوگیا۔۔۔۔ عنایہ کی کال بھی اس نے کار میں بیٹھتے وقت چیک کی۔۔۔ نمیر نے پہلے سوچا اسے کال بیک کرلے اور اپنے آنے کا بتا دے مگر پھر خود ہی ارادہ ترک کیا اور کار میں بیٹھ گیا

“حمیدہ عنایہ کہاں پر ہے”

نمیر ثروت کو اس کے کمرے میں ریسٹ کرتا ہوا دیکھ کر وہی سے پلٹ گیا اپنے کمرے میں عنایہ کو نہ پاکر کچن میں موجود حمیدہ سے پوچھنے لگا

“عنایہ بی بی تو نہال صاحب کے ساتھ باہر گئی ہیں جی”

حمیدہ کی بات سن کر لاتعداد شکن نمیر کے ماتھے پر پڑی

“کتنے بجے گئے ہیں دونوں”

نمیر نے حمیدہ سے دوبارہ سوال کیا

“یہی کوئی سات بجے قریب”

حمیدہ کے بتانے پر نمیر کلائی میں بندھی ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھنے لگا بنا کچھ کہے اپنے بیڈ روم میں چلا آیا

نمیر نے روم میں آکر کوٹ اتارا اور ٹائی کی نوٹ ڈھیلی کی اب وہ کمرے میں ٹہلنے لگا۔۔۔ کمرے میں ٹہلتے ٹہلتے ہر دس منٹ بعد اس کی نظر دیوار پر لٹگی گھڑی پر جاتی جب مزید ایک گھنٹہ گزرا تو وہ بیڈ پر جوتوں سمیت لیٹ گیا

جب دروازے پر دستک ہوئی نمیر نے لیٹے لیٹے آنے والے کو اجازت دی

“صاحب جی ابھی تک عنایہ بی بی تو آئی نہیں ہیں۔ ۔۔ آپ کو اگر بھوک لگی ہے تو کھانا لگا دوں یا آپ انتظار کریں گے”

حمیدہ کمرے میں داخل ہوکر نمیر سے پوچھنے لگی نمیر نے اسے کو خونخوار نظروں سے گھورا

“عنایہ بی بی اگر نہیں آئی ہیں تو میں کیا کروں،، مجھے کیوں بتا رہی ہوں یہاں اگر۔۔۔ کھانا کھانا ہوگا تو میں خود لے لوں گا جاو یہاں سے اور اب کمرے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے”

وہ جو غصے میں بھرا ہوا بیٹھا تھا اپنا غصہ حمیدہ پر نکالتا ہوا بولا جس سے حمیدہ کا چہرہ اتر گیا شاید زندگی میں پہلی بار نمیر نے اس سے اس لہجے میں بات کی تھی ورنہ اس گھر کا ہر فرد ہی گھر کے ملازموں سے تمیز کے دائرے میں بات کرتا تھا

نمیر نے ایک دفعہ پھر گھڑی میں ٹائم دیکھا پاکٹ سے موبائل نکال کر عنایہ کا نمبر ڈائل کرنے لگا۔۔۔ پھر کچھ سوچ کر موبائل بیڈ پر پٹخ دیا

نمیر کو دوبارہ ان دونوں پر غصہ آنے لگا ان دونوں کو گھر سے نکلے ہوئے دو گھنٹے ہونے کو آئے تھے۔۔۔۔ نہال اور اس کے بیچ آج صبح سے ایک سرد جنگ کا آغاز ہوچکا تھا بظاہر تو وہ دونوں آفس میں نارمل بات کر رہے تھے سامنے والے کو یہی لگتا۔۔۔۔ مگر ان دونوں کے دماغ میں کیا چل رہا ہے یہ وہ دونوں ہی جانتے تھے۔۔۔ اگر نہال کی جگہ وہ خود کو رکھ کر سوچتا تو بیشک نا انصافی نہال کے ساتھ ہوئی تھی مگر اس میں اسکا بھی کوئی قصور نہیں تھا اور جبکہ عنایہ اب اسکی بیوی بن چکی تھی،،، نہال کو اس بات کا بھی سوچنا چاہیے تھا۔۔۔۔ وہ بچپن سے نمیر کی عادت جانتا تھا کہ نمیر اپنی چیزوں کو لے کر کتنا حساس ہے مگر نہال جان بوجھ کر اسے ٹیس کر رہا تھا۔۔۔ کم از کم اب نمیر بھائی کی محبت میں اپنی بیوی تو بھائی کو نہیں دے سکتا تھا نمیر کو غصہ آنے لگا کے آخر نہال کو یہ بات کیوں نہیں سمجھ میں آرہی

دوسری طرف اس کو عنایہ پر بھی غصہ آنے لگا۔۔۔ آخر وہ کیوں اتنی بے خبر، انجان اور لاپروا تھی۔۔۔ کیا اسے نہال کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی نہیں دکھتی تھی جو کہ کم ازکم نمیر کو تو ابھی بھی واضح نظر آتی تھی۔۔۔ جو صورتحال ان دونوں بھائیوں کے بیچ اسے لے کر چل رہی تھی آخر وہ کیوں اس پر غور نہیں کر رہی تھی۔۔ کیوں وہ نہال کے ساتھ چلی گئی جبکہ نمیر اسے بتا چکا تھا وہ اسے اپنے ساتھ لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ۔۔ یہی سب باتیں نمیر کو اندر ہی اندر کھولانے لگی

ایک مرتبہ دوبارہ اس کا دروازہ بجا اب کی بار نمیر نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو سامنے حمیدہ کھڑی تھی

“وہ جی آپ کی خالا جانی اور منال بی بی آئی ہیں”

حمیدہ نے ڈرتے ڈرتے اسے بتایا

“ٹھیک ہے انہیں کہو کہ میں پانچ منٹ میں چینج کرکے آرہا ہوں”

نمیر اب کی بار حمیدہ کو دیکھ کر نرمی سے بولا،،، وہ سر ہلا کر واپس چلی گئی نمیر چینج کرنے چلا گیا