370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 33)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“چندا اٹھنا نہیں ہے کیا”

تیسری بار نمیر کے آواز دینے پر عنایہ نے آنکھیں کھولی۔۔۔ وہ مندی مندی آنکھوں سے نمیر کو دیکھنے لگی جو پوری طرح بیدار ہوکر عنایہ کی طرف کروٹ سی لیٹا ہوا اسی کو دیکھ رہا تھا

“کیا آپ وہ سونا بالکل پسند نہیں ہے نمیر”

نیند سے بوجھل آواز میں عنایہ نمیر کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی اس کے انداز پر نمیر کو ہنسی آگئی

“میں چھٹی والے دن بھی اتنا نہیں سو سکتا،، جتنا سارا تم سوتی ہو میری سلیپنگ بیوٹی”

نمیر بولنے کے ساتھ ہی عنایہ کو اپنی طرف کھینچتا ہوا اس پر جھکا۔۔ اب وہ عنایہ کو پوری طرح بیدار کرنے کے موڈ میں تھا۔۔۔ کل رات کی بانسبت اس وقت اس کا موڈ بھی ٹھیک ہوگیا تھا

“سنو میرے آفس جانے کے بعد جتنا سونا ہے سو جانا کل سیٹر ڈے ہوگا یعنی آفس کا آف۔۔۔۔ اور آج رات میں تمہاری نیند کو لے کر کوئی بھی ایکسکیوز نہیں سنوں گا”

نمیر عنایہ کی نیند بھگانے کے بعد اب اس کو دیکھتے ہوئے شرارتی انداز میں بولا۔۔۔ نمیر کی بات پر عنایہ شرما گئی۔۔ وہ عنایہ کی پیشانی پر ہونٹ رکھ کر مسکراتا ہوا بیڈ سے اٹھا

“یار جلدی سے ناشتہ ریڈی کرو،، لگ رہا ہے آج آفس کے لیے لیٹ ہو جاو گا”

نمیر واش روم کا رخ کرتا ہوا بولا تو عنایہ بھی سستی بھگاتی ہوئی بیڈ اٹھی

کچن کا رخ کرنے سے پہلے اس نے وارڈروب سے نمیر کے لئے کپڑے نکالے بیڈ کور صحیح کرتی ہوئی وہ کچن میں چلی آئی۔۔ تقریباً روز ہی نمیر اس کے ہاتھ کا بنا ہوا ناشتہ کرتا تھا۔۔۔ حمیدہ کے ساتھ ٹیبل پر ناشتہ رکھوایا تو باری باری سب اپنے روم سے نکل آئے۔۔۔ نمیر گھر کیجول حلیے میں تھا شاید ناشتہ کرکے آفس کی تیاری کا ارادہ رکھتا تھا،، جبکہ نہال آفس کے لیے تیار تھا۔۔۔ ثروت نے نہال کو اپنے کمرے سے آتا دیکھا تو اسے گلے لگا کر پیار کرنے لگی۔۔۔ نہال بھی ثروت سے نارمل انداز میں اس کی طبیعت پوچھ رہا تھا

“یہ کیا تم اپنے شوہر کے لیے ایک پراٹھا بنا دیتی ہوں اگر جیٹھ کا بھی پراٹھا کھانے کا دل چاہے تو اسے کیا کرنا چاہیے پھر”

نہال عنایہ کو دیکھتا ہوا بالکل فرینک انداز میں بات کرنے لگا۔۔۔ نمیر نے نہال کو ایک نظر دیکھا پلیٹ میں اپنے لیے پراٹھا نکالنے لگا۔۔۔ اپنی چیز نہال کو آفر کرنے یا اس سے شیئر کرنے کا نمیر کا قطعی ارادہ نہیں تھا

“میں ابھی حمیدہ سے کہتی ہوں وہ بنا دیتی ہے تمہارے لئے بھی پراٹھا”

ثروت نہال کو دیکھتی ہوئی بولی

“رہنے دیں ماما،، حمیدہ کے ہاتھ کا ذائقہ اس پراٹھے جیسا تھوڑی ہوگا میں سینڈوچ سے ہی کام چلا لیتا ہوں”

نہال نے ایک نظر نمیر کو دیکھتے ہوئے کہا پھر سینڈوچ کی پلیٹ اٹھانے لگا۔۔۔ نمیر بھی اسکی بات پر کوئی رسپانس دیئے اپنا ناشتہ کرنے میں مصروف تھا

“آپ پانچ منٹ رک جائے میں آپ کے لیے بھی پراٹھا بنادیتی ہوں”

عنایہ کی آواز پر ایک پل کے لیے نمیر کا ہاتھ روکا مگر وہ پھر دوبارہ نارمل انداز میں اپنا ناشتہ کرنے لگا۔۔۔ عنایہ کو اچھا نہیں لگا نہال کا سینڈوچ کھانا۔۔۔ وہ بھی اسی گھر کا فرد تھا،،، نمیر کا بڑا بھائی اس کا جیٹھ۔۔۔ اگر وہ اس کے لئے بھی پراٹھا بنا دیتی تو اس میں کیا مذائقہ تھا۔۔ عنایہ سوچتی ہوئی اپنا ناشتہ چھوڑ کر اٹھ گئی

“پانچ منٹ نہیں میں 15 منٹ بھی ویٹ کر سکتا ہوں تم آرام سے پراٹھا بناؤ”

نہال نے مسکراتے ہوئے عنایہ کو کہا۔۔۔ وہ ہلکی سی اسمائل دے کر کچن کا رخ کرنے لگی۔۔۔ نمیر نے چائے کا سپ لیتے ہوئے نہال کو دیکھا۔۔۔ وہ کافی خوش اور فریش لگ رہا تھا۔۔ نہال شروع سے خاموش طبع تھا اور اتنا مسکرا کر کسی دوسرے سے بات بھی نہیں کیا کرتا تھا مگر اب اس کا انداز بلخصوص عنایہ سے بات کرنے کا مختلف ہوگیا تھا

“رکو عنایہ پہلے یہاں آؤ اور میری چائے گرم کر کے لاو یہ ٹھنڈی ہوچکی ہے”

نمیر کی آواز سن کر عنایہ چائے گا کپ لینے اس کے پاس آنے لگی

“اوہو تم جاو کچن میں۔۔۔ نمیر تم یہ میرا کپ لے لو میں اتنی گرم چائے نہیں پیتا”

نہال نے بولنے کے ساتھ ہی چائے سے بھرا کپ نمیر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔ تو عنایہ کچن میں جا چکی تھی

“عنایہ واپس آو اور میری چائے گرم کر کے لاؤ”

نمیر نہال کو دیکھتا ہوا تیز آواز میں بولا تو عنایہ کو کچن سے واپس آنا پڑا۔۔۔ ثروت بھی خاموشی سے نہال کی طرح نمیر کو دیکھنے لگی۔۔ نہال نے اپنا آگے بڑھا ہوا کپ واپس ٹیبل پر رکھا۔۔۔ تھوڑی دیر میں حمیدہ کچن سے چائے کا کپ لے کر آئی اور نمیر کے آگے رکھا

“عنایہ کہاں ہے”

نمیر ایک نظر اپنے چائے کے کپ کو دیکھتا ہوا حمیدہ سے پوچھنے لگا

“جی وہ نہال صاحب کے لیے پراٹھا بنا رہی ہیں”

حمیدہ نے نمیر کو جواب دیا

“یہ چائے کا کپ اٹھا کر واپس لے کر جاؤ۔۔۔ عنایہ سے کہو پہلے آکر مجھے خود آکر چائے دے کر جائے پھر پراٹھا بنائے”

نمیر حمیدہ کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ تھوڑی دیر میں چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے عنایہ کچن سے نکلی اور نمیر کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھمایا

“اگلی دفعہ کسی بھی دوسرے کام کے لیے میرا کام ڈیلے یا اگنور نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ بیوی تم ہو میری، آئندہ حمیدہ کو میرا کام کرنے کے لیے مت کہنا”

نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا عنایہ نے ایک نظر ثروت اور نہال پر ڈالی نمیر کو جی کہہ کر واپس کچن میں چلی گئی

“صبح صبح تمہارے دماغ پر گرمی چڑھ گئی،، اوپر سے اتنی گرم چائے پی کر کیا کرو گے۔۔ کیا تم اپنی چائے مجھ سے شیئر کر سکتے ہو”

نہال اس کے غصے کی پروا کیے بنا نمیر کو بولا

“تمہیں اچھی طرح میری عادت کا معلوم ہے میں اپنی استعمال کی چیزیں دوسروں سے شئیر نہیں کرتا”

نمیر نہال کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا

“واقی تم اب بھی یہی کہو گے”

نہال کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھنے لگا جیسے وہ کچھ جتانا چاہ رہا ہو

“جو کہنا ہے کھل کر کہو صاف لفظوں میں”

نمیر نہال کو دیکھ کر ایک ایک لفظ چبا کر بولا،، اسے تو کل رات کو ہی نہال کا یوں اپنے بیڈ روم میں آنا کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا

“کیوں ماما ذرا یاد دلائے اپنی لاڈلے کو، بچپن میں جب بابا اس کے اور میرے لیے کوئی کھلونا لاتے تھے اسے ہمیشہ میرا والا ہی کھلونا پسند آتا تھا اور یہ اسی کے لئے ضد کرتا تھا۔۔۔ آپ دونوں ہمیشہ مجھے سمجھاتے تھے کہ چھوٹا بھائی ہے اسے اپنا کھلونا دے دو اور میں اپنے چھوٹے بھائی کو ہمیشہ اپنی چیز، اس کی ضد دیکھ کر دے دیا کرتا تھا یاد ہے ناں ماما آپ کو” نہال ہنستا ہوا ثروت سے پوچھنے لگا نہال کی بات سن کر ثروت خاموش ہوگئی جبکہ نمیر لب بھینچ کر اپنا غصہ کنٹرول کرنے لگا۔۔۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے تو اس کا اشارہ کس طرف ہے

“بڑے تو ہمیشہ بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں نہال۔۔۔ تم میرے بہت پیارے اور صابر بیٹے ہو”

نہال کی آنکھوں میں قرب دیکھ کر ثروت اس کو سمجھانے لگی

“بڑا ہو تو اس کا یہ مطلب ہے کہ میں ہر دفعہ بڑے پن کا مظاہرہ کرو،، اللہ کسی کو بھی بڑا بھائی نہ بنائے”

نہال بولتا ہوا چائے کے گھونٹ حلق میں اتارنے لگا

“یہ لیجیے آگیا آپکا پراٹھا بھی۔۔۔۔ کیا باتیں چل رہی ہیں”

عنایہ جو کہ کچن میں موجود تھی اسے ٹیبل پر ہونے والی گرما گرمی کا علم نہیں تھا۔۔ اس لئے نہال کے آگے پراٹھے کی پلیٹ رکھنے کے بعد اپنی کرسی پر بیٹھتی ہوئی نمیر کو دیکھ کر پوچھنے لگی

“اس سے مت پوچھو میں بتاتا ہوں۔۔۔ دراصل میں تمہارے شوہر کو اس کے بچپن کے کارنامے یاد دلا رہا تھا۔۔۔۔ تمہیں میں ایک مزے کا قصہ سناتا ہوں،، تم اس وقت بہت چھوٹی ہوگی یا اس وقت تو پیدا بھی نہیں ہوئی ہوگی۔۔۔ شاید میری ساتویں سالگرہ تھی ہماری کلاس میٹ نے مجھے برتھ ڈے پریزنٹ میں ایک پرشین کیٹ گفٹ کی۔۔ جسے ہم پیار سے سویٹی کہتے تھے۔۔۔ ہمیشہ کی طرح سویٹی نمیر صاحب کو پسند آگئی”

نہال مزے سے نمیر کا ایک اور بچپن کا قصہ عنایہ کو سنانے لگا عنایہ بھی ہونٹوں پر مسکراہٹ لائے دلچسپی سے سننے لگی جبکہ نمیر نہال کو کھولتی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔ ثروت اپنی ہی کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی

“تو پھر ہوا یوں کہ نمیر کا رونا دھونا شروع ہوا کھانا پینے سے بھوک ہڑتال دیکھ کر،، بڑے بھائی ہونے کا فرض نبھاتے ہوئے میں نے اپنی سویٹی،، دل بڑا کر کے نمیر کو سونپ دی۔۔۔ نمیر دل و جان سے کسی ننھے سے بچے کی طرح سویٹی کا خیال رکھتا۔۔۔ اس کے کھانے پینے کا نہلانے دھلانے یہاں تک کہ اس کی ویکسینیشن بھی نمیر کو یاد رہتی۔۔۔۔ یہ سویٹی سے خود کھیلتا مجھے یا نوفل کو تو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتا تھا۔۔۔ شروع سے عادت ہے اسکی اپنی چیزوں سے کافی ٹچی رہتا ہے پھر ایک دن اس کو بہت تیز بخار چڑھا یہ سو رہا تھا۔۔۔ سویٹی کو بہت زور سے بھوک لگی میں نے اس کی بھوک کا احساس کر کے سویٹی کو غلطی سے دودھ دے دیا۔۔۔ اور یہ بات بعد میں اسے گھر کے نوکر سے معلوم ہوگئی۔۔۔ اس نے اپنے بخار کی پروا نہ کرتے ہوئے سویٹی کو ایک باکس میں بند کیا اور گلی کے آخر میں وہ باکس رکھ کر آگیا۔۔۔۔ کیوکہ سویٹی کو غلطی سے میں نے دودھ دے دیا تھا۔۔۔ میری ہی چیز کا اگر میں نے احساس کیا تو اسے اتنا برا لگا اس نے وہ چیز اپنے آپ سے ہی دور کردی”

نہال ہنستا ہوا عنایہ کو بتانے لگا۔۔۔ عنایہ کی مسکراہٹ نہال کی بات سن کر غائب ہوگئی۔۔۔ وہ گردن موڑ کر اپنے برابر میں بیٹھے نمیر کو دیکھنے لگی نمیر اب بھی سنجیدہ تاثرات لئے غور سے نہال کو دیکھ رہا تھا

“جب میں چھوٹا تھا نادان تھا،، چیزوں کی قدر اور احساس نہیں تھا مجھ میں۔۔۔۔ آگے کی بات نہیں بتائی تم نے عنایہ کو چلو آگے میں خود ہی بتا دیتا ہوں”

نمیر جو کافی دیر سے خاموش ہوکر نہال کی باتیں برداشت کر رہا تھا اب عنایہ کی طرف دیکھ کر اس کا ہاتھ تھامتا ہوا بولا

“سویٹی کو خود سے دور کرنے کے بعد یہ مجھے اپنی بیوقوفی کا احساس ہوا کہ اس دن غصے میں،، میں نے اپنی پیاری چیز کو خود سے دور کر کے اپنا ہی نقصان کیا۔۔۔ میں اس دن بہت پچھتایا،، بچہ تھا تو رویا بھی۔۔۔ مگر پھر اس واقعے کے بعد سے مجھے یہ سبق حاصل ہوا کہ اپنی چیزوں کی قدر کیسے کی جاتی ہے۔۔ غصے میں یا جذبات میں آکر انہیں خود سے دور کرنے کی بجائے ان کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے”

عنایہ کو بتانے کے ساتھ آخری جملہ نمیر نے نہال کو دیکھ کر کہا۔۔۔

نہال اسے اپنے دونوں ہاتھ کے انگوٹھوں سے تھمس اپ کر کے ناشتہ کرنے لگا جبکہ نمیر چینج کرنے اپنے روم میں چلا گیا۔۔۔ عنایہ ثروت کو گہری سوچ میں دیکھ کر ان دونوں بھائیوں کی باتوں کا مفہوم سمجھنے لگی۔۔۔ جب اسے خود بھی سمجھ میں نہیں آیا تو وہ بھی بیڈروم میں جانے لگی۔۔۔ تبھی نہال اس کو دیکھ کر بولا

“عنایہ ویسے مجھے تم سے بھی ایک شکوہ رہے گا”

نہال کی آنکھوں میں ایسا کچھ تھا عنایہ رک کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔ ثروت بھی اپنی سوچوں کے بھنور سے نکل کر نہال کو دیکھنے لگی

“کل تم نے سب کو اپنی برتھ ڈے کا کیک کھلایا مگر مجھے نہیں،، جبکہ میں تمہارے ویل ویشرز میں سے ہی ہو”

نہال کا شکوہ سن کر عنایہ بمشکل مسکرائی

“اپ کا کیک مجھ پر ادھار ہے”

عنایہ نہال سے کہتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی

****

عنایہ کمرے میں آئی تو نمیر آئینے کے سامنے کھڑا کالر اوپر کیے ٹائی کی نوٹ باندھ رہا تھا وہ آئینے سے عنایہ کو دیکھ کر اپنے کام میں مشغول رہا۔۔۔ عنایہ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی،،، وہ نمیر کے ہاتھ نیچے کر کے اس کے ٹائی کی نوٹ درست کرتی ہوئی کالر کو فولڈ کرنے لگی،، نمیر کے چہرے تاثرات جوکہ تھوڑی دیر پہلے تک سنجیدہ تھے۔۔۔ عنایہ کے انداز پر اسکے ہونٹوں پر نرم مسکراہٹ ابھری۔۔۔ عنایہ نے بھی اس کو اسمائل دے کر دیکھا

“میں آج شام ٹائی باندھنے کی پریکٹس کرلو گی پھر منڈے سے یہ کام میں خود انجام دیا کروں گی”

عنایہ خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ اسکالر ٹھیک کرتی ہوئی بولی، نمیر نے اسکے دونوں ہاتھ تھام کر باری باری چومے۔۔۔ عنایہ کے دونوں ہاتھ اپنے شولڈر پر رکھکر خود اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتا ہوا وہ اس کے کان میں سرگوشی کے انداز میں بولا

“مجھے منڈے کا انتظار رہے گا”

نمیر کی بات پر عنایہ مسکرا دی اور عنایہ کی مسکراہٹ دیکھ کر نمیر مسکرا دیا

“سنو آج شام اچھی سی تیار رہنا میں آج آفس سے جلدی گھر آ جاؤں گا “

نمیر کی بات پر عنایہ نے حیرت سے اس کو دیکھا

“تیار رہنا مطلب ہمیں کہیں جانا ہے”

عنایہ اس سے پوچھنے لگی تو وہ مسکرایا

“ہاں میں آج شام سے لے کر کل کا پورا دن صرف تمہارے ساتھ، تمہیں دیکھتے ہوئے گزارنا چاہتا ہوں مگر اپنے اس گھر میں نہیں”

نمیر کا ارادہ ہوٹل میں روم بک کرانے کا تھا عنایہ کے ساتھ وہ بھرپور دن گزارنا چاہتا تھا تاکہ اپنے حسین لمحات کو مزید دلکش بنائے گھر کے ٹینشن زدہ ماحول سے نکل کر وہ اپنی نئی زندگی کی شروعات کرنا چاہتا تھا

“میں شام کو آپ کا ویٹ کروں گی” عنایہ کی بات پر نمیر نے اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے

“اوکے چلتا ہوں اور میرے آفس کی جانے کے بعد اپنی نیند بھی پوری کر لینا”

نمیر شرارت بھرے انداز میں عنایہ کو بولتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔۔۔ عنایہ اس کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے شرمیلی مسکان ہونٹوں پر سجائے مسکرا دی

****

عشرت اپنے کمرے سے باہر نکلی تب اسے منال کے کمرے سے آوازیں سنائی تھی عشرت اس کے روم کا دروازہ کھول کر اندر پہنچی تو منال موبائل پر کسی سے گفتگو میں مصروف تھی عشرت کو دیکھ کر وہ کال کاٹ کر اس کی طرف بڑھی

“کیسی ہیں مما آپ میں نے آپ کو اور بابا کو بہت مس کیا”

منال عشرت کے گلے لگتی ہوئی بولی

“بس بس یہ اپنی اداکاری مجھے مت دکھاؤ،،، بےوقوف نہیں ہو میں خوب جانتی ہو میں تمہیں”

عشرت نے منال کے ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا

“کیا ماں اب آپ ساری زندگی مجھے ایسے ہی طعنے دو گی اچھا سنیے۔۔۔ ہوگیا میرا فلموں کا شوق پورا، اب آپ جیسا چاہو گی میں ویسا کرو گی۔۔۔ اچھی بیٹیوں کی طرح سچی”

منال لجاہت بھرے انداز میں عشرت کو یقین دلاتی ہوئی بولی

“سپرفلاپ اداکارہ رہی ہوگی تم انڈسٹری کی۔۔۔ کوئی ڈائریکٹر اب دوبارہ گھاس نہیں ڈالے گا تمہیں،، تو تم واپس چلی آئی۔۔۔ آئی بڑی اچھی بیٹی۔۔۔ میں نے تمہیں 9 ماہ پیٹ میں رکھا ہے تمہاری رگ رگ سے اچھی طرح واقف ہوں۔۔۔ جاؤ جاکر اپنے باپ کے سامنے اداکاری کرو دو تین آنسو بہاؤ جھوٹی معافی مانگو شاید ان کا دل نرم پڑ جائے اور وہ تمہیں معاف کردیں”

عشرت جلی کٹی سناتی ہوئے منال کے کمرے سے نکل گئی، وہ بھی منال کی ماں تھی اس کی فطرت سے اچھی طرح باخبر۔۔۔ وہ منال کے بارے میں ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہہ رہی تھی

ٹینا کا باپ اسے اپنی فلم میں لے کر واقعی پچھتا رہا تھا اور منال کا کچھ کر دکھانے کا بھوت بھی اتر چکا تھا وہ کمرے سے نکل کر فرمان کے پاس جانے لگی عشرت تو اس کی باتوں میں نہیں آ سکی مگر فرمان کو منالے گی منال کو یقین تھا