Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 42)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 42)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
عنایہ کی آنکھ کھلی تو اس کی پشت نمیر کے سینے سے لگی ہوئی،، جبکہ نمیر کا ہاتھ اسکے گرد لپٹا ہوا تھا نمیر خود سکون کی نیند سو رہا تھا۔۔۔ ساری رات بارش کے بعد ایک حسین صبح ان دونوں کی منتظر تھی۔۔۔ عنایہ نے دیوار پر ٹنگی گھڑی میں ٹائم دیکھا تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی،، صبح کے دس بج رہے تھے اور وہ دونوں ہی ابھی تک سوئے ہوئے تھے
اس نے کمفرٹر ہٹانے کے بعد نمیر کا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹا کر اٹھنا چاہا۔ ۔۔ تو نمیر نے اس کے اوپر اپنی ٹانگ بھی رکھ دی۔۔۔ وہ کل رات کی طرح اس وقت بھی مکمل نمیر کے حصار میں تھی۔۔۔ عنایہ نے ایک بار پھر خود کو اس کے حصار سے نکالنا چاہا مگر نمیر کی گرفت اتنی کمزور ہرگز نہیں تھی۔۔۔ وہ شاید کل رات کی طرح نیند میں بھی اسے اپنی پناہوں میں رکھنا چاہتا تھا
“اوفو کیا مسئلہ ہے خاموشی سے لیٹی رہو”
اب کی بار مزاہمت پر نمیر نیند میں ڈوبی آواز میں اسے ڈپٹتے ہوئے بولا
“آپ جاگ رہے ہیں نمیر،، ذرا ٹائم دیکھے کیا ہوگیا ہے”
کیوکہ عنایہ کے پشت اس کی طرف تھی اس لئے عنایہ کو خبر ہی نہیں ہوئی کہ نمیر کب جاگا۔۔ نمیر تھوڑا سا سر اٹھا کر دیوار پر گھڑی میں ٹائم دیکھنے لگا
“یار دس بج گئے صبح کے،، آفس کے لیے تو لیٹ ہوگیا میں۔۔۔ تم نے بھی کل ساری رات جگائے رکھا ہے مجھے”
نمیر ٹائم دیکھنے کے بعد عنایہ کے اوپر سے اپنا ہاتھ اور پاؤں ہٹاتا ہوا بولا۔۔۔۔ تو عنایہ نے کروٹ لے کر حیرت سے اسے دیکھا
“میں نے آپ کو جگائے رکھا،،، نمیر کل ساری رات آپ نے مجھے سونے نہیں دیا”
اپنے اوپر لگے الزام پر تڑپ کر عنایہ اس کو دیکھ کر بولی مگر نمیر کی اپنی طرف اٹھتی نظریں اور اپنی بات کا مفہوم سمجھ کر وہ خود نظریں جھکا گئی
“پہل تم نے کی،، ہوش کل رات کو تو نے میرے اڑائے۔۔۔ پھر میں بھلا کیسے تمہیں سونے دیتا”
چہرے پر آئے عنایہ کے بالوں کو وہ پیچھے کرتا ہوا بہت گہری نظروں سے عنایہ کو دیکھ کر بولا۔۔۔ عنایہ کا جھکا ہوا سر شرم سے مزید جھک گیا۔۔۔ نمیر کی نظریں اپنے اوپر محسوس کر کے وہ بیڈ سے اٹھنے لگی تبھی نمیر نے اس کا ہاتھ پکڑا
“کہاں جا رہی ہو ابھی یہی لیٹی رہو نہ تھوڑی دیر۔۔۔ آفس سے لیٹ تو ہوچکا ہو ویسے بھی”
وہ عنایہ کے شرمائے ہوئے روپ کو دیکھتا ہوا کہنے لگا۔۔۔ وہ نمیر سے نظریں نہیں ملا پارہی تھی
“اتنی دیر تک بیڈ روم کا دروازہ بند رہے گا تو باہر سب لوگ کیا سوچے گے”
عنایہ سر جھکائے نمیر سے بولی
“باہر سب لوگ کیا سوچیں گے یہ تمہیں سوچنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ ویسے بھی میں سوچ رہا ہوں اتنے رومنٹک موسم میں آفس جانے کی بجائے اپنی بیوی کے ساتھ اس موسم کو انجوائے کرنا چاہیے”
نمیر عنایہ کو بانہوں میں لیتا ہوا بولا
“جی نہیں آپ شرافت سے آفس جا رہے ہیں اور میں کچن میں۔۔۔ ویسے بھی آپکے آفس جانے کے بعد مجھے اپنی نیند پوری کرنی ہے”
نمیر کا پلان سن کر،، عنایہ ایک دم پیچھے ہوئی۔۔۔ رومانٹک موسم کو انجوائے کرنے کا مطلب۔۔۔ نمیر کا یقیناً کل رات والے موڈ میں واپس آنا تھا۔۔ جس کے لیے عنایہ فوری طور پر بالکل تیار نہیں تھی اپنے آخری جملے پر عنایہ کی نظریں مزید جھک گئی
“ٹھیک ہے اگر تم اپنی نیند ابھی پوری کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں تو پھر میں آج رات کو بھی کوئی ایکسکیوز نہیں سنو گا”
وہ عنایہ کا گال لبوں سے چھوتا ہوا بیڈ سے اٹھ کر واش روم چلا گیا کیوکہ آج وہ افس کا آف نہیں کرسکتا تھا۔۔ عنایہ اپنے بالوں کا جوڑا بناتی ہوئی نمیر کی بات پر اپنے ہی اندر سمٹنے لگی اب اسے آفس کا ڈریس نکالنے کے بعد نمیر کے لیے ناشتہ بنانا تھا
****
ناشتے کی ٹیبل پر نہال آیا تو نمیر اور عنایہ پہلے سے ہی وہاں پر موجود تھے
کل رات برستی ہوئی بارش نے اسے ساری رات بے چین رکھا اپنے کمرے میں اسے گھٹن کا احساس ہوا تو وہ ہال میں نکل کر آیا۔۔۔ بھٹک بھٹک کر اس کی نگاہیں نمیر کے کمرے کے بند دروازے پر جا رہی تھی۔۔۔ وہ تو یہ سمجھ رہا تھا عنایہ کا پینڈینٹ اسکے بیڈ پر دیکھنے کے بعد نمیر غصے میں بے قابو ہو جائے گا۔۔۔ وہ عنایہ سے سوالات پوچھے گا اور عنایہ کا دل اس سے برا ہوگا۔۔۔ پھر وہ عنایہ پر اور بگڑتی ہوئی سچویشن پر آسانی سے قابو پا لے گا
مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔۔۔ اور اب تو تیز بارش بھی برس رہی تھی۔۔۔۔ وہ منتظر تھا بارش سے عنایہ کے ڈرنے اور رونے کی آوازوں کا۔۔۔ مگر وہاں تو گہرا سکوت چھایا ہوا تھا۔۔۔ نمیر عنایہ کے پاس موجود تھا۔۔۔ تو کیا وہ اس پر غصہ نہیں کر رہا تھا۔۔۔ وہ اس کا ڈر پیار سے ختم کر رہا تھا۔۔۔ یہ سب سوچ کر نہال نے نمیر کا نمبر ملایا۔۔۔ مگر دو بیلز کے بعد اس کی کال کاٹ دی گئی اور موبائل بند کردیا گیا۔۔۔ نہال کے دماغ میں آنے والی سوچیں اسے جھلسائے دے رہی تھی۔۔۔ اور فرحین بار بار اس کے سامنے آ کر قہقہے لگا کر اس کا مذاق اڑا رہی تھی۔۔۔ جب تک بارش جاری رہی نہال ساری رات ان دیکھی آگ میں جلتا رہا اس وجہ سے صبح اس کی آنکھ دیر سے کھلی
“آج تم دونوں بھی ناشتے کے لیے لیٹ ہوگئے”
نہال چیئر پر بیٹھ کر اپنے آپ کو فریش ظاہر کرتا ہوا ان دونوں سے مخاطب ہوا
“ہاں کل رات کو کافی لیٹ سونا ہوا ہم دونوں کا”
نمیر نے نہال کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔۔ نمیر کے جواب پر نہال نے چائے کا کیٹل کا ہینڈل کو مضبوطی سے تھاما اور اپنے لئے چائے نکالنے لگا جبکہ عنایہ نمیر کی بات سن کر اپنا سر پلیٹ میں جھکا گئی
“ماما نہیں آئی ناشتے کے لیے طبیعت ٹھیک ہے ان کی”
وہ اپنے آپ کو نارمل پوز کرتا ہوا عنایہ کی طرف دیکھتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ مگر عنایہ کے گلے میں پیندینٹ دیکھ کر ایک پل کے لئے ٹھٹھکا
“ہاں ماما کہہ رہی تھی تھوڑی دیر بعد ناشتہ کریں گی۔۔۔ عنایہ ان کو ناشتہ کرا دے گی،،، تم فکر نہیں کرو”
ابھی بھی جواب عنایہ کی بجائے نمیر کی طرف سے ہی آیا اب نمیر بھی عنایہ کو دیکھنے لگا
“عنایہ اپنی ڈائٹ پر دھیان دیا کرو۔۔۔ میں نوٹ کرتا ہوں تم کسی دوسرے کے سامنے ٹھیک سے کھانا نہیں کھاتی۔۔۔ ریلیکس ہو کر ناشتہ کرو جیسے پہلے کر رہی تھی”
نمیر عنایہ کا ٹیبل پر رکھا ہوا ہاتھ تھام کر اسے دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ نہال کا عنایہ کا پینڈینٹ دیکھنا نمیر نوٹ کر چکا تھا۔۔۔ اسے ذرا شرم نہیں آئی کہ اس حرکت سے اگر نمیر غصہ ہوتا اور ثروت کی طبیعت بگڑتی تو نقصان ان دونوں بھائیوں کا ہوتا۔۔۔ آگر نہال عنایہ اور اس میں پھوٹ ڈلوا کر خود اسکی جگہ لینا چاہتا تھا۔۔۔ تو یہ نہال کی خام خیالی تھی۔۔۔ نمیر نے بھی تہیا کرلیا کہ وہ ایسا کبھی نہیں ہونے دے گا
“تم اس کے ساتھ بچوں جیسا بی ہیو کر رہے ہو عنایہ بچی نہیں ہے۔۔۔۔ اگر اسے بھوک لگے گی تو وہ ٹھیک سے کھانا کھائے گی۔۔ کوئی بھی انسان بلاوجہ بھوکا نہیں رہ سکتا”
نہال خود بھی ناشتہ کرتے ہوئے نمیر سے بولا
“وہ بچی نہیں ہے مگر میری بیوی ہے۔۔۔ اس کا ہر طریقے سے مجھے ہی دھیان رکھنا ہے۔ ۔۔ ہسبینڈ اور وائف کا رشتہ ایسا ہی ہونا چاہیے جس میں وہ ایک دوسرے کی فکر کریں خیال رکھیں اور ایک دوسرے پر اعتماد کریں تاکہ کوئی دوسرا شخص ان کے بیچ میں بدگمانی نہیں پیدا کر سکے” نمیر کی بات سن کر نہال نے سر اٹھا کر نمیر کو دیکھا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا بلکہ آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ جتا رہا تھا۔۔۔ نہال سمجھ گیا اس کا اشارہ کس طرف ہے وہ یقیناً عنایہ کے پینڈینٹ کو دیکھ کر یہ سب کہہ رہا تھا عنایہ کا ہاتھ اس نے ابھی بھی تھاما ہوا تھا نہال کو یہ منظر تکلیف دینے لگا
“آج واپسی پر آفس سے آتے ہوئے میں تمہارے لئے فارم لے کر آؤ گا یونیورسٹی میں ایڈمشن اسٹارٹ ہوگئے ہیں بہت عیش ہوگئی تمہاری،،، اب دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ اپنی اسٹڈی بھی کنٹینیو کرو”
نمیر اب دوبارہ عنایہ کو دیکھتا وہ بالکل نورمل انداز میں بات کرنے لگا جس پر عنایہ نے سر اٹھا کر نمیر کو دیکھا
“نمیر میں ایک سال گیپ لینا چاہتی ہو اس کے بعد کنٹینو کرو گی اپنی اسٹڈی”
پورے عرصے میں عنایہ اب نمیر کو دیکھتی ہوئی بولی
“کوئی ضرورت نہیں ہے گیپ کی۔۔ گیپ کے بعد اسٹڈی کنٹینیو کرنا مشکل لگے گا۔۔ ویسے بھی نیکسٹ آئیر ہم اپنا بےبی پلان کریں گے”
نمیر کے آخری جملے پر جہاں عنایہ نے سٹپٹا کر دوبارہ اپنا سر پلیٹ میں جھکا لیا وہی نہال ایک دم کرسی کسکا کر اٹھا اور گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔ نہال کے جانے کے بعد اب عنایہ بلش کرتی ہوئی نمیر کر دیکھ رہی تھی وہ بھی آنکھوں میں شرارت لیے ناشتہ چھوڑ کر عنایہ کو دیکھنے لگا
“کسی دوسرے کے سامنے خیال تو کر لیا کریں، ایسے بولتا ہے کوئی”
عنایہ کے انداز پر نمیر کو زور سے ہنسی آئی
“وہ بچہ تھوڑی ہے کوئی،، اسے اچھی طرح پتہ ہے کہ ہم ہسبنڈ وائف ہیں” نمیر نے بولتے ہوئے عنایہ کے آگے اپنا چائے کا مگ رکھا تو عنایہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
“اب تم سے کہوں گا شوگر جار لے کر آو تو تم مجھے گھور کر دیکھوں گی۔۔۔ اس لیے میری چائے میں سے دو سپ لے لو تاکہ چائے میں مٹھاس محسوس ہو اور میرا سارا دن آفس میں اچھا گزرے”
نمیر کی بات سن کر عنایہ کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی۔۔۔ وہ واقعی اپنی چائے کا مگ کسی کو نہیں دیتا تھا۔۔۔ مگر وہ تو اس کی اپنی تھی
“چلو تم اب مجھے اچھے طریقے سے بائے بولو تاکہ میں آفس جا سکوں” ناشتے سے جب وہ دونوں فارغ ہوئے تو نمیر نے عنایہ کے ہونٹوں کو دیکھ کر ایک نئی فرمائش کی جس پر عنایہ جھینپ گئی
“کیا ہوگیا ہے نمیر آپ کو،، آپ پہلے ہی اچھا خاصا لیٹ ہو چکے ہیں”
عنایہ اسے آنکھیں دکھاتی ہوئی بولی جو اسے شوخ نظروں سے دیکھا جا رہا تھا
“جب تک تو مجھے بائے نہیں بولو گی میں آفس جانے والا نہیں”
نمیر نے اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کیے اور اسے اپنے قریب کرتے ہوئے کہا۔۔۔ ویسے ہی کچن سے حمیدہ گنگناتی ہوئی باہر آئی۔۔ نمیر جلدی سے پیچھے ہوا اور عنایہ مسکرانے لگی
“تھینکس حمیدہ بائے بائے نمیر۔۔۔ اب آپ آفس جائیں”
عنایہ حمیدہ کو اور پھر نمیر کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔ حمیدہ ہونقوں کی طرح جبکہ نمیر عنایہ کو ابرو اچکا کر دیکھنے لگا
“حمیدہ کچن میں جو واپس اور پانچ منٹ سے پہلے تمہیں کچن سے نکلتا ہوا نہیں دیکھو”
نمیر حمیدہ کو باروعب لہجے میں بولا وہ سر ہلاتی ہوئی فوراً کچن میں چلی گئی۔۔۔ آب نمیر انگلی کے اشارے سے عنایہ کو اپنے قریب بلانے لگا
“آپ واقعی بہت گندے بچے ہیں نمیر”
عنایہ منہ ہی منہ میں منمناتی ہوئی نمیر کے قریب آئی تو اس نے دوبارہ عنایہ کی کمر میں بازو ڈالے۔۔۔ عنایہ جیسے ہی اپنے ہونٹ نمیر کے گال کے قریب لائی مگر نمیر اس کے ہونٹوں پر اپنا ہونٹ رکھ چکا تھا
“صاحب جی آجاو پانچ منٹ ہوگئے ہیں”
حمیدہ کی آواز کچن سے آئی تو نمیر عنایہ سے دور ہوا۔۔۔ وہ عنایہ کے چہرے پر بکھرے شرم کے رنگ دیکھکر اسمائل دیتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا
“حمیدہ باہر آجاو نمیر یہاں پر نہیں ہے وہ تو کب کے چلے گئے”
عنایہ حمیدہ کو بولتی ہوئی ٹیبل پر سر جھکا کر چائے کے مگ اٹھانے لگی
“تو نمیر صاحب نے آپ سے ضروری بات نہیں کی جس کے لئے انہوں نے مجھے کچن میں بھیجا تھا”
حمیدہ کی بات سن کر عنایہ نے سر اٹھا کر حمیدہ کو دیکھا مگر وہ اس کے تاثرات سے اندازہ نہیں لگا پائی کہ یہ بات حمیدہ نے کس انداز میں عنایہ سے بولی ہے
“چلو آنٹی سے پوچھ کر آؤ وہ ناشتہ کریں گی تو ان کے لیے کارن فلیکس بنا دو”
عنایہ حمیدہ کو بولتی ہوئی کچن میں چلی گئی جبکہ حمیدہ مسکراتی ہوئی اپنی شرمیلی سی چھوٹی بی بی کو دیکھ کر ثروت کے کمرے میں چلی گئی
****
“کتنا شیشے میں اتارا ہے تم نے اب تک نمیر کو۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ تمہاری ایکٹنگ کچھ کر پائے گی”
نہال آفس میں بیٹھا ہوا موبائل پر منال سے بولا آج صبح ناشتے کی ٹیبل پر اسے عنایہ اور نمیر کا رشتہ پہلے سے زیادہ مضبوط لگا۔۔۔ نمیر کی محبت بھری نظروں سے عنایہ کو دیکھنا، اس کی فکر کرنا، اس کا ہاتھ پکڑنا اور سب سے بڑی بات عنایہ کے گلے میں نمیر کا دیا ہوا پینڈینٹ،،، یہ سب نہال کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا
“کیا تم اپنے بھائی کو جانتے نہیں ہو۔۔۔ وہ اتنی آسانی سے ہاتھ آنے والی چیز ہرگز نہیں ہے،، مگر پھر بھی میں نمیر کی زندگی سے عنایہ کو الگ کر دوں گی کیوکہ تم مجھے بھی نہیں جانتے ہو”
منال اس وقت ایئرپورٹ پر موجود تھی اس کی واپسی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہوئی تھی
“جو بھی قدم اٹھانا ہوگا جلدی اٹھانا ہوگا۔۔۔۔ بہت زیادہ دیر ہوگئی تو ہم دونوں کے ہاتھ کچھ نہیں آنے والا”
نہال منال کو سمجھانے لگا
“تو پھر تم ایسا کرو عنایہ کا کڈنیب کروا لو۔۔۔ تین چار دن تک جب لڑکی کا کچھ اتا پتہ نہیں ہوگا تو اس کو اسکا شوہر تو کیا یہ معاشرہ بھی قبول نہیں کرتے گا”
منال نے نہال کو آسان سا حل بتاتے ہوئے ٹیکسی کو ہاتھ دے کر روکا اور ٹیکسی میں بیٹھ گئی
“بوکس آئیڈیا۔۔۔مجھے اسے حاصل کرنا ہے، اپنے آپ سے بدگمان نہیں”
نہال کو لگا اس دو پیسے کی اداکارہ سے کچھ بھی نہیں ہو پائے گا
“تو ٹھیک ہے اگر اسے خود سے بدگمان نہیں کر سکتے تو پھر اسے نمیر سے بدگمان کردو۔۔۔ یہ بھی چھوڑو یہ کام آج میں ہی کردیتی ہو”
منال نے نہال کو بولنے کے ساتھ کال کاٹی۔۔۔ اب وہ اپنے گھر جانے کی بجائے عنایہ سے ملنے کا ارادہ رکھتی ہے
***
ثروت کو ناشتہ کروا کے حمیدہ سے گھر کا کام کروانے کے بعد عنایہ اپنے بیڈروم میں سونے کے غرض سے جانے لگی۔۔۔ تبھی اسے گھر کے اندر منال آتی ہوئی دکھائی دی اسکے پاس چھوٹے سائز کا سوٹکیس کے علاوہ نمیر کی جیکٹ بھی تھی شاید تو اسلام آباد سے سیدھا یہی واپس آئی تھی
“کہاں ہے نمیر”
منال عنایہ کو دیکھتی ہوئی ایسے پوچھنے لگی جیسے بات کر کے وہ گویا اسی پر احسان کر رہی ہو
“نمیر تو اس ٹائم آفس میں موجود ہوتے ہیں”
عنایہ منال کے ہاتھ میں نمیر کی جیکٹ کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی
“وہ آئے تو اسے یہ جیکٹ دے دینا میرے روم میں بھول گیا تھا”
منال نے جیکٹ کو عنایہ کی طرف اچھالتے ہوئے کہا۔۔۔ عنایہ اگر جیکٹ نہیں پکڑتی تو اس کے منہ پر لگتی
“کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا”
عنایہ کو منال کی بات ناگوار گزری تبھی وہ ایک دم بولی
“اب تک تو تمہارے مطلب سمجھ میں آجانے چاہیے کنواری کہاں ہو تم،، تین ماہ ہو جائیں گے تمہیں شادی کو۔۔ اب تک نمیر کی نیچر کا اندازہ نہیں ہوا کتنا رومینٹک ہے وہ۔۔۔ یوں سردیوں کی راتیں میرڈ آدمی تنہا کہاں گزار سکتا ہے۔۔۔ اس لئے وہ میرے روم میں کمپنی لینے کے لئے آ گیا تھا”
منال عنایہ کے قریب آتی ہوئی بولی عنایہ نمیر کی جیکٹ پکڑے منال کو دیکھنے لگی
“ہم نے پرانے دنوں کی یادیں تازہ کر کے بہت انجوائے کیا۔۔۔ نمیر مجھ سے کہہ رہا تھا کبھی کبھی ٹیسٹ چینج کرنے میں کوئی برائی بھی نہیں ہے” منال عنایہ کو دیکھ کر مسکراتی ہوئے بتانے لگی عنایہ ناگوار نظروں سے منال کو دیکھنے لگی
“معلوم ہے اس وقت نمیر کس کرتے ہوئے بہت اچھا لگتا ہے جب وہ۔۔۔
منال جیسے ہی عنایہ سے سرگوشی کے انداز میں بولی تب عنایہ بول پڑی
“پلیز آپی چپ ہو جائے۔۔۔ مت اتنا گرائے اپنے آپکو کو میری نظروں میں”
عنایہ کو رونا آنے لگا مگر وہ ضبط کرتی ہوئی بولی
“ارے جانو اب رونا مت،، ہم دونوں کزنز تو ہیں۔۔۔ اگر مل بانٹ کر کچھ یوز کرلیں گے تو اس میں ہرج کیا ہے”
منال عنایہ کو دیکھ کر آنکھ مارتی ہوئی بولی
“اس وقت آنٹی آرام کر رہی ہیں اور میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ آپ یہاں سے چلی جائے پلیز”
منال عنایہ کو بولتی ہوئی اپنے بیڈروم میں چلی گئی
****
اپنے بیڈ روم میں آکر عنایہ نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی جیکٹ پر نظر ڈالی۔۔۔ جس میں سے لیڈیز پرفیوم کی خوشبو آ رہی تھی۔۔۔ جیکٹ کے کالر پر لپ اسٹک کے نشان پر عنایہ کی نظر گئی اس نے جیکٹ کو اچھال کر دور پھینکا
کل رات ہی اس کے اور نمیر کے بیچ ایک جائز رشتہ قائم ہوا تھا اور آج صبح ہی۔۔۔
“میاں بیوی کے رشتے میں صرف محبت کا ہونا ضروری نہیں۔۔۔۔ بلکہ ایک دوسرے کے مکمل اعتماد سے یہ رشتہ مضبوط رہتا ہے”
عنایہ کو نمیر کی کل رات والی بات یاد آئی۔۔۔۔ وہ منال کی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہتی تھی مگر کوئی لڑکی اتنی بڑی بات اپنے بارے میں کیسے کہہ سکتی ہے۔۔۔ مگر نمیر،، عنایہ کا دل نہیں مان رہا تھا کہ نمیر اس کے ساتھ ایسا کر سکتا ہے۔۔۔ پھر یہ نمیر کی جیکٹ،، یہ جیکٹ کیا کر رہی تھی منال کے پاس۔۔۔ یہ سب سوچیں عنایہ کو الجھانے لگی۔۔۔ وہ بیڈ پر آکر لیٹی،، نیند تو اب اسے کیا ہی آنی تھی یہ سب سوچ کر اس کا سر مزید بھاری ہونے لگا
****
“اقبال ذرا یہاں آ کر یہ دروازہ کھولو شاید بند رہنے کی وجہ سے یہ جام ہو چکا ہے”
شانزے اقبال (ملازم) کو آواز دیتی ہوئی بولی
کل رات فریدہ نے نوفل اور اسے اپنے اور خرم کے پاکستان آنے کی خبر سنائی۔۔۔ نوفل بہت خوش تھا۔۔۔ وہ صبح ناشتے پر ہی شانزے کو خرم اور فریدہ کے بیڈ رومز کی صفائی کروانے کی ہدایت دے گیا تھا۔۔۔ ان لوگوں کی شام کی فلائٹ تھی۔۔۔ نوفل واپسی پر فریدہ اور خرم کو لیتا ہوا گھر آتا
نوفل کے نکلنے کے بعد شانزے نے فرید اور خرم کے رومز کی صفائی کروائی ساتھ ہی دوسرے رومز کی بھی صفائی کر کے سیٹنگ چینج کی اور سارا فالتو کا سامان اور ایک پینٹنگ جو کہ اس کے بیڈروم میں ٹنگی رہتی تھی وہ اٹھا کر اسٹوروم میں رکھنے لگی مگر اسٹوروم کا دروازہ اس سے کھل نہیں رہا تھا
“لائیے باجی یہ سب سامان اسٹور میں، میں رکھ دیتا ہوں اندر کافی گرد مٹی ہوگی”
اقبال شانزے کو دیکھتا ہوا کہنے لگا وہ اسٹور کا دروازہ کھلنے پر ناک پر اپنا دوپٹہ رکھے کھڑی تھی
“اف یہاں پر تو کافی کاٹھ کباڑ جمع ہے،، اسٹور ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اسے صاف ہی نہیں رکھا جائے جاو ایک بڑا شاپر لے کر آؤ یہ ساری فالتو کی چیزیں نکال کر گھر سے دور کرو”
شانزے اسٹور میں جاتے ہوئے اقبال سے بولی اب وہ اسٹور میں جاکر ٹوٹے بکھرے سامان کا جائزہ لینے لگی جبکہ اقبال سارا کاٹھ کباڑ ایک طرف جمع کر رہا تھا
“اس ٹرنگ میں کیا موجود ہے”
ایک بڑے سے ٹرنک کو دیکھتے ہوئے شانزے اقبال سے پوچھنے لگی
“اس میں تو نوفل بھائی کے پرانے کپڑے۔۔۔ بستر وغیرہ موجود ہیں”
اقبال سارا ٹوٹا ہوا سامان شاپر میں ڈالتا ہوا شانزے کو بتانے لگا
شانزے نے ٹرنک کھولا تو ایک بدبو کا بھپکا اس کی ناک سے ٹکرایا۔۔۔ وہ دوبارہ اپنا دوپٹہ منہ پر رکھ کر کھانسنے لگی
“تمہارے نوفل بھائی کو تو کباڑی کی دکان کھول لینی چاہیے بلاوجہ میں ایس۔پی بن گئے ہیں”
شانزے اقبال سے بولتی ہوئی ٹرنج سے پرانے کپڑے اور بیڈ شیٹ نکال کر ایک جگہ جمع کرنے لگی تبھی اس کی نظر ایک شرٹ پر پڑی جو تھوڑی دیر پہلے وہ باہر نکال چکی تھی۔۔۔ ایک گوندھا سا اس کے ذہن میں لپکا بے ساختہ اس نے شرٹ کو اٹھا کر دیکھا
حیرت سے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی خوف کے مارے ننھی پسینے اسکے ماتھے پر نمودار ہوئی
“یہ شرٹ کس کی ہے اقبال”
وہ اقبال کو دیکھے بغیر، شرٹ کو گھورتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی جس کی فرنٹ کی پاکٹ غائب تھی
“باجی یہ تو نوفل بھائی کی شرٹ ہے شاید خرم بھائی نے دی تھی انہیں،، صحیح سے یاد نہیں”
اقبال شانزے کو بتانے لگا شانزے کو لگا اسے سانس نہیں آئیں گی یا پھر اس کا دل بند ہو جائے گا وہ شرٹ ہاتھ میں لیے بھاگتی ہوئی نائلہ کے کمرے میں آگئی
الماری کھول کر چھوٹا سا پیکٹ نکالنے لگی جس میں “این” الفابیڈ کی پاکٹ موجود تھی
اس شرٹ کو کانپتے ہوئے ہاتھوں سے بیڈ پر بچھا کر شانزے نے لرزتے ہاتھوں سے وہ پاکٹ شرٹ پر رکھنے لگی۔۔۔ وہ دل میں کتنی دعائیں کرچکی تھی یہ پاکٹ اس شرٹ کی نہ ہو مگر چھ سال گزرنے سے صرف شرٹ کا کلر بدرنگ ہوا تھا وہ پاکٹ اسی شرٹ کی تھی
“نوفل”
