Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 10)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
ثروت نے نہال کی بات پر عمل کرتے ہوئے فرمان سے مشورہ کرکے اگلے ماہ کی 8 تاریخ کو نہال اور عنایہ کی شادی کی ڈیٹ فکس کردی جس کے سسب دونوں فیملیز میں شادی کی تیاریاں عمل میں آگئی۔۔۔ نمیر ایک گھنٹہ پہلے آفس سے گھر آیا تھا اس وقت ثروت اور نہال عنایہ کو لے کر شاپنگ کے سلسلے میں باہر نکلے ہوئے تھے نمیر صوفے پر نیم دراز ہاتھ میں ریموٹ پکڑے ٹی وی کے چینل چینج کر رہا تھا تبھی اس کو جھٹکا لگا وہ اٹھ بیٹھا اور اس نے دو چئینل پیچھے کیے اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی رہ گئی ہے یہ کوئی موڈلنگ شو تھا۔۔۔ جس میں ریمپ پر کیٹ واک کرتی ہوئی لڑکی کوئی اور نہیں منال تھی نمیر نے کافی دیر تک بے یقینی سے اسکرین پر نظر جمائے رکھی منال کی ڈریسنگ دیکھ کر نمیر کا چہرہ ضبط کے مارے سرخ ہونے لگا وہ اپنا موبائل اٹھا کر منال کا نمبر ڈائل کرنے لگا مگر اس کا نمبر بزی جا رہا تھا دو سے تین بار ٹرائے کرنے کے بعد نمیر غصے میں کار کی کیز اٹھا کر عشرت کی طرف چلا گیا
****
“اچھا ہوگیا نمیر تم آگئے میں تمہیں ہی کال ملانے والی تھی”
منال نمیر کو اپنے کمرے میں آتا دیکھ کر بولی
“کیا کرتی پھر رہی ہو منال تم”
نمیر اس کی بات سنی ان سنی کرتا ہوا غصے میں بولا
“ایسا کیا کر دیا ہے میں نے،، یہ تم بات کس طرح کر رہے ہو”
منال کو نمیر کا لہجہ پسند نہیں آیا وہ سیریس ہو کر پوچھنے لگی
“نادان ہی ہو تم تمہیں میری بات اچھی طرح سمجھ میں آ رہی ہے تم نے ماڈلنگ کی،، اسکرین پر آئی کس کی پرمیشن سے”
نمیر کو اس کا انداز مزید بھڑکا گیا وہ تیز آواز میں بولا
“ایکسکیوز می میں چاہے موڈلنگ کرو یا اسکرین پر آؤ مجھے نہیں لگتا کہ اس بات کے لئے مجھے تمہاری پرمیشن کی ضرورت ہے”
منال اس کے روبرو کھڑی ہوکر اپنے دونوں ہاتھ باندھ کر نمیر کو دیکھ کر بولی ایک لمحے کیلئے نمیر خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگا
“تمہیں واقعی اس وقت میری پرمیشن کی ضرورت نہیں ہے مگر آگے جاکر تمہیں میرے ساتھ اپنی پوری زندگی گزارنی ہوگی اور میں ہرگز پسند نہیں کروں گا منال کر تم ڈھیر سارے لوگوں کے مجموعے کے بیچ ریمپ پر اپنی نمائش کرتی ہوئی نظر آؤں اس لیے آئندہ کیلئے احتیاط کرنا”
نمیر اپنے غصے کو بہت مشکل سے کنٹرول کر رہا تھا جوکہ اس وقت اسے منال پر آ رہا تھا
“نمیر پلیز اس طرح کی باتیں کر کے تم اپنی کنزرویٹو سوچ مجھ پر شو مت کرو،، تم ایک پڑھے لکھے میچور انسان ہو اور ماڈلنگ کرنا کوئی ایسی بڑی بات نہیں جس کے لئے تم یوں اوور ری ایکٹ کر رہے ہو بلکہ تمہیں تو چاہیے تم مما پاپا کے سامنے اپنے گھر والوں کے سامنے میرا ساتھ کرو تاکہ آئندہ کے لئے ایٹلسٹ مما پاپا تو مجھ پر کوئی روک ٹوک نہ کرسکیں”
منال اب سیریس ہوکر اس کو سمجھانے لگی مگر منال کی بات سن کر نمیر کا ماتھا ٹھنکا
“آئندہ کیلئے سے کیا مراد ہے تمہاری”
نمیر نا سمجھنے والے انداز میں منال کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“نمیر مجھے فلم کی آفر ہے اور یہ میرے لئے ایک گولڈن اپرچونٹی سے کم نہیں ہے میں اس کو ہر صورت آویل کرنا چاہتی ہوں اور اس کام کے لیے تم میرے پیرنٹس کے ساتھ ساتھ اپنی فیملی کو بھی کو ایگری کرو گے پلیز اسے میری خواہش سمجھ لو”
منال کی بات سن کر نمیر ایک بار پھر خاموشی ہو کر اسے دیکھنے لگا
“منال میری ایک بات دھیان سے سنو میں بےشک ایک پڑھا لکھا انسان ہوں مگر میرے خیالات اور نظریات اتنے ماڈرن ہرگز نہیں ہیں کہ میری ہونے والی بیوی فلموں میں کسی غیر مردوں کے ساتھ کام کرتی ہوئی نظر آئے اور میں اس کی ایکٹنگ دیکھ کر واہ واہ کرتا ہوا تالیاں پیٹو۔۔۔ اگر تم میری اس سوچ کو دقیانوسی سوچ سمجھتی ہوں تو پھر ٹھیک ہے میں دقیانوسی مرد ہوئی،،، اگر تم اپنے گولڈن چانس کو نہیں چھوڑ سکتی تو بے شک تم مجھے چھوڑ دو”
نمیر کو لگا وہ منال کے لیے اتنی اہمیت ضرور رکھتا ہے کہ منال اس کی خواہش کا احترام کریں
“نمیر تم واقعی ایک عام سے مرد ہو جسے بس بیوی کے نام پر ایک چوبیس گھنٹے کی ملازمہ چاہیے جو اس کے بچے پیدا کرے اور ان کی پرورش کرے اور اس کے گھر کی دیکھ بھال کرے لیکن میری زندگی کا مقصد صرف شادی کرنا یا بچے پیدا کرنا نہیں ہے یار،، تم سمجھ کیوں نہیں رہے ہو آخر میری بات کو،، میں یہ موقع اپنے ہاتھ سے ہرگز نہیں گنوانا چاہتی”
منال غصے میں اس کو سنجھانے لگی
“اگر تم شادی کے بعد کہیں اور جاب کرنے کے خواہشمند ہوتی تو میں تمہیں کبھی بھی منع نہیں کرتا۔۔۔۔ چلو آج تمہاری باتوں سے یہ تو ثابت ہوا کہ تمہاری نظر میں مجھ سے یا میرے ریلیشن سے زیادہ اپنے مقاصد ویلیو رکھتے ہیں مبارک ہو تمہیں اپنے نیا مقصد”
نمیر منال کو کہتا ہوا اس کے کمرے سے باہر نکلنے لگا
“آئی تھنک تم اپنے بھائی کی طرح عنایہ جیسی لڑکی ڈیزرو کرتے ہو۔۔۔ تمہیں ایسی ہی کسی دوسری لڑکی سے شادی کرنی چاہیے جو سر جھکا کر تمہارا حکم مانتے ہوئے ساری زندگی تمہارے اشارے پر چلے”
اپنی اگنورنس برداشت نہیں ہوئی تو منال تڑخ کر بولی
“میں کیا ڈیزرو کرتا ہوں کیا ڈیزرو نہیں کرتا یا مجھے کس سے شادی کرنی چاہیے۔۔۔ اب اس سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔۔ بس آج میں اتنا جان گیا ہوں کہ میں تم جیسی لڑکی ہرگز ڈیزرو نہیں کرتا یہ بات اب تم ہمیشہ اپنے دماغ میں بٹھائے رکھنا”
نمیر اس کو بولتا ہوا کمرے سے نکل گیا
****
“بہت برا کیا ہے اس لڑکی نے اپنے ماں باپ کے ساتھ،، میرے نمیر کے ساتھ کیسا مرجھا سا گیا ہے میرا بچہ،،، دو دن سے نہ کہیں آ رہا ہے نہ جا رہا ہے بس اپنے کمرے میں خود کو بند کیے بیٹھا ہے وہاں فرمان اور عشرت کی رو رو بری حالت ہوگئی ہے۔۔۔۔ ذرا شرم نہیں آئی اس لڑکی کو اپنے ماں باپ کی عزت کو یوں ٹی وی پر نیلام کرتے ہوئے،، بجائے شرمندہ ہونے کے ضد لگائے بیٹھی ہے کہ آگے بھی فلموں میں کام کرنا ہے فرمان اور عشرت کے منع کرنے پر الٹا گھر چھوڑ کر اپنی سہیلی کے گھر جا بیٹھی بے حیا لڑکی”
ثروت ابھی نہال کے ساتھ فرمان کو ہسپتال سے دیکھ کر گھر آکر بیٹھی تھی
اس ساری صورتحال سے جہاں نہال اور عنایہ کی شادی کی خوشیاں پھیکی پڑی وہی سب کو نمیر اور منال کے تعلق کے ختم ہونے کا بھی علم ہو گیا منال کے اس طرح گھر چھوڑ کر جانے سے فرمان کی اچانک طبیعت بگڑی ڈاکٹرز نے سختی سے تلقین کی تھی کہ کوئی بھی بری خبر فرمان کی زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے لہٰذا انہیں خوش رکھا جائے۔۔۔ شادی کے گھر میں یوں اچانک منال کی وجہ سے اچھا خاصہ ٹینشن زدہ ماحول پیدا ہوگیا تھا
“اس نے خالہ جانی خالو اور نمیر کے ساتھ ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ بھی بہت برا کیا ہے اور دعا کریں کہ جب اسے احساس ہو تو زیادہ دیر نہیں ہو چکی ہو اور رہی نمیر کی بات تو جہاں تک میں اپنے بھائی کو جانتا ہوں وہ اپنے اور منال کے رشتے کو روگ لگا کر زندگی برباد کرنے والوں میں سے نہیں ہے وہ ایک میچور انسان ہے مگر کسی بھی ریلیشن کے یوں اچانک ختم ہونے سے دکھ تو ہوتا ہے آپ اس کی ٹینشن مت لیں سیٹ ہو جائے گا وہ،، میں نے نوفل کو ساری صورت حال بتا کر اس بلایا ہے اب وہی نمیر کو ٹھیک کرے گا”
نہال ثروت کو دیکھتا ہوا بتانے لگا
****
“مجھے اس بات کا اندازہ تھا کہ تم منال میں دلچسپی رکھتے ہوں اس لیے اس سے شادی کے خواہشمند ہوں مگر یہ اندازہ ہرگز نہیں کہ تمھیں اس سے عشق ہے۔۔۔ اس ریلیشن کے ختم ہونے کے بعد یوں کمرے میں اس کا جوک لئے بیٹھ جاؤ گے”
نوفل نمیر کے کمرے میں آیا اور کمرے کی لائٹ آن کرکے کھڑکی سے باہر جھانکتے نمیر کو دیکھ کر بولا
“شٹ اپ نوفل میں اس وقت سنجیدہ ہوں مذاق کا موڈ بالکل نہیں ہے میرا”
نوفل کا طنز سن کر نمیر پاس رکھی چیئر پر بیٹھتا ہوا بولا
“میرے بھائی اب سنجیدہ ہونے کا کوئی فائدہ نہیں تمہیں سامنے والے بندے کے انداز اور عادت دیکھ کر بہت پہلے سنجیدگی سے سوچنا چاہیے تھا۔۔۔ اب جب بات آئی گئی ہوگئی ہے تو بات کو مذاق میں اڑا دو یار بھول جاو سب”
نوفل بھی بیڈ پر ریلیکس انداز میں بیٹھے ہوئے نمیر سے کہنے لگا
“نوفل تم جانتے ہو ناں کہ میرے اور منال کے ریلیشن میں پہل اور پیش قدمی اسی کی طرف سے ہوئی تھی،، اس نے مجھے کہا تھا کہ وہ مجھے لائک کرتی ہے میرے ساتھ اپنی باقی کی زندگی گزارنا چاہتی ہے،،، وہ میری کزن تھی میرے لئے قابل احترام بھی،، میں اپنے اور اس کے ریلیشن کو لے کر ہمیشہ اس سے مخلص رہا۔۔۔ اس کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو ہمیشہ اگنور کرتا رہا اور دو دن پہلے وہ مجھے کہہ رہی ہے کہ میں اس کے اسکرین پر آنے پر اوور ری ایکٹ کر رہا ہوں۔۔۔ میں ایک کنزرویٹیو مرد ہوں،،، یار میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو یہ گوارا کریں کہ اس کی بیوی کسی دوسرے مرد کے ساتھ اسکرین پر کام کریں میں ایجوکیٹڈ ہونے کے باوجود ایسی منٹیلٹی نہیں رکھ سکتا نہ اتنا بےغیرت ہو سکتا ہوں کہ اپنے سامنے اپنی بیوی کو کسی دوسرے مرد کے ساتھ دیکھو”
نمیر نوفل کے سامنے اپنے دل کا غبار نکالنے لگا نوفل نے بھی اس کو بولنے دیا جب نمیر بول کر چپ ہوا تو نوفل بولا
“نمیر ایک طرح سے یہ اچھا نہیں ہوا کہ منال کی سوچ تم پر شادی سے پہلے واضح ہوگئی اور یہ بھی کہ اس کی لائف میں اس کے خواب پہلے آتے ہیں جنہیں وہ پائے تکمیل پر پہنچانا چاہتی ہے جبکہ تم اپنے آپ کو اس کا خواب سمجھنے کی بھول کر بیٹھے تھے۔۔۔ پہل اگر منال کی طرف سے ہوئی مگر اس کے باوجود تم اس کی فرسٹ پریورٹی نہیں ہو۔۔۔ نمیر تمہیں نہیں لگتا کہ ایسے کھوکھلے ریلیشن کا ابھی نہیں تو بعد میں یہی انجام ہونا تھا۔۔۔ تم سے بریک اپ کے بعد یقیناً منال بھی اپنی زندگی میں مطمئن ہوگی۔۔ میرے خیال میں اب تمہیں بھی اس پر مٹی ڈال دینی چاہیے”
نوفل نمیر کو سمجھاتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گیا
“مٹی میں دو دن پہلے ہی ڈال چکا ہوں اگر تم یا کوئی اور یہ سمجھ رہا ہے کہ میں منال کا روگ لے کر بیٹھا ہوں تو ایسا ہرگز نہیں ہے۔۔۔ صرف مجھے افسوس ہے تو اس بات کا کہ میں نے اپنی فیلنگز اپنے ایموشنز اس لڑکی پر شو کیے جو یہ سب کچھ بالکل ڈیزرو نہیں کرتی تھی”
نمیر سر جھٹکتا ہوا کہنے لگا
“اگر تم اپنے ایموشنز اور فیلنگز یونیورسٹی کے ٹائم پر فرحین کے لیے رکھتے تو اب تک میں اور نہال چاچا بن چکے ہوتے”
نوفل کی بات پر جہاں نمیر کے تاثرات سنجیدہ ہوئے وہی نوفل کو بھی اپنے غلط وقت پر بولے گئے الفاظ کا احساس ہوا اور وہ اٹھ کر بیٹھ گیا
“نوفل کیا تمہیں نہیں لگتا کہ اس رات جو کچھ ہم دونوں نے فرحین کے ساتھ کیا”
نمیر نوفل کو بولنے لگا تبھی نوفل نے اس کی بات کاٹی
“میں نے تمہیں منع کیا تھا ناں نمیر کے اس رات کا ذکر ہمارے بیچ بھی اب کبھی نہیں ہونا چاہیے پلیز لیو دس ٹاپک”
نوفل نے سختی سے اس سے کہا
“کیا چل رہا ہے بھئی۔۔۔ حالات کیسے ہیں اب”
نہال کمرے میں آکر نوفل کو دیکھ کر نمیر کے متعلق پوچھنے لگا
“چند منٹ پہلے موسم ابر آلود تھا مگر اب مطلع ایک دم صاف ہے”
نوفل نے نہال کو آنکھ مارتے ہوئے کہا نہال اور نوفل ہنسنے لگے۔۔۔جس پر نمیر چیئر سے اٹھ کر نوفل کو مُکا جڑتا ہوا خود بھی ہنسا
“انسان کے بچے بن جاؤ تم،، عنایہ کی دوست پر تمہاری ساری مہربانیوں سے واقف ہوں میں” نمیر نوفل کو جتاتے ہوئے بولا نہال مسکراتا ہوا بیڈ پر نوفل کے برابر میں بیٹھ گیا
“وہ معاملہ تو کب کا سنجیدگی اختیار کر گیا ہے یار،،، یہ تو شریف آدمی ہے اس نے منگنی سے کام چلا لیا میں تو ڈائریکٹ شادی کا سوچ رہا ہوں منگنی کی خواریوں کو کون برداشت کرے۔۔۔ اس کی شادی سے فارغ ہو جاؤ تو میرے بیاہ کی خبر سننے کے لیے تیار رہنا”
نوفل مزے سے بولتا ہوا دوبارہ بیڈ پر لیٹ گیا جبکہ نمیر مسکراتا ہوا ڈریسنگ روم میں جانے لگا
“کہاں جا رہے ہو تم”
نہال نمیر سے پوچھنے لگا
“چینج کر کے آتا ہوں،، پھر کہیں باہر چلتے ہیں تم دونوں کا یوم آزادی منانے اس کے بعد تو تم دونوں نے اپنی اپنی بیویوں کے پلوؤں میں چھپے ہوئے نظر آؤ گے”
نمیر مسکرا کر بولتا ہوا ڈریسنگ روم میں چلا گیا نوفل اور نہال نمیر کی بات پر مسکرا دیئے
****
“کیا وہ چڑیل اب فلموں میں آئے گی۔۔۔ کون ہے وہ بے وقوف ڈائریکٹر جو اس نک چری کو اپنی فلم میں لے رہا ہے”
فری پیریڈ میں وہ دونوں کینٹین میں بیٹھی تھی تب عنایہ شانزے کو بتانے لگی
“آپی کے اس عمل سے ماموں جان بہت دکھی ہیں شانزے مجھے بس ان کی بہت فکر رہتی ہے اور مامی وہ تو مجھے ایسے گھور کر دیکھ رہی ہیں جیسے یہ سب میرا کیا دھرا ہے”
عنایہ افسردگی سے بولی
“اپنی مامی کی تو رہنے ہی دو ان کے کچن کا کوئی برتن ہوا سے بھی گر کے ٹوٹا تو وہ تمہیں ہی کھا جانے والی نظروں سے دیکھی گی۔۔ یہ بتاؤ تمہاری شادی کی تیاریاں کیسی چل رہی ہیں”
شانزے نے کولڈرنگ کا سپ لیتے ہوئے ٹاپک چینج کیا جس سے عنایہ کے افسردہ چہرہ پر مسکراہٹ آگئی
“پرسوں ثروت آنٹی اور نہال کے ساتھ جا کر اپنا ویڈنگ ڈریس لے کر آئی ہو پکز بھیجی تو تھی تمہیں”
عنایہ فرائس سے انصاف کرتی ہوئی بولی تو شانزے مسکرائی
“بہت پیارا ڈریس تھا ماشاللہ دیکھا تھا میں نے۔۔۔ یہ بتاؤ ہمارے ایگزامز بھی تمہاری شادی کے بعد ہونے والے ہیں اس کی کیسی تیاری ہے”
شانزے اب آئیبرو اچکا کر اس سے پوچھنے لگی
“سچی بتاؤ تو اب کی بار کچھ بھی تیاری نہیں ہے بہت ڈر لگ رہا ہے”
عنایہ کے فیس ایکسپریشن دیکھ کر شانزے کو ہنسی آگئی
“ڈرنے کی کیا ضرورت ہے اس میں،، اب تو تمہارے ٹیوٹر آل ٹائم تمہارے پاس ہوں گے”
شانزے شرارتی انداز اختیار کرتی ہوئی بولی
“جبھی تو اور بھی زیادہ ڈر لگ رہا ہے”
عنایہ کے بولنے پر وہ دونوں مسکرا دی
