Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 29)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 29)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“اتنی دیر کیوں ہوگئی گھر آنے میں شانزے کے گھر سے تو آپ سات بجے نکل گئے تھے ناں” اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے نہال اور نمیر اسی وقت گھر پہنچے تھے،،، نمیر اپنے بیڈروم میں آیا وہ توقع کر رہا تھا اس وقت عنایہ سوچکی ہوگی مگر توقع کے خلاف وہ جاگ رہی تھی بلکہ اس سے کل رات والے واقعہ پر ناراض ہونے کی بجائے وہ خوش لگ رہی تھی اور یہ خوشی کی وجہ یقیناً اس کی دوست کا نکاح تھا، جس کی ڈیٹیل اسے شانزے موبائل پر دے چکی تھی
“آفس میں میٹنگ تھی اسی وجہ سے لیٹ ہو گیا تم کیوں جاگ رہی ہو اس وقت”
نمیر کوٹ اتارنے کے بعد ٹائی کی نوٹ ڈھیلی کرتا ہوا عنایہ سے پوچھنے لگا
“خوشی کے مارے میری تو آج نیند ہی اڑ گئی ہے، شانزے سے ملنے کا اتنا دل چاہ رہا کیا بتاؤں”
عنایہ نمیر کا کوڈ ہینگ کرتی ہوئی بولی۔۔۔ نمیر نے ایک نظر اس کو دیکھا وہ واقعی خوش تھی جبھی اس وقت بغیر ناراضگی کے نارمل انداز میں اس سے باتیں کر رہی تھی
“ڈئیر وائف اپنی خوشی میں آپ یہ بھی بھول گئی ہیں کہ آپ کے شوہر نے رات کا ڈنر کیا بھی ہے کہ نہیں”
نمیر اس کو دیکھتا ہوا کہنے لگا تو عنایہ کے لب سکھڑے
“او سوری میرا دھیان نہیں گیا آپ چینج کرکے آجائیں میں کھانا لگاتی ہوں”
عنایا نمیر کو بولتی ہوئی کچن میں جانے لگی تب ہی نمیر نے اس کا ہاتھ پکڑا
“رہنے دو ڈنر کر چکا ہوں میں”
نمیر اپنا ڈریس لے کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔۔ چینج کرکے جب وہ واپس آیا تو عنایہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ نمیر نے محسوس کیا کل سے اسے بیڈ پر سونے کے لیے کہنا نہیں پڑ رہا تھا۔۔۔۔ نمیر بیڈ پر آکر اپنی سائڈ پر لیٹا۔ ۔۔۔ آج صبح سے ہی وہ آفس کے کاموں میں، اس کے بعد نوفل کے نکاح میں اور پھر میٹنگ میں بزی رہا اس لیے تھکن کے باعث اسے کافی نیند آ رہی تھی
“آپ کو معلوم ہے شانزے کے فادر نے نائلہ آنٹی کو فرائیڈے کے دن نکاح کا بولا تھا کہ شانزے کا نکاح اس کے کزن سے ہوگا اور وہ لوگ ایک دن پہلے ہی یعنیٰ آج اچانک نکاح کرنے کے لئے آ گئے تھے”
عنایہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی نمیر کو دیکھ کر ایسے بتانے لگی جیسے کہ کوئی بہت ہی ضروری واقعہ ہو
“ہاں معلوم ہے نوفل سے پورا سین معلوم ہوا تھا پھر میں اور نہال نکاح کے وقت وہی پر موجود تھے ہمیں خود بھی معلوم ہوگیا آگے کیا ہوا”
نمیر نے عنایہ کو بتاتے ہوئے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھا تاکہ عنایہ سمجھ جائے وہ سونا چاہتا ہے اور لائٹ بند کر دے
“ارے یہ تھوڑی معلوم ہوگا جب آنٹی شانزے کو نکاح کا بتانے آئی تو شانزے اور آنٹی روم کا دروازہ بند کر کے بیٹھی رہی تاکہ اسطرح تھوڑا وقت گزر جائے”
عنایہ نمیر کا بازو آنکھوں سے ہٹا کر اسے باقی کا سین سنانے لگی جس میں نمیر کو ذرا سی بھی دلچسپی نہیں تھی۔۔۔ وہ نمیر کے گھورنے کا نوٹس لیے بغیر فل انجوائے کرتی ہوئی شانزے کے ایک ایک ڈائیلاگ بتانے لگی۔۔۔ جس سے نمیر کو احساس ہوا ان دونوں سہیلیوں کا شمار ان خواتین میں ہوتا ہے جو اپنا پورا دن کا روٹین اپنی سہیلی کو فون کرکے بتاتی ہے اور بعد میں کال رکھنے کے بعد انہیں افسوس ہوتا ہے کہ آج کھانے میں لوکی کا رائیتہ بھی تھا یہ تو بتانا ہی بھول گئی
“نمیر سنئے نا،،، میں آگے اور بھی انٹرسٹنگ بات بتانے لگی ہو معلوم ہے جب شانزے کے کزن نے۔۔۔۔”
نمیر جو اس کا قصہ سن کر تھکن کے باعث غلطی سے آنکھیں بند کر گیا تھا۔۔۔ عنایہ نے اس کا بازو ہلا کر اسکو دوبارہ جگایا اور پھر شانزے کے کارنامے بتانے لگی اب نمیر بے بسی سے آنکھیں کھولے عنایہ کی بات پر سرہلانے لگا مگر جب وہ سن سن کر پک گیا اور برداشت کا پیمانہ لبریز ہوا تو ایک دم بول پڑا
“عنایہ پلیز یار کل صبح میں لیٹ آفس جاؤ گا اور صبح اٹھنے کے ساتھ ہی شانزے کی پوری اسٹوری تم سے ڈیٹیل میں سنوں گا۔۔۔ چندا ابھی یہ لائٹ بند کر دو اور تم بھی سونے کی کوشش کرو اچھے بچوں کی طرح شاباش”
نمیر عنایہ کو بہلاتا ہوا بولا اور تکیہ اپنے سر کے نیچے سے نکال کر اپنے چہرے پر رکھ لیا مگر تب اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا جب عنایہ نے “ایک لاسٹ انٹرسٹنگ بات” کہہ کر اس کے چہرے سے تکیہ ہٹایا اور ایک بار پھر نان اسٹاپ شروع ہوگئی
اب نمیر اسے حیرت کی بجائے مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ شاید اتنی باتیں تو اس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی سے نہیں کی ہوگی جتنی باتیں وہ نمیر سے پچھلے آدھے گھنٹے سے کر رہی تھی،،، جب کسی بات پر ہنستی ہوئی اس نے نمیر کے آگے تالی کے لئے ہاتھ بڑھایا،، نمیر نے تالی مار کر عنایہ کا ہاتھ پکڑ لیا اور اپنے سینے پر رکھا اب وہ نمیر کی شرٹ کہ بٹن سے چھیڑ چھاڑ کرتی ہوئی اسے شانزے کی باتیں بتا رہی تھی۔۔۔ نمیر کو شانزے کے ٹاپک میں تو کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی مگر وہ عنایہ کے ہلتے ہوئے ہونٹوں کو غور سے دیکھنے لگا اب عنایہ کی باتیں اسے سمجھ نہیں آرہی تھی بلکہ غور سے وہ اس کے ہونٹوں کا شیپ دیکھنے میں مصروف تھا
ایک دم نمیر کے دل میں ایک خیال آیا وہ اپنے خیال کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے اچانک اٹھ کر بیٹھا اپنا ایک ہاتھ عنایہ کی کمر کے گرد حاہل کرکے دوسرے ہاتھ سے اس کا جوڑا پکڑ کر اپنے ہونٹ وہ عنایہ کے ہونٹوں پر رکھتا ہوا وہ اسے بیڈ پر لٹا کر خود اس پر جھک چکا تھا
عنایہ جو بڑے مگن انداز میں نمیر کے تاثرات نوٹ کئے بغیر اسے شانزے کی باتیں بتانے میں مصروف تھی اچانک ہونے والی کروائی پر پہلے تو حیرت سے اس کی آنکھوں کی پتلیاں پھیلتی چلی گئی اور جب نمیر نے اسے بیڈ پر لٹایا تب وہ اپنی آنکھیں زور سے بند کر چکی تھی۔۔۔ کمرے نہ ہونے والی معنیٰ خیز خاموشی کا دورانیہ جب طویل ہوا تو عنایہ کو لگا نمیر اگر اس سے دور نہیں ہوا تو وہ سانس نہیں لے پائے گی۔۔۔ تب عنایہ نے نمیر کی شرٹ کا مضبوطی سے پکڑا ہوا کالر چھوڑ کر اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانا چاہا جس کے لیے نمیر ابھی ہرگز تیار نہیں تھا
بلکہ عنایہ کے پیچھے ہٹانے سے نمیر کے انداز میں مزید شدت آگئی۔۔۔ جب عنایہ نے اپنے نازک ہاتھوں سے نمیر کے بازو پر مُکے مارنے شروع کیے تب نمیر اس پر ترس کھا کر اٹھ بیٹھا اور ایک لمبا سا سانس خارج کیا جبکہ عنایہ حیرت سے اس کو دیکھتی ہوئی اپنی پھولی ہوئی سانس بحال کرنے لگی۔۔۔ اس سے پہلے نمیر اس پر دوبارہ جھکتا۔۔۔ عنایہ کروٹ لے کر دوسری طرف اپنا رخ کر کے لیٹ گئی
یہ شرم تھی۔ ۔۔۔ جھجھک یا گریز نمیر سمجھ نہیں پایا۔۔۔ چند سیکنڈ وہ عنایہ کو یونہی دیکھتا رہا پھر کچھ سوچ کر کمرے کی لائٹ بند کرتا ہوا بیڈ پر اپنی جگہ پر لیٹ گیا
****
کل رات نوفل شانزے کے علاوہ نائلہ کے لاکھ منع کرنے کے باوجود اس کو بھی اپنے ساتھ اپنے گھر لے آیا جس سے شانزے کو دل میں ایک طرح سے اطمینان ہوا ورنہ اسے نائلہ کی فکر لگی رہتی
گھر میں آنے کے بعد رات کے کھانے سے فارغ ہوکر نوفل نے فریدہ (اسٹیپ مدر) کو ویڈیو کال ملائی جس پر نوفل نے سرسری انداز میں آج رونما ہونے والے واقعہ کا ذکر کیا اس کے بعد اپنے نکاح کے بارے میں بتایا۔۔۔ وہ فریدہ کو اپنی پسند سے پہلے ہی اگاہ کرچکا تھا۔۔۔ فریدہ نوفل کے فیصلے سے خوش تھی۔۔۔ اسے اس کی نئی زندگی کے لیے ڈھیر ساری دعائیں اور مبارکباد بھی دی اس کے بعد نوفل نے ویڈیو کال پر ہی فریدہ اور خرم سے شانزے کا بھی تعارف کرایا۔۔۔ فریدہ کو شانزے سے بہت پسند آئی اس نے نوفل سے جلد ہی پاکستان آنے کا وعدہ کیا۔۔ کال سے فارغ ہونے کے بعد نائلہ کو اس کا روم دیکھا کر جب نوفل شانزے کو بیڈ روم میں لے کر آیا تو۔۔۔ نوفل کے موبائل پر کال آئی کمشنر صاحب نے اسے ایمرجنسی میں لگنے والی ڈیوٹی پر فوراً طلب کیا۔۔۔ نوفل منہ لٹکاتا ہوا یونیفارم پہننے لگا جس پر شانزے نے اپنی مسکراہٹ چھپائی۔۔۔ وہ اسے ریسٹ کرنے کا کہہ کر گھر سے نکل گیا
کار ڈرائیو کرتے ہوئے وہ یہی سوچ رہا تھا آج اس کی ظالم حسینہ اس کے پاس موجود تھی مگر کمشنر صاحب اس سے بھی بڑھ کر ظالم ہوگئے جنہوں نے شادی والی رات ہی اس کی نائٹ ڈیوٹی لگادی۔۔۔ اپنے ساتھ ہونے والے ظلم پر وہ صبر کرتا ہوا نائٹ ڈیوٹی انجام دے کر وہ ابھی گھر لوٹا تھا
اس وقت صبح کے سات بج رہے تھے بیڈروم میں آیا تو بیڈ پر شانزے کو سوتا ہوا پایا۔۔۔ نوفل کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اپنے بیڈ پر اس اضافے پر وہ جی بھر کے خوش ہوا۔۔۔ یونیفارم چینج کرتا ہوا وہ بیڈ پر آیا۔۔۔ شانزے کے برابر لیٹ کر وہ اسے دیکھنے لگا
مسلسل اپنے چہروں پر کسی کی نظروں کا حصار محسوس کرکے شانزے کی آنکھ کھل گئی آنکھ کے کُھلتے ہی اس نے اپنے برابر میں نوفل کو اپنی طرف کروٹ سے لیٹے دیکھا وہ اس کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
“تم کب واپس آئے” شانزے بیڈ سے اٹھ کر نوفل سے پوچھنے لگی
“تھوڑی دیر پہلے ہی واپس آیا ہوں تم بتاؤ نیند آرام سے آگئی تھی”
نوفل اب سیدھا لیٹتا ہوا شانزے سے پوچھنے لگا
“اتنے دنوں بعد ہی تو آج سکون کی نیند آئی ہے ورنہ تو چند دنوں سے میں اور امی مسلسل خوف کے ساتھ جی رہے تھے کہ ابو اور تایا مل کر زبردستی میرا جمشید سے نکاح ہی نہ کرا دیں”
شانزے نوفل کو دیکھ کر اپنے خدشے کو ظاہر کرنے لگی تبھی نوفل نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا
“میرے ہوتے ہوئے ایسا ممکن ہو سکتا تھا بھلا اب تمہیں آنٹی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ جبکہ تم نے سکون سے نیند پوری کرلی ہے تو اب میرے قریب آ کر تھوڑے سے سکون کے لمحات مجھے فراہم کرو”
نوفل نے نرمی سے اسکا ہاتھ سہلاتے ہوئے جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا تو وہ نوفل کے سینے پر آ گری
“صبح کا آغاز ہوتے ہی تم نے اپنا چھچھورپن شروع کردیا”
شانزے نے اسے سنجیدگی کا لبادا اتارتے ہوئے دیکھا تو وہ اس کو گھورتی ہوئی بولی
“میری جان اسے چھچوراپن نہیں رومینس کہتے ہیں جس کو کرنے کا اجازت نامہ مجھے کل رات ہی درکار ہو گیا ہے۔۔۔ اب تم کوشش کرنے کے باوجود مجھے ہرگز نہیں روک سکتی”
نوفل شانزے کو اپنے حصار میں لیتا ہوا اسے بیڈ پر لٹا کر اس پر جھگتا ہوا بولا
“ایسا کچھ بھی کرنے سے پہلے اٹلیسٹ تمہیں مجھ سے معافی مانگنی چاہیے”
نوفل جو شانزے کی گردن پر جھکنے لگا تھا اس کی بات سن کر حیرت سے اسے دیکھنے لگا
“معافی۔۔۔۔ مگر کس بات کی”
نوفل حیرت زدہ ہوکر شانزے سے پوچھنے لگا
“مجھ سے پہلے تم اس علشباہ کو کس کر چکے ہو”
شانزے نے ٹکا کر اسے طعنہ مارا
“یار تم تو ظالم حسینہ سے ظالم بیوی بن چکی ہو۔۔۔۔ تمہیں اس وقت میرے جذبات کا تھوڑا سا احساس کرنا چاہیے اور تم ایسی سچویشن میں مجھے علشباہ کے طعنے مار رہی ہو”
نوفل نے معصوم شکل بنا کر اسے احساس دلایا۔۔۔ اسے پچھتاوا ہونے لگا کیوں اس نے اپنے پرانے افیئرز کا شانزے کو بتایا
“بچپن سے ہی تمہارے کرتوت ایسے ہیں کہ تمہیں طعنے دیئے جائیں۔۔۔ ایسا تو کچھ بھی نہیں کہا میں نے سمپل معافی مانگنے کو کہا ہے”
شانزے سیریس ہو کے بولی جیسے اب یہی اس کے لیے اہم موضوع تھا
“میں معافی مانگو ہی کیوں،، جب میں نے کس کی ہی نہیں۔۔۔ کس تو میں اب تمہیں کرو گا”
نوفل دوبارہ مکرتا ہوا اپنے ہونٹ شانزے کے گال پر رکھ چکا تھا شانزے اس کی حرکت پر ایک دم سٹپٹائی
“اگر کس نہیں کی تھی تو تم اس طرح مسکراہٹ کیوں چھپا رہے ہو۔۔۔ اب مجھے پہلے یہ بات بتاؤ ورنہ میں تمہیں زندگی بھر اس بات کے طعنے دیتی رہو گی”
شانزے اس کے حصار میں بنا خوف کے بولی
“کس نہیں کی تھی میری جان صرف اسے کس کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی”
نوفل ہار مانتا ہوا اب تھکے انداز میں بولا
“پھر”
شانزے نے تجسس سے پوچھا
“پھر یہ کہ اس نے کہا اگر دم ہے تو اپنی خواہش پوری کرکے دکھاؤ”
نوفل پشیمان ہو کر بولنے لگا اور اٹھ کر بیٹھ گیا
“پھر”
شانزے بھی اٹھی اور اپنا غصہ ضبط کرتی ہوئی پوچھنے لگی
“پھر یہ کہ میں خوش ہوتا ہوا جیسے ہی اس کے قریب اپنا چہرہ لایا اس نے بالکل تمھارے ہی والے اسٹائل میں الٹے ہاتھ کا میرے سیدھے گال پر تھپڑ کھینچ کے مار دیا اور اس تھپڑ کھانے کے بعد وہ ہمیشہ مجھے بہنوں کی طرح لگنے لگی جبکہ تمہارا تھپڑ کھا کر میں نے اسی دن تمہیں بہن بنانے کی بجائے اپنے چنوں منوں کی ماں بنانے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔ میں قسم کھا کر کہہ رہا ہوں ایک ایک لفظ سچ بولا ہے اور علشباہ کے تھپڑ والی بات تو میں نے نہال اور نمیر کو بھی نہیں بتائی صرف آج پہلی دفعہ تمہیں ہی بتا رہا ہوں۔۔۔۔ کس میں نے کسی بھی لڑکی کو نہیں کی آج پہلی دفعہ تمہیں یعنی اپنی بیوی کو کی ہے”
نوفل بالکل معصوم بچوں کی طرح شانزے کے سامنے اپنا اعتراف جرم کرنے والے سٹائل میں راز شیئر کرنے لگا جس پر شانزے کو ہنسی آگئی
“اب تو ایک اور کس کرلو نا۔۔۔ اجازت ہے”
وہ شانزے کو لٹا کر اس پر جھکتا ہوا بولا شانزے کے کچھ بولنے سے پہلے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ چکا تھا
“نوفل بس اب ہٹو پیچھے”
شانزے اس کی بے باکی پر بلش کرتی ہوئی بولی۔۔۔ مگر اب نوفل اس کی سننے کے ہرگز موڈ میں نہیں تھا اس لئے چھوٹی چھوٹی گستاخیاں کرنے کے بعد اب وہ پورا پورا من مانی پر اتر آیا تھا۔۔۔ شانزے کو بھی اندازہ ہوگیا اب اسے روکنے یا منع کرنے سے کوئی فائدہ نہیں اس لئے وہ اپنی دلی آمادگی سے اپنا آپ اپنے شوہر کو سونپنے کے لیے تیار ہوگئی
