370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 6)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“رات بھر جاگنے کے باعث صبح اس کا سر درد سے بھاری ہو رہا تھا۔۔۔ میز پر اپنے سامنے کھلی ہوئی فائل میں وہ کوئی کیس دیکھ رہا تھا جب صدیق ایک لڑکے کو مارتا ہوا پولیس اسٹیشن کے اندر لایا

“کیوں شور مچا رکھا ہے صدیق، کون ہے یہ”

نوفل نے ماتھے پر ناگوار شکنیں لاتے ہوئے صدیق سے پوچھا

“سر یہ وہی بدبخت ہے جس کے خلاف چند دن پہلے رپورٹ درج کروائی تھی،، ایک معصوم لڑکی کی عزت سے کھیلنے والا”

صدیق نے اس لڑکے کی گدی پر زوردار ہاتھ جڑا اور نوفل کو بتانے لگا۔۔۔ جس پر نوفل کی پیشانی کی شکنوں میں مزید اضافہ ہوا۔۔۔ نوفل کرسی سے اٹھتا ہوا اس لڑکے کے سامنے آکر کھڑا ہوا

“بہت مردانگی ہے تجھ میں”

نوفل نے اس کے منہ پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے پوچھا

“سر ساری غلطی میری نہیں ہے،، اس کی مجھ سے خود سیٹنگ چل رہی تھی مگر اس نے منگنی کسی اور سے کرلی اس لیے میں نے۔۔۔”

وہ لڑکا اپنا اعتراف جرم کرتا ہوا بتانے لگا

“اس لیے تم نے مردانگی کے نام پر اپنی اوقات دکھائی”

نوفل اس کا گریبان پکڑ کر پوچھنے لگا

“مجھے اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں۔۔۔ اس نے مجھے ٹھکرایا میں نے اسے کسی دوسرے مرد کے بھی قابل نہیں چھوڑا”

وہ لڑکا کمینگی سے ہنستا ہوا بولا

“صدیق اسے پہلے اس کا کیس آگے جائے،،، آج اس کی ساری مردانگی پولیس کے ڈنڈے سے باہر نکال دو،، اسے پولیس کے ڈنڈے کے ایسے جوہر دکھاؤ کہ آئندہ یہ کسی عورت کی طرف دیکھنا تو دور،، خود کو مرد کہلانے کے قابل نہ سمجھے”

نوفل اپنے سامنے کھڑے اس لڑکے کو دیکھ کر صدیق سے کہتا ہوا باہر نکل گیا

***

اوہ تو وہ نوفل بھائی تھے پولیس والے،، جن کو تم نے تھپڑ دے مارا۔۔۔ بہت افسوس کی بات ہے شانزے وہ تو اتنے شریف انسان ہیں”

کالج کی چھٹی کے وقت وہ دونوں باتیں کرتی ہوئی باہر نکلنے لگی تب عنایہ افسوس کرتی ہوئی شانزے سے کہنے لگی۔۔۔۔ عنایہ نے اکثر نمیر کے منہ سے نوفل کا نام سنا تھا اور ایک دو دفعہ سرسری دیکھا بھی تھا۔۔۔ مگر اپنی منگنی والے دن نہال نے اس کا نوفل سے تعارف کرایا۔۔۔ اور وہ عنایہ کو اچھا بھی لگا

“واہ بھئی مان گئے اب اگر وہ تمہارے منگیتر کا پکا والا دوست نکل آیا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وہ شریف ہے بتایا تو تھا میں نے تمہیں کس طرح وہ مجھے اپنی طرف کھینچ کر۔۔۔۔ چماٹ نہیں رکھ کر دیتی نہ اسکے منہ پر معلوم نہیں کیا کرتا اور تمہاری منگنی والے دن بلاوجہ میں فری ہو رہا تھا انتہا کا کوئی ٹھرکی اور فضول ٹائپ کا انسان ہے ایک نمبر کا چھچھورا”

شانزے سر جھٹکتی ہوئی کہنے لگی

“یہی بات تو نہیں سمجھ میں آرہی ہے انہوں نے آخر ایسا تمہارے ساتھ کیو کیا،،، کہیں ایسا تو نہیں شانزے تم انہیں پسند آگئی ہو”

عنایہ نے اب کی بار مسکراتے ہوئے اس سے کہا

“پسند آنے کا یہ مطلب ہے کہ پہلی ملاقات میں ہی انسان اوٹ پٹانگ حرکتیں شروع کردے کیا۔۔۔ کوئی عمران ہاشمی کی فلم چل رہی ہے کیا۔۔۔۔ اور اسے محبت نہ ہی ہو تو یہی اس کی صحت کے لیے بہتر ہے نہیں تو آپ کی باری جوتی اترنے میں دیر نہیں لگاؤں گی”

شانزے کو اب نوفل کی شکل یاد کرکے غصہ آنے لگا

“کیا ہر وقت جنگجو طیارہ بنی رہتی ہو، کبھی تو کوئی لڑکیوں جیسا ری ایکٹ کیا کرو۔۔۔۔ ویسے برے نہیں ہیں نوفل بھائی ایک دفعہ غور کرو”

عنایہ نے اسے اپنے طور پر سمجھانے کی کوشش کی کیوکہ منگنی والے دن نمیر اس سے شانزے کے متعلق کافی کچھ پوچھ چکا تھا اور سرسری سا نوفل کے بارے میں بھی اسے بتایا کہ نوفل کی مدر کے آنے پر وہ باقاعدہ رشتہ لے کر اس کی دوست کے گھر جائے گا

“او ہیلو یہ منگنی کر کے تم کچھ زیادہ ہی اماں نہیں بن گئی ہو،، تمہیں معلوم ہے نہ مجھے چڑ ہے مردوں سے اور نوفل ایک مرد ہی ہے”

شانزے عنایہ کو گھورتی ہوئی بولی

“شادی بھی ایک مرد سے ہی کی جاتی ہے میری پیاری دوست،، ساری زندگی ایسے نہیں گزاروں گی تم بناء شادی کے”

عنایہ اس کی گھوری کو خاطر میں لائے بغیر اس کا برین واش کرنے لگی

“تمھیں میری ساری پروبلمس معلوم ہے عنایہ،، میرے گھریلو حالات۔۔۔۔ ایک امی کے سوا میرے پاس کون ہے بھلا اور یہ ساری باتیں ایک طرف مجھے یہ مرد کی ذات نہایت مفات پرست لگتی ہے صرف اپنے فائدے کے لیے عورت کے پاس آنے والی قوم ہے یہ۔۔۔۔ میرا دل نہیں مائل نہیں ہوسکتا شاید کسی کیطرف”

شانزے عنایہ کو دیکھتی ہوئی بتانے لگی اتنے میں عنایہ کا موبائل بجا

“ہیلو نمیر بھائی خیریت”

نمیر کی موبائل پر کال دیکھ کر عنایہ کو حیرت ہوئی

“کلاس آف ہوگئی تمہاری”

نمیر کا موبائل پر لہجہ بالکل سیریس لگ رہا تھا

“جی بس گھر جانے والی وہ سب ٹھیک ہے ناں”

عنایہ نے اس سے پریشان ہوکر پوچھا کیوکہ نمیر نے اس طرح کبھی کال نہیں کی تھی

“نہیں یار خیریت نہیں ہے تم باہر آو میں تمہیں لینے آیا ہوں”

نمیر کی بات سن کر اب عنایہ کو پریشانی ہونے لگی اس لیے وہ جلدی سے شانزے کو بائے کہہ کر کالج سے باہر نکلی نمیر اس کا کار میں انتظار کر رہا تھا

“کیا ہوا نمیر بھائی سب ٹھیک ہے ماموں جان خیریت سے ہیں نا”

عنایہ نے آتے ہی نمیر سے سوالات شروع کر دیے

“کار میں بیٹھو بتاتا ہوں”

نمیر نے اس کے سوالات کے جواب میں کہا کار اسٹارٹ کرنے لگا۔۔۔ عنایہ جلدی سے کار میں بیٹھ گئی نمیر کار اسٹارٹ کر کے اسے کالج سے لے گیا

****

عنایہ کے کالج سے نکلنے کے بعد شانزے بھی بس کے انتظار میں اسٹاپ پر پڑی ہوئی تھی تبھی اس کے پاس ایک کار آکر رکی جس میں سے اترنے والی شخصیت کو دیکھ کر شانزے کی چہرے پر بیزاری چھا گئی

“کیسی ہو تم”

نوفل کار سے اترنے کے بعد شانزے کے پاس آ کر پوچھنے لگا

“بہت بدتمیز، پچھلی دو ملاقاتوں میں اندازہ نہیں ہوا تمہیں”

شانزے اپنے چہرے پر چھائی بیزاری اسے محسوس کراتی ہوئی اپنے سامنے کھڑے ڈھیٹ انسان کو کہنے لگی جو اس کو گھورنے میں مصروف تھا اور اب اس کی بات سن کر باقاعدہ ہنس رہا تھا

“حسین لوگ اکثر بدتمیز ہی ہوا کرتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور اب کی بار یہ کمبینیشن مجھے بہت آٹریکٹ کیا ہے۔۔۔ کیا ہم تھوڑی دیر کے لئے بات کر سکتے ہیں”

نوفل دلچسپی سے اس کو دیکھ کر پوچھنے لگا ہوا وہ آج بھی پچھلی دو ملاقاتوں کی طرح اسے اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی

“اس دن شاید تمہیں میری باتیں سمجھ میں نہیں آئی تھی۔۔۔ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی ہے فوراً نو دو گیارہ ہو جاؤ یہاں سے”

شانزے نے اس کو دیکھ کر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا

“مس شانزے مجھے اپنی عزت کے ساتھ ساتھ تمہاری عزت بھی پیاری ہے،،، جبھی پیار سے کہہ رہا ہوں ہم آرام سے کار میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں”

اب کی بار نوفل بھی سنجیدگی سے بولا۔۔۔ اپنا نام اس کے منہ سے پر ایک پل کے لئے شانزے چونکی

“کیا مسئلہ ہے تمہارا یہ پولیس کی وردی تم نے غنڈہ گردی دکھانے کے لیے پہنی ہے ایک دفعہ کی بات سمجھ میں نہیں آتی،،، انٹرسٹ نہیں ہے مجھے تم سے بات کرنے میں شانزے جان بوجھ کر تیز آواز میں بولی جس سے آس پاس کے لوگ متوجہ ہوئے

“ابھی تک تو میں نے بہت سیدھے طریقے سے تم سے بات کی تھی لیکن تمہارے بارے میں میری رائے یہ ہے تم حسین اور بدتمیز ہونے کے ساتھ ساتھ بیوقوف بھی ہو۔۔۔ تمہیں اندازہ ہونا چاہیے پولیس والے انگلی ٹیڑھی کر کے گھی نکالتے ہیں”

نوفل نے شانزے کے چیخنے کا نوٹس لیے بغیر اس کا بازو پکڑ کر اپنی گاڑی میں بٹھایا

“تم میرے ساتھ اس طرح زبردستی نہیں کرسکتے”

شانزے کو کار میں بٹھا کر جو وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تو شانزے چیختی ہوئی بولی

“زبردستی کرنے پر تم نے مجبور کیا ہے میرا تو سیدھا سیدھا تمہیں پرپوز کرنے کا ارادہ تھا” نوفل چہرے پر مسکراہٹ سجائے شانزے کو دیکھتا ہوا کہنے لگا

“اپنی عمر دیکھو اور حرکتیں دیکھو”

شانزے نے اسے شرمندہ کرنا چاہا

“کیوں میں تمہارے ابا جی کی عمر کا ہوں یا تم خود کو ننھی چوزی سمجھتی ہو۔۔۔ میں ایک پڑھا لکھا اچھا کھاتا کماتا مرد ہو اور تم بھی بالغ لڑکی ہو شادی کے لائق”

نوفل نے اپنے برابر میں بیٹھی شانزے کا نظر بھر کر بھرپور جائزہ لیا اور کار اسٹارٹ کردی

“روکو گاڑی کو،، کہاں لے کر جا رہے ہو مجھے۔۔۔ میں تمہیں چھوڑو گی نہیں”

شانزے اسے کار چلاتا دیکھ کر دھمکی دینے لگی

“ڈرو نہیں ابھی تمہیں اپنے گھر نہیں لے کر جا رہا بلکہ تمہیں تمہارے ہی گھر چھوڑ رہا ہوں۔۔۔ ویسے میں بہت جلد تمہیں اپنے گھر لے جانے کا ارادہ رکھتا ہوں بینڈ باجے کے ساتھ پھر بے شک تم مجھے نہیں چھوڑنا”

نوفل اب شوخ نظر اس پر ڈال کر ڈرائیونگ کرنے لگا

“تمہاری ہمت کیسے بھی مجھ سے اس طرح کی فضول بات کرنے کی سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے”

شانزے غصے اور حیرت نے ملے جلے تاثرات کے ساتھ اس کو دیکھ کر کہنے لگی

“ہمت کو چیلنج مت کرو۔۔۔ ہمت ہی تو ہے جو بڑے بڑے کام بناء خوف کے کروا دیتی ہے مگر کیا ہے ناں تمہارے معاملے میں شرافت آڑھے آجاتی ہے۔۔۔ یہ روز روز ڈیٹ شیٹ لاگانا،، روٹھنا منانا،، موبائل پر بلاوجہ لمبی لمبی گفتگو کرکے حالِ دل سنانا۔۔۔ میرے خیال میں یہ سُست عاشقوں کے کام ہیں مگر میں آدمی ہوں ذرا دوسری قسم کا۔۔۔ پسند آگئی ہو تم مجھے، شادی کرنا چاہتا ہوں میں تم سے۔۔۔۔ اس لیے بہت جلد میں تمہیں اپنے گھر لے آؤں گا”

نوفل نے ڈرائیونگ کے دوران مسکرا کر شانزے کو دیکھتے ہوئے کہا

“یہ تم کچھ زیادہ ہی فری نہیں ہو رہے”

شانزے نے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے اس فاسٹ عاشق کو دیکھا جو کہ تیسری ملاقات میں ہی اس سے شادی کی بات کر رہا تھا

“جبکہ میرے نزدیک تو اسے فری ہونا کہتے ہی نہیں ہے۔۔۔ معلوم ہے فری ہونا کسے کہتے ہیں”

شانزے کے گھر کے آگے گاڑی روک کر وہ اسکی سیٹ پر جھکتا ہوا بولا

“اے”

شانزے وارننگ دینے والے انداز میں چیخی

“اےےے”

نوفل اس سے زیادہ زور سے روعب جمانے والے انداز میں چیخا۔۔۔ مگر شانزے کو بےخوفی سے پلک جھپکائے بناء مسلسل دیکھتے ہوئے،،، نوفل کے چہرے کے تاثرات نرم ہوئے اور چہرے پر مسکراہٹ آئی

“اگر تھوڑی دیر اور ایسے ہی گھورتی رہی نا،، ابھی اسی وقت قاضی لے آؤں گا”

نوفل اس کو دیکھ کر دوبارہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔ جس پر شانزے دانت پیس کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔ کار کا دروازہ کھول کر اسے بغیر کچھ کہے گھر کے اندر چلی گئی

****

“نمیر بھائی آپ بتا کیوں نہیں رہے ہیں آخر کس کی کنڈیشن سیریس ہے اور ہم یہاں پر کیوں آئے ہیں”

نمیر عنایہ کو ریسٹورنٹ لے کر آیا اور ڈرائیونگ کے دوران بس اتنا ہی بولا تھا کہ ایک سیریز کنڈیشن ہے جس پر عنایہ گھبرانے لگی مگر اب دور سے نہال کو ریسٹورنٹ میں آتا دیکھ کر وہ بات کو مکمل طور پر سمجھ گئی اور خفا ہوتی ہوئی نمیر کو دیکھنے لگی جو اس کی طرف مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا

نہال کو بھی نمیر نے ایک امپورٹنٹ میٹنگ کا کہہ کر یہاں کا ایڈریس سینڈ کیا تھا اور فوراً پہنچنے کو کہا تھا مگر وہاں پر نمیر کے ساتھ عنایہ کو موجود دیکھ کر نہال اپنے بھائی کی شرارت سمجھ گیا۔۔۔ اس وقت نہال کو نمیر کی یہ شرارت ذرا بری نہیں لگی اس لیے وہ مسکراتا ہوا ان دونوں کے پاس آیا

“تم دونوں کی منگنی کو ایک ہفتہ گزر گیا ہے مگر تم دونوں سے زیادہ بورنگ کپل میں نے آج تک نہیں دیکھا۔۔۔۔ اگر آج تم دونوں کو دھوکے سے یہاں نہیں بلاتا،، تو تم نے برات والے دن ہی گھونگھٹ اٹھا کر اس کا چہرہ دیکھنا تھا”

نمیر قریب آتے نہال کو دیکھ کر بولا جس پر نہال مسکرانے لگا

“اور تم جو تھوڑی دیر پہلے پوچھ رہی تھی ناں کہ کس کی سیریس کنڈیشن ہے یہ جو تمہارے سامنے 6 فٹ کا بندہ کھڑا ہے،، ہفتہ ہو گیا ہے اس کو خیالوں میں کھوئے کھوئے دیکھتے ہوئے۔۔۔ قسم سے یہ اکیلے بیٹھا مسکرا رہا ہوتا ہے”

نمیر اب عنایہ کو نہال کی کنڈیشن بتانے لگا۔۔۔ جس پر نہال نے سنجیدہ ہو کر نمیر کو آنکھیں دکھائی،،، وہی عنایہ نہال کو دیکھنے لگی۔۔۔ مگر نہال کی نظریں خود پر محسوس کر کے وہ پلکیں جھکا گئی

“میرے خیال میں نمیر تمہیں واپس آفس جانا چاہیے اب تمہارا کام ختم ہوگیا”

نہال کی بات پر نمیر ہنس دیا

“وہ تو میں چلا ہی جاؤں گا مگر پلیز اب تم دونوں ایک دوسرے کو اپنا حالِ دل سنانا،، کہیں موسم کا حال بتانے نہیں بیٹھ جانا”

نمیر نہال کو آنکھ مار کر وہاں سے چلا گیا جبکہ نہال مسکراہٹ چھپائے اب عنایہ کو دیکھ رہا تھا،، کالج کے وائٹ ڈریس میں وہ اسے پہلے کی طرح کوئی چھوٹی بچی لگی جو شاید ہوم ورک نہ کرنے پر شرمندہ سی نظر جھکائے کھڑی تھی

“کب تک کھڑے رہنا ہے آو بیٹھتے ہیں”

نہال نے عنایہ کے لیے چیئر کھسکائی اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا عنایہ چپ کر کے بیٹھ گئی

“کیسی ہو تم”

نہال اب عنایہ کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر اس کو دیکھتا ہوا خیریت معلوم کرنے لگا

“میں ٹھیک ہوں اور آپ۔۔۔ آپ کیسے ہیں”

عنایہ نے ہمت کرکے نگاہیں اٹھائی اور اس کا حال پوچھا

“ابھی تھوڑی دیر پہلے نمیر نے بتایا تو تھا میرا حال”

نہال عنایہ کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا اس کی بات سن کر عنایہ ایک دفعہ پھر اپنی پلکیں جھکا گئی

“کہیں تم نے اس بات کو محسوس تو نہیں کیا کہ ہماری انگیجمنٹ کے بعد میں نے تمہیں کال یا میسج نہیں کیا”

نہال عنایہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“نہیں میں نے محسوس تو نہیں کیا۔۔۔ ویسے آپ نے کال کیوں نہیں کی”

عنایہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا جس پر نہال کے چہرے پر ایک دم گہری مسکراہٹ آئی جس سے عنایہ اچھی خاصی شرمندہ ہوگئی

“یعنی تم نے محسوس کیا”

نہال اب غور سے اس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“ایسی بات نہیں ہے میرا کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا”

عنایہ اپنی صفائی پیش کرتی ہوئی بولی

“تو پھر جو مطلب تھا بغیر شرمائے مجھ سے شئیر کرو”

نہال عنایہ سے پوچھنے لگا

“انگیجمنٹ میں بعد سب ہی ایک دوسرے سے فون پر بات کرتے ہیں ناں تو میں سمجھ رہی تھی شاید آپ بھی۔۔۔۔

عنایہ نے اپنے دل میں آئی بات نہال سے شیئر کی

“عنایہ تمہیں معلوم ہے مجھ میں اور نمیر میں صرف ایک سال کا فرق ہے اس کے باوجود ہم دونوں کی بہت سی عادتیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں مگر شادی کی بات کو لے کر ہمارے نظریات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔۔۔ نمیر کی سوچ ہے کہ شادی سے پہلے ہی لڑکا لڑکی میں انڈرسٹینڈنگ ہونی چاہیے تاکہ وہ دونوں ایک دوسرے کی عادتوں سے واقف ہوں ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھتے ہوئے اپنی شادی شدہ زندگی اچھی گزار سکیں مگر میری سوچ اس معاملے میں تھوڑی مختلف نوعیت کی ہے مجھے ایسا لگتا ہے شادی سے پہلے قائم ہونے والے رشتے میں لڑکا لڑکی ایک دوسرے سے ایکسٹیشنز زیادہ رکھ لیتے ہیں اور جب وہ ایک دوسرے کی ایکسپکٹیشن پر پورے نہیں اترتے تو ان دونوں کے بیچ ناچاقیاں پیدا ہوتی ہیں جس سے ان کا ایک اسٹرونگ ریلیشن ویک ہو جاتا ہے۔۔۔۔ میں نے اپنے دل کے دروازے کو کبھی بھی کسی معمولی دستک سے آج تک کھلنے نہیں دیا مجھے ماما کی چوائس پر بھروسہ تھا اور میں اب بھی سیٹفائیڈ ہوں لیکن اگر تم کہتی تو ہم کال پر بات کر سکتے ہیں۔۔۔ کیوکہ دو اسان لوگوں کی زندگی مشکل نہیں گزرتی”

نہال عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا

“نہیں میں آپ کی سوچ آپ کے نظریے سے ہنڈریڈ پرسنٹ متفق ہوں”

عنایہ کی بات سن کر نہال مسکرا دیا اور کھانے کا آرڈر دینے لگا

لنچ کرنے کے بعد عنایہ کے منع کرنے کے باوجود نہال اس کو شاپنگ کرانے لے گیا واپسی پر تقریباً شام ہو چکی تھی اور عنایہ کبھی بھی کالج سے اتنا لیٹ نہیں آئی تھی جب نہال نے گھر کے آگے کار روکی تو پریشانی عنایہ کے چہرے سے عیاں ہونے لگی

“چلو تمہیں گھر کے اندر چھوڑ کر آجاؤ میں”

نہال اس کی پریشانی بھانپتا ہوا بولا

“مگر وہ مامی”

عنایہ نے جھجھکتے ہوئے کہا

“ڈرنا چھوڑ دو عنایہ میں تمہارے ساتھ ہو کار سے اترو”

نہال بولتا ہوا خود بھی کار سے اترا