370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 17)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“یہ بتاؤ نمیر بھائی کا رویہ تم سے ٹھیک رہا”

شانزے اور عنایہ دونوں کالج پہنچی تو شانزے فکرمندی سے اس سے پوچھنے لگی کیوکہ کل ان دونوں نے موبائل پر سرسری بات کی تھی وہ بھی صرف پڑھائی سے متعلق

“رویہ کیا ٹھیک ہونا ہے،،، وہ تو میری نیندوں کے دشمن بن چکے ہیں”

عنایہ نہ افسوس کرتے ہوئے کہا

“واقعی۔۔۔ چلو یہ تو اچھی نیوز ہے”

شانزے شرارتی انداز میں معنی خیزی سے عنایہ کو دیکھ کر بولی

“اف تم بھی نا بات کو کہاں لے گئی۔۔ میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔ نمیر بھائی تو اب پہلے جیسے لگتے ہی نہیں ہیں،، وہ تو دوسری مامی بن چکے ہیں بلکہ ان سے بھی کہیں زیادہ سخت۔۔۔۔ اب تو مجھے ان سے بہت ڈر لگنے لگا ہے شانزے”

عنایہ نے پریشان ہوکر شانزے کو بتایا مگر شانزے نے نمیر کو بھائی کہنے پر اپنا ہی سر پیٹ لیا

“عنایہ تمہارا کیا ہوگا تم اپنے شوہر کو بھائی بول رہی ہو یار۔۔۔۔ یقیناً اسی طرح کی کوئی دوسری الٹی سیدھی حرکت تم نے ان کی سامنے بھی کی ہوگی اسی لیے نمیر بھائی نے سختی والا رویہ اپنایا ہوگا،، حیرت کی بات تو یہ ہے وہ نوفل کے دوست ہوکر بھی معقول انسان لگے مجھے۔۔۔۔ تم نہ اب بیوقوفیوں والے کام،،، پلس گھبرانا اور ڈرنا چھوڑ دو۔۔۔ اور سب سے بڑی بات اپنے اور نمیر بھائی کے رشتے کو سمجھو”

شانزے اس کو سمجھانے لگی وہ دونوں باتیں کرتے کرتے کلاس میں جارہی تھی

“بھائی تو ویسے ہی منہ سے نکل گیا بچپن سے بھائی ہی بولا ہے،، عادت ایک دن میں تو ختم نہیں ہوگی ناں یہ بھی تم نے خوب کہی کے رشتے کو سمجھو بہت آسان ہے نا تمہاری نظر میں سب کچھ”

عنایہ شانزے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی

“یہ سب بالکل آسان نہیں ہے عنایہ میں سمجھ سکتی ہوں اس وقت تمہاری سیچویشن مگر یہ سب کوئی دوسرا آکر بھی ٹھیک نہیں کرے گا اسے تمہیں ہی ٹھیک کرنا ہے اب تم پریکٹیکل لائف میں آگئی ہو اس طرح پریشان ہونے کی بجائے حالات کو فیس کر کے،، اس کے حساب سے چلنا سیکھو”

شانزے دوبارہ اس کو سمجھانے لگی

“تمہاری بات ٹھیک ہے مگر میں ابھی اسٹیڈیز کے علاوہ کسی اور دوسری چیز کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی ایک تو ہمارے ایگزیمز بھی بالکل ہمارے سر پہ کھڑے ہیں۔۔۔ ویسے تم بتاؤ نوفل بھائی سے تمہاری بات ہوئی تم نے ان کے بارے میں کیا سوچا ہے”

عنایہ نے اپنی الجھنوں سے نکلتے ہوئے شانزے سے اس کے بارے میں پوچھنے لگی جس پر شانزے اس کو دیکھ کر مسکرانے لگی

“میں اس وقت تمہیں تو اماں بن کر سمجھا رہی ہوتی ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ میں خود اپنے معاملے میں بے حد کنفیوز ہو ایک طرف تو نوفل کا انداز اس کا رویہ دیکھ کر دل اس کی طرف مائل ہوتا ہے مگر دوسرے ہی پل یہ سوچتی ہوں کہ کیا کسی مرد پر اعتبار کرنا ٹھیک رہے گا۔۔ مجھے اعتبار کے ٹوٹنے سے بہت ڈر لگتا ہے عنایہ،،وہ بھی تو ایک مرد ہے نا”

وہ دونوں باتیں کرتے کرتے کلاس روم کے اندر پہنچ گئی

“شانزے جو تمہاری آپی کے ساتھ ہوا وہ بہت برا ہوا مگر ہر مرد تو ایک جیسا نہیں ہوتا نا اب یہاں پر تمہیں بھی پریکٹیکل ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے تم بھلا اکیلے اپنی ساری زندگی گزار سکتی ہو یہ ہمارا معاشرہ اس قابل ہے۔۔۔ یہاں عورت کا مرد کے سہارے کے بغیر سروائیو کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔ چاہے وہ سہارا باپ کا ہو بھائی کا،، بیٹے یا پھر شوہر کا۔۔۔ عورت کتنی ہی انڈیمانڈینٹ ہوجائے بھلے ہی وہ ایجوکیٹڈ کیوں نہ ہو مگر اسے اکیلے زندگی گزارنے میں کئی طرح کے مشکلات پیش آتی ہیں”

شانزے عنایہ کی باتیں غور سے سننے لگی مگر تھوڑی بعد کلاس اسٹارٹ ہونے پر وہ دونوں چپ ہو گئی

*****

“یہ پولیس والے ان کا تو کوئی دین ایمان کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ سمجھو یہ تو پیسوں کے آگے اپنا ایمان بھی نیچ دیں”

شانزے اور عنایہ کالج کی کینٹین میں موجود تھے تب پیچھے والی ٹیبل سے ایک لڑکی کی آواز آئی جس پر شانزے نے گردن موڑ کر دیکھا وہ لڑکی اپنی تین دوستوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی پولیس پر تبصرہ کر رہی تھی شانزے دوبارہ اپنے سامنے رکھی پلیٹ میں سے سموسہ کھانے لگی عنایہ بھی اپنی جمائی روکے اس کا ساتھ دے رہی تھی

“کیوں ایک ماہ پہلے ہی تو تمہارے کزن کو کسی ایماندار پولیس والے نے پکڑا تھا اور لاک اپ کر کے اس پر کیس بھی تو چلایا تھا”

اسی لڑکی کی ایک سہیلی بولی

“ایماندار کہاں سے آگیا۔۔۔ ایس۔پی نوفل اس نے میرے کزن کو آرسیٹ ضرور کیا تھا اور اس پر کیس بھی چلایا مگر بعد میں اسی نے پیسے لے کر معاملہ رفع دفع کر دیا اب میرا کزن آزاد ہے”

وہی لڑکی دوبارہ بولی عنایہ تو سن ذہن کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی مگر نوفل کے نام پر شانزے کا دماغ ان لڑکیوں کی گفتگو کی طرف گیا

“مگر یہ زیادتی نہیں ہوئی اس لڑکی کے ساتھ تمہارے کزن نے تو۔۔۔۔ میرا مطلب ہے سننے میں آیا تھا کافی برا کیا”

ایک اور لڑکی بولی تو شانزے کا ماتھا ٹھنکا اسے وہ آدمی یاد آیا جو پولیس اسٹیشن میں شانزے کو ملا تھا اور شانزے سے اپنی بیٹی کا ذکر کیا تھا اس بات کو بھی مشکل سے ایک ماہ ہوا تھا

“کیا تمہارے کزن نے نایاب نام کی لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تھی شانزے ایک دم اٹھ کر اس لڑکی کی ٹیبل پر گئی اور اس لڑکی سے سوال کرنے لگی جو زوروشور سے پولیس کی برائیاں کر رہی تھی

“زیادتی تھوڑی کی تھی اس لڑکی نے تو الزام لگایا تھا میرے کزن پر،، جس کی صورت میرے کزن کو گرفتار کیا گیا تھا۔۔۔۔ ویسے تم کون ہو اس لڑکی کی” وہ لڑکی شانزے کے سوال پر پہلے گھبرائی اس کے بعد اپنا اعتماد بحال کرتی ہوئی پوچھنے لگی

“میرا اس لڑکی سے صرف ہمدردی کا رشتہ ہے مگر تمہارے کزن نے اس لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تھی۔۔۔۔ اگر پیسے لے کر کسی پولیس والے نے اسے چھوڑ دیا ہے تو اس نے بھی اپنے فرض سے غداری کی ورنہ تمہارے کزن کو اور اسی جیسے مردوں کو بیچ چوراہے پر لے جاکر کوڑے مارنے چاہیے”

شانزے ایک دم جذباتی ہوکر بولی

“شانزے یہ کیا ہوگیا ہے تمہیں یہاں آ کر بیٹھو”

عنایہ تو اچانک شانزے کے لیے ری ایکشن پر بوکھلا گئی ایک دم کرسی سے اٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی ٹیبل پر لے آئی

“کیوں کسی کے پرائے پھڈے میں اپنی ٹانگ اڑا رہی ہو،،، چلو سر مجاہد کی کلاس کا ٹائم ہونے والا ہے”

عنایہ نے اس کے موڈ کو دیکھکر دیکر اسے وہاں سے لےجانا چاہا

“سر مجاہد کی کلاس تم اٹینڈ کرو مجھے ایک ضروری کام ہے وہی سے سیدھا گھر جاؤں گی کل ملتے ہیں” شانزے اپنے کاندھے پر بیگ لٹکائے دوسرے ہاتھ میں فائل اٹھاتی ہوئی کینٹین سے جانے لگی عنایہ نے دو مرتبہ اسے پیچھے سے آوازیں دی مگر اسے اب نوفل سے ملنا تھا

****

“جی سر یوں سمجھے آپکا کام ہوگیا۔۔۔۔ آپ بالکل بے فکر رہیں”

نوفل جو اپنے موبائل پر کسی سے گفتگو میں مصروف تھا،،، آج وہ یونیفارم کی بجائے سول ڈریس میں پولیس اسٹیشن آیا تھا۔۔۔ سامنے سے شانزے کو کالج یونیفارم میں آتا دیکھ کر اس نے جلدی سے بات مکمل کی

“خیریت تم یہاں پر کیوں آئی ہو”

نوفل نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے شانزے سے پوچھا

“ضروری بات کرنی ہے مجھے تم سے” شانزے اس کے ٹیبل کے سامنے کھڑی سنجیدگی سے بولی

“تو یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی میں آجاتا شام میں،،، چلوں اس وقت میں تمہیں گھر ڈراپ کر دیتا ہوں آج مجھے ایک ضروری کام سے کسی سے ملنا ہے کل فرصت میں بات کرتے ہیں”

نوفل آس پاس نظر دوڑاتا ہوا اپنا موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھاتا ہوا بولا اسے یوں شانزے کا پولیس سٹیشن آنا اچھا نہیں لگا نہ وہ اس وقت اسے ٹائم دے سکتا تھا اس لئے کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا

“مجھے تمہارے ساتھ گھر نہیں جانا نہ ہی ابھی تم کہیں جا رہے ہو بلکہ تمہیں میرے سوالات کا جواب دو گے اور بالکل سچ بولو گے”

شانزے بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ بولی

“ٹھیک ہے میں تمہیں گھر نہیں چھوڑ رہا مگر ہم کہیں اور بات کر لیتے ہیں یہاں نہیں کار میں آکے بیٹھو” نوفل اس کا موڈ دیکھ کر بحث کیے بنا نارمل انداز میں بولا اور پولیس اسٹیشن سے باہر نکل گیا شانزے کو بھی اس کے پیچھے آنا پڑا

****

نوفل اور شانزے سے اس وقت ریسٹورینٹ میں موجود تھے مگر نوفل نے یہاں کیبن بک کروایا تھا تاکہ شانزے کو کالج یونیفارم کی وجہ سے آدھی عوام گھور گھور کر نہ دیکھے۔۔۔ کار میں بھی شانزے بالکل سیریز بیٹھی تھی نوفل نے بھی اس جوالا مکھی کو چھیڑنے کی کوشش نہیں کی

“اب بولو کس بات کو لے کر اتنی خاموش ہو”

نوفل نے ویٹر کو آرڈر دینے کے بعد شانزے کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی نرم نگاہوں کے حصار میں لیتے ہوئے پوچھا

“تم اپنی جاب سے کتنے سنسیئر ہو”

شانزے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتی ہوئی پوچھنے لگی

“ایک پولیس والے کو جتنا سنسیئر ہونا چاہیے اس سے تھوڑا زیادہ۔۔۔۔ مگر تم سے تو میں ہنڈریڈ پرسنٹ مخلص ہوں۔۔۔ تم چاہو تو اس کا ثبوت میں ابھی تم سے نکاح کرکے دے سکتا ہوں کیا ارادہ ہے پھر یہاں سے لنچ کر کے سیدھے کورٹ چلیں”

نوفل اس کی بات کو مذاق کا رنگ دیتا ہوا بولا

“تم نے نایاب کے مجرم کو کیوں چھوڑا نوفل”

شانزے اس کی مسکراہٹ اور مذاق کو نظرانداز کرتی ہوئی پوچھنے لگی جس پر نوفل کی مسکراہٹ تھمی

“دیکھو شانزے یہ سب میری جاب سے ریلیٹڈ معاملات ہیں ان کو ہماری بیچ میں نہ ابھی نہ بعد میں کبھی،، موضوع بحث ہونا چاہیے۔۔ تم بتاؤ تمھارے ایکزیمز کب سے اسٹارٹ ہو رہے ہیں”

نوفل نے اسٹریٹ فارورڈ ہوکر اسے کچھ بھی پوچھنے سے منع کیا۔۔۔ اب وہ خود بھی سنجیدگی سے اسی کے متعلق بات کر رہا تھا شانزے نوفل کو دیکھنے لگی

“کتنے پیسے لیے تم نے اس نایاب کے مجرم کو چھوڑنے کے لئے”

شانزے طنزیہ لہجے میں بولی ویسے ہی نوفل نے ٹیبل پر ہاتھ مارا

“انف شانزے۔۔۔۔ ان باتوں سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں ہے،، یہ میرے آفیشل میٹرز ہیں جن میں میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرتا اور نہ ہی کسی سے اس موضوع پر بات کرنا پسند کرتا ہوں”

نوفل کے تعصورات بھی غصے والے تھے مگر شانزے اس کے غصے میں دیکھ کر کم از کم اس معاملے میں تو دبنے والی نہیں تھی

“صحیح ہے میرا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے مگر آج سے تمہارا بھی مجھ سے کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے”

شانزے جیسے ہی صوفے سے اٹھی نوفل نے اس کی کلائی پکڑی

“کیا بکواس ہے یہ۔۔۔ کسی دوسرے کی وجہ سے اپنا اور میرا تعلق ختم کرنے کی دھمکی دے رہی ہو مجھے”

وہ غصے میں اسے دوبارہ صوفے پر بٹھاتا ہوا بولا

“تمہیں معلوم ہے نوفل مجھے تمہاری کون سی بات نے اپنی طرف متوجہ کیا تھا یا میں تمہارا سوچنے پر مجبور ہوئی تھی صرف اسی بات نے کہ تم نے ایک ایسی مظلوم لڑکی کے حق کے لیے آواز اٹھائی اس کے لیے لڑے جس سے تمہارا کوئی لینا دینا کوئی سروکار نہیں تھا۔۔۔ ایسے ہی نہ جانے کتنی لڑکیوں ظلم و زیادتی کا شکار ہوکر زندہ درگور ہو جاتی ہیں مٹی ڈال دی جاتی ہے ان پر۔۔۔ کوئی بھی ان کی فریاد سننے والا نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے مجرموں کو انجام تک پہنچانے والا ہوتا ہے۔۔۔ مجھے لگا کہ تم ایک اچھے انسان ہونے کے ناطے اس لڑکی کی تکلیف اس کے قرب کو سمجھو گے مگر جب آج میں نے کسی دوسرے کے منہ سے سنا کے تم نے نایاب کے مجرم کو پیسوں کے بدلے میں چھوڑ دیا مجھے اپنے ہی اوپر دکھ ہوا کہ میں نے تمہارے متعلق سوچا ہی کیوں دل دکھایا ہے آج تم نے میرا بری طرح”

شانزے کا صبط سے چہرہ سرخ ہونے لگا بہت مشکلوں سے اس نے اپنے آنسوؤں کو باہر نکلنے سے روکا کیوکہ نائلہ کے سوا وہ کسی کے سامنے انہیں باہر آنے کی اجازت نہیں دیتی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی سے کمزور سمجھے۔۔۔

شانزے نے ایک بار دوبارہ اٹھنا چاہا نوفل نے ایک بار دوبارہ اس کی کلائی پکڑ کر اسے بٹھا دیا

“ہوگی نہ تمہاری بات مکمل اب میری بات بھی سنو۔۔۔ نایاب کے ساتھ زیادتی کرنے والا لڑکا،،، اس کا کوئی عام آدمی نہیں ہے اگر اس پر کیس چلایا بھی جاتا یا اسے سزا ہو جاتی تو اس کے باپ کی اتنی ریسورسس ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے بیٹے کو چھڑوا لیتا۔۔۔ ہاں میں نے پیسے لیے ہیں اس کے باپ سے اور اس کا بیٹا آپ حوالات میں نہیں ہے لیکن تم اگر میری بات سمجھو تو اس میں نایاب کا ہی فائدہ ہے”

نوفل سانس لینے کے لئے روکا تو شانزے بولنا شروع ہوگئی

“ہاں،، اب وہ پیسے تم نے نایاب کے باپ کو دے دو گے تاکہ وہ اپنا منہ بند کرلے اور چار پیسے سے اس غریب آدمی کا بھی بھلا ہوجائے گا۔۔۔ غریب لڑکی کی عزت تو کوئی عزت ہی نہیں ہوتی ناں یا پھر اس کی عزت اتنی ہی سستی ہوتی ہے کہ پیسوں سے ان لوگوں کا منہ بند کر دیا جائے

شانزے کو نوفل کی سوچ نہایت بری لگی

“تم اپنا منہ بند کرو تو میں اپنی بات مکمل کرو۔۔۔ کیوں دونگا وہ پیسے میں نایاب کے باپ کو۔۔۔ کونسا ایسا پولیس والے تم نے دیکھا ہے جو غریبوں اور مظلوموں پر پیسے لٹائے وہ میرا پیسہ ہے اور اس وقت میرے اکاؤنٹ میں موجود ہے”

شانزے کو آج نوفل کی سوچ پر افسوس ہونے لگا کیسے بے شرمی کے ساتھ وہ اپنے اصلی کرتوتوں کا ذکر کر رہا تھا

“اپنے حصے کے پیسے لینے کے بعد میں نے اس کے باپ سے ایک ڈیل کی ہے جسکی وجہ سے اس کا بیٹا ساخوں سے باہر آیا ہے اور وہ ڈیل یہ ہے کہ اس لڑکے کا باپ پوری عزت کے ساتھ نایاب کو اپنے بیٹے کے لئے بیاہ کر اپنے گھر لے جائے گا” نوفل نے شانزے کو دیکھتے ہوئے بتایا

“اس طریقہ کار سے نایاب کی عزت واپس آجائے گی” شانزے نوفل سے پوچھنے لگی

“عزت کا معاملہ ایسا ہے کہ جانے کے بعد واپس نہیں آسکتی،، اگر نایاب کا مجرم سلاخوں کے پیچھے ہوتا نایاب کی عزت تب بھی واپس نہیں آ سکتی تھی۔۔۔۔ آج کے دور میں اتنا اعلی ظرف مرد کوئی بھی نہیں ہے جو بےداغ لڑکی سے شادی کرے اور اسے اپنا نام اور عزت دے۔۔۔۔ اس لڑکے سے شادی کرنے سے کم ازکم لوگ نایاب کو عزت سے جینے دیں گے”

نوفل شانزے کو سمجھانے لگا

“تم قائم کر لو نا اعلیٰ ظرفی کی مثال نایاب سے شادی کر کے”

شانزے نے بے ساختہ نوفل سے کہا کیوکہ اسے نوفل کی بات ہضم نہیں ہوئی تھی

“ٹھیک ہے اگر تم اپنے اوپر سوتن برداشت کرنے کا مادہ رکھتی ہو تو میں ایسا کر لیتا ہوں”

نوفل نے جتنی سنجیدگی سے کہا شانزے اسے گھورنے لگی

“کیوں،،، ایسے کیوں گھور رہی ہو اب تمہاری اعلی ظرفی کہا گئی۔۔۔ چہرہ دیکھو اپنا ذرا سی سوتن والی بات تو برداشت نہیں ہو رہی پوری سوتن برداشت کرو گے” نوفل سر جھٹکتا ہوا کہنے لگا تھوڑی دیر بعد ویٹر کھانا لے آیا تو دونوں خاموشی سے کھانا کھانے لگے۔۔ شانزے نوفل سے مکمل مطمئیں نہ تھی مگر بدگمانی چھٹ گئی تھی

“ویسے تمہاری تنخواہ کتنی ہے نوفل”

کھانے کے دوران شانزے پوچھنے لگی جس پر نوفل اس دیکھ کر ہنسا

“کبھی میں نے تم سے تمہاری عمر پوچھی ہے جو مجھ سے میری تنخواہ پوچھ رہی ہو”

نوفل اسے گول جواب دیتا ہوا دوبارہ کھانے میں مصروف ہوگیا

“تم تو ہر بات کا مجھے الٹا ہی جواب دینا بس”

شانزے نے پلیٹ کو آگے کھسکاتے ہوئے کہا باہر کھانا وہ کم ہی کھاتی تھی اور نوفل کے ساتھ اس طرح فرسٹ ٹائم باہر کھانا کھاتے ہوئے اسے تھوڑا عجیب لگ رہا تھا مگر اپنا کونفیڈنس برقرار رکھنے کے لئے بنا گھبرائے تھوڑا بہت اس نے کھا ہی لیا

“یار سیدھا جواب یہ ہے میں اتنا کما لیتا ہوں کہ ہم دونوں کے ساتھ ساتھ ہمارے مستقبل میں آنے والے دونوں بچوں کا گزارا بہت آرام سے ہو جائے گا”

نوفل کے سیدھے سے جواب پر شانزے اس کو گھور کر رہ گئی

“میں بہت محنت سے کماتا ہوں یوں کھانا چھوڑ کر رزق ضائع مت کرو تھوڑے سے فرائڈ رائس اور لے لو”

نوفل نے کھانے سے اس کا ہاتھ رکتا ہوا دیکھا تو فوراً سیریز ہو کر بولا

“تمہاری محنت کی کمائی۔۔۔۔ معلوم نہیں اور کتنی محنت کی کمائیاں تمہارے اکاؤنٹ میں جمع ہو گی اس وقت”

شانزے اس پر طنز کرتی بولی جس پر نوفل بنا شرمندہ ہوئے ڈھیٹ بن کر ہنس دیا

“ظالم حسینہ شادی کے بعد بےشک اکیلے میں ایسے طعنے دے کر میرا کلیجہ چھلنی کردیا کرنا مگر ہمارے چنوں اور منوں کے سامنے میری عزت رکھ لینا۔۔۔ بے شک پولس والا ہو مگر میں تو باپ کی عزت ہونی چاہیے نا”

وہ ابھی بھی کھانے سے انصاف کرتا ہوا بولا

“اگر تم چاہتے ہو کہ منچورین سے بھرا ڈونگا میں تمھارے سر پر نہ انڈیلو تو اپنی یہ بے ہودہ گفتگو بند کردو”

چنوں منوں کے ذکر پر شانزے ایک پل کے لئے سٹپٹائی مگر دوسرے ہی لمحے اسے سختی سے وارننگ دی اور وہ وارننگ کام بھی آگئی۔۔۔ اب نوفل نوفل کے گھورنے پر مسکراتا ہوا خاموش ہو کر کھانے سے انصاف کر رہا تھا