Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 40)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 40)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“کیسا فیل کررہی ہیں آپ۔۔۔ کیسی طبیعت ہے اب آپ کی”
نہال شام میں آفس سے گھر آیا ثروت کے کمرے میں آکر اس کی طبیعت پوچھنے لگا
“کل سے تو کافی بہتر ہے، تم جلدی آگئے آج”
ثروت نے نہال کو اپنے روم میں آتا ہوا دیکھ کر بیڈ سے اٹھ کر بیٹھی اور پوچھنے لگی
“جی موسم آج ابرآلود ہے، نمیر بھی گھر پر نہیں ہے اور آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ان سب باتوں کو سوچتا ہوا گھر آگیا۔۔ آپ بتائیں کھانا کھایا آپ نے دوپہر کا”
نہال کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھتا ہوا ثروت سے پوچھنے لگا
“ہاں عنایہ نے کھانا کھلا دیا تھا اور میڈیسن بھی دے دی تھی”
ثروت نہال کو بتانے لگی
“گڈ، عنایہ بہت اچھی ہے۔۔۔ بہت اچھے طریقے سے خیال رکھ لیتی ہے آپ کا”
نہال ثروت کی بجائے سامنے دیوار کی پینٹنگ کو دیکھتا ہوا بولا ثروت غور سے نہال کو دیکھنے لگی
“نہال میرے خیال میں اب تمہیں شادی کر لینی چاہیے” ثروت کی بات پر نہال اس کی طرف دیکھنے لگا
“کس سے”
وہ ثروت کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“میں ٹھیک ہوجاو تو ایک دو دن میں دیکھتی ہوں تمہارے لیے کوئی لڑکی۔۔۔ بہت خوبصورت سی”
ثروت نہال کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی کہنے لگی
“عنایہ جیسی”
نہال ثروت کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“عنایہ سے بھی خوبصورت لڑکی ڈھونڈو گی تمہارے لیے”
وہ نہال کی آنکھوں میں چھپی اداسی دیکھ کر بولی
“اگر کوئی عنایہ سے بھی زیادہ خوبصورت لڑکی ہوئی تو وہ تب بھی عنایہ جیسی نہیں ہو سکتی۔۔۔ آپ نے عنایہ کو مجھ سے لے کر نمیر کو دے دیا”
نہال زخمی مسکراہٹ کے ساتھ مسکراتا ہوا ثروت کو دیکھ کر بولا
“بیٹا اس وقت حالات ایسے تھے یہ قدم اٹھانا پڑا۔۔۔ نہال تم سمجھنے کی کوشش کرو اب وہ تمہارے بھائی کی بیوی ہے”
ثروت پرسوں ہونے والے واقعے سے بےشک بے خبر ہوں مگر گھر میں جس طرح کا ماحول دونوں بھائیوں کے بیچ چل رہا تھا وہ اس سے بے خبر نہیں تھی
“جی ہمیشہ سے میں ہی تو سمجھتا آیا ہوں، آپ میری شادی کے لیے پریشان مت ہوں اپنے لئے کوئی بہتر فیصلہ میں جلد خود ہی کر لوں گا۔۔۔بس اب آپ اپنا خیال رکھا کریں” نہال صوفے سے اٹھ کر ثروت کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر تھپکی دیتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
****
“کیا سوچا جا رہا ہے یہاں کھڑے ہوکر اکیلے اکیلے”
نوفل گھر میں داخل ہوا تو شانزے کو ٹیرس میں کھڑا دیکھ کر اس کے پاس آیا۔۔۔ شانزے نے مڑ کر نوفل کو دیکھا تو وہ اپنے ہونٹوں سے شانزے کا گال کو چھوتا ہوا مسکرا کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔ پرسوں ان کے درمیان بحث کے بعد وہ دونوں ہی ضروری بات کے سوا کوئی بات نہیں کررہے تھے اور آج کے دن دونوں ہی کو ایک دوسرے کی خاموشی پریشان کیے دے رہی تھی اس لئے نوفل اپنے پرانے موڈ میں آ کر اس خاموشی کو توڑنے کی کوشش کرنے لگا
“میں یہی سوچ رہی تھی کہ اپنے ایس۔ پی صاحب کو کیسے منایا جائے”
نائلہ نے ان دونوں کے درمیان خاموشی محسوس کرکے آج صبح شانزے کو خوب کھری کھری سنائی تھی مگر اندر سے خود شانزے بھی نوفل سے یوں بے رخی برت نہیں پا رہی تھی اس لیے اسے دیکھتی ہوئی کہنے لگی
“پھر کیا آئیڈیا سمجھ میں آیا کیسے مناؤ گی اپنے ایس۔پی کو”
نوفل شانزے کو خود سے قریب کر کے سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“یہی تو سمجھ نہیں آرہا صبح سے کوئی دس گھٹیا ٹائپ فلمیں دیکھ چکی ہوں شاید انہی میں کوئی آسان طریقہ کار دکھ جائے مگر ہر دوسری مووی نے ہیروئن بیوقوف بنی ہوئی،، روٹھے ہوئے ہیرو کے آگے گلا پھاڑ پھاڑ کر گانے گا کر اچھلتی کودتی ہوئی عجیب حرکتیں کر رہی ہے ایسا مجھ سے تو بالکل نہیں ہو پائے گا”
شانزے نے جتنی سنجیدگی سے اسے بتایا نوفل اپنی ہنسی روک نہیں سکا
“ایک آئیڈیا میں دو”
وہ شانزے کو اٹھاتا ہوا کمرے میں لایا اور بیڈ پر بٹھایا
“کوئی ضرورت نہیں اپنے چھچھورے آئیڈیاز کا بنڈل اپنے پاس رکھو اور شرافت سے خود ہی مان جاؤ”
شانزے اس کے خطرناک تیور دیکھتی ہوئی بولی تو نوفل ہنسا اور خود بھی بیڈ پر اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا
“ماننا تو خود ہی پڑے گا،، کیا کرو ناراض جو نہیں رہ سکتا تم سے زیادہ دیر تک”
وہ شانزے کو دیکھ کر اس کے ہاتھ پر محبت مہر ثبت کرتا ہوا بولا
“میری ناراضگی واقعی تمہارے لیے اتنی معنی رکھتی ہے”
شانزے اب نوفل کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“میری زندگی میں تمہاری موجودگی بہت معنی رکھتی ہے شانزے،، پلیز میرے اور اپنے بیچ میں ایسے مسلئے مت لے کر آیا کرو جس سے ہمارے بیچ میں بحث ہو،، میں بہت زیادہ نیک انسان ہر گز نہیں ہوں مگر اتنا برا بھی نہیں ہے میرا یقین کرو”
نوفل شانزے کو دیکھتا ہوں اس سے سنجیدگی سے کہنے لگا تو شانزے ہلکا سا مسکرائی اور خاموش رہی
“چلو آج رات میں تمہیں بتاتا ہوں جب بیوی اپنے شوہر سے ناراض ہو جائے،، تو شوہر کو کیسے منانا چاہیے،، مگر پہلے ہم آنٹی کو لے کر ڈاکٹر کے پاس جائیں گے ان کا اپوائنمنٹ ہے آج کا،، پھر واپسی پر ڈنر کریں گے۔۔ آنٹی کو ریڈی ہونے کا بول کر آیا تھا اب تم بھی جلدی سے ریڈی ہو جاؤ”
نائلہ کی کچھ دنوں سے طبیعت ٹھیک نہیں تھی اس وجہ سے نوفل اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہتا تھا ساتھ ہی اس نے شانزے کے ساتھ ڈنر کا پروگرام بنا لیا۔۔۔ آج موسم کافی خوشگوار تھا اس لئے شانزے نخرے دکھائے بغیر تیار ہونے چلی گئی
****
نمیر ایئرپورٹ سے گھر پہنچا تو رات کے نو بج رہے تھے باہر لان میں ہی چیئر پر اسے نہال بیٹھا ہوا ملا۔۔۔ وہ نمیر کو گیٹ سے اندر آتا ہوا دیکھ کر اسی کی طرف بڑھا تو نمیر بھی ایک ہاتھ میں بیگ، دوسرے ہاتھ میں لیپ ٹاپ پکڑے نہال کے پاس آیا
“مجھے کال کر دیتے میں لینے آجاتا”
نہال نمیر کو دیکھتا ہوا کہنے لگا نہال کے لہجے میں دو دن پہلے ہونے والی تلخ کلامی کا شائبہ تک نہیں تھا۔۔۔ وہ بالکل ویسے ہی بات کر رہا تھا جیسے شروع سے کرتا آیا تھا
“نہیں، کیپ کر لی تھی میں نے۔۔۔ کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے۔۔ تم بتاؤ ماما کی کنڈیشن کیسی ہے اب”
نہال کو نارمل انداز میں بات کرتے ہوئے دیکھ کر نمیر بھی ہر بات بھلائے اس سے نارمل انداز میں پوچھنے لگا
“بی پی ابھی بھی تھوڑا سا ہائی ہے شام میں چیک کیا تھا۔۔۔ تمہارا پوچھ رہی تھی ماما، تم نے بات نہیں کی ان سے”
نہال نمیر سے پوچھنے لگا
“نہیں دوپہر میٹنگ کے چکر میں سارا دن گزر گیا۔۔۔ اس کے بعد فلائٹ کرانے میں اور واپس آنے میں ٹائم ہی نہیں ملا۔۔۔ میٹنگ کافی اچھی رہی ہے ہمدانی صاحب نے ایک اور پرپوزل بھی دیا ہے جس کی ڈیٹیلیز اس میں موجود ہیں تم چیک کر لینا۔۔ اگر تمہیں سوئٹیبل لگے تو پھر کل صبح آفس میں ڈسکس کر لیں گے”
نمیر اپنا لیپ ٹاپ نہال کی طرف بڑھاتا ہوا بولا
“ایسا کرو اپنا لیپ ٹاپ میرے بیڈروم میں رکھ دو پلیز۔ ۔۔ میں ڈنر کے بعد دیکھ لوں گا۔۔ اس وقت واک کا موڈ ہو رہا ہے تو باہر جا رہا ہوں”
نہال نمیر کو دیکھتا ہوا بولا نمیر اثبات میں سر ہلا کر گھر کے اندر چلا گیا۔۔۔
وہ نہال کے روم میں پہنچا اور بیڈ کے پاس موجود ٹیبل پر اپنا لیپ ٹاپ رکھ کر پلٹنے ہی لگا تو نہال کے بیڈ پر موجود، عنایہ کے پینڈینٹ نے اسے پلٹنے پر مجبور کیا۔۔۔ نمیر نے آدھا تکیہ کے نیچے دبا ہوا عنایہ کا پینڈینٹ ہاتھ میں لیا یہ وہی پینڈینٹ تھا جو نمیر نے عنایہ کو گفٹ میں دیا تھا اور اس وقت وہ نہال کے بیڈ پر موجود تھا۔۔۔ نمیر پینڈینٹ کو غور سے دیکھتا ہوا اسے اپنی پاکٹ میں رکھ کر نہال کے روم سے نکل گیا
****
عنایہ اپنے روم میں خاموشی سے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی نہال پر اسے پہلے ہی غصہ تھا نہال کی وجہ سے نمیر اسے اپنے ساتھ لے کر نہیں گیا تھا۔۔۔
کل شام اسے نہال کی بات سن کر اور بھی زیادہ غصہ آیا آخر نہال کیسے کہہ سکتا تھا نمیر اور منال اسلام آباد میں ایک ساتھ ہیں۔۔۔ اس وجہ سے وہ اور بھی نہال سے سیدھے منہ بات نہیں کر رہی تھی
اور نمیر کیسے اسے اپنا احساس دلا کر ایسے اکیلا اسکا احساس کیے بنا اسے چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔ آج موسم کے تیور دیکھ کر محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے بارش ہوگی،، بس اب اسے مضبوط بن کر رہنا ہے وہ سوچ چکی تھی مگر اس کے باوجود بےچینی سے بار بار اپنے روم کی کھڑکی سے موسم کا جائزہ ہر دس منٹ بعد لے رہی تھی
اس وقت اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی جب کھڑکی میں سے اس نے نمیر کو گھر آتا دیکھا۔۔۔۔ مگر وہ گھر آنے کی بجائے لان میں کھڑا نہال سے باتیں کر رہا تھا نمیر چہرے کے تاثرات بالکل نارمل تھے،، اپنا غصہ تو وہ صرف اسی پر جتاتا تھا۔۔۔ عنایہ نے سر جھٹک کر سوچا
عنایہ کھڑکی بند کر کے پردے برابر کرتی ہوئی جلدی سے وارڈروب کھول کر اپنے لئے ڈریس نکالنے لگی
کل سے اسکا موڈ خراب تھا اسلیے اپنے حلیے پر بھی اسکی نظر نہیں گئی مگر نمیر کو گھر میں آتا دیکھکر جلدی جلدی وہ ڈریس چینج کر کے آئینے میں کھڑی بال بنانے لگی۔۔۔ بالوں کو کھلا چھوڑ کر ہونٹوں کو گلوس سے رنگنے کے بعد اپنے اوپر پرفیوم چھڑکتی ہوئی وہ کمرے میں ٹہل کر نمیر کا انتظار کرنے لگی۔۔۔ جیسے ہی کمرے کے باہر قدموں کی آواز آئی اور دروازہ کھلا۔۔۔ عنایہ نے جلدی سے بیڈ پر بیٹھ کر اپنے چہرے کے تاثرات سنجیدہ کر لیے۔۔ مگر نمیر کی جگہ حمیدہ نمیر کا بیگ لے کر کمرے میں داخل ہوئی
“صاحب کہاں ہیں تمہارے”
عنایہ چہرے کے زاویے درست کرتی ہوئی حمیدہ سے نمیر کا پوچھنے لگی
“وہ تو جی بڑی بیگم صاحبہ کے کمرے میں بیٹھے ہیں”
حمیدہ عنایہ کو بتاتی ہوئی نمیر کا بیگ صوفے پر رکھنے لگی
“ٹھیک ہے دونوں بھائیوں سے کھانے کا پوچھا کر ٹیبل پر لگا دینا۔۔۔ آنٹی کو میں خود کھلا دو گی”
عنایہ حمیدہ کو ہدایت دیتی ہوئی بولی
پورے پینتالیس منٹ بعد کمرے کا دروازہ دوبارہ کھلا اور نمیر کمرے کے اندر داخل ہوا
اس کی نظر اپنی بیوی پر پڑی۔۔۔ جو کہ مغرورانہ انداز میں نہ جانے کس بات پر گردن اکڑائے بیڈ پر برجمان تھی
“کیسی ہو”
نمیر بیڈ کے پاس آ کر کھڑا ہو کر عنایہ سے پوچھنے لگا
“آخرکار 45 منٹ بعد آپ کو اپنی بیوی کا خیال آہی گیا کہ اس سے بھی خیریت پوچھ لی جائے”
عنایہ سنجیدگی سے اس پر طنز کرتی ہوئی بولی۔۔۔ مخصوص بیویوں والے اسٹائل میں عنایہ اس پر طنز کرتی ہوئی نمیر کو بہت کیوٹ لگی
“مجھے نہیں معلوم تھا میری بیوی کا ایک ایک لمحہ اپنے شوہر کے بغیر گزارنا مشکل ہو رہا ہے۔۔۔ ورنہ اتنی دیر تھوڑی لگاتا اپنی بیوی کے پاس آنے میں”
نمیر چہرے پر مسکراہٹ لائے عنایہ کو دیکھتا ہوا کہنے لگا
“خیر ایسی بھی بات نہیں ہے۔۔۔ اچھا ہی ہوا جو آپ مجھے اپنے ساتھ نہیں لے کر گئے۔۔۔ بہت اچھے گزرے ہیں یہ دو دن میرے”
عنایہ نے اتراتے ہوئے کہا جیسے اسے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا
“تو پھر میرے ساتھ جانے کے لئے اتنا تڑپ کیوں رہی تھی۔۔۔ اب واپس آیا ہوں تو منہ پھولا ہوا ہے۔۔۔ یہ بھی نہیں معلوم کے گھر آئے شوہر کا استقبال کیسے کیا جاتا ہے”
نمیر اس کو کہتا ہوا صوفے پر بیٹھ کر اپنے شوز اتارنے لگا
“کیسے استقبال کروں آپ کا۔۔۔ آپ کی راہ میں اپنی پلکیں بچھا کر بیٹھ جاؤ یا آپ کے گھر آنے پر بھنگڑے ڈال کر خوشیوں کے گیت گاؤ”
عنایہ منہ بناتی ہوئی بولی جس پر نمیر کو ہنسی آئی۔۔۔ وہ صوفے سے اٹھ کر مسکراتا ہوا بیڈ پر عنایہ کے پاس آیا
“یہ سب نہیں کرو مگر شوہر تھکا ہارا گھر آئے تو بیوی اسے پیار کے دو بول تو بول سکتی ہے نہ”
نمیر عنایہ کے پاس بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھام کر بولا
“کیوں اتنی تھکن ہو رہی ہے آپ کو،، کیا اسلام آباد سے گھر تک پیدل چل کر آرہے ہیں”
عنایہ کہ بولنے پر نمیر اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا
“غصہ کس بات پر آرہا ہے تمہیں”
نمیر بیڈ پر اس کے قریب لیٹتا ہوا پوچھنے لگا
“سوری بھول گئی تھی غصہ کرنے کا حق تو صرف آپ ہی کا تو ہے”
عنایہ آئستہ سے بول کر بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے جانے لگی
“کہاں جا رہی ہو” نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“آنٹی کو کھانا کھلانے جا رہی ہوں آپ تھکے ہوئے ہیں ریسٹ کریں”
عنایہ نے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تو نمیر فوراً بولا
“ماما کو میں کھانا کھلا چکا ہوں۔۔۔ اور تم ابھی کمرے سے باہر کہیں نہیں جا رہی ہو یہی رہو میری آنکھوں کے سامنے”
نمیر کے بولنے پر عنایہ بیڈ کی بجائے سات قدم دور فاصلے پر صوفے پر جا کر بیٹھی تو نمیر نے اس کو گھورا
“فوراً اٹھو صوفے سے اور وارڈروب سے مجھے کپڑے نکال کر دو تاکہ میں ایزی ہو جاؤ”
نمیر بیڈ پر لیٹا ہوا عنایہ کو دیکھ کر بولا۔۔۔ عنایہ نمیر کے کپڑے وارڈروب سے نکالتے ہوئے الجھنے لگی کہ وہ اس سے منال کے بارے میں کیسے پوچھے۔۔۔ کیا وہ واقعی نمیر کے ساتھ اسلام آباد میں موجود تھی۔۔۔ نمیر عنایہ کے چہرے پر الجھن کے آثار دیکھتے ہوئے اس سے اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم میں چلا گیا ہے۔۔۔ چینج کرکے واپس آیا تو وہ دوبارہ صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ نمیر کا شدت سے دل چاہا کہ وہ اپنے کمرے سے اس صوفے کو آگ لگا دے یا اٹھا کر باہر پھینک دے
“یہ بیگ ابھی تک ایسے ہی کیوں رکھا ہے۔۔۔ اس میں سے کپڑے نکال کر وارڈروب میں رکھو اور بیگ کو جگہ پر رکھ کر آؤ”
نمیر اسکو سوچوں میں گم دیکھ کر بولا اور خود دوبارہ بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔ عنایہ اس کا چہرہ دیکھتی ہوئی بیگ ہاتھ میں تھامے اٹھی وارڈروب میں کپڑے رکھنے لگی
“یہ کیا ہے”
بیگ میں ایک چھوٹا ڈبا نکال کر عنایہ نمیر کی طرف دیکھ کر پوچھنے لگی
“موبائل ہے میری بیگم کے لیے تاکہ وہ دو دن کی جمع باتیں آسانی سے اپنی سہیلی سے کر سکے”
نمیر کی بات سن بامشکل اس نے آنے والی ہنسی روکی
“کھانا کھا لیا تھا آپ نے”
عنایہ اب نمیر کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“دوپہر کا لنچ کافی لیٹ کیا تھا ابھی موڈ نہیں ہے کھانے کا”
نمیر کا جواب سن کر عنایہ واپس صوفے پر جانے لگی تبھی نمیر نے اسے پکارا
“عنایہ”
وہ مڑی
“ذرا میرا موبائل اٹھا کر چارج پر تو لگانا”
وہ نمیر کی آنکھوں میں شرارت صاف محسوس کرسکتی تھی، نمیر کو گھورتی ہوئی اس کا موبائل چارج پر لگانے لگی
“اور کوئی کام ہے یا پھر میں بیٹھ جاؤ”
عنایہ نمیر کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
“یہاں میرے پاس آکر بیٹھو پھر بتاتا ہو کام”
نمیر بیڈ کے کنارے سے تھوڑا سائیڈ پر ہو کر لیٹا تاکہ عنایہ بیٹھ سکے
“اب بولیے”
عنایہ اسکے پاس آکر بیٹھتی ہوئی اگلا کام پوچھنے لگی
“پہلے تم بولو،، تمہارے ذہن میں کیا چل رہا ہے فوراً شیئر کرو مجھ سے”
وہ عنایہ کا ہاتھ تھام کر دوستانہ انداز میں پوچھنے لگا
“وہاں اسلام آباد میں منال آپی آپ کے ساتھ تھیں”
عنایہ نمیر سے پوچھنے لگی
“ہاں،، وہ وہاں اپنی فرینڈ سے ملنے گئی تھی اس نے مجھے یہی بتایا تھا اور یہ بھی کہ وہ کل صبح واپس آ جائے گی”
نمیر بناء چونکے نارمل انداز میں عنایہ کو بتانے لگا مگر اسے حیرت اس لیے ہوئی منال عنایہ سے اتنی فرینک کبھی نہیں رہی کہ وہ اپنے اسلام آباد جانے کا اسے بتاتی یعنیٰ یہ بات عنایہ کو خاص طور پر بتائی گئی ہے۔۔۔ منال نے خود یا پھر کسی اور نے۔۔۔
“وہ آپ ہی کے ہوٹل میں رکی ہوئی تھی آپ دونوں نے ڈنر ایک ساتھ کیا اور پھر واک بھی کی” عنایہ آنکھوں میں ناراضگی لاتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
“عنایہ پہلی بات تو یہ کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ منال اسلام آباد میں موجود ہے اور اسی ہوٹل میں رکی ہوئی ہے جہاں میں اسٹے کر رہا ہوں اور اگر مجھے معلوم بھی ہو کہ وہ اسی ہوٹل میں رکھی ہے تو یار اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔ رہی بات اس کے ساتھ واک کرنے کی تو،،، منال اور میں کزن بھی ہیں اگر وہ مجھے کہیں پر باہر یا پھر کسی بھی جگہ ملے گی مجھ سے خود سے ہی بات کرے گی تو میں نہیں سمجھتا اس سے تمہیں خطرہ لاحق ہونا چاہیے،، بلکہ یہ بات اپنے مائنڈ میں رکھنی چاہیے میری اس سے بے شک کمٹمنٹ رہی ہو مگر وہ میری خالہ زاد بھی ہے۔۔۔ رہی بات ڈنر کی تو اس نے مجھے ڈنر کا بولا مگر میں نے اسے منع کردیا۔۔۔ چلو اب تم مجھے بتاؤ کہ یہ سب باتیں تمہیں کس نے بتائی”
نمیر نے ایک ایک بات اس کو واضح کرتے ہوئے آخر میں جاننا چاہا کہ آخر کون عنایہ کو اس سے بد گمان کر رہا ہے
“نہال بھائی نے”
عنایہ کے منہ سے نہال کا نام سن کر بھی وہ چونکا یعنیٰ نہال اور منال مل کر۔۔۔۔ اسے تھوڑی دیر پہلے نہال کے بیڈروم میں عنایہ کے پینڈینٹ کا بھی مطلب سمجھ میں آیا
“عنایہ یہاں دیکھو میری طرف اور میری بات غور سے سنو۔۔ میاں اور بیوی کے رشتے کو کامیاب بنانے کے لیے صرف اس رشتے میں محبت کا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔۔۔ بلکہ ایک دوسرے پر مکمل اعتماد ہی اس رشتے کو مضبوط بناتا ہے بلکہ میرا ماننا ہے کسی بھی رشتے کی پائیداری اعتماد سے ہی ممکن ہے اور میں تم سے اپنا ایسا ہی رشتہ بنانا چاہتا ہوں۔۔۔ ہمارے رشتے میں محبت کے علاوہ ہمیں ایک دوسرے کا اعتبار بھی حاصل ہو۔۔۔ کیا تم میرے ساتھ ایسا رشتہ قائم کرنا چاہوں گی”
نمیر بیڈ پر لیٹے ہوئے عنایہ کا ہاتھ تھام کر اسے پوچھنے لگا جس پر عنایہ نے مسکرا کر اقرار میں سر ہلایا۔۔۔ نمیر مسکرا کر اپنی پاکٹ سے عنایہ کا پینڈینٹ نکال کر اس کے گلے میں پہنانے لگا
“یہ۔۔۔ یہ آپ کو کہاں سے ملا، میرا مطلب ہے آپ کے پاس کیسے آیا”
عنایہ کو اپنا پینڈینٹ دیکھ کر خوشی کے ساتھ حیرت بھی ہوئی
“تم بتاو، کہاں گھما دیا تھا میرا دیا ہوا گفٹ۔۔۔ کتنے پیار سے لایا تھا یہ میں تمہارے لیے”
نمیر یونہی لیٹے ہوئے آنکھوں میں مصنوعی ناراضگی لاکر عنایہ سے پوچھنے لگا
“یہ پینڈینٹ تو اس رات ان لڑکوں نے دوسری چیزوں کے ساتھ لے لیا تھا،، جب نہال بھائی کی گن پوائنٹ پر گاڑی چھینی تھی۔۔۔ مگر یہ آپکو کہاں سے ملا”
عنایہ افسوس سے نمیر کو بتاتی ہوئی دوبارہ نمیر سے پینڈینٹ کے بارے میں پوچھنے لگی
“چھوڑو اس بات کو یہ کہاں سے ملا،، اسے ہمیشہ پہنے رکھنا،، تمہیں تمہاری چیز دوبارہ مل گئی بس اس بات پر خوش ہو جاؤ”
نمیر کو جو باتیں نہال کے بارے میں سمجھ آ رہی تھی اس سے نمیر کو دلی طور پر بہت افسوس ہوا۔۔۔ اس کا بھائی عنایہ کو اس سے الگ کرنے کے لئے اس حد تک جا سکتا ہے ایسا نمیر کبھی نہیں سوچ سکتا تھا مگر وہ عنایہ کو نہال کے بارے میں کچھ بھی بول کر عنایہ کی نظروں میں اپنے بھائی کا امیج نہیں گرا سکتا تھا اس لیے بات کو ٹال گیا۔۔۔ عنایہ اپنے گلے پہنے ہوئے پینڈینٹ کو دیکھتی ہوئی مسکرا کر بیڈ سے اٹھی ویسے ہی باہر بادل بہت زور سے گرجا۔۔۔۔ عنایہ تیزی سے بیڈ پر لیٹے ہوئے نمیر کے سینے سے جا لگی
