370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 14)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“کل شام سے لے کر اب تک وہ وہ لاکھوں دعائیں کر چکی تھی کہ کوئی معجزہ ہوجائے نہال کو ہوش آ جائے مگر جب نکاح نامہ اس کے سامنے رکھا گیا تب اسے اندازہ ہوگیا کہ اس کی ساری دعائیں رائیگاں گئی لرزتے ہاتھوں سے اس نے نکاح نامے پر سائن کیا اور اپنی ساری زندگی اس انسان کے نام کردی جس کے ساتھ کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔۔ نکاح کے بعد ثروت نے گلے لگا کر عنایہ کو دعائیں دیں اور عنایہ کے رونے پر وہ خود بھی رو پڑی عشرت سے یہ سب ڈرامہ زیادہ دیر برداشت کرنا مشکل ہوگیا اس نے کبھی بھی نہیں چاہا تھا نمیر سے عنایہ کی شادی ہو وہ حقارت بھری نظر عنایہ پر ڈال کر اس کے کمرے سے باہر نکل گئی

“بس کرو عنایہ کتنا رو گی یہ سب تقدیر کے فیصلے ہوتے ہیں اور تقدیر کے آگے کب کس کا بس چلا ہے۔۔۔ نہ ہی انسان کبھی اپنی تقدیر سے لڑ سکتا ہے۔۔۔ اس لئے اب جو ہو چکا ہے اس کو ایکسیپٹ کرو میں جانتی ہوں۔۔ اس وقت تمہارے لئے نمیر بھائی کے لئے اس حقیقت کو تسلیم کرنا تھوڑا مشکل ہوگا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا انشاءاللہ”

شانزے گلے لگی ہوئی عنایہ کو سمجھانے لگی وہ کل سے اب تک اس کو اسی طرح سمجھا رہی تھی

“چلو اب منہ دھو کر یہ ڈریس چینج کرکے آؤ۔۔۔۔ ثروت آنٹی دے کر گئی ہیں۔۔۔۔ تمہیں یہ جیولری پہنا کر لائٹ سے میک اپ کردو” عنایہ شانزے کو بے بسی سے دیکھنے لگی شانزے کو اس وقت عنایہ پر ترس آیا وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واش روم کی طرف لے گئی اور اس کے ہاتھ میں ڈریس تھمایا۔۔۔ سی گرین کلر کا ڈریس پر ہلکا سا کام ہوا تھا اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا ڈائمنڈ کا سیٹ جو تھوڑی دیر پہلے ثروت شانزے کو روم میں دے کر گئی تھی کہ وہ عنایہ کو پہنا دے

عنایہ کے روم سے جانے کے بعد شانزے اس کا ضروری سامان سوٹ کیس میں رکھنے لگی تاکہ سوٹ کیس کار میں رکھوا دے۔۔۔ عنایہ ڈریس چینج کرکے باہر آئی تو شانزے نے اس کو جیولری پہنائی۔۔۔ عنایہ نے اس کو میک اپ کرنے کے لیے منع کردیا مگر شانزے کے بہت اصرار پر صرف وہ لائٹ سے لپ اسٹک لگوانے پر راضی ہوئی

****

نمیر نے آج صبح ہی نوفل کو ساری سچویشن فون پر بتائی تھی اس وقت نوفل چار دوستوں اور قاضی کے ہمراہ فرمان کے گھر پر موجود تھا۔۔۔ خاص خاص رشتے داروں اور دوستوں کے سامنے نمیر نے تھکے ہوئے انداز میں نکاح نامہ پر سائن کیا۔۔۔ دوست اور رشتے داروں سے مبارکباد وصول کرنے کے بعد نمیر نوفل کی طرف پلٹا، نوفل اس کو مبارک باد دینے کے لیے بغلگیر ہونا چاہا

“کم ازکم تم تو یہ ڈرامے بازی بند کرو” نمیر نوفل کو دیکھ کر طنزیہ ہنستے ہوئے کہنے لگا

“دیکھو نمیر یہ جو بھی کچھ ہوا”

نمیر نے اسے ہاتھ کے اشارے سے کچھ بھی بولنے سے منع کیا

“ابھی لیکچر سننے کا ہرگز موڈ نہیں ہے میرا،، یہاں سب کچھ دیکھ لینا،، اپنے گھر جانے سے پہلے ماما اور عنایہ کو بھی گھر ڈراپ کر دینا میں نہال کے پاس اسپتال جا رہا ہوں”

نمیر اسکو بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا

****

“کیسی ہو”

نوفل نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے شانزے سے پوچھا چند منٹ پہلے اس نے ثروت اور عنایہ کو انکے گھر ڈراپ کیا تھا اب وہ کار شانزے کے گھر کی طرف لے کر جا رہا تھا۔۔۔ نہال کی مہندی والے دن کے بعد وہ شانزے کو آج دیکھ رہا تھا

“شکر ہے خیال تو آیا”

نوفل کے خیریت پوچھنے پر بے ساختہ شانزے کے منہ سے شکوہ نکلا جس پر نوفل اسے گہری نظروں سے دیکھ کر مسکرایا

“مسکرا کیو رہے ہو”

اپنے بے ساختہ جملہ بولنے پر شانزے نے خود پر بھی ملامت کی اب وہ نوفل کو مسکراتا ہوا دیکھ کر اور جھنجھلا گئی

“تمہارے شکر ادا کرنے پر”

وہ اب بھی مسکرا رہا تھا مگر شانزے کی طرف دیکھنے کی بجائے کار ڈرائیو کرتے ہوئے

“اور تو کوئی کام نہیں ہے بس میری باتوں کو ہی پکڑا کرو”

شانزے سر جھٹک کر کہنے لگی تبھی نوفل نے اس کا ہاتھ پکڑا شانزے گھور کر اسے دیکھا تو نوفل نے ایک نظر شانزے پر ڈالی

“ابھی تم نے خود کہا ہے بس باتیں ہی پکڑا کرو”

نوفل شانزے کے ہاتھ کو دیکھتا ہوا کہنے لگا

“اگر میں تم سے باتیں کر لیتی ہوں کار میں تمہارے ساتھ بیٹھ جاتی ہوں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تم مجھ سے فری ہونے کی کوشش کرو میرا ہاتھ چھوڑ دو”

شانزے کے بولنے پر بر خلاف توقع نوفل نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا مگر وہ کار ڈرائیو کرتے ہوئے بولا

“جہاں تک میں تمہیں جانتا ہوں تم کسی بھی مرد کو فری نہیں کرتی کسی سے بلاوجہ باتیں نہیں کرتی نہ ہی کسی کے ساتھ کار میں بیٹھ سکتی ہوں۔۔۔ مگر تم مجھ سے باتیں بھی کر لیتی ہوں اور میرے ساتھ کار میں بیٹھ بھی جاتی ہوں یعنی دوسرے مردوں کی بانسبت تم مجھ پر بھروسہ کرتی ہوں۔۔۔ مجھے اعتبار کے لائق سمجھتی ہوں۔۔۔ تو پھر میرے یوں ہاتھ پکڑنے پر برہم ہونے کی وجہ۔۔۔ جبکہ تمہارا ہاتھ میں نے چند لمحوں کے لئے نہیں بلکہ زندگی بھر کے لئے تھامے رہنا ہے”

آخری جملے پر نوفل نے کار ڈرائیو کرتے ہوئے شانزے کی طرف دیکھا وہ بھی نوفل کو ہی دیکھ رہی تھی

“کبھی کبھی جیسا ہم سوچتے ہیں ویسا ہرگز نہیں ہوتا۔۔۔ اب نہال بھائی اور عنایہ کی ہی مثال لے لو”

شانزے کے لہجے میں افسردگی شامل تھی یہ افسردگی عنایہ کے لئے تھی

“اس بات کا یہ ہرگز مطلب نہیں ایک واقعے کو دماغ میں بٹھا کر انسان اپنے لیے اپنے پسند کے متعلق سوچنا چھوڑ دے۔۔۔ شاید نمیر نہال اور عنایہ کے لیے اگے جا کر اسی میں کوئی بہتری ہو۔۔۔ہاں ابھی جو انکی زندگی میں یوں اچانک طوفان آیا ہے اس کے لیے دل افسرہ ہے”

نوفل کار ڈرائیو کرتا ہوا بولا

“طوفان تو یونہی اچانک آیا کرتے ہیں زندگی میں اور پھر سب کچھ بہا کر لے جاتے ہیں،، ہنستی بستی زندگی نوحہ اور ماتم میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور ہم مجبور ہوجاتے ہیں اس تبدیلی کے ساتھ جینے میں،، لوگ کہتے ہیں وہ وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ زخم بھر جاتا ہے معلوم نہیں زخم واقعی گھر جاتا ہے یا پھر ہم اس زخم کے ساتھ جینے کے عادی ہوجاتے ہیں۔۔ میں امی اور آپی ہم تینوں بھی اپنی چھوٹی سی دنیا میں خوش تھے پھر ایک دن اچانک ہماری زندگی میں بھی طوفان آیا جو ہماری خوشیوں کو بہا کر لے گیا اس وقت میں بارہ سال کی تھی مگر میرا ننھا سا زہن ساری باتیں سمجھنے لگا وہ دن ہمارے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا”

شانزے اپنی رو میں کھو کر بولے جا رہی تھی وہ ماضی کی بےدرد یادوں میں کافی آگے نکل گئی جب اپنے ہاتھ پر نوفل کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا تو چونکی اور نوفل کو دیکھنے لگی نوفل بھی اسی کو دیکھ رہا تھا

“تم نے پہلے کبھی نہیں بتایا کہ کوئی تمہاری بہن بھی ہے اور نہ ہی آنٹی نے کبھی ذکر کیا ان کا۔۔۔ کہاں رہتی ہیں تمہاری سسٹر اور یہ کس طوفان کا ذکر کر رہی ہو تم”

نوفل تجسس کے ہاتھوں ایک کے بعد ایک سوال شانزے سے پوچھنے لگا

“معلوم نہیں میں بے خیالی میں کیا کیا بول گئی،، مجھے اندازہ نہیں ہوا چلتی ہوں میں” شانزے کار سے اترنے لگی کیوکہ نوفل کار اس کے گھر کے قریب روک چکا تھا

“شانزے کیا میری ذات اب تک اتنی بے اعتبار ہے کہ تم مجھ سے اپنا آپ شیئر کرتے ہوئے ہچکچاو”

نوفل اس کو کار سے اترتا دیکھ کر پوچھنے لگا

“میں نے اور امی نے خود کو بہت مشکلوں سے سمیٹا ہے ماضی کی بھیانک یادوں کا ذکر کرکے میں خود کو دوبارہ ٹوٹتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی۔۔ اگر تم چاہتے ہو کہ میں ہرٹ نہ ہوں تو اس ٹاپک پر دوبارہ کبھی ذکر مت کرنا”

شانزے نوفل کو کہتی ہوئی کار سے اتر گئی مگر کئی سوالات نوفل کے ذہن میں چھوڑ گئی

****

نہال کے پاس سے ہو کر وہ گھر آیا بارہ بجے کا وقت نمیر اپنے کمرے میں داخل ہوا اپنے بیڈ روم میں بیٹھی عنایہ کو دیکھ کر وہ چونکا۔۔۔ یہ بھی تو ایک مرحلہ تو جسے اپنی پریشانی میں وہ فراموش کیے بیٹھا تھا

“اب تک سوئی کیوں نہیں، کیا سوچ کر میرے انتظار میں یوں سج سنور کر بیٹھی ہو،، کہ میں واپس آ کر تمہارا گھونگھٹ اٹھاو گا،، تمہیں رونمائی دوں گا یا تمہارے حسن کی تعریف کروں گا۔۔۔ اگر تم ان سب باتوں کی توقع کر رہی ہو تو اپنی اس خوش فہمی کو دور کر لو”

نمیر سائڈ ٹیبل پر اپنا والڈ اور کیز رکھتا ہوا، نارمل سے انداز میں بناء اس پر دوسری نظر ڈالے بولا

“آپ کو یہ خوش فہمی کیسے لاحق ہوگئی کہ میں آپ سے ان سب باتوں کی توقع کر رہی ہوں۔۔۔ میری توقعات کا دائرہ کافی محدود ہے، میں جن لوگوں سے اچھے کی توقعات کرتی ہوں، اس لسٹ میں اب آپ کا نام کہیں بھی شامل نہیں۔۔۔۔ نہ ہی مجھے سج سنور کر بیٹھنے کا شوق ہے اور نہ ہی آپ کا انتظار کرنے کا۔۔۔۔ شانزے نے آنٹی کے کہنے پر مجھے تیار کیا ہے اور آنٹی ہی کے کہنے پر میں آپ کا انتظار کر رہی ہوں”

بھلا عنایہ خود کون سا اس شادی پر خوش تھی، جو نمیر اس کو باتیں سنا رہا تھا،، اس لیے عنایہ بھی ہمت جمع کرکے حساب بے باک کرنے لگی۔۔۔ بات مکمل ہونے پر نمیر ناگوار نظر اس پر ڈالتا ہوا قدم بڑھا کر اس کے پاس آیا اور عنایہ کو بازو سے پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا

“آج میرے آگے بہت زبان چل رہی ہے تمہاری،، کل یہ زبان کیوں تالو سے چپکی ہوئی تھی جب تمہیں مجھ سے شادی کیلئے بولا جارہا تھا۔۔۔ کیوں نہیں کھولی تم نے اس وقت اپنی زبان”

نمیر اس کا بازو سختی سے پکڑ کر سخت لہجے میں اس سے پوچھنے لگا

“آپ کیوں خاموش رہے آپ نے کیوں نہیں انکار کیا اپنی ماما کے سامنے۔۔۔ آپ بھی تو اس شادی پر ناخوش ہیں، تو آپ ہی سب کے سامنے انکار کر دیتے۔۔ جب آپ مرد ہو کر مجبور ہوگئے تو پھر مجھ کمزور لڑکی سے کیا توقع رکھتے ہیں آپ”

نم آنکھوں کے ساتھ عنایہ بھرائے ہوئے لہجے میں بولی۔۔۔ نمیر نے اس کا بازو چھوڑا اس پر سخت نگاہ ڈال کر وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگا کپڑے لے کر چینج کرنے کے غرض سے وہ ڈریسنگ روم میں چلا گیا واپس آیا تو عنایہ ویسی ہی کھڑی تھی

“اب کی ساری رات یوں میرے سر پر کھڑے رہنے کا ارادہ ہے ہٹو میرے سامنے سے”

وہ لائٹ بند کرکے بیڈ پر لیٹتا ہوا بولا عنایہ کو سمجھ میں نہیں آیا وہ کہا لیٹے بیڈ پر نمیر کے برابر میں لیٹنے کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔ روم میں نظر دوڑانے پر بیڈ کے سامنے ٹو سٹر صوفہ نظر آیا مگر بھلا وہ اتنے چھوٹے صوفے پر کیسے سو سکتی تھی اس لئے روم سے باہر نکلنے لگی

“کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ اب کمرے سے باہر جاکر ماما پر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم کہ میں نے تمہیں اپنے کمرے سے نکال دیا” نمیر لیمپ آن کر کے اٹھ کر بیٹھا اور غصے میں عنایہ کو دیکھ کر کہنے لگا

“تو آپ ہی بتائیں ناں پھر کہاں گم کرو اس وقت میں اپنی شکل”

اسے اپنی بے بسی پر غصہ آرہا تھا وہ ضبط کرتی ہوئی بولی

“یہ اتنا بڑا صوفہ نظر نہیں آ رہا تمہیں، یہاں گم کرو اپنی شکل”

نمیر نے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے غصے میں کہا کیوکہ وہ دو راتوں کا جاگا ہوا تھا اور اس وقت اسے شدید نیند آ رہی تھی۔ ۔ ۔ نمیر کے صوفے کی طرف اشارہ کرنے پر، عنایہ اس بڑے صوفے کا سائز دیکھنے لگی اور قدم اٹھاتی ہوئی صوفے کے پاس آکر،، اپنا آپ اس صوفے پر ایڈجسٹ کرنے لگی،،، کوئی اڑتی ہوئی چیز عنایہ کے منہ پر آگری تو بے ساختہ عنایہ کے منہ سے چیخ نکلی مگر ہاتھ سے ٹٹولنے کے بعد اندازہ ہوا وہ تکیہ تھا جو یقیناً نمیر نے اچھال کر اسے سونے کے لئے دیا تھا،،، مہربانی کے اس انداز پر عنایہ کا دل ہی جل گیا

“عنایہ میں بہت تھکا ہوا ہوں اور مسلسل دو راتوں کا جاگا ہوا ہوں اس وقت میں صرف سونا چاہتا ہوں اب مجھے تمہاری کوئی دوسری آواز نہیں آنی چاہیے”

اندھیرے میں عنایہ کے کانوں میں نمیر کی آواز گونجی اس کے تھوڑی دیر بعد عنایہ کو اندازہ ہو نمیر سو چکا ہے وہ آہستہ سے اٹھی ڈریسر کے سامنے کھڑے ہو کر گلے سے پینڈنٹ اور ایئر رنگز ہاتھوں میں موجود کڑے اتار کر ڈریسر پر رکھتی ہوئی ڈریسنگ روم میں چلی گئی جہاں اس کا سوٹ کیس رکھا ہوا تھا۔۔۔ اپنے لئے ارام دے سوٹ نکال کر چینج کر کے وہ دوبارہ روم میں آئی اور آہستہ سے آکر صوفے پر لیٹ گئی جس پر وہ اپنے پاؤں بھی پوری طرح نہیں پھیلا سکتی تھی،، نیند نہ آنے کے باوجود وہ سونے کی کوشش کرنے لگی