370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 47)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“کب تک کا ارادہ ہے واپس نکلنے کا” صبح ناشتے کی میز پر ان چاروں کے علاوہ نائلہ اور صائمہ بھی موجود تھی تب نوفل سے نمیر پوچھنے لگا

“ابھی بہت ضروری کام باقی ہے اس کے بعد چلتے ہیں”

نمیر کے جواب میں نوفل بولا تو سب اس کی سمت دیکھنے لگے۔۔۔ اس سے پہلے وہ اپنی بات کی وضاحت کرتا اس کے موبائل پر کال آنے لگی

“ٹھیک ہے میں آتا ہوں”

نوفل موبائل پر بولتا ہوا باہر دروازہ کھولنے گیا

نوفل کے ساتھ اندر آنے والے شخص کو دیکھ کر سب حیرت زدہ ہوگئے سب سے پہلے شانزے کرسی سے اٹھی اور چلتی ہوئی نہال کے پاس آئی اس سے پہلے وہ اس پر جھپٹتی یا اسکا گریبان پکڑتی نوفل نے شانزے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے قابو کیا

“شانزے رکو میری بات سنو”

نوفل شانزے کو پکڑتا ہوا بولا۔۔۔ سب اپنی جگہ کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے

“چھوڑو مجھے نوفل اس شخص نے میری بہن کی زندگی برباد کی ہے میں اسے نہیں چھوڑو گی” شانزے کا بس نہیں چل رہا تھا وہ اپنے سامنے کھڑے نہال کا منہ نوچ لے یقیناً وہ ایسا ہی کرتی یا اس سے بھی برا اگر نوفل نے اس کے سختی سے دونوں ہاتھ نہیں پکڑے ہوتے

“وہ یہاں معافی مانگنے آیا ہے”

نوفل اسے پکڑتے ہوئے سمجھانے لگا تب شانزے نوفل کو دھکا دے کے زور سے چیخی

“کس بات کی معافی اس شخص کا گناہ معافی لائق ہے،، جانتے ہو تم میری بہن جب بے آبرو ہو کر واپس لوٹی تھی میری ماں اور میری کیا حالت تھی۔۔ کیسی قیامت گزری تھی ہمارے اوپر اور میری بہن اس پر کیا بیتی تھی تم جانتے ہو اس شخص کو،،، یہ آدمی میری بہن کو بے آبرو کر کے اس کو زخمی حالت میں چھوڑ کر وہاں سے بھاگ گیا تھا۔۔۔ آپی ہر میل ڈاکٹر کو دیکھ کر ہر آدمی کو دیکھ کر،،، زور زور سے چیخے مارتی تھی۔۔۔ اس حادثے نے میری بہن کے دل میں مرد ذات کے لئے خوف بٹھا دیا،، وہ ہمیں دیکھ کر روتی تھی اب چھ سال گزرنے کے بعد وہ نارمل ہوئی ہے مگر وہ نارمل ہونے کے باوجود اب بھی نارمل نہیں ہے وہ مسکرانا بھول گئی ہے۔۔۔ خوش ہو یا دکھی ہو وہ کوئی ری ایکٹ نہیں کرتی۔۔۔ صرف اور صرف تمہارے اس دوست کی وجہ سے”

شانزے نے نوفل کو بولتے ہوئے نہال کی طرف رخ کر کے فرش پر تھوکا۔۔

نہال آنکھوں میں ندامت کے آنسو لئے شرمندگی سے سر جھکا گیا کمرے میں ایک پل کے لیے خاموشی ہوگئی شانزے اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی کمرے سے چلی گئی جبکہ نائلہ روتی ہوئی دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئی نہال چلتا ہوا نائلہ کے پاس آیا اور نائلہ کے قدموں میں بیٹھ گیا

“میرا گناہ معافی لائق نہیں میں نے بہت برا کیا آپ کی بیٹی کے ساتھ،، میں فرحین کا گناہ گار ہوں،، مجھے اپنے کیے گئے گناہ کا پچھتاوہ پچھلے چھ سالوں میں اتنا نہیں ہوا جتنا دو دن سے ہو رہا ہے۔۔۔ اندر سے بہت بے سکونی محسوس کر رہا ہوں میں،، مجھے معلوم ہے آپ مجھے معاف کریں یا نہ کریں مگر اب میں کبھی بھی اپنا سر نہیں اٹھا پاؤں گا کسی کے بھی سامنے۔۔۔ آپ کے لئے مجھے معاف کرنا بہت مشکل ہوگا مگر میں چاہتا ہوں آپ مجھے معاف کر دیں،، اگر دل سے معاف نہیں کر سکتیں تو کم ازکم منہ سے بول دیں آپ نے مجھے معاف کیا شاید مجھے سکون مل جائے”

نہال آنکھوں میں ندامت کے آنسو لیے ہاتھ جوڑ کر نائلہ کے سامنے معافی مانگنے لگا

“ایک ماں اتنا بڑا دل کیسے لا سکتی ہے جس شخص نے اس کی بیٹی کی عزت کو پامال کیا وہ اس کو معاف کردے بہت مشکل عمل ہے یہ۔۔۔ اگر میرے بولنے سے تمہیں سکون ملتا ہے تو ٹھیک ہے میں بول دیتی ہو میں نے تمہیں معاف کیا۔۔ اور کوشش بھی کروں گی تمہیں معاف کردو اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے”

نائلہ اٹھ کر وہاں سے شانزے کے پاس چلی گئی اس کے پیچھے صائمہ بھی

نوفل نے آگے بڑھ کر نہال کے کندھے پر ہاتھ رکھا نہال نے اپنے آنسو صاف کر کے اسے دیکھا۔۔۔ نہال اٹھ کر کھڑا ہوا تو نوفل اسے اپنے ساتھ کمرے میں لے گیا۔۔۔ نمیر خاموشی سے سارا ڈرامہ دیکھ کر روم میں چلا آیا عنایہ بھی نمیر کے پیچھے کمرے میں چلی آئی

****

“تو میری بہن کے لیے تمہارا انصاف یہ کہتا ہے کہ ہم اس کے مجرم کو اسی کے ساتھ بیاہ کر ساری زندگی کے لیے اسی کے حوالے کردیں واہ نوفل”

شام میں جب نمیر عنایہ شانزے نائلہ صائمہ موجود تھے تب نوفل نے نائلہ سے فرحین کے لئے نہال کی بات کی۔۔۔ جس کا سن کر سب سے اپنی جگہ حیرت زدہ ہوئے مگر شانزے نوفل کی بات پر فوراً بولی

“یہ فرحین کے لئے میرا انصاف نہیں کہتا شانزے،، نہال کو اپنے کیے گئے عمل کا احساس ہے وہ شرمندہ ہے اور اپنی غلطی کا مداوح کرنا چاہتا ہے خود اس نے مجھ سے بات بولی ہے تبھی میں نے آنٹی سے ایسا کہا”

نوفل جانتا تھا سب سے پہلا اعتراض اس کی بیوی کی طرف سے ہی اٹھنا تھا۔۔ نہال کی آمد پر وہ اس کے روم سے دوبارہ نائلہ کے پاس چلی گئی تھی

“غلطی نہیں گناہ۔۔۔گناہ کیا ہے تمہارے دوست نے اور گناہ کی سزا ہوتی ہے مداوح نہیں،، میں واپس جاکر اس کے خلاف مقدمہ دائر کروں گی”

شانزے نوفل کی بات کی تصدیق کرتی ہوئی اسے اپنا ارادہ بھی بتانے لگی

“ٹھیک ہے میں اس کے گناہ کو نظر میں رکھتا ہوا اسے اریسٹ کرلیتا ہوں۔۔۔ اس کے بعد تم نہال پر اپنی بہن کے ریپ کا کیس فائل کر دینا۔۔۔ عدالت کورٹ کچہری کے چکر لگاتی رہنا ہر ماہ پیشی پر اپنی بہن کو لے کر عدالت کے چکر لگانا جہاں اس سے کھلم کھلا سارے سوالات کی تصدیق کی جائے گی۔ ۔۔ جس کے جوابات اس نے آج تک تمہیں نہیں بتائے ہوگے مگر وہ سب اسے وہاں بتانا پڑے گے۔۔۔ سال ڈیڑھ سال تک مقدمہ چلتا رہے گا ہر ماہ بعد اگلے ماہ پیشی کی تاریک ملتی رہے گی۔۔۔ یہ سب باتیں جن کے علم میں ابھی تک نہیں آئی ہے ان کے سامنے بھی کھل کر آئے گیں اور پھر تم ان کو بھی وضاحتیں پیش کرنا۔۔۔ اس کے بعد نہال کو سات سے آٹھ سال تک کی سزا ہو جائے گی۔۔۔ اور سات سے آٹھ سال بعد اپنی سزا پوری کر کے وہ ہر چیز سے بری الذمہ ہوجائے گا۔۔۔ یہ آپشن تمہاری نظر میں بیسٹ ہے یا پھر یہ کہ فرحین اپنی باقی کی زندگی اس کے ساتھ گزارے نہال واقعی شرمندہ ہے۔۔۔ اگر اس نے فرحین کی زندگی برباد کی ہے تو اسے آباد بھی وہی کرے گا وہ اسے واپس نارمل لائف میں لے کر آئے گا۔۔۔ فوری طور پر نہ سہی مگر آہستہ آہستہ اس کی لائف نارمل ہوجائے گی۔۔۔۔ یا تم یہ چاہتی ہو کہ ساری زندگی فرحین بے سہارا اور مظلوم عورتوں کے بیچ میں رہ کر انہی کے ساتھ زندگی گزارتی ہوئی اپنے آپ کو ان جیسا سمجھتی رہے”

نوفل کی بات سن کر تھوڑی دیر کے لئے شانزے سے چپ ہو گئی

“میرا دل نہیں مانتا کہ میری بہن اپنی باقی کی زندگی اس انسان کے ساتھ گزارے جس نے اس کی زندگی خراب کی”

شانزے نوفل کو دیکھتی ہوئی بولی

“تو اب وہ اسے اپنی زندگی میں شامل کرکے اس کی زندگی سنوارے گا تو اس میں حرج کیا ہے”

نوفل بھی شاید اس سے بحث کے موڈ میں لگ رہا تھا جبھی سنجیدگی سے بولا

“اپنے دوست کی وکالت کرنا بند کرو نوفل۔۔۔ تمھاری ایمانداری کی نشر خبریں میں ٹی وی پر دیکھ چکی ہوں۔۔۔ اب ویسے ہی ایمانداری سے اپنا فرض نبھاؤ اور آریسٹ کرو اپنے دوست کو”

شانزے کی بات پر نوفل نے غصے میں گھور کر اسے دیکھا اس سے پہلے وہ کچھ دوبارہ شانزے کو بولتا نائلہ بول اٹھی

“فرحین کی زندگی کا فیصلہ تم نہیں کرسکتی شانزے،، میں ماں ہو اسکی جیسا میں چاہو گی وہی کرو گی تم کل نوفل کے ساتھ اپنے گھر واپس جانے کی تیاری کرو اور نوفل آپ تھوڑی دیر بعد نکاح خواں کو لے کر آ جاؤ۔۔۔ فرحین سے میں بات کرتی ہوں” نائلہ کے بولنے پر کمرے میں موجود سب افراد اسی کی طرف دیکھنے لگے

“امی آپ کیا کر رہی ہیں، اگر وہ داماد ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں آپ اس کی ہر بات مانے گیں” شانزے نائلہ کو دیکھتی ہوئی بولی

“میں کسی کی بات نہیں مان رہی جو مجھے فرحین کے لیے صحیح لگے گا میں وہ کروں گی،، اب اپنی زبان چلائے بغیر کمرے سے جاؤ”

نائلہ آنکھوں سے شانزے کو تنبیہی کرتے ہوئے بولی شانزے نوفل پر ناراض نگاہ ڈال کر وہاں سے چلی گئی

****

“تو دوستی کا فرض نبھایا جارہا ہے گڈ” شانزے کے روم سے جاتے ہی عنایہ اس کے پیچھے چلی گئی جبکہ صائمہ اور نائلہ دوسرے خواتین والے پورشن میں چلی گئی فرحین سے بات کرنے، تب نمیر نوفل کو دیکھتا ہوا بولا

“تو تم ایسا نہیں چاہتے تم بھی شانزے کی بات سے ایگری کرتے ہو”

نوفل نمیر کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“اپنی جگہ وہ بھی غلط نہیں ہے ظاہری بات ہے فرحین اس کی بہن ہے اس لیے تمھاری اس کا دل دکھا ہوا ہے اپنی بہن کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر۔۔ اس لیے وہ تمہاری تجویز قبول نہیں کر پا رہی ہے ویسے تمہیں کیا لگتا ہے نہال کے لیے یہی سزا کافی ہے”

نمیر نوفل کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“یار نہال کو اس کے کیے کی سزا دینے والے ہم کون ہوتے ہیں،، نمیر اسے اس کے گناہ کی سزا اوپر والے سے مل چکی ہے۔۔۔ وہ دو ماہ تک زندہ لاش کی طرح بستر پر پڑا رہا جسے اس نے سچے دل سے چاہا وہ اب اس کے بھائی کی زندگی میں شامل ہے اس کی بھابھی کے روپ میں۔۔۔ وہ اپنے گناہ کی وجہ سے اب ساری زندگی کسی کے سامنے نظر نہیں ملا پائے گا وہ واقعی بہت شرمندہ ہیں نمیر۔۔۔ کل اس نے مجھے خود کال کی تھی وہ یہاں نائلہ آنٹی سے معافی مانگنے آنا چاہتا تھا اور آج صبح اس نے خود مجھ سے خود کہا وہ فرحین کو نارمل لائف میں واپس لانا چاہتا ہے۔۔۔ شاید اسطرح وہ ریلیکس ہو جائے اسے سکون مل جائے مجھے لگتا ہے اگر کوئی اپنی غلطی پر نادم ہو تو اسے ایک موقع ملنا چاہیے”

نوفل نمیر کے سامنے اپنی رائے دیتا ہوا بولا

“اور تمہاری بیوی جو تم سے اچھا خاصا ناراض ہوگئی ہے اس کا کیا کروگے”

نمیر اب بھی سنجیدگی اس سے پوچھ رہا تھا جس پر نوفل نے اس کو مسکرا کے دیکھا

“وہ زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہ سکتی مجھ سے منا لوں گا”

نوفل کی بات پر نمیر مسکرایا

“زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہ سکتی بس غصے میں گولی مار سکتی ہے”

نمیر کی بات سن کر نوفل نے گھور کر اسے دیکھا

“ایسے طعنے تم مجھے نہیں دو۔۔ یہ طعنے میں اپنی بیوی کو اگلے دس سال تک دینے کا ارادہ رکھتا ہوں” نوفل کی بات سن کر نمیر دوبارہ مسکرایا

“مجھے معلوم ہے تم کتنے بڑے زن مرید ہو یہ طعنے تم کبھی نہیں دے سکتے اپنی بیوی کو”

نمیر کی بات سن کر نوفل بھی ہنسا

“چلو اب میرے ساتھ نکاح کے کچھ انتظامات کرواؤ میرا اکیلے کا دوست نہیں لگتا، وہ تمہارا بھی بھائی ہے” نوفل اسے بولتا ہوا باہر نکلا نمیر بھی گاڑی کی چابی پاکٹ میں چیک کرتا ہوا اسکے پیچھے نکل گیا

****

معلوم نہیں نائلہ اور صائمہ نے فرحین کو کیسے اور کیا کہہ کر نکاح کے لیے راضی کیا۔۔۔ گھر میں چند خواتین اور گھر کے افراد کے سامنے اس کا نکاح نہال سے پڑھایا گیا جبکہ شانزے ان سب میں شامل نہ ہوئے بغیر نائلہ کے کمرے میں بیٹھی روتی رہی۔۔۔ وہ نوفل کے پاس اس کے کمرے میں بھی نہیں جا رہی تھی نوفل نے بھی ابھی خاموشی برتی۔۔وہ اسے اپنے ساتھ واپس لے جاکر اسے منانے کا ارادہ رکھتا تھا

****

فرحین کو اس وقت صائمہ خالہ کے گھر والے پورشن میں لاکر ایک بیڈ روم میں بٹھایا گیا اس کا دل اب ان عورتوں کے درمیان ہی لگتا تھا۔۔۔ صائمہ اور نائلہ بہلا کر اسے اپنے ساتھ لائی تھی پھر نائلہ نے بہت پیار سے اسے سمجھایا تھا کہ آج اس کا نکاح ہے وہ ایک اچھی بیٹی کی طرح اپنی ماں کا مان رکھ لے اور نکاح کے لئے راضی ہو جائے جس پر فرحین بہت روئی۔۔۔ اسے صائمہ اور نائلہ نے بہت پیار کیا۔۔۔ اسے اپنی چھوٹی (شانزے) نہیں دکھائی دے رہی تھی کل سے،،، مگر اب وہ اپنے دل میں آئی بات کسی سے پوچھتی نہیں تھی دل میں ہی رکھتی تھی مگر چھوٹی کو اس وقت اس کے پاس آنا چاہیے تھا

نائلہ ایک خوبصورت لڑکی کو اس کے پاس لے کر آئی،، نائلہ نے بتایا یہ شانزے کی دوست ہے وہ پیاری سی لڑکی اس سے بہت پیار سے مل رہی تھی۔۔۔ اس سے بہت کم لوگ پیار سے ملتے تھے زیادہ تر لوگوں کی آنکھوں میں اس کے لیے افسوس، ترس، رحم اور کبھی کبھی کرائیت بھی ہوتی تھی

جب نکاح کا وقت آیا اور اسے رضامندی پوچھی گئی نہال کے نام پر وہ خوفزدہ نظروں سے نائلہ کو دیکھنے لگی

“میری لاج رکھ لے بیٹا قبول کرلے”

نائلہ کے الفاظ پر اس نے نکاح نامے پر یہ سوچ کر سائن کیا وہ اپنی عزت گنوا کر ایک دفعہ اپنی ماں کی لاج نہیں رکھ سکی تھی اب دوبارہ وہ ایسا کیسے کر سکتی تھی۔۔۔ بہت سارے آنسو اسکی آنکھ سے گرے جس کے ساتھ اس نے نکاح نامہ پر سائن کیے

دروازہ کھلنے کی آواز پر فرحین کی سوچوں کا ارتکاز ٹوٹا۔۔ آنے والے شخص کو اس نے اپنے سامنے کھڑا دیکھا تو حیرت اور خوف سے اس کی آنکھ کھل گئی جسم کے اوپر جیسے چونٹیاں رینگنے لگی وہ تیزی سے اٹھ کر خوف کے مارے دیوار سے جا لگی

نہال بہت ساری ہمت جمع کر کے فرحین کے پاس کمرے میں گیا تھا اس کی نظر فرحین پر پڑی تو چونک گیا وہ اس فرحین سے بالکل مختلف تھی جو چھ سال پہلے اس کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتی تھی۔۔۔ وقت اور حالات نے اسے اس کی عمر سے بڑا کردیا تھا وہ اپنی عمر سے تین چار سال بڑی لگ رہی تھی دبلی پتلی ہڈیوں کا ڈھانچا،، وقت سے پہلے جگہ جگہ بالوں میں آئی چاندی،، چہرے کی رونق بھی اس حادثے نے چھین لی تھی۔۔۔ اس کی حالت دیکھ کر نہال کو مزید پچھتاوے نے گھیرا فرحین اسے دیکھ کر پہچان گئی تھی تبھی وہ خوفزدہ ہو کر دیوار سے جا لگی جیسے اپنے لئے کوئی جائے پناہ تلاش کر رہی ہو نہال کو مزید شرمندگی ہونے لگی

“فرحین مجھے معاف کر دو پلیز صرف ایک بار مجھے معاف کردو۔۔ میں اپنے گناہ پر شرمسار ہو بہت بے سکونی ہے مجھے،، جب تک تم مجھے معاف نہیں کروں گی تو میرے دل پر بوجھ بڑھتا رہے گا۔۔ میں نے تمہارے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ بھی زیادتی کی ہے۔۔۔ آج مجھے احساس ہو رہا ہے عزت کتنی قیمتی چیز ہوتی ہے میں نے اس وقت اپنے نفس پر قابو نہ پا کر تمہاری عزت کو پامال کیا تھا۔ ۔۔۔ دیکھو آج میرے اپنوں کے سامنے میری عزت کی دھجیاں بکھری ہیں۔،۔۔ میں نمیر، عنایہ نوفل شانزے کسی سے بھی نظریں نہیں ملا پا رہا میں اسی کا مستحق ہو کیوکہ میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا پلیز مجھے معاف کردو”

نہال فرین کے قریب آ کر اس سے معافی مانگنے لگا وہ دیوار سے چپک کر نیچے فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔ اب وہ دونوں ہی زمین پر بیٹھے ہوئے رو رہے تھے،، نہال واقعی اپنے کیے پر نادم تھا اس کے سامنے زمین پر بیٹھا ہاتھ جوڑ کر رو رہا تھا

“تم نے میری عزت نہیں چھینی مجھ سے میری زندگی کی ہر خوشیوں سے محروم کردیا۔۔ میرا دل اندر سے مار دیا، میری مسکراہٹ تم چھین چکے ہو،، زندگی کی امنگ، زندہ رہنے کی خواہش۔۔۔ سب کچھ،، اب کچھ اچھا نہیں لگتا مجھے،، مجھے کسی چیز کی چاہ نہیں بچی ہے،،، تم مجھ سے معافی مانگ رہے ہو میرے پاس بچا ہی کیا ہے تمہیں دینے کے لیے تم میرا سب کچھ چھین چکے ہو نہال، اب تمھیں مجھ سے معافی چاہیے ٹھیک ہے میں نے تمہیں معاف کیا”

مختصر سے جملے بولنے والی فرحین چھ سال بعد بولی تھی

“میں واقعی تم سے سب کچھ چھین چکا ہوں میں اس لائق نہیں کہ مجھے معاف کیا جائے مگر میں وعدہ کرتا ہوں تم سے، تمہارا دل دوبارہ آباد کر دو گا تمہارے ہونٹوں سے مسکراہٹ چھینی ہے تو میں ہی ان پر مسکراہٹ لے کر آؤں گا۔۔۔ تمہاری زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھر دوں گا تمہیں دوبارہ زندگی سے پیار ہو جائے گا پرامس ہے میرا تم سے”

نہال اپنے چہرے سے آنسو صاف کرتا ہوا یہ سب جیسے فرحین سے نہیں خود سے عہد کر رہا تھا۔۔۔ اس نے جب فرحین کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا تو فرحین روتے ہوئے اسے دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔۔۔ نہال نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما فرحین کو مزید رونا آیا تو نہال اس کے آنسو پوچھنے لگا

****