370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 5)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

بینکوئیٹ میں ہر طرف مہمانوں کی چہل پہل نظر آرہی تھی۔۔۔ ایک طرف فرمان اور عشرت ریسپشن پر کھڑے آنے والے گیسٹ کا ویلکم کر رہے تھے دوسری طرف ثروت سب مہمانوں کا حال احوال پوچھ رہی تھی۔۔۔۔ دونوں گھرانوں میں کیوکہ پہلی خوشی تھی اس لیے بڑے پیمانے پر تقریب کا انتظام کیا گیا تھا۔۔۔ منال ان سب سے بے زار ہوکر مسلسل اپنے موبائل پر مصروف تھی

نوفل،، نہال اور نمیر تینوں اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑے باتیں کر رہے تھے۔۔۔

نہال ہر تھوڑی دیر بعد ایک نظر سجی سنوری اسٹیج پر اپنی کزن کے ساتھ بیٹھی عنایہ پر ڈال لیتا۔۔۔ اسے ثروت کا یہ اپنے لیے عنایہ کی صورت انتخاب بہت پسند آیا تھا جیسا مزاج وہ رکھتا تھا عنایہ اس لحاظ سے اس کے لیے پرفیکٹ تھی۔۔۔

وہ نہال کو عام دنوں کے مقابلے میں آج تھوڑی بڑی لگی شاید میک اپ اور ہیوی جیولری کی وجہ سے ایسا لگ رہا ہو۔۔۔ آج فرسٹ ٹائم نہال نے اسے اتنا تیار دیکھا تھا ورنہ ہمیشہ وہ اسے سمپل ہی نظر آتی۔۔ جو بھی تھا نہال کا دل بار بار عنایہ کی طرف مائل ہوا جارہا تھا وہ اسے بہت پیاری لگ رہی تھی مگر عنایہ کی تعریف وہ اسی کے سامنے کرنے کا خواہشمند تھا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد نہال کی نظر اسٹیج پر اٹھی تو عنایہ کو اکیلا بیٹھا پایا،،، شاید اس کی کزن وہاں سے چلی گئی تھی وہ اپنے دوستوں سے ایکسکیوز کرتا ہوا اسٹیج پر آیا

“کیا ہوا سب خیریت ہے”

نہال نے اسٹیج پر آکر عنایا سے پوچھا جوکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ریلیکس بیٹھی ہوئی تھی مگر نہال کو اسٹیج پر آتا دیکھ کر اس کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار رونما ہونے لگے

“جی سب خیریت ہے”

اب وہ اسٹیج سے نیچے سب لوگوں کو دیکھ کر جواب دینے لگی

“تو اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو”

نہال نے اس کی پریشانی کی وجہ جاننی چاہیی

“نہیں وہ سب لوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں”

عنایہ ایک نظر نہال پر ڈال کر کہتی ہوئی دوبارہ لوگوں کو دیکھنے لگی جیسے کسی کو ڈھونڈ رہی ہو

“تو کیا ہوا اللہ پاک نے سب کو آنکھیں دیکھنے کے لئے ہی دی ہیں،، انہیں اپنا کام کرنے دو تم یہاں میری طرف دیکھو”

نہال نے عنایہ کا کنفیوز چہرہ دیکھ کر اسے آرام سے سمجھاتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔ عنایہ نے نہال کو ایک نظر دیکھا،، مگر نہال کی نظروں کو خود پر محسوس کرکے عنایہ اپنی نظریں جھکا گئی

“تم نے اس دن میرے شکریہ کا انتظار کیا”

نہال عنایہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“میں گیارہ بجے تک سو جاتی ہو ورنہ صبح صبح کالج کے لئے اٹھا نہیں جاتا”

عنایہ کی بات سن کر نہال کے چہرے پر مسکراہٹ آئی کیوکہ جس دن نہال نے عنایہ کو کالج سے گھر چھوڑا تھا اس دن نہال نے عنایہ کو کال یا میسج کر کے شکریہ نہیں کہا تھا

“یعنی گیارہ بجے سے پہلے تم نے میرے شکریہ کا انتظار کیا”

نہال اب اس کی طرف مسکراتی نظروں سے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا عنایہ اس کی بات سن کر ایک بار پھر نظریں جھکاؤ گئی

“میں نے تمہیں اس دن اس لئے کال کر کے شکریہ نہیں کہا کیوکہ میں تمہیں فیس ٹو فیس شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔۔۔ میرے پرپوزل کو ایکسپٹ کرنے کے لیے بہت بہت شکریہ،، میں جانتا ہوں ہم دونوں کے بیچ گیارہ سال کا ایج ڈفرینس ہے،، ایک 18سال کی لڑکی اور 30 سال کے مرد کی منٹیلٹی، ان دونوں کی سوچوں میں کافی فرق ہوتا ہے۔۔۔ میں پوری کوشش کروں گا یہ فرق ہم دونوں کے رشتے میں حائل نہ ہو۔۔۔ تم بغیر جھجھکے،، بغیر شرمائے مجھ سے اپنی ہر بات،، ہر پرابلم شیئر کرسکتی ہو۔۔۔ میں تھوڑا بہت ریزرو نیچر کا مالک ہوں ہر کسی سے ایک دم فرینک نہیں ہوتا مگر کمپلیکیٹڈ ہرگز نہیں ہوں۔۔ اسطرح گھبرانا چھوڑ دو عنایہ ہم دونوں کی طرف کوئی نہیں دیکھ رہا”

اپنی بات کے اختتام پر ایک دفعہ پھر نہال نے نرمی سے عنایہ کو بولا جو مسلسل اسٹیج سے نیچے کسی اور کو دیکھنے میں مصروف تھی

“مامی نے سختی سے منع کیا تھا کہ آپ سے زیادہ بات کرنے کی اور فرینک ہونے کی ضرورت نہیں ہے،،، مامی بہت دیر سے ہم دونوں کو دیکھی جا رہی ہیں وہ بعد میں مجھ سے ناراض ہوگیں”

عنایہ نہال کو دیکھ کر بے چارگی سے بولی۔۔۔ شاید نہال کے تھوڑی دیر پہلے بخشے ہوئے اعتماد کی وجہ سے عنایہ اس طرح اس سے عشرت کے بارے میں بول گئی۔۔ ۔۔ نہال نے جب عشرت کی طرف دیکھا تو وہ واقعی ان دونوں کو ناپسندیدہ نظروں سے ہی دیکھ رہی تھی

“عنایہ بڑوں کا احترام چھوٹوں پر لازم ہوتا ہے لیکن ہمارے بڑے اگر جان کر زیادتی کریں تو اپنے حق کے لئے بولنا چائیے۔۔۔ کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے،، اگر خالہ جانی بعد میں کچھ بھی کہئے،،، تو کہہ دینا آپ کا بھانجہ خود مجھ سے بات کرنے میرے پاس آیا تھا۔۔۔ ویسے اب وہ تمہیں کچھ بھی نہیں کہیں گی بے فکر ہوجاو”

نہال اس کو نروس دیکھ کر اسٹیج سے جانے لگا مگر کچھ یاد آنے پر پلٹا

“اور ہاں سب سے امپورٹنٹ بات تو بتانا بھول ہی گیا”

نہال عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا تو عنایہ بھی اس کو دیکھنے لگی

“تم بہت پیاری لگ رہی ہو”

نہال کے بولنے پر عنایہ نے نہال کی طرف دیکھا۔۔۔ نہال کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی دیکھ کر عنایہ نے ہلکی سی اسمائل دی نہال مسکراتا ہوا اسٹیج سے اتر گیا

***

“یار نمیر دیکھ وہ وہی ہے جس نے ہفتے بھر سے تیرے بھائی کو بےچین کر رکھا ہے”

نوفل دوستوں میں گھرے ہوئے نمیر کو کھینچ کر ایک طرف لایا اور شانزے کی طرف اشارہ کرتا ہوا بتانے لگا۔۔۔ بلیک کلر کے ڈریس میں اپنی تمام تر خوبصورتی اور مغروریت چہرے پر سجائے بینکوئیٹ کے داخلی راستے سے نوفل کو اپنی ظالم حسینہ آتی ہوئی دیکھی

“وہ کالے کپڑوں والی لڑکی،،، وہی جس سے تم نے منہ پر چپیڑ کھائی تھی”

نمیر دور سے شانزے کو دیکھتا ہوا نوفل سے پوچھنے لگا۔۔۔ نمیر کی بات سن کر نوفل اپنی ساری ایکسائٹمنٹ بھلا کر ایک دم سیریس ہوا

“ہاں وہی کالے کپڑوں والی اور تمہیں پورا سین بتانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ تم زلالت پر اتر آو۔۔۔ ویسے یار یہ یہاں کیا کر رہی ہے،، مطلب تم لوگوں کی جانے والی ہوگی۔۔۔ میرا پیارا بھائی،، ذرا اس کے بارے میں کچھ معلومات فراہم کر کے اپنی دوست کا حق تو ادا کر ناں میرے یار”

نوفل اب نمیر کو پیارے سے بہلاتے ہوئے بولنے والا لگا

“نہیں یہ ہمارے رشتے داروں میں سے تو نہیں ہے،، میں بھی اسے فرسٹ ٹائم ہی دیکھ رہا ہوں۔۔۔ ہوسکتا ہے منال کی یا پھر عنایہ کی کوئی دوست ہو ویسے اس کی شکل دیکھ کر لگتا نہیں کہ یہ اتنی بہادر ہے میرا مطلب ہے۔۔۔ لگتا نہیں ہے کہ اس نے تمہارے منہ پر تھپڑ رسید کردیا ہوگا”

نمیر نے آخر میں ایک بار پھر زلالت کا مظاہرہ کیا جس پر نوفل کا شدت سے دل چاہا کہ وہ مُکا مار کے اس کا منہ توڑ دے

“تم جیسے بے ہودہ دوست اگر زندگی میں موجود ہو تو انسان کو کبھی دشمنوں کی ضرورت نہیں پڑنی ہے خیر میں خود ہی اپنے لیے کچھ نہ کچھ کر لیتا ہوں”

نوفل اپنے اس مطلب پرست دوست کو دیکھتا ہوا بولا

“دھیان سے میرے دوست یاد رکھنا یہاں پر کافی لوگ موجود ہے یہاں اگر سب کے سامنے پڑ گیا تو ایک پولیس والوں کا اور بھی ریکارڈ لگے گا”

نمیر کے مخلصانہ مشورے پر نوفل اسے گالی دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا

****

“ہیلو کیسی ہیں آپ”

شانزے وہاں پر صرف عنایہ کی ناراضگی کی دھمکی کی وجہ سے آئی تھی مگر اب اکیلی بیٹھی ہوئی اسے بوریت محسوس ہو رہی تھی جبھی اپنے قریب سے آتی مردانہ آواز پر چونکی

“کون ہے آپ”

شانزے اسے دے کر فوراً پہچان گئی مگر چہرے پر اجنبیت کے ساتھ ساتھ سنجیدگی طاری کرتے ہوئے پوچھنے لگی

“مجھے نہیں پہچانا آپ نے”

نوفل حیرت سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگا

“مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہاں پر شاہ رخ خان بھی انوائٹڈ ہے”

شانزے اس پر سنجیدگی سے طنز کرتی ہوئی بولی

“ہاہاہا۔۔۔ طنز اچھے مارتی ہیں آپ۔۔۔ چلیں میں آپ کو یاد دلا دیتا ہو چند دن پہلے آپ کسی پکے ہوئے آم کی طرح میری جھولی میں آ کر گری تھیں۔۔۔ میرا مطلب ہے ہفتے پہلے ہی میں نے آپ کی جان بچائی تھی۔۔۔ اب کچھ یاد آیا آپ کو”

نوفل صاف محسوس کر سکتا تھا کہ وہ اس کو پہچاننے کے باوجود پوز کر رہی تھی جیسے جانتی نہ ہو۔۔۔ تبھی نوفل اسے وہ منظر یاد دلانے لگا جب وہ اوپر سے گودنے کے چکر میں اس کی گود میں آ گری تھی

“مجھے دیکھنے کے بعد،،، یاد تو آپ کو بھی بہت کچھ آیا ہوگا”

شانزے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی دوسرے ہاتھ سے کُھوجاتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگی۔ ۔۔۔ شانزے کے اس انداز پر نوفل ہنستا ہوا اسے دیکھنے لگا

“کافی ڈھیٹ ہیں آپ،، ورنہ آپ کو میرے سامنے آتے ہوئے اپنا چہرہ چھپانا چاہیے تھا یقیناً اس دن کا پڑنے والے تھپڑ کو بھی آپ بھول چکے ہوں گے”

شانزے اسے شرمندہ ہونے کی بجائے ڈھٹائی سے ہنستے ہوئے دیکھ کر مزید صاف لفظوں میں شرمندہ کرتی ہوئی بولی

“چہرہ مجھے نہیں آپ کو چھپانا پڑتا اگر اس دن میں تھپڑ کا بدلا لیتا مگر کیا ہے ناں عورت کی بے بسی سے فائدہ اٹھانے والا مرد میں ہرگز نہیں ہوں”

نوفل اس کو دیکھ کر جتاتا ہوا بولا

“جو عورت کو بے بس کر کے اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں میری نظر میں وہ مرد کہلانے کے لائق بھی نہیں ہوتے”

شانزے اپنی بات مکمل کر کے اب اسٹیج پر عنایہ کو دیکھنے لگی۔۔۔ اس کا مطلب صاف تھا شانزے اب اس سے بات نہیں کرنا چاہ رہی تھی

“بہت اچھی سوچ ہے آپ کی میں بھی بالکل ایسا ہی سوچتا ہوں،، مجھے لگ رہا ہے ہم دونوں کے خیالات ایک دوسرے سے بہت ملتے جلتے ہیں۔۔۔ اس لیے ہمہیں فوراً دوستی کر لینی چاہیے نوفل نام ہے میرا”

نوفل نے ہاتھ ملانے کی غرض سے اس کے آگے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا تو شانزے نے حقارت بھری نظر اس کے ہاتھ پر ڈالی اور سنجیدگی سے اس کو دیکھنے لگی

“میں مردوں سے ہاتھ ملانے والی لڑکی ہرگز نہیں ہوں،، اس لیے آپ اپنا یہ فرینک نیچر لے کر کسی اور لڑکی پر ٹرائے کریں میرے پاس تو آپ کا صرف ٹائم ویسٹ ہوگا۔۔۔ آپ کو یہاں اپنے جیسی ہزاروں لڑکیاں مل جائیگی۔۔۔ اور دوسری بات میرے اور آپ کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق ہے مجھے آپ اور آپ کے جیسے دوسرے مردوں سے نفرت ہے۔۔۔ میری تازہ تازہ رائے آپ کے بارے میں یہی ہے کہ ایک تھپڑ آپ کے لیے کافی نہیں تھا اس لیے آپ مجھ سے دور رہئے گا یہی آپکی صحت کے لئے بہتر ہوگا”

شانزے نوفل کو اپنی طرف سے کھری کھری سنا کر وہاں سے جانے لگی

“ویسے اس طرح کی باتیں کر کے آپ کو نہیں لگ رہا آپ مزید مجھے اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔۔۔۔ ٹائم کا پرابلم نہیں ہے مجھے،، آپ سے بات کر کے آپ کے اوپر اپنا ٹائم ویسٹ کر کے مجھے اچھا لگ رہا ہے۔۔۔ اور اب تو مجھے لگ رہا ہے آپ سے دوری میری صحت کیلئے مضحر ہوگی،،، اب مجھے اپنے لیے سنجیدگی سے کچھ نہ کچھ سوچنا ہی پڑے گا۔۔۔ دوسرے مردوں سے نہیں،،، مگر اپنے آپ سے میں آپ کو زیادہ دیر تک نفرت نہیں کرنے دوں گا یہ وعدہ ہے میرا”

اب کی بار نوفل بھی سنجیدگی سے اس کو دیکھ کر کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔ دوسری طرف شانزے اس کو غصے میں گھورتی رہ گئی۔۔۔ اس کی نظروں میں نوفل کا امیج مزید خراب ہوگیا وہ دوسری ملاقات میں بھی اس سے فلرٹ کر رہا تھا

“چھچھورا کہیں کا”

****

تمام گیسٹ کی موجودگی میں نہال نے عنایہ کو اپنے ہاتھ سے رینگ پہنائی بہت ساری رشک اور حسد کی ملی جلی نظریں ان دونوں کے اوپر مرکوز تھیں۔،۔ نہال اور عنایہ ایک ساتھ کھڑے ہوئے پرفیکٹ میچ لگ رہے تھے

نہال نے جب عنایہ کو رینگ پہنائی تو عنایہ نے نظر اٹھا کر نہال کو دیکھا وہ اسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا عنایہ فوراً اپنی نظریں جھکا گئی جس پر نہال کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی

اس لمحے نہال کی فیلنگز عنایہ کے لیے بالکل مختلف تھی جن نظروں سے وہ عنایہ کو دیکھ رہا تھا شاید پہلے کبھی اس نے عنایہ کو اس طرح نہ دیکھا ہو دوسری طرف عنایہ جو پہلے ہی اس سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی آج مزید نہال کو دیکھ کر مزید نروس ہو رہی تھی

“میرے بھائی اب تھوڑا کیمرے کی بھی طرف دیکھ لو۔۔۔ کیمرہ مین کب سے تمہاری تصویرں لینے کے لئے منتظر کھڑا ہے”

نمیر کے بولنے پر نہال نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا

“واہ بیٹا وہاں تو بڑی محبت بھری نظروں سے دیکھا جارہا تھا اور بھائی کو ایسے دیکھ رہے ہو جیسے کچا ہی نگل لو گے”

نمیر کے بولنے کی دیر تھی آس پاس کے تمام لوگ اس کی بات پر ہنس پڑے جس سے عنایہ مزید کنفیوز ہونے لگی

“نمیر اگر تم نے اب اپنا منہ بند نہیں کیا تو میں تمہارے سارے دانت توڑ دوں گا”

نہال نے اب کی بار گھورنے کی بجائے عنایہ کو نروس دیکھ کر نمیر کو بہت پیار بھرے انداز دھمکی دی جس پر وہ سیڈ اسمائل دے کر خاموش ہو گیا

****

“اتنی دیر سے اکیلے کیوں کھڑی ہو،، کیا سوچ رہی ہو”

نمیر کافی دیر سے منال کو دیکھ رہا تھا جو سب سے الگ تھلک کھڑی تھی تبھی اس کے پاس آ کر پوچھنے لگا

“سارا موڈ خراب کر دیا جو جو اور ٹینا نے نہ آ کر۔۔۔ مجھے اسپیشلی ٹینا سے تمہیں ملوانا تھا”

وہ ابھی بھی بیزار دکھ رہی تھی منہ بناتی ہوئی نمیر سے بولی

“منال تمہاری زندگی میں اب جو جو اور ٹینا ہی رہ گئے ہیں یار،، ان کے بنا تمہارا دل ہی نہیں لگتا،، ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہو، ہر وقت ان کی باتیں کرتی رہتی ہو۔۔۔ تمہاری اپنی فیملی اور اسپیشلی میں۔۔۔۔ ہم کہاں پر ہیں تمہاری لائف میں”

نہال کی منگنی کی وجہ سے نمیر آج بہت خوش تھا اور وہ کسی بھی بات کو لے کر غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا مگر وہ منال کی بات کا برا مناتا ہوا بولا

“تو تمہیں میرے فرینڈز برے لگتے ہیں”

منال نے تیوری چڑھا کر نمیر سے پوچھا

“سچ بولو تو ہاں۔۔۔ کیوکہ تم نے اپنی زندگی کا مرکز اپنے فرینڈز کی ذات کو ہی بنا لیا ہے چند ماہ سے تم نے اپنے فرینڈز کی وجہ سے نہ صرف اپنی فیملی کو بلکہ مجھے بھی اگنور کیا ہوا ہے”

نمیر بگڑے موڈ کے ساتھ بولا

“اچھا تم اپنا موڈ تو ٹھیک کرو تمہیں کہا اگنور کر رہی ہو میں”

منال فوراً اس کی ناراضگی کے ڈر سے بولی ورنہ نمیر اس سے دو دن تک روٹھا رہتا۔۔۔۔ اور اسے بلاوجہ کی نمیر کے منتیں کرتے ہوئے اسے منانا پڑتا

“موڈ ٹھیک ہے میرا مگر میں اپنی ذات کی اگنورنس بالکل برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ چلو اسٹیج پر نہال اور عنایہ کو مبارکباد دیتے ہیں”

عنایہ کا نام سن کر منال کا منہ کڑوا ہوگیا مگر وہ نمیر کی ناراضگی کا سوچ کر نمیر کے ساتھ اسٹیج کی طرف نہال اور عنایہ کے پاس جانے لگی

****

وہ اپنی زندگی میں آنے والی اس نئی تبدیلی سے بہت خوش تھا،،، بہت جلد وہ اس کے دل میں جگہ بنا گئی تھی۔۔۔۔ وہ اپنے بیڈ روم میں بیٹھ پر لیٹا ہوا آنکھیں بند کر کے اپنے آنے والی زندگی کے حسین خواب دیکھ رہا تھا تبھی اسے محسوس ہوا جیسے وہ کمرے میں اکیلا موجود نہیں ہے کوئی اور بھی اس کے ساتھ موجود ہے

کسی دوسرے وجود کی موجودگی کے احساس سے اس نے اپنی آنکھیں کھولی۔۔۔۔ سامنے والی دیوار کے ساتھ فرحین کو کھڑا دیکھ کر ایک پل کے لئے وہ خوفزدہ ہوگیا اور اٹھ کر بیٹھا۔۔۔ فرحین پر اسرار مسکراہٹ چہرے پر سجائے چلتی ہوئی اس کے قریب آئی وہ خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا بھلا مرنے کے بعد کون اس طرح آسکتا تھا وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا

“میری آنکھوں سے زندگی کے خواب نوچ کر تم خود اپنی زندگی کے حسین خواب دیکھ رہے ہو۔۔۔ ہمیشہ تڑپتے رہو گے، تمہیں کبھی بھی کوئی خوشی نصیب نہیں ہوگی ترسو گے تم خوشیوں کے لیے”

فرحین کی باتیں اس کے دل میں تیر کی طرح چبھنے لگی تڑپ کر اس نے اپنی آنکھیں کھولی اس کا پورا چہرہ ہی نہیں پورا وجود پسینے میں شرابور ہو رہا تھا جلدی سے اٹھ کر اس نے اپنے کمرے کی لائٹ کھولی اور اپنے کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی کمرے میں کوئی بھی موجود نہیں تھا

“یہ خواب تھا اتنا بھیانک”

وہ خود سے مخاطب ہوا اس کا دل بری طرح گھبرانے لگا کمرے کی لائٹ بند کیے بنا وہ واپس آکر بیڈ پر لیٹ گیا اور کمرے کی چھت کو گھورنے لگا اسے معلوم تھا اب اسے نیند نہیں آئے گی