Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 41)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 41)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“نمیر اب کیا ہوگا”
وہ نمیر کے سینے سے لگی خوفزدہ ہوکر نمیر سے پوچھنے لگی
“تم بتاؤ اب کیا ہونا چاہیے”
نمیر نے بیڈ پر لیٹے لیٹے عنایہ کو اپنے حصار میں لے کر اسے تحفظ کا احساس فراہم کرتے ہوئے الٹا اس سے سوال کیا
“نمیر مجھے ڈر لگ رہا ہے”
وہ نمیر کے دونوں بازوں کو تھامے خوفزدہ ہو کر بولی کیوکہ باہر تیز بارش شروع ہوچکی تھی
“کس سے مجھ سے یا پھر برسات سے”
عنایہ کے خوشبو میں بسے ہوئے وجود کو بیڈ پر لٹانے کے بعد اس پر جھکتا ہوا پوچھنے لگا
“خوف سے میری جان ہلکان ہوئے دے رہی ہے اور آپ ہیں کہ۔ ۔۔”
نمیر کے ہونٹ گردن کے بعد سینے پر محسوس کرکے باقی لفظ اس کے منہ میں ہی دم توڑ گئے
“تمہاری یہ قربت میری جان بھی تو ہلکان کر رہی ہے میری جان”
نمیر اسکی خوشبو کو اپنی سانسوں اتارنے کے بعد اب عنایہ کی سانسوں کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں اتار رہا تھا
“نمیر”
جیسے ہی نمیر نے اسکے ہونٹوں کو آزادی بخشی عنایہ نے بند آنکھوں کے ساتھ اسکا نام پکارا۔ ۔۔
سردی کے موسم میں اسکے ماتھے پر ننھی ننھی پسنے کی بوندھے اسکے خوف اور گھبراہٹ کا پتہ دے رہی تھی۔۔ ہاتھ کے انگوٹھے سے نمیر نے اس کے ماتھے سے ان بوندو کو صاف کیا
“آج اس برساتی رات میں میرا وعدہ ہے کہ میں تمہیں بالکل ڈرنے نہیں دو گا۔۔۔ تم اپنے سارے خوف کو بھلائے صرف اور صرف میری شدتوں کو محسوس کرو گی”
نمیر عنایہ کو بولتا ہوا اٹھ کر بیٹھا اور اپنی شرٹ اتارنے لگا تبھی عنایہ شرم سے رخ پھیر کر لیٹ گئی۔۔۔ جب نمیر نے عنایہ کی شرٹ کی زپ کھولنے کی گستاخی کی تو عنایہ نے زور سے انکھیں میچ لی۔۔۔ اب وہ باہر تیز طوفانی بارش کو بھلائے،، اپنی کمر پر نمیر کی انگلیوں اور ہونٹوں کے لمس کو محسوس کرنے لگی،، نمیر کی انگلیاں اسکی کمر کو چھوتی ہوئی دونوں شانوں تک آئی بالوں کو ہٹا کر دوسری گستاخی پر عنایہ کا دل زور سے دھڑکا۔۔۔ اس نے تکیہ کو دونوں مٹھیوں میں دبوچا
“نمیر پلیز لائٹ آف کریں”
عنایہ کی کانپتی ہوئی آواز نمیر کے کانوں میں ٹکرائی۔۔۔ وہ اسکی کیفیت کے مدنظر اسکی بات ماننے کو مجبور ہوا عنایہ کو کمفرٹر اڑھا کر نمیر لائٹ آف کرنے اٹھا
اسکے موبائل پر نہال کی کال آنے لگی جسکو دیکھ کر وہ کافی بد مزہ ہوا اسکی کال کاٹ کر اپنے موبائل آف کرنے کے بعد وہ روم کی لائٹ آف کر کے وہ دوبارہ بیڈ پر عنایہ کے پاس آیا اور لیمپ کی مدھم روشنی میں عنایہ کو دیکھنے لگا
عنایہ رخ موڑے ویسے ہی لیٹی تھی اپنے دونوں ہاتھ کی مٹھیوں سے تکیہ کو دبوچے۔۔۔
نمیر نے آئستگی سے اسکے ہاتھ تکیہ سے ہٹائے اور بہت نرمی سے اسکا رخ اپنی طرف کیا تو عنایہ نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔۔۔ شرمانے کی اس ادا پر نمیر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
“اسطرح شرما کر تو تم مجھے مزید شرارت کرنے پر آمادہ کر رہی ہو”
نمیر اس پر جھکتا ہوا بولا۔ ۔۔۔ جبکہ دوسری طرف عنایہ کی زبان اب تالو سے چپک چکی تھی
“مجھے نہیں معلوم تھا کوئی شوہر اتنا شریف بھی ہوسکتا ہے کہ اسے اپنے ہی بیوی سے سچی والی محبت ہوجائے۔۔۔ بہت پیار کرنے لگا ہو میں تم سے حسین لڑکی۔۔۔ اس دنیا میں اب تم سے زیادہ حسین شاید ہی کوئی اور لگے”
نمیر اس کے کانوں میں رس گھولتا ہوا اسے کسی قیمتی متاع کی طرح اپنے اندر سمائے۔۔۔عنایہ پر اپنی محبت کی برسات کرنے لگا۔۔۔
عنایہ اپنا سارا ڈر سارا خوف بھلائے نمیر کی نچھاور کردہ محبت کی برسات میں بھیگ رہی تھی۔۔ نمیر کی دسترس میں وہ خود کو نہ صرف محفوظ بلکے خوش بخت بھی محسوس کر رہی تھی۔۔۔ نمیر کی قربتوں کے سبب وہ باہر ہونے والی برسات سے غافل ہوگئی۔۔۔۔ پوری رات برسات کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا،، اسی طرح نمیر بھی آوارہ بادل کی طرح وقفے وقفے سے عنایہ پر اپنی محبت کی بارش کرتا ہے
