Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 22)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 22)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“کہاں غائب ہو تم ہفتے بھر سے،”
نمیر نے ڈرائنگ روم میں آکر صوفے پر بیٹھتے ہوئے نوفل سے پوچھا
“مجھے کہاں غائب ہونا ہے نہال کو دیکھنے سے ڈیلی اسپتال آرہا ہوں” نوفل بھی مصافحہ کرکے واپس صوفے پر بیٹھا
“نہال سے ملنے آ رہے ہو مگر ہم دونوں کی اتنے دنوں سے ملاقات نہیں ہوئی”
نمیر اس کا چہرہ دیکھ کر جانچ گیا ضرور کوئی بات ہے
“پتہ چلا تھا اقبال (ملازم) سے تم نے گھر پر بھی چکر لگایا تھا۔۔۔ بس مصروف تھا ان دنوں”
نوفل سر صوفے سے ٹیکتا ہوا بولا
“واقعی مصروفیت تھی یا کچھ اور بات ہے”
نمیر نے اصل بات اس سے جاننی چاہی
“فرحین شانزے کی بڑی بہن تھی”
نوفل نے جتنے آرام سے سامنے بیٹھے نمیر کو بتایا نمیر اتنی حیرت سے نوفل کو دیکھنے لگا
“تمہارا مطلب ہماری یونیورسٹی والی فرحین”
نمیر نے جیسے ایک بار اور کنفرم کرنا چاہا جس پر نوفل نے اقرار میں سر ہلایا
“تم نے شانزے کو کچھ بتایا تو نہیں آئی مین اس رات والی بات”
نمیر نوفل کو دیکھتا ہوا سیریس ہو کر پوچھنے لگا
“تمہیں کیا لگتا ہے یہ سب میں اپنے منہ سے بتا پاو گا شانزے کو۔۔۔ اور وہ یہ سب باتیں سن کر مجھے معاف کردے گی۔۔۔ جب سے یہ بات مجھے پتہ چلی ہے کہ فرحین شانزے کی بہن ہے تب سے میں شانزے سے نظریں نہیں ملا پا رہا شاید کبھی ملا بھی نہ پاو”
نوفل کو عجیب گھٹن اور بے بسی کا احساس تھا اور یہ احساس اسے پچھلے ہفتے بھر سے محسوس ہو رہا تھا
“دیکھو نوفل ہمیشہ تم مجھے سمجھاتے رہے ہو۔۔۔ اس رات جو بھی کچھ فرحین کے ساتھ ہوا،،، اس میں ہمارا قصور صرف اتنا تھا کہ ہم نے اسے شرارت میں کمرے میں لاک کیا،، اس کمرے میں پہلے سے کون موجود تھا یا بعد میں کون آیا اور فرحین کے ساتھ کس نے برا کیا۔۔۔ ان سب باتوں سے ہم بھی انجان ہیں تو پھر قصور وار کیسے ہوئے۔۔۔ ہماری نیت اس کے ساتھ کچھ غلط کرنے کی نہیں صرف اس کے ساتھ مزاق کرنے کی تھی”
نمیر نوفل کو وہی باتیں سمجھانے لگا جو اب تک نوفل اسے سمجھاتا آیا تھا
“اور ہمارے مزاق نے اس لڑکی کی جان لے لی”
نوفل نے بے چین ہوکر کہا۔۔۔ پچھلے ایک ہفتے سے وہ یہ قصہ ہزار بار یاد کرکے پشیماں تھا
“نوفل ہم دونوں میں یہ طے پایا گیا تھا کے اس واقعے کا ذکر ہم دونوں آپس میں بھی نہیں کریں گے۔۔۔ فرحین کے ساتھ برا ہوا،، مگر اس کا گناہگار کوئی اور ہے۔۔۔ اس لیے گلٹی ہونا بند کرو اور تم یہ سب باتیں کبھی بھی شانزے سے ڈسکس نہیں کروگے”
نمیر اسے غور سے دیکھتا ہوا ایک ایک بات سمجھانے لگا
“فرحین شانزے کی بہن ہے یہ حقیقت معلوم ہونے کے بعد تمہیں کیا لگتا ہے مجھے شانزے سے تعلق رکھنا چاہیے”
نوفل کرب سے بولا
“نوفل یار پلیز اب تم یہ مت کہنا کہ تم شانزے سے اپنا تعلق ختم کردو گے۔۔ اس سب قصے میں شانزے کا کیا قصور ہے بھلا”
نمیر جھنجھلاتا ہوا اسے سمجھانے لگا
“میں اس گلٹ کے ساتھ،، اس کے ساتھ ساری زندگی کیسے گزار سکوں گا نمیر”
نوفل بےبسی سے دیکھتا ہوں نمیر سے پوچھنے لگا
“تم اس کے بنا کیسے زندگی گزاروں گے،، ابھی سے حالت دیکھو اپنی۔۔۔۔ جو ہوچکا ہے نوفل اسے میں یا تم بدل نہیں سکتے،،، مگر شانزے کے دل میں اپنی فیلینگز پیدا کرنے کے بعد اس کو چھوڑ دینا یہ اس کے ساتھ نا انصافی ہوگی اور تم کوئی ایسی بیوقوفی نہیں کروگے۔۔۔ تم شانزے کو فرحین کی بہن ہونے کی سزا نہیں دے سکتے”
نمیر نوفل کو سمجھا ہی رہا تھا تبھی ڈرائنگ روم میں ہونے والی آہٹ پر وہ دونوں چونکے نمیر اٹھ کر ڈرائنگ روم کے دروازے پر گیا۔۔۔۔ عنایہ کھانے پینے کی اشیاء سے بھری ٹرالی ڈرائنگ روم میں لا رہی تھی
“تمہیں لانے کی کیا ضرورت تھی حمیدہ کہاں ہے”
نمیر نے عنایہ کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا جیسے اندازہ لگا رہا ہوں کہ اس نے کیا سنا
“حمیدہ رات کا کھانا بنا رہی تھی۔۔۔۔ اس لئے میں لے آئی”
عنایہ نمیر کے دیکھنے پر نظریں جھگاتی بولی۔۔۔ اسے پیڈرو والا منظر یاد آیا
“جاگ کیوں رہی ہو۔۔۔ جا کر سو جاؤ آج رات کو دیر تک جاگنا پڑے گا فی الحال تو میتھ کی پریکٹس کے لیے”
نمیر اسکے ہاتھ سے ٹرالی لےکر کا ڈرائینگ کے دروازے سے چلا گیا
نمیر کی بات سن کر عنایہ کو نیند ذرا مشکل سے ہی آنی تھی مگر وہ سست قدموں سے واپس بیڈروم میں چلی گئی
****
شانزے پیپر دے کر گھر پہنچی مگر وہاں اپنے باپ (اعجاز) کے علاوہ تایا، تائی اور تایازاد کو دیکھ کر وہ چونکی سامنے کرسی پر بیٹھی سرجھکائے نائلہ پر بھی اس کی نظر پڑی
“امی ان لوگوں کو جلدی فارغ کر کے کمرے میں آئے ضروری بات کرنی ہے”
شانزے ان سب پر ایک نظر ڈال کر نائلہ کو مخاطب کرتی ہوئی وہاں سے جانے لگی
“اے لڑکی نہ سلام، نہ کلام، کیا پڑھ لکھ کر بچی ہوئی تمیز بھی چلی گئی ہے تمہاری۔۔۔ معلوم نہیں گھر آئے مہمان سے کیسے ملا جاتا ہے”
شانزے کمرے میں جانے لگی تو اسے اپنی تائی کی آواز سنائی دی اپنے بھاری بھرکم تھل تھل کرتے وجود کو بمشکل صوفے پر پھنسائے وہ شانزے کو گھورتی ہوئی بولیں
“بن بلائے مہمانوں کو آجکل کوئی منہ لگانا پسند نہیں کرتا اور رہی بات کلام کی تو،، جو سلام کرنے کے لائق نہ ہو ان سے کلام بھی نہیں کیا جاتا” شانزے کا ٹکا سا جواب سن کر وہ اپنا منہ لے کر رہ گئی
“بڑی کیا ہوگئی ہے تو۔۔۔۔ پر نکال آئے ہیں تیرے بھی،، بہت زبان چلنے لگی ہے تیری”
شانزے کے تایا جن سے اس کی زبان درازی برداشت نہیں ہوئی شانزے کو گھورتے ہوئے بولے
“یہ آپ کا گھر نہیں ہے یہاں پر نیچی آواز میں ذرا مہذب طریقے سے بات کریں”
شانزے نے اپنے تایا کو دیکھتے ہوئے کہا جو اپنے گنوار پن کا ثبوت اپنی زبان سے دے رہے تھے یہی وجہ تھی اسے اپنے ان رشتےداروں سے سخت چڑ تھی
“تم تمیز سے بات کرو شانزے بھولو نہیں تایا ہیں یہ تمھارے”
اعجاز کے بولنے پر شانزے اپنے باپ کی طرف دیکھ کر طنزیہ ہنسی
“کم از کم آپ کو تو مجھے رشتوں کی پہچان کراتے ہوئے خود شرم آنی چاہیے،،، نہیں مانتی ہوں میں ان کو تایا،، جب آپ میرے پیدا ہونے پر مجھ سے میری ماں اور بہن سے،، اپنا رشتہ ختم کرکے چلے گئے تھے تو یہ کہاں سے میرے تایا لگے” شانزے اپنے باپ کے سامنے بے خوفی سے بولی
“شانزے اندر جاو اپنے کمرے میں”
نائلہ جو اتنی دیر سے خاموش بیٹھی تھی ایک دم بول اٹھی۔۔۔ شانزے سر جھٹک کر اپنے کمرے میں چلی گئی
“بڑی کی بھی ایسی ہی زبان چلتی تھی دیکھ لینا اس کا انجام۔۔۔ چھوٹی کا بھی مجھے اتنے سالوں بعد خیال آیا صرف اپنی بھائی کی وجہ سے آیا اور خون کی کشش مجھے یہاں کھینچ لائی اگلے جمعہ کو جمشید کے ساتھ نکاح ہے شانزے کا۔۔۔ اچھی طرح سمجھا دینا اسے”
اعجاز کے بھائی نائلہ کو دیکھ کر مخاطب ہوئے جس پر نائلہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے سامنے بیٹھے جمشید کو دیکھنے لگی
لمبی لمبی مونچھوں والا،، منہ میں گٹکا بھرے وہ تھوڑی دیر پہلے شانزے کو کیسے گھور کے دیکھ رہا تھا
“ایسے کیا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہی ہے میرے ہیرے جیسے بیٹے کو۔۔۔۔ اسکے سوا اور کون بیاہ نے آئے گا تیری بیٹی کو۔۔۔ آدھا شہر ڈر کے مارے کانپتا ہے ایسا مرد کا بچہ پیدا کیا ہے میں نے،، اگر تو نے یا تیری بیٹی میں ذرا بھی نخرے دکھائے نا تو پھر دونوں ماں بیٹی اپنا انجام بھی دیکھ لینا”
نائلہ کی بھاوج دھمکی دیتی ہوئے کہنے لگی اور جمشید اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا خود کو مرد ثابت کرنے لگا
“کیسی باتیں کرتی ہو تم بھابھی بیگم ان دونوں ماں بیٹیوں کیا مجال ہے جو منع کرے گی۔۔۔ میں باپ ہو شانزے کا اور میرا کہا ان دونوں کو ہی ماننا پڑے گا فرحین کے بارے میں جان کر کون آئے گا چھوٹی کے لیے۔۔۔ یہ تو بھائی جی کا احسان ہے جو شانزے کو اپنے گھر کی عزت بنانے کا سوچ رہے ہیں”
اعجاز اپنی بھاؤج سے مخاطب ہوا نائلہ افسوس سے اعجاز کو دیکھنے لگی
“اگلا جمعہ یاد رکھنا اچھی طرح”
نائلہ کا جیٹھ ایک دفعہ پھر اسے یاد دہانی کراتا ہوا اٹھا اور باقی سب کو بھی اٹھنے کا اشارہ کیا
****
“کیا ضرورت تھی ان لوگوں کے سامنے آ کر زبان چلا کر یوں بدتمیزی کرنے کی”
اعجاز کے گھر والوں کے جاتے ہی نائلہ نے کمرے میں آکر شانزے کی خبر لی شانزے تخت پر بیٹھی ہوئی کھانا کھانے میں مگن تھی
“آخر آئے ہی کیوں تھے وہ لوگ،، چڑ ہے مجھے ان کی شکلوں سے،، گھر کے اندر کیو کھسنے دیا آپ نے ان لوگوں کو”
شانزے کا ان لوگوں کے ذکر سے دوبارہ موڈ خراب ہونے لگا
“اگلے جمعہ کو نکاح کا بول کر گئے ہیں تمھارے تایا”
نائلہ نظریں چراتی ہوئے شانزے سے بولی
“کیا مطلب کس کا نکاح”
شانزے ناسمجھنے والے انداز میں نائلہ کو دیکھنے لگی تبھی نائلہ نے شانزے کو دیکھا
“تمہارا اور جمشید کا”
لفظ ہے کہ خنجر شانزے سے ضبط کرنا مشکل ہوگیا
“آخر کیا سوچ کر وہ لوگ یہ بات کر کر گئے ہیں منہ نہیں توڑا اپنے ان کے بیٹے کا”
شانزے کو جمشید کا چہرہ یاد آنے لگا کتنی کراہیت آرہی تھی شانزے کو جب وہ اپنی گندی نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا
“غنڈو میں اور موالیوں میں اٹھنا بیٹھنا ہے جمشید کا،،، میرے کچھ بھی کہنے ہے انکار کرنے سے اگر وہ تمہیں اپنے ساتھ اٹھا کر لے جاتا تو”
نائلہ کو اپنی ہی کہی ہوئی بات سے خوف آنے لگا
“اندھی لگی ہوئی ہے جو اٹھا کر لے جاتا قتل نہ کر دیتی اس کا اسی کے ماں باپ کے سامنے”
شانزے کو نکاح والی بات کا سوچ پر غصہ آنے لگا
“اعجاز کی اس رشتے میں پوری پوری مرضی ہے اس لئے ان لوگوں سے کسی بھی قسم کی بعید نہیں تم نوفل کو بلاؤ ابھی کہ ابھی اس سے کہو مجھے اس سے ضروری بات کرنی ہے”
نائلہ ایک دم شانزے کا ہاتھ پکڑ کر بولی
“کیا بات کریں گی آپ اس سے میرے لیے بھیک مانگے گیں۔ ۔۔ نہیں کرنی مجھے اس سے شادی اور آپ کو بھی اس کے آگے گڑگڑانے کی ضرورت نہیں”
شانزے نائلہ کو دیکھتی ہوئی بولی نائلہ کی آنکھوں میں بے بسی سے آنسو آگئے
“ایک بیٹی کو معلوم نہیں کس نے بھاڑ میں جھونک دیا دوسری کو اپنے ہاتھ سے کیسے جھونک سکتی ہو” نائلہ بےبسی سے روتی ہوئی بولی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔ اب شانزے کو رہ رہ کر نوفل پر بھی غصہ آ رہا تھا جو اسے چند دن پہلے گھر نے نکل جانے کے بعد دو دن سے کال اور سوری کے میسجز کر رہا تھا۔ ۔۔۔ اپنے موبائل پر شانزے کی نظر پڑی جو کہ نوفل کے نام کے ساتھ بلنگ کر رہا تھا
“مرو تم بھی”
شانزے ہے اپنا موبائل غصے میں سوئچ آف کرتے ہوئے کہا
