370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 7)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“یہ کوئی وقت ہے گھر آنے کا کہاں مری ہوئی تھی تم”

عنایہ گھر میں داخل ہوئی تو عشرت بھری ہوئی بیٹھی تھی، اس نے عنایہ کے پیچھے نہال کو نہیں دیکھا عنایہ کی شکل دیکھ کر وہ غصے سے چیخی

“یہ کون سا طریقہ ہے خالہ جانی بات کرنے کا وہ میرے ساتھ تھی”

نمیر ثروت اور نہال ان تینوں کو ہی عشرت کی یہ بات پسند نہیں تھی کہ وہ کسی آئے گئے کا لحاظ کیے بغیر عنایہ کو بری طرح ڈانٹتی تھی،، نمیر اور ثروت اکثر عشرت کو اسکی اس عادت پر ٹوکتے تھے،،، مگر برا لگنے کے باوجود نہال نے عشرت کو کبھی کچھ نہیں بولا تھا مگر آج نہال کو شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ عشرت سچ میں عنایہ کے ساتھ کافی زیادتی کر جاتی ہے

“اوہو تو یہ تمہارے ساتھ موجود تھی کم ازکم بتانا تو چاہیے تھا ناں بندہ ایک فون ہی کر دیتا ہے”

عشرت کو غصہ ابھی بھی تھا مگر نہال کو دیکھ کر اب کی بار وہ تھوڑا نرم لہجے میں بولی شاید وجہ یہی تھی کہ نہال نے آج پہلی بار عشرت کو ٹوکا تھا

“خالو کو کال کر دی تھی میں نے خالہ جانی، اب معلوم نہیں انہوں نے آپ کو کیوں بتانا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔ خیر چھوڑیں اس بات کو آپ سنائیں کیسی طبعیت ہے آپ کی”

نہال صوفے پر بیٹھتا ہوا بولا اور کافی سارے شاپرز اس نے ٹیبل پر رکھے عشرت بھی اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی

“ہاں تمہارے خالو کو کیا ضرورت پڑی ہے جو اپنی بھانجی کے بارے میں مجھ سے کچھ بات کریں۔۔۔ میری طبعیت کو کیا ہونا ہے آئے دن کوئی نہ کوئی تکلیف ہی رہتی ہے کبھی جوڑوں میں درد تو کبھی گھٹنوں میں۔۔۔ ان شاپرز میں کیا موجود ہے”

عشرت نے اپنی طبیعت کا رونا روتے ہوئے ساتھ میں شاپرز کے بارے میں بھی پوچھا

“یہ میں نے عنایہ کے لیے اپنی پسند کے کچھ ڈریس لیے ہیں،، کھڑی کیوں ہو عنایہ بیٹھ جاو”

نہال نے عشرت کو جواب دینے کے ساتھ ساتھ عنایہ کو بھی مخاطب کیا جو کہ ویسے ہی کھڑی تھی

“بیٹھے کیوں،،، جاؤ جاکر کافی بنا کر لو میرے اور نہال کے لیے”

عشرت کا شاپنگ کے بارے میں سن کر مزید موڈ خراب ہوا اس لئے عنایہ کو گھورتی ہوئی بولی

“رہنے دیں خالہ جانی عنایہ تھک گئی ہوگی،، آپ بوا کو کافی کا بول دیں، عنایہ یہاں آ کر بیٹھو”

نہال نے ایک دفعہ دوبارہ عشرت کو بول کر عنایہ کو مخاطب کیا اور آنکھ کے اشارے سے اسے اپنے برابر میں بیٹھنے کی لئے کہا عنایہ جھجھکتی ہوئی نہال کے صوفے پر کافی دور فاصلہ بنا کر بیٹھ گئی

“یار اتنا چپ کیسے رہ لیتی ہو تم،،، کوئی اپنے ہی گھر میں مہمان بن کر رہتا ہے ہنسا کرو باتیں کیا کرو خوش رہا کرو”

نہال اب دوستانہ انداز میں عنایہ کو دیکھ کر بولا وہ ہڑبڑا کر عشرت کو اور پھر نہال کو دیکھنے لگی

“کوئی نہیں تمہارے سامنے اداکاری کر رہی ہے۔۔۔ ورنہ اس کے کمرے سے تو ہر وقت گنگانے کی یا اپنی دوست سے فون پر باتیں کرنے کی آواز آتی رہتی ہے”

عشرت ان دونوں کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھ کر مزید جل گئی اور تپے ہوئے انداز میں بولنے لگی عنایہ سرجھکائے انداز میں ایسے بیٹھی تھی جیسے عشرت اس کی غلطیاں گنوا رہی ہو

“یہی تو میں کہہ رہا ہوں خالہ جانی اس نے اپنی دنیا اپنے کمرے میں ہی بنائی ہوئی ہے اسے باہر بھی بالکل اسی طرح رہنا چاہیے مگر آپ کی اداکاری والی بات سے میں ایگری نہیں کرتا۔۔۔ عنایہ میں بالکل دکھاوا نہیں ہے اگر اس میں دکھاوے والی کوالٹی موجود ہوتی تو میں ماما کی چوائس پر کبھی بھی ایگری نہیں کرتا،، زہر لگتی ہے مجھے بن بن کر بولنے والی لڑکیاں”

نہال نے عشرت کو دیکھتے ہوئے کہا تو عشرت مزید کلس کر رہ گئی کیوکہ دو تین ماہ سے منال کا ایسے ہی اسٹائل ہو گیا تھا منہ بنا بنا کر بات کرنے والا

“خیر جو بھی ہے ابھی تمہاری مگنی ہوئی ہے شادی نہیں،، اس طرح منگیتر کو لیے لیے پھرنا کوئی زیادہ اچھی بات نہیں ہے لوگ پیٹھ پیچھے باتیں بناتے ہیں ذرا احتیاط سے کام لو تم بھی”

عشرت نے لگے ہاتھوں نہال کو ٹوکنا ضروری سمجھا

“خالہ جانی آپ بھی کتنی بھولی ہیں۔۔ احتیاط سے مجھ سے زیادہ نمیر اور منال کو کام لینا چاہیے ان کی تو ابھی منگنی بھی نہیں ہوئی بلکہ میں تو ماما سے کہہ بھی رہا تھا ان دونوں کے بارے میں اگر لوگ باتیں بنائیں گے تو کچھ غلط بھی نہیں ہوگا۔۔۔ خیر میں چلتا ہوں آپ اپنا خیال رکھیے گا”

نہال مسکراتا ہوا اٹھ گیا جبکہ نہال کی بات سن کر عشرت کا اچھا خاصہ منہ بن گیا

“سیٹرڈے کو شام میں ریڈی رہنا میرے دوست نے ہم دونوں کو انوائٹ کیا ہے ڈنر پر اور تم 11 بجے تک سوتی ہو دس بجے فون کروں گا میں تمہیں”

نہال اب عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا اور خدا حافظ کہہ کر چلا گیا

عنایہ کو اتنا اندازہ ہوگیا تھا،، نہ ہی نہال رات کو کال کرے گا اور نہ ہی وہ اسے کہیں دوست کے ہاں ڈنر پر لے کر جائے گا وہ صرف اپنی خالہ جانی کو سنانے کے لیے عنایہ کو بول رہا تھا۔۔۔

نہال کے جانے کے بعد عشرت عنایہ کو اس طرح گھور رہی تھی جیسے وہ اسے کچا ہی چبا جائے گی عنایہ نے خاموشی سے ٹیبل پر سے اپنے شاپرز اٹھائے اور اپنے کمرے میں جانے میں ہی اس نے اپنی عافیت جانی

****

دوپہر کا وقت تھا جب شانزے کالج سے گھر آئی۔۔۔ آج بہت زیادہ گرمی تھی،،، بس اسے مین روڈ پر اتارتی پر گلی میں 15 منٹ کی واک کے بعد پیدل چل کر گھر آنا ہوتا۔۔۔ وہ اس وقت پسینے پسینے ہو رہی تھی نائلہ کو سلام کے بعد وہ فرج سے پانی نکال کر پینے لگی

“امی کیا ہوا آپ کو آپ روئی ہیں ناں۔۔۔ بتائیں مجھے کسی نے کچھ کہا ہے” شانزے نائلہ کی سوجی ہوئی آنکھیں دیکھ کر بولی

“کل رات اکرم کے ابا نے کرایہ دینے سے صاف انکار کردیا پندرہ دن سے کھانے کا کوئی آرڈر نہیں آ رہا ہے۔۔۔ جو پیسے بچے تھے اس سے میں بجلی کا بل ادا کر آئی تھی۔۔۔ بشیر (دکاندار) نے ادھار پر سامان دینے سے منہ پر منع کردیا گھر میں راشن بھی بالکل ختم ہوگیا سمجھ نہیں آرہا کیا کرو”

نائلہ نے آج تک اپنی پریشانیوں کا رونا کبھی فرحین یا شانزے کے آگے نہیں رویا تھا مگر اب وقت کے ساتھ ساتھ اس کا دل کافی کمزور ہو گیا تھا

“اس اکرم کے باپ کو تو میں ابھی ٹھیک کرکے آتی ہوں۔۔۔ سمجھ کیا رکھا ہے اس آدمی نے آخر،، ہم عورتیں ہیں تو یہ ہمیں دبا لے گا اور مفت میں رہتا رہے گا”

شانزے نائلہ کے آنسو صاف کر کے غصے میں اٹھی تو نائلہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بٹھا لیا

“کوئی ضرورت نہیں ہے تمہیں اس سے جاکر لڑنے کی،، اپنی بیوی بچوں کو باتیں سناتا رہتا ہر وقت لڑائی جھگڑوں کی آواز آتی ہے،،، تم کچھ بولو گی وہ جھگڑا کرے گا بدتمیزی کرے گا محلے والے صرف تماشا دیکھے گیں کوئی ہماری مدد کو نہیں آئے گا باتیں الگ بنے گی”

نائلہ نے روتے ہوۓ شانزے کو سمجھایا

“امی اس طرح ڈرنے سے تو وہ اور ہم پر حاوی ہو جائے گا کبھی بھی کرایا نہیں دے گا۔۔ اور یہ بشیر کتنا منحوس آدمی ہے ہمیشہ اس سے پیسے دے کر ہی سوداسلف لیا ہے،،، اسے کون سی موت پڑ رہی ہے ادھار سامان دیتے ہوئے کونسا اس کے پیسے لے کر ہم اپنی قبر میں چلے جائیں گے یا گھر چھوڑ کر بھاگ جائے گے”

‏شانزے غصے میں بولی

“جن گھروں میں مرد نہیں ہوتے معاشرہ ان عورتوں کو کمزور اور بے بس سمجھ کر ایسے ہی دباتا ہے۔۔۔ تمہیں کسی سے کچھ بھی بولنے کی لڑنے جھگڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ اگر عورتیں اکیلی ہو تو انہیں مردوں سے دشمنی نہیں پالنی چاہیے۔۔۔ جاؤ کل رات کی دال کچن میں رکھی ہے کھانا کھا لو میں کچھ نہ کچھ پیسوں کا بندوبست کرتی ہو”

نائلہ اپنے آنسوؤں صاف کرتی شانزے سے بولی۔۔۔ اتنے میں گھر کا دروازہ بجا نائلہ نے جا کر دروازہ کھولا

“یہ کس کا سامان لے کر آ گئے ہو بھائی”

نائلہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے سامنے کھڑے بشیر سے پوچھا جو آٹے کی بوری کے ساتھ ساتھ تین بڑے بڑے شاپر میں سامان لئے کھڑا کا تھا شانزے صحن میں کھڑی ہوئی بشیر کو دیکھنے لگی

“بہن جی یہ سامان مہینے بھر کا راشن ہے جو آپ ہر ماہ ہماری دکان سے لیتی ہوں میں نے سوچا آپ کہاں اتنی دور چل کر آؤں گی میں خود ہی سامان آپ کے گھر پہنچا دیتا ہوں”

بشیر کافی تمیز اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتا ہوا بولا

“بھائی ایسا ہے کہ ابھی ہمیں اس سامان کی ضرورت نہیں ہے آپ اسے واپس لے جاؤ میں خود بعد میں آکر یہ چیزیں لے لوں گی”

سارے سامان کی ضرورت ہونے کے باوجود پیسے نہ ہونے کی وجہ سے نائلہ نے بشیر کو جواب دیا

“بہن جی اب یہ سارے سامان میں واپس لے کر تو نہیں جاؤں گا،، یہ سامان آپ رکھ لو پیسوں کا مسئلہ نہیں ہے جب کبھی آپ کے پاس ہو۔۔۔ آپ تب دے دینا آپ ہماری پرانی گاہک ہو کوئی مسئلہ کی بات ہی نہیں ہے”

بشیر لہجے میں شیرنی کھولتے ہوئے نائلہ سے کہنے لگا جبکہ نائلہ کے ادھار کے بولنے پر وہ اس سے کافی بدلحاضی کر چکا تھا

“سمجھ میں نہیں آرہا تمہیں،، ہمیں ضرورت نہیں ہے تمہارے احسان کی،، اپنا یہ سارا سامان اٹھاو اور دفع ہو جاؤ یہاں سے”

شانزے چیخ کر بشیر سے بولی

“شانزے بالکل خاموش ہو جاؤ اور کمرے میں جاو اپنے”

نائلہ نے تیز لہجے میں بیٹی کو ٹوکتے ہوئے کہا

“صحیح ہے بھائی بہت بہت شکریہ،، پیسے میں آپ کو ایک یا دو دن میں پہنچا دوں گی”

نائلہ نے بشیر سے کہا

“پیسوں کی کوئی فکر نہیں ہے بہن جی آپ اگلے ماہ ایک ساتھ دے دئیے گا اور اگر تب بھی پیسے موجود نہیں ہوئے تو کوئی مسئلہ کی بات نہیں ہے،،، آپ بہنوں کی طرح ہیں اور اب آپ کو دکان پر آنے کی بھی ضرورت نہیں ہے یہاں سے دکان کافی دور ہے آپ کہاں پیدل چل کر آؤگی مہینے کی پہلی تاریخ پر چھوٹا خود آ کر سارا سامان آپ کو دے جایا کرے گا”

بشیر خوش اخلاقی سے بولتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ نائلہ اور شانزے دونوں اسکے رویہ پر حیران رہ گئی۔۔۔ ابھی وہ حیرت زدہ ہو کر ایک دوسرے سے بات کرتی دروازہ ایک بار دوبارہ بجا نائلہ نے جا کر دروازہ کھولا 14 سالہ بچہ (جو کہ گوشت دکان پر کام کرتا تھا) سامنے کھڑا تھا

“آنٹی یہ میں بالکل تازہ گوشت لے کر آیا ہوں”

بچے نے چکن اور قیمے کا شاپر نائلہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

“مگر بیٹے یہ کیوں لے کر آئے ہو میں نے تو تم سے گوشت کا نہیں کہا”

اب نائلہ حیرت زدہ ہوکر اس بچے کو دیکھتی ہوئی بولی

“ارے صبح ہی تو بھائی سے کہا تھا آپ نے کہ دو کلو چکن اور ایک کلو قیمے کا۔۔۔ یہ جلدی سے پکڑیں دکان پر گاہک انتظار کر رہے ہوگے”

بچہ زبردستی نائلہ کے ہاتھ میں شاپر تھما کر چلا گیا شانزے نائلہ کو کچن کے دروازے پر کھڑی ہوئی حیرت سے دیکھ رہی تھی

“یہ کیا ہو رہا ہے مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا”

نائلہ شانزے کو حیرت سے دیکھتی ہوئی کہنے لگی اور گوشت کے شاپر فرج میں رکھنے لگی تبھی ایک بار پھر دروازہ بجا اب کی بار شانزے نے دروازہ کھولا تو اوپر کرائے دار والی آنٹی مسکراتی ہوئی گھر کے اندر داخل ہوئی

“ارے نائلہ بہن یہ لو اپنے پیسے اور اچھی طرح گن لو پورے تین ماہ کا کرایہ ہے”

وہ خاتون زبردستی مسکراتی نائلہ کو پیسے دینے لگی

“آج کیسے یاد آگیا آپ کو کرایہ دینا” شانزے اکرم کیا اماں کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی

“شانزے”

نائلہ نے شانزے کو آنکھیں دکھاتے ہوئے ٹوکا

“ایک منٹ امی ذرا معلوم تو ہونے دیں،،، ہاں تو آنٹی ذرا آپ مجھے بتانے کی زحمت کرسکتی ہیں یہ شرم آپ کو کس نے دلائی”

شانزے اکرم کیا اماں کی طرف دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھنے لگی

“اے لو لڑکی،، ایک تو میں کرایہ لے کر آئی ہوں اوپر سے تم مجھے شرمندہ کر رہی ہو”

اکرم کی اماں نے اپنے سامنے اس چھٹانک بھر کی لڑکی کو دیکھتے ہوئے کہا

“اگر آپ کرایا لے کر آئی ہیں تو کوئی احسان نہیں کر رہی ہیں ہمارے اوپر۔۔۔۔ آپ صرف مجھے اس کا نام بتائیں جس کے کہنے پر آپ یہ کرایا لے کر آئی ہیں”

شانزے کو اب یقین ہونے لگا ان سب کے پیچھے ضرور کسی نہ کسی کی کارستانی ہوسکتی ہے

“وہ آج صبح سویرے اکرم کے آبا کے پاس کوئی ایس پی آیا تھا بڑا ہی روعب دکھا رہا تھا ہم غریبوں پر اکرم کے ابا کو تو بری طرح دھمکا کر گیا ہے اور یہ بھی کہہ کر گیا ہے اگر انسانوں کی طرح رہنا ہے تو کرایہ دے کر رہو۔۔۔ ارے نائلہ بہن تم تو جانتی ہو ہمارے خود کے حالات کون سے اس قابل ہیں بس مہینے کی چھ سات تاریخ تک مہلت دے دیا کرنا تمہیں کرایہ مل جائے گا اور ہمیں گھر خالی کرنے کا ہرگز مت کہنا”

اکرم کی اماں منت سماجت کرتی ہوئی بولی اور وہاں سے چلی گئی

“کہیں نوفل کا ذکر تو نہیں کر رہی یہ” ابھی شانزے کرائے دار کی بات پر صحیح سے حیران بھی نہیں ہوئی تھی کہ نائلہ کے منہ سے نوفل کا نام سن کر اسے کرنٹ لگا

“آپ جانتی ہیں اس گھٹیا انسان کو” شانزے نے نائلہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا

“شانزے میں دیکھ رہی ہو دن بدن تمہاری زبان بہت خراب ہوتی جارہی ہے ذرا تمیز سے بات کیا کرو۔۔۔ ہاں جانتی ہو تین چار دن پہلے ملاقات ہوئی تھی اس سے،، جب ڈاکٹر کے ہاں سے واپس آرہی تھی تب راستے میں گر گئی تھی اسی نے اپنی کار میں بٹھا کر مجھے گھر تک چھوڑا تھا بہت نیک بچہ ہے۔۔۔ نوفل نام بتا رہا تھا اور یہ بھی کہ وہ پولیس کی نوکری کرتا ہے کہہ رہا تھا کوئی بھی کام ہو مجھے یاد کر لیے گا اپنا موبائل نمبر بھی دے کر گیا ہے”

نائلہ شانزے کو دیکھتی ہوئی بتانے لگی۔۔۔ نائلہ کا نوفل کو نیک بچہ کہنے پر شانزے کا دل چاہا وہ اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کرے

“اور آپ نے اسے ہمارے گھر کے سارے مسئلے مسائل بتا دیے”

شانزے نے افسوس سے سر جھٹکا

“دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا،، پاگل سمجھا ہوا ہے مجھے۔۔۔کہ کسی اجنبی کے سامنے اپنی مفلسی کا رونا رونگی۔۔ مجھے تو خودہی سمجھ میں نہیں آ رہا اسے یہ سب کیسے معلوم ہوا مگر تم اسے کیسے جانتی ہو”

نائلہ اب شانزے سے پوچھنے لگی جس پر شانزے نے پہلی ملاقات کا گول کرکے سرسری سے انداز میں عنایہ کی منگنی والے دن کے بارے میں کچھ سچی کچھ جھوٹی بات بتاکر بتا دی اور کمرے سے چلی گئی

****

صبح جب شانزے کالج کیلئے گھر سے نکلی تو روز معمول کی طرح وہ تیز قدم اٹھاتی ہوئی چل رہی تھی پندرہ منٹ کی دوری پر بس اسٹاپ تھا جہاں سے وہ ہر روز بس میں وہ کالج پہنچتی تھی۔۔۔۔ اتنے میں اچانک ایک رکشہ آکر اس کے پاس رکھا وہ اپنے ہی خیالوں میں مگن تھی اسلئے ڈر کر پیچھے ہٹی

“آ جاؤ آپی تمہیں کالج چھوڑ دیتا ہوں”

رکشے والا جو کہ اسی کے ہم عمر تھا اور اسی محلے میں رہتا تھا شانزے کو دیکھ کر بولا

“کوئی ضرورت نہیں ہے،،، تمہیں دینے کے لیے حرام کے پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔۔۔ میں بس میں ہی جاؤں گی تم اپنا راستہ ناپو” شانزے کو صبح ہی صبح رکشے والے کا فری ہونا اچھا نہیں لگا

“تو میں آپ سے کون سا پیسے مانگ رہا ہوں آپ بہنوں جیسی ہو میری،، نخرے چھوڑو اور جلدی سے بیٹھ جاؤ۔۔۔ روز چھوڑ کر آؤں گا اور کالج سے واپس بھی لے کر آ جاؤں گا دو بجے چھٹی ہوتی ہیں ناں”

وہ شانزے سے کنفرم کرتا ہوا پوچھنے لگا

“کالج نہیں،،، جس نے تمہیں میرا بھائی بننے کے لیے کہا ہے ذرا اسی کے پولیس اسٹیشن لے کر چلو مجھے”

شانزے رکشہ میں بیٹھتی ہوئی رکشے والے سے بولی