Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 31)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 31)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“عنایہ اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرو فوراً”
عنایہ کو کمرے میں لانے کے بعد نمیر سنجیدگی سے بولا عنایہ نے تڑپ کر اسے دیکھا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے وہ اپنے بھائی کی فیلنگز کو سمجھ کر اسے سمجھانے کے لئے تو آگے بڑھا تھا مگر اس کو تو وہ رونے بھی نہیں دیتا تھا عنایہ نے بے دردی سے اپنے ہاتھ چہرے پر رگڑ کر اپنے آنسو صاف کیے تبھی نمیر اس کے قریب آیا،، اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے شانوں کو تھاما
“بہت برا لگتا ہوں نا میں تمہیں جب اس طرح زور زبردستی کرتا ہوں تمہارے ساتھ،، بالکل اسی طرح مجھے تمہاری آنکھوں میں یہ آنسو برے لگتے ہیں جو نہال کے لیے نکلتے ہیں۔۔۔ میں تمہاری آنکھوں میں نہال کے لئے آنسو کی بجائے ان ہونٹوں پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہوں جو صرف مجھے دیکھ کر آئے”
نمیر عنایہ کا چہرہ دیکھتا ہوا اپنے دل کا حال بتا رہا تھا مگر عنایہ کی نظر اس کے زخمی ہاتھ پر تھی جو اس کے کندھے پر موجود تھا
“آپ کا ہاتھ زخمی ہوگیا نمیر،، اپکو تکلیف ہورہی ہوگی”
معلوم نہیں کہ عنایہ نے اس کی بات سنی بھی کہ نہیں۔۔ یا پھر سن کر انجان بنی رہی۔۔۔ وہ اپنے کندھے سے نمیر کا ہاتھ تھامتی ہوئی بولی۔۔۔ جو کہ گلاس کے ٹوٹنے سے زخمی ہوا تھا
“تمہیں یہ زخم نظر آرہا ہے تو تم اس پر افسوس کر رہی ہو۔۔۔۔ اور میری محبت،،، وہ نظر نہیں آتی تمہیں۔۔ یا پھر میری محبت کو بھی جان بوجھ کر نظر انداز کرتی ہو میری باتوں کی طرح”
نمیر عنایہ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر اس سے جواب طلب کرنے لگا
“جب آپ خود میرے اندر رونما ہونے والی تبدیلی کو محسوس نہیں کر سکتے تو مجھ سے شکوہ مت کریں”
عنایہ بھلا کھلے لفظوں میں کیسے اظہار کر سکتی تھی
“کون سی تبدیلی کی بات کر رہی ہو تم۔۔۔ جو تمہارے دل میں ہے اسے زبان پر لے کر آؤ۔۔۔ بیوی ہو تم میری یار دو مہینے ہونے کو آئے ہیں ہماری شادی کو۔۔۔ پھر کون سی شرم، کیسی جھجھک… عنایہ یوں اپنے اور میرے رشتے کو مذاق بناؤں گی تو میں تم سے شکوہ کروں گا۔۔۔۔ اس سے پہلے دوسرے لوگ ہمارے رشتے کو سمجھنے لگے خدارا تم اپنے اور میرے رشتے کو سمجھو”
نمیر عنایہ کو بولتا ہوا بگڑے موڈ کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گیا
****
نوفل بیڈروم میں آیا تو شانزے آئینے کے آگے کھڑی تیار ہو رہی تھی وہ ابھی ابھی ڈیوٹی سے واپس آیا تھا۔۔۔ شانزے کو دیکھکر مسکراتا ہوا اس کے قریب آیا
“تو ایس۔پی صاحب آ گئے اپنی ڈیوٹی انجام دے کر”
نوفل کے قریب آنے پر شانزے نے پلٹ کر اس سے پوچھا۔۔۔ معلوم نہیں وہ ان دو دنوں میں زیادہ خوبصورت ہوگئی تھی یا پھر نوفل کی قربتوں کا اعجاز تھا
“تم نے انتظار کیا میرے واپس آنے کا” نوفل اسے بانہوں میں لیتا ہو پوچھنے لگا
“تو تمہیں کیا لگ رہا ہے کوئی ایکشن مووی دیکھ کر ٹائم پاس کر رہی ہوگی۔۔ دو دن کی بیاہی لڑکی اپنی شوہر کا ہی انتظار کرے گی”
شانزے کے دلفریب انداز اور اعتراف نے نوفل کو اندر تک سرشار کر دیا
“میں تو چاہتا ہوں میں جب بھی ڈیوٹی دے کر واپس آؤ تو تم مجھے ایسے ہی تیار ہوکر میرا انتظار کرتی ہوئی ملو”
نوفل نے بولنے کے ساتھ شانزے کو کمر سے اونچا اٹھایا اور بیڈ کر گرنے والے انداز میں اس کو لے کر لیٹا
“کیا ہوجاتا ہے تمہیں بچوں جیسی حرکتیں شروع کر دیا کرو بس”
شانزے بیڈ سے اٹھتی لگی تبھی نوفل نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اپنی طرف کھینچا
“ان دو دنوں میں تمہیں میری کون سی حرکت بچوں والی لگی”
نوفل اس کو دیکھ کر معنی خیزی سے پوچھنے لگا تو شانزے کے چہرے پر لالی چھائی
“آف نوفل بدتمیزی نہیں کرو اس وقت،، جاکر چینج کرو فوراً۔۔۔ میں بالکل ریڈی ہو،،، اور میں دیر تک اپنی سہیلی کے ساتھ بیٹھو گی مجھے وہاں سے جلدی اٹھنے کا اشارہ بالکل مت کرنا”
آج صبح ہی نوفل کے پاس نمیر کی کال آئی تھی جس پر اس نے اپنا اور نہال کا کل والا واقعہ بتایا اور ساتھ ہی اسے اور شانزے کو اپنے گھر انوائٹ کیا کیوکہ آج عنایہ کی برتھ ڈے تھی۔۔۔ اور وہ اس دن کو اچھی طرح سلیبریٹ کرنا چاہتا تھا
“ریڈی تو میں فوراً ہو جاؤں گا مگر کہیں جانے کے لیے نہیں بلکہ۔۔۔”
نوفل شانزے پر جھگتا ہوا کہنے لگا شانزے نوفل کو پیچھے دھکیل کر بیڈ سے اٹھی
“نوفل اگر تم نے اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے دیر کی ناں۔۔۔ تو میں تمہیں آج بیڈروم میں ہرگز نہیں سونے دو گی”
شانزے اس کو وارن کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی
“واہ نوفل،،، بیوی بھی تو نے اپنے لئے چن کر تلاش کی ہے”
نوفل اپنے آپ سے مخاطب ہوتا ہوا وارڈروب سے اپنے لئے ڈریس نکالنے لگا
****
“یہ تمہاری مامی کا گھر نہیں ہے جو آج کا دن تم یوں بند کمرے میں گزار دو گی۔۔۔ جلدی سے تیار ہو جاؤ میں نے نوفل کو آٹھ بجے کا ٹائم دیا تھا پہنچنے والا ہوگا وہ تمہاری سہیلی کے ساتھ”
عنایہ بیڈروم کی کھڑکی کھولے کھڑی تھی۔۔۔ نمیر کمرے میں داخل ہو کر اس کو دیکھتا ہوا بولا،، کل صبح ہونے والی تلخی کے بعد اب تک نہال اپنے آپ کو کمرے میں موجود تھا۔۔۔۔ نمیر نے اور ثروت نے کافی کوشش کی کہ اس سے بات کرے مگر وہ ان دونوں میں سے کسی کی بھی سننے کے لئے تیار نہیں تھا۔۔۔ بات تو اس کی اور عنایہ کی بھی روبرو اسی وقت ہو رہی تھی کیوکہ وہ کل صبح آفس کا نکلا، رات کافی دیر گھر آیا جب تک عنایہ سوچکی تھی۔۔۔۔ صبح بھی وہ عنایہ کو جگائے بغیر آفس کے لیے نکل گیا۔۔۔ آج دوپہر میں اس نے آفس سے فون کر کے عنایہ کو بتایا کہ وہ فرمان اور اس عشرت کے ساتھ نوفل اور شانزے اور اپنے چند دوست کی فیملی کو بھی انوائٹ کرچکا ہے
“کیا ضرورت تھی برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے کی۔۔۔۔ آپ نے مجھے پہلے کبھی برتھ ڈے سیلیبریٹ کرتے دیکھا ہے”
عنایہ نمیر کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی تو نمیر اس کے قریب آ کر اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھامتے ہوئے بولا
“ایسا ضروری تو نہیں جو کام پہلے کبھی نہیں ہوا وہ اب بھی نہ ہو۔۔۔ اب تمہاری مجھ سے شادی ہوچکی ہے میرا دل چاہ رہا تھا تمہاری برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنے کا مجھے اچھا لگے گا آج کے دن تم میرے لیے سجھو سنوارو۔ ۔۔ میرا لایا ہوا ڈریس پہنو،، کیا تم میری خوشی کے لیے ایسا کرو گی”
نمیر عنایہ کا چہرہ تھامے اس سے پوچھنے لگا تو عنایہ نے اقرار میں سر ہلایا۔۔۔ نمیر نے اسمائل کے ساتھ اسکے چہرے سے اپنے ہاتھ ہٹائے اور وارڈروب سے عنایہ کے لیے ڈریس نکالنے لگا جو وہ کل ہی اس کے لئے لایا تھا
“یہ۔۔۔۔ یہ میں کیسے پہن سکتی ہوں آج سے پہلے میں نے ساڑھی کبھی نہیں پہنی،، نہ ہی مجھے پسند ہے اور نہ ہی اسے باندھنا آتا ہے” نمیر کے ہاتھ میں ریڈ کلر کی ساڑھی دیکھی تو عنایہ گھبراتی ہوئی بولی۔۔۔ ساڑھی نہال کو بھی اتفاق سے بالکل نہیں پسند تھی۔۔۔ اس وجہ سے شادی کے کپڑوں میں اس نے ایک بھی ساڑھے نہیں لے تھی اور خود اسے بھی ساڑھی پہننے کا کوئی خاص شوق نہیں تھا
“آج سے پہلے تو تم نے برتھڈے بھی سیلیبریٹ نہیں کی۔۔۔ آج کر رہی ہو نا ایسے ہی آج پہلی دفعہ یہ ساڑھی بھی پہنو گی،،، تمہیں پسند نہیں ہے مگر مجھے پسند ہے اچھی لگے گی تم پر،،، اس لئے تمہارے لئے لایا ہوں”
نمیر نے ہینگر میں لٹکی ہوئی ساڑھی عنایہ کے ہاتھ میں تھمائی
“میں نے یہ بھی کہا ہے مجھے یہ باندھنا نہیں آتی”
عنایہ نے منہ بنا کر کہا کیوکہ ساڑھی پہننے کا اس کا ذرا برابر موڈ نہیں تھا
“ٹائی باندھنا تمہیں نہیں آتی،، ساڑھی باندھنا تمہیں نہیں آتی،، شوہر سے پیار کیسے کیا جاتا ہے اسے خوش کیسے رکھا جاتا ہے اس سے تم لاعلم ہوں۔۔۔ بے فکر رہو ایک ایک کرکے سب کچھ سیکھا دوگا”
نمیر گہری نظروں سے اس کو دیکھتا ہوا بولا تو عنایہ اس کی نظروں سے کنفیوز ہونے لگی
“ساڑھی باندھنا کوئی مہارت کا کام نہیں ہے تم نے ٹائی باندھنا نہیں سیکھی مگر ساڑھی پرچیز کرنے کے بعد میں نے اس کو باندھنے کا طریقہ دیکھ لیا ہے۔۔۔ آج صبح ٹائی نہ باندھنے کا حرجانہ تو دینا ہی پڑے گا۔۔۔ مگر وہ بات کی بات ہے۔۔۔ جاؤ اب یہ بلاؤز پہن کر آؤ جلدی سے”
نمیر کی بات سن کر وہ سست قدموں سے ساڑھی لیے ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔۔۔۔ اس کے بعد جب تک نمیر نے اس کو ساڑھی نہیں باندھی عنایہ نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے رکھا۔۔۔ نمیر افسوس سے اس کو دیکھ کر سر ہلانے لگا
“ایسا لگتا ہے شادی میری کسی جوان لڑکی سے نہیں بلکہ کسی چھوٹی سی بچی سے ہوئی ہے۔۔۔۔ جسے پڑھانے کے ساتھ ساتھ ہر کام سکھانا پڑے گا”
پیچھے بلاؤز کی ڈوری باندھنے کے بعد نمیر نے اس کے شولڈر پر اپنے ہونٹ رکھے
“نمیر”
عنایہ ایک دم نمیر کی طرف مڑی۔۔۔ شرم سے اس کا چہرہ ساڑھی کے رنگ جیسا ہونے لگا
“کیا نمیر۔۔۔ اب شرمانہ چھوڑو جلدی سے باقی کا خود تیار ہو اور فوراً باہر نکلو”
نمیر اس کے بالوں کو کلپ سے آزاد کرتا ایک نظر اس کے حسین سراپے پر ڈالتا خود بھی چینج کرنے چلا گیا۔۔
عنایہ جلدی جلدی باقی کا خود تیار ہو کر بال کھلے چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل آئی ثروت نے اسے دیکھا تو پیار کرتے ہو ڈھیر ساری دعائیں دی
نوفل، شانزے، فرمان اور عشرت اور دوسرے گیسٹ آ چکے تھے عشرت کے علاوہ اس نے سب سے تعریفیں اور مبارکباد وصول کی
عشرت آج بھی عنایہ کو دیکھ کر اس پر طنز کرنا نہیں بھولی اس کی سالگرہ بنانے پر اور تیار ہونے پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔۔۔۔ اس کے خیال میں آج کے دن عنایہ کو صرف اپنے ماں باپ کا سوگ منانا چاہیے تھا
جس پر عنایہ تو خاموش رہی مگر اس کی جگہ نمیر نے عشرت کو ٹکا سا جواب دیا۔۔۔ یہ کہیں بھی نہیں لکھا کہ مرنے والوں کو صرف رو رو کر یاد کیا جائے آج عنایہ کے پیرنٹس کی برسی تھی وہ ان کو پڑھ کر بخش چکی ہے۔۔۔ مرنے والے اگر ماں باپ ہو تو وہ کبھی بھی نہیں چاہے گے ان کی اولاد دنیا میں آنسو بہائے۔۔۔ آج عنایہ کا برتھ ڈے ہے اور اپنی خوشیوں پر اس کا بھی حق ہے۔۔۔ نمیر کی بات سن کر جہاں شانزے خوش ہوئی وہی عشرت کا منہ آخر تک بنا رہا
“نمیر میں کیک کیسے کاٹو گی”
سب لوگ ٹیبل پر موجود تھے تب عنایہ نروس ہوتی ہوئی نمیر سے آہستہ سے پوچھنے لگی
“عنایہ تمہیں کیک کاٹنا ہے کوئی گائے یا اونٹ نہیں ذبح کرنا جو تم ایسے گھبرا رہی ہو”
نمیر نے اس کو گھبراتے ہوئے دیکھا تو ریلکس کرتے ہوئے کہا
“مگر میں نے یوں سب کے سامنے کھبی کیک کاٹا نہیں سب دیکھیں گے مجھے”
عنایہ منمناتی ہوئی بولی
“ابھی بھی سب ہم دونوں کو ہی دیکھ رہے ہیں آو شاباش”
نمیر اس کے کندھے کے گرد ہاتھ رکھ کر اسے ٹیبل پر لایا اور عنایہ کو چھری پکڑائی۔۔۔ سب کی موجودگی میں تالیوں کی گونج میں عنایہ نے کیک کاٹا
****
“اف شکر ہے تم اپنے کمرے میں لے آئی وہاں سب کے سامنے تو انسان بات ہی نہیں کر سکتا۔۔ ۔ اب بتاؤ موبائل پر کیا ضروری بات بتا رہی نمیر بھائی کے بارے میں تم”
عنایہ اسے اپنے کمرے میں لائی تو شانزے اس سے بولی
“بتاتی ہوں مگر پہلے اپنی شادی کی مبارکباد وصول کرو اور یہ بتاؤ نوفل بھائی کا رؤیہ کیسا ہے تمہارے ساتھ”
عنایہ شانزے کے برابر میں بیٹھی اس سے پوچھنے لگی
“بالکل ویسے ہی رویہ ہے جیسے دو دن کی نئی نویلی دلہن کے ساتھ ایک شوہر کا ہونا چاہیے” شانزے نے شرمانے کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا جس پر عنایہ کو ہنسی آئی
“اللہ بری نظر سے بچائے بہت پیاری لگ رہی ہو آج تم”
عنایہ نے شانزے کو خوش اور مطمئن دیکھ کر دل سے دعا دی
“میں پیاری لگ رہی ہو، یہ نوفل مجھے بتا چکا ہے اور تم کتنی پیاری لگ رہی ہو یہ نمیر بھائی کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھ لینا ان کی نظریں بار بار تم پر اٹھ رہی ہیں”
شانزے نے شرارتی انداز میں بولا تو عنایہ ایکدم جھینپ گئی۔۔۔ کیوکہ نمیر کو ہر تھوڑی دیر بعد اپنی طرف دیکھتا ہوا محسوس تو وہ خود بھی کر چکی تھی
“ویسے نظریں تو تمہاری مامی کی بھی بار بار تم پر اٹھ رہی ہیں خدا کی قسم کیسے گھورتی ہیں یہ خاتون تمہیں۔۔۔ لگتا ہی نہیں تمہاری ساس اور مامی دونوں بہنیں ہیں” شانزے کو عشرت یاد آئی۔۔۔ جو مہمانوں کے بیج عنایہ کو خار کھانے والی نظروں سے وقفے وقفے سے دیکھے جا رہی تھی
“یار دراصل انہیں اچھا نہیں لگا میری برتھ ڈے سیلیبریٹ کرنا میں جبھی نمیر کو روک رہی تھی”
عنایہ شانزے کو عشرت کے ناخوش ہونے کا ریژن بتانے لگی
“ارے چھوڑو اپنی مامی کو نمیر بھائی نے بہت اچھا کیا جو تمہاری برتھ ڈے سیلیبریٹ کی۔۔۔ میں تمہاری جگہ ہوتی تو کیک کاٹ کر سب سے پہلے بڑا والا کیک کا ٹکڑا اپنے پیارے سے ہاتھوں سے ان کے منہ میں ہی ڈالتی۔۔۔ اب بتاؤ نمیر بھائی کے بارے میں کیا کہہ رہی ہو تم”
شانزے عنایہ کو دوبارہ اسی ٹاپک پر لے آئی
“شانزے مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے مجھے نمیر اچھے لگنے لگے ہیں۔۔۔۔ یعنی وہ دوسری طرح سے بہت زیادہ اچھے۔۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔ مجھے لگ رہا ہے کہ مجھے نمیر سے۔۔۔ افوہ تم سمجھ جاو نا خود سے”
عنایہ جو لفظوں میں اپنی فیلنگز شانزے کو نہیں بتا سکی تو جھنجھلا گئی۔۔۔ شانزے تو ہنسی روکے ہوئے اس کی بات سن رہی تھی کھلکھلا کر ہنس دی
“اف عنایہ کیا چیز ہو تم،، اگر تمہیں نمیر بھائی اچھے لگنے لگے ہیں تو اس میں اتنا شرمانے کی کیا بات ہے وہ شوہر ہیں تمہارے۔۔۔ یہ تو نیچرل فیلینگ ہے تمہاری ان کے لیے اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے اور تم کتنی بدھو ہو اس بات کا اقرار اپنے شوہر کی بجائے دوست کے سامنے کر رہی ہوں”
شانزے اس کو سمجھانے کے ساتھ ساتھ ڈانٹنے لگی۔۔۔ اتنے میں روم کا دروازہ کھلا اور نمیر اندر آیا
“ڈسٹرب کرنے کے لیے سوری۔۔۔ مگر نوفل بلا رہا ہے آپ کو”
نمیر کمرے میں داخل ہوتا ہوا شانزے کو دیکھ کر بولتا ہوا واپس چلاگیا تو شانزے عنایہ کے کمرے سے باہر نکلی
*****
“کیوں آ جاتی ہوں تم بار بار میرے سامنے، آخری پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتی میرا”
نہال فرحین کا عکس اپنے کمرے کے آئینے میں دیکھ کر ایک دم چیختا ہوا بولا
وہ کل سے بار بار اس کے سامنے آئے جا رہی تھی اس کو دیکھ کر زور زور سے ہنس رہی تھی نہال کو لگا جیسے وہ اس کو شکست خور اور ٹوٹا ہوا دیکھ کر خوش تھی۔۔۔۔ جشن تو شاید باہر بھی بن رہا تھا تھوڑی دیر پہلے آنے والی تالیوں کی آواز،،، نہال کے دماغ پر ہتھوڑے کی ماند پڑ رہی تھی
“سوری نہال بھائی،، میں سمجھی نوفل یہاں ہو گے۔۔ اسی وجہ سے ان کو یہاں دیکھنے آئی تھی”
نہال نے دوبارہ آئینے میں دیکھا پھر حیرت سے پلٹ کے دیکھا تو نوفل کی بیوی کو سامنے کھڑا پایا۔۔۔ وہ فرحین نہیں شانزے تھی،،، نوفل کی بیوی۔۔۔ غلطی سے شانزے کو وہ فرحین سمجھ بیٹھا تھا
