Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 44)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 44)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“خرم، آنٹی۔۔۔ نوفل کہا ہے اس وقت،، وہ ٹھیک تو ہے نا یہ سب کچھ کب اور کیسے ہوا”
نمیر خرم کے بتائے ہوئے اسپتال پہنچا اور پھولی ہوئی سانس کے ساتھ ایک ساتھ ان دونوں کو دیکھ کر سوالات کرنے لگا
“شولڈر کے پاس بولڈ لگی تھی۔۔ اللہ کا احسان ہے بولڈ نکال دی گئی ہے۔۔ اب بھیا کی جان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے مگر ابھی تک وہ ہوش میں نہیں آئے ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں چند گھنٹے تک ہی ہوش آئے گا” خرم نمیر کو دیکھتا ہوا بتانے لگا جس پر نمیر نے آنکھیں بند کر کے شکر ادا کیا
“آخر کون ہو سکتا ہے کس نے کیا ہوگا اس کے ساتھ ایسا”
نمیر خرم کو دیکھتا ہوا کہنے لگا
“اس کی بیوی نے کیا ہے ایسا۔۔۔ میرے خدا شکل سے کیسی معصوم لگتی تھی اور کیسے اس نے اپنے شوہر پر گولی چلائی مجھے تو ابھی تک حیرت ہورہی ہے”
فریدہ نمیر کو دیکھتی ہوئی بتانے لگی نمیر ایک بار پھر شاک کی کیفیت نے فریدہ کو دیکھنے لگا
“کیا کر رہی ہیں امی آپ، آئستہ تو بولیں”
خرم نے فریدہ کو ٹوکتے ہوئے کہا۔۔۔ پھر نمیر کو اپنا موبائل نکال کر ویڈیو دکھانے لگا جس میں شانزے نوفل پر فائر کر رہی تھی
“اومائی گاڈ شانزے ایسا کیسے کر سکتی ہے”
ویڈیو دیکھ کر بے یقینی سے نمیر کے منہ سے نکلا۔۔۔ اب وہ حیرت سے خرم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ یہ تو نمیر کو سمجھ میں آ گیا کہ یہ نوفل کے ڈرائنگ روم کی ویڈیو تھی اور نوفل نے اپنے ڈرائنگ روم میں خفیہ کیمرا لگایا تھا یہ بات اسے اور نہال کو بہت پہلے سے معلوم تھی مگر کیمرے کی رینج کے حساب سے وائز کلیئر نہیں آرہی تھی
“یہی تو مجھے بھی سمجھ میں نہیں آرہا جب ہم لوگ ایئرپورٹ سے گھر پہنچے تو بھیا زخمی حالت میں فرش پر بے ہوش پڑے تھے اور بھابھی اور ان کی امی گھر پر موجود نہیں تھی”
خرم نمیر کو بتانے لگا
“تم نے یہ بات اور کسی سے شیئر تو نہیں کی”
نمیر کچھ سوچتا ہوا خرم سے پوچھنے لگا
“میں تو اس سے کہہ رہی ہوں کہ پولیس کو بتاؤ تاکہ وہ اریسٹ کرے ایسی خطرناک لڑکی کو مگر یہ میری بات مان ہی نہیں رہا اور نہ ہی مجھے بتانے دے رہا ہے”
فریدہ نمیر کو دیکھتی ہوئی بولی
“آنٹی پلیز آپ میری بات اطمینان سے سنیں،، شانزہ ایسی لڑکی نہیں ہے آخر کیا وجہ ہوئی ہوگی جو اس نے اتنا بڑا قدم اٹھایا۔۔۔ میرے خیال میں ہمہیں نوفل کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنا چاہیے،، اس کے بعد ہی کوئی ایکشن لینا چاہیے تب تک یہ بات ہم تینوں کے درمیان رہے گی” نمیر کی بات کی خرم نے تائید کی،، فریدہ، خاموش ہوگئی تھوڑی دیر بعد نہال بھی اسپتال میں ان لوگوں کے پاس پہنچ گیا
****
“ارے واہ یہ شرٹ بڑی زبردست لگ رہی ہے نیو ہے کیا” نمیر نوفل اور نہال تینوں ہی اس وقت جم سے آکر نوفل کے روم میں بیٹھے ہوئے تھے تب نہال اس کی وارڈروب میں رکھی ایک شرٹ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جس کی پاکٹ پر این ایلفابیٹ موجود تھا
“یہ شرٹ مجھے پرسوں خرم نے پریزنٹ کی تھی” نوفل نے اسکرین سے نظریں ہٹا کر شرٹ کو دیکھتے ہوئے نہال کو جواب دیا جبکہ نمیر ان دونوں کی باتوں پر توجہ دیے بغیر بیڈ پر لیٹا ہوا مووی دیکھ رہا تھا
“ٹھیک ہے اسے پہلے میں پہن کر حلال کروں گا اس کے بعد تم یوز کرنا”
نہال بولتا ہوا وہ شرٹ اپنے بیگ میں رکھنے لگا،، جو بیگ وہ جم لے کر جاتا تھا۔۔۔ نوفل اور نہال اکثر ایک دوسرے کے کپڑے اور چیزیں استعمال کرلیتے تھے مگر نمیر کی یہ عادت بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔ نوفل نہال کی بات سن کر جواب دیے بغیر مووی دیکھنے لگا
“نہال۔۔۔ نہال”
نوفل نے بے ہوشی کی حالت میں نہال کو پکارا تو وہ اٹھ کر نوفل کے پاس آیا
“میں یہی موجودہ نوفل آنکھیں کھولو پلیز”
نوفل کے پکارنے پر جہاں فریدہ خرم نمیر اس کی طرف متوجہ ہوئے وہی نہال بیڈ پر اس کے پاس آ کر بولا۔۔۔ اب وہ دوبارہ غشی کی حالت میں جا چکا تھا اور خاموش ہوچکا تھا۔۔۔ فریدہ کے چہرے پر افسردگی کے آثار نمایاں ہوئے
“آنٹی آپ پریشان مت ہوں پلیز،، ڈاکٹر نے کہا ہے اسے صبح تک ہوش آجائے گا۔۔۔ میرے خیال میں آپ دونوں کو گھر جاکر ریسٹ کرنا چاہیے آج ہی فلائٹ لے کر آئے ہیں آپ دونوں” نمیر فریدہ کو دیکھتا ہوا بولا
“اتنے بڑے حادثے کے بعد کیسے ریسٹ کر سکتی ہو مجھے تو بہت زیادہ ٹینشن ہو رہی ہے”
فریدہ پریشان ہوتی ہوئی بولی
“آنٹی اس طرح تو آپ اپنی طبیعت خراب کرلے گیں۔۔۔ نمیر ٹھیک کہہ رہا ہے میرے خیال میں، نمیر تم آنٹی اور خرم کو گھر ڈراپ کر دوں میں آج یہی نوفل کے پاس موجود ہوں۔۔۔ اگر اسے رات میں ہی ہوش آتا ہے تو میں سب کو انفارم کر دوں گا”
نہال فریدہ کے ساتھ باقی ان دونوں کو بھی دیکھتا ہوا بولا
“ٹھیک کہہ رہا ہے نہال،، میں صبح ہاسپٹل پہنچ جاؤں گا آنٹی آپ ٹینشن نہیں لے،، چلو خرم تم بھی کافی تھکے ہوئے لگ رہے ہو”
نمیر فریدہ اور خرم کو وہاں سے لے کر چلا گیا
جب کے نہال نوفل کو دیکھتا ہوا سوچ میں پڑ گیا آخر اس کی حالت کا ذمہ دار کون ہے کیوکہ نمیر کے منع کرنے پر فریدہ اور خرم نے یہ بات کسی کو بھی نہیں بتائی تھی
*****
نمیر واپس گھر آ کر ثروت سے ملتا ہوا اپنے بیڈ روم میں آیا تو ناگوار نظر اس نے صوفے پر ڈالی جس پر اس کی بیگم بیٹھی ہوں یقیناً اپنے شوہر کی بیوفائی کا سوگ منا رہی تھی
عنایہ کو دیکھتا ہوا وہ سائیڈ ٹیبل پر اپنا والٹ اور موبائل رکھنے لگا۔۔۔ آج نوفل کے چکر میں وہ تھوڑی دیر کے لئے اپنے مسئلے مسائل تو بھول ہی گیا تھا دوسری طرف عنایہ نے نمیر کے آنے کے بعد گھڑی میں ٹائم دیکھا تو وہ مزید جل گئی۔۔۔ نمیر اسے شام میں یہ کہہ کر گیا تھا کہ وہ منال کی طرف جا رہا ہے اب رات کے بارہ بجے اس کی واپسی ہوئی تھی عنایہ شانزے کی باتوں کو ذہن سے جھٹکتی ہوئی اپنے بے وفا شوہر کو دیکھنے لگی
“تم میں کچھ آداب، طور طریقے ہیں کہ نہیں۔۔۔ شوہر گھر آیا ہے اور تم یہاں بیٹھی اس کا منہ تک رہی ہو۔۔۔ کھانے کا کون پوچھے گا مجھ سے یہ گھر کی دیواریں”
جب عنایہ نے آگے بڑھ کر اس سے کوئی بات نہیں کی تو نمیر اسکے سر پر کھڑا ہو کر اسے باتیں سنانے لگا اور اپنے اگنور ہونے کا بدلہ لینے لگا
“جہاں آپ اتنی دیر لگا کر آئے ہیں اس نے کھانے کو بھی نہیں پوچھا”
عنایہ صوفے سے اٹھ کر طنز کرتی ہوئی کچن میں جانے لگی تبھی نمیر نے اس کا بازو پکڑا
“اس نے کھانے کے علاوہ کچھ دوسری پرکشش آفر پیش کی تھی۔۔۔ اب گھر آکر بیوی کو تو ہر بات نہیں بتائی جا سکتی نا”
نمیر نے اس کا دل جلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس پر عنایہ شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ نمیر مسکراہٹ چھپائے اسے بانہوں میں لینے لگا۔۔ تبھی عنایہ ایک دم پیچھے ہوئی
“کیوں پرکشش آفر کو ٹھکرا کر آئے ہیں کیا۔۔۔ جو یہاں آکر ارمان نکال رہے ہیں یا پھر ابھی بھی دل نہیں بھرا آپ کا”
عنایہ کو اب نمیر کی ڈھٹائی پر غصہ آنے لگا وہ اسے کچھ ایکسپلین کرنے کی بجائے اس کا دل جلا رہا تھا۔۔ اور یوں دل جلانے کے بعد وہ اپنے چہرے کی مسکراہٹ جس انداز میں چھپاتا مطلب جلتی پر تیل کا کام کرتا تھا
“مفت کی آفر کو تو کوئی پاگل مرد ہی ٹھکرا سکتا ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے اپنے شوہر کہ اتنے اینرجیٹک ہونے پر وہ باہر کی آفر پوری کرنے کے بعد بھی گھر آکر تمہیں اگنور نہیں کرتا”
نمیر مزید اس کی جان جلاتا ہوا۔۔ اب صوفے پر بیٹھ کر شوز اتارنے لگا اور عنایہ قہر برساتی نظر اس پر ڈال کر روم سے باہر نکلنے لگی
“کھانا بعد میں لے کر آنا پہلے وارڈروب سے کپڑے نکال کر دو مجھے”
عنایہ کا پھولا ہوا منہ دیکھ کر وہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا ہوا بولا۔۔۔ آج صبح اس نے عنایہ کو بہت مشکل سے ٹائی کی ناٹ باندھنے دی تھی۔۔۔۔ وہ بھی تب جب عنایہ نے اسے سچی والا ناراض ہونے کی دھمکی دی۔۔۔ عنایہ نے اسے کپڑے تھمائے اور اس کا کوٹ ہینگ کر کے کمرے سے باہر نکل گئی
“بیوقوف لڑکی”
نمیر اپنے کپڑے لے کر ڈریسنگ روم میں جاتا ہوا بڑبڑایا۔ ۔۔ اس کا فی الحال عنایہ کی غلط فہمی دور کرنے کا یا اسے وضاحت دینے کا کوئی موڈ نہیں تھا۔۔۔ ابھی تک وہ اسے اتنا ہی جان پائی تھی،، جو شام میں اس کا تعلق منال کے ساتھ جوڑ رہی تھی۔۔۔ اگر بدلے میں وہ عنایہ سے صرف یہ سوال کرلیتا کہ اسکا پینڈینٹ نہال کے بیڈ پر کیا کر رہا ہے تھا تو یقیناً اس نے کھڑے کھڑے ہی فوت ہو جانا تھا
“ماما کو کھانا کھلا دیا”
عنایہ اس کے لئے ٹرالی میں کھانا لے کر آئی تو وہ عنایہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جبکہ ثروت اسے بتا چکی تھی کہ وہ دونوں ساس بہو کھانا کھا چکی ہیں
“جی کھانا کھلا دیا تھا اور میڈیسن بھی دے دی آنٹی کو”
عنایہ بولتی ہوئی صوفے پر جا کر بیٹھی
“اتنا نہیں ہوسکا کہ بیوی سے بھی پوچھ لیا جائے اس نے کھانا کھایا ہے کہ نہیں، بہت ہی اچھا ہوا جو میں نے ان کا انتظار کیے بنا کھانا کھا لیا”
عنایہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوئی
“آج شانزے سے بات ہوئی تمہاری”
نمیر کے سوال پر عنایہ نے چونک کر نمیر کو دیکھا وہ اسی کو غور سے دیکھ رہا تھا
“نہیں اتفاق سے آج نہ اس کی کال آئی نہ ہی میں نے کی”
عنایہ کو سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا بولے اس لئے صاف مکر گئی ایک تو اسے شانزے کی بات بھی سمجھ میں نہیں آئی تھی وہ کس کو گناہگار کہہ رہی تھی بس اپنی بات کرکے اس نے فون رکھ دیا
“شانزے کے فادر کہاں رہتے ہیں کچھ آئیڈیا ہے تمہیں یا اس کے کوئی رشتے دار یا پھر شانزے کا کوئی دوسرا گھر” نمیر کھانا کھانے سے زیادہ تفشیش کے موڈ میں تھا۔۔۔ وہ ایک ایک کر کے عنایہ سے سوال کرنے لگا کیوکہ نوفل کو گولی مار کر وہ اپنے گھر تو جانے سے رہی ہوسکتا ہے عنایہ ہی کچھ اس کے متعلق جانتی ہوں
“نہیں مجھے کیا معلوم ہوگا ان سب باتوں کے متعلق شانزے نے کبھی ایسا کچھ بتایا ہی نہیں”
جبکہ عنایہ کو معلوم تھا کہ کوئٹہ میں اس کی امی کی کزن رہتی ہے۔۔۔ شانزے کا دو بار کوئٹہ جانا ہوا تھا تو اس نے وہاں سے عنایہ کو فون بھی کیا تھا۔۔۔ مگر آج فون پر شانزے نے اسے شاید کوئٹہ والے گھر کے بارے میں بات کرنے کو بھی منع کیا تھا۔۔۔ دوستی کی لاج رکھتے ہوئے عنایہ نے کانفیڈینس بحال رکھا اور نمیر کو جواب دینے لگی۔۔ نمیر کھانا کھانے کے ساتھ بہت غور سے جانچتی ہوئی نظروں سے عنایہ کو دیکھ رہا تھا
“بقول تمہارے کہ تمہاری شانزے سے بات نہیں ہوئی نہ تمہیں اس کے فادر کا یا کسی دوسرے رشتے دار کا معلوم ہے۔۔۔ ٹھیک ہے لیکن اگر کل کو مجھے معلوم ہوا تمہیں ان میں سے کسی ایک بھی بات کا آئیڈیا تھا تو پھر دیکھنا میں تمہاری کیسے بینڈ بجاتا ہوں “
نمیر اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ کر اسے دھمکاتے ہوئے بولا
“بینڈ تو آپ میری شادی کے پہلے دن سے ہی بجا رہے ہیں۔۔ حد ہوتی ہے اگر اعتبار نہیں ہے تو سوالات کیو کر رہے ہیں”
عنایہ اس کی دھمکی سے واقعی ڈر گئی مگر اب وہ اس کے سامنے خود کو جھوٹا بھی ثابت نہیں کرنا چاہتی تھی
“اعتبار کی بات کم از کم تم میرے سامنے مت کرو عنایہ”
نمیر نے اپنا سر جھٹکا
“تو پھر بتائے آپکی جیکٹ منال آپی کے پاس کیا کر رہی تھی ویسے تو آپ اپنی چیزیں کسی سے شئیر نہیں کرتے”
عنایہ کو یہی سوال تو صبح سے پریشان کر رہا تھا
“تمہیں جو سمجھنا ہے سمجھو،، جو سوچنا ہے سوچتی رہو۔۔ میں تمہیں اپنے کریکٹر کی وضاحت دینے والا نہیں۔۔۔ کھانا اٹھاو کھا چکا ہو میں”
نمیر عنایہ کو جھڑکتا ہوا بولا،،، کوئی اور وقت ہوتا وہ منال کو کبھی اپنی جیکٹ نہیں دیتا۔۔۔ مگر وہ اسکے ساتھ سلیوز لیس ٹاپ میں واک کر رہی تھی گزرنے والوں کی نظریں اس پر محسوس کرکے نمیر نے اپنی جیکٹ منال کے مانگنے پر اسکو دی اور منال نے اس بات کا فائدہ اٹھایا بلکہ جیکٹ مانگی بھی شاید اسی وجہ سے تھی
نمیر نے برائے نام ہی کھانا کھایا تھا۔۔۔ عنایہ روم سے ٹرالی واپس لے گئی
“نمیر ویسے آپ شانزے کے بارے میں کیو پوچھ رہے تھے وہ ٹھیک ہے نا”
عنایہ کچن سے واپس آئی تو اس نمیر کو بیڈ پر لیٹے دیکھا وہ خود بھی لائٹ بند کر کے بیڈ پر لیٹ گئی ایک دفعہ پر اسکا دھیان پھر شانزے کی باتوں کی طرف چلا گیا۔۔۔ نمیر آخر کیو اسطرح اس سے شانزے کے متعلق پوچھ رہا تھا عنایہ سوچنے لگی
“وہ ٹھیک ہے، اب سونے کی کوشش کرو”
نمیر کا جواب سن کر وہ خاموش ہوگئی
شانزے نے کافی دیر سے اپنا نمبر آف کیا ہوا تھا وہ نمیر کے آنے سے پہلے کافی دیر سے ٹرائے کر رہی تھی پھر نمیر کا یوں اچانک سوال کرنا۔۔۔۔ شانزے کی عجیب سی باتیں۔ ۔۔ لازمی کوئی بات تھی
وہ صبح شانزے کے متعلق اسکی خالہ سے کوئٹہ فون کر کے بات کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔۔۔ شانزے کی خالہ کا لینڈ لائن نمبر اسکے پاس ڈائری میں موجود تھا اور ڈائری فرمان کے گھر میں مگر وہ کوئی اتنا بڑا مسلئہ نہیں تھا، وہ بوا کو کال کر کے پوچھ لیتی۔۔۔ یہی سب سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی
****
اپنے اوپر جھکاو محسوس کرکے صبح عنایہ کی آنکھ کھولی۔۔۔ نمیر کو اپنے اوپر جھکے دیکھ کر اس کا ذہن پوری طرح بیدار ہوا۔۔۔ عنایہ نے نمیر کے شولڈرز پر اپنے ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانا چاہا مگر نمیر نے اس کی دونوں کلائی تھام کر اپنا کام جاری رکھا
عنایہ کا موڈ خراب ہونے لگا کل رات وہ کتنی برے طریقے سے اس کا دل جلا رہا تھا اور اب مزے سے اپنا مطلب پورا کرنے میں مگن تھا۔۔۔ عنایہ نے کچھ بولے بغیر ہلکی سی مزاحمت کی اور دوبارہ اپنے ہاتھ چھڑانے چاہے،، جس پر نمیر نے اس کی کلائی پر اپنی گرفت سخت کردی۔۔۔ مطلب صاف تھا وہ اس وقت اس کے نخرے برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں تھا
“مت اتنا بدگمان ہوا کرو مجھ سے میری جان،، میں نے بتایا تو ہے میں صرف تمہارا ہوں”
اب وہ عنایہ کو دیکھتا ہوا اس کا گال سہلا کر کہنے لگا
“پھر وہ جیکٹ منا”
عنایہ کے لفظ منہ میں ہی رہ گئے کیوکہ وہ اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا۔۔۔ شاید نمیر اس وقت اپنے اور اسکے درمیان منال کا نام سننے کے موڈ میں نہیں تھا
جب اس نے عنایہ کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ ہٹائے تو بہت سارے شکوے عنایہ کے لبوں پر ہی دم توڑ گئے۔۔۔ اب وہ نمیر کی باقی کی من مانیاں خاموشی سے برداشت کر رہی تھی
****
“کل کی فلائٹ سے فریدہ آنٹی اور خرم پاکستان آئے ہیں۔۔۔ آنٹی آپ کا پوچھ رہی تھی۔۔۔ اگر آپ بہتر فیل کررہی ہیں تو ملنے چلیں میں ابھی وہی جا رہا ہوں ساتھ ہی نوفل کو بھی دیکھ لئے گا”
نمیر اور ثروت ناشتے کی ٹیبل پر موجود عنایہ ان دونوں کو ناشتہ سرو کر رہی تھی تبھی نمیر ثروت کو بتانے لگا
“کیا فریدہ پاکستان آگئی ہے۔۔ ہفتے بھر پہلے تو بات ہوئی تھی اس نے تو ایسا کچھ نہیں بتایا تھا۔۔ پھر تو میں ضرور چلتی ہوں اس سے مل بھی لوگی اور نوفل کو کیا ہوگیا” ثروت اپنی سہیلی فریدہ سے ملنے کا پلان بناتے ہوئے نوفل کے بارے میں پوچھنے لگی۔۔۔ جبکہ عنایہ ان دونوں کو ناشتہ سرو کر کے نمیر کے برابر میں کرسی پر آکر بیٹھی
“کل نوفل کے ساتھ ایک برا حادثہ پیش آگیا تھا اس بچارے کو نہ جانے کسی نے گولی مار دی مگر گولی کندھے پر لگی ہے اس لیے اب وہ خطرے سے باہر ہے” نمیر کے بتانے پر ثروت اور عنایہ دونوں اسے حیرت سے دیکھنے لگی
“اتنی بڑی بات ہوگئی اور تم نے مجھے کل رات کو نہیں بتایا”
ثروت نمیر سے حیرت سے کہنے لگی کہنا تو عنایہ بھی یہی چاہتی تھی مگر خاموش رہی
“رات میں اس لیے نہیں بتایا آپ پریشان ہوتی ٹینشن سے سو نہیں پاتی۔۔ ویسے بھی وہ اب ٹھیک ہے۔۔۔ نہال اسی کے پاس ہے،، صبح اس کو ہوش آگیا تھا ہم چلتے ہیں، تو آپ خود دیکھ کر اطمینان کر لیے گا”
نمیر ثروت کو ریلیکس کرتا ہوا بولا
“نمیر شانزے کیسی ہے مجھے بھی اس سے ملنا ہے”
عنایہ کی بات پر نمیر نے اس کا پریشان چہرہ دیکھا
“شانزے وہاں پر موجود نہیں ہے نوفل نے ہوش میں آ کر پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے کہ وہ گولی مارنے والے کو نہیں جانتا۔۔۔ اسے چند دن سے فون کالز پر دھمکیاں مل رہی تھی اسی وجہ سے وہ پہلے ہی اپنی وائف کو سیف جگہ پر چھوڑ آیا تھا”
نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا وہی بتانے لگا جو صبح پانچ بجے نوفل نے ہوش میں آنے کے بعد اپنے بیان میں بتایا یہ سب ڈیٹیلسز وہ صبح ہی خرم سے لے چکا تھا اور اسے ابھی بھی خاموش رہنے کی تلقین کی تھی
اب وہ خود نوفل کے پاس جا کر اس سے سارا معاملہ جاننے کا ارادہ رکھتا تھا
“میں گھر پر اکیلی رہ کر کیا کروں گی مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلیں دس منٹ دیں،، میں چینج کرکے آتی ہوں”
عنایہ نمیر کو بولتی ہوئی اٹھی۔۔ اب وہ نمیر کو کافی الجھی ہوئی لگی۔۔۔ جبکہ عنایہ کے کانوں میں شانزے کی آواز بازگشت کر رہی تھی
اس کی بہن کا گناہگار اسی سزا کا مستحق تو اس کا مطلب شانزے نے نوفل بھائی کو۔۔۔ او کاڈ اس کا مطلب یہ ہوا فرحین آپی کے ساتھ وہ سب نوفل بھائی نے۔۔۔
عنایہ کو یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔ کوئٹہ والے گھر کا شانزے نے اسی وجہ سے بتانے کا منع کیا کیوکہ وہ اس وقت کوئٹہ میں موجود تھی ساری کی ساری کڑیاں عنایہ کے ذہن میں خود جڑنے لگی
