Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 43)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 43)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“عنایہ عنایہ آنکھیں کھولو یار کیا ہوا” نمیر کی آواز پر عنایہ کا ذہن بیدار ہونا شروع ہوا عنایہ نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولی تو خود کو بیڈ پر لیٹا اور نمیر کو اپنے اوپر جھکا دیکھا
“کیا ہوگیا میری جان تم ٹھیک ہو”
نمیر عنایہ کی سوجھی ہوئی آنکھوں پر اپنی انگلیاں پھیرتا ہوا پوچھنے لگا
وہ تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے گھر آیا تھا۔۔۔ گھر آنے کے ساتھ ہی وہ ثروت کے پاس کے روم میں گیا۔۔ ثروت کی خیریت پوچھ کر اپنے بیڈروم میں آیا تو عنایہ کو بے وقت سوتا دیکھا نمیر کو اس کا چہرہ کافی بجھا بجھا لگا جبھی وہ اس کو اٹھانے لگا۔۔ نمیر کے جگانے پر عنایہ نمیر کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا کر بیڈ اٹھنے لگی
“کیا ہوا تمہیں طبیعت ٹھیک ہے تمہاری”
عنایہ کو بیڈ سے اٹھتا دیکھ کر،، کوئی جواب نہ پا کر۔۔۔ نمیر نے اس کا ہاتھ تھام کر پوچھا عنایہ کا یوں اس کے ہاتھوں کو پیچھے ہٹانا نمیر نے محسوس کیا
“کیا ہونا ہے مجھے، آپ کے سامنے سہی سلامت تو ہوں”
عنایہ اس کا ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتی ہوئی بولی اور واش روم چلی گئی۔۔۔۔ نمیر وہی بیٹھا اس کے رویے پر غور کرنے لگا۔۔۔ نہال ابھی تک آفس میں ہی موجود تھا وہ گھر نہیں پہنچا تھا اور وہ صبح عنایہ کو مسکراتا ہوا چھوڑ کر آفس گیا تھا۔۔۔ ابھی وہ یہ بات سوچ ہی رہا تھا کہ اس کی نظر بیڈ کی دوسری سائڈ نیچے فرش پر پڑی اپنی جیکٹ پر گئی
نمیر نے بیڈ سے اٹھ کر اپنی جیکٹ اٹھائی یعنی اس کے پیچھے منال گھر آئی تھی اب اسے عنایہ کا رویہ سمجھ آنے لگا۔۔ اس کی نظر جیکٹ کے کالر پر لپ اسٹک کے نشان پر گئی
اتنے میں عنایہ بھی واش روم سے نکل کر روم میں واپس آئی،، اب وہ نمیر کو اگنور کر کے ڈریسر کے سامنے کھڑی اپنے بال بنانے لگی تبھی نمیر ماتھے پر شکنیں لاکر اس کے پاس آیا
“کیا کہہ رہی تھی منال تمہیں”
نمیر اپنی جیکٹ صوفے پر اچھالتا ہوا عنایہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا مگر عنایہ ایسے اپنے بال بنا رہی تھی جیسے اسے نمیر کی آواز ہی سنائی نہیں دی۔۔۔ تب نمیر نے اس کے ہاتھ سے ہیر برش لے کر ڈریسر پر پٹخا اور عنایہ کا بازو پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا
“کیا پوچھ رہا ہوں میں، سنائی نہیں دے رہا تمہیں کیا کہہ کر گئی ہے منال تمہیں”
نمیر اب سنجیدگی سے عنایہ کو دیکھتا ہوا اپنا سوال دہرانے لگا
“وہی سب کچھ کہہ کر گئی ہیں جو آپ کے اور انکے بیچ معلوم نہیں کب سے چلتا آرہا ہے”
عنایہ اپنی آنکھوں کی نمی پیتی ہوئی بنا خوف نمیر سے بولی
“اچھا کیا چلتا آ رہا ہے اس کے اور میرے بیچ۔۔۔ ذرا مجھے بھی تو معلوم ہو”
نمیر اب اپنا غصہ ضبط کرتا ہوا عنایہ سے پوچھنے لگا
“آپ کو کچھ غلط کر کے شرم نہیں آتی مگر مجھے آپ کے کارنامے آپ کے سامنے کھول کر شرم آئے گی۔۔ آپ کو جو پوچھنا ہے جاکر منال آپی سے خود پوچھ لے”
ضبط کیے ہوئے آنسو صاف کرتی ہوئی عنایہ نمیر سے اپنا بازو چھڑا کر بولی
“ٹھیک ہے اب میں پہلے اپنے کارنامے اس سے پوچھ کر آتا ہوں،، بعد میں آکر تمہارا دماغ درست کرتا ہوں”
نمیر عنایہ کو غصے میں بولتا ہوا کار کی چابی اٹھا کر گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔ جتنے فریش موڈ میں وہ آفس گھر آیا تھا اتنی ہی بگڑے ہوئے موڈ میں وہ منال کی خبر لینے فرمان کی طرف چلا گیا
****
“کیا یار تمہیں پورے گھر میں تلاش کر رہا ہوں اور تم یہاں بیٹھی ہو اور یہ کیا حلیہ بنایا ہوا ہے۔۔۔ ڈرائیور امی اور خرم کو لے پہنچنے ہی والا ہوگا۔۔۔ کم ازکم کپڑے تو چینج کر لو”
شانزے ڈرائنگ روم میں صوفے پر پاؤں اونچے کئے اپنے گرد شال لپیٹے بیٹھی تھی۔۔۔ نوفل چند منٹ پہلے ہی گھر پہنچا تھا
“میں نے آج تمہارا بہت انتظار کیا ایک ایک پل بہت بھاری محسوس ہو رہا تھا وقت تھا کہ گزر ہی نہیں رہا تھا بلکہ آج سے نہیں میں تو کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی اللہ سے بہت دعائیں کی تھی میں نے۔۔۔ کہ وہ مجھے تم سے ایک دفعہ ملوا دے میری دعا کب قبول ہوئی یہ مجھے خود نہیں معلوم ہوا”
وہ نوفل کی بات سنے بغیر اپنی ہی بات کئے جا رہی تھی
“کیا مطلب ہے تمہاری ان باتوں کا میں سمجھا نہیں” نوفل کو واقعی نہیں سمجھ میں آیا کہ شانزے اس سے کیا کہہ رہی ہے
“تمہیں معلوم تھا فرحین آپی میری بہن ہے”
شانزے اپنے سامنے کھڑے نوفل کو دیکھ کر پوچھنے لگی نوفل اس کی بات سن کر چونکا ساتھ ہی اس کے چہرے کا رنگ بھی بدلا۔۔ یہ بات شانزے کو کیسے معلوم ہوئی وہ پریشان تھا
“ہاں یونیورسٹی فیلو تھے ہم۔ ۔۔۔ آنٹی نے اس دن تصویریں دکھائی تو مجھے معلوم ہوا کہ تم فرحین کی بہن ہو۔۔۔ مجھے اس کا بہت دکھ ہے شانزے”
نوفل اب بھی سنبھل کر اصلی بات چھپاتا ہوا بولا اسے شانزے کی ناراضگی کا ڈر تھا اور وہ یہ نہیں چاہتا تھا شانزے کا دل دکھے
“یہ جیب کا ٹکڑا تمہارا ہے ناں نوفل” شانزے نے اپنا ایک ہاتھ شال سے باہر نکالا اور اس کی طرف جیب کا ٹکڑا اچھالتے ہوئے نوفل سے پوچھا۔۔۔ نوفل نے جھک کر فرش پر گرا ہوا ٹکڑا اٹھایا اور غور سے دیکھنے لگا
“ہاں یہ میری ہی ایک پرانی شرٹ کی جیپ ہے مگر یہ تمہارے پاس کیسے آئی”
نوفل نے غور سے جیب کے ٹکڑے کو دیکھا اور پہچاننے کے بعد شانزے کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا۔۔۔ شانزے کی آنکھوں سے اچانک آنسو ٹپکنے لگے
“یہ جیب مجھے فرحین آپی کے پاس سے ملی، نوفل تم وہ مرد ہو جسے میں نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ پیار کیا اور تم ہی نے میری بہن کے ساتھ”
شانزے نے اپنی بات ادھوری چھوڑی اور اپنا شال سے دوسرا ہاتھ نکالا جس میں پسٹل تھی
“شانزے نہیں میری بات سنو میں نے فرحین۔۔۔”
نوفل اس کی بات سن کر پہلے تو شاک میں آیا مگر اس کے کچھ بولنے سے پہلے شانزے نے اس کے اوپر فائر کیا اور نوفل فرش پر گرا شانزے روتی ہوئی خود بھی فرش پر بیٹھ گئی
“شانزے یہ کیا کیا تم نے۔۔۔ اپنی شوہر کو مار ڈالا،،، بے غیرت،، بے حیا ہوش میں تو ہو تم”
نائلہ فائر کی آواز سن کر بھاگتی ہوئی ڈرائنگ روم میں آئی۔۔۔ نوفل فرش پر اوندھے منہ گرا ہوا تھا اسکا خون تیزی سے فرش کو سرخ کر رہا تھا اور شانزے اس سے تھوڑی دور فرش پر بیٹھی آنسو بہاتی ہوئی اسے ہی دیکھ رہی تھی پسٹل شانزے کے قریب پڑا تھا۔۔۔ تبھی نائلہ چیخ کر شانزے کو جھنجوڑتی ہوئی پوچھنے لگی
“آپی کا گناہگار تھا یہ۔۔ امی میرا شوہر میری بہن کا مجرم تھا۔۔۔ اس کے ساتھ زیادتی کرنے والا درندہ ہی میرا شوہر تھا”
شانزے چیخ چیخ کر روتی ہوئی نائلہ کو بتانے لگی۔۔ نائلہ خود بےیقینی سے سکتے کی کیفیت میں نوفل کو دیکھنے لگی
“شانزے اٹھو جلدی سے اس سے پہلے کوئی یہاں آجائے جلدی سے چلو”
نائلہ ایک دم ہوش میں آ کر فرش پر بیٹھی ہوئی شانزے کو اٹھانے لگی
“نہیں میں کہیں نہیں جا رہی”
شانزے نفی میں سر ہلانے لگی
“پولیس والا ہے یہ پولیس والے پر گولی چلائی ہے تم نے”
نائلہ اپنی قسمت کو روتی ہوئی شانزے کو سمجھانے لگی
“میں اپنے جرم کا اعتراف کروں گی آپ جائیں یہاں سے” شانزے نائلہ کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی
“میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں شانزے، خدا کا خوف کر مجھے اس عمر میں ذلیل مت کر۔۔۔ ارے میں کیسے اس عمر میں اس پگلی کو سنبھال پاؤگی چل جلدی سے۔۔۔ اس سے پہلے یہاں کوئی آجائے”
نائلہ شانزے کو گھسیٹتی ہوئی کمرے سے لے گئی
****
“کیسے ہو”
دروازہ ناک کیے بنا نمیر منال کے بیڈروم میں آکر صوفے پر بے تکلفانہ انداز میں بیٹھا۔۔۔ منال اس کے پرانے انداز پر مسکراتی ہوئی اس کی خیریت پوچھنے لگی
“بہت خوش تم سناؤ کیسی ہو”
وہ سامنے رکھی چھوٹی سی ٹیبل پر جوتے رکھ کر مزید ریلکس ہوا
“تم بہت خوش، تو تمہیں دیکھ کر میں بھی بہت خوش” منال مسکراتی ہوئی ایک ادا سے اس کو دیکھ کر بولی
“تو دور کیوں کھڑی ہو قریب آؤ”
وہ منال کے آگے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس سے کہنے لگا منال مسکراتی ہوئی جھٹ سے نمیر کے قریب آئی اور اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا نمیر نے اسے اپنے قریب بٹھایا
“کیا ہوا آج تمہاری بیوی نے فاصلہ رکھا ہوا ہے جو تم یوں میرے پاس آئے ہو” منال نمیر سے مزید چپکتی ہوئی پوچھنے لگی وہ فلم میں کام کر کے کافی بےباک ہوگئی تھی
“بورنگ لڑکی ہے یار سمجھ نہیں آتا کب کس بات پر موڈ آف کر کے بیٹھ جاتی ہے۔۔۔ آدمی تھکا ہارا گھر پر آتا ہے اور بیوی کا منہ بنا ہو سوچو کیسا فیل کرے گا بندہ”
نمیر بدمزہ ہوتا ہوا بولا۔۔۔ منال کو اپنی چال کامیاب ہوتی لگی،، ڈرپوک عنایہ نے یقیناً منال کے بارے میں نمیر کو کچھ نہیں بولا ہوگا الٹا نمیر سے ناراض ہو کر بیٹھ گئی ہو گی
“تو دفع کرو اسے اپنی زندگی سے کیا ضرورت ہے اتنی لفٹ کرانے کی”
منال بھی منہ بگاڑ کر سر جھٹکتی ہوئی کہنے لگی
“دفع ہی تو نہیں کرسکتا بیوی جو بنا لیا ہے اتنی آسان سے تھوڑی نہ ہوتا ہے چھوڑ دینا”
نمیر صوفے کے پیچھے اپنا سر ٹیکتے ہوئے تھکے انداز میں منال کو کہنے لگا
“اتنا مشکل بھی نہیں ہے اسے چھوڑنا۔۔۔ ایسا کرو تم یہ کام مجھ پر چھوڑ دو۔۔۔ دو دن میں اسے تمہاری زندگی سے نکال سکتی ہو اتنی محبت تو میں تم سے کرتی ہوں نہ” منال نمیر کے سینے پر اپنا خوبصورت رنگین ناخنوں والا ہاتھ رکھ کر اسے ریلیکس کرتی ہوئی بولی
“کیسے نکال سکتی ہوں اسے میری زندگی سے”
نمیر سر اٹھا کر اسے دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو منال ایک ادا سے مسکرائی
“کچھ پانے کے لئے حاصل کرنے کے لئے ہم چھوٹی موٹی بے ایمانی تو کر سکتے ہیں ناں”
منال نمیر کے قریب اپنا چہرہ لاتے ہوئے کہنے لگی
“مطلب یہ کہ میں جاکر تمہاری بیوی کو کہہ دیتی ہوں کہ ہم دونوں اسلام آباد میں ایک ہوٹل کے ایک ہی روم میں ایک ساتھ تھے”
منال اسے دیکھتی ہوئی بتانے لگی
“یہ بات تم عنایہ سے جاکر کہو گی یا آج صبح آلریڈی کہہ چکی ہو”
نمیر نے اپنے سینے سے اسکا ہاتھ پکڑ کر دور جھٹکا اور کھڑا ہوگیا
“شیم ان یو منال،، تم اس حد تک گر سکتی ہو۔۔۔ ایسا میں نے کھبی بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔ اپنی باتوں سے اور سوچ سے تم نے ثابت کردیا تم ایک گھٹیا اداکارہ ہی نہیں ایک گھٹیا قسم کی لڑکی ہو”
نمیر کا دل چاہا وہ اسکے منہ پر تھپڑ لگا دے ناجانے وہ عنایہ سے اپنی اور اسکی کتنی جھوٹی اور چیپ باتیں کرچکی ہوگی
“بکواس کر رہی ہے تمہاری بیوی۔۔۔ میں نے اسے ایسا کچھ بھی نہیں کہا”
منال کو اپنی بےوقوفی کا احساس ہوا تو وہ فوراً بولی
“بکواس اس نے نہیں، اس جیسی یا پھر یہی سب بکواس یقیناً تم نے میری بیوی سے کی ہوگی۔۔۔ ایک فلم میں ہی کام کر کے تم نے اپنی شرم اتار پھینکی ہے۔۔۔ مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ میں نے تم جیسی لڑکی سے ریلیشن رکھا۔۔ میری ایک بات کان کھول کر سن لو منال،، اگر تم نے کبھی عنایہ سے کوئی بھی الٹی سیدھی بات کری یا کوئی ایسی حرکت کری جسکی وجہ سے میرا اور عنایہ کا ریلیشن خراب ہوا۔۔۔۔ تو میں تمہارا وہ حشر کرو گا جو تم نے کھبی سوچا نہیں کیا ہوگا”
نمیر منال کو بولتا ہوا وہاں سے نکل گیا اب وہ اپنی کار میں بیٹھ کر گھر جانے کا ارادہ کررہا تھا کہ اسکے موبائل پر نوفل کی کال آنے لگی
“ہیلو”
نمیر کال ریسیو کرتے ہوئے بولا
“نمیر بھائی میں خرم بات کر رہا ہو۔۔۔ آپ پلیز ہسپٹل آجائے بھیا کو کسی نے جان سے مارنے کی کوشش کی ہے”
نمیر کے لیے یہ خبر کسی شاک سے کم نہیں تھی۔۔۔ وہ اب جلد از جلد نوفل کے پاس پہنچنے کا ارادہ رکھتا تھا
****
عنایہ خاموشی سے اپنے بیڈروم میں آکر بیٹھی۔۔۔ نمیر کو نکلے کافی دیر ہوچکی تھی۔۔۔ اس نے اور ثروت نے ابھی کھانا کھایا تھا۔ ۔
اسے نمیر پر شک نہیں کرنا چاہیے تھا مگر وہ جیکٹ منال کے پاس کیوں تھی یہ سوچ کر عنایہ بے بس ہو جاتی ابھی بھی وہ اسی بات میں الجھی ہوئی تھی کہ اس کے موبائل پر ان نون نمبر سے کال آنے لگی
“ہیلو”
عنایہ نے کال ریسیو کرتے ہوئے اپنی سوچوں کو جھٹکا
“عنایہ میں بات کر رہی ہوں شانزے پلیز میری بات غور سے سنو، آج جو بھی کچھ ہوا وہ میں نے اپنی بہن کا بدلہ لینے کے لیے کیا،،، تم تو جانتی ہو نا میری آپی کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا تھا۔۔۔ اس کا گناہ گار اسی سلوک کا مستحق تھا پلیز مجھے غلط مت سمجھنا پلیز نمیر بھائی یا نہال بھائی کو کوئٹہ والے گھر کا ایڈریس مت بتانا۔۔ میں چند دنوں بعد تم سے خود کانٹیک کروں گی”
شانزے نے روتے ہوئے کال ڈسکنکٹ کری شانزے کی ساری باتیں عنایہ کے سر پر سے گزر گئی
