Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 13)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“خالہ جانی یہ کس زبان میں کس لہجے میں بات کر رہی ہیں آپ۔۔۔ بولنے سے پہلے انسان کو اپنی عمر رتبے اور رشتے کا لحاظ کرنا چاہیئے معاف کیجیے گا نہایت ہی چھوٹی اور دقیانوسی سوچ کی مالک ہیں آپ”
نمیر کرسی سے اٹھ کر عشرت کے سامنے آتا ہوا بولا
“کیا دقیانوسی اور چھوٹی سوچ والی بات کی ہے میں نے۔۔۔۔ یہ منحوس پیدا ہوتے ہی اپنے باپ کو کھا گئی چند سالوں بعد اپنی ماں کو نگل گئی اور اب ابھی اس نے تمہارے گھر میں قدم بھی نہیں جمائے اس سے پہلے ہی تمہارا بھائی موت کے دہانے پر کھڑا ہے صرف اور صرف اس سبز قدم اور بدنصیب لڑکی کی وجہ سے”
عشرت زہر خواندہ لہجے میں بولتی ہوئی عنایہ کو دیکھنے لگی جو آنکھوں میں آنسو لیے مسلسل سر جھکائے خاموشی سے کھڑی تھی
“افسوس ہو رہا ہے خالہ جانی مجھے آپ کی سوچ پر اور آپ کے پڑھے لکھے ہونے پر بھی”
نمیر ملامت بھری نظروں سے عشرت کو دیکھ کر کہتا ہوا ایک نظر عنایہ کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر وہاں سے جانے لگا
“خوبصورتی اور کم عمری دیکھ کر اس کے جال میں پھنس رہے ہو تم۔۔۔ ایسے ہی پہلے اس نے نہال کو اپنی اداؤں سے اور جلوے دکھا کر،،، اسے قابو کیا ابھی اسے بستر سے لگے چند گھنٹے ہوئے ہیں تو اب یہ بے شرم لڑکی تمہیں لبھانے کے چکروں میں پڑی ہے ذرا شرم نہیں ہے اس بے غیرت لڑکی کو”
عشرت کی بات پر عنایہ نے دونوں ہاتھوں میں منہ چھپا کر رونا شروع کر دیا وہی نمیر نے چونک کر عشرت کو دیکھا
“خالہ جانی آپ کو اپنے بولے ہوئے لفظوں کا احساس ہے کہ آپ کیا بول رہی ہیں۔۔۔ اتنی سطحی اور گری ہوئی سوچ رکھتی ہیں آپ۔۔۔۔ شرم اس کو نہیں شرم آپ کو آنا چاہیی ایسا بولتے ہوئے ایسا سوچتے ہوئے”
نمیر عشرت کی بات سن کر تقریبا چیختا ہوا بولا
“مجھے معلوم ہے آپا،، تم،، نہال سب اس لڑکی کی سائیڈ لو گے اس کی معصوم شکل دیکھ کر۔۔۔ میری باتوں پر تو تمہیں یقین ہی نہیں آئے گا جب تک اس کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا تم سب کو،،، مجھے نہیں رکھنا اس چڑیل کو اپنے گھر پر،، اس کو بھی اپنے ساتھ لے کے جاؤ”
عشرت غصے میں بولتی ہوئی عنایہ کے پاس آئی اس سے پہلے نمیر اس کا ہاتھ،، عشرت کے ہاتھ سے چھڑاتا عشرت نے عنایہ کو باہر کی طرف دھکا دیا
“عشرت”
فرمان کی زور دار آواز پر عشرت سمیت نمیر اور عنایہ بھی فرمان کو دیکھنے لگے۔۔۔۔ فرمان قدم بڑھاتا ھوا عنایہ کے پاس آیا اور اسے گلے لگاتے ہوئے عشرت کو دیکھا
“خبردار جو تم نے اب ایک لفظ معصوم کے لئے بولا تو۔۔۔ ارے تم ہوتی کون ہو اس کو اس گھر سے نکالنے والی یہ میرا گھر ہے عنایہ اسی گھر میں رہے گی تمہیں اس سے تکلیف ہے تو تم جا سکتی ہوں یہاں سے۔۔۔ آج تک تم اس معصوم کو باتیں سناتی آئی ہوں اور میں خاموشی سے برداشت کرتا رہا ہوں مگر آج تم اس کے کردار کو لے کر اتنی گھٹیا باتیں کر رہی ہو،،، کس قماش کی عورت ہو تم،، شرم نہیں آتی تمہیں اگر آئندہ تم نے اس کے لئے بد نصیب، سبزقدم یا منہوس جیسے لفظوں کا استعمال کیا تو میں تمہیں تمہاری عمر کا لحاظ کئے بغیر اس گھر سے چلتا کرو گا”
فرمان بولتا ہوا خود بھی ہانپنے لگا
“چلو بیٹا اندر چلو” وہ عنایہ کو پیار سے بولا
“دور ہٹیے آپ بھی،، مامی ٹھیک کہہ رہی ہیں میں منہوس ہوں بدنصیب ہوں میں۔۔۔ جو میری زندگی میں آتا ہے اسے کھا جاتی ہوں میں۔۔۔ ڈائن ہو میں،،، اپنے ماں باپ کے ساتھ ساتھ نہال کو بھی کھا گئی۔۔۔ آپ بھی دور رہے مجھ سے،،، ورنہ میری نحوست سے آپ کو بھی کچھ ہوجائے گا۔۔۔ سب کو برباد کر دوں گی میں سب کو کھا جاؤں گی”
عنایہ روتی ہوئی ہذیانی انداز میں چیختی ہوئی کہنے لگی
“عنایہ کیا ہوگیا ہے تمہیں،، تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ہے”
نمیر جو کافی دیر سے خاموش کھڑا تھا اور یہاں آکر سہی معنوں میں پچھتا رہا تھا آگے بڑھ کر عنایہ کو کندھوں سے پکڑ جھنجھوڑتا ہوا بولا مگر عنایہ کے الفاظ سے فرمان کے چہرے پر تکلیف کے تاثرات کوئی نوٹ نہیں کر پایا فرمان کے نیچے گرنے پر سب اس کی طرف بھاگے
****
“دیکھا آپا آپ نے اس منحوس کی وجہ سے کیسی بربادی ہوئی ہمارے گھر میں”
فرمان کو نمیر فورا ہاسپیٹل لے کر آگیا ڈاکٹر نے اسے کوئی بڑا دھچکا لگنے کے سبب ہارٹ اٹیک بتایا اس وقت نمیر عنایہ نوفل سمیت ثروت اور عشرت بھی اسپتال میں موجود تھے جبکہ نہال تو پہلے سے ہی آئی سی یو میں تھا اب فرمان کو بھی اسی ہسپتال میں رکھا گیا تھا
“معاف کرنا عشرت مگر آج تمہارے گھر میں جو بھی کچھ ہوا اس حادثے میں عنایہ کی بدقسمتی سے زیادہ تمہاری چرب زبانی کا ہاتھ ہے۔۔۔ نہ تم عنایہ کے لیے ایسی فضول باتیں کرتی نہ فرمان کی یہ حالت ہوتی اور رہی میرے نہال کی بات تو اس کی قسمت میں یہ خاص لکھا تھا اس کے لیے میں عنایہ کو قصور وار نہیں سمجھتی”
نمیر نے ثروت کو وہاں ہونے والا واقعہ من و عمن سنا دیا تھا نمیر عشروت سے بات نہیں کر رہا تھا وہ اس سے سخت خفا تھا جبکہ ثروت کو بھی بہن کی سوچ اور باتوں سے تکلیف ہوئی
“اگر اتنی ہی بےقصور لگتی ہے آپ کو تو آپ اپنے گھر میں رکھ لیں اسے دل کُڑتا ہے میرا اس کو صبح شام اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر”
عشرت نحوست سے سر جھٹک کر بولنے لگی اس سے پہلے ثروت عشرت کی بات کا جواب دیتی نمیر ان دونوں کے پاس آگیا
“ماما خالو کو ہوش آگیا ہے اور وہ آپ کو بلا رہے ہیں”
نمیر عشرت کو اگنور کرکے ثروت سے مخاطب ہو کر کہنے لگا
“فرمان تم عشرت کی باتوں کو دل سے لگا کر بیٹھے ہو اس کی نیچر سے تو تم کتنے سالوں سے واقف ہوں پھر بھی اپنے دل کو روگ لگا لیا۔۔۔ جلدی سے طبیعت بہتر کرو اپنی”
ثروت فرمان کے پاس آئی تو اسے دیکھتی ہوئی بولنے لگی فرمان نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر آکسیجن کا ماکس منہ سے اتارا
“آپا میں نے آپ کو ہمیشہ عشرت کی نہیں اپنی بڑی بہن سمجھا ہے ہمیشہ آپ کی دل سے عزت کی ہے بالکل بڑی بہنوں کی طرح۔۔۔۔ کیا میں آج آپ سے کچھ کہوں تو اپنا چھوٹا بھائی سمجھ کر میری بات کو پورا کریں گی”
فرمان آہستہ آہستہ بول رہا تھا اس کی کنڈیشن ابھی بھی زیادہ بہتر نہیں تھی
“فرمان تم بھی مجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز ہو اگر میرے بس میں ہوا تو میں ضرور تمہاری بات پوری کروں گی بس تم جلدی سے صحت یاب ہو جاؤ”
ثروت فرمان کو دیکھ کر فکرمندی سے بولی
“آپ ہی کہ بس میں ہے جبھی میں آپ سے درخواست کر رہا ہوں اسے میری التجا سمجھ لیں۔۔۔ عنایہ کی شادی کل ہونی تھی مگر نہال کے ایکسیڈنٹ کی وجہ سے جہاں یہ شادی رکی ہے وہی عنایہ کے لئے عشرت اور اسی کے جیسی سوچ رکھنے والے لوگ باتیں بنائیں گے۔۔ میری بھانجی بہت معصوم ہے بے قصور ہے۔۔۔ وہ قصور وار نہ ہو کر بھی سب کی زہریلی اور کڑوی باتیں برداشت کرے گی مگر آپا اب میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی میری بھانجی کو منحوس سبزقدم یا بدنصیب جیسے لفظوں سے پکارے آپا میں چاہتا ہوں عنایہ کی شادی جس دن مقرر کی گئی تھی یعنیٰ کل۔۔۔ اس کی شادی کل ہی ہو۔۔۔ تاکہ سب لوگوں کہ منہ بند ہو جائے فرمان ٹھہر کر ثروت کو کہنے لگا
“فرمان یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے تمہیں معلوم تو ہے اس وقت نہال ہوش میں نہیں ہے پھر کل کیسے عنایہ اور نہال کی شادی ہوسکتی ہے دیکھو فرمان عنایہ مجھے بھی بہت عزیز ہے تم اس کے لیے پریشان مت اور نہ ہی لوگوں کی باتوں پر دھیان دینے کی ضرورت ہے،، آج کل تو لوگ تو مرے ہوئے انسان کو نہیں چھوڑتے۔۔۔ عنایہ کی فکر چھوڑ دو اور جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ”
ثروت نے فرمان کو تسلی دینی چاہیے
“آپا میں چاہتا ہوں عنایہ کی شادی کل نمیر سے کردی جائے”
فرمان کی بات سن کر ثروت چپ ہوگئی تھوڑی دیر بعد وہ کچھ بولنے کے قابل ہوئی
“فرمان یہ کیا کہہ رہے ہو تم عنایہ تو میرے نہال کی دلہن ہے تم اللہ سے اچھے کی امید رکھو میرا نہال ٹھیک ہوجائے گا مجھے اس پاک ذات پر پورا یقین ہے۔۔۔ نمیر اور عنائیہ بھلا کیسے”
ثروت فرمان کی بات سن کر پریشان ہو گئی
“آپا نہال مجھے بھی عزیز ہے میں آپ کی دل آزاری کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا مگر ایک بیٹی کے باپ ہونے کی ناطے دل میں برے خدشات تو آتے رہتے ہیں اگر خدا نہ خواستہ نہال کو ہوش نہ آیا یا دس سال بعد ہوش آیا تو میری عنایہ رل جائے گی۔۔۔۔ اگر مجھے کچھ ہوجاتا ہے تو عشرت اسے بھی جینے نہیں دے گی آپا آپ مجھے معاف کر دیں اگر میری باتوں سے آپ کا دل دکھا ہو تو مگر میں ہاتھ جوڑ کر آپ سے درخواست کرتا ہوں عنایہ کو نمیر کے لئے اپنا لیں”
فرمان نے بولنے کے ساتھ واقع اپنے ہاتھ ثروت کے آگے جوڑ دئیے اس کے ہاتھ لرز رہے تھے اور آنکھوں سے پانی جاری تھا ثروت کو وہ عنایہ کا ماموں نہیں باپ لگا
“میرے سامنے یوں اپنے ہاتھ مت جوڑو فرمان،، جب تم نے مجھے اپنی بڑی بہن کہا ہے تو اب مجھے بھی بڑی بہن ہونے کا ثبوت دینا ہے تمہاری عنایہ کی شادی کل ہی ہوگی نمیر کے ساتھ”
ثروت بولتے ہوئے نہ جانے کون کون سی باتیں سوچنے لگی پھر ائی سی یو روم سے نکل گئی
****
“یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ بھلا ایسے کیسے ممکن ہے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا”
ثروت اور نمیر رات کے وقت جب اپنے گھر آئے رات کے کھانے کے بعد ثروت نے اپنے اور فرمان کے درمیان ہونے والی باتیں نمیر کو بتائی جسے سن کر نمیر کو نا صرف جھٹکا لگا بلکہ وہ بھڑک اٹھا
“یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے جو ناممکن ہو یا اس کے متعلق سوچا نہ جا سکے میں فرمان سے کہہ چکی ہوں کہ کل تمہاری اور عنایہ کی شادی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ تم اپنی ماما کی بات کا اور زبان کا کتنا پاس رکھتے ہو” ثروت سکون سے صوفے پر بیٹھی ہوئی نمیر کو دیکھ کر بولی
“آپ مجھے اس طرح ایموشنلی بلیک میل نہیں کرسکتی ماما عنایہ اور نہال کی شادی ہونے والی تھی وہ نہال کی پسند ہے اور میں عنایہ کے متعلق ایسا سوچ بھی نہیں سکتا”
نمیر ہتے سے اکھڑتا ہوا ثروت سے بولنے لگا
“ٹھیک ہے پھر تو مجھے نوفل کا نمبر ملا کے دو”
ثروت اب کی بار بھی آرام سے بولی جیسے اسے پہلے ہی اس بات کا اندازہ ہو۔۔۔ جس پر نمیر ایک دم چونکا
“یہاں نوفل کیا ذکر وہ نا سمجھنے والے انداز میں ثروت کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“ظاہری بات ہے تم میری بات نہیں مان رہے ہو تو کل میں نوفل سے عنایہ کی شادی کروا دوں گی مجھے یقین ہے وہ میری بات کبھی بھی نہیں ٹال سکتا تمہارے سر پر سے تو شاید منال کے عشق کا بھوت ابھی تک نہیں اترا لیکن یاد رکھنا میں اس لڑکی کو بھی اپنے گھر کی بہو کبھی نہیں بناؤں گی”
ثروت کی بات سن کر نمیر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا وہ صوفے سے اٹھ کر چلتا ہوا ثروت کے پاس آیا اور اس کے قدموں میں بیٹھ گیا
“ماما منال میرے دل میں یا دماغ میں اس زندگی میں اب کہیں بھی موجود نہیں ہے بات منال کی نہیں ہے۔۔۔ آپ مجھے عنایہ کے علاوہ کسی بھی لڑکی سے کہہ لے میں آنکھ بند کر کے اس سے شادی کر لوں گا مگر عنایہ سے کیسے شادی کر سکتا ہوں ماما وہ میرے بھائی کی پسند ہے۔۔۔ اس کو مجھے اپنی بیوی کے روپ میں دیکھنا تو دور اس سوچ سے بھی جھرجھری آرہی ہے آپ پلیز میری فیلینگز بھی تو سمجھیں”
نمیر نے بہت تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخری دفعہ ثروت کو سمجھانا چاہا
“تم فرمان کی جگہ خود کو رکھ کر اس کی فیلینگز کا بھی سوچو وہ عنایہ کو نہال کے لیے کب تک باونڈ کرکے رکھ سکتا ہے کوئی وقت دن ٹائم مقرر نہیں کہ جب نہال دوبارہ جاگ جائے اور اس بات کی گرانٹی بھی نہیں ہوش میں آنے کے بعد اسے سب یاد ہو۔۔۔ رہی بات تمہاری سوچ کی۔۔۔ تو نکاح کے تین بولوں میں ایسی طاقت ہوتی ہے کہ تمہاری فیلیگز خود بخود چینج ہوجائے گی میں خود بھی عنایہ کو اس گھر میں بہو کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہوں اور جو کام بعد میں کرنا ہے وہ کل کیوں نہیں”
ثروت اس کو اپنی بات کے لئے قائل کرتی ہوئی بولی
“کل کو اگر نہال کو ہوش آتا ہے تو میں اس سے کیسے نظر ملا پاؤں گا ماما آپ بات کو ہر پہلو سے سوچیں”
نمیر اب ثروت کو سمجھاتے ہوئے دوبارہ جھجھلانے لگا
“اس کی فکر تم نہیں کرو اس کے سامنے جوابدے میں ہوگی ویسے بھی نہال کے لئے عنایہ کو میں نے پسند کیا تھا وہ اس کی خود کی پسند نہیں ہے تم کل اپنے خاص دوستوں کو بلا لینا مغرب کے بعد فرمان کے گھر میں سادگی سے نکاح کی تقریب رکھی جائے گی اور ساتھ میں ہی رخصتی بھی”
ثروت اس کو مطمئن کرکے کل کا پروگرام ترتیب دینے لگی
نمیر لب بھینچتا ہوا اس کے پاس سے اٹھا اور اپنے کمرے میں جانے کی بجائے گاڑی کی چابی لے کر باہر نکل گیا
****
وہ بیڈ پر گھٹنوں میں اپنا سر دیے بیٹھی تھی۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے ہی شانزے اسے سمجھا بجھا کر ڈھیر ساری تسلی اور دلاسے دے کر اپنے گھر کے لئے روانہ ہوئی تھی۔۔۔ عنایہ نے اپنا سر اٹھا کر اپنے دونوں ہاتھ میں لگی مہندی کو دیکھا مہندی کی تقریب والے دن جب یہ مہندی اس کو لگائی جارہی تھی تب وہ بہت خوش تھی یہ بات تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ یہ مہندی نہال کے نام کی نہیں بلکہ نمیر کے نام کی ہوگی۔۔۔ وہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی اس کے کانوں میں فرمان کی فریاد اور اس کی التجائیں گونجنے لگی۔۔۔ ایک دم دروازہ کھولا عنایہ نے اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹائے تو اس کے سامنے نمیر کھڑا تھا ایک دم دونوں کی نظریں ملی اور دونوں ہی ایک دوسرے سے نظریں چرا گئے۔۔۔ ہمت جمع کرکے نمیر اس کے پاس آیا اور بیڈ پر بیٹھا
“عنایہ تمہیں معلوم ہے نہ ہمارے بڑوں نے ہماری زندگی کے متعلق کیا فیصلہ کیا ہے، میں نے ماما کو بہت سمجھایا ہے وہ کسی بھی طرح میری باتوں کو نہیں سمجھ نہیں پا رہی پلیز یار تم کچھ کرو یہ سب کیسے ممکن ہے آخر”
نمیر بے بسی سے عنایہ کو دیکھ کر بولا
“میں کیا کر سکتی ہوں اس سب میں” عنایہ نمیر کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی
“واٹ ڈی یو مین کیا کر سکتی ہو یار۔۔۔ تم فرمان خالو کو سمجھاؤ کہ تم اس طرح کے بنائے گئے رشتے پر مینٹلی طور پر تیار نہیں ہو تو انہیں دوبارہ سوچنا پڑے گا اس بارے میں۔۔۔ آخر کو شادی کوئی چھوٹی بات نہیں ہوتی یہ زندگی بھر کا معاملہ ہوتا ہے تم پلیز صبح ہوتے ہی اسپتال جانا اور فرمان خالو کے سامنے انکار کر دینا جب تمہاری مرضی نہیں ہوگی تو کوئی بھی تم سے زور زبردستی نہیں کرے گا بلکہ خالو اس بات کو خود ریلائیز کریں گے کہ تم میرے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی عنایہ صرف تمہارے منہ کھولنے سے بات بن سکتی ہے نہیں تو ہم دونوں کے ساتھ ساتھ نہال کے ساتھ بھی بہت برا ہوگا تم سمجھ رہی ہو نا میری بات”
نمیر اس کو بہت آرام سے سب سمجھ آنے لگا عنایہ بہت غور سے اس کی بات سنتی رہی جب وہ خاموش ہوا تو عنایہ بولی
“ڈاکٹر نے سختی سے ہدایت دی ہے کہ ماموں جان کے لئے کسی بھی طرح کی ٹینشن یا ڈپریشن ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے” عنایہ نمیر کو دیکھ کر بولی تو نمیر جبڑے بھینج کر بیڈ سے اٹھا
“یہ اچھی زبردستی ہے ان کے لئے ٹینشن ناگزیر ہے اور وہ ہمیں ٹینشن دیے جارہے ہیں،، میری ایک بات کان کھول کر سن لو عنایہ میں اگر ماما کے دباؤ میں آکر یہ شادی کر بھی لو تو آگے تمہارے ساتھ بہت برا ہوگا اس لئے بہتر یہی ہے کل صبح تم فرمان خالو کے سامنے انکار کر دو اور اگر تم اس وقت کچھ نہیں بولی تو بعد کی ذمہ دار تم خود ہوگی”
نمیر عنایہ سے کہتا ہوا اس کے کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ عنایہ اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی اس سارے واقعے میں اپنا گناہ تلاشنے لگی جس کی سزا اسے مل رہی تھی
