Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 11)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
آج نہال اور عنایہ کی مہندی کا کمبائن فنکشن تھا ان دونوں کی رسم کرنے کے لیے ایک ساتھ اسٹیج پر بٹھایا گیا تھا۔۔۔ نہال اور عنایہ سمیت سب اپنی اپنی جگہ خوش تھے فرمان کی بھی طبیعت کافی حد تک سنبھل گئی تھی۔۔۔۔ منال نے اس کے بعد گھر والوں سے کوئی کونٹیکٹ نہیں کیا وہ اپنے آنے والی فلم کی وجہ سے بہت بزی تھی اور ٹینا کے گھر پر ہی رہائش پذیر تھی جبکہ عشرت چہرے پر نقلی مسکراہٹ سجائے خوش ہونے کی بھرپور اداکاری کرتی ہوئی نظر آرہی تھی اور ہر رشتے دار اور دوست احباب جو منال کے بارے میں پوچھ رہے تھے خوبصورتی سے انہیں دوسری باتوں میں لگا کر انکی بات ٹال رہی تھی۔۔۔ دوسری طرف نمیر نوفل کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا وہ پچھلے دو دن کی بانسبت آج کافی خوش لگ رہا تھا
“کیا ہوا آئی نہیں ابھی تک”
نوفل کی نگاہیں ہال میں شانزے کو ڈھونڈتی ہوئی نظر آرہی تھی تبھی لہجے میں شوخی سمائے نمیر نوفل سے پوچھنے لگا
“یار آنا تو چاہیے کافی ٹائم ہوگیا ہے”
نوفل نے اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا اور جنید کو کال ملائی اس نے جنید کو شانزے کو گھر سے پک کرنے کے لیے کہا تھا۔۔۔ جنید ایک قابل اعتبار لڑکا تھا اور نوفل نے اس کو جاب دلائی تھی پارٹ ٹائم میں وہ اوبر چلاتا تھا
“قسم سے یار تم دونوں دنیا کے فارغ ترین انسان لگ رہے ہو ایک ان موصوف کی حالت دیکھو بہانے بہانے سے گھونگھٹ میں جھانکنے کی کوشش میں لگے ہیں اور دوسری طرف تم جس سے انتظار کی گھڑیاں نہیں گزری رہی ہیں”
نمیر نے نہال اور نوفل کی حالت پر افسوس کرتے ہوئے کہا
“زیادہ ہم دونوں کا مذاق اڑانے کی ضرورت نہیں ہے آج میں دل سے دعا کرتا ہوں اسی محفل میں کوئی ایک لڑکی ایسی ہو جس سے تمہیں اصلی والی محبت ہو جائے اور جلد سے جلد تمہاری اس سے شادی ہو جائے”
نوفل نے ہاتھ اوپر اٹھا کر دعا کی جس پر نمیر زور سے ہنس دیا
“یہ اصلی محبت کیا ہوتی ہے”
نمیر ہنستے ہوئے نوفل سے پوچھنے لگا
“وہی جو تمہیں آج تک نہیں ہوئی۔۔۔ جو منال کے ساتھ تم نے وقت گزارا۔۔۔ اسے وقتی لگاؤ سمجھ لو مطلب وقتی آٹرکشن۔ ۔۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ویلیو کم کرتے کرتے ختم کر دیتی ہے اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ تم نے مجنوں بننے کا ڈرامہ زیادہ دن تک نہیں کیا مگر اب کی بار جو تمہیں ہوگی نا گرانٹی دیتا ہوں اصلی والی محبت ہوگی نوفل نمیر کو دیکھ کر وثوق سے بولا اس کی بات سن کر نمیر دوبارہ ہنس دیا
“یار مجنوں بننے والی کیا بات منال مجھے پسند تھی مگر ہم دونوں کی سوچیں ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتی تھی اس لئے آج وہ اپنے راستے ہے اور میں اپنے راستے مگر محبت والی بات رہنے دو۔۔۔ یہ محبت والے کام صرف تم دونوں پر ہی سوٹ کرتے ہیں میں ایسے ہی ٹھیک ہوں،،، وہ دیکھ آ گئی”
نمیر نے اپنی بات مکمل کرکے آخر میں نوفل کی توجہ اینٹریس پر دلوائی اور وہاں سے چلا گیا
“اُف ظالم حسینہ، یہ کسی دن سچ میں میری جان لے لے گی”
نوفل نے دور سے شانزے کو دیکھ کر آنکھیں بند کر کے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ ڈارک پرپل کلر کی کلیوں کی فراک جس پر سلور نگینوں کا لائٹ سا کام ہوا بالوں کو پراندے میں قید کئے۔۔۔ کانوں میں بڑے بڑے آویزیں پہنے شانزے چلتی ہوئی اسی کے پاس آ رہی تھی نوفل کے لب مسکرائے
“یہ ڈرائیور تم نے بھیجا تھا”
شانزے نوفل سے پوچھنے لگی وہ اسے سہولتیں مہیا کر کے خوب اس کی عادت بگاڑ رہا تھا اب تو اس کا ٹیلر کپڑے سینے کے بعد جب اس سے پیسے نہیں لیتا تو وہ اچھی خاصی چڑ جاتی۔۔۔ لیکن رات کے وقت وہ کسی ٹیکسی میں اکیلی کیسے آتی اس وجہ سے نوفل کی بھیجی گئی گاڑی میں ارام سے آگئی
“کیوں آنے میں کوئی پرابلم تو نہیں ہوئی یا پیسے تو نہیں مانگے اس نے تم سے”
نوفل شانزے کو دیکھ کر فکرمندی سے پوچھنے لگا
“پولیس والوں کے کرتوتوں سے ہر کوئی واقف ہوتا ہے،، پیسے مانگ کر اسے اپنی شامت تھوڑی لانی تھی تم سے” شانزے گھورتے ہوئے اس کو دیکھ کر کہا شانزے کی بات سن کر وہ اپنے ہونٹوں پر پر آنے والی مسکراٹ چھپا گیا
“ایکسکیوزمی میں اتنا برا بھی افسر نہیں ہوں کافی اچھی امیج ہے لوگوں میں میری” وہ اب شانزے کو جتانے والے انداز میں زرا سیریس ہوکر بولا
“تمہاری بات نے خود ثابت کردیا تم اتنے برے نہیں مگر تھوڑے بہت برے ہو”
شانزے نے فوراً اس کی بات کو پکڑتے ہوئے کہا جس پر نوفل مسکرایا
“تھوڑا بہت تو چلتا ہے اس ادارے میں زیادہ ایمان داری بھی گلے پڑ جاتی ہے”
نوفل دلچسپی سے اس کے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا
“بہت اچھا ہوا جو تم نے اپنے بارے میں خود ہی بتا دیا بلاوجہ میں میرے دل میں تمہارا اچھا امیج بن رہا تھا” شانزے بولتے ہوئے وہاں سے جانے لگی تبھی نوفل نے اسکا نازک سا ہاتھ پکڑا
“میں چاہتا ہوں تم میرے بارے میں اچھا ہی سوچو کیوکہ میں تمہارے لیے کبھی بھی برا ثابت نہیں ہوسکتا اور نہ کبھی تمہارے ساتھ کچھ برا کر سکتا ہوں”
نوفل چہرے پر سنجیدگی لائے شانزے کو کہنے لگا ایک پل کے لئے شانزے کا دل چاہا اس کی بات پر ایمان لے آئے
“تمہیں میرے اور امی کے لئے اتنا اچھا بھی بننے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ سبزی والا ہم سے سبزی کے پیسے نہیں لیتا،، میڈیکل اسٹور سے امی کی دوائیں لینے جاؤں تو میڈیکل اسٹور والا دواؤں کے پیسے نہیں لیتا۔۔۔ کہیں جانا ہو تو رکشے والا پہلے سے آن کھڑا ہوتا ہے دروازے پر،،، کل دو آدمی گھر میں آکر یو۔پی۔ایس لگا گئے۔۔۔ اس طرح سے مت کیا کرو مجھے اچھا نہیں لگتا”
شانزے اس سے اپنا ہاتھ چھڑا کر ناراض ہوتی ہوئی بولی
“مگر مجھے تو اچھا لگتا ہے،، سمپل سی بات ہے میں چاہتا ہوں تمہیں یہ آنٹی کو کسی چیز کا مسئلہ یا خواری نہ ہو اس لیے سب کو ڈیوٹی پر لگایا ہوا ہے۔۔۔ اب اس طرح گھور کر دیکھوں گی تو یہی کھڑے کھڑے فوت ہو جاؤں گا میں اور ایک پولیس والے کو مارنے کا الزام تم پر آئے گا”
وہ سیریس بات کو مذاق کا رنگ دیتے ہوئے بولا،، شانزے ابھی بھی اس کی بات پر ہنسے بغیر اسکو گھور کر دیکھ رہی تھی
“یار میں سوچ رہا تھا،،، تمہیں ہم دونوں کا ملنا کچھ فلمی فلمی سا نہیں لگتا یاد کرو ہماری پہلی ملاقات۔۔۔۔ اور پھر یوں اچانک نہال کی مگنی میں دوبارہ ملنا۔۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے اوپر والا چاہتا ہے کہ ہم دونوں ملیں اور بار بار ملیں”
نوفل اب بھی شانزے کو دیکھ کر شرارتی انداز میں بولا
“تمہارے ڈائیلاگ دیکھ کر لگتا ہے کہ تم فلمیں بہت زیادہ دیکھتے ہو”
شانزے نے نوفل کو دیکھ کر اس کے بارے میں اپنی تازہ تازہ رائے دی
“ہاں میں رومینٹک موویز بہت شوق سے دیکھتا ہوں مگر تمہیں دیکھ کے لگتا ہے کہ تم صرف مار دھاڑ والی فلمیں دیکھتی ہو”
وہ اب بھی ڈھیٹ پن سے مسکراتا ہوا شانزے کو چھیڑنے کے غرض سے بولا
“میں صرف مار دھاڑ والی فلمیں دیکھتی ہی نہیں اگر سامنے والا چھچھور پن پر اتر آئے تو مار دھاڑ شروع بھی کر دیتی ہوں”
شانزے جتنی سنجیدگی سے بولی نوفل اس کے خیالات جان کر ہنس پڑا
“پھر تو ہماری جوڑی سپر ہٹ رہے گی ایک پولیس والے کی بیوی کو ایسا ہی ہونا چاہیے”
نوفل کے مسکرا کر بولنے پر شانزے اس کو گھورتی ہوئی وہاں سے جانے لگی کیوکہ شانزے کو لگا وہ جتنی دیر وہاں کھڑی رہے گی وہ اتنی ہی دیر تک فضول کی ہانکتہ رہے گا
“سنو ظالم حسینہ۔۔۔ واپسی پر میں تمہیں خود گھر ڈراپ کر دوں گا”
شانزے کو اسٹیج کی طرف جاتا دیکھ کر نوفل نے اس سے کہا
“اس کی ضرورت نہیں ہے میں نے یہاں آنے سے پہلے تمہارے چمچے کو، تم نے جسکی مجھے بہن بنا کر کالج لینے اور چھوڑنے کی ڈیوٹی پر لگایا ہے۔۔۔ دو گھنٹے بعد اسے یہاں آنے کا بول چکی ہوں واپسی پر وہ مجھے گھر چھوڑ دے گا”
شانزے نوفل کو بولتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
****
“نمیر بیٹا یہاں آنا” نمیر اپنے دوستوں کے پاس کھڑا ان سے باتیں کر رہا تھا عشرت نے اسے پکارا
“کہیے خالہ جانی کوئی کام تھا”
نمیر عشرت کے پاس آ کر اس سے پوچھنے لگا
“کیا مجھ سے بھی ناراض ہو تم” عشرت نمیر کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
“آپ کو ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ میں آپ سے ناراض ہو” نمیر الٹا عشرت سے سوال پوچھنے لگا
“وہ مجھے لگا کہ منال کی وجہ سے تم مجھ سے بھی”
عشرت بولنے لگی تبھی نمیر بولا
“خالہ جانی نہ ہی میں آپ سے ناراض ہو نہ ہی منال سے۔۔۔ اس کی اور میری سوچے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ہم دونوں کے ترجیحات جدا ہیں مگر ساتھ ہی اس سے میرا کزن کبھی رشتہ ہے جو ابھی بھی برقرار ہے آپ ٹینشن مت لے اس بات کی”
نمیر عشرت کو تسلی دیتا ہوں وہاں سے چلا گیا تو عشرت کو تھوڑا سا اطمینان ہوا مگر اسے منال پر اور بھی غصہ آیا نمیر ہر لحاظ سے اچھا تھا عشرت نے ہمیشہ اسے اپنے داماد کی نظر سے دیکھا تھا مگر منال کی وجہ سے اب وہ اس بات کا صرف ملال کر سکتی تھی
****
“کہاں جا رہی ہو میں نے کہا تھا نہ گھر میں ڈراپ کر دوں گا”
نوفل شانزے کو جاتا ہوا دیکھ کر اس کے پاس آ کر بولا
“میں نے بھی تمہیں بتایا تھا نہ کہ تمہارا چمچہ مجھے لینے آئے گا”
شانزے رک نوفل کی طرف دیکھتی ہوئی بولی
“وہ نہیں آئے گا میں نے اسے کال کر کے منع کردیا ہے اور آنٹی کو فون کرکے بتا دیا ہے کہ آپ شانزے کی طرف سے بے فکر ہو جائے اسے گھر تک میں چھوڑ دوں گا”
نوفل اس کو کہتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا مگر شانزے کو وہی کھڑا دیکھ کر اس کی طرف پلٹا
“اگر تم چاہتی ہو میں تمہیں گاڑی تک گود میں اٹھا کر لے کر جاو تو چالیس کلو کا وزن اٹھانا میرے لیے کوئی مسئلہ کی بات نہیں”
نوفل شانزے کو دیکھ کر شرارت سے بولا
“اگر تم نے اپنی یہ بے ہودہ گفتگو بند نہیں کی تو میں تمہارے ساتھ ہرگز گاڑی میں نہیں بیٹھو گی”
شانزے اس سے سنجیدگی سے مخاطب ہوئی تو نوفل نے اپنی شہادت کی انگلی اپنے ہونٹوں پر رکھتے ہوئے اپنے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور دوسرے ہاتھ سے اسے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارا کیا
شانزے اس پر احسان کرنے والے انداز میں گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔ نوفل گاڑی میں بیٹھ کر منہ سے کچھ نہیں بولا مگر اسکو دیکھ کر مسکرانے لگا
“یہ تم مجھے دیکھ کر اسطرح مسکراتے کیوں ہو”
شانزے اس کو دیکھ کر سیریس انداز میں پوچھنے لگی
“پہلے وعدہ کرو میرے سچ بتانے پر تم گاڑی سے نہیں اتروں گی”
نوفل اس کو دیکھ کر معنی خیزی سے بولا
“خبردار جو تم نے ایک بھی لفظ منہ سے نکالا چپ کر کے گاڑی چلاؤ”
شانزے کو پوری توقع تھی وہ ضرور کوئی نہ کوئی بےہودہ بات ہی کرتا اسلیے اس نے اس بات پر لعنت بھیجی کہ وہ اس کو دیکھ کر کیوں مسکراتا ہے اور اسے گاڑی چلانے کا کہا۔۔۔ نوفل نے بھی فرمابرداری سے گاڑی اسٹارٹ کردی۔۔۔۔ ڈرائیونگ کے دوران بھی وہ اس کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا شانزے نے جب اس کی طرف دیکھا تو نوفل کے ہونٹ اور زیادہ پھیل گئے
“گاڑی روکو مجھے تمہارے ساتھ گھر نہیں جانا”
شانزے اس کو دیکھ کر غصے میں بولی
“مگر میں نے تو اب کچھ نہیں بولا”
نوفل اس کو دیکھ کر معصومیت سے بولا
“تم مجھے اس طرح دیکھ کر مسکراو گے تو میں تمہارے ساتھ ہرگز گھر نہیں جاو گی”
شانزے اس کو دوبارہ وارن کرتی ہوئی بولی
“میں دیکھوں نہیں،، کچھ بولو نہیں،،، دیکھ کر مسکراؤ بھی نہیں،،، اور کس کرنے کا تو سوچو بھی نہیں۔۔۔ سچ میں نوفل تیرا پالا تو واقعی ظالم حسینہ سے پڑگیا”
نوفل ڈرائیونگ کرتا ہوا باآواز اپنے آپ سے مخاطب ہوا جس پر شانزے اس کو گھور کر دیکھنے لگی مگر وہ اب خاموشی سے بنا کچھ بولے یا اس کو دیکھے ڈرائیونگ کر رہا تھا
****
“کیسے بھائی ہو تم یار،، آج میری خوشی والے دن ایک اچھے بھائی کا فرض تو ادا کرنا چاہیے تھا تمہیں”
تھوڑی دیر پہلے ہی تقریب کے اختتام پر وہ لوگ گھر آئے تھے نمیر ڈریس چینج کرکے بیڈ پر لیٹا ہی تھا کہ نہال اس کے کمرے میں آکر بولا
“زیادہ ڈائیلاگ مارنے کی ضرورت نہیں ہے جو بات ہے سیدھی طرح بولو”
نمیر نہال کو دیکھ کر دوبارہ بیٹھتا ہوا بولا
“یار غضب خدا کا ماما نے تو آج ظالم سماج بننے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بھرے مجموعے میں ایک تو عنایہ سے بات کرنا دور دیکھنا بھی مشکل تھا اوپر سے ماما نے اسکا گھونگھٹ اور نکال دیا کہ روپ آئے گا” نہال کی دکھ بھری داستان سن کر نمیر کو ہنسی آئی
“تو اس میں میرا کیا کردار تھا بھلا،، اسٹیج پر آکر عنایہ کا گھونگٹ ہٹا دیتا اور اس سے کہتا میرے بھائی کو اپنا دیدار تو بخش دو بچارہ بےصبرا ہوا جا رہا ہے”
نمیر دوبارہ لیٹتا ہوا بولا
“یہ نہ کرتے مگر ایک آدھ ملاقات تو چوری چھپے اس سے کرا ہی سکتے تھے”
نہال بھی بیڈ پر بیٹھتا ہوا اس سے شکوہ کرنے لگا
“میرے سامنے زیادہ تڑپنے کی ضرورت نہیں ہے صرف دو دن بعد تمہاری بارات ہے۔۔۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ عنایہ سے تم نے اس کی تصویر نہ مانگی ہو اور اس نے تابعداری سے تمہیں سینڈ نہ کی ہو۔۔۔ اس لئے میرے پاس آکر ڈرامے کرنے کی بجائے اپنے بستر پر جا کر سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو”
نمیر اپنے منہ پر تکیہ رکھتا ہوا بولا مطلب صاف تھا اب وہ سونا چاہتا ہے
“تم سے تو مجھے یہی امید تھی۔۔۔ دو دن ہے برات میں جب یہ گزریں گے تب گزریں گے مگر فی الحال میں ابھی اور اسی وقت عنایہ سے ملنے جا رہا ہوں”
نہال بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہوا اور اس کی بات سن کر نمیر نے اپنے منہ سے تکیہ ہٹایا
“دماغ تو خراب نہیں ہو گیا تمہارا اس وقت رات کے دو بج رہے ہیں تم خالہ جانی کی طرف جاؤ گے”
نمیر سیریس ہو کر نہال کو گھورنے لگا
“اب تمہیں ظالم سماج بننے کی ضرورت نہیں ہے بس تمہیں اس لئے بتانے آیا تھا ویسے تو ماما سو رہی ہیں اگر جاگ جائے اور میرا پوچھیں تو پلیز سنبھال لینا” نہال بولتا ہوا اس کے روم سے نکل گیا نمیر دوبارہ سر پر تکیہ رکھ کے لیٹ گیا
****
نہال اس وقت کار ڈرائیو کر رہا تھا عنایہ کو وہ میسج پر اپنے آنے کا انفارم کرچکا تھا تاکہ وہ سوئے نہیں۔۔۔ وہ نیند کے معاملے میں بہت پکی تھی اگر سو جائے تو اسے جگانا مشکل ہوتا تھا یہ بات خود اسے عنایہ نے اسے بتائی تھی عنایہ کی باتیں سوچ کر وہ مسکرانے لگا۔۔۔ رات ہونے کی وجہ سے روڈ سنسان تھا خالی روڈ کو دیکھ کر نہال نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی
“شادی مبارک”
نہال کے کانوں میں نسوانی آواز گونجی۔۔۔ نہال نے ایک دم پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر فرحین بیٹھی اس کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی
صرف ایک لمحے کے لیے اس کا دھیان بٹا تھا اور وہ ایک لمحہ اس کی زندگی کے لیے بھیانک ثابت ہوا گاڑی کی اسپیڈ تیز ہونے کی وجہ سے وہ فوری طور پر گاڑی کو کنٹرول نہیں کر سکا اور گاڑی سامنے پول سے بری طرح ٹکرائی
