370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 32)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“او آپ شانزے ایم ریلی سوری میں سمجھا جیسے فر۔۔۔ کیسی ہیں آپ”

نہال اپنے لفظوں پر قابو پاتا ہوا شانزے سے پوچھنے لگا

“جی میں ٹھیک ہوں آپ۔۔۔۔ کی طبعیت ٹھیک ہے”

جو کچھ نہال کے ساتھ ہوا شانزے اس سے بھی باخبر تھی اسے وہ نارمل نہیں لگا نہ جانے وہ اسے کون سمجھ بیٹھا تھا۔۔۔ جبھی اٹک اٹک کر اس کی خیریت کی بجائے طبیعت پوچھنے لگی

“الحمداللہ میں ٹھیک ہوں نوفل آیا ہوا ہے۔۔۔ آئی مین کہاں ہے وہ”

نہال نے نوفل کے بارے میں شانزے سے پوچھا

“جی ان ہی کے ساتھ یہاں پر آئی تھی۔ ۔ گیسٹ کے درمیان انہیں موجود نہیں پایا اور آپ کے روم کا دروازہ کھلا دیکھا تو یہاں چلی آئی۔۔۔ سوری آپ کو ڈسٹرب کیا ریسٹ کریں آپ”

شانزے اپنے وہاں آنے کی وضاحت دیتی ہوئی نہال کے روم سے نکل گئی

یقیناً حمیدہ رات کا کھانا رکھ کر گئی ہوگی جبھی دروازہ کھلا رہ گیا۔۔۔ نہال نے دوبارہ دروازہ لاک کیا

****

“یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اپنی”

سارے گیسٹ تقریباً جا چکے تھی۔۔۔۔ شانزے عنایہ کے پاس اسی کے روم میں بیٹھی تھی جبکہ نمیر ثروت کے روم میں اسی کے پاس موجود تھا تب نوفل نے نہال کو کال کر کے روم کا دروازہ کھولنے کو کہا۔۔۔ نہال کو بکھرے بال ملگجے کپڑوں میں دیکھ کر نوفل افسوس کرتا ہوا اس سے کہنے لگا

“تمہیں میرے ساتھ ہونے والے مذاق کا نہیں معلوم۔۔۔۔ نہیں معلوم تمہیں میری اس حالت کا ذمہ دار کون ہے۔۔۔ میرے اپنے”

نہال اس کو دیکھتا ہوا تلخی سے کہنے لگا

“نہال پلیز میری بات غور سے، ٹھنڈے دماغ سے سنو اور سمجھنے کی کوشش بھی کرو۔،۔۔ اس سب کے قصّے میں ثروت آنٹی یا نمیر کا کوئی قصور نہیں بلکہ نمیر تو اس شادی کے حق میں بھی نہیں تھا”

نوفل نے نہال کا دل، ثروت اور نمیر کی طرف سے صاف کرنا چاہا

“شادی کے حق میں نہیں تھا تو پھر کیوں وہ کل پورے حق سے عنایہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے بیڈروم میں لے کر گیا”

نہال تیز لہجے میں نوفل سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ اسے جتنی بار وہ منظر یاد آیا اسے لگا اس کی شریانیں پھٹ جائیگی

“وہ اب اس کی بیوی ہے یار۔۔۔۔ نہال جب تم کومے کی حالت میں تھے تب تم اندازہ نہیں لگا سکتے اس وقت تم سے منسلک ہر فرد پر کیا گزری تھی۔۔۔ جہاں لوگ تمہیں دیکھ کر اظہارِ افسوس کر رہے تھے وہی بالخصوص تمہاری خالہ جانی اور انہیں کی سوچ رکھنے والے تمہارے دوسرے رشتے دار عنایہ بھابھی کے لیے کیا کیا باتیں بنا رہے تھے۔۔۔ فرمان انکل کی بگڑتی ہوئی حالت اور انکے التجا کرنے پر ثروت آنٹی مانی تھی اور نمیر کے لئے تو یہ سب کچھ ایکسیپٹ کرنا مشکل تھا۔۔۔ تم خود کو ایک دفعہ فرمان انکل کی جگہ رکھ کر اور اسکے بعد اپنے بھائی کی جگہ رکھ کر سوچو۔۔۔ ۔ آخر میں میں یہی کہوں گا جو چیز اللہ پاک نے تمہارے لئے بنائی ہی نہ ہو،، اس کے پیچھے بھاگنا اس کے نہ ملنے کا ماتم کرنا سراسر بے وقوفی اور حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ نہال تم ہمیشہ سے ایک پوزیٹوو سوچ رکھنے والے انسان رہے ہو۔۔ تم یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ اللہ نے تمہارے لیے اس سے بہتر انتخاب کیا ہوگا جو تمہیں ڈیزرو کرے جسے تم ڈیزرو کرتے ہو۔۔۔ میرے یار پلیز اپنی ماں، اپنے بھائی سے بدگمان مت ہو یہی تو ہمارے مخلص رشتے ہوتے ہیں۔۔۔ یہ رشتہ جن کے پاس نہ ہو ان سے ان رشتوں کی ویلیو ان کی قدر پوچھو۔۔۔ دو دن کی محبت کے پیچھے اپنے خونی رشتوں سے دل برا مت کرو”

نوفل سے جتنا ہو سکا وہ نہال کو سمجھا کر اس کے کمرے سے چلا گیا

****

عنایہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی،، آج ملنے والے اپنے تمام گفٹس ایک ایک کر کے کھول رہی تھی۔۔۔ گفٹ کھولنے کے ساتھ اس کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ رقصاں تھی۔۔۔ نمیر اسی کی طرف کروٹ سے لیٹا ہوا عنایہ کی مسکراہٹ میں گم خود بھی مسکرا رہا تھا

“تھینک یو”

آخری گفٹ ثروت کے نام کا کھولنے کے بعد عنایہ شکریہ ادا کرتی ہوئی بیڈ سے اتری اور سارے گفٹس اٹھا کر وارڈروب میں رکھنے لگی

“ابھی تو میں نے گفٹ دیا ہی نہیں پھر تھینکس کس بات کا”

نمیر بھی بیڈ سے اٹھتا ہوا وارڈروب سے اپنا دایاں شولڈر ٹکا کر عنایہ پر نظریں جمائے پوچھنے لگا

“میری برتھ ڈے آپ نے سیلیبریٹ کی سارے ارینجمنٹ آپ نے کیے اور یہ ساڑھی بھی تو آپ میرے لئے لائے ہیں ناں۔۔۔ یہ سب کسی گفٹ سے کم تو نہیں ہے”

عنایہ نے نمیر کی باندھی ہوئی ساڑھی ابھی تک چینج نہیں کی تھی۔۔۔ وہ مسکراتی ہوئی نمیر کو دیکھ کر بولی

“یہ سب میں نے تمہارے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے کے لئے کیا تھا اور میرا آئیڈیا کامیاب ہوا۔۔۔ ایسے ہی مسکراتی رہا کرو حسین لڑکی،، تمہارے چہرے کی یہ اسمائل تمہارے شوہر کو بےحد پسند ہے”

نمیر ایک جذب کے عالم میں عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ عنایہ اس کی نظروں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کر کے نظریں جھکا گئی

“اس طرح تم مجھ سے مت شرمایا کرو یار شوہر ہوں میں تمہارا”

نمیر عنایہ کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ آج نمیر کا شدت سے دل چاہا اپنے اور عنایہ کے بیچ تکلف کیے دیوار ہمیشہ کے لئے ختم کردے،، وہ اس کی بیوی تھی اور نمیر اپنے اور اس کے درمیان جائز رشتہ قائم کرنا چاہتا تھا۔۔۔ مگر وہ چاہتا تھا اب کی بار عنایہ کی مرضی بھی اس میں شامل ہوں،،، وہ نہیں چاہتا تھا پچھلی دفعہ کی طرح وہ اسے زبردستی کرے اور دوبارہ عنایہ روئے ورنہ نمیر کو اب کی بار بہت برا لگتا

“شاید آپ مجھے کوئی گفٹ دینے والے تھے”

عنایہ نمیر کی بانہوں میں بولی تو وہ مسکرا دیا

“گفٹ دینے والا نہیں تھا بلکہ ابھی دو گا مگر پہلے یہ بتاؤ اس کے بدلے میں تم مجھے کیا دور گی”

نمیر اسے اپنی بانہوں کی قید سے آزاد کرتا ہوا اپنے مطلب کی بات پوچھنے لگا

“میں کیا دے سکتی ہو آپ کو بلکہ میں کیوں کچھ دو گی بس آپ کے گفٹ دینے پر میں تھنکس بولو گی”

عنایہ گڑبڑاتی ہوئی بولی جس پر نمیر دوبارہ مسکرایا

“اوکے تم مجھے تھینکس کہہ دینا مگر جیسے میں کہوں گا اس طریقے سے”

نمیر بولتا ہوا اس کا ہاتھ تھام کر اسے ڈریسر تک لایا اور آئینے کے سامنے کھڑا کیا،، دراز کھول کر ایک ڈبیہ سے پینڈنٹ نکالا اور مسکراتا ہوا ہارٹ شیپ پینڈنٹ جس میں چھوٹے چھوٹے نگینوں سے این گندھا ہوا تھا عنایہ کو پہنانے لگا عنایہ کو وہ پینڈنٹ بہت خوبصورت لگا

“خوبصورت ہے” عنایہ نے پینڈینٹ کو دیکھنے کے بعد نمیر کو آئینے میں دیکھ کر بولا

“تم سے کم”

نمیر نے اسے کندھوں سے تھام کر اس کے سر پر اپنے ہونٹ رکھے جس پر عنایہ نے اپنی آنکھیں بند کر لی۔۔۔ نمیر نے اسے آئینے میں دیکھا پھر عنایہ کا رخ اپنی طرف کرتا ہوا اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما

“چلو اب تمہاری باری ہے مجھے تھینکس کہنے کی” عنایہ نے اپنی آنکھیں کھولی تو نمیر اس کے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا عنایہ نے کچھ بولنے کے لیے اپنے لب کھولے تو نمیر نے اپنی انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھ دی

“لفظوں میں بول کر نہیں، مجھے تمہارا تھینکس محسوس کرنا ہے یہاں”

نمیر نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا نمیر کی فرمائش پر عنایہ کی آنکھیں پھیل گئی

“کیا آپ ساری زندگی مجھے ایسے ہی تنگ کریں گے”

عنایہ نظریں جھکا کر بےچارگی سے پوچھنے لگی

“ارادہ تو میرا کچھ ایسا ہی ہے۔۔۔ کیا تمہیں مجھے اس طرح تھینکس کرنا اچھا نہیں لگے گا یا پھر تمہیں اس طرح تھینکس کرنا بھی نہیں آتا”

نمیر اس کے چہرے پر آئی حیا کے رنگ دیکھتا ہوا پوچھنے لگا۔۔۔ جو اسکے دل کو بہت بھلے لگ رہے تھے

“میں اس کام میں بھی زیرو ہو اور اس طرح تھنکس کہنے میں مجھے بہت شرم آئے گی”

عنایہ کے جواب پر وہ ایک بار پھر مسکرایا

“اوکے تمہیں تھینکس میں خود کر لیتا ہوں کیوکہ میں تھوڑا بےشرم واقع ہو مگر ٹائی نہ باندھنے پر تم نے اپنی سزا خود تجویز کی تھی پھر اس کا کیا ہوگا” نمیر آنکھوں میں ڈھیر سارے چاہت کے رنگ لئے اس سے سوال کرنے لگا

“اس کے لیے آپ مجھے معاف کر دیں گے کیوکہ میں جانتی ہوں آپ ایک اچھے شوہر ہیں” عنایہ نظریں اٹھا کر نمیر کو مسکرا کر دیکھتی ہوئی بولی جس پر نمیر نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا

“تم غلط کہہ رہی ہو،، میں اچھا شوہر تو ہوں مگر ساتھ بہت گندہ بچہ ہوں۔۔۔ معافی تو تمہیں کسی صورت نہیں ملے گی ہر صبح نہ صرف تم میری ٹائی باندھو گی بلکہ آفس جانے سے پہلے مجھے تھنکس بھی کہا کرو گی بالکل ویسے ہی جیسے میں چاہتا ہوں اور تھنکس کہنا میں تمہیں ابھی سکھا دیتا ہو”

نمیر نے بولنے کے ساتھ ہی اپنے تشنہ لب عنایہ کے ہونٹوں پر رکھے

عنایہ کی رضامندی جان کر نمیر آج اپنی تمام تر شدتیں اس پر ظاہر کرنا چاہتا تھا۔۔۔ عنایہ نے اپنے دونوں ہاتھ نمیر کے سینے پر رکھ کر آنکھیں بند کی ہوئی تھی وہ اسکی سانسوں کی مہک اپنی سانسوں میں اترتی ہوئی محسوس کر رہی تھی۔۔۔ نمیر اس کے ہونٹوں کو آزاد کرتا ہوا اپنے سینے سے عنایہ کے ہاتھ ہٹائے بغیر اسکے ہاتھ اپنے گلے میں ڈالے۔۔۔ اسے بانہوں میں اٹھاتا ہوا بیڈ پر لاکر لٹایا۔۔۔ اس پر جھکنے سے پہلے نمیر اسکی ساڑھی کا پلو ہٹا چکا تھا

“اگر مجھ سے ہوگئی تھی تو اپنی سہیلی کے سامنے اقرار کرنے کی بجائے تمہیں اپنے شوہر کے آگے اظہار کرنا چاہیے تھا”

نمیر عنایہ کی تھوڑی پر اپنے ہونٹ رکھنے کے بعد عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا اس کی بات سن کر عنایہ نے زور سے اپنی بند کی ہوئی آنکھیں کھولی

“آپ نے ہم دونوں کی باتیں سنی”

عنایہ حیرت سے اس کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی

“ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے بتایا تو تھا کہ میں بہت گندہ بچہ ہو”

نمیر اپنا ایک ہاتھ عنایہ کے بالوں میں پھنسا کر دوسرا ہاتھ سے بلاوز کے گلے کی ڈوری کھولنے لگا۔۔۔ عنایہ نے دوبارہ اپنی آنکھیں بند کرلی۔۔۔۔ اس کی ہارٹ بیٹ تیز ہونے لگی۔۔۔ نمیر اسکے دل پر اپنے ہونٹ رکھ کر اس کی دھڑکنوں کو اور منتشر کر رہا تھا

“نمیر”

دھڑکتے دل کے ساتھ عنایہ نے اس کا نام پکارا

“تم نمیر کو کب سے تڑپائے جارہی ہو۔۔۔ اب نمیر تمہاری ایک بھی نہیں سننے والا”

وہ عنایہ کا چہرہ دیکھتا ہوا بولا۔۔۔عنایہ کی آنکھیں ابھی بھی بند تھی اور اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور شرم کے رنگ عیاں تھے۔۔۔ نمیر اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چومنے لگا

مسحور کن لمحات میں وہ دونوں ہی کھوئے ہوئے تھے کہ دروازے کی دستک نے بیچ میں مداخلت کی۔۔۔ نمیر نے گھڑی میں ٹائم دیکھا تو رات کا ایک بجا رہا تھا کوئی ملازم تو نہیں ہوسکتا تھا اس وقت یقیناً ثروت ہی ہوگی۔۔۔نمیر عنایہ کی ساڑھی کا پلو درست کرتا ہوا بیڈ سے اٹھا تو عنایہ بھی اٹھ کر بیٹھی اور اپنے چہرے کے تاثرات کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگی جبکہ نمیر اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا دروازہ کھولنے لگا۔۔۔ وہ جو ثروت کی توقع کر رہا تھا سامنے نہال کو کھڑا دیکھ کر ایک دم چونکا

“آئی ایم سوری میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا تمہیں”

نہال نمیر کو دیکھتا ہوا بولا

“نہیں۔۔۔ اندر آؤ”

نمیر راستہ دیتا ہوا بولا تو نہال اندر آگیا۔۔۔ عنایہ اور نہال کی نظریں ملی تو نمیر غور سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا

“ہیپی برتھ ڈے،،آج تمہارا برتھ ڈے تھا میں گفٹ تو نہیں لا سکا مگر تمہارا گفٹ ادھار ہے مجھ پر”

وہ عنایہ کے گرد لپٹی ہوئی ساڑھی کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ عنایہ کو معلوم تھا کہ اسے ساڑھی نہیں پسند تھی۔۔ وہ بھی جانتا تھا عنایہ کو ساڑھی نہیں پسند تھی اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ ساڑھی نمیر کو پسند تھی۔۔۔ کچھ تھا جو نہال کو برا لگا

“گفٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے برتھ ڈے تو اب ویسے بھی گزر گئی”

عنایہ تکلف سے مسکراتی ہوئی بولی پھر اس کی نظر نمیر پر پڑی جو کہ سنجیدہ تاثرات لیے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ عنایہ اس کے تاثرات کو دیکھ کر نمیر کے موڈ کا اندازہ نہیں لگا پائی

“ضرورت کیسے نہیں ہے۔ ۔۔ ہم ایک گھر میں رہتے ہیں۔۔۔ نمیر کی بیوی ہو تم، یعنی میرے بھائی کی بیوی،، اس گھر کی ایک فرد، گفٹ تو بنتا ہے تمہارا”

نہال صوفے پر بیٹھتا ہوا غور سے عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا نمیر غور سے نہال کو دیکھنے لگا۔۔۔ جبکہ عنایہ سرجھکا کر کچھ کہے بغیر بیڈ پر بیٹھ گئی

“میں تم دونوں کو یہ کہنے آیا ہوں۔۔۔ کبھی کبھی جیسا ہم چاہتے ہیں ویسا ہوتا نہیں عنایہ میری پسند تھی مگر اب وہ تمہاری بیوی ہے۔۔۔ اس حقیقت کو قبول کرنا تھوڑا مشکل ہو رہا ہے مگر اس حقیقت سے منہ نہیں پھیرا جاسکتا اور دیکھو عنایہ نے بھی کتنی جلدی تمہیں قبول کر لیا۔۔۔ دعا کرنا کہ میں بھی اس حقیقت کو جلدی قبول کر لو”

نہال نمیر کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ نمیر کو نہال کا اندازہ نارمل نہیں لگا کچھ تھا اس کے انداز میں جو نمیر کو کھٹک رہا تھا

“کیا ہوا چپ کیوں ہو تم، کچھ بولو گے نہیں”

نہال نمیر کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا

“حقیقت حقیقت ہوتی ہے نہال اس کو قبول کر ہی لینا چاہیے۔۔۔ جتنی دیر سے تم اس بات کو تسلیم کرو گے خود کو اتنا زیادہ تکلیف میں رکھو گے۔۔۔ تم میرے بھائی ہو میں تمہیں بھی تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتا۔۔۔ تمہارے آگے پوری زندگی پڑی ہے اسکو ایسے ہی برباد مت کرو”

نمیر نہال کے قریب بیٹھ کر اسے سمجھانے لگا جس پر نہال استزائیہ ہنسا

“مشورہ دینے کے لئے شکریہ، تم لوگ ریسٹ کرو اب”

نہال نمیر کو بولتا ہوا صوفے سے اٹھا اور اس کے کمرے سے نکل گیا

“جاو چینج کر کے آؤ”

نہال کے جانے کے بعد نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا اور بیڈروم کا دروازہ بند کرنے لگا۔۔۔ عنایہ ڈریسنگ روم سے جب چینج کر کے آئی۔ ۔۔۔ تو بیڈروم کی لائٹ بند تھی اور نمیر کھڑکی کے پٹ کھولے کھڑا باہر جھانکتے ہوئے کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔عنایہ جا کر بیڈ پر لیٹ گئی

“آپ نہیں سوئے گے نمیر”

عنایہ ہچکچاتی ہوئی نمیر سے پوچھنے لگی۔۔ نمیر نے مڑ کر اس کو دیکھا

“نیند نہیں آرہی تم سو جاؤ”

نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا بولا پھر دوبارہ باہر دیکھنے لگا۔۔۔ جبکہ عنایہ آنکھیں بند کرنے کی بجائے نمیر کو دیکھنے لگی ناجانے انکی زندگی کب اور کیسے نارمل ہوگی یہ سوچتے ہوئے عنایہ کی آنکھ لگ گئی