370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 24)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

نمیر جیسے ہی اسپتال کے کمرے میں داخل ہوا نہال اس کو دیکھ کر بے چینی سے اٹھ بیٹھا نمیر اس کی طرف بڑھا

“سب کے سب مایوس ہو جائیں مگر میں نے اس بات کی امید بلکل نہیں چھوڑی،، مجھے پورا یقین تھا میرا دل کہتا تھا تم ٹھیک ہو جاؤ گے” نمیر اسے گلے لگاتا ہوا بولا

“ماما کیسی ہی کہاں آئی وہ”

نہال نمیر سے الگ ہوکر ثروت کے بارے میں پوچھنے لگا

“ٹھیک ہے ماما بھی معلوم ہے آج ہی وہ مجھ سے تمہاری باتیں کرکے اتنی دلبرداشتہ ہو رہی تھی انہیں معلوم ہوگا تم ہوش میں آگئے وہ بہت خوش ہوگیں”

نمیر نہال کو دیکھ کر خوشی سے بتانے لگا۔۔۔ نمیر اپنی آنکھوں کے سامنے اسے بات کرتا ہوا دیکھ کر خوش تھا اس کے دل میں اطمینان تھا کہ نہال اب بالکل ٹھیک ہو چکا ہے

“عنایہ وہ کیسی ہے”

نہال کے سوال پر نمیر کا مسکراتے لب ایکدم سکڑے گئے نہال غور سے اسے دیکھنے لگا تو نمیر بولا

“وہ ٹھیک ہے”

نمیر نے جواب دیا

“کیسے سمنبھالا ہوگا تم نے ماما اور ان عنایہ کو عنایہ کا دل کی بہت کمزور ہے وہ بہت روۓ ہوگی ناں”

نہال نے دوبارہ نمیر سے سوال کیا

“وقت سنبمال لیتا ہے انسان کو اب تم اپنے دماغ پر زیادہ زور مٹ ڈالو، ڈاکٹرز نے تمہیں ریلیکس رہنے کے لیے کہا ہے”

نمیر فلحال اس ٹاپک سے بچنا چاہتا تھا اس لئے نہال سے بولا اور ساتھ ہی اس کے دل و دماغ میں کئی سوالات گردش کرنے لگے

اتنے میں دوبارہ روم کا دروازہ کھلا اور نوفل کمرے میں آیا۔۔۔۔ نمیر کو جب ڈاکٹر نے نہال کے بارے میں اطلاع دی تھی اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے نمیر نے نوفل کے لیے میسج چھوڑ دیا تاکہ جب بھی وہ میسج دیکھے اسے معلوم ہوجائے اب نوفل اور نہال ایک دوسرے سے مل رہے تھے

“نہال اے بی سی ڈی سناو جلدی سے” نوفل اسے گلے مل کر سیریس ہوکر کہنے لگا نمیر اور نہال دونوں ہی نہ سمجھنے والے انداز میں نوفل کو دیکھنے لگے

“مگر کیوں”

نہال حیرت سے اس سے پوچھنے لگا

“چیک کرنا ہے تمہاری یادداشت تو نہیں گئی ڈاکٹرز نے کہا تھا زیادہ تر چانس ہے کہ ایسا ہو جائے”

نوفل کی بات پر وہ دونوں ہنس دیے

“نمیر مجھے ماما کے پاس جانا ہے انہیں دیکھنا ہے”

تھوڑی دیر تک وہ تینوں باتیں کرتے رہے اس کے بعد نہال نمیر کو دیکھتا ہوا بولا

“ڈاکٹرز اپنی تسلی کے لئے ایک دو ٹیسٹ کرلیں پھر چلیں گے گھر”

نمیر ریلکس انداز میں صوفے پر بیٹھا ہوا نہال کو دیکھ کر بولا وہ اب عنایہ اور اپنے رشتے کے متعلق سوچنے لگا۔۔۔ عنایہ ابھی بھی ریلیشن اسٹارٹ نہیں کرنا چاہتی تھی یہ سوچ اسے تھکانے لگی

“میرے پیچھے تمہاری لو اسٹوری کا کیا بنا،، شادی تو نہیں کرلی ان دو ماہ میں”

نہال اب نوفل کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا نہال کے سوال پر نمیر نے بھی نوفل کو دیکھا وہ اپنی طرف سے تو اسے سمجھا چکا تھا شانزے سے تعلق ختم کرنا بےوقوفی کے علاوہ کچھ بھی نہیں

“مجھے تم سے ساری زندگی طعنے ہرگز نہیں سننے تھے کہ میرے پیچھے شادی کرلی اور ولیمہ بھی نہیں کھلاتا۔۔۔ اب ریڈی ہو جاؤ کیوکہ میرے نکاح کے گواہوں میں ایک گواہ تم بھی ہوں گے”

نوفل نے بات کو مذاق کا رنگ دیتے ہوئے کہا مگر سچ تو یہ تھا وہ اتنے دنوں سے شانزے کو بہت مس کر رہا تھا اور وہ اس سے اتنی سی خفا تھی کہ اس کی کال بھی رسیو نہیں کر رہی تھی اتفاق سے وہ نائلہ سے بھی ملنے نہیں جا سکا مگر اب وہ کل صبح انکے گھر جانے کا پورا ارادہ رکھتا تھا

“اور تم نے اپنے بارے میں کیا سوچا۔۔۔ میں ماما سے کہوں گا کوئی عنایہ جیسی لڑکی دوسری ملے تو میرے ساتھ ہی تمہاری بھی شادی کر دیں”

نہال نمیر کو دیکھتا ہوا بولا

“اف نہال خاموش بھی کرو ہوش میں آتے ہی کتنا بول رہے ہو تم۔۔۔ ڈاکٹر سے پوچھ کر آتا ہوں چھٹی کا کب تک ممکن ہے”

نمیر چڑتا ہوا بولا اور اسپتال کے روم سے باہر نکل گیا

“ایسا کیا ہو گیا اچانک، یہ تو شادی کے نام سے ایسا چڑا ہے جیسے کوئی روگ لگا کر بیٹھا ہوں”

نہال اب نوفل کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا

“دراصل تم دو ماہ سے خاموش تھے۔۔۔ میں، نمیر، آنٹی آکر تم سے روزانہ باتیں کرتے کے شاید ہمیں بولتا ہوا دیکھ کر تمہاری خاموشی ٹوٹے۔۔۔۔ اور آج جب تمہیں ہوش آیا ہے تو تم نان اسٹاپ شروع ہوچکے ہو”

نوفل مسکراتا ہوا بولا مگر وہ نہال کو یہ نہیں بتا سکتا نمیر کو واقعی روگ تو لگ چکا ہے اپنی بیوی سے محبت کا

****

“میرا بچہ میری جان”

ثروت روتی ہوئی بار بار نہال کا چہرہ چوم کر خدا کا شکر ادا کر رہی تھی

ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی نوفل اور نمیر اسے گھر لے کر آئے تھے۔۔۔ دوماہ لیٹے رہنے کی وجہ سے وہ فوری طور پر اپنے ہاتھ پاؤں موو نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔ ثروت نہال کے بیڈروم میں اس کے برابر میں ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ نوفل اجازت لے کر وہاں سے نکلا۔۔۔ ثروت کے کہنے پر نمیر میں فرمان اور عشرت کے ساتھ باقی رشتہ داروں کو بھی نہال کے ہوش میں آنے کی اطلاع دی

****

“یہ کیا بدتمیزی ہے راستہ کیوں روکا ہے میرا ہٹو سامنے سے” شانزے نائلہ کی میڈیسن لے کر واپس اپنے گھر جا رہی تھی تو اچانک اس کے سامنے جمشید آگیا اور اس کا راستہ روک کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ گٹکے کی بدبو کے ساتھ جمشید کی شکل دیکھ کر شانزے کو متلی ہونے لگی

“بہت زبان چلتی ہے تیری،، چند دن ٹہر تجھے صحیح کا مزا چکھاؤں گا پھر تجھے سمجھ میں آئے گا جمشید چیز کیا ہے”

جمشید نے اس کے قریب آکر اسے دھمکاتے ہوئے ڈرانے کی پوری کوشش کی

“تم چند دن میں مزہ چکھانے کا ارادہ رکھتے ہوں مگر میں اپنے ہاتھ کا مزہ تمہیں ابھی چکھاتی ہو”

شانزے کے ہاتھ نے اس کا گال پر سرخ نشان چھوڑا

“آئندہ میرے سامنے میرے گھر میں یا راستے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ورنہ جوتی اتار کر بھرے بازار میں تمہاری ایسی درگت بناؤں گی کہ آنے والی نسلیں منہ چھپاتی پھریں گی”

شانزے اسے وارن کرتی ہوئی وہاں سے جانے لگی

“رک تیری یہ مجال تو نے جمشید پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔ اب نکاح تو ہوگا بعد میں، پہلے میں بتاتا ہوں کہ منہ کون چھپاتا پھرے گا”

جمشید شانزے کا ہاتھ کھینچتا ہوا اپنی گاڑی کی طرف بڑھا

ہاتھ چھوڑو میرا بےغیرت انسان ورنہ جان سے مار دوں گی تمہیں”

وہ شانزے کا ہاتھ پکڑتا ہوا اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا شانزے زور لگا کر بھی اپنا ہاتھ جمشید کے ہاتھ سے نہیں چھوڑا پائی تو دوسرے ہاتھ سے اس پر مکے برسانے لگی اس نے روڈ پر کھڑے بے حس لوگوں کو دیکھا جو تماشہ دیکھنے اور ویڈیو بنانے میں مصروف تھے

اتنے میں نوفل جو کہ نائلہ سے ملنے آرہا تھا روڈ پر بھرے مجموعے پر اس کی نظر پڑی اور جو منظر اس کی آنکھوں نے دیکھا کہ ایک آدمی شانزے کو زبردستی کار میں بٹھا رہا ہے نوفل کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔۔۔

نوفل اپنے گاڑی سے اترتا ہوا اس آدمی پر جھپٹا اور تابڑ توڑ گھونسوں مُکوں اور لاتو کی اس پر بوچھار شروع کردی

“ابے تو ہے کون۔۔۔ مجھے نہیں جانتا کیا،، آدھا شہر مجھ سے ڈرتا ہے”

جمشید اپنے پھٹے ہوئے ہونٹ سے خون صاف کرتا ہوا نوفل کو بولا

“آج کے بعد ادھا شہر تجھ پر ہنسے گا”

نوفل نے جمشید کے سینے پر لات ماری،،، وہ نوفل کی گاڑی کے آگے جا گرا نوفل نے اسے گریبان سے اٹھا کر کھڑا کیا اور اپنی گاڑی کے بونڈ پر اس کا سر دے مارا

“چھوڑ مجھے وہ میری چچازاد ہے شادی ہونے والی ہے میری اس سے” جمشید بری طرح زخمی ہو چکا تھا وہ نڈھال ہوتا ہوا بولا اس کے جملے پر نوفل کا ہاتھ ہوا میں ہی ٹھہر گیا نوفل اب مزید غصے سے جمشید کو دیکھنے لگا۔۔۔ نوفل کے رکنے پر جمشید کو مہلت ملی وہ نوفل کو دھکا دے کر اپنی گاڑی چھوڑ کر بھاگ نکلا

نوفل اٹھا اور اپنے کپڑے جھاڑتے لگا شانزے ابھی بھی مجمعے کو دیکھ کر جمشید کی گاڑی میں دوپٹے سے چہرہ چھپائے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ آج اسے صحیح معنوں میں نائلہ اور عنایہ کی باتیں سمجھ میں آرہی تھی یہ معاشرہ ہی ایسا تھا جہاں اکیلی عورت کو دیکھ کر ہر کوئی اس کی مجبوری اور بے بسی سے فائدہ اٹھاتا

نوفل نے شانزے کے پاس جانے سے پہلے لوگوں کے مجموعے میں سے ان دو لڑکوں کو گریبان سے پکڑ کر بیچ میں لاکر کھڑا کیا جن کے ہاتھوں میں موبائل موجود تھے اور جو بڑے اطمینان سے ویڈیو بنانے میں مصروف تھے۔۔۔ نوفل نے باری باری دونوں کے منہ پر طماچے مار کر ان سے موبائل چھینا اور زمین پر پھینک کر جوتے مار کر موبائل کی اسکرین کو چکنا چور کردیا

“جب تمہاری ماں بہنوں کے ساتھ کوئی آدمی ایسا سلوک کر رہا ہو تب بھی تم لوگ ایسے ہی ویڈیو بنانا۔۔۔۔ اوئے تم تینوں بھی یہاں ہوں اور اپنے اپنے موبائل دو”

نوفل نے چیخ کر تین لڑکوں کو مزید بلایا جو سوری سر کرتے ہوئے اپنا موبائل نوفل کو دینے لگے

“تمہیں معلوم ہے نہ میں کس تھانے کا ایس پی ہو”

ان لڑکوں میں سے ایک کو نوفل بھی جانتا تھا اس لڑکے نے فورا جی کہہ کر سر ہلایا

“اپنے اپنے موبائل کل پولیس سٹیشن سے آ کر لے جانا اور اگلی بار اگر کسی مجبور کے ساتھ زیادتی ہوتے دیکھو تو اس کی ویڈیو بنانے کی بجائے تھوڑی سی مردانگی دکھا دینا۔۔۔ چلو اب نکلو یہاں سے سب کے سب”

موبائل نوفل اپنے پاس رکھتا ہوا بولا وہ لڑکے وہاں سے چلے گئے

“سنائی نہیں دے رہا تم لوگوں کو،، خالی کرو روڈ مفت کا تماشہ دیکھنے والی بغیرت عوام”

نوفل نے چیخ کر تماشبین سے کہا جو ابھی بھی کھڑے کسی اور فلمی سین کے انتظار میں تھے آئستہ آئستہ رش چھٹنے لگا اس کے بعد نوفل شانزے کی طرف بڑھا

“نکلو کار سے”

کار کا دروازہ کھول کر وہ شانزے سے محاطب ہوا۔۔۔۔ شانزے اپنے چہرے سے دوپٹہ سرکا کر اسے دیکھنے لگی شانزے کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی جبکہ نوفل کے چہرے پر سنجیدگی طاری تھی

شانزے کار سے نکل کر اپنے گھر کی طرف رخ کرنے لگی تبھی نوفل اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنی گاڑی تک لایا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر شانزے کو اندر بٹھایا شانزے خاموشی سے بنا احتجاج کئے بیٹھ گئی

“کون تھا یہ چھچھوندر اور کیا بکواس کرکے گیا ہے۔۔۔ کہ تمہاری اس سے”

نوفل جملہ مکمل کیے بنا سنجیدگی سے شانزے کو دیکھنے لگا

“صحیح کہہ رہا تھا وہ، تایا ذات ہے میرا اور اگلے جمعہ کو میرا نکاح ہے اس کے ساتھ،،، امی تمہیں آج کل میں انویٹیشن دینے کے لئے کال کریں گی”

شانزے نے بھی اتنی ہی سنجیدگی سے نوفل کو دیکھ کر بولا

“شانزے۔۔۔۔ میں اس وقت مذاق کے موڈ میں ہرگز نہیں ہوں”

نوفل نے غصے میں شانزے کا نام پکارا اور سخت لہجے میں اپنا جملہ مکمل کیا،، ایسا تو وہ خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا

“میں نے تم سے آج تک مذاق کیا ہے جو میں اب تم سے مذاق کروگی،، تمہیں تکلیف کس بات پر ہو رہی ہے تمہی نے تو مجھے اپنی زندگی سے نکل جانے کے لیے کہا تھا”

شانزے بھی سنجیدگی سے اسے یاد دلانے لگی جس پر نوفل نے بے بسی سے اپنی آنکھیں بند کی اور دوبارہ کھولی

“فراموش کر بیٹھا تھا اس بات کو میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا تمہارے بنا زندگی گزر جائے گی مگر ان چند دنوں میں ہی احساس ہوگیا یہ ناممکن سی بات ہے”

نوفل اب شانزے کو دیکھتا ہوا اعتراف کرنے لگا اتنی سنجیدگی سے اعتراف شاید اس نے پہلی بار آج شانزے کے سامنے کیا تھا

“ابھی چند دن تو ایسا لگے گا ہی مگر چند سال بعد جب تمہاری زندگی میں کوئی دوسری آجائے گی تو شانزے کون تھی شاید تمہیں میرا نام تک یاد نہ رہے”

شانزے تلخی سے بولی

“تم کوئی سنعیہ ماریہ یا علشباہ تھوڑی ہو۔۔۔ بلکہ میری سچی محبت ہو جس سے میں نہ صرف شادی کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔ بلکہ میرے چنوں اور منوں کی ماں بھی تم ہی بنو گی”

نوفل شانزے کا ہاتھ تھام کر محبت بھری نظریں اس پر لٹاتا ہوا بولا۔۔۔ مگر وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ پرانی محبوباؤں کا نام لے کر وہ اپنی شامت لے آیا ہے

“سنعیہ، ماریہ علیشباہ یعنی مجھ سے پہلے یہ بھی تمہاری محبتیں رہی ہیں اور تم اپنے کرتوت اپنے ہی منہ سے کتنے فخر سے بتا رہے ہو مجھ کو،،، چُلو بھر پانی میں ڈوب مرو تم”

شانزے کا یہ سب سن کر دماغ ہی گھوم گیا یعنی وہ اچھا خاصا چھچورا انسان تھا،، جسے وہ شریف آدمی سمجھ بیٹھی تھی کس ڈھٹائی سے وہ اپنی پرانی محبتوں کا اعتراف کر رہا تھا۔۔۔ شانزے گاڑی سے اتر کر پیدل چلنے لگی

“شانزے رکو،، میری بات سنو یار۔۔۔ ان میں سے دو تو بچپن کی تھی اور ایک یونیورسٹی کی،، مجھے معلوم تھا علشبا خود بھی میرے ساتھ ٹائم پاس کر رہی تھی اس لیے میں بھی اس کے ساتھ وقت گزاری کر رہا تھا،، تمہارے سر کی قسم”

نوفل بھی گاڑی سے اتر کر شانزے کے ساتھ پیدل چلتا ہوا اپنی بےگناہی کا یقین دلانے لگا شانزے اس کی بات سن کر رکی اور رخ نوفل کی طرف کیا

“تمہیں یاد ہے پہلی ملاقات میں جو تپھڑ میں نے تمہارے گال پر مارا تھا وہ کونسا گال تھا”

شانزے اسے دیکھ کر سنجیدگی سے پوچھنے لگی

“سیدھے گال پر الٹے ہاتھ کا تھپڑ مارا تھا مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو”

نوفل اب شانزے سے پوچھنے لگا

“تاکہ آج تمہارے دوسرے گال پر بھی الٹے ہاتھ کا تھپڑ مار کر سارا حساب بےباک کر دوں”

شانزے نے سچ میں اس کے دوسرے گال پر تپھڑ مارنا چاہا مگر نوفل نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا

“دماغ خراب ہے تمہارا چلتے ہوئے روڈ پر میرا تماشہ بناؤں گی،، لوگ ہنسیں گیں مجھ پر کہ ایک مچھڑ کی دھلائی کرنے کے بعد ایس۔پی نے لڑکی کے ہاتھوں تھپڑ کھا لیا”

نوفل شانزے کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی عزت کا احساس دلانے لگا

“تو پھر اس چلتے ہوئے روڈ پر خود بھی چلتے ہوئے بنو،، اب میرا پیچھا کیا نہ تو واقعی تھپڑ کھاؤ گے”

شانزے غصے میں یہ بھی بھول گئی کہ تھوڑی دیر پہلے وہ اس کو جمشید سے بچا کر احسان نام کی کوئی چیز کر چکا ہے اور گھر کی طرف چل دی نوفل جو نائلہ سے ملنے جا رہا تھا اپنا ارادہ ملتوی کرتا ہوا کار میں بیٹھ کر پولیس اسٹیشن نکل گیا