370.2K
49

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gunahgaar (Episode 23)

Gunahgaar By Zeenia Sharjeel

“عنایہ کہا ہے ماما” نمیر آفس سے گھر پہنچا،، اپنے بیڈ روم میں عنایہ کو موجود نہ پاکر ثروت کے پاس آ کر پوچھنے لگا

“آج پیپر ختم ہوگئے ہیں اس کے تو کہنے لگی کہ تین چار دنوں کے لیے فرمان کے پاس جانا چاہتی ہے ایک گھنٹے پہلے ہی ڈرائیور کے ساتھ نکلی ہے”

ثروت نمیر کو بتانے لگی

“اور آپ نے اس کو جانے دے دیا”

نمیر بگڑے ہوئے زاویوں کے ساتھ شکوہ کرتے ہوئے ثروت سے پوچھنے لگا

“اس کا دل چاہ رہا تھا نمیر،، اپنے ماموں سے ملنے کا اس کو دیکھنے کا”

ثروت بیڈ سے اٹھ کر نمیر کے پاس آتی ہوئی اسے سمجھانے لگی

“جانتا ہوں میں کیوں دل چاہ رہا تھا اس کا۔۔۔۔ ماما آپ اسے طور طریقے سکھائے سسرال میں کیسے رہا جاتا ہے شوہر کو کس طرح ٹریٹ کیا جاتا ہے” نمیر سر جھٹکتا ہوا ثروت سے کہتے ہوئے وہی صوفے پر بیٹھ گیا

“کیا طور طریقے سکھانے ہیں اسے،، تمہارے کہنے پر پہلے دن سے تمہارے لیے ناشتہ بنانے لگی ہے جو کہتے ہو چپ کر کے مان جاتی ہے کبھی آگے سے زبان نہیں چلاتی بحث نہیں کرتی جواب دینا تو دور کی بات”

ثروت نمیر کے پاس بیٹھ کر اسے کو سمجھانے لگی

“بہت سیدھی لگتی ہے آپ کو،،، کسی دن دیکھیے گا میرے سامنے کیسے زبان چل رہی ہوتی ہے سارے جوابات دینے آتے ہیں اسے”

نمیر نے ثروت کو دیکھ کر جتنا سیریس ہو کر کہا ثروت مسکرانے لگی

“اب لڑکی کے سیدھے ہونے کا یہ مطلب تو نہیں وہ اپنی زبان کو تالو سے ہی چپکا لے شوہر ہو تم اس کے تم سے باتیں نہیں کرے گی تو اور کس سے کرے گی۔۔۔ ویسے اگر تمہاری شادی منال سے ہوجاتی تو تم اس سے کیا توقع کر رہے تھے وہ تمہارے لیے صبح اٹھ کر ناشتہ بنا رہی ہوتی تمہاری بات سن رہی ہوتی،، تقدیر کے فیصلوں پر شکر ادا کرنا چاہیے جو بھی ہوتا ہے اچھے کیلئے ہوتا ہے”

ثروت نمیر کو دیکھ کر کہنے لگی جیسے وہ اس فیصلے پر خوش تھی

“منال کا ذکر مت کیا کریں ماما اس کے ساتھ تین سالوں کی کمٹمینٹ شاید میری زندگی کی بے وقوفی تھی اور رہی تقدیر کے فیصلوں پر شکر ادا کرنے کی بات تو دعا کریں،، جب نہال ہوش میں آئے تو وہ بھی اس تقدیر کے فیصلے کو جلد سے جلد قبول کرلے”

نمیر اس تقدیر کے فیصلے کو نہ صرف دل سے قبول کر چکا تھا بلکہ اندر کہیں خوش بھی تھا مگر جب اس کا دماغ نہال کی طرف جاتا تو اس کے دل کو دھڑکا لگا رہتا۔۔۔۔ اس نے عنایہ سے یہ رشتہ توڑنے کے لئے ہرگز قائم نہیں کیا تھا اس لیے نمیر چاہتا تھا عنایہ بھی اس حقیقت کو قبول کرلے

“معلوم نہیں میرے نہال کی قسمت میں کیا لکھا ہے آج پورے دو ماہ دس دن ہو گئے اسے ہوش و خروش سے بیگانہ ہوئے۔۔۔ کبھی کبھی تو کوئی اچھی امید نظر ہی نہیں آتی ہے”

ثروت آج صبح سے نہال کے پاس اسپتال میں موجود تھی وہ روز نہال سے یہ سوچ کر باتیں کرتی کہ ایک دن تو وہ اس کی باتوں پر جواب دے گا ثروت آج صبح سے ہی نہال کے بارے میں سوچ کر کافی افسردہ تھی

“بس اب آپ اداس ہونے لگ جائیں اور اپنی طبیعت خراب کر لیں۔۔۔۔ ماما میں نے نہال کے لیے ہمیشہ پوزیٹو سوچ رکھی ہے کبھی اس کے لئے کوئی برا خیال دل میں نہیں لایا میں،، وہ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ آپ تو ماں ہے نہ پھر اس طرح کیوں سوچ رہی ہیں”

نمیر ثروت کے کندھے کے گرد اپنے ہاتھ باندھ کر اسے دلاسہ دینے لگا

“چلو چینج کر پر آؤ حمیدہ سے کہہ کر کھانا لگاتی ہوں” ثروت اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی بولی نمیر گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا

تھوڑی دیر پہلے نمیر اور ثروت رات کے کھانے سے فارغ ہو کر اپنے اپنے کمرے میں چلیں گئے تھے نمیر کافی دیر تک دیوار میں نصب ایل ای ڈی پر ٹاک شوز دیکھتا رہا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد جب بیڈ پر لیٹا تو اسے عنایہ کی حرکت پر غصہ آیا۔۔۔۔ آدھے گھنٹے تک کروٹ بدلنے کے بعد جب اسے نیند نہیں آئی تو کار کی چابی لے کر باہر نکل گیا

****

عنایہ پیپر دے کر گھر آئی تو اسے اپنے سر سے بوجھ اترتا ہوا محسوس ہوا مگر بیڈروم میں آکر اسے نمیر کے جملے یاد آئے

“تمہارے پیپر تک تمہیں چھوٹ دی ہے اس کے بعد میں اپنے ہر جائز مطالبات خود پورے کرنے کا حق رکھتا ہوں”

عنایہ کو گھبراہٹ ہونے لگی ایک مصیبت اس کے سر سے ٹلتی نہیں کی دوسری تیار کھڑی رہتی تھی وہ بے دلی سے سوچتی ہوئی بیڈ پر لیٹ گئی

اور کل رات کیا ہوا تھا،، کس طریقے سے نمیر نے اس کو میتھ کی پریکٹس کرائی تھی عنایہ کل رات والا منظر سوچ کر سرخ ہونے لگی

“تمہیں معلوم ہے تمہارے چہرے پر سب سے خوبصورت چیز کیا ہے”

نمیر جو کافی دیر سے اس کو بےحد سنجیدگی سے شرافت کے دائرے میں پڑھا رہا تھا اچانک عنایہ سے پوچھنے لگا

“مجھے معلوم ہے میری آنکھیں خوبصورت ہیں کالج کی لڑکیاں اور شانزے نے مجھے یہ بات بتائی ہے”

پرابلمز سولو کرتی ہوئی عنایہ نمیر کو دیکھے بغیر بولی

“یہ خیال تو میرا بھی تم سے شادی سے پہلے تھا کہ تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں مگر اب میں نے غور سے دیکھا ہے تمہارے ہونٹ بھی بہت خوبصورت ہیں اور ہونٹوں کے علاوہ۔۔۔۔”

نمیر کی بات سن کر عنایہ نے رجسٹر سے سر اٹھا کر نمیر کو دیکھا ہونٹوں سے ہوتی ہوئی اس کی نظر جہاں گٙئی عنایہ اپنا دوپٹہ درست کرنے لگی پرابلم سولو کرتے کرتے اسے اپنے دوپٹے کا خیال ہی نہیں گیا

“باقی کی پریکٹس میں خود دوسرے روم میں کر لوں گی۔۔۔ اب آپ سو جائیں”

اچھا خاصا سنجیدہ پڑھاتے پڑھاتے نہ جانے اس کی کون سی رگ پھڑکتی تھی،، جو وہ عنایہ کا دل دہلا دیا کرتا تھا۔۔۔ عنایہ رجسٹر اور پین لے کر اٹھنے لگی تبھی نمیر نے اس کی کلائی پکڑی

“نہ ہی میں سو رہا ہوں اور نہ ہی تم کہیں جا رہی ہو۔۔۔ کافی دیر سے میں سیریس ہو کر تمہیں پڑھا رہا ہوں اب مجھے بریک چاہیے”

وہ عنایہ کے ہونٹوں کو دیکھتا ہوا کہنے لگا

“آپ اس طرح سے مجھے پڑھائے گے،،، آپ چاہتے ہیں کہ میں فیل ہو جاؤ۔۔۔ چھوڑیے مجھے”

عنایہ نے اسے اپنی کلائی چھڑائی مگر وہ اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کر چکا تھا

“اس لئے تو آج تک میں نے تمہارے علاوہ کسی کو ٹیوشن نہیں دی۔۔۔ تم فیل ہو گئی تو میں بار بار تمہیں میتھ کی پریکٹس کراو گا۔۔۔۔ ویسے بھی آج شام شدت سے میرا دل چاہتا کہ میں حمیدہ کو گولی مار دو اب خاموشی سے مجھے بریک دو تھوڑا”

نمیر بولتا ہوا عنایہ کے ہونٹوں پر جھکا۔۔۔ مگر عنایہ کی مزاحمت پر ایک سیکنڈ بعد پیچھے ہوا

“میں اپکو بلاوجہ ڈیسنٹ انسان سمجھتی تھی اب کھبی بھی نہیں پڑھو گی آپ سے”

عنایہ ایک ہاتھ اپنی آنکھوں پر دوسرا ہونٹوں پر پھیرتی ہوئی دوبارہ اٹھنے لگی تو نمیر بھی کھڑا ہوا

“میں ڈیسنٹ ہی ہوں یار۔۔۔۔ مگر شوہر بھی تو ہو میری بھی تو فیلنگز سمجھا کرو،،، پچھلے ایک گھنٹے سے تم رجسٹر میں جھکی ہوئی دوپٹے سے بے پرواہ پرابلمز سولو کرتی ہوئی۔۔۔۔ مجھے پرابلم میں ڈال رہی تھی”

نمیر بےبسی سے کہنے لگا تو عنایہ مزید ناراض ہوتی ہوئی اسے دیکھنے لگی

“اچھا بس اب مذاق ختم اب سیریس ہو کر پڑھیں گے شاباش بیٹھو واپس”

وہ عنایہ کو بٹھا کر دوبارہ سنجیدگی سے پڑھانے لگا

عنایہ کی آنکھوں کے آگے کل رات والے منظر کی فلم سی چلی عنایہ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا اسے لگا جیسے نمیر اس کے سامنے ہی بیٹھا ہوا ہے

شام کے وقت اسکی آنکھ کھلی تب تک ہسپتال سے ثروت گھر آ چکی تھی عنایہ ثروت سے اجازت لے کر فرمان کی طرف چلی گئی فلحال تو اسے اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا مگر یہاں آ کر عشرت کا رویہ اس کے ساتھ وہی تحقیر آمیز تھا۔۔ وہ کرید کرید کر نمیر اور اس کے بیچ تعلقات کا پوچھنے لگی عنایہ نے اسے تسلی بخش جواب دیا مگر تسلی والی بات سن کر عشرت کو خاص تسلی نہیں ہوئی،،، وہ جل بھن کر رہ گئی

عنایا فرمان کے پاس بیٹھی ہوئی اس سے باتیں کر رہی تھی تو اسے باتوں کے دوران منال کا معلوم ہوا منال اپنی فلم کی شوٹنگ کے لیے کہیں دوسرے ملک گئی ہوئی ہے فرمان کا دل بھی منال سے کافی دکھا ہوا تھا۔۔۔ فرمان بھی عنایہ سے نمیر اور اس کے متعلق پوچھنے لگا اسے نصیحتیں کرنے لگا عنایہ نے اسے بھی تسلی بخش جواب دیا جس پر فرمان خوش ہوا اور عنایہ کو ڈھیر ساری دعائیں دی بیٹی

عنایا کا دل چاہا وہ فرمان سے اور بھی باتیں کرے مگر عشرت کو ماموں بھانجی کی محبت زیادہ دیر گوارا نہ ہوئی وہ تھوڑی دیر بعد فرمان کو آرام کا کہہ کر بیڈ روم میں لے گئی اور جاتے جاتے عنایہ کو گھورنا ہرگز نہیں بھولی عنایہ بھی خاموشی سے اپنے کمرے میں آگئی دوپہر وہ کافی دیر تک سوئی تھی اس لیے اس وقت اسے نیند کا احساس نہیں ہوا گھڑی رات کے بارہ بج آرہی تھی فرمان اور عشرت یقیناً سو چکے تھے عنایہ ابھی شانزے کو کال ملانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا سامنے نمیر کو دیکھ کر اس کے ہاتھ سے موبائل بیڈ پر گر گیا۔۔۔ نمیر روم کا دروازہ لاک کر کے اس کے پاس آیا تو عنائہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی

“فرار کی کوشش بے کار ہے کب تک بھاگو گی تمہارے سارے راستے اب مجھ تک ہی آتے ہیں۔۔۔ یہ بات تو اب تمہیں اپنی ذہن میں بٹھا لینی چاہیے”

نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا بولنے لگا

“مجھے کیا ضرورت ہے آپ سے بھاگنے کی میں کیوں بھاگو گی، پیپر ختم ہوگئے تھے اور ماموں جان سے ملنے کا دل چاہ رہا تھا۔۔۔ آپ تو معلوم نہیں کونسی باتیں کر رہے ہیں مجھے تو آپکی باتیں ہی سمجھ میں نہیں آتی”

عنایہ کے بالکل وہم و گماں میں نہیں تک کہ وہ رات کو یہاں چلا آئے گا۔۔۔ عنایہ سے جو باتیں نمیر کر رہا تھا وہ اس ٹاپک سے بچنا چاہتی تھی اس لئے یکسر انجان بنتی ہوئی بولی اس کے انجان بننے پر نمیر نے عنایہ کا بازو پکڑ کر خود سے قریب کیا

“اس وقت یہی باتیں تو سمجھانے آیا ہو تمہیں،، پہلے یہ بتاؤ تم نے مجھ سے پرمیشن لی تھی یہاں آنے کی”

نمیر اس کا بازو پکڑ کر اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سنجیدگی سے پوچھنے لگا

“میں آنٹی سے پوچھ کر ان کی اجازت پر آئی تھی”

عنایہ اس کے سنجیدہ موڈ کو دیکھ کر سر جھکاتی ہوئی بولی عنایہ کو کیا معلوم تھا وہ یہاں آ کر اس سے سوال جواب شروع کر دے گا

“میں ماما کی بات نہیں کر رہا اپنی بات کر رہا ہوں شوہر ہوں تمہارا۔۔۔ میری پرمیشن کے بغیر کیا تمہیں گھر سے باہر نکلنا چاہیے تھا”

نمیر نے اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھا اس کا بازو چھوڑ کر اس کا چہرہ اوپر کر کے اس سے سوال کرنے لگا

“آپ کون سا گھر پر موجود تھے جو آپ سے اجازت لیتی”

عنایہ نمیر کو دیکھتی ہوئی ہمت کر کے اپنی دفاع میں بولی

“یہ موبائل تم نے شانزے سے باتیں کرنے اور گیم کھیلنے کے لئے لے کر رکھا ہے ایک کال نہیں کرسکتی تھی تم”

نمیر اس پر طنز کرتا ہوا بولا کیوں کہ اکثر فارغ وقت میں اس نے عنایہ کو انہی دو کاموں میں لگے دیکھا تھا

“آپ کو کال کر کے اجازت لیتی تو کیا آپ مجھے یہاں آنے کی اجازت دیتے”

نمیر کے بار بار سوال پوچھنے پر وہ جھنجھلاتی ہوئی بولی تو نمیر کو ہنسی آئی

“نہیں میں تمہیں آج یہاں آنے کی اجازت بلکل نہیں دیتا۔۔۔ وجہ سے تم لاعلم نہیں ہوں۔۔۔۔ لیکن اگر تم چاہو تو وجہ میں بتا بھی سکتا ہوں کہ میں تمہیں آج یہاں کیوں نہیں آنے دیتا”

وہ عنایہ کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو حائل کرتا ہوا بولا

“مم۔۔۔ مجھے نیند آرہی ہے”

عنایہ اس کے خطرناک عزائم دیکھ کر ہکلا کر بولی اور پیچھے ہٹنا چاہا

“سو جانا۔۔۔ مگر سونے سے پہلے میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں شوہر کسی کہتے ہیں یعنی شوہر کی اصل ڈیفینیشن”

نمیر عنایہ کو بیڈ پر لٹا کر اس پر جھکتا ہوا بولا

“آ۔۔۔۔پ کیا کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ اس طرح نہیں کر سکتے”

نمیر کو اپنے اوپر جھکا دیکھ کر عنایہ کی سانسوں میں روانی آگئی

“میں تمہارے ساتھ ایسا کیوں نہیں کرسکتا،،، شادی ہوئی ہے ہماری جب آگے زندگی ہم دونوں نے ساتھ گزارنی ہے تو پھر ان ڈراموں کا مطلب”

نمیر اپنا چہرہ عنایہ کے قریب لاکر اس کے اعتراض کی وجہ جاننے لگا

“مجھے یہ سب کو قبول کرنے میں تھوڑا وقت چاہیے۔۔۔ میں نے ابھی ہم دونوں کی رشتے کے متعلق ایسا نہیں سوچا آپ پلیز سمجھیں”

نمیر اس کے بےحد قریب تھا عنایہ آنکھیں بند کئے تیزی سے دھڑکتے دل کے ساتھ اس سے التجا کرنے لگی

“جب تم نے ایسا سوچا نہیں،، تمہارا دل و دماغ اس رشتے کو قبول نہیں کر پا رہا تو پھر شادی کے لیے حامی کیوں بھری انکار کیوں نہیں کیا جواب دو”

عنایہ آنکھیں بند کیے نمیر کے لہجے میں سختی کے ساتھ اپنے چہرے ہر اس کی گرم سانسیں بھی محسوس کر سکتی تھی

“مجھے تھوڑا ٹائم دیں پلیز”

عنایہ دوبارہ نمیر سے التجا کرنے لگی کیوکہ مزاحمت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا وہ اس پر پورا پورا کسی دیو کی طرح قابض تھا

“فاصلے صرف دوریاں پیدا کرسکتے ہیں تمہارا دل اور دماغ اس حقیقت کو جبھی تسلیم کرے گا،،، جب تم مجھے شوہر کے روپ میں دیکھوں گی۔۔۔ ہمہارے رشتے کی حقیقت کو قبول کرنے کے لیے ایسا ضروری ہے،، اب کوئی بے کار کا جواز میں تمہارے منہ سے نہ سنو”

نمیر نے بولتے ہوئی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو عنایہ کے بالوں میں پھنسایا اس کا چہرہ اوپر کیا اور عنایہ کی گردن پر جھک کر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔۔۔۔ نمیر کی سانسوں کی گرمائش اور ہونٹوں کا لمس عنایہ اپنی گردن پر محسوس کرکے تڑپ گئی۔۔۔ عنایہ کا پورا وجود نمیر کے مضبوط حصار میں چھپ سا گیا وہ عنایہ کی گردن پر محبتِ مہر ثبت کرتا مزید پیش قدمی پر اتر آیا۔۔۔ اس کا نرم و نازک وجود نمیر کو مزید مدہوش کیے دے رہا تھا۔۔۔ جب عنایہ کا بولنا کام نہیں آیا،،، تو نمیر کی بڑھتی جسارت پر اسے رونا آنے لگا وہ اس وقت کر بھی کیا سکتی رونے کے علاوہ۔۔۔ دوسری طرف نمیر جو پوری طرح مدہوش ہوئے اپنا جائز وقت حق وصولنے کے موڈ میں تھا مگر عنایہ کے رونے پر اس موڈ خراب ہونے لگا۔۔۔ نمیر اٹھ کر بیٹھا اور عنایہ کو بھی کھینچ کر بٹھایا

“پرابلم کیا ہے تمہاری،، تم یوں رو کر کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہو مجھ پر،،، زیادتی کر رہا ہوں میں تمہارے ساتھ،، یا زبردستی کررہا ہوں۔ ۔۔۔ چل کیا رہا ہے تمہارے دماغ میں۔۔ کلیئر کرو ابھی اور اسی وقت،، یہاں میری طرف دیکھ کر”

وہ عنایہ کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر غصّے میں بولا عنایہ کا منہ اپنے ہاتھ میں دبوچتا ہوا اوپر اٹھایا

“تم اس طرح خاموشی اختیار کر کے میرے غصے کو مزید ہوا دے رہی ہوں۔۔۔ میری ایک بات کان کھول کر سن لو بلکہ آج ہی اپنے دماغ میں بٹھا لو،،، عنایہ تم میرے نکاح میں ہو میری بیوی ہو اور میری مردانگی یہ بات بالکل برداشت نہیں کرے گی تمہارے دل اور دماغ میں میرے علاوہ کوئی دوسرا نام آئے۔۔۔۔ اگر اب تمہیں رونا آیا یا تم نے مجھے ظالم ظاہر کرنے کی کوشش کی تو اس کا خمیازہ تم ہر رات جنونیت کی صورت بھگتو گی”

نمیر نے بولتے ہوئے جھٹکے سے عنایہ کو لٹایا اور اپنے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے اس پر دوبارہ جھکا تبھی اس کے موبائل پر کال آنے لگی نمیر کا بالکل ارادہ نہیں تھا اس وقت کسی سے بھی بات کرنے کا۔۔۔۔ وہ اپنا موبائل پاکٹ سے نکال کر اسے سوئچ آف کرنے لگا تبھی موبائل کے اسکرین پر جگمگاتا ہوا نمبر دیکھا تو اسے کال ریسیو کرنی پڑی

“آپ کے لیے گڈ نیوز یہ ہے کہ آدھے گھنٹے پہلے آپ کے پیشنٹ کوما سے واپس آگئے ہیں”

نہال کے ڈاکٹر نے نمیر کو یہ خبر دی تو بے یقین سا ہو کر رہ گیا،، اس وقت وہ اس خبر کی توقع نہیں کر پا رہا تھا مگر اس خبر کے لیے اس نے ڈھیر ساری دعائیں بھی مانگی تھی

“یہ بہت بڑی خبر ہے میرے لیے تھینک یو سو مچ۔۔۔۔ میں آدھے گھنٹے میں پوچھتا ہوں”

نمیر نے ڈاکٹر کو کہہ کر موبائل اپنی پاکٹ میں رکھا اور شرٹ پہن کر اپنی گاڑی کی کیز اٹھانے لگا

نمیر کو شرٹ پہنتے اور گاڑی کی کیز اٹھانے پر عنایہ اسے دیکھنے لگی مگر اس کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ نمیر سے کچھ پوچھتی نمیر بھی اس سے کچھ بولے بغیر ہی کمرے سے باہر نکل گیا عنایہ اسے حیرت زدہ ہوکر جاتا ہوا دیکھنے لگی