Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 18)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
نمیر اپنے بیڈروم میں آیا تو عنایہ بیڈ پر اپنے نوٹس پھیلائے بڑے سکون سے دلجمعی کے ساتھ پڑھنے میں مصروف تھی۔۔۔ وہ آج وقت سے پہلے ہی آفس سے گھر آ گیا تھا عموماً افس سے ہسپتال جاتا اور پھر گھر آتا مگر آج ہسپتال جانے کی بجائے وہ پہلے گھر آگیا۔۔۔۔۔ آتے کے ساتھ ہی ثروت کے کمرے میں سلام کرنے کے لیے گیا۔۔۔ اب وہ اپنے روم میں آیا تھا۔۔۔ پندرہ دن ہو چلے تھے اسکی اور عنایہ کی شادی کو۔۔۔۔ پندرہ دن سے وہ نمیر کے بیڈ روم اور دل دونوں میں بسی ہوئی تھی،،، ان پندرہ دنوں میں اب نمیر کا معمول بن گیا تھا روز صبح عنایہ کو جگانے کا اور اسے اچھی طرح اندازہ ہو چکا تھا وہ سونے کی کتنی شوقین ہے۔۔۔۔ کبھی کبھی پڑھتے ہوئے کتابوں پر ہی سر رکھ کر سو جاتی پھر نمیر اسکی کتابیں رکھ کر اسے سیدھا کر کے لٹاتا۔۔۔ ایک مرتبہ نیند میں نمیر کو عنایہ کے رونے کی بھی آواز آئی مگر اس کے پاس جاکر دیکھا تو وہ گہری نیند میں تھی یقیناً وہ کوئی خواب دیکھ رہی تھی تب نمیر کا شدت سے دل چاہا وہ اسے اٹھا کر بیڈ پر لٹا دے مگر کچھ سوچ کر اپنے ارادے پر عمل نہیں کیا
اکثر نمیر عنایہ کو خاموش یا اداس دیکھتا تو اسے اچھا نہیں لگتا عنایہ کا اداس ہونا۔۔۔۔ وہ اس سے نہیں جاننا چاہتا تھا کہ وہ کیوں اداس ہے،، نہ وہ اس سے پوچھتا تھا اور نہ ہی خود سوچنا چاہتا تھا وہ اس کو جب خاموش دیکھتا وہ جان بوجھ کر اپنے کام کرواتا،، اسے اپنے سامنے اپنے کاموں میں الجھائے رکھتا۔۔۔ نمیر کو اس کے چہرے پر مسکراہٹ اچھی لگتی تھی وہ چاہتا تھا عنایہ مسکرائے اس کے ساتھ خوش رہے اور سوچے بھی اسی کو
“ماما سے تم نے بولا تھا کہ تمہیں فرمان خالوں سے ملنا ہے”
نمیر اپنا موبائل والٹ سائڈ ٹیبل پر رکھتا ہوا عنایہ کے پاس اکر پوچھنے لگا
“جی میرا دل چاہ رہا تھا ماموں جان کو دیکھنے کا”
عنایہ پاس پڑا دوپٹہ اوڑھتی ہوئی اپنے نوٹس سمیٹ کر اسے جواب دینے لگی،، اسے معلوم تھا نمیر کی موجودگی میں اس وقت وہ بالکل نہیں پڑھ سکتی
“یہ بات تم مجھ سے بھی کہہ سکتی تھی۔۔۔ تمہیں مجھ سے بولنے میں کیا قباحت پیش آ رہی تھی”
نمیر بیڈ پر عنایہ کے نزدیک بیٹھ کر اس کے ہاتھ سے نوٹس لے کر سائڈ پر رکھتا ہوا سوال کرنے لگا۔۔۔ نمیر کے اچانک اتنے قریب بیٹھنے پر عنایہ بیڈ کے کراون سے چپک گئی
“یہ سوال آپ دور بیٹھ کر بھی مجھ سے پوچھ سکتے ہیں”
عنایہ نے اپنی گھبراہٹ کو چھپا کر اپنا لہجہ نارمل رکھنے کی کوشش کی جس پر نمیر نے اس کا بازو کھینچ کر اسے خود سے قریب کر لیا
“میں تمہارے بےحد نزدیک آکر تم سے ہر طرح کے سوال پوچھنے کا حق رکھتا ہوں۔۔۔ اب بتاؤ مجھ سے کیوں نہیں کہا جبکہ میں ماما کے سامنے تم پر یہ واضح کر چکا ہوں کہ جو بات کرنی ہے ڈائریکٹ مجھ سے کرو ماما کو یا کسی دوسرے کو بیچ میں لائے بغیر”
نمیر اس کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو حائل کر کے۔۔۔۔ عنایہ کے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے بولا
“آپ اس طرح میرے ساتھ کریں گے تو میں رو دو گی”
عنایہ اس کی اس انداز پر نظریں جھکائے واقعی رو دینے والی ہوگئی۔۔۔ وہ اکثر نمیر کی نظریں،، اس کی طلب کو پہچانتے ہوئے انجان بن جاتی۔ ۔۔۔ وہ جب گھر میں موجود ہوتا اسے اکثر ایسی ہی اپنی قربت کا احساس دلاتا،، جس سے عنایہ کا دل رکنے لگتا
“اگر تمہاری آنکھ سے ایک بھی آنسو گرا تو میں تمہارے ساتھ وہ کروں گا جس کا تم نے سوچا بھی نہیں ہوگا”
نمیر نے اسے اپنے حصار میں لے کر اسے وارننگ دیتے ہوئے کہا عنایہ نے تڑپ کر اسے دیکھا
“آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے”
عنایہ نے نمیر کے سینے پر ہاتھ رکھ اسے پیچھے ہٹانے کی کوشش کی تو نمیر نے اس کی کمر پر اپنے بازو کی گرفت اور بھی مضبوط کردی،، وہ پوری نمیر کے سینے سے لگی ہوئی تھی نمیر کے پاس سے آتی کلون کی خوشبو وہ واضح محسوس کر سکتی تھی
“تم چیلنج کر رہی ہو مجھے”
اپنی دلی خواہش کا احترام کرتے ہوئے نمیر نے اپنے ہونٹ اسکے ملائم گال پر رکھنے کی کوشش کی،،، عنایہ نے فوراً اپنے چہرے کا رخ دوسرے سمت پھیرا
“نمیر پلیز”
بغیر کسی مزاحمت کے وہ آنکھیں بند کر کے بےچارگی سے بولی شاید آنسووں کو اس نے نمیر کی وارننگ کے ڈر سے روکا ہوا تھا،،، عنایہ کے منہ سے نمیر کو اپنا نام سن کر اور بھی اچھا لگا نمیر کا دل چاہا وہ ان ہونٹوں کو چوم لے جو اسے مدہوش کیے جارہے تھے مگر عنایہ کی حالت دیکھتے ہوئے نمیر کو اپنے دل کو سمجھانا پڑا۔۔۔ وہ اسے اپنی بانہوں کے گھیرے سے آزاد کرتا ہوا بولا
“میری ایک بات اپنے ذہن میں اچھی طرح بٹھا لو آج کے بعد جو بھی بات کرنی ہے ڈائریکٹ مجھ سے کرو۔۔۔ ماما یا کسی دوسرے کو بیچ میں لائے بغیر،،، یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی کہ جس کے لیے تمہیں ماما یا کسی دوسرے کو بیچ میں لانا پڑے میرے ساتھ جانا ہے تو مجھ سے کہنے میں کیا پرابلم ہے،، چلو تیار ہو جاؤ ملوا کر لاتا ہوں تمہیں تمہارے ماموں جان سے”
نمیر عنایہ کو بولتا ہوا وہی بیڈ پر لیٹ گیا نمیر کا ہاتھ اپنی ران پر محوس کر کے عنایہ کرنٹ کھا کر بیڈ سے اٹھی اور وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگی
“یہ نہیں کوئی ڈھنگ کا ڈریس نکالو”
نمیر بیڈ پے لیٹا ہوا اپنے چہرے کا رخ وارڈروب کی طرف کیے عنایہ کا ڈریس دیکھ کر بولنے لگا،، اس ڈریس میں کوئی برائی نہیں تھی مگر عنایہ نے اس سے کوئی بحث کیے بغیر اپنے لیے دوسرا ڈریس منتخب کیا کیمل کلر کا ڈریس جس پر وائٹ موتیوں سے گلا بنا ہوا تھا وہ ڈریس ہر لحاظ سے ڈھنگ کا تھا
“کوئی ضرورت نہیں ہے فضول کلر پہننے کی دوسرا دیکھو کوئی”
نمیر بیڈ پر لیٹے لیٹے اسے آرڈر دینے لگا وہ اپنے ڈریس کی بجائے وہ نمیر کو دیکھنے لگی
“صرف شکل و صورت میں نہیں مجھے میری بیوی ہر چیز میں پرفیکٹ چاہیے”
نمیر عنایہ کے دیکھنے پر اسے آنکھ مارتا ہوا بولا۔ ۔۔ عنایہ نے تاسف سے سر ہلا کر دوسرا ڈریس نکالا یہ گرے اور پنک کلر کے کمبینیشن کا ڈریس تھا جس پر ایپلک ورک ہوا تھا
“یہ بھی کوئی اتنا خاص نہیں لگ رہا کوئی دوسرا ٹرائے کرو یار”
نمیر کو اس میں بھی کیڑے نظر آئے تو عنایہ کا موڈ ہی خراب ہونے لگا۔۔۔ وہ ٹھنڈے مزاج کی مالک تھی اس لئے ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسرے ہینگر پر ہاتھ رکھا جس میں یلو کلر کا ڈریس تھا
“نہیں یار یہ تو بالکل بھی نہیں پہننا”
عنایہ کے کانوں میں دوبارہ نمیر کی آواز ابھری۔۔۔۔ اب کی بار وہ آنکھیں بند کر کے ضبط کرتی ہوئی۔۔۔ وائٹ کلر کی نیٹ کی فراک نکالی اور ساتھ فوراً ہی وارڈروب کا دروازہ بند کر دیا
“ہمیں کسی کے قُل میں نہیں جانا ہے بلکہ تمہارے گھر جانا ہے وہ بھی شادی کے بعد فرسٹ ٹائم رکھو اسے فوراً”
نمیر جتنی سنجیدگی سے اس کو دیکھ کر کہنے لگا وہ اتنا سنجیدہ ہرگز نہ تھا وہ اسے آج پھر زچ کر رہا تھا
“کیا چاہ رہے ہیں آپ برائیڈل ڈریس پہن کر چلو جو آنٹی شادی کے لئے لے کر آئی تھی”
عنایہ تنگ آتی ہوئی بولی
نمیر ایک دم بیڈ سے اٹھا اور اس کے قریب آیا عنایہ ڈر کے دو قدم پیچھے ہوئی،، نمیر کے تاثرات دیکھ کر اسے لگا جیسے کوئی غلط بات بول گئی ہو نمیر نے اسے دونوں بازو سے تھام کر وارڈروب سے لگایا عنایہ کا چہرہ اوپر کرتا ہوا اپنا چہرہ اس کے قریب لایا
“بہت موڈ ہو رہا ہے ماما کا لایا ہوا برائیڈل پہننے کا اپنے ایگزیم سے فارغ ہو جاؤ تمہاری یہ خواہش بھی پوری کر دوں گا۔۔۔ مگر اب کی بار وہ برائیڈل ڈریس میرے نام کا ہوگا”
نمیر بولتا ہوا پیچھے ہٹا اور وائٹ کلر کا نیٹ کی فراک اس کے ہاتھ سے لی
وارڈروب کا دروازہ کھول کر اس فراک کو واپس ہینگ کرتا ہوا وہ عنایہ کے سارے ڈریسیز کا جائزہ لینے لگا اور افسوس سے سر ہلانے لگا
“ڈریسنگ کے معاملے میں تمہاری چوائس بالکل بے کار ہے۔۔۔ سارے بڈھوں والے کلر بھرے ہیں،،، کل تو آفس میں دن بزی گزرے گا پرسوں ہی تمہارے لئے ڈریسز لانے پڑے گے اپنی پسند کے”
وہ خود کلامی کرتا ہوا بولا۔۔۔ بڑی مشکل سے ایک ڈریس نمیر کی نظر سے گزرا۔۔۔ بلیک کلر کا ڈریس اس نے عنایہ کے ہاتھ میں تھمایا دیا
“یہ سارے ڈریس میں نے اپنی پسند سے بنائے ہیں اور مجھے لائٹ کلر ہی اچھے لگتے ہیں”
عنایہ اس کو جتاتی ہوئی بولنے لگی
وہ شروع سے ہی ایسے ہلکے کلر پہنتی تھی جب ثروت نے اس کی چوائس پوچھی تو اس نے ثروت کو بتایا۔۔۔ ثروت نے بھی اس کی پسند کی مناسبت سے بری تیار کی تھی اور نہال کو بھی اس کی ڈریسنگ سے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا عنایہ تو اسے ہر حال میں اچھی لگتی تھی
“تمہیں لائٹ کلر اچھے لگتے ہیں مگر مجھے نہیں،،، مجھے برائٹ کلرز ہی اچھے لگتے ہیں اور آج کے بعد تم میری پسند کے مطابق کپڑے پہنو گی مطلب برائٹ کلرز”
نمیر نے بھی اسی کے اسٹائل میں جتانے والے انداز میں کہا
“منال آپی کے اوپر تو مرضی نہیں چلتی تھی میرے اوپر حق جتا رہے ہیں”
عنایہ بڑبڑاتی ہوئی ڈریسنگ روم میں جانے لگی مگر اس کی بڑبڑاہٹ سن کر نمیر نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے روکا
“میں تمہاری منال آپی پر کوئی حق نہیں رکھتا تھا تو اس پر اپنی مرضی کیوں جتاتا۔۔۔۔ اگر آج وہ یہاں پر تمہاری جگہ پر موجود ہوتی تو وہ بھی میری مرضی کے مطابق ہی چل رہی ہوتی مگر اس کی قسمت اچھی تھی جو میں نے اسے خود چھوڑ دیا مگر میں تمہیں چھوڑوں گا یہ تم بھول جاؤ۔۔۔ میرے بیڈروم میں آگئی ہو تم میری بیوی بن کر۔۔۔ اس کمرے میں موجود ہر چیز میری پسند کی ہے تمہیں خود کو بھی میرے پسند کے مطابق اپنا آپ ڈھالنا ہو گا”
نمیر اس کی نازک سی کلائی چھوڑتا ہوا کمرے سے جانے لگا
“کمرے میں ہر چیز آپ کی پسند کی ہوگی مگر میں آپ کی پسند تو نہیں رہی تو پھر یہ زبردستی کیوں”
وہ عنایہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا تھا وہ منال سے محبت کرتا تھا اب اسکے بدلتے ہوئے انداز دیکھ کر عنایہ کو اس کے رویے سے الجھن ہونے لگی تبھی وہ بول اٹھی نمیر اسکی بات سن کر دوبارہ مڑا
“اگر تم ناقابل برداشت ہوتی تو پہلی رات ہی میں تمہیں اٹھا کر اپنے کمرے سے باہر پھینک دیتا۔۔۔ گزارے لائق ہو تم ایسے ہی کام چلانا پڑے گا۔ ۔۔اب کیا کیا جاسکتا ہے انسان کو کبھی کبھی صبر بھی کرنا پڑتا ہے”
عنایہ اپنے لئے لفظ گزارے لائق سن کر جل ہی گئی۔۔۔ نمیر کو گھورتی ہوئی ڈریسنگ روم میں چلی گئی جبکہ نمیر مسکراتا ہوا کمرے سے باہر اس کا ویٹ کرنے لگا
****
نمیر اور عنایہ ابھی ڈرائنگ روم میں آ کر بیٹھے تھے تو عشرت ڈرائنگ روم کے اندر داخل ہوئی۔۔۔ نمیر کے سلام کرنے کے بعد عنایہ نے بھی عشرت کو سلام کیا عنایہ کے سلام کا جواب دئیے بغیر وہ صوفے پر بیٹھ گئی
“خالہ جانی عنایہ نے بھی آپ پر سلامتی بھیجی ہے،، شاید آپ نے سنا نہیں”
نمیر عشرت کو دیکھ کر گویا ہوا جس پر عشرت نے نراٹھے پن سے عنایہ کو سلام کا جواب دیا
“تو اب یاد آئی ہے پندرہ دنوں بعد تمہیں اپنی خالہ جانی کی”
عشرت عنایہ کو نظرانداز کر کے نمیر سے مخاطب ہوئی
“میں تو 15 دن پہلے توقع کر رہا تھا آپ صبح سویرے ناشتہ وہ کیا بیکار سی رسم ہوتی ہے جو بیٹیوں کے گھر والدین لے کر آتے ہیں۔۔۔ اسی بہانے آپ کا دیدار بھی ہو جاتا مگر شاید آپ کو ہماری یاد ہی نہیں آئی۔۔۔ میں تو خیر آج بھی نہیں آتا،، نہال کے پاس ہسپتال جانے کا ارادہ تھا مگر عنایہ کہ کہنے پر آگیا اسے فرمان خالو سے ملنا تھا”
نمیر نے بغیر لگی لپٹی رکھے عشرت کو جواب دیا
“ناشتہ لے کر بیٹیوں کے گھر آیا جاتا ہے تم نے کونسا میری منال سے شادی کی جو میں شادی کے دوسرے دن رسم نبھانے آتی۔۔۔ ویسے بھی فرمان ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھے تو کہاں باہر نکل سکتی تھی میں”
عشرت کو نمیر کے انداز میں پہلے جیسی گرمجوشی نہیں لگی اس لیے وہ بھی صاف گو انداز اختیار کرتی ہوئی بولی
“میں نے اگر منال سے شادی نہیں کی تو اب اس کا غم منال کو بھی نہیں ہوگا،، آپ بھی اس غم سے نکل آئے خالہ جانی۔۔۔ ہم دونوں کی شادی نہیں ہوئی یہ ہم دونوں کے لئے ہی اچھا ثابت ہوا،، اب منال اپنی لائف میں خوش ہے اور میں خوبصورت بیوی کو پاکر پہلی محبت کو بھول گیا ہوں اس لیے اب آپ بھی ریلیکس رہا کریں”
نمیر کا انداز صاف چڑانے والا تھا عشرت کے ساتھ ساتھ برابر میں بیٹھی ہوئی عنایہ بھی چڑ گئی اور اپنے دوغلے شوہر کو دیکھنے لگی جو گھر میں اسے تھوڑی دیر پہلے گزارہ لائق کہہ رہا تھا اور دوسروں کے سامنے وہ اچانک خوبصورت بیوی بن گئی تھی
“اور نہال۔۔۔۔ اس کا کیا ہوگا تمہاری خوبصورت بیوی کو دیکھ کر اس کے دل پر کیا گزرے گی یہ سوچا ہے تم نے”
عشرت کا انداز صاف چوٹ کرنے والا تھا جس پر عنایہ کے دل پر واقعی چوٹ لگی مگر نمیر اب بھی ریلکس تھا
“نہال کا کیا ہونا ہے نہال کے لئے پہلے بھی ماما نے خوبصورت لڑکی کا انتخاب کیا تھا،،، اب دوبارہ اس کے لیے دوسری کوئی خوبصورت لڑکی ڈھونڈ لی گیں بلکہ اب کی بار میں ماما کو مشورہ دوں گا اس کام پر آپ اپنی بہو کو لگا دیں۔۔۔۔ عنایہ خود ہی اپنے لیے اپنی ہی طرح کی کوئی خوبصورت جٹھانی ڈھونڈے لےگی”
نمیر نے عنایہ کی گود میں رکھا ہوا اس کا ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔۔۔ عنایہ کے دل کو ٹھیس لگی وہی عشرت بھی بری طرح جل گئی
“تمہیں کیوں بیٹھے بیٹھے سانپ سونگھ گیا ہے اپنی شوہر کی باتوں سے۔۔۔ جاؤ جاکر دیکھ کر آؤ تمہارے ماموں اٹھے بھی ہیں یا سو رہے ہیں ابھی تک”
عشرت نے اب کی بار عنایہ کو دیکھ کر کہا نمیر کے ہاتھ میں عنایہ کا ہاتھ دیکھ کر گویا اس کے سینے پر سانپ کی رینگنے لگے تب ہی اس نے عنایہ کو وہاں سے جانے کے لیے کہا۔۔۔ عنایہ نے بھی موقع دیکھ کر وہاں سے اٹھنا چاہا مگر نمیر کے ہاتھ کی گرفت اتنی ہلکی بھی نہیں تھی جتنی سامنے صوفے پر بیٹھی ہوئی عشرت کو لگ رہی تھی
“خالہ جانی سانپ نہیں سونگتا اسے،، بس حد سے زیادہ شرمیلی بیوی لکھی تھی میری قسمت میں اب ہر لڑکی تو بے باک اور ماڈرن نہیں ہوسکتی نا۔۔۔ پندرہ دن سے میرے سامنے سیونٹیز کی ہیروئن کی طرح ری ایکٹ کرے جارہی ہے۔۔۔ مجھے دیکھ کر کبھی اپنا دوپٹہ چبانے لگتی ہے تو کبھی پردوں میں جا کر چھپ جاتی ہے۔۔۔ جاؤ عنایہ جلدی سے خالو سے مل کر اور پھر ہمیں چلنا ہے”
نمیر عشرت سے بولتا ہوا آخری جملہ عنایہ کو دیکھ کر ایسے بولا جیسے بہت ہی محبت لٹانے والا شوہر ہوں۔۔۔ نمیر کی بات سن کر عنایہ اس کو دیکھتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی
“اب آ ہی گئے ہو تو کھانا کھا کر جانا”
عشرت نے جلے ہوئے دل سے منہ بنا کر بولا بہن کا بیٹا تھا تھوڑی مروت تو دکھانی تھی
“پھر کبھی صحیح خالہ جان آج میرا اور عنایہ کا باہر ڈنر کرنے کا پروگرام ہے واپسی پر نہال کے پاس بھی جانا ہے گھر جاتے جاتے دیر ہو جائے گی۔۔۔ آپ چکر لگائیے گا ماما آپ کو یاد کر رہی تھی
نمیر بولنے کے ساتھ ہی کھڑا ہوا
فرمان کے پاس وہ دونوں ہی دس سے پندرہ منٹ بیٹھے۔۔۔ فرمان کے بہت اصرار پر بھی نمیر کھانا کھانے کے لئے نہیں رکا
****
“کیا تھا اگر ماموں کے کہنے پر وہاں پر رک جاتے کتنا انسیسٹ کر رہے تھے وہ ہم سے”
اوپن ایئر ریسٹورینٹ کے پرسکون ماحول میں ویٹر کو کھانے کا آرڈر دیا تو ویٹر کے جانے کے بعد عنایہ شکوہ کرتی ہوئی نمیر سے بولی
“کیوں خالا جانی کی باتوں کو بہت انجوائے کر رہی تھی تم”
نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جتنا خوش وہ عشرت کے سامنے پوز کر رہا تھا اس وقت وہ اتنا ہی سیریس تھا
“جوابی کاروائی میں تو آپ نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی،، پھر کیوں منہ بنا ہوا ہے آپ کا”
عنایہ ناراض ہو کر اسے کہنے لگی نمیر غور سے اسے دیکھنے لگا
“یہ تمہاری زبان صرف صرف میرے ہی آگے کیوں چلتی ہے،، دوسروں کے سامنے تو تمہاری گھگی بند جاتی ہے۔۔۔ وہاں خالہ جانی کے ٹونٹینگ کرنے پر منہ میں پان رکھ کر کیوں بیٹھی ہوئی تھی”
نمیر عنایہ کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے سوال کرنے لگا
“ماشاءاللہ سے آپ کافی تو تھے اپنی خالہ جانی کا مقابلہ کرنے کے لیے۔۔۔ بلکہ ایک کیا،، مامی جیسی چار خاتون اور آجاتی مجھے پورا یقین تھا آپ ان پر بھی بھاری پڑتے”
عنایہ نے جتنا سیریس ہو کر کہا نمیر کو اس کی بات اور انداز پر ہنسی آگئی
“پھر تھوڑے سے گڈز تم بھی مجھ سے سیکھ لو کہ سامنے والے کی بولتی کیسے بند کی جاتی ہے”
نمیر دلچسپی سے اس کو دیکھتا ہوا مشورہ دینے لگا
“مجھے آپ سے کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں نہایت دوغلے انسان ہیں آپ،،، گھر میں آپ مجھے گزارے لائق سمجھ کر صبر کرنے کی بات کر رہے تھے اور مامی کے سامنے میں اچانک خوبصورت بیوی بن گئی”
عنایہ کو اپنے لئے گزارہ لائک الفاظ ابھی تک نہیں بھولے تھے تبھی وہ نمیر سے تپ کر بولی
“اب کیا کیا جا سکتا ہے دوسروں کے سامنے بیوی کو خوبصورت بول کر اپنا بھرم تو رکھنا پڑتا ہے”
نمیر ٹھنڈی آہ بھرتا ہوا اس کی دمکتی ہوئی رنگت کو دیکھ کر بولا سچ تو یہ تھا اسے عنایہ کا یوں بیویوں والے اسٹائل میں لڑنا بہت مزا دے رہا تھا
“بھرم آپ نے نہیں میں نے رکھا ہے آپ کا چپ رہ کر،، خاموش رہنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میں شرمیلی ہوں نہ ہی میں کوئی سیونٹیز کی ہیروئن ہو نہ ہی انکی کی طرح بےوقوفی والے ایکٹ کر سکتی ہو”
عنایہ اس کو گھورتی ہوئی کہنے لگی وہ عشرت کے سامنے نہ جانے اسے کیا کیا بول رہا تھا
“اور اگر آج رات میں تمہیں سیونٹیز کی ہیروئن کی طرح شرمانے پر مجبور کر دو تو”
نمیر سیریس ہوکر چیلنج کرتا ہوا عنایہ کو دیکھ کر بولا جس پر عنایہ کی نظریں جھک گئی ویٹر کے کھانا سرو کرنے کے بعد بھی وہ سر اٹھائے بغیر اپنی پلیٹ میں جھگی کھانا کھاتی رہی واپسی پر ڈرائیونگ پر بھی اس کی بولتی بند رہی تو نمیر نے اسے مزید نہیں چھیڑا
