Gunahgaar By Zeenia Sharjeel NovelR50395 Gunahgaar (Episode 38)
No Download Link
Rate this Novel
Gunahgaar (Episode 38)
Gunahgaar By Zeenia Sharjeel
“نوفل یہ پسٹل چلتی کیسے ہے” نوفل ابھی ڈیوٹی سے واپس گھر آیا تھا شانزے اس کا یونیفارم وارڈروب میں رکھتی ہوئی،، اس کا پسٹل ہاتھ میں لے کر پوچھنے لگی جو کہ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کی ڈراز میں ہر وقت موجود رہتا تھا
“یہ نہیں شوہر گھر آیا ہے تو اس کے قریب آ کر اس کی خاطر مدارت کرو،، اس کی تھکان اتارنے کا کچھ سامان کرو۔۔۔ الٹا پسٹل چلانے کے بارے میں پوچھ رہی ہو یار تم میں رومانس نام کے جراثیم بھی موجود ہیں کہ نہیں”
نوفل شانزے کے پاس آکر اس سے سنجیدگی سے پوچھنے لگا
“نہیں سارے رومانس کے جراثیم تم میں جو آگئے ہیں،، میں نوٹ کر رہی ہو تم دن بہ دن بہت ہی بہودہ ہوتے جارہے ہو، بتاؤ نا پسٹل کیسے چلتا ہے”
شانزے ضد کرتی ہوئی نوفل سے دوبارہ پوچھنے لگی نوفل نے شانزے کے ہاتھ سے پسٹل لیا اس کا چمبر کھول کر دکھایا
“اس کے بعد یہاں سے ٹریگر دباتے ہیں” نوفل اسے بتانے لگا
“اب بتاؤ۔۔۔ کس کی جان لینے کا ارادہ ہے”
نوفل پسٹل واپس دراز میں رکھتا ہوا شانزے کو دیکھ کر پوچھنے لگا
“اف اب میں اتنی بھی ظالم نہیں ہوں۔۔۔ میں تو بس اس لیے پوچھ رہی تھی کہ ایک پولیس والے کی بیوی کو اتنا تو معلوم ہونا چاہیے”
شانزے مسکراتے ہوئے نوفل کو کہنے لگی
“میرے لیے تو ظالم ہی ہونا کتنی مشکل سے ہاتھ آتی ہو۔۔۔ اے مجھے آج رات اپنے ساتھ نائٹ ڈیوٹی لگانے دینا کیوکہ کمشنر صاحب اپنی دوسری بیوی کے ساتھ گھومنے پھرنے چھٹیوں پر گئے ہیں،، اس لئے ان کی طرف سے نو ٹینشن نو پنگا”
نوفل شانزے کو بانہوں کے حصار میں لیتا ہوا بولا تو شانزے اسے آنکھیں دکھانے لگی روم کا دروازہ بجا
“آپ سے ملنے کوئی آیا ہے ہے کہہ رہا تھا آپ کو معلوم ہے کہ وہ کون ہے”
نوفل دروازہ کھولنے گیا تو اقبال اسے بتانے لگا
“ہاں انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھاو اور چائے کا انتظام کرو” نوفل اقبال کو کہتا ہوا ڈرائنگ روم کا رخ کرنے لگا
“کیا نمیر بھائی یا نہال بھائی میں سے کسی کو آنا تھا” شانزے نوفل سے پوچھنے لگی کیوکہ اس کے دوست صرف یہی دو تھے
“نہیں ان دونوں میں سے کوئی نہیں ہے۔۔آدھے گھنٹے میں فری ہو کر آتا ہوں شام کی چائے پھر ایک ساتھ پیئے گے”
نوفل شانزے کو کہتا ہوا ڈراننگ روم میں چلا گیا
آپ بے فکر ہوکر پوری کروائی آرام میں سے کریں،، پولیس ہمیشہ کی طرح دو گھنٹے سے پہلے وہاں نہیں پہنچے گی”
شانزے نوفل کو ڈرائنگ روم میں اس کا موبائل دینے آئی تو نوفل کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی۔۔۔ ڈرائنگ روم میں پردہ ڈالا ہونے کی وجہ سے وہ یہ تو نہیں دیکھ سکی کہ نوفل کس سے بات کر رہا ہے لیکن ان کی گفتگو باآسانی سن سکتی تھی
“ہاہاہا آپ جیسے افسر موجود ہو تو ملِک صاحب کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ملِک صاحب کی طرف سے یہ آپ کے لئے چھوٹا سا نظرانہ”
شانزے کو کسی آدمی کی آواز سنائی دی
“کیا ساجد صاحب دن بدن نوٹوں کی گڈی کا سائز چھوٹا ہوتا جارہا ہے۔۔۔ذرا ملِک صاحب کو یاد دلائے نوفل ان کے وفادار اور راز داروں میں سے ہے”
شانزے کے کان میں نوفل کی آواز ابھری لیکن ساتھ ہی نوفل کا موبائل بجا جوکہ شانزے کے ہاتھ میں موجود تھا،، اس سے پہلے وہ موبائل کی کال کاٹتی ڈرائنگ روم کا پردہ ہٹا اور نوفل اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا
“کیا کر رہی تھی یہاں پر”
نوفل ماتھے پر لاتعداد شکنے لائے شانزے کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“یہ تمہارا موبائل بیڈروم میں رہ گیا تھا میں نے سوچا تمہیں دے دوں”
ایک لمحے کے لئے نوفل کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر شانزے گھبرائی اور اس کی طرف موبائل بڑھا کر بولنے لگی نوفل نے سنجیدگی سے اس کے ہاتھ سے موبائل لیا
“بیڈروم میں جاو واپس”
نوفل کا انداز وارن کرنے والا تھا ساتھ ہی اسکی آنکھوں میں بےپناہ سنجیدگی تھی۔۔۔ شانزے کچھ بھی کہے بغیر اپنے بیڈ روم میں واپس چلی گئی
****
شام سات بجے کا وقت ہے جب بادلوں کی گڑگڑاہٹ شروع ہوئی عنایہ جو کہ دوپہر سے اپنے کمرے میں بیٹھی تھی، بادلوں کے گرجنے سے سہم گئی،، موسم کے آثار دیکھ کر وہ کارلس ہاتھ میں اٹھائے وہ نمیر کا نمبر کافی دیر سے ٹرائی کر رہی تھی۔۔۔ زمین پر پڑتے بارش کے چھینٹے،،، اب تیز بارش میں بدل گئے عنایہ اٹھ کر اپنے کمرے کی کھڑکی بند کرنے لگی۔۔۔ وہ کھڑکی بند کرکے پلٹی تو اچانک کمرے میں چار سو اندھیرا پھیل گیا لائٹ جا چکی تھی بادلوں کی گڑگڑاہٹ اور بجلی کی آواز عنایہ کو خوف میں مبتلا کرنے لگی
“نمیر پلیز آجائے” عنایہ نے وہی اکھڑو بیٹھ کر رونا شروع کردیا۔۔۔ اتنے میں بیڈروم کا دروازہ کھلا
“عنایہ کیا ہوا،، تم پریشان مت ہو،، میں یہی ہو، اٹھو اپنا ہاتھ دو مجھے”
نہال اس کے رونے کی آواز پر جنریٹر کھولنے کی بجائے ٹارچ لائٹ لے کر عنایہ کے پاس نمیر کے بیڈروم میں آیا۔۔۔ وہ سہمی ہوئی زمین پر بیٹھی تھی نہال نے اس کے آگے ہاتھ بڑھایا
“نہیں آپ نمیر کو کال کریں۔۔۔ ان کو گھر بلائے پلیز”
عنایہ نہال کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر روتی ہوئی بولی
“نمیر نے اسپتال سے نکلنے سے پہلے مجھے انفارم کردیا تھا وہ پہنچنے والا ہوگا۔۔۔ تم پریشان مت ہو اور اٹھو یہاں سے”
نہال اب جھک کر عنایہ کو خود اٹھانے لگا۔۔۔ عنایہ روتی ہوئی اب تیز بارش کو دیکھ کر نمیر کے جلد گھر آنے کی دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی
“عنایہ دو منٹ رکو میں جنریٹر آن کر کے آتا ہوں”
شاید لائٹ جانے کی وجہ سے وہ مزید خوفزہ تھی۔۔۔ تبھی نہال عنایہ سے کہنے لگا
“نہیں۔۔ نہیں آبھی آپ کی یہی رہیے پلیز،،، مجھے چھوڑ کر مت جائیے گا”
عنایہ خوف کے مارے نہال کا بازو سختی سے پکڑ کر بولی۔۔۔ نہال نے ایک نظر اپنے بازو پر ڈالی دوسری نظر عنایہ کے خوف سے سہمے ہوئے چہرے پر
“اوکے میں کہیں نہیں جا رہا تم پریشان مت ہو میں یہی ہوں تمہارے پاس”
نہال نے عنایہ کو دونوں بازور سے تھاما۔۔۔ بارش کے دوران بادل ایک بار پھر زور سے گرجا عنایہ سرجھکا کر رونے لگی
“عنایہ”
ویسے ہی کمرے کا دروازہ کھلا نمیر عنایہ کو پکارتا ہوا تیزی سے اندر آیا۔۔۔ مگر کمرے کے اندر کا منظر دیکھ کر اس کے قدموں وہی رکے۔۔۔۔ نمیر کے ہاتھ میں موجود فلیش لائٹ عنایہ اور نہال کے اوپر تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے کے بے حد قریب کھڑے تھے، نہال نے عنایہ کو دونوں بازو سے تھاما ہوا تھا
“نمیر شکر ہے آپ آگئے میں بہت زیادہ ڈر گئی تھی”
اپنے نام کی پکار اور فلیش لائٹ کی تیز روشنی پر عنایہ تیزی سے نمیر کی طرف بڑھی اور اس کے سینے سے جا لگی نمیر نے عنایہ کو دونوں بازو سے تھام کر خود سے الگ کیا۔۔۔ وہی لائٹ بھی آگئی اس وقت عنایہ کے چہرے پر خوف کے آثار نمایاں تھے،،، جسے نمیر نے غصے میں نظر انداز کرکے عنایہ کو بیڈ پر دھکا دیا
“کیوں آئے ہو تم میرے بیڈروم میں” نمیر نہال کی طرف آتا ہوا پیشانی پر بل لائے اس سے پوچھنے لگا
“وہ رو رہی تھی، ڈر رہی تھی۔۔۔ تمہیں معلوم ہے اسے ڈر لگتا ہے بارش سے”
نہال نمیر کو دیکھتا ہوا جواب دینے لگا جبکہ عنایہ بیڈ پر بیٹھی اب بارش کے ساتھ ساتھ نمیر کے غصے سے بھی مزید خوفزدہ تھی
“ڈر رہی تھی ناں مر تو نہیں جاتی، ڈر ڈر کر۔۔۔ تم کو معلوم ہے ناں کہ وہ میری بیوی ہے تم دور رہا کرو اس سے”
نمیر نے غصے میں چیختے ہوئے نہال کو پیچھے دھکا دیا وہ چار قدم پیچھے ہوا۔۔۔ اب نمیر بیڈ پر بیٹھی عنایہ کی طرف بڑھا
“کیوں ڈر لگ رہا تھا تمہیں بارش سے،، کیا کرتی ہے تمہیں یہ بارش۔۔۔ آج بتاؤ مجھے”
نمیر روتی ہوئی عنایہ کو بازو سے کھینچ بیڈ سے اٹھانے لگا
“نو۔ ۔۔۔ نمیر کک۔۔ کیا کر رہے ہیں چھوڑیں مجھے”
نمیر عنایہ کا بازو پکڑتا ہوا اسے کمرے سے باہر لے جانے لگا تبھی عنایہ رونے کے ساتھ خوف سے ہکلاتی ہوئی بولی
“نمیر یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو اس کا ہاتھ”
نمیر عنایہ کو گھر سے باہر لے جانے لگا عنایہ مسلسل روتی ہوئی نمیر سے اپنا ہاتھ چھڑا رہی تھی۔۔ نہال،، اسکے اور عنایہ کے پیچھے آتا ہوا نمیر سے بولا… نمیر ایک دم رک کر بغیر عنایہ کا ہاتھ چھوڑے نہال کی طرف مڑا
“آج تم میرے اور میری بیوی کے بیچ میں مت آنا نہال” نمیر شہادت کی انگلی اٹھا کر نہال کو وارن کرتا ہوا بولا
“نمیر نہیں مجھے معاف کر دیں پلیز ایسا مت کریں میرے ساتھ”
نمیر نے جب عنایہ کو گھر سے باہر نکال کر اندر سے دروازہ بند کیا تب عنایہ روتی ہوئی دروازہ زور سے بجاتی ہوئی بولی
“کیوں کر رہے ہو تم اس کے ساتھ ایسا،، وہ ڈر رہی ہے باہر۔۔۔ کھولو دروازہ”
نہال اب چیختا ہوا نمیر سے کہنے لگا
“وہ میری بیوی ہے میں اس کے ساتھ جو چاہے کرو تم مجھے آرڈر دینے والے یا پھر میری بیوی پر حق جتانے والے کون ہوتے ہو جواب دو”
نمیر بھی نہال کے سامنے اسی کے انداز میں اس سے زیادہ چیختا ہوا بولا
“اس پر حق کیوں جتا رہا ہوں یہ تم اچھی طرح جانتے ہو یا پھر جان کر نظر انداز کر رہے ہو۔۔۔ تمہاری بیوی وہ بعد میں بنی ہے اس سے پہلے وہ میری منگیتر تھی”
نہال نے نمیر کے قریب آکر بے خوفی سے کہا تب نمیر نے غصے میں آکر اس کا گریبان پکڑا
“آئندہ اگر تم نے میری بیوی کا نام اپنی زبان سے لیا تو میں تمہارے بھائی ہونے کا لحاظ کئے بنا تمہیں زندہ زمین میں گاڑ دوں گا سنا تم نے،، وہ اب بیوی ہے میری،،، میری عزت۔۔۔ اس کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو نہال”
نمیر نے غصے میں سرخ آنکھوں کے ساتھ نہال کا گریبان جھٹکتا ہوا بولا
“اور اگر کل کو عنایہ مجھے تم پر فوقیت دے تب کیا کرو گے تم”
نہال اپنا گریبان ٹھیک کرتا ہوا آرام سے نمیر کی غصے کی پرواہ کیے بنا پوچھنے لگا
“عنایہ میری بیوی ہے اور مجھ سے محبت کرتی ہے،، اپنے دماغ سے یہ فطور نکال دو نہال کہ وہ کبھی بھی تمہیں مجھ پر فوقیت دے گی”
نمیر طنزیہ ہنستا ہوا اس کی خوش فہمی دور کرنے لگا
“بالفرض اگر ایسا ہوا تو پھر کیا کرو گے تم”
نہال نہ جانے اس سے کیا سننا چاہ رہا تھا یا پھر وہ نمیر کے غصے کو ہوا دے رہا تھا
“بالفرض اگر ایسا ہوتا ہے تب بھی میں عنایہ کو تمہارے لئے ہرگز نہیں چھوڑوں گا اگر وہ میری جگہ تمہارے ساتھ کی خواہش کرتی ہے تو میں اسے بھی زندہ زمین میں گاڑھنا پسند کرو گا۔۔۔ مل گیا تمہیں جواب،، اب چلے جاو یہاں سے”
نمیر مزید گلا پھاڑ کر چیختا ہوا بولا
نہال خونخوار نظروں سے نمیر کو گھورتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔ اسے اندازہ تھا۔ ۔۔ وہ جتنی دیر وہاں کھڑا رہتا یا نمیر سے عنایہ کو اندر بلانے کا کہتا۔۔۔ نمیر عنایہ کو اتنی ہی دیر باہر کھڑا رکھتا
اپنے کمرے میں آکر موبائل پاکٹ سے نکالتا ہوا منال کا نمبر ملانے لگا
“کیا تم نمیر کے ساتھ کچھ وقت گزارنے میں انٹرسٹڈ ہو۔۔۔ میرا مطلب ہے پہلی محبت کو انسان بھلائے نہیں بھولتا۔۔۔ کیا تم اسکو دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہو”
نہال اپنے بیڈ روم میں ٹہلتا ہوا منال سے پوچھنے لگا دوسری طرف منال زور سے ہنسی
“اوہو تو یعنی تم عنایہ کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہو”
الٹا منال نہال سے پوچھنے لگی
“میری چھوڑو تم اپنی بات کرو۔۔۔ یوں تصویریں بنانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔۔۔۔ کل نمیر اسلام آباد کے لیے نکل رہا ہے۔۔۔ وہ کس ہوٹل میں اسٹے کرتا ہے یہ میں تمہیں نمیر کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد بتا دوں گا۔۔۔ آگے تو ماشاءاللہ تم خود ہی سمجھدار ہو”
نہال نے اپنی بات مکمل کر کے کال کاٹی۔۔۔۔ اسے باہر لان میں کھڑی عنایہ کا بار بار خیال آرہا تھا اور ساتھ میں نمیر پر غصہ بھی۔۔۔ اگر منال نمیر کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اسکا راستہ خود صاف ہوجائے گا۔۔۔۔۔ اس کا بھائی بھی خوش اور وہ تو عنایہ کو دوبارہ پاکر بےانتہا خوش
****
“اور اپنے فرض سے کتنے غداری کروگے نوفل”
نوفل وارڈروب کھول کے لاکر میں خاکی رنگ کا پیکٹ رکھنے لگا۔۔۔ تب شانزے کمرے میں آ کر بولی
“کیا کہنا چاہتی ہو تم”
نوفل وارڈروب کا دروازہ بند کر کے شانزے کے سامنے آتا ہوا بولا
“جو تم سمجھنا نہیں چاہتے یہ پھر سمجھتے ہوئے بھی انجان بن رہے ہو” شانزے نوفل کو دیکھ کر جتاتی ہوئی بولی
“دیکھو شانزے یہ بات میں نے تمہیں پہلے بھی کہی تھی میری جاب سے متعلق ہم دونوں کے بیچ کوئی بحث نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ یہ میرے آفیشیلی میٹرز ہیں ان سے تم دور رہو”
نوفل دو ٹوک انداز میں شانزے سے بولا
“نوفل تم ایک اچھے عہدے پر فائز ہو،، تمہیں نہیں لگتا کہ تمہیں اپنے پیشے سے ایماندار ہونا چاہیے”
شانزے اسے تحمل سے سمجھانے لگی
“شانزے میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں مجھے کیا کرنا چاہیے کیا نہیں۔۔۔ یہ تمہارے سوچنے کی بات نہیں ہے تم ان سارے معاملات سے دور رہو”
نوفل نے دوبارہ سختی سے شانزے کو اس ٹاپک پر کوئی بھی بات کرنے سے منع کیا کمرے میں خاموشی ہوئی بادلوں کی گڑگڑاہٹ کی آواز کمرے میں سنائی دی
“مجھے خوشی ہوتی اور فخر بھی کہ میرا شوہر ایک ایماندار افسر ہوتا” شانزے نوفل کو دیکھتی ہوئے بولی۔۔ نوفل نے ہاتھ میں پکڑا ہوا اپنا موبائل کھینچ کر دیوار پر دے مارا
“کیا بار بار ایمانداری کی رٹ لگائی ہوئی ہے تم نے اتنی دیر سے،، کون ایماندار ہے آج کل کے دور میں۔۔۔ ایماندار انسان کو دو وقت کی روٹی مشکل سے نصیب ہوتی ہے اور میرا تعلق جس پیشے سے ہے وہاں ایمانداری پر صرف گولی ملتی ہے سنا تم نے”
نوفل تیز لہجے میں شانزے سے مخاطب ہوا
“جن لوگوں سے تمہارے تعلقات ہیں نا ان لوگوں سے وفاداری کی صورت میں بھی گولی ہی ملتی ہے”
شانزے کو لگا اسے سمجھانا بےکار ہے جبھی وہ کمرے سے باہر جانے لگی مگر نوفل نے اس کا بازو پکڑا
“جب کسی بات کے بارے میں علم نہ ہو تو بہتر ہے انسان خاموشی اختیار کرلے اگر میری بیک پر کوئی مضبوط سپورٹ نہ ہو تو دو گھنٹے میں میرا ٹرانسفر کر کے مجھے کہیں بھی پھینکا جا سکتا ہے۔۔۔ ایمانداری کے نام پر گولی کھا کر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔۔۔ یہ پیسہ میرے کام کا معاوضہ ہے میں کوئی نچلا درجے کا افسر نہیں ہوں جو غریبوں یا مظلوموں کے خون پسینے کی کمائی سے اپنا حصہ مانگو میرے کچھ اصول ہے کچھ قاعدے قانون ہیں۔۔۔ جن کی خلاف میں نہیں جاتا نہ کسی دوسرے کو جانے دیتا ہو۔۔۔ جس شعبے سے میرا تعلق ہے وہاں ایمانداری کا ڈنگا پیٹنے سے، ایمانداری اپنے ہی گلے کا طوق بن جاتی ہے۔۔۔ تم ان باتوں کو نہیں سمجھو گی اس لیے آئندہ کبھی اپنے اور میرے بیچ میں ان معاملات کو زیر بحث مت لانا”
نوفل شانزے سے کہتا ہوں خود کمرے سے نکل گیا بارش اب بھی زور و شور سے برس رہی تھی شانزے خاموشی سے کھڑکی سے باہر جل تھل سارا منظر دیکھنے لگی
****
نہال کے اپنے روم میں جانے کے بعد نمیر نے باہر کا دروازہ کھولا۔۔۔ عنایہ بارش کے پانی سے بچتی ہوئی دیوار کے ساتھ چپکی اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر رونے میں مصروف تھی۔۔۔۔ دروازہ کھولنے کی آواز سے عنایہ دوڑتی ہوئی نمیر کے پاس آئی
“نمیر۔ ۔۔۔ نمیر پلیز مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے میں اب نہیں ڈروں گی بارش سے”
وہ ابھی بھی خوفزدہ ہوکر روتی ہوئی نمیر کے دونوں بازو پکڑے اس سے کہنے لگی
“تم بارش سے نہیں ڈرتی تو یہ بات یہاں کھڑے ہوکر نہیں بلکہ لان میں جاکر کہو پھر چلتے ہیں اپنے کمرے میں”
وہ دونوں جہاں کھڑے تھے اوپر شیڈ کی وجہ سے دونوں ہی بارش کے پانی سے محفوظ تھے جبکہ نمیر کی بات سن کر عنایہ رحم طلب نظروں سے نمیر کو دیکھنے لگی
“آپ تو مجھ سے پیار کرتے ہیں ناں تو پھر کیوں اسطرح بول رہے ہیں”
وہ روتی ہوئی نمیر کو دیکھ کر پوچھنے لگی
“میں تم سے پیار کرتا ہوں جبھی تم سے ایسا بول رہا ہوں،، چلو میرے ساتھ اور اس برسات میں کھڑی ہوکر بولا کہ تم بارش سے نہیں ڈرتی”
نمیر اب اس کا بازو پکڑ کر اسے گھسیٹتا ہوا لان میں لے جانے لگا۔۔۔ عنایہ رو رو کر زور سے چیختی ہوئی نمیر سے اپنا ہاتھ چھڑانے لگی
“چلو اب بولو کہ تم بارش سے نہیں ڈرتی”
نمیر اس کے رونے کی پروا کیے بغیر اور اس کے خوف کو خاطر میں نہ لاکر اسے لان میں لے کر آیا اب وہ دونوں بارش میں پورے بھیک چکے تھے
“میں نہیں ڈرتی بارش سے،، اب نہیں ڈرو گی پلیز مجھے یہاں سے لے چلیں نمیر”
عنایہ روتی ہوئی نمیر کے سینے سے لگ کر بولی جیسے اپنے آپکو اسکے سینے میں چھپا رہی ہو۔۔۔ بادل زور سے گرجا تو نمیر نے اسکے گرد اپنے ہاتھ باندھے،، عنایہ مزید سختی سے اسے جکڑے نمیر کے سینے میں منہ چھپائے رونے لگی
“بتاؤ مجھے کیا کر رہی ہے یہ بارش تمہیں”
نمیر اسے اپنے حصار میں لیتا ہوا عنایہ سے پوچھنے لگا مگر وہ نمیر کے سینے سے لگی اب ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی معلوم نہیں سردی کی وجہ سے یا خوف کی وجہ سے۔۔۔ اس سے پہلے وہ نیچے گرتی نمیر اسے بانہوں میں اٹھا چکا تھا
نمیر عنایہ کو بے ہوشی کی حالت میں کمرے میں لایا اور بیڈ پر لٹایا،،، عنایہ کے بھیگے ہوئے کپڑے دیکھ کر اس نے وارڈروب سے اسکے لیے دوسرے کپڑے نکالے۔۔۔ آج جو بھی کچھ ہوا وہ اس کا قصور وار صرف نہال کو نہیں مانتا تھا
شام میں جب ثروت کا شوگر لیول کنٹرول نہیں ہوا تو ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق ثروت کو مزید ایک دن کیلئے اسپتال میں ایڈمٹ کرنا پڑا۔۔۔ ثروت کی دوست نے نمیر کو یقین دلایا کہ وہ ثروت کے پاس موجود ہے اگر وہ چاہے تو تھوڑی دیر کے لئے گھر جاکر آرام کرسکتا ہے
تب نمیر اپنا اور عنایہ کا کل کا ٹکٹ کروا کر گھر کی طرف آ رہا تھا راستے میں ہی اسے موسم کے تیور دیکھ کر بارش ہونے کا اندازہ ہو گیا۔۔۔ اسے سب سے پہلا خیال عنایہ کا ہی آیا مگر شکر تھا کہ حمیدہ گھر میں موجود تھی لیکن پھر بھی وہ جلد سے جلد عنایہ کے پاس گھر پہنچنا چاہتا تھا۔۔ جب وہ گھر پہنچا تو پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا یقیناً گھر کی لائٹ چلی گئی تھی عنایہ لازمی ڈر رہی ہوگی،، نمیر فلیش لائٹ آن کرتا ہوا اپنے کمرے میں جانے لگا تب اسے عنایہ کی آواز آئی
“نہیں ابھی یہی رہے پلیز، مجھے چھوڑ کر مت جائیں”
وہ یقیناً یہ جملہ حمیدہ کو نہیں رہا کو کہہ رہی تھی نمیر نے روم کا دروازہ کھولا تو وہ نہال کے بے حد قریب کھڑی تھی اور نہال اس کا بازو پکڑے۔۔۔ نمیر کو نہال کے ساتھ ساتھ عنایہ پر بھی غصہ آیا آخر وہ کیوں اتنی لا پرواہ تھی کیوں اس کے بھائی کے اتنے قریب کھڑی تھی۔۔۔ آخر ایسا بھی کیا ڈر تھا۔۔۔۔ اور نہال اس کا اپنا بھائی،،، کیا وہ اپنی ساری شرم لحاظ بھول چکا تھا آخر وہ اس بات کو سمجھتا کیو نہیں تھا کہ عنایہ اب اسکے بھائی کی بیوی ہے
نمیر کو ان دونوں پر ہی غصہ آنے لگا نہال کو اچھی طرح جتانے کے بعد کہ وہ عنایہ کو کسی صورت نہیں چھوڑے گا،،،ساتھ ہی وہ آج عنایا کا ڈر بھی نکالنے کا اور اسے اچھی طرح سبق سکھانے کا ارادہ رکھتا تھا
وہ کبھی بھی عنایہ پر،، نہال کو لے کر شک نہیں کرسکتا تھا۔۔۔ اسے اپنی بیوی پر اس کی محبت پر اعتبار تھا۔۔۔۔ اسے معلوم تھا عنایہ نے بارش کے ڈر کی وجہ سے نہال کو اپنے پاس روکے رکھا تھا مگر دو ماہ میں وہ نمیر کی نیچر سے بھی اچھی طرح واقف ہو گئی تھی اور نمیر نے اسے واضح لفظوں میں بتا بھی دیا تھا کہ وہ اس کا نہال کے ساتھ ایک لمٹ میں بات کرنا پسند کرتا ہے اور بس۔۔۔۔
عنایہ کے گیلے کپڑے واش روم میں رکھنے کے بعد وہ عنایہ کے ہاتھ پر نشان دیکھنے لگا یہ جلنے کا نشان تھا،، اسے مزید عنایہ کی لاپرواہی پر غصہ آیا اسکے ہاتھ پر آئینمینٹ لگانے کے بعد اس کو کمفرٹر اڑھانے ہوئے نمیر نے عنایہ کے چہرے پر نظر ڈالی،،، وہ ابھی بھی بے ہوش تھی
نمیر نے نہ چاہتے ہوۓ بھی نہال کو میسج کر کے اسے ثروت کے بارے میں انفارم کیا کہ آج رات ثروت ہسپتال میں ہی ایڈمن رہے گی مگر اب وہ ہسپتال جانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اور گھر میں ہی ریسٹ کرنا چاہتا تھا۔۔۔ نمیر خود بھی چینج کرتا ہوا عنایہ کے برابر میں لیٹ گیا۔۔۔ بارشوں جو تھوڑی دیر پہلے تھم چکی تھی اب دوبارہ شروع ہوگئی نمیر نے گردن موڑ کر عنایہ کو دیکھا وہ بے ہوشی میں خوف کے مارے سسکیاں لے رہی تھی اور اپنے ہاتھ سے بیڈ پر کچھ تلاش کر رہی تھی،، تب نمیر نے اس کا ہاتھ پکڑا تاکہ اسے احساس ہو وہ اکیلی نہیں،،، پھر اپنا تکیہ عنایہ کے قریب کرکے عنایہ کو خود سے قریب کرلیا
اب عنایہ کی سسکیاں بند ہو چکی تھی چہرے پر سکون طاری تھا مگر بے ہوشی میں بھی اس نے نمیر کی شرٹ مضبوطی سے پکڑی ہوئی تھی۔۔۔ نمیر اپنا سن ہوتا بازو عنایہ کے نیچے سے نکالنے کے بجائے ایسے ہی سونے کی کوشش کرنے لگا تاکہ عنایہ کو مزید خوف محسوس ہو اور اسے یقین رہے کہ نمیر اس کے پاس ہے
