Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 9)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 9)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
کیسی ہے میری انیجل ۔۔۔
آہان نے روحا کا چہرہ دیکھتے مسکراتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔۔
ہاۓ ہم ٹھیک اففف ہمیں یقین نہیں آ رہا آپ پاکستان آ گے لالہ ۔۔۔
روحا خوشی سے پاگل ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
چلو اب یقین کر لو میں آ گیا اب اکیلا لندن نہیں رہا گیا مجھ سے تبھی اپنی انیجل کے پاس آ گیا ۔۔۔۔
آہان اپنی گرین آنکھوں میں مسکراہٹ لاتے بولا تھا ۔۔۔۔
بس ہم اب آپ کی شادی ک۔۔۔
بس کر دو ڈبل اے میں بھی بھائ ہو تیرا ۔۔۔
روحا جو چکہتے ہوۓ کہہ رہی تھی جب صام نیچے آتا منہ بناتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
آ جا میرے چمپین کیسا ہے تو ۔۔۔۔۔
آہان نے بائیں کھولے خوش دلی سے کہا تھا ۔۔۔۔
میں کیسا ہو سکتا ہو اس مس کالی سے شادی ہو گی میری مس کھڑوس ہے ایک نمبر کی ہاے میرے ننھے ننھے دکھ ۔۔۔۔
صام آہان کے گلے لگتا ساتھ روحا کو بھی گلے لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔۔
ارے پیچھے ہٹے ہمیں کیوں گلے لگا رہے سانڈ سانس بند ہو گیا ہمارا ۔۔۔۔
روحا صام کو دھکا دیتی جنجھلاتی ہوئ کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔۔
ہاہاہاہا افففف ابھی بھی ایسے ہی لڑتے ہو یار انیجل ہ۔۔۔۔۔
ارے ڈبل اے یہ مس کالی ایسی ہی ہے اسے چھوڑے آۓ ماما اور آفندی صاحب سے ملتے ہے ۔۔۔
صام آہان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔۔
بابا سے ناراض کیوں ہو یہ تم تب ہی نام لیتے ان کا جب ناراض ہوتے ہو ۔۔۔۔
آہان ساتھ چلتا ہوا بولا تھا
۔۔۔۔
وہ بابا خان نہیں نہ تبھی ۔۔۔
صام منہ بناتے ہوۓ بولا ۔۔۔
مطلب۔۔۔
آہان نے نا سمجھی سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
کوئ مطلب نہیں چلے آۓ ۔۔۔
صام آہان کے کندھے پر ہاتھ رکھتا بات بدلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
ہاے لالہ آ گے اففف میں کتنی خوش ہو ۔۔۔
یافی خوشی سے چہکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
شکر ہے تم بھی مسکرائ میری وجہ سے نہ سہی اپنے بھاہیٶں کی وجہ سے ہی ۔۔۔۔
زرجان روم میں آتا یافی کے قریب جاتے مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
تمہاری وجہ سے بھی مسکراتی تھی جب ہاسپٹل آتے تھے ۔۔۔
یافی اپنی براٶن آنکھوں سے زرجان کی گرے آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں تب کرتی تھی ایسا پر اب نہیں مجھ معصوم کو کوئ پیار نہیں کرتا ۔۔۔
زرجان منہ بناتے ہوۓ بولا ۔۔۔
تو بندے کی شکل اچھی ہو تو ہی کوئ پیار کرے گا ۔۔۔
یافی زرجان کے شولڈر پر ہاتھ رکھتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
ہاےےے شکل کی کیا بات کی ترکی جب میں گیا تھا ساری لڑکیاں مجھے دیکھتی تھی ا۔۔۔
ہاں تو سوچ رہی ہو گی یہ نمونہ کہاں سے آ گیا ۔۔۔
زرجان یافی کو کمر سے پکڑتے اپنے قریب لاتے بول رہا تھا جب یافی بات کو ٹوکتی ہوئ بولی ۔۔۔
اور اسی نمونے کا دل فیا زرجان شاہ پر آیا ہے ۔۔۔
زرجان اپنے لب یافی کی گردن پر رکھتے بہکتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ہااہہاہہاہاہا بس بہانہ چاہے قریب آنے کا چلو چھوڑو آج ایک ہارٹ سرجری کرنی میں نے شاہد لیٹ ہو جاٶ ۔۔۔
یافی اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی زبردستی قہقہ لگاتی اسے دور کرتی بولی تھی ۔۔۔
یہ اچھی بات نہیں یافی ڈرالنگ ایک ایسا آۓ گا تم ترسوں کی میری قربت کے لیے اور دیکھنا یہ تو سب کی ہارٹ سرجری کرتی ہو کہی میری بھی ہارٹ سرج۔۔۔۔۔
زرجانننننن ۔۔
اللہٌنہ کرے کبھی تمہیں کچھ بھی ہو میں مانتی ہو تم محبت کرتے ہو مجھ سے لیکن میں تمہیں اچھا دوست سمجھتی ہو ۔۔۔
پر نہیں ہر وقت فضول سوچنا اور بولنا ہے ۔۔۔
میں جا رہی ہو تم بھی آفس چلے جانا ۔۔۔
زرجان جو مذاق میں بات کر رہا تھا ۔۔
جب یافی غصہ سے بات کاٹتی کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔۔
ارے ارے میری جان ناراض ہو گی افففف چلو پتہ تو چلا تم فیل کرتی ہو مجھے چاہے دوست ہی سہی ۔۔۔
زرجان اسے روکتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
آہہہہہہ آہہہہہہ ۔۔۔
ابو کیوں مار رہے مجھے میرا قصور بھی بتاۓ ۔۔۔
نومی روتے ہوۓ اپنے باپ سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔
تیرا ہی قصور ہے جانتا ہے تو ایک خواجہ سرا ہے تیری کوئ حثیت نہیں ہے اس معاشرے میں پھر کیوں گھر سے باہر نکلتا ہے ۔۔۔
نومی کا باپ اسے لگاتار مارتے غصہ سے چلایا تھا ۔۔۔
لیکن ابو میں گھر کیسے رہ لو آپ تو جانتے ہے سمی میرا کتنا اچھا دوست ہے میں اس کے بنا نہیں رہ سکتا ایک وہی ہے جو مجھ سے محبت کرتا ہے ۔۔۔
نومی اپنی گرین آنکھوں میں آنسو لاتا بولا تھا ۔۔۔
یہی وجہ ہے تو ایک غریب لڑکا ہے وہ ایک ارب پتی انسان کا بیٹا ہے دوست کہتا ہے وہ تمہیں پر تمہارے ساتھ کبھی رہ نہیں سکتا ۔۔۔
تو ایک خواجہ سرا ہے ہمیشہ ایسے ہی رہے گا نفرت ہے مجھے تجھ سے دفعہ ہو جا یہاں سے ۔۔۔
تو میری اولاد نہیں ہے تمہیں میں گھر سے نکال دو گا وہ خواجہ سرا کی ٹیم تمہیں لے کر چلی جاۓ گی وہ بے حس باپ بنتا اسے مسلسل مار رہا تھا بنا کوئ پرواہ کیے وہ کتنا خون سے لت پت ہو چکا تھا ۔۔۔
دوست ہے وہ میں جانتا ہو میرے ساتھ رہے گا کوئ خواجہ سرا کی ٹیم نہیں لے کر جاۓ گی ۔۔۔
وہ روتا تڑپتا گرین آنکھوں میں وحشت لاۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ہاہاہااہا دوست جب ایک دوست ایسا خواجہ سرا ہو کوئ ساتھ نہیں دیتا دیکھنا تو ۔۔
نومی کا باپ مذاق اُڑاتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
جب فرش پر گرۓ پانچ سالہ نومی نیم بےہوشی میں چلا گیا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
تم کہی جا رہے ہو ۔۔۔
وہ روم میں آتا اس کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
جو بلیک ہڈی پہنے چہرے پر مسکراہٹ لاۓ سرخ گرین آنکھوں میں چمک لاۓ لیپ ٹاپ کی سکرین کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
ہاں تم بتاٶ خواجہ سرا آ گے ۔۔۔۔
ڈیول دوٹوک جواب دیتا بولا تھا ۔۔۔
پر اتنے خواجہ سرا کیوں مطلب کوئ خوشی کی بات ہے جو تم بھی ساتھ جا رہے ۔۔۔
وہ پریشان ہوتا ہاتھ نچاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
مسٹر آہان آفندی پاکستان آیا ہے تو ملنے جانا میں نے ۔۔۔
ڈیول اپنی گردن میں پہنی چین میں لٹکتی چوڑی کو پکڑتے دیکھتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
کیوں جانا چاہتا ہے بھول گیا یہی لوگ تھے جہنوں نے صام آفندی کو تم سے دور کیا تھا جنہوں نے دو دوست دور کر دے تھے ۔۔۔۔
وہ غصہ سے چلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ریلکس صام کی طرح وہ بھی میرے لالہ ہے میں جانتا ہو کتنا خیال رکھتے تھے ہاں صام آفندی کو دور کر دیا انہوں نے پر ڈیول تو ہے زندہ ۔۔۔
ڈیول آنکھوں میں سرد پن لاۓ بولا تھا ۔۔۔۔
———————————————————–
بیٹا ہمیں بہت خوشی ہوئ تم آ گے اب جانے نہیں دو گی میں ۔۔۔
وردہ بیگم آہان کو گلے لگاتی چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
بس ماما اب میں یہاں آ گیا ہو نہیں جاٶ گا ۔۔۔
آہان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
لالہ یہ لے کافی پیے آپ کی فیورٹ ہے ۔۔۔
روحا روم میں آتی کافی کا کپ دیتی بولی تھی ۔۔۔
وردہ بیگم آفندی صاحب آہان صام وہی بیٹھے تھے ۔۔۔۔
ارے انیجل یہ کافی میں نے بہت مس کی ساتھ ہی تمہیں بھی یہاں آٶ میرے پاس ۔۔۔
آہان مسکراتا ہوا اپنے ساتھ صوفے پر جگہ بناتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ہم نے بھی بہت مس کیا آپ کو لالہ اب ہم آپ کی شادی کرواۓ گے ۔۔۔۔
روحا خوش ہوتی پاس جاتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
پر ایک شرط پر لڑکی تمہاری جیسی ہو ۔۔۔
آہان حامی بھرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
پکا بس وعدہ کرے ہم جس سے کہے گے آپ اسی سے شادی کرے گے ۔۔۔۔
روحا کچھ سوچتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاں میری انیجل جہاں کہے گی میں وہاں شادی کر لو گا اب خوش ۔۔۔۔
آہان روحا کے سر پر ہاتھ رکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جبکہ یہ سب دیکھتا صام بے چین ہو رہا تھا کیونکہ روحا اسے فل اگنور کر رہی تھی ۔۔۔۔
ارے روحا بیٹا تم نے جیولری نہیں پہنی دلہن تو لگ ہی نہیں رہی ۔۔۔
وردہ بیگم روحا کی خالی گردن دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
اففف ماما آپ کو جانتی ہے ہمیں جیولری پسند نہیں الرجی ہوتی ہے دیکھے یہ نوز پن تو ہے ۔۔۔
روحا بیزار سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
لیکن بیٹا دلہن کا سجنا سنوارنا شوہر کے لیے ہوتا ہے مانتی ہو تین سال سے نکاح میں تھی پر دلہن تو اب بنی ہو ۔۔۔۔
وردہ بیگم روحا کے قریب جاتی اس کے سر پر ہاتھ رکھتی پیار سے بولی تھی ۔۔۔
دلہن لفظ پر بے اخیتار روحا کی نظریں سامنے بیٹھے صام کو دیکھنے کے لیے اٹھی تھی ۔۔۔۔
روحا کو اپنا دل باہر آتا محسوس ہوا کیونکہ صام اسے پہلے ہی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن م۔م۔
دیکھو سارے میں انیجل کے لیے سیٹ لے کر آیا کیونکہ یہ سیٹ میں نے اپنی کمائ سے بنوایا تھا جو بھی صام کی بیوی بنے گی میں اسے خود گفٹ کرو گا بھائ بن کر ۔۔۔۔
اس سے پہلے روحا کچھ کہتی جب مستقیم چہکتا ہوا اندر آتا بولا تھا ۔۔۔۔
ارے واہ مشعوق بہت اچھا کام کیا لاٶ میں پہنا دیتا ہو ۔۔۔
صام اچانک خوشی سے بے قابو ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
اففف پاگل لڑکا تم ہی پہناٶ گے ۔۔۔
آفندی صاحب صام کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھتے دل سے خوش ہوتے بولے تھے ۔۔۔
کتنے عرصے بعد وہ ایسا خوش دیکھائ دے رہا تھا ۔۔۔
یہ ناانصافی ہے یار میری بھی شادی کرواٶ میں بھی اپنی دلہن کو ایسا سیٹ پہناٶ گا ۔۔۔
ہاے مجھ کنوارے کے سامنے یہ پیار محبت نہ کیا کرو ۔۔۔۔
مستیقم اپنا پرانا دکھ یاد کرتا صام کو سیٹ کا بوکس دیتا بولا تھا ۔۔۔۔
ہم تیری بھی شادی کروا دے گے اب خوش ہو جا ۔۔۔
آہان مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
اففف کل جو کچھ ہوا میں ابھی تک نہیں بھولا آہان لالہ آپ کو پتہ یہ دونوں پہلے میاں بیوی ہو گے جنہوں نے بلیک کلر یوز کیا ورنہ کوئ بھی بلیک کلر کا لنہگا اور شروانی نہیں پہنتے اور آپ کو یاد ہے ان کا نکاح کیسے ہوا تھا ۔۔۔۔
مستیقم آہان کے قریب جاتا سب کچھ بتاتے لگ گیا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
””تین سال پہلے ۔۔۔۔
بابا میں نے ہر حال میں ترکی جانا ہے ۔۔۔
صام ضد کرتا بولا تھا ۔۔۔
ابھی دو ماہ پہلے ہی لندن سے واپس آے ہو آداب لحاظ سب بھول گے ہو کیسے چلا رہے ہو ۔۔۔
اس لیے بیھجا تھا لندن کہ ایسے آوارہ بن جاٶ ۔۔۔
آفندی صاحب طش میں آتے بولے تھے ۔۔۔
آپ نے مجھے تب لندن میں اکیلا بیھجا تھا جب میری عمر دس سال تھی سوچے پھر وہاں بچہ کیسے رہ سکتا ہے خیر میں صبح ترکی جا رہا دو سال کے لیے ۔۔۔۔
صام اپنی آنکھوں میں وحشت لاۓ بولا تھا ۔۔۔
کوئ ضرورت نہیں ہے جانے کی پہلے ہی آ۔۔۔۔
آپ کو بتا رہا ہو میں اجازت کس نے مانگی ہے اگر آپ لوگوں نے جانے نہ دیا تو سوچ لینا لندن چلا جاٶ گا واپس اور کبھی پاکستان نہیں آو گا ۔۔۔
مر چکا آپ لوگوں کا چھوٹا بیٹا صام آفندی ۔۔۔
صام غصہ سے چلاتے طش میں آتا روم سے واک آوٹ کر چکا تھا ۔۔۔۔
اتنا بدتعمیز اتنا آوارہ یہ تو وہ صام آفندی ہے نہیں جو پیار سے بات کرتا تھا ایٹیٹوڈ چیک کرو اس کا باپ کو دمھکی دے رہا ہے ۔۔۔۔
آفندی صاحب اپنا سر پکڑتے غم سے بولے تھے ۔۔۔
اگر آپ چاہتے ہے صام ترکی نہ آ جاۓ تو ہم روحا کا نکاح اس سے کروا دیتے ہے آپ شرط رکھے وہ نکاح کرے گا تب ہی جانے دے گے دیکھنا وہ نکاح نہیں کرے گا اور صام یہی رہ جاۓ گا ۔۔۔
وردہ بیگم نے اپنی بات سامنے رکھی ۔۔۔
اس بچی پر میں اتنا ظلم نہیں کر سکتا جانتی ہو زیدی کی بیٹی ہے میں نے اور آہان نے وعدہ کیا تھا روحا کا خیال رکھے گے ۔۔۔
ایک سال ہو گیا اسے یہاں رہتے ہو اب اگر اس بچی پر ہم نے یہ حکم چلایا تو کیا سوچے گی اس کا ماں باپ اس سے دور چلے گے ہے تو ہم اس کے ساتھ یہ کرے گے میں ہرگز نہیں کرو گا ۔۔۔
صام جاتا ہے جاۓ مجھے اپنی معصوم بچی عزیز ہے ۔۔۔
پہلے ہی اندر سے ٹوٹی ہوئ ہے وہ ۔۔۔
آفندی غم اور غصہ سے چلاتے بولے تھے ۔۔۔
آپ فکر مت کرے نکاح نہیں ہونا جیسٹ بات کرتے ہے صام روک جاۓ گا ۔۔۔۔
وردہ بیگم حوصلہ دیتی بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
وردہ بیگم اور آہان نے روحا کو مانا لیا تھا ۔۔۔
روحا ان سب سے محبت کرتی تھی تبھی قسمت کا لکھا مان کر نکاح کے لیے تیار ہو چکی تھی ۔۔۔۔
مستیقم اور یافی اس بات پر غصہ تھے کیونکہ دونوں جانتے تھے ایک شیر ہے تو دوسرا سوا شیر ہے ۔۔۔
اگر ایٹیٹوڈ کا کنگ مسٹر صام آفندی تھا تو ایٹیٹوڈ اور کھڑوس پن کی کوئین مس روحا زیدی تھی ۔۔۔۔
سب پر تب حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹا تھا جب کنگ آف ایٹیٹوڈ نکاح کے لیے مان گیا تھا ۔۔۔۔
———————————————————–
مبارک ہو مس لائف ۔۔۔
روحا صام کا نکاح ہو چکا تھا ۔۔۔
ابھی تک سارے ہی شوک تھے ہوا کیا ہے روحا تو بلکل چپ ہو گی تھی ۔۔۔۔
صام نے رات ہی جانا تھا تبھی روحا سے ملنے روم میں آتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جاۓ ترکی آپ نکاح ہو چکا ہے ۔۔۔
روحا سیپٹ لہجے سے بولی تھی ۔۔۔
دیکھو مس لائف تم کچھ بھی نہیں جانتی ا۔۔۔۔
ہم سب جانتے ہے ایک نمبر کے ٹھرکی آوارہ ۔۔۔
ہمارے ساتھ نکاح کر لیا اب جاۓ عیاشی کرے جا کر اور ہو سکے تو بھول جانا ایک بیوی بھی ہے آپ کی کہاں اتنے خوبصورت اور کہاں ہم بد صورت ہے آپ کو تو حیسن چیزیں پسند ہے ۔۔۔۔
صام جو بول رہا تھا تبھی روحا اکتاۓ ہوۓ انداز سے بولی ۔۔۔
دیکھو مس کالی میں مانتا تم۔۔۔
جاۓ یہاں سے ہمیں تنگ نہ کرے ہم سے بہتر اچھی اور حسین لڑکیاں مل جاۓ گی ۔۔۔
روحا صام کی پھر بات کاٹتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں تم کالی ہو بد صورت لڑکی ۔۔
صام بھی طش میں آتے بولا تھا ۔۔۔۔
بیوی بھی ہے ۔۔۔
روحا طنز کرتی بولی تھی ۔۔۔
چچچچ تم میری بیوی ۔۔۔
صام حقارت سے اس کی طرف دیکھتا بولا جو سکون سے کھڑی تھی ۔۔۔
ہاں ہم بیوی آپ کی اب کیوں اتنا تڑپ رہے ہے۔۔۔
روحا اسے دیکھتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔
شکل دیکھی ہے تم نے اپنی اتنی کالی ہو افففف یہ چہرہ گردن پاٶں تک کالے ہے تمہارے اور بیوی کہہ رہی ہو ۔۔۔
مجھے خوبصورت چیزیں پسند ہے گھر کے ملازم تک خوبصورت ہے میرے آس پاس ہر چیز خوبصورت ہے ۔۔۔۔
صام اس کی طرف دیکھتا نفرت سے بولا ۔۔۔
جبکہ اس کی گرین آنکھوں میں حقارت تھی ۔۔۔
ہممم اب تو بیوی ہے ہم آپ کی مجھے بھی شوق نہیں آپ کی یہ میدے جیسی شکل دیکھنے کا ۔۔۔
روحا شان بے نیازی سے کہتی بیڈ کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
اووو ہلیو مس کالی کلوٹی شکل تو اب تمہیں میری ہی دیکھنی پڑے گی ۔۔۔۔
صام اس کی کالی بازو پکڑتا غصہ سے چلایا تھا ۔۔۔۔
جبکہ چہرہ غصہ سے سرخ انگارہ بن چکا تھا ۔۔۔۔
تو ہمارا کیا قصور چھوڑ دے ہم آپ کے منہ نہیں لگنا چاہتی ۔۔۔
لگنا چاہتی ۔۔۔۔
اس کے الفاظ دل پر لگے تھے پر وہ ضبط کرتی بامشکل بولی تھی ۔۔۔۔
ویسے اس کالی شکل پر تمہیں اکڑ بہت ہے چلو مزہ آے گا تمہارے ساتھ رہ کر کیونکہ یہ اکڑ میں توڑو گا تمہاری اور رہ گی منہ نہ لگنے والی بات تو مس کالی چاکلیٹ اب منہ تو میں ہی تمہیں لگاٶ گا ۔۔۔۔۔
بس دیکھتی جاٶ ۔۔۔۔۔
صام نفرت سے اس کے گلابی ہونٹ دیکھتا بیڈ پر گراتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
ٹھرکی آنہہ۔۔۔
وہ اپنی بازو مسلتی ہوئ بولی تھی جہاں اسے جلن ہو رہی تھی ۔۔۔۔
(ارے میری بلیک بیوٹی تم بہت خوبصورت ہو یار ۔۔۔۔۔
ہیر اس کے گال کو چومتی خوشی سے بولی تھی ۔۔۔
کیا ہیر آپی ہم واقعی خوبصورت کیا ۔۔۔
روحا اپنی ڈراک براٶن آنکھوں میں اداسی لاتی ہوئ بولی ۔۔۔
سچی یار بہت خوبصورت ہو جو بھی دیکھے گا دیوانہ ہو جاۓ گا تمہارا یہ خطرناک روپ دیکھ کر ۔۔۔
ہیر مسکراتی ہوئ بولی )…
وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنی کالی شکل دیکھتی اپنی آپی کی بات سوچ رہی تھی ۔۔۔
ہاہاہا ہم خوبصورت ۔۔۔
روحا اپنے کالے ہاتھ دیکھتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔۔
جبکہ آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا ۔۔۔
(مرد کو بس خوبصورت لڑکی چاہے اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے ۔۔۔۔ جیسے میرے ساتھ ہوا تھا ۔۔۔بس تم اپنی خوبصورتی بچا کر رکھا بلیک بیوٹی ۔۔۔)…
اس کے کان میں پھر بات گونجی ۔۔۔
ہاہاہہاا ہم خوبصورت واقعی کیا ۔۔۔۔
آپی کہاں ہے دیکھے مجھے ہم کتنی خوبصورت ہے ۔۔۔۔
اب روحا زمین پر بیٹھی پاگلوں کی طرح قہقہ لگاتی بول رہی تھی ۔۔۔۔
جبکہ آنکھوں سے مسلسل آنسو گر رہے تھے ۔۔۔
صام باہر کھڑا اس کے رونے کی آواز سن چکا تھا ۔۔۔۔
تین سال صام کا ہر کسی سے رابطہ تھا اگر وہ بات نہیں کرتا تھا تو صرف روحا سے ۔۔۔
روحا کو بھی فکر نہ تھی کیونکہ وہ بلکل ہی خاموش ہو چکی تھی ۔۔۔
———————————————————–
روحا جو اپنے دھیان میں گھم ان تین سالوں کو سوچ رہی تھی جب اسے اپنی گردن پر کسی کی گرم سانسیں محسوس ہوئ ۔۔۔۔
آ۔پ آپ یہاں کیوں۔۔۔۔
روحا ہوش میں آتی بولی جہاں صام روحا اور آہان کے درمیان بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
ماما کہہ رہے یہ سیٹ میں پہناٶ تمہیں ۔۔۔۔
صام روحا کی طرف دیکھتا بولا ۔۔۔۔
لی۔لیکن ہم خودی پہن لیتے ماما ۔۔۔۔
روحا وردہ بیگم کی طرف دیکھتی گھبراتے ہوۓ بولی تھی۔۔۔۔
شوہر ہے تمہارا بیٹا وہ پہنا دے گا ۔۔۔۔
وردہ بیگم مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
ہم روم میں پہن لی۔۔۔۔
اففف مس کالی چلو چہرہ ادھر کرو میں پہنا دو ۔۔۔
روحا جو ہکلاتے ہوۓ بول رہی تھی جب صام اس کا رخ اپنی طرف کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
ص۔ام۔صام سب بیٹھے ہے باب۔۔۔۔
شششش مس کالی سیٹ پہننے دو ورنہ تمہاری یہ گرم سانسیں مجھے مدہوش کر دے گی۔۔۔۔
صام کی جیسے ہی انگلیاں روحا نے اپنی گردن پر محسوس کی اسے کرنٹ لگا تبھی گھبراتے ہوۓ بولی رہی تھی ۔۔۔۔
جب صام نے اس کی بات کاٹتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔
روحا بس چپ ہو گی تھی ۔۔۔
چلے پہن لیا سیٹ بس گردن گوری ہونی چاہے تھی ۔۔۔
صام صوفہ سے اٹھ کر کھڑا ہوتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔
شکر ٹھرکی نے کچھ ایسا ویسا نہیں کیا ۔۔۔۔
روحا شکر کا سانس لیتی دل میں سوچا ۔۔۔۔
چلو باہر آ جاٶ یافی آنے والی ہو گی ۔۔۔۔
آفندی صاحب مسکراتے ہوۓ کہتے وہاں سے چلے گے تھے ۔۔۔۔۔
مستقیم لالہ آ۔۔۔۔
آہہہہ آہہہہ ۔۔۔
روم سے وردہ بیگم صام اور آفندی صاحب باہر چلے گے تھے جب مستقیم بھی آٹھ کر جانے والا تھا ۔۔۔
آہان ویسے ہی روحا کے پاس بیٹھا تھا ۔۔۔
جب اچانک لائٹ بند ہوئ تھی روحا چلائ تھی ۔۔۔
فکر مت کرو انیجل میں دیکھ کر آتا ہو لائٹ کو کیا ہوا ۔۔۔
مستقیم اندھیرے میں ہی کھڑا بولا تھا ۔۔۔۔
لال۔۔۔۔
روحا جو بولنے والی تھی جب اسے اپنی کمر پر کسی کے ہاتھ محسوس ہوۓ ۔۔۔۔
ص۔صام آپ یہاں ہے۔۔۔۔
روحا نے ڈرتے ہوۓ پوچھا تھا ۔۔۔
مائ انیجل اففف تمہاری ہارٹ بیٹ کتنی فاسٹ ہے ریلکس ڈیول اپنی انیجل کے پاس ہے جب روشنی بند ہو گی تب اندھیرہ ہوتا ہے ۔۔۔
اور اندھیرے میں ڈیول اپنی انیجل کو ملنے آتا ہے ۔۔۔۔
روحا کو اپنے دل کے مقام پر ڈیول کے لب محسوس ہوۓ تھے ساتھ ہی سرگوشی بھی سنائ دی تھی ۔۔۔۔
ڈ۔ی۔و۔۔۔
روحا کی جان لبوں پر آ گی تھی ایک تو اندھیرے میں کچھ نظر بھی نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ ابھی بول ہی رہی تھی جب ڈیول نے اس کی سانسوں کو اپنی سانس میں قید کیا ۔۔۔۔
ایک سکنیڈ میں یہ سب ہوا تھا ۔۔۔۔
جب تک روحا اپنے ہوش سنبھالتی تب تک لائٹ آ چکی تھی ۔۔۔۔
کیا ہوا انیجل ۔۔۔
آہان روحا کی گھبرائ ہوئ شکل دیکھتا فکرمندی سے بولا تھا ۔۔۔۔
جو ہکا بکا آس پاس ماتھے پر پسینہ لاۓ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
ک۔کچھ نہیں لالہ۔۔۔۔
روحا اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی روم سے باہر چلی گی تھی ۔۔۔۔
———————————————————–
نومی تم میرے دوست ہو چاہے یہ دنیا والے کچھ بھی کہے میں وعدہ کرتا ہو صام آفندی کبھی بھی تمہیں نہیں چھوڑے گا ۔۔۔
میں نے سوچ لیا ہے میں تمہیں لندن لے جاٶ گا پھر تمہارا یہ باپ کچھ نہیں کہے گا ۔۔۔۔
پانچ سالہ صام نومی کے زخموں پر مرہم لگاتے دکھ سے بولا تھا ۔۔۔۔
صام آفندی بچپن میں ہی اتنے ایٹیٹوڈ والا تھا نہ تو وہ روتا تھا نہ ہی ہنستا تھا نہ کسی سے بولتا تھا ایک نومی ہی تھا جس کے لیے وہ اتنی کم عمر میں اپنے باپ کے آگے بول پڑتا تھا ۔۔
اگر کبھی یہ سمی مجھ سے دور ہو جاۓ تو میں کیا کرو گا ۔۔۔۔
نومی اپنی گرین آنکھوں میں آنسو لاتا بولا تھا ۔۔۔
اگر کبھی ایسا ہوا تو میرے سامنے آ جانا تاکہ مجھے یاد رہے تو میرا دوست ہے ۔۔۔
تم واقعی اندر جاٶ گے ڈیول ۔۔۔
وہ ڈیول کی گرین آنکھیں دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں صام آفندی کو یاد کروانا ہے وہ کون ہے ۔۔۔
جب ہم دور ہوۓ تھے تب وہ بہت کمزور تھا ۔۔۔
مجھے بچا نہ سکا میں جانتا ہو اب وہ کمزور نہیں ہے۔۔۔
ڈیول سامنے آفندی پلیس کی بلند عمارت دیکھتے بولا تھا ۔۔۔۔
یہ غلط ہے انیجل دیکھ لے گی تمہیں ۔۔۔
وہ جنجھلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔
دیکھ لے صام کے ساتھ میں اپنی انیجل کو دیکھو گا ۔۔۔
بہت رہ لیا صام سے دور اب میں ملنا چاہتا ہو صام سے کیونکہ صام اب انیجل کے ساتھ رہتا ہے ۔۔
وہ اپنے ساتھ لاۓ خواجہ سرا لیے اندر انٹر ہوتے بولا تھا ۔۔۔۔۔
———————————————————–
چٹاخ۔۔۔
کیا تکلیف ہے تپھڑ کیوں مارا ۔۔۔
صام جو فون پر بات کر رہا تھا جب روحا طش میں روم میں آتی اس کو تپھڑ مارا تھا ۔۔۔۔
کیا حرکت کی تھی آپ نے ابھی ا۔۔۔۔
روحا کو طش میں آتی بولی تھی جب باہر اسے میوزک کی آواز سنائ دی ۔۔۔۔
اففففف یہ شور کس کی شادی ہونے والی ہ۔۔۔۔
روحا اور صام روم سے باہر آ گے تھے جب صام سیڑھیاں اترتا ہوا بول رہا تھا ۔۔۔
لیکن سامنے والے کو دیکھ کر صام ہکا بکا رہ چکا تھا ۔۔۔
““تو ہے لاجواب تیرے جلوۓ ہزار“
“میرا بھی پتہ ہے میں نہ مانو کبھی ہار“![]()
“تیری میری دنیا میں بے حساب پیار “
”میں ہو ایک انیجل اور ڈیول میرا یار “![]()
![]()
“تیرا جیسا دنیا میں کوئ بھی نہیں “
”جیسے ڈھونڈتی نظر تو ہی ہے وہی “![]()
“پریوں کی رانی ہو میں سب سے حسین “
“پر تیرے بنا مجھے کک ملتی نہیں “![]()
روحا بھی ہکا بکا سی سڑھیاں اترتی دیکھ رہی تھی ۔۔
جہاں پورا ہال خواجہ سراوں سے بھرا ہوا تھا ۔۔
پورے ہال میں گانے کی آواز گونج رہی تھی ۔۔
جبکہ سارے خواجہ سراٶں کے درمیان میں شان بے نیازی سے چلتا ڈیول اپنے بھاری قدموں کے ساتھ روحا اور صام کی طرف آ رہا تھا ۔۔۔
جبکہ اس کی وحشت زدہ سرخ آنکھیں صرف اپنی انیجل پر ٹھکی تھی جو منہ کھولے سب کچھ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
