Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 28)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 28)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
بابا آپ ایسا کیوں کہہ رہے ۔۔۔
ہانیہ اپنے باپ سے فون پر بات کرتی بولی ۔۔
میں ٹھیک کہہ رہا چھوڑو اس لڑکے کو جس کی وجہ سے اتنا درد سہہ اسے محبت دو جو تمہارے چہرے سے نہیں دل سے محبت کرتا ہے ۔۔۔
حیدر صاحب ہانیہ کو سمجھاتے کہا وہ فون پر یہی کہہ رہی تھی اس لڑکے کو مار دے گی جس کی وجہ سے اس کا چہرہ ایسا ہوا ۔۔
اچھا سوچو اگر یہ کام منان نے کیا ہو تو تم کیا اسے جان سے مار دیتی ا۔۔۔۔
بابا ایسا کیوں بول رہے منان اتنا اچھا لڑکا ہے اسی کی وجہ سے مجھے خود اس سے محبت ہے اگر یہ کام منان نے بھی کیا ہوتا تو میں کبھی اسے کچھ نہ کہتی بلکہ معاف کر دیتی ۔۔۔
منان نے مجھے اپنایا عزت دی محبت دی اب کیا میں اسے جان سے مار دو گی پہلی بات یہ کام منان کر ہی نہیں سکتا ۔۔۔
حیدر صاحب جو کچھ سوچتے بول رہے تھے جب ہانیہ بات کاٹتی منان کا ذکر کرتی بولی ۔۔۔
ہاں تو یہی سمجھ کر تم بھول جاٶ کہ منان محبت ہے تمہاری اس کے ساتھ خوش رہو اتنا اچھا شوہر ملا ہے جو تم سے بے حد محبت کرتا ہے اسی کی خاطر تم معاف کر دو اس لڑکے کو ۔۔۔
حیدر صاحب پھر منت کرتے بولے تھے ۔۔۔
جانتے تھے ہانیہ ابھی اس بات سے بے خبر ہے ۔۔۔
آپ بھی کیسی باتیں کر رہے بابا میں کیوں منان کی جان لو گی جس انسان نے مجھے جینا سکھایا ہو میں کیسے اس کی جان لے سکتی ہو ۔۔۔
ہانیہ گم صم کھڑی منان کو بے ہوش ہوتا دیکھ رہی تھی جبکہ کانوں میں اپنے باپ کی باتیں گونج رہی تھی ۔۔۔۔
نہیں نہیں کتنا بڑا گناہ کر دیا میں نے منان میری محبت تھی اور می۔۔۔۔۔
ہانیہ جلدی سے ہوش میں آتی منان کے پاس جاتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
مانی مانی آنکھیں کھولو پلیز یہ مجھ سے کیا ہو گیا ۔۔۔۔
کتنی نا شکری عورت نکلی میں جس انسان نے مجھ سے اتنی محبت دی اس کی چھوٹی غلطی پر موت دینے جا رہی تھی ۔۔۔۔
جبکہ وہ مانتا ہے اس سے غلطی ہوئ ہے ۔۔۔
مانی پلیز آنکھیں کھولو ۔۔۔۔
ہانیہ منان کا چہرہ تھامے بولی تھی ۔۔۔
کیا کرو میں ہاے کتنا بڑا گناہ کر دیا میں نے مجھے کبھی معافی نہیں ملے گی ۔۔۔
ہانیہ مسلسل اسے ہوش میں لاتی روتے ہوۓ بول رہی تھی ۔۔۔۔
ہاں مستقیم بھائ کو فون کرتی ہو ۔۔۔
ہانیہ جلدی سے فون ملاتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں ککڑ ب۔۔۔۔
بھائ ۔۔۔۔
مستقیم جو ابھی روم میں انٹر ہوا تھا جب مسکراتا ہوا فون آٹھتا بول رہا تھا جب ہانیہ پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی ۔۔۔
ک۔کیا ہوا منان ٹھیک ہے ۔۔۔
مستقیم اچانک پریشان ہوتا بولا ۔۔۔
م۔میں ۔زہ۔زہر ۔دی۔آپ۔آ جاۓ۔۔۔۔
ہانیہ کو سمجھ نہیں آیا تھا وہ بولے کیا تبھی اٹکتے ہوۓ کہتی فون بند کر چکی تھی ۔۔۔
کس نے زہر دیا ہیلو بات تو سنو ۔۔۔۔
مستقیم فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
مانی آنکھیں کھولے پلیز ۔۔۔
ہانیہ روتی ہوئ منان کے نیلے ہونٹ دیکھتی بولی ۔۔۔
ی۔یہ زہر زیادہ پھیل رہا ہے ۔۔۔
ہانیہ اس کے ہونٹ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
مجھے تمہاری جان بچانی ہے چاہے اب میری جان چلی جاۓ ۔۔۔
ہانیہ اپنے کانپتے ہونٹ منان کے خون آلود نیلے ہونٹوں پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔
آہستہ آہستہ وہ اس کے منہ کے ذریعے زہر نکل چکی تھی ۔۔۔۔
کدھر ہے منان ۔۔۔۔
ہانیہ کو باہر دروازے کی دستک سنائ دی تبھی وہ منان کو چھوڑتی دروازہ کھولنے آی ۔۔
جب مستقیم آہان زرجان اور صام کھڑے تھے ۔۔۔
ان ۔اندر ہے ۔۔۔
ہانیہ ان چاروں کی آئ برو دیکھتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی کیونکہ ان کی آئ برو خون کی طرح ریڈ ہوئ تھی ۔۔۔۔
تم نے مارنے کی کوشش کی میں جان سے مار دو گا اگر میرے دوست کو کچھ ہوا ۔۔۔
صام اچانک ہانیہ کو گردن سے پکڑتے غصہ سے غرایا تھا ۔۔۔
چھوڑو اسے منان کو ہماری ضرورت ہے ۔۔
زرجان ہانیہ کے خون آلود ہونٹ سرخ آنکھیں دیکھ کر سمجھ چکا تھا وہ اپنی غلطی پر شرمندہ تھی تبھی اس کی گردن آزاد کرواتے وہ بولا تھا ۔۔۔
میری نظروں سے دور رہنا سمجھی ورنہ ایک منٹ میں اوپر پہنچا دو گا۔۔۔۔۔
صام غصے سے ہانیہ کو دھکا دیتے وہاں اوپر روم کی طرف چلا گیا ۔۔۔۔
———————————————————–
ڈاکٹر ڈاکٹر منان کیسا ہے اب ۔۔۔
منان کو جلدی سے ہاسپٹل لے آۓ تھے جب ڈاکٹروں نے جلدی ٹرٹمنٹ دیا تھا ۔۔۔
ابھی وہ روم سے باہر آے تھے جب ہانیہ پریشان ہوتی پاس جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
اس کو شیدید چکر آ رہے تھے جبکہ غنودگی بھی حاوی تھی اس پر لیکن وہ برداشت کیے کھڑی تھی ۔۔۔
ہم نے زہر نکال دیا ہے شکر کرے زہر پوری باڈی میں انٹر نہیں ہوا تھا ۔۔۔
بس دعا کرے ہوش جلدی آ جاۓ ۔۔
ڈاکٹر تسلی دیتا بولا تھا ۔۔۔
آپ کچھ کرے ا۔۔۔۔
یہ ہونٹ آپ کے نیلے کیوں ہے ۔۔
ہانیہ جو بول رہی تھی جب ڈاکٹر اس کے
ہونٹ دیکھتا فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔
و۔وی میں۔نے نکالا تھا ز۔۔۔
ہانیہ اب مشکل سے کہتی زمین پر گرتی بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔۔
آپ لوگ بتا نہیں سکتے تھے انھوں نے زہر نکلا تھا حد ہر لاپرواہی کی ان کی جان کو بھی خطرہ تھا ۔۔۔
ڈاکٹر ان چاروں کی طرف دیکھتا غصہ سے چلایا تھا جبکہ وہ چاروں بے حس بنے کھڑے تھے ۔۔۔۔
نہیں مرتی ڈاکٹر آٹھاٶ اسے اور علاج کرو ۔۔
صام بیزار سی شکل لے بولا تھا ۔۔۔
جانور ہو تم سب ۔۔
ڈاکٹر ابھی بھی ان سب کو سکون میں کھڑا دیکھ طش سے بولا تھا ۔۔۔۔
جانور کھا بھی جاتے ہے ڈاکٹر یہ نہ ہو تم زندہ نہ بچ سکو ۔۔۔
رہ گی اس کی بات تو اتنی سزا بتنی تھی ہمارے دوست کو جان سے مارنے کی کوشش کی ۔۔
زرجان سردپن لیے بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
یہ کیا طریقہ ہے مس لائف ۔۔۔
صام آدھی رات کو گھر آیا تھا منان ابھی بھی بے ہوش تھا جبکہ ہانیہ کی حالت بھی ٹھیک تھی ۔۔۔۔
تبھی صام اور آہان گھر آ چکے تھے ۔۔
زیرو بلب کی روشنی کیے روحا سکون سے اپنے والے روم میں بیڈ پر کمبل لے سو رہی تھی ۔۔
جب صام بھی اپنی شرٹ اتارے آرام سے کمبل کے اندر گھسا تھا ۔۔۔
صام نے جیسے ہی گہری نیند میں سوئ روحا کے سینے پر آرام سے سر رکھا تو غصہ سے بول آٹھا ۔۔۔
کیونکہ روحا کے سینے پر احمد سر رکھے سکون سے سو رہا تھا ۔۔۔
کیا مسئلہ ہے آپ کا کومل کے پاس جاۓ ہمارا ڈمپل بواۓ سو رہا ۔۔۔۔
روحا اتنی اُونچی آواز سنتی غصہ سے جاگتی غرای تھی ۔۔۔۔
آٹھاٶ اس چونے کو ورنہ ابھی دروازے سے پھیک دو گا ۔۔۔
صام احمد کو پکڑتے بیڈ کے نیچے لیٹایا تھا ۔۔۔۔
شرم کرے بچہ ہے چھوٹا سا ا۔۔۔
راضیہ راضیہ ۔۔۔
روحا جو بیڈ سے اٹھ کر بیٹھتی بول رہی تھی جب صام وہی لیٹا سکون سے دھاڑا ۔۔۔
ج۔جی سر ۔۔۔
راضیہ بوتل کے جن کی طرح روم میں حاضر ہوئ تھی ۔۔۔
اٹھاٶ اس چونے کو اور دو جا کر اس کے ماما بابا کو ۔۔۔
صام روحا کو واپس اپنے ساتھ لیٹاتے بولا تھا ۔۔۔
نہیں تم یہی روک جاٶ راضیہ ڈ۔۔۔
راضیہ سوچو اگر تمہاری ایک ٹانگ اور ایک بازو نہ ہو تو کیا کرو گی ۔۔۔۔
روحا بیڈ سے دوبارہ اٹھتی بول رہی تھی جب صام راضیہ کی طرف دیکھتا سردپن سے بولا تھا ۔۔۔۔
جی سر میں لے کر جا رہی ۔۔۔
راضیہ ڈرتی جلدی سے احمد کو قالین سے آٹھاتی سر پٹ بھاگی تھی ۔۔۔۔
راضیہ جاہل ہماری بات س۔۔۔۔
شششش مس لائف سارا دن میں تم سے دور رہتا ہو ایک رات ہوتی ہے جب میں تمہارے پاس آتا ہو اب مت بولنا مجھے سکون چاہے ۔۔۔۔
روحا جو سرخ چہرہ لیے بول رہی تھی جب صام اپنا سر اس کے سینے پر اور ٹانگیں روحا کی ٹانگوں پر رکھتے سرگوشی کرتے بولا تھا ۔۔۔۔
سکون مائ فوٹ۔۔۔
آپ کی اتنی انسلٹ کی ہم ن۔۔۔۔
تمہاری ہارٹ بیٹ کی آواز بہت پیاری ہے مس لائف جیسے کوئ مدھم چلتا میوزک ہو ۔۔۔
روحا صام کو بالوں سے پکڑتی بول رہی تھی جب صام اپنے ہونٹ اس کے دل پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔
انہہ ٹھرکی ۔۔۔
روحا نے اپنی کہنی اس کے پیٹ پر ماری جب صام اس کے دونوں بازو پکڑے اپنی کمر پر لگاۓ پورا وزن روحا پر ڈالتے سو چکا تھا ۔۔۔۔
روحا قابو میں آتی بس جنھجلا سکی ۔۔۔
————————————————————
ارے میرے بیٹے کو کیا ہوا ۔۔۔
ہیر احمد کو روتا راضیہ کے ساتھ آتا دیکھ پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
م۔ما۔ماما چ۔چاچو۔گن۔گندے ہے ۔۔۔
احمد بھاں بھاں کرتا ہیر کی گود میں آتا بولا تھا ۔۔۔۔
کتنی دفعہ کہا بیٹا بلیک بیوٹی کے پاس مت جایا کرو تمہارے چاچو کو اچھا نہیں لگتا ۔۔۔
ہیر مسکراتی ہوئ بولی تھی جانتی احمد روحا کے بنا ایک پل نہیں رہتا تھا ۔۔۔۔
بابا ۔۔۔۔۔
احمد اب نیند سے جاگ گیا تھا جب بیڈ پر بیٹھے واش روم سے باہر آتے آہان کو شرٹ لیس دیکھتے رونی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ارے میرا لٹل چمپین کیسے ہو بابا نے بہت مس کیا اپنے بیٹے کو ۔۔۔۔
آہان ویسے ہی مسکراتا ہوا احمد کے پاس آتا اس کے اوپر جھکے بولا تھا ۔۔۔
کشادہ سفید شفاف چہرہ گرین آنکھیں گالوں پر پڑتے ڈمپل مضبوط کشادہ سینہ جس پر پانی بہہ رہا تھا جبکہ گیلے بالوں سے پانی گرتا احمد اور ہیر کے چہرے پر پڑ رہا تھا کیونکہ احمد ہیر کے سینے پر سر رکھے لیٹا تھا ۔۔۔
بابا خ۔خون ۔۔۔
احمد آہان کے شولڈر سے خون نکلتا دیکھ روتے ہوۓ بولا ۔۔۔
ارے میری جان یہ چھوٹی سی چوٹ ہے دیکھنا ابھی روک جانا خون ۔۔۔
آہان جلدی سے ہیر کی طرف دیکھتا بولا تھا ہیر بھی خون دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔
دونوں کی نظریں ملی تھی ساتھ ہی ہارٹ بیٹ مس ہوئ تھی ۔۔۔
————————————————————
ماما بابا کے تون نتل رہا ۔۔۔
احمد جو ابھی بھی آہان کو دیکھ رہا تھا جو آئنیہ کے سامنے کھڑا اپنے شولڈر پر سے خون صاف کر رہا تھا ۔۔۔
تبھی احمد روتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
اچھا میں دیکھتی ہو تم سو جاٶ ۔۔۔
ہیر اب واقعی پریشان ہوتی بیڈ سے اٹھتی بولی تھی ۔۔۔۔
میرا تو احساس ہی نہیں لیکن بیٹے کا احساس کر لیتے اگر خون نکل رہا تھا ڈاکٹر کو چیک کروا لیتے آپ ۔۔۔۔
ہیر آہستہ اہستہ چلتی آہان کے پیچھے کھڑی ہوتی منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔
ہیر کی آواز اپنے قریب سنتے آہان کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔
ادھر آو ۔۔۔
ہیر آہان کو خاموش کھڑا دیکھ بازو سے پکڑے کرسی پر بیٹھا چکی تھی ۔۔۔
یہ تو گولی کا نشان ہے آہان ۔۔۔۔
ہیر اس کے شولڈر پر گولی کیا نشان دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں بس منان کے ساتھ گیا تھا وہاں کچھ غنڈے آ گے ۔۔۔۔
آہان ہیر کے ہائ لائٹ براٶن بالوں سے کیھلتا ہوا مسکراتا بولا تھا ۔۔۔۔
ہیر خاموشی سے خون کاٹن سے صاف کر رہی تھی جب اسے آہان کے ہاتھ اپنی کمر پر محسوس ہوۓ۔۔۔۔۔
آہان کیا کر رہے آپ بیٹا سامنے بیٹھا ہے ۔۔۔۔
ہیر سرخ چہرہ لیے احمد کی طرف دیکھا جو اپنی بڑی بڑی گرین آنکھیں لے ان کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
معافی مل سکتی ہے ہیر ۔۔۔
آہان اپنے لب اس کی گردن پر رکھتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔۔
دور رہو ہوس پرست انسان پہلے کیا کم فائدہ آٹھایا ہے میرا جو اب بھی یہی کام کر رہے ہو اگر میں آپ کے پاس آئ تو اپنے بیٹے کی وجہ سے ۔۔۔
ہیر اچانک دور ہوتی غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔
مامماممممم۔۔۔۔
ہیر کی چلانے کی آواز سنتے احمد بھاں بھاں کرتا رونا شروع کر چکا تھا ۔۔۔۔
احمد کو دیکھ لو ۔۔۔
آہان شرمندہ ہوتا ہیر کا سرخ چہرہ دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
ہیر آپی کیا ہوا آپ کو ۔۔۔
روحا صبح ہیر کے پاس آتی فکرمندی سے بولی ۔۔۔
کچھ نہیں انیجل بس طیبعت نہیں ٹھیک ۔۔۔
ہیر اپنا سر پکڑتی بہانہ بناتی بولی ۔۔۔
آپی کتنی دفعہ کہا آرام کرے ابھی تو ٹھیک ہوئ آپ ۔۔۔
روحا پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
کیا ہوا مجھے مرنے والی تھی تم لوگوں نے بچا لیا جس سے جان چھڑوا کر مرنے والی تھی اسی کے ساتھ شادی کر دی میری ۔۔۔
ہیر شدید غصہ میں آتی پھٹ پڑی تھی ۔۔۔۔
آپی ایسی بات نہیں کچھ ہفتوں پہلے ہی آپ کی شادی لالہ سے کروائ میں نے وہ اچھے انسان ہے ا۔۔۔۔
روحا جو واقعی پریشان ہوتی بول رہی تھی جب ہیر پھر بولی ۔۔۔
اچھے انسان سیرسیلی بلیک بیوٹی ہوس پرست انسان ہے وہ ا۔۔۔۔۔
کیا باتیں ہو رہی بہنوں میں ۔۔۔۔
کومل دونوں کے پاس آتی بولی تھی ۔۔۔
تم سے مطلب جاٶ یہاں سے ۔۔۔
روحا برا سا منہ بناتی بولی تھی وہ ابھی پریشان تھی وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
تمہارے جو مطلب ہے مس کھڑوس وہ میں دیکھ رہی ہو میرے صام بے بی کو دھوکا دے رہی اس شعیب سے مل ک۔۔۔۔۔
کومل جو پتہ نہیں کس بات کا غصہ روحا پر چلاتے اتار رہی تھی جب ہیر نے زور سے تھپڑ مارا ۔۔۔۔
سوچ سمجھ کر بولا کرو لڑکی میری بلیک بیوٹی تمہاری طرح بدکردار نہیں ہے جو کسی کا گناہ لے کر پھیرتی ہے ۔۔۔
ہیر کومل کا سرخ چہرہ دیکھتی بولی تھی ویسے بھی ہیر کو غصہ اتارنے کے لیے کوئ چاہے تھے ۔۔۔۔
لالہ ہم دونوں کو یہ لڑاکا بیویاں کیوں ملی ہے میری والی کیا کم جنگلی بلی ہے جو یہ بھابھی بھی ویسی ہو گی ۔۔۔۔
صام اور آہان ناشتہ کرنے ڈائینگ ہال انٹر ہوۓ تھے جب سامنے کا منظر دیکھتے صام نے آہان کے کان میں سرگوشی کی تھی ۔۔۔۔
کیونکہ ہم دونوں معصوم ہے اس لیے ۔۔۔
آہان ہیر کو کافی عرصے بعد اپنی ٹون میں آتے دیکھ مسکراتے بولا تھا ۔۔۔
میں تو معصوم نہیں ۔۔۔
صام اپنے کندھے اچکاتے بولا تھا ۔۔۔
تو پھر کیا ہو ۔۔۔
آہان نے سوالیہ انداز سے پوچھا ۔۔۔
ٹھرکی لوفر بے شرم انسان ہے یہ عقل سے پیدل بھی اور ۔۔۔۔۔
صام کے بولنے سے پہلے روحا قریب آتی دانت پیستی بولی تھی ۔۔۔
ریلکس میری جان اتنی جلدی کیوں بول رہی آرام سے بولو اور باقی کے نام بھی سوچ لو ۔۔۔
صام مسکراتے ہوۓ روحا کی طرف دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
سانڈ وحشی جنگلی حیوان اور ڈیش ڈیش ڈیش ۔۔۔۔
روحا اب شدید غصہ میں آتی صام کی طرف دیکھتی بول رہی تھی جب آگے نام نہ یاد کرتی ڈیش ڈیش بول گی ۔۔۔
ہاہاہاہاہا ۔۔۔
واٹ ڈیش ڈیش کیوں۔۔۔۔
آہان دونوں کی لڑائ دیکھتا قہقہ لگاتا بولا تھا ۔۔۔
وہ ہمیں نام نہیں یاد آ رہے تو خودی سوچ لے ہم کیا کہنا چاہتے ہے ۔۔۔۔
روحا اپنے بالوں کو جھٹکتی ہوئ وہاں سے چلی گی ۔۔۔
ہاں میری روحابے بی کہہ رہی صام انتہا کا شریف ہے معصوم سا ہینڈسم ڈشنگ اتنا خوبصورت ہے مجھے پیار ہے صام سے ۔۔۔
صام روحا کا ڈوپٹہ پکڑے پیچھے جاتے شرارتی انداز سے بول رہا تھا ۔۔۔
توبہ توبہ حد ہے ٹھرکی پن کی ہم نے کب کہا ہے ۔۔۔
روحا صام سے ڈوپٹہ چھڑواتے طش سے بولی تھی ۔۔۔۔
تم نے خودی ایڈ کرو اس ڈیش ڈیش کے مطلب ۔۔۔
صام روحا کو ویسے ہی دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
توبہ أستغفر الله أستغفر الله أستغفر الله کتنا جھوٹ
بول رہے ۔۔۔
روحا غصہ سے جنجھلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہاہاہا ۔۔۔۔
آہان دونوں کی حالت دیکھتا قہقہ لگاتا ہوا ہیر کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
بابا تون تو نتل لاہا ۔۔(بابا خون تو نہیں نکل رہا)…
ارے بابا کے شیر کہاں خون نکل رہا آپ پریشان نہ ہو ۔۔۔
آہان احمد کے گال چومتے بولا تھا ۔۔۔
میرا بیٹا ہے یہ دور رہا کرے ۔۔۔
اچانک ہیر احمد کو پکڑتی غصہ سے بولی تھی ۔۔
کیا مطلب ہیر تمہارا بیٹا ہے تو میرا نہیں کیا ہم دونوں کا ہے یہ ا۔۔۔۔
نہیں تمہاری ہوس کا نشانہ بنی میں ہمارا گناہ ہے یہ ۔۔۔
آہان جو پریشان ہوتا بول رہا تھا جب ہیر چلائ ۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ کون سی ہوس میں م۔۔۔
ماما بابا لڑ رہے ۔۔۔
احمد دونوں کو دیکھتا بولا تھا جب آہان کی بات رہ گی ۔۔
نہیں بیٹا ماما بات کر رہی آپ انیجل کے پاس جاٶ ۔۔۔
آہان احمد کو روم کے باہر جا کر چھوڑتے بولا تھا ۔۔۔
کیا ہوا ڈر گے کہ کہی تمہارا بیٹا یہ تمہارا حیوان والا چہرہ نہ دیکھ لے ا۔۔۔
کیا حیوانیت کی میں کیا کیا تم بھی اس میں شامل تھی روک سکتی تھی مجھے ۔۔۔
ہیر جو طنز کرتی بول رہی تھی جب آہان بازو سے پکڑے چلایا تھا ۔۔۔۔
روکا تھا بہت زیادہ منت کی تھی تمہارے سامنے کتنی دفعہ روی میں معافی مانگی لیکن تم نے زرا ترس نہیں کھایا ۔۔۔
دنیا کی نظر میں ایک بزنس ٹائکون مسٹر آہان آفندی کتنا اچھا انسان ہے جبکہ میں جانتی ہو تم زانی ہو ایک زانی او۔۔۔۔۔
ہیر جو غصہ سے پھٹتی بول رہی تھی تبھی آہان نے اس کے لبوں پر لب رکھے ۔۔۔۔
ہیر تو حیران رہ گی تھی آہان کے ردعمل سے ۔۔۔۔
د۔دور رہو ۔۔۔
ہیر ہمت جمع کرتی گہرے سانس لیتی اسے دور کرتی بولی ۔۔۔۔
معاف کر دو ہیر پلیز میں بہت تڑپا ہو میں مانتا ہو میں نے گناہ کیا میں اس رات بہک گیا تھا۔۔۔
روز میں رات کو سونے سے پہلے اپنے اللہٌ سے معافی مانگتا تھا روتا تھا تڑپتا تھا ۔۔۔
آہان ہیر کے قدموں میں بیٹھتا روتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ہیر چپ ویسے ہی کھڑی تھی ۔۔۔
جس رات وہ سب ہوا اسی دن بابا سے اپنی شادی کی بات کی تھی میں نے ۔۔۔
آہان سر جھکاۓ بولا تھا ۔۔
————————————————————
“ماضی ۔۔۔۔
“”چار سال پہلے ۔۔۔
بابا کب پاکستان آ رہے آپ لوگ ۔۔۔
آہان فون پر بات کرتا چہکتے ہوۓ بولا ۔۔۔
ہم جلدی آ جاۓ گے بس ڈیل ہو جاۓ تم بتاٶ اتنے خوش کیوں ہو ۔۔۔
آفندی صاحب آہان کی خوشی محسوس کرتے بولے ۔۔۔
بابا میں شادی کرنا چاہتا وہ بھی ہیر سے ۔۔۔
آہان ہمیشہ سے ہنس مکھ اور ہر بات آرام سے شئیر کرنے والا تھا ۔۔۔
ہیر کون ۔۔
آفندی صاحب نے حیران ہوتے پوچھا ۔۔۔
زیدی انکل کی بڑی بیٹی ہیر زیدی میں اس سے بہت پیار کرتا ہو بس شادی کرنا چاہتا ۔۔۔
آہان ویسے ہی مسکراتے بولا تھا ۔۔۔
بڑی اچھی بات ہے میں اور تمہاری ماما پاکستان آ جاۓ پھر تمہارے لیے ہیر اور ہڈ حرام نکمے کے لیے روحا کا ہاتھ مانگ لو گا ۔۔۔
آفندی صاحب خوش ہوتے بولے تھے ۔۔۔
جی بابا جیسے مرضی آپ کی اچھا لگتا ہیر آ گی اسٹڈی کرنے ۔۔۔
آہان جو فون پر بات کر رہا تھا جب روم کے دروازے پر دستک ہوئ ۔۔۔۔
ارے تم آ گی آج تو بارش ہو رہی تھی ۔۔۔
آہان اپنے سامنے بارش سے بھیگی ہیر کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
بالوں کی پونی ٹیل بیلو ہی ٹاپ اینڈ جینز پہنے وہ بھیگی ہوئ آہان کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔۔
ارے آپ پیچھے تو ہٹے میں اکیلی ہو گی ساری ۔۔۔۔
ہیر لاپرواہی سے آہان کو پیچھے کرتی بولی تھی ۔۔۔
ہیر کو اپنی اسٹڈی میں مشکل پیش آتی تو وہ آہان کے گھر آ کر سمجھ لیتی تھی ۔۔۔۔
آج بھی ایسا ہی ہوا وہ روحا کی سننے بنا ہی یہاں آ گی تھی ۔۔۔۔
ہاں تم چاہو تو کپڑے چینج کر لو ۔۔۔۔
آہان کی طرف سے نظریں چڑاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
گھر میں خاموشی ہے فیا مستقیم کدھر ہے ۔۔۔۔
ہیر اپنے بالوں کو کھولتی ہوئ بولی ۔۔۔۔
دونوں باہر گے ہے ائسکریم کھانے ۔۔۔۔
آہان نروس ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
یہ نہیں تھا اس نے کبھی حسین لڑکیاں نہیں دیکھی لیکن وہ ہیر سے بے حد محبت کرتا تھا ۔۔۔
نہیں چاہتا تھا کچھ غلط ہو ۔۔۔
اچھا تم مجھے سمجھا دو ۔۔۔۔
ہیر آہان کا ہاتھ پکڑے اسے صوفے پر بیٹھاتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
———————————————————–
بارش کا موسم اپنے قریب بیٹھی محبت کو دیکھتے آہان بہک چکا تھا ۔۔۔۔۔
اس کے ہوش کام کرنے چھوڑ چکے تھے ۔۔۔۔
تم بہت پیاری ہو ہیر ۔۔۔
کافی ٹائم سے آہان اسے پڑھا رہا تھا جب اس کا ٹھنڈا ہاتھ پکڑے وہ بہکے انداز سے بولا ۔۔۔۔
پیاری تو بلیک بیوٹی ہے میں کہاں پ۔۔۔۔۔
تم بہت پیاری ہو میری نظر سے دیکھو یہ آنکھیں یہ کان یہ ہونٹ ۔۔۔۔
ہیر جو نارمل سے ہوتی بول رہی تھی جب آہان اس کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔۔
م۔مجھے ج۔جانا چاہے رات ہ
۔۔۔
ہیر جو آہان کا بہکا انداز دیکھتی ڈرتے ہوۓ بول رہی تھی جب آہان اسے صوفے پر گرے خود حاوی ہوا ۔۔۔۔
ی۔یہ غلط ہے آہان مء۔۔۔۔
ہیر جو ڈرتے ہوۓ بول رہی تھی آہان نے اپنے لب اس کی گردن پر رکھے ۔۔۔۔
ہیر روتی منت کرتی چیختی رہی لیکن آہان جیسے مضبوط لڑکے کے سامنے نازک ہیر جیسی لڑکی کی مزاحمت نہ چل سکی ۔۔۔۔
————————————————————
“”حال ۔۔۔
جب صبح مجھے ہوش آیا تب سمجھا مجھ سے کتنا بڑا گناہ ہو چکا ہے ۔۔۔۔
کافی دفعہ اپنی غلطی کی معافی مانگے تمہارے گھر بھی آیا لیکن تم کبھی ملی ہی نہیں مجھے۔۔۔۔
میں روتا تھا چیختا تھا اپنے گناہ کی معافی مانگتا تھا ۔۔۔۔
کہتے ہے تنہائ میں بیٹھے مرد اور عورت کے دماغ پر شطان حاوی ہوتا ہے وہ شطان مجھ پر حاوی ہوا تمہاری زندگی برباد کر دی ۔۔۔۔
میں نے بہت ہمت جمع کرتے بابا سے کہا وہ رشتہ بیھج دے تمہارے گھر لیکن ہمیں پتہ چلا تم اور انیجل ملتان چلے گے ا۔۔۔۔۔
اور وہاں میں نے اپنے بیٹے کو پیدا کیا جانتے ہو یہ شکل سے بلکل تمہارے جیسا تھا ۔۔۔۔
میں تو زندہ نہیں رہنا چاہتی تھی لیکن بلیک بیوٹی کی وجہ سے زندہ رہی میری چھوٹی بہن نے سبنھالہ مجھے ۔۔۔
پھر احمد میری زندگی میں آیا لیکن اس کی شکل دیکھ کر مجھے آپ یاد آ گے وہ زیادتی یاد آ گی جو آپ نے میرے ساتھ کی ۔۔۔
آہان ابھی بھی اس کے قدموں میں بیٹھے روتے ہوۓ بول رہا تھا جب ہیر سپاٹ انداز سے بولی ۔۔۔
مجھے اتنی شدید نفرت ہوئ اسی وقت خودکشی کر لی میں نے لیکن بلیک بیوٹی نے بچا لیا ۔۔۔۔
ہیر طنزیہ ہنسی ہنستے بولی ۔۔۔۔
———————————————————–
““ماضی ۔۔۔۔
ڈاکٹر ڈاکٹر میری بیٹی کیسی ہے ۔۔۔
زیدی صاحب جلدی سے بولے ۔۔۔
جبکہ روحا احمد کو گود میں اٹھاۓ رو رہی تھی ۔۔۔
سوری زیدی سر ہم آپ کی بیٹی کو بچا نہیں سکے ۔۔۔
لیڈی ڈاکٹر افسوس سے بولی ۔۔۔
مطلب۔۔۔۔
زیدی صاحب شوک ہوتے بولے ۔۔۔۔
بے بی کیری کیا انھوں نے جس کی وجہ سے کافی ویک تھی اب خودکشی کرنے کے لیے زہر کھا لیا ۔۔۔۔
وہ تو جلدی ٹرٹمنٹ سے زہر تو باڈی سے باہر آ گیا لیکن اب وہ کوما میں چلی گی ہے ۔۔۔۔
کوما میں گیا ہر شخص مردہ ہی ہوتا ہے شاہد آپ کی بیٹی کوما سے باہر آ سکے ۔۔۔۔
ڈاکٹر نے تفصیل سے بات سنائ ۔۔۔
ہم خیال رکھ لے گے میری بیٹی ٹھیک ہو جاۓ گی ۔۔۔۔
————————————————————
““حال..
جب پتہ چلا تم اس دنیا میں نہیں رہی اور احمد ہمارا بیٹا ہے میں احمد کو لیے غم و دکھ سے پاکستان چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔۔
ساری ساری رات تڑپتا تھا اگر سزا تم نے کاٹی ہے ہیر تو سزا میں نے بھی کاٹی ہے روتے تڑپتے ہوۓ ۔۔۔۔
تم چاہتی ہو اگر میں سب کے سامنے اپنا گناہ قبول کر لو میں کر لو گا اپنا یہ گناہ لیکن مجھے معاف کر د۔۔۔۔
نہیں چاہے معافی مجھے سمجھے آپ پہلے گناہ کر لیا پھر آسانی سے معافی مانگ لی واہ ہ ہ کیا طریقہ ہے تڑپے گے اور زیادہ تڑپے گے آپ ۔۔۔
آہان اپنے ہاتھ جوڑتا بول رہا تھا جب ہیر غصے سے پیچھے ہوتی بات کاٹتی روم سے باہر چلی گی تھی ۔۔۔۔
لیکن روم سے باہر آتے اس کا سانس روک گیا تھا اسے سامنے دیکھتے جو ان دونوں کی باتیں سن چکا تھا۔۔۔۔۔
م۔یری با۔۔۔۔۔
ہیر اپنے خشک ہوتے ہونٹوں پر زبان پھیرتی بولنے والی تھی جب سامنے والے نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا۔۔۔۔
