Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 36)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 36)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
مجھے بہت خوشی ہوئ تم میرے غریب خانے میں آئ ۔۔۔
روحا احمد کو لیے اس کے ساتھ چلتی ایک بے حد خوبصورت بیڈ روم میں آئ تھی ۔۔۔
جب وہ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
کہاں سے غریب خانہ آپ کا یہ مسٹر این اتنا خوبصورت گھر ہے یہ ۔۔
روحا خوش ہوتی بولی تھی ۔
ہاہہااہاہ یہ بس میرے دوست کو پسند ہے کیونکہ اسے خوبصورتی بہت پسند ہے تبھی اس نے میرا روم بھی ایسا تیار کروا دیا ۔۔
مسٹر این قہقہ لگاتا ہنسا تھا ۔۔۔
اچھا آپ جانتے کیا ہمیں انیجل کہتے ہے اور صام کو بھی کیا جانتے ہے ۔۔۔۔
روحا کنفیوژ ہوتی بولی تھی کیونکہ وہ اسے انیجل ہی کہہ رہا تھا ۔۔۔
آو تمہیں ایک چیز دیکھاٶ ویسے تم آ کیوں انیجل ۔
وہ روحا کو لیتا روم سے باہر لاتا بولا تھا ۔۔۔
جہاں روم کی دوسری طرف دروازہ کھولتا تھا ۔۔۔
وہ ہم یہاں پیسے ڈونیٹ کرنے آۓ ہے ہم نے سنا ہے آپ غریب لوگوں کی مدد کرتے ہے اس لیے ۔۔۔
روحا ساتھ چلتی ہوئ بول رہی تھی جب ایک لیفٹ کے سامنے روکی تھی ۔۔۔
آو
روک کیوں گی ۔۔
وہ اندر جاتا حیران ہوتا بولا تھا ۔۔
ہمیں ڈر لگتا ہے اندر جانے سے ۔۔
روحا مسکراتے بولی تھی ۔۔۔
اچھا مجھے پتہ تھا چلو میرے ساتھ اب ۔۔۔
مسٹر این مسکرایا تھا ۔۔۔
تبھی وہ لیفٹ سے باہر آتا بولا تھا ۔۔۔۔
یہاں بیٹھ جاٶ یہ تمہیں وہاں چیرٹی فانڈیشن لے جاۓ گی ۔۔۔
مسٹر این نے اشارہ کیا تھا جب ایک گرل ہلمنٹ پہنے ایک ہیوی بائیک آئ تھی جب مسٹر این بولا تھا ۔۔۔
لیکن ہم کیسے آپ ایسا کرے یہ چیک رکھ ل۔۔۔۔
بلکل نہیں ویسے بھی اس فانڈیشن کا اونر آیا ہے ان کو چیک دے آۓ گھبراو مت یہ ڈمپل بواۓ مجھے دو میں آتا ہو ۔۔۔
میم کو اچھے سے لے کر جاٶ اوکے ۔۔۔
مسٹر این روحا کو بائیک پر بیٹھاۓ گرل کو ہدایت دیتا بولا تھا ۔۔۔۔
جبکہ روحا اب ڈر رہی تھی کہی غلط جگہ تو نہیں آ گی ۔۔۔
————————————————————
وا۔ہ۔ہ۔اتنی خوبصورت جگہ ہاےےے ہمیں یقین نہیں آ رہا ۔۔۔
روحا جیسے ہی فانڈیشن پہنچی تھی سامنے کا منظر دیکھتی خوشی اور حیرانی سے بولی تھی ۔۔
جہاں لاتعداد چھوٹے چھوٹے بچے خوبصورت سے گراٶنڈ میں کھیل رہے تھے ۔۔۔
جبکہ سامنے بڑی چھوٹی خوبصورت سی شاپ تھی جہاں ہر چیز تھی ۔۔۔
وہاں بہت سے خوبصورت لڑکے اور لڑکیاں کام کر رہے تھے ۔۔۔
جبکہ کچھ معذور لڑکے لڑکیاں وہاں خریداری کر رہے تھے ۔۔۔
مطلب کہ ان سب کے لیے وہ ایک چھوٹا سا مال تھا جہاں ہر کوئ اپنی پسند کی چیزیں لے رہے تھے ۔۔۔
مجھے لگتا انیجل کو یہ جگہ پسند آئ ۔۔
مسٹر این پاس آتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
بہت پیاری جگہ ہے کتنا سکون ہے یہاں ہمیں امید نہیں تھی باہر سے دیکھنے والا ایک فلاحی ادراہ اندر سے ایک خوبصورت دنیا ہے ۔۔۔
دیکھے یہاں ہر طرح کے لوگ ہے معذور ہے کسی کے چہرے جلے ہوۓ ہوۓ کوئ نابینا ہے مطلب کہ ان سب کی یہ یہی دنیا ہے آپ تو بہت اچھا کام کر رہے ۔۔۔
روحا سب کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
بس یہ چھوٹی سی کوشش ہے میرے سر کی ویسے تم کو کون سی مدد چاہے ۔۔۔
مسٹر این روحا کو ساتھ لے کر جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جہاں وہ ہر طرف سب کو دیکھتی جا رہی تھی ۔۔۔
بھول گے ہم خوشی کے مارے یاد نہیں آ رہا ۔۔۔
روحا سرخ چہرہ لیے مسکراتے معصومیت سے بولی تھی ۔۔۔
ہاہااہہاہا چلو کوئ بات نہیں آو سب سے ملواٶ ۔۔
مسٹر این قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔
ادھر آو سب ان سے ملو یہ مسز صام آفندی ہے آج ہمارے غریب خانے میں آئ ہے ۔۔۔
مسٹر این سب کو آواز دیتا بولا تھا ۔۔۔۔
جب سارے بات سنتے جلدی سے اپنی اپنی شاپ سے باہر آۓ تھے ۔۔۔۔
میم آپ ک۔۔۔
ہمارا نام روحا ہے اور یہ ہمارا ڈمپل بواۓ ہے ۔۔۔۔
ایک لڑکی مسکراتی ہوئ پاس آتی بول رہی تھی جب روحا بات کاٹتی مسکراتے بولی تھی ۔۔۔
لیکن ہم آپ کا نیم نہیں لے سکتے میم آپ ت۔۔۔۔
ارے چھوڑو ہمیں تو میم کو بلیک روز دینے چاہے پہلی دفعہ یہ آئ ہے ۔۔۔
اس سے پہلے لڑکی کچھ کہتی جب ایک لڑکا ہاتھ ناچتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ی۔یہ ۔۔۔
تمہارے سامنے جیتنے بھی لڑکیاں لڑکے کھڑے ہے سارے خواجہ سرا ہے ۔۔۔
مسٹر این روحا کو شوک دیکھتے اس کے بولنے سے پہلے خودی بولا تھا ۔۔۔
کیا مطلب یہ تو کام کتنا اچھا ہے ہاےےےے آپ کے سر کتنے اچھے ہے جو خواجہ سراٶں کا احساس کرتے ہے ۔۔۔۔
ورنہ ہمارے معاشرے میں خواجہ سراٶں کو گالی سمجھا جاتا ہے کوئ کوئ عزت دیتا ہے ۔۔۔
یہ تو لگتے ہی نہیں خواجہ سرا ہے ور۔۔۔۔
ہر خواجہ سرا کا کام نہیں ہوتا کہ وہ ناچ گانا ہی کرے ہم یہاں ان سب کو اچھی تعلیم دیتے ہے پھر یہ یہاں جاب کرتے ہے ادھر ہی ان سب کے چھوٹے چھوٹے ذاتی گھر ہے ۔۔۔۔
اور باقی جو غریب لوگ ہے ان کی مدد کی جاتی ہے جیسے وہاں دیکھو ہر ضرورت کی چیزیں دی جاتی
ہے ۔۔
روحا خوش ہوتی بول رہی تھی جب مسٹر این اسے سامنے دیکھاتا بولا تھا ۔۔۔
جہاں ایک لمبی قطار غریب لوگوں کی لگی تھی ۔۔۔
اور انہیں راش اور کپڑے دے جا رہے تھے ۔۔۔
ہمممم بہت اچھا کام ہے کیا ہم آپ سب سے سلام لے سکتے ہے ۔۔۔۔
روحا خوشی سے پاگل ہوتی اپنے سامنے خواجہ سراٶں کو دیکھتی بولی تھی جو اپنی لک اور ڈراسینگ سے بلکل نہیں لگ رہے تھے ۔۔۔
جی میم ۔۔۔
سب لڑکیاں مسکراتی ہوئ آگے آتی بولی تھی ۔
جب روحا اپنے نرم ملائم ہاتھوں سے سب کے ساتھ ہاتھ ملا رہی تھی ۔۔۔۔
سر آ گے سر آ گے ۔۔۔۔
روحا سب سے مل رہی تھی جب ایک لڑکی بھاگی ہوئ آتی زور سے بولی تھی ۔۔۔۔
سر کا نام سنتے سارے ایسے بھاگے تھے جیسے موت کا فرشتہ آ گیا ہو ۔۔۔
لگتا آپ کے سر سخت ہے تبھی سارے بھاگ گے جیسے ڈیول آیا ہو ۔۔۔
روحا سب کی حالت دیکھتی بولی تھی ۔۔
سخت نہیں ہے بس سر کو فارغ لوگ اچھے نہیں لگتے آۓ میں تمہیں ملا دو اور ہاں مجھے لالہ کہا لیا کرو ۔۔۔
مسٹر این احمد کو ایک لڑکی کو دیتا روحا کو اپنے ساتھ آگے لے کر جاتے بولا تھا ۔۔۔۔
———————————————————-
وہ رہے سر تم مل لو ۔۔
مسٹر این سامنے گراونڈ میں بچوں کے ساتھ کھیلتے شخص کو دیکھتے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
آپ کی آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے جیسے سر آپ ک۔۔۔
سر میرے لے سب کچھ ہے بلکہ مجھے اس مقام پر لانے والے سر ہے اور دوسری بات مجھے موت کے منہ سے واپس لانے والا بھی یہی شخص ہے خیر تم ملو ۔۔۔۔
روحا اس کی گرین آنکھوں میں اتنی چمک لیے دیکھتے بول رہی تھی جب مسٹر این بولتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
روحا حیران ہوئ تھی لیکن اپنا دھیان سامنے کی طرف لگاتی چل پڑی تھی ۔۔۔
جہاں کافی سارے بچوں کے درمیان اُونچا لمبا باڈی بلڈر بلیک ٹی شرٹ بلیک ہی پینٹ پہنے پیسنے سے بھیگے بال جو اس کے شولڈر سے چپکے تھے وہ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ فٹ بال کھیل رہا تھا ۔۔۔
جبکہ بنا شوز کے روحا کو بس اس کے سرخ سفید زخمی پاٶں اور بیک دیکھائ دی تھی ۔۔۔۔
آپ۔آپی جی ۔۔۔
اس سے پہلے اس شخص کو مخاطب کرتی جس کے بے حد وہ قریب کھڑی ہو چکی تھی روحا کی دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی ایک مخصوص خوشبو محسوس کرتے ۔۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ سوچتی جب اس کے پاٶں کے پاس ایک بچے نے روتے ہوۓ بلایا تھا ۔۔۔۔
ارےے بے بی آپ کیسے گر گے ہاےے سوری میری جان آپ کو لگی تو نہیں چوٹ تو نہیں آی ۔۔۔
روحا اپنے سامنے ایک خوبصورت سی بچی کو دیکھتے پریشانی سے بولی تھی ۔۔۔
جہاں وہیل چیئر سے ایک چھ سالہ لڑکی بنا ٹانگوں کے گھاس پر گری تھی ۔۔۔
و۔وہ میں آپ کو آواز دے رہی تھی آپ کی چادر یہاں پھس چکی تھی ۔۔۔
آپ نے سنا ہی نہیں میری وہیل ساتھ چلتی رہی اور میں گر گی ٹانگیں نہیں میرے پاس پتہ نہیں کیوں ۔۔۔
لڑکی ویسے ہی زمین پر گری روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
روحا کا دل کیا تھا وہ دھاڑے مار مار کر روے ایک ننھی سی بچی کیسے اپنا دکھ آرام سے بتا رہی تھی ۔۔۔
گڑیا کتنی دفعہ کہا ہے بیٹا جب بھی ضرورت ہو مجھے بتایا کرو ہر دفعہ خودی آ جاتی ہو ۔۔۔
پھر گر بھی جاتی ہو جاٶ شاباش پٹی کرواٶ ۔۔۔
اس سے پہلے روحا اسے گود میں آٹھاتی جب اسے اپنی پشت سے ایک بھاری اور رعب دار آواز سنائ دی ۔۔۔
اس سے پہلے روحا شوک ہوتی اس شخص کو دیکھتی جب وہ روحا کے اوپر ویسے ہی جھکے اپنی مضبوط باہوں میں اس لڑکی کو اٹھا چکا تھا ۔۔۔۔
بھائ میں نے بھی فٹ بال کھیلنا تھا لیکن ٹانگیں میری ۔۔۔
وہ لڑکی کو اٹھتا اپنے ہیوی شولڈر پر بیٹھا چکا تھا ۔۔۔
جب لڑکی اپنا ننھا سا چہرہ اس کے سر پر ٹکاتے بولی تھی ۔۔۔
یہ میری ٹانگیں دیکھ رہی ہو ہم کھیلے گے ۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ص۔صاممممم آپ یہاں ۔۔۔
روحا نے جیسے ہی رخ موڑے اس شخص کو دیکھا تو حیرت سے چلائ تھی ۔۔۔
کیوں جن دیکھ لیا تم نے جو ایسے چلا رہی ہو آہستہ بولو یہاں پانچ بچوں کے کانوں کا آپریشن ہوا ہے ابھی اتنا شور نہیں سن سکتے ۔۔۔
صام بے رخی سے کہتا اس لڑکی کو لے فٹ بال کیھلنے لگ گیا تھا ۔۔۔
———————————————————–
روحا کب سے وہی کھڑی صام کو ان سب بچوں کے ساتھ کھلتی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جو مگن ہوا سب کے ساتھ بچہ بنا ہوا تھا ۔۔۔
آپی آپ بھی آے ۔۔۔
وہی لڑکی صام کے شولڈر پر چہکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
ہم۔۔۔۔چھوڑو گڑیا ڈرپوک لوگ نہیں کھلیتے ۔۔۔
اس سے پہلے روحا بولتی جب صام طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔
ہمیں بھی کھیلنا آتا ہے سمجھے ڈرپوک آپ ہو گے ہم نہیں ۔۔۔۔
روحا منہ بناتی اس کے سامنے آتی بولی تھی ۔۔
اہہہ سچی چلو کھیلتے ہے ۔۔۔
ویسے اپنے ان نرم نازک پاٶں سے کھیل لو گی ۔۔۔۔
صام روحا کے زخمی پاٶں دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
کیوں آپ بھی تو اپنے ہاتھی جیسے پاٶں سے کھیل ہے ہمارے تو ویسے ہی خوبصورت ہے ۔۔۔
روحا بھی اس کے
بھاری سفید زخمی پاٶں دیکھتی طنز کرتی بولی تھی ۔۔۔
چلو دیکھتے ہے ۔۔۔
———————————————————
روحا کب سے بچوں کے ساتھ کھیل رہی تھی جب بھی وہ صام سے فٹ بال لیتی گول کرنے لگتی اور صام کیسے اس کے پاٶں سے فٹ بال لے کر چلا جاتا اور روحا ہار جاتی ۔۔۔
کیا ہے صام آپ نے ہمیں یہ ننھے سے بچے دے اور خود اکیلے کھیل رہے ا۔۔۔
کتنی دیر سے ہر بات پر رونا ڈالا تھا تم نے پہلے یہ کہ تم اکیلی ہو میں نے اپنی ٹیم کے سارے بچے تمہیں دے اب خود اکیلا کھیل رہا ہو اب کیوں رو رہی ڈرپوک لڑکی ۔۔
روحا پیسنے سے بھیگی سرخ چہرہ لیتی جنجھلا کر بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ ایک تو زخمی پاٶں تھے جن سے وہ بھاگ نہیں پا رہی تھی دوسرا بچے کھیلنے کی بجاۓ کبھی اس کی شرٹ پکڑتے یا کبھی بالوں کو جو کھول کر کمر سے نیچے جھول رہے تھے ۔۔
اب کیا چاہتی ہو ۔۔۔
صام کو اس کی رونی شکل دیکھتے مزہ آیا تھا تبھی وہ اسے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
بھاڑ میں جاۓ آپ بس یہی کرے کھیلنا ہے تو کھیل لے ورنہ ہ۔۔۔
ویسے تمہارا وہ چونا کدھر ہے تمہارے ساتھ ہی آیا تھا وہ ۔۔
صام روحا کی بات اگنور کیے بولا تھا ۔۔
انہہ۔۔
روحا نے بھی کوئ جواب نہ دیتے آگے بڑھ گی تھی ۔۔۔
اہہہ اہہہ ۔۔
بھای دیکھے آپی کی آنکھ میں کچھ ہو گیا شاہد ۔۔
صام اور روحا دوبارہ کھیل رہے تھے جب روحا کو لگا اب پھر وہ ہارنے والی ہے تبھی ڈرامہ کرتی وہی آپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھتی چلائ تھی جب لڑکی صام کو بولی تھی ۔۔۔
کیا ہوا تمہیں ۔۔
صام لڑکی کو شولڈر سے اتارے روحا کے پاس آتا بولا تھا ۔۔
آنکھ میں کچھ چلا گیا۔۔
روحا ویسے ہی آنکھ پر ہاتھ رکھتی بولی تھی ۔۔
جیسے ہی صام نے جھک کر روحا کی آنکھ دیکھنی چاہی وہی روحا نے اس کے پاٶں کے قریب فٹ بال پر لات مارتے گول کیا تھا ۔۔
یاہوووووو۔۔۔
ہم جیت گے ہاےےےے سانڈ ہار گیا مزہ آ گیا ۔۔۔
روحا خوشی سے چہکتے ہوۓ وہی خوشی سے ناچتی بولی تھی ۔۔
جبکہ صام ہکا بکا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
مطلب ی۔۔۔
ڈرامہ تھا صام بے بی ہم نے کبھی ہار نہیں مانی ۔۔
صام دانت پیستے ہوۓ بول رہا تھا جب روحا مسکراتی بولی تھی ۔۔
چلو بہت ہو گیا کھیل ۔۔
صام غصے سے روحا کو پکڑے اپنے شولڈر پر ڈالے اندر اپنے آفس روم میں لے گیا تھا ۔۔
جبکہ وہ غصہ سے اسے مکے اور لات مار رہی تھی ۔۔
————————————————————
چھ۔چھوڑے ہمیں اب ہار گے آپ ۔۔
صام اسے اپنے آفس روم میں لایا تھا جب روحا زبردستی نیچے اترتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ص۔صا۔۔۔ششش
روحا صام کو اپنی طرف آتے دیکھ ڈرتے ہوۓ بول رہی تھی جب اس نے اپنی سرخ گرین آنکھوں سے گھورتے روکا تھا ۔۔۔
وہ آہستہ آہستہ چلتا روحا کے قریب آتے اس کا حجاب اتارا تھا ۔۔
ص۔اممم۔۔
روحا غصے سے گھورتی دانت پیستے بولی تھی ۔۔
صام اسے اگنور کیے اس کے حجاب سے اپنے چہرے پر آۓ پیسنے کو صاف کر رہا تھا ۔۔۔۔
کہتے بیوی کے ڈوپٹے سے پیسنہ صاف کرنا چاہے بس وہی کیا ۔۔۔
صام اسے اپنی طرف حیرت سے دیکھتے حجاب کو اپنی ناک کے پاس لاتے اس کی خوشبو سونگھتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
جس میں اسے روحا کے شمیو کی خوشبو آ رہی تھی ۔۔۔
ہ
ہمیں ڈمپل بو۔۔۔۔
صام کو اپنے بے حد قریب آتے دیکھ روحا کے ماتھے پر پیسنہ آیا تھا تبھی وہ بولتی دوبارہ چپ کر چکی تھی ۔۔۔
صام اسے اگنور کیے بس اپنا کام کر رہا تھا ۔۔۔۔
روحا کی آنکھیں پھٹی تھی جب صام نے اپنے پیسنے سے بھری شرٹ کو اتارا تھا ۔۔۔
جہاں اس کے سکس پیک بھیگے ہوۓ تھے ۔۔
ابھی وہ وہی دیکھ رہی تھی جب صام نے اسے کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔۔
روحا کی شرٹ کا اوپر والا بٹن کھولے گردن سے لاکٹ نکالا تھا ۔۔۔۔
پھر اپنی گردن سے ویسا لاکٹ نکالے اس نے ایک ہاتھ سے بک شلیف پر رکھے تھے ۔۔۔۔
چھوڑے اب ہمیں بیوی نہیں ہ۔۔۔
طلاق تو نہیں ہوئ نہ تو ابھی بھی بیوی ہو ۔۔۔
روحا اسے چھوڑتی غصے سے بول رہی تھی جب صام نے اس کی بات کاٹتے اسے پاس پڑے صوفے پر دھکا دیتے گرایا تھا ۔۔۔۔۔
صامممم۔۔
روحا غصے اور شرمندگی سے چلائ تھی ۔۔۔
کیونکہ اس کی شرٹ پوری گیلی ہو چکی تھی صام کے پیسنے سے اور دوسری وہ حجاب اور چادر کے بنا اس کے سامنے تھی ۔۔۔۔
صام اسے فل اگنور کیے صوفے کے پاس نیچے بیٹھا تھا ۔۔۔
صاممم۔۔۔
روحا اپنی ٹانگیں اوپر کرتے گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
جب صام نے اس کی ٹانگیں پکڑی تھی ۔۔۔
کوما میں جانے کے بعد مستقیم اور آہان لالہ نے گھر نہیں بتایا تھا میں کوما میں ہو ۔۔۔
روحا نے زور سے اپنی آنکھیں بند کی تھی جب اسے صام کی سنجیدہ آواز سنائ دی ۔۔۔۔
روحا نے فورًا آنکھیں کھولی تو حیران رہ گی وہ اس کے پاٶں اپنی گود میں رکھتا اپنی شرٹ سے اس کے زخموں سے نکلے خون کو صاف کر رہا تھا ۔۔۔۔
بابا ماما لوگ یہی سمجھے میں عیاشی کر رہا ہو ۔۔۔
خیر اللہٌکو شاہد ترس آ گیا اور میں ٹھیک پانچ سال بعد کوما سے باہر آ گیا حالانکہ ڈاکٹرز ناامید ہو چکے تھے مجھ سے کیونکہ انہیں امید نہیں تھی ایک چھوٹا بچہ کوما سے باہر آ جاۓ گا ۔۔۔۔
جہاں میں بولتا تھا کومے سے باہر آنے کے بعد میں بلکل چپ ہو گیا تھا دل کرتا تو کھانا کھا لیتا ورنہ دن ہفتے بھوکا رہتا ۔۔۔
فیا مستقیم آہان سب میری حالت دیکھتے روتے اور روز کہتے صامے واپس آ جاٶ لیکن میں ضدی بن چکا تھا نہیں گیا ۔۔۔۔
چار سال پہلے جس دن تمہیں ملا میں اسی دن مجھے بڑی خوشی ہوئ تھی دل خوشی سے پاگل ہو گیا تھا ۔۔۔۔
تم سے ملنے کے بعد میں گھر جا رہا تھا جب ٹریفک سنگل پر میری گاڑی روکی ۔۔۔
میں فون پر بزی تھا جب کسی نے گاڑی کی ونڈو پر دستک دی ۔۔۔
وہ کوئ خواجہ سرا تھا میں نے پیسے دینے کے لیے جیسے ہی ونڈو کھولی ۔۔۔
مجھ پر حیراتوں کے پہاڑ ٹوٹے اسے دیکھ کر ۔۔۔
ک۔کون۔۔
روحا بامشکل بولی تھی ۔۔۔
نوفل کو وہ زندہ تھا روحا میرے لیے یہی خوشی کی بات تھی ۔۔۔۔
جب اس نے مجھے دیکھا تو ڈر کے بھاگ گیا تھا ۔۔۔
جب اسے بھاگتے دیکھا تو میں بھی پاگلوں کی طرح اس کے پیچھے بھاگا تھا ۔۔۔
بڑی مشکل سے اسے پکڑا پھر اپنے ساتھ لے کر اپنے پرسنل پلیس لے گیا ۔۔۔
بہت شور شربا کیا اس نے کہ وہ مجھے جانتا نہیں یہ وہ بلا بلا ۔۔۔
میں بھی صام آفندی تھا مانا کر ہی چھوڑا ۔۔۔
آہان مستقیم زرجان منان سب کو فون کر کے بلا لیا کہ نوفل زندہ ہے ۔۔۔
ہم سب کی تو جیسے عید ہو گی ۔۔۔
نوفل ویسے ہی خواجہ سرا بنا میک اپ کیے مجھے غصے سے گھور رہا تھا ۔۔۔
میں نے پوچھا وہ اس حالت میں کیسے مطلب وہ تو مر چکا تھا ۔۔۔
اس نے بتایا کہ جو خواجہ سراٶں کا سردار تھا اس نے نوفل کے ساتھ زیادتی کی اس پر ظلم کے پہاڑ توڑے ۔۔۔۔
جب اسے لگا نوفل ظلم سہتا مرنے والا ہے اس نے نوفل کو سڑک پر لاروثوں کی طرح چھوڑ دیا مرنے کے لیے ۔۔۔
جب نوفل کو لگا اس کی زندگی بچ جاۓ گی تب ایک حیوان آیا ۔۔۔
نوفل نے اسے اچھا انسان سمجھا تھا لیکن وہ انسان خواجہ سراٶں کو باہر کے ممالک سمگلنگ کرتا تھا ۔۔۔
نوفل جیسے خواجہ سرا دن کو بھیک مانگتے جبکہ رات کو ان سب پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ۔۔۔
میرا دل کیا ابھی اور اسی وقت نوفل کو لے کر کہی بھاگ جاٶ ۔۔۔۔
ان دنوں میں نے آرمی جوائن کی تھی ۔۔۔
بس پھر آرمی فورس کو لیے میں نے اس انسان کے آڈے پر حملہ کروایا اور بہت سے نوفل جیسے لوگ آزاد ہو چکے تھے ۔۔۔
اس انسان کا قتل نوفل نے خود کیا تھا ۔
اس انسان کا نام حشمت ملک تھا ۔
دنیا کی نظر میں نوفل اسی دن مر چکا تھا جب وہ بارہ سال کا تھا لیکن ہم سب دوستوں کے لیے وہ زندہ تھا ۔
میں نوفل کو لے کر واپس لندن چلا گیا وہاں اسے پڑھا لکھایا ایک اچھا اور مضبوط انسان بنایا ۔
کوئ نہیں جانتا تھا میں لندن اب اکیلا نہیں بلکہ نوفل کے ساتھ رہتا تھا ۔
سواۓ ہم دوستوں کے ۔
یہ فانڈیشن کے لیے بھی میں نے نوفل کو پیسے دے تھے ۔
تاکہ وہ اپنے پاٶں پر کھڑا ہو سکے ۔
جو کہ ہوا تم جانتی ہو میرا صرف پیسہ لگا ہے لیکن یہ لاکھوں خواجہ سرا یہ غریب عوام سب کو نوفل ہنیڈل کرتا ہے ۔
اس فاونڈیشن کا اونر میں ہو لیکن نوفل اپنے جیسوں کے لیے رائیل ہیرو ہے ۔
اس مقام پر وہ خود یہ فانڈیشن کھڑا کر پایا ہے ۔
لندن جا کر نوفل چپ رہنے لگا تھا اسے احساسِ کمتری ہوتی تھی یہ سوچ کر کہ ہم سب ٹھیک جبکہ وہ ایک خواجہ سرا ہے ۔
پہلے تو ہم چھوٹے تھے لیکن اب بڑ ے ہو چکے تھے یہ بات اس کے ذہین میں ڈالی گی تھی ۔۔
خواجہ سرا کا بھای بہن ماں باپ دوست نہیں ہوتے وہ اکیلا ہوتا ہے ۔
تبھی وہ ہم سب سے دور رہنے لگا تھا ۔
لیکن ہمارا عہدِوفا بہت ڈھیٹ تھا بس اسے یقین دالا کر ہی چھوڑا ہم سب دوست ہے اور دوستی میں کوئ بڑا چھوٹا نہیں ہوتا ۔
اس کے بعد ہمیں ہمارا دوست نوفل پہلے جیسا مل گیا جو ہنستا تھا شرارتیں کرتا تھا ۔
بلکہ میرے ہر میشن میں زبردستی خودی آ جاتا تھا ۔۔۔
پھر میں اسے روم میں بند کر کے جاتا ۔
مجھے خوشی ہے ہم نے اپنا عہدِوفا نبھایا اور آخری سانس تک نبھاۓ گے ۔
دنیا والوں کی نظر میں نوفل مر چکا ہے ۔۔
لیکن ہم سب دوستوں کی نظر میں زندہ ہے اور یہ زرا ہمیشہ رہے گ۔
صاممممممم۔
ہمارا دل پھٹ جاۓ گا ایسا کیوں ہوا آپ کے دوست کے ساتھ ۔۔
صام ویسے ہی مگن روحا کے پاٶں دیکھتا بول رہا تھا ۔
جب روحا ساری بات سنتی اپنے آنسو کنٹرول نہ کرتی صوفے سے نیچے آتی صام کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔
میرا بھی ایسا ہی دل پھٹا تھا جس دن نوفل کو خواجہ سرا بنے بھیک مانگتے دیکھا تھا ۔
صام اپنے دل کی ساری بات کہتا اسے اٹھتے کھڑا کر چکا تھا ۔
ہ۔ہم ملے گے نوفل سے ۔
کیا ہم مل سکتے ہے ۔
روحا صام کی سرخ گرین انگارہ آنکھوں کو دیکھتی روتے ہوۓ پوچھا تھا ۔
ہاں تم ابھی تو مل کر آی ہو وہ دیکھو
مسٹر این دنیا کی نظر میں جبکہ حقیقیت میں وہ نوفل ہے ہمارا دوست ۔۔۔
صام اب روحا کو حجاب پہنتا شیشے کی ونڈو کی طرف اس کا چہرہ کرتے بولا تھا ۔۔۔
کیییییاا۔ا۔۔۔۔
تو کیا مالی کاکا بھی ج۔۔۔۔
نہیں کوئ نہیں جانتا دیکھو جس باپ نے اسے گھر سے یہ کہہ کر نکال دیا تھا وہ ان کے بڑھاپے کا سہارا نہیں۔۔
لیکن آج تک نوفل مالی کاکا کے گھر کا ہر خرچہ اٹھا رہا ہے ۔۔۔۔
مالی کاکا بھی نہیں جانتے یہ وہی نوفل ہے جیسے انھوں نے خود نکالا تھا ۔۔۔
صام اسے اب لاکٹ پہنتا بولا تھا ۔۔۔
کیوں صام سب کیوں کرتے ہے ان کےساتھ یہ بھی انسان ہے ان کے پاس بھی د۔۔۔۔
یہاں جیتنے بھی خواجہ سرا ہے ان سب کو نوفل خود یہاں لایا ۔۔۔
ان سب کی تعیلم جاب سب نوفل نے کروایا ۔۔۔
کچھ خواجہ سرا ایسے ہے جن کے ماں باپ خود ان کو یہاں چھوڑ کر گے تو کچھ ایسے ہے جو لالچ میں چھوڑ کر گے ۔۔
صام اب روحا کا رخ اپنی طرف کرتا بولا تھا ۔۔
لالچ م۔۔۔
وہ لالچی ماں باپ جب انہیں پتہ چلا ایک این جی او ایسا ہے جس میں خواجہ سراٶں کو اچھی جاب ملتی ہے اور ہزاروں پیسے بھی ۔۔۔
بس وہ چھوڑ گے وہ خواجہ سرا کماتے ہے پیسے بھیج دیتے ہے لیکن گھر نہیں جاتے کیونکہ ان کو بھی پتہ ہے ان کے ماں باپ کو بس پیسوں کی ضرورت ہے ۔۔۔
روحا ناسمجھی سے بول رہی تھی جب صام دوبارہ بولتا اسے آفس روم سے باہر لایا تھا ۔۔۔
یہ جو لڑکی میرے شولڈر پر تھی وہ بھی خواجہ سرا تھی پانچ سال کی تھی جب اس کی ماں نے اس کی ٹانگیں کاٹ دی یہ سوچ کر کہ وہ گھر سے باہر نہ جاۓ تاکہ کوئ مذاق بھی نہ بناۓ ان کے گھر والوں کا ۔۔۔
یہ ننھی پری کا نام امن ہے بلکل اپنے نام کی طرح پرسکون جب اس کی ماں نے ٹانگیں کاٹی تبھی امن روی نہیں بلکہ یہ سوچ میں پڑ گی اس کے ساتھ کیا ہوا ۔۔۔
باپ غریب تھا بچارہ ہمارے این جی او چھوڑ گیا یہ کہہ کر چلا گیا ہم اس پری کو بچا لے ۔۔۔
بس یہ بھی تب سے ہے ا۔۔۔۔
یہ مالی کاکا نوفل لالہ کے پاس کیوں آۓ صام ۔۔۔
دونوں باہر گے تھے بات کرتے جب روحا سامنے مالی کاکا کو دیکھتے بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔
کیا کرنے آتے ہو گے آج تم بھی دیکھ لو ۔۔۔
صام سامنے نوفل کو احمد گود میں آٹھاۓ آتے دیکھ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
بڑے خوش نصیب ماں باپ ہو گے بیٹا تمہارے جس کی اتنی پیاری اولاد ہو اور کتنے فخر سے کہتے ہو گے تم ان کے بیٹے ہو ۔۔
ورنہ آج کہاں ایسے بیٹے ملتے ہے میرا بھی ایک ہی بیٹا ہے لیکن شادی کے بعد مجھے اور میری بیٹیوں کو گھر سے نکال دیا ۔۔۔۔
یہ تم تھے بیٹے جس نے ہمیں چھت دی میری ایک بچی کی شادی بھی تمہارے پیسوں سے ہو گی بس یہ چھوٹی بیٹی رہتی ہے ۔۔۔۔
نوفل مالی کاکا سے گلے ملا تھا جب روحا صام بھی پاس ہی چلے گے تبھی مالی کاکا نوفل کو دیکھتے پیار سے بولے تھے ۔۔۔۔
روحا کا دل رونے کو کر رہا تھا کیسا باپ تھا اپنے ہی بیٹے کے سامنے یہ سب بول رہا تھا ۔۔۔۔
کتنا بدنصیب باپ تھا جس کو گھر سے نکالا تھا وہی آج ان کے گھر کو پال رہا تھا ۔۔۔۔
نہیں اس کا باپ بدنصیب تھا بہتت۔۔
صام نے شدید غصے سے دانت پیستے کہا تھا۔۔۔۔
کیوں اتنا پیارا بیٹا ہے یہ ۔۔۔
انھوں نے جھریوں زدہ ہاتھ نوفل کے خوبصورت چہرے پر پھیرتے کہا تھا ۔۔۔
جبکہ نوفل کی گرین آنکھیں افسوس سے مسکرای تھی ۔۔۔
ویسے مالی کاکا آپ کا بھی تو دوسرا بیٹا تھا نوفل بھ۔۔۔۔
میم نام بھی مت لے اس کا وہ خواجہ سرا تھا ۔۔۔
کیا کر سکتا تھا وہ سواۓ ناچ گانے کے شکر ہے مر گیا وہ ورنہ آج وہ ناچ گا رہا ہوتا ۔۔۔۔
کاش یہ مسٹر این میرا بیٹا ہوتا ۔۔۔۔
روحا ابھی پوچھ رہی تھی جب مالی کاکا شدید طش میں آتے بولے تھے ۔۔۔
نوفل نے ضبط سے آنکھوں کو بند کیا تھا ۔۔۔
کبھی کبھی انسان کو راز رکھنا پڑتا ہے ۔۔۔
مستقیم آہان منان زرجان صام نوفل کے بعد اب روحا نے بھی یہی راز رکھنا تھا نوفل زندہ ہے وہ مرا نہیں تھا ۔۔۔
آپ یہ چیک رکھے اور یہ ڈائمنڈ رنگ اپنی بیٹی کو دے آپ ۔۔۔
نوفل جلدی سے چیک اور بوکس مالی کاکا کو دیتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔
یہ سب اس لیے تمہیں بتایا کیونکہ تم نے بھی اپنے بارے میں سب کچھ بتایا تھا ۔۔
صام آفندی ادھار نہیں رکھتا ۔۔۔
صام روحا کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔
صاف مطلب تھا روحا کسی کو کچھ نہ بتاۓ ۔۔۔
انہہ۔۔۔
شکل دیکھی اپنی آسٹریلیا کے بندر لگتے ہے آۓ بڑے صام آفندی ۔۔۔
روحا برا سا منہ بناۓ صام کی نقل اتارتی بولی تھی ۔۔۔
اپنی شکل دیکھی افریقہ کی بندری لگتی ہو ۔۔
صام بھی اپنا حساب پورا کرتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
جبکہ روحا بھی ضبط کرتی احمد کو لے وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
نوفل کے باپ نہ ہوتے تم تو آج اس زمین کے اندر دفن ہوتے پھر ساری دنیا کو میں بتاتا تم جیسے باپ کی موت کیسی ہوتی ہے کاش کاش
۔
صام مالی کاکا کو دیکھتے شدید غصہ میں لفظ چبا چبا کر بولتے وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔
جبکہ مالی کاکا پریشان کھڑے تھے نوفل کا ذکر کہاں سے آ گیا ۔۔۔۔۔
————————————————————
مبارک ہو آپ کو ڈی ایس پی آپ باپ بنے والے ہے ۔۔۔۔
لیڈی ڈاکٹر ہانیہ کا چیک اپ کرتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
ہاےے سچ مجھے یقین نہیں آ رہا شکریہ میری جان اتنی پیاری خوشخبری دینے کے لے ۔۔۔
منان خوشی سے پاگل ہوتا ہانیہ کو ڈاکٹر کے سامنے ہی گود میں لیتا گول گول گھومتا بولا تھا ۔۔۔
مانی ڈاکٹر ہے ۔۔۔
ہانیہ سرخ چہرہ لیتی شرماتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
پھر کیا کرو میں کیا اپنی خوشی میں بتا نہیں سکتا ۔۔۔
منان ویسے ہی اسے اٹھاۓ بولا تھا ۔۔۔
کرے میں کچھ نہیں کہہ رہی اب ۔۔
ہانیہ شرم کے مارے اپنا چہرہ اسی کے سینے میں چھپاۓ بولی تھی ۔۔
چلو آفندی پلیس میں سب کو بتاٶ گا ۔۔
منان ڈاکٹر سے اجازت لیتا ہانیہ کو ویسے ہی گود میں بیھٹاۓ بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
تم ابھی بھی یہی ہو نکو پلیس سے باہر ۔۔
صام اپنی پلیس آیا تھا جب ہال میں مرحا ہیر کے ساتھ بیٹھی روحا کو دیکھتا غصے سے بولا تھا ۔۔
جبکہ کومل سیڑھیوں سے نیچے آ رہی تھی ۔۔۔
ہم نہیں جا رہے یہ ہمارا پلیس ہے آپ کا نہیں ۔۔۔
روحا سکون سے بولی تھی ۔۔۔
کوئ نہیں چلو نکلو میں تمہیں برداشت نہ۔۔۔
ہم بھی تو آپ کی یہ بندر جیسی شکل برداشت کر ہی رہے ۔۔
روحا صام کی بات کاٹتی طنزیہ مسکراہٹ لاتے بولی تھی ۔۔۔
بہت بول لیا چلو نکلو ۔۔
صام غصے سے روحا کی بازو پکڑے ہال سے لے کر جا رہا تھا ۔۔۔
ارے پہلے ہی سٹارٹ کر لیا ہم نے پاپ کارن کھانے ہے ۔۔
مستقیم جلدی سے پاپ کارن لے صوفے پر بیٹھتے بولا تھا ۔۔۔۔
روحا کہی نہیں جاۓ گی تم نے جانا ہے تو شوق سے جاٶ ۔۔۔
اس سے پہلے صام روحا کو دھکے دیتا جب ہال میں آفندی صاحب اور وردہ بیگم انٹر ہوتے بولے تھے ۔۔۔
لیکن بابا میں اس کو اپنے پلیس نہیں رکھ سکتا آپ جانتے نہ۔۔۔۔
تم نے بھی تو دوسری شادی کی ہم نے رکھا ہی ہے تم جیسی اولاد کو روحا ہماری بیٹی ہے یہ کہی نہیں جاۓ گی یہ پلیس تمہارا نہیں میرے سارے بچوں کا ہے ۔۔۔
اتنا شوق ہے اپنے پرسنل پلیس چلے جاٶ ۔۔۔
صام دانت پیستے بول رہا تھا جب آفندی صاحب بات کاٹتے سکون سے بولے تھے ۔۔۔
بابا یہ غلط ہے میں آپ کا بیٹا ہو اتنا قابل ہ۔۔۔۔
صام جو روحا کی طرف دیکھتا بول رہا تھا کیونکہ روحا مسکراتے ہوۓ اپنی زبان نکال کر اسے تنگ کر رہی تھی تبھی آفندی صاحب بولے ۔۔۔
مجھے بڑی خوشی ہوئ تھی جس بیٹے کو نالائق نکما سمجھا وہ ایک قابل ہونہار آفسر ہے لیکن افسوس تم ویسے ہی ہو نکمے نالائق ہڈ حرام ٹھرکی ۔۔۔
جاٶ یہاں سے یہ پلیس میرا ہے اللہٌنے کیا تم تینوں کو سانڈ جیسے قد دے دے اس کا مطلب یہ نہیں تم سب مجھ سے بڑے ہو گے۔۔۔
باپ ہو تم سب کا مجھے کنٹرول کرنا آتا ہے سب کو میری نرمی کا ناجائز فائدہ مت آٹھاٶ ۔۔۔
آہان مستقیم تو میرے اچھے بچے ہے انھوں نے کبھی مجھے تنگ نہیں کیا لیکن تم نے ابھی تک میرا جینا حرام کیا ہے اپنی حرکتوں سے ۔۔۔
خبردار آج کے بعد تم نے میری روحا بیٹی کو کچھ بھی کہا یا گھر سے نکالا میں خود تمہیں اس پلیس سے نکال دو گا ۔۔۔
آۓ بڑے میرا پلیس والے ۔۔۔
آفندی صاحب شدید غصے سے بولے تھے ۔۔
پہلی دفعہ ان کی رعب دار گرج آواز اس پلیس میں گونج رہی تھی ۔۔۔
ریلکس بابا چمیپن نادان ہے آپ اسے سمجھاۓ ی۔۔۔
نادان سانڈ جیسا قد نکال لیا لیکن دماغ بلکل نہیں ۔۔۔
آہان نے جب باہر آ کر دیکھا تو حیران رہ گیا کیونکہ صوفے پر ہیر مستقیم مرحا سارے پاپ کارن کھا رہے تھے ۔۔۔
جبکہ اس کے بابا صام کو ڈانٹ رہے تھے تبھی وہ پریشان ہوتا بول رہا تھا جب وہ بات کاٹتے بولے تھے ۔۔۔۔
بابا اب آپ کچھ زیادہ کر رہے میرے پاس دماغ ہے ۔۔
صام کو اپنی انسلٹ فیل ہوئ تھی تبھی بچوں والی شکل بنا کر بولا تھا ۔۔۔
دماغ کی بات کر رہے مجھے لگتا دماغ تمہارا گھٹنوں میں چلا گیا ہے سر سے نکل کر ا۔۔۔
بابا گھٹنوں سے ہو کر ان کے پاٶں سے باہر نکل گیا ہے ا۔۔۔
اور میرا وہی دماغ پاٶں سے نکل کر تمہارے پاس آ گیا روحا بے بی ۔۔۔
آفندی صاحب بول رہے تھے جب روحا درمیان سے بات کاٹتی بولی تھی وہی روحا کے لفظ صام اچک کرتا اسی پر الفاظ الٹا کر بولا تھا ۔۔۔
انہ۔۔
ارے انیجل آو پاپ کارن کھا ل۔۔۔
مرحااااااا۔۔۔۔
اس سے پہلے روحا کچھ کہتی جب صوفے سے اٹھتی مرحا پاپ کارن کا باٶل لیے آ رہی تھی جب چکرا کر گری ۔۔۔
وہی مستقیم اور باقی سب چیخے تھے ۔۔۔۔
———————————————————–
ک۔کیا ہوا میری بیوی کو ۔۔
مرحا کو مستقیم اٹھا کر روم میں لے آیا تھا جب پلیس ہی لیڈی ڈاکٹر کو بلا لیا تھا ۔۔۔
تبھی مستقیم بے تابی سے بولا تھا ۔۔۔
جی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بس ایسی حالت میں یہ سب ہو جاتا ہے آپ لوگ خیال رکھے ان کا ۔۔۔
ڈاکٹر مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ایسی حالت کیا زیادہ طعیبت خراب ہے تو ہم ہاسٹپل ل۔۔۔۔
نہیں مسٹر مستقیم آپکی وائف بلکل ٹھیک ہے آپ بابا بنے والے ہے اس لیے ان کی ان کی ایسی حالت ہے ۔۔۔
ڈاکٹر مستقیم کی بات کاٹتی مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
جب روم میں سب کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔
م۔۔۔
یاہوووووووو۔۔۔۔۔۔
ہاےےے ڈمپل بواۓ کی طرح ایک اور بے بی آۓ گا ہاےےےےے ہم سے ویٹ نہیں ہوتا کب یہ ٹائم گزارے گا ۔۔۔
اس سے پہلے مستقیم کچھ کہتا جب روحا خوشی سے چیختی صام کے سینے سے لگی بولی تھی ۔۔۔
سب نے اس کی طرف دیکھا تھا صام بھی روحا کو اپنے سینے سے لگے دیکھ شوک ہوا تھا ۔۔۔
اس کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ تھی ۔۔۔
اوو سوری وہ ہم ۔۔۔
روحا کو جب ہوش آیا وہ کچھ زیادہ ہی خوشی سے پاگل ہو چکی ہے تبھی وہ بولی تھی ۔۔۔۔
ہاہااہاہہاا نیجل جب تمہارے بچے ہو گے تم تو ان کو کھا جاٶ گی مجھے تو یہی لگتا ہے ۔۔۔
مستقیم قہقہ لگاتا بولا تھا ۔۔۔
کیونکہ روحا اور صام دونوں کے چہرے سرخ ہوۓ تھے ۔۔۔۔
ہمارے بچے لالہ ۔۔۔
روحا نے پہلے مستقیم کی طرف پھر چور نگاہوں سے صام کی طرف دیکھتے کہا تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
ہ۔م ہم آتے ہے مرحا نے سوپ پینا ہو گا ۔۔۔
روحا جلدی سے صام کےسینے سے دور ہوتی بہکا بناتی باہر چلی گی تھی ۔۔۔
جبکہ سب خوش ہوتے مرحا اور مستقیم کو مبارک باد دے رہے تھے ۔۔
مرحا شرماتے ہوۓ سب کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
میرے خیال سے کچھ ہوا ہے تم سب خوش نظر آ رہے ہو ۔۔
منان ہانیہ کو لے اندر انٹر ہوتا سب کو خوش ہوتے دیکھ بولا تھا ۔۔۔
ہاں بات ہی کچ۔۔۔
اچھا بس کر تو معشوق میری بات سنو تم تو فضول ہی بولتے ہو ۔۔
مستقیم مسکراتے ہوۓ بول رہا تھا جب منان بات کاٹتا بولا تھا ۔۔
ہانیہ اندر مرحا کے روم میں چلی گی تھی کیونکہ ساری وہی بیٹھی تھی ۔۔۔
کیوں تو نے جنگ جیت لی ہے جو بتان۔۔۔
میں باپ بنے والا ہو ۔۔۔
مستقیم بگڑے منہ سے بول رہا تھا جب منان خوش ہوتا بات کاٹتا بولا تھا ۔۔۔
ارے وا ہ ککڑ دل خوش کر دیا ۔۔۔
مستقیم آہان صام تینوں اسے گلے ملے جوش سے بولے تھے ۔۔۔
میں بہت خوش ہو یار باپ بنے کا احساس ہی کتنا پیارا ہوتا ہے ۔۔۔
اچھا یہ تو بتاٶ کیا ہوا ہےجو اتنے خوش ہو ۔۔۔
منان خوش ہوتا پھر کچھ یاد آتا بولا تھا۔۔۔۔
وہ۔وہ۔و۔می۔ں۔۔۔۔
بس کر انڈیا کی ہیروہین کی طرح کیوں اٹک اٹک کر شرما کر بول رہے ہو۔۔۔۔
منان مستقیم کی ڈرامہ بازی دیکھتے بیزار ہوتا بولا تھا ۔۔
ارے یار مجھے تھوڑا شرمانے دو میں بھی باپ بنے والا ہو میرے بھی ننھے ننھے سے بچے ہو گے ۔۔۔
ارے کوئ میرے دلبرجانی کو فون کو کرو اسے بتاٶ میں باپ بنے والا ہو ۔۔۔
مستقیم کا ڈرامہ شروع ہو چکا تھا ۔۔۔
جبکہ منان آہان ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ۔۔۔
جبکہ صام کا سارا دھیان اندر روم میں بیٹھی روحا کی طرف تھا جو احمد کو گود میں لے گم صم بیٹھی تھی ۔۔۔۔
اچھا آ جاٶ نوفل کے پاس چلتے ہے وہ خوش ہو گا ہمارے بچوں کو اس نے کھلینا ہے ۔۔۔
مستقیم صام کو لیتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
ویسے یار بڑے ہونے کا فائدہ ہو گیا میں صامے سے پہلے باپ بنے والا ہو ۔۔۔
مستقیم صام کو اپنے ساتھ لے جاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
ہاہہاہااہاہہاہاہ۔۔۔
جب منان اور آہان کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
————————————————————
شکریہ جان سچی اس وقت اسی کی طلب ہو رہی تھی ۔۔۔
یافی ابھی ہاسپٹل سے آئ تھی جب وہ بیڈ پر نڈھال سی بیٹھی تھی تبھی زرجان نے اسے گرم چاۓ کا کپ دیا تھا ۔۔۔۔
یافی وہ کپ لیتی سائیڈ ٹیبل پر رکھتی زرجان کے ہاتھ پکڑتی بولی تھی ۔۔۔
تمہیں چاۓ پسند ہے کیا ۔۔۔
نہیں مجھے چاۓ نہیں تم پسند ہو تبھی چاۓ بنا دیتا میں تمہارے لیے سارا دن تھک جاتی ہو ۔۔۔
زرجان یافی کے چہرے کو چھوتے ہوۓ بولا تھا ۔۔
جہاں صاف تھکن تھی اس کے چہرے پر ۔۔۔
میں کتنی خوش نصیب ہو جان تم مجھے ملے ۔۔
یافی زرجان کےسینے پر سر رکھتے پیار سے بولی تھی ۔۔۔
کیوں اداس ہو آج ۔۔۔
زرجان یافی کے بال کھولتا اس میں اپنی انگلیاں چلاتے بولا تھا ۔۔۔۔
ایک ہارٹ سرجری تھی میں نے آپریشن کر دیا تھا ۔۔۔
لیکن زندگی میں پہلی دفعہ ہوا جان اس شخص کی جان میرے ہاتھوں سے چلی گی ۔۔۔
زرجان نے اس سے پوچھا تھا جب یافی اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
تمہاری وجہ سےکیوں یافی یہ تو اللہٌکی مرضی ہوتی ہے جیسے چاہے موت دے جیسے چاہے زندگی ڈاکٹر ایک واسلہ ہوتا ہے وہ اپنے مرئض کا خیال رکھ سکے باقی شفا تو ہمارا رب دیتا ہے ۔۔۔
یہ بات ذہین سے نکال دو اس کی جان تمہارے ہاتھوں سے گی ۔۔۔
زرجان یافی کو ویسے ہی اپنے سینے سے لگاۓ آرام آرام سے بول رہا تھا ۔۔۔
لیکن مرا تو میرے ہاتھوں م۔۔۔۔
اچھا سوچو کبھی میری ہارٹ سرجری تمہارے ہاتھوں ہو اور میری جان چلی جاۓ پھر کیا بھی یہی کہو گی تم نے جان لی ۔۔
یافی کھوۓ ہوۓ انداز سے بول رہی تھی جب زرجان جلد بازی میں بول گیا تھا ۔۔۔
سمجھ اسے تب آئ جب یافی کے چہرے پر ہوائیاں اڑتے دیکھا ۔۔۔
ایسی بات کیوں کی جان میرا دل بن۔۔۔
اچھا اچھا سوری میری جان میرے منہ سے نکل گیا اچھا سنو منان اور مستقیم بابا بنے والے ہے ۔۔
ان دونوں کے بے بی ہوگا ۔۔۔
زرجان یافی کو کہتے جلدی سے بات بدلتا ہوا بولا تھا جس میں کامیاب بھی ہوا ۔۔
وا۔۔ہہہ
کتنی خوشی کی بات ہے تم مجھے صبح لے جانا ۔۔۔
یافی خوشی سے چکہتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
ہاں میں سوچ رہا تھا میری بھی اب ایک کیوٹ سی تمہاری جیسی بیٹی ہو ا۔۔۔۔
زرجان اپنے مگن انداز سے بول رہا تھا جب یافی کو اپنے سینے سے لگے گہری نیند میں جاتا دیکھ چپ ہو گیا تھا ۔۔۔
سارا دن وہ تھک جاتی تھی سرجری کر کے ۔۔۔
آج بھی وہ تھکن سے چور ہوتی چاۓ پیے بنا ہی زرجان کے سینے سے لگی سو گی تھی ۔۔۔
زرجان اس ایسے ہی سینے سے لگاۓ بیڈ پر سیدھا ہو کر لیٹتا سو گیا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
یہ ہمارے سینے میں اتنی جلن کیوں ہوتی ہے اور گردن پر بھی ۔۔۔
روحا واش روم سے باہر آتی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
وہ نائٹ ڈریس پہنے باہر آی تھی جب روم میں اتنا اندھیرہ دیکھ حیران رہ چکی تھی ۔۔۔
لائٹ چلاۓ کیا ۔۔۔
نہیں رہنے دیتے ہے آج بہت نیند آ رہی ہمیں ۔۔۔
ایسے ہی سو جاتے ہے ۔۔۔
روحا کھڑکی سے باہر چاند کی مدھم روشنی میں چلتی بیڈ کی طرف آتی بیڈ پر گرتی نیند میں جاتی بولی تھی ۔۔۔
ابھی اسے آنکھیں بند کیے ایک منٹ بھی نہیں ہوا تھا جب اسے کسی کے چلانے کی آواز آئ تھی ۔۔۔
اہہہہہ۔۔
اہہہہہ۔۔
اہہہہی۔۔۔۔
روحا بھی اپنے نیچے کسی کا وجود اندھیرے میں محسوس کرتی اسی کے ساتھ چلائ تھی ۔۔۔
اس کا جسم کانپ رہا تھا یہی سوچ کر رات کے اس وقت اس کے بیڈ پر اس کے بے حد قریب کون تھا ۔۔۔
————————————————————
ارے آج ڈیول کا مجھ ناچیز کو فون آیا خیریت ۔۔
اے ڈی رات کے وقت اپنے فون پر ڈیول کی کان سنتا طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔
کام کی بات کرے مجھے فضول بولنا پسند نہیں مجھے انیجل چاہے تم اسے اغواہ کرو گے بدلے میں تمہیں جو چاہے ڈیول دے گا ۔۔
ڈیول رعب دار آواز میں دو ٹوک بولا تھا ۔۔۔
لیکن کیوں مسز صام ت ۔۔۔۔
تمہیں مجھ سے ایک ہزار آدمی چاہے تھے اپنے کام کے لیے میں تمہیں پانچ ہزار آدمی دو گا تم میری انیجل کو میرے پاس لا دو ۔۔
اے ڈی پریشان ہوتا بول رہا تھا جب ڈیول بات کاٹتا بولا تھا ۔۔۔
یہ کام ت۔۔۔
ہلیو ہلیو ۔۔
اس سے پہلے اے ڈی پھر بولتا جب ڈیول اپنی کہہ کر فون کاٹ کر چکا تھا ۔۔۔
مسز صام بہت جلد ہم ملے گے لیکن میں نے تو سنا ہے یہ بہت کھڑوس ہے ۔۔
خیر اب ڈیول کا کام کرنا پڑے گا مجھے آدمی چاہے جو کہ ڈیول اپنی خوشی سے دے رہا ہے ۔۔
اے ڈی سنجیدہ ہوتا سوچتا اپنی اسٹڈی روم میں چلا گیا تھا ۔۔۔
