Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 11)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
آج بہت ضروری کام ہے مجھے شاہد لیٹ ہو جاٶ میں ۔۔
خیال رکھنا اپنا اور کچن ہرگز مت جانا ۔۔۔
منان ناشتہ کرتا ہانیہ کو ہداہت دے رہا تھا ۔۔۔
لیکن کیا کام ہے تمہیں رات کو جلدی آ جانا ۔۔۔
ہانیہ پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
جلدی آ جاٶ گا میری جان بس خیال رکھنا اپنا ۔۔۔
منان ہانیہ کا ہاتھ پکڑتا پیار سے بولا تھا۔۔۔
ت۔تم ڈی ایس پی ہو میرا کام کرو گے ۔۔۔
ہانیہ کچھ سوچتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
ہاں بتاٶ میں کر دو گا کام ۔۔
منان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
وہ جن لڑکوں کے ہاتھوں سے میرے چہرے پر تیزاب گرا تھا تم پکڑ لو گے ان کو میں نے شکل نہیں دیکھی تھی دونوں کی لیکن جہاں لوگ تھے وہ جانتے ہو گے ان لڑکوں کو ۔۔
ہانیہ سوچتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
کیا پتہ ان سے اچانک گرا ہو ا۔۔۔
اچانک نہیں گرا تھا اگر ایسا ہوتا تو میری مدد کرتے جب میں زمین پر گری تڑپ رہی تھی ۔۔۔
منان کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا ۔۔۔
تبھی صفائ دیتا بول رہا تھا جب ہانیہ غصہ میں آتی بات کاٹتی چلائ تھی ۔۔۔
اچھا اچھا ریلکس میری جان میں دیکھ لو گا ۔۔۔
منان اسے پر سکون کرتا بولا تھا ۔۔۔
چلو میں چلتا ہو خیال رکھنا ۔۔
منان اپنی کرسی سے اٹھتے ہوۓ ہانیہ کے ماتھے پر لب رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
تم بھی خیال رکھنا ۔۔۔
ہانیہ بھی اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
———————————————————–
ہاے ہم کتنی دیر سوتے رہے سب ناشتے پر ویٹ کر رہے ہو گے ۔۔۔
روحا نیند سے جاگتی سامنے گھڑی پر ٹائم دیکھتی بولی تھی جو دس بجا رہی تھی ۔۔۔۔
آہہہہہ۔۔۔۔
اففف اتنی زور سے پکڑا ہے جیسے ہم بھاگ جاۓ گے ۔۔۔
روحا اٹھنے والی تھی جب وہ چیخی تھی کیونکہ صام گہری نیند میں سوتا اسے مضبوطی سے پکڑے ہوۓ تھا ۔۔
شرٹ لیس ہوۓ جہاں اس کے کشادہ سینہ اور شولڈر نظر آ رہے تھے سرخ و سفید رنگ ماتھے پر بکھرے بال عنابی ہونٹ سختی سے بند کیے سنجیدہ شکل بناۓ صام گہری نیند میں سو رہا تھا ۔۔۔۔
ایٹیٹوڈ بواۓ انہہ وہائٹ چلغوزہ ۔۔۔
روحا نے اپنا رخ صام کی طرف کیے اس کی ناک کو کھیچتے ہوۓ منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔
شکریہ اتنی تعریف کرنے کا مس کالی کلوٹی ۔۔۔
صام اپنی سرخ گرین آنکھیں جلدی سے کھولے روحا کو اپنے قریب کرتا بولا تھا ۔۔۔
توبہ ہے صام آپ نیند میں بھی جاگتے ہے ڈرا دیا ۔۔۔
روحا منہ بناتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
مس کالی کلوٹی میری آٹھ آنکھیں ہے ۔۔۔
صام اپنے لب روحا کی گردن پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔
چھوڑے ہمیں ٹھرکی انسان ہمیں بھوک لگی ہے ۔۔
روحا نے جب دیکھا صام اپنی پٹری سے اتر رہا ہے تبھی معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
ارے مس ڈراک چاکلیٹ کو بھوک لگی ہے چلو آج دونوں ساتھ ناشتہ کرے گے ۔۔۔
صام روحا کو کمر سے پکڑتے اپنے اوپر سینے پر لیٹاتے ہوے بولا تھا ۔۔۔
کیا حرکت ٹھرکی ہمیں بھوک لگ رہی ہیں ۔۔
روحا جنھجلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
پتہ نہیں کیوں مجھے نہیں لگتا تم کالی ہو یار دیکھو بلیک کلر میں ہی اتنی خوبصورت لگتی ہو جیسے میری شرٹ میں ۔۔۔
صام روحا کی بات سننے بنا اپنی کہہ رہا تھا ۔۔۔
کیا بکواس ہے صام ہمیں بھوک لگی ہے ۔۔۔
روحا بات بدلتی اس کے سینے پر منہ رکھتی بولی تھی ۔۔۔
صام کو سکون آیا تھا جب روحا کے لب اسے سینے پر لگتے محسوس ہوۓ ۔۔
اچھا جاٶ ہر دفعہ میں ہی رحم کرو تم پر تم بہت ظالم ہو مس کالی زرا مجھ پر رحم نہیں کرتی ۔۔۔
صام روحا کو چھوڑتے معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
آپ ٹھرکی ہے کون سا رحم کرو نیچے آ جاۓ ناشتہ کرنے ۔۔۔
روحا جلدی سے بیڈ سے آٹھتی روم سے باہر جاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
مس ڈراک چاکلیٹ میں جانتا ہو بھوک لگی ہے پر اتنی بھی پاگل نہ بنو ایسی حالت میں باہر جاٶ گی کیا بتاٶ گی سب کو صام نے رات شرٹ اتار دی تھی پھر اپنی پہنا دی ۔۔۔
صام بھی بیڈ سے آٹھتے ہوۓ روحا کو یاد کرواتے بولا تھا ۔۔۔
آپ کی وجہ سے ہوتا یہ بے شرم انسان بے ہودہ ٹھرکی ۔۔۔
روحا اپنی حالت پر غور کرتی غصہ میں آتی وڈراب روم کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔
بکھرے براٶن بال جو کھول کر کمر پر جھول رہے تھے ٹائٹ ٹراوزر کے ساتھ صام کی بلیک شرٹ پہنی تھی جو کھولی ہونے کی وجہ سے ساری نیچے کو آ رہی تھی جبکہ اس ڈریسنگ میں روحا ایک چھوٹی بچی لگ رہی تھی ۔۔۔
ہاہاہاہا مس کالی تمہارا یہ غصہ اففف ۔۔۔
صام بھی قہقہ لگاتا واش روم کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔
————————————————————
ارے لالہ آپ کدھر جا رہے ۔۔
روحا نیچے آتی مستیقم کو پولیس یونفارم میں تیار دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
وہ انیجل آج ہم لوگ ڈیول کو پکڑنے والے ہے تو اس لیے ۔۔
مستیقم جوس پیتے مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
یہ چہرے پر سرخ نشان کیوںجیسے کسی نے مارا ہے آپ کو ۔۔۔
روحا مستیقم کی سرخ گال دیکھتی فکر مندی سے بولی تھی ۔۔۔
و۔وہ۔انیجل کسی سے لڑائ ہو گی تھی چلو میں چلتا ہو دعا کرنا ڈیول قابو میں آ جاۓ ۔۔
مستیقم گھبراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
ضرور قابو میں آے گا ڈیول میرے لالہ اتنے بہادر ہے جلدی سے واپس آ جانا آپ ۔۔
روحا مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اچھا خیال رکھنا انیجل ۔۔
مستیقم روحا کے سر پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہاے لالہ آپ کتنے پیارے ہے دیکھنا ہم آپ کے لیے پیاری سی لڑکی ڈھونڈے گے جو آپ جیسی خوبصورت ہو ۔۔
روحا اپنی ڈراک براٶن آنکھوں میں آنسو لاتی مستیقم کی گہری کالی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں ضرور جلدی شادی کرواو یار میری کتنی دیر کنوارہ رہ سکتا ہو اور یہ آنسو کم نکالا کرو بھائ ہو تمہارا سگا نہ سہی پر ہو تو ۔۔۔
مستقیم مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
جی لالہ ۔۔
روحا بس اتنا بول سکی ۔۔۔
————————————————————
ارے واہ آج نکمے ہڈحرام ہمارا بیٹا بھی ناشتے پر آیا ہے ۔۔۔
آفندی صاحب صام کو ٹیبل کے قریب آتے دیکھ طنز کرتے بولے تھے ۔۔۔
بس دیکھ لے بابا میں آ ہی گیا ۔۔۔
صام ڈھیٹوں کی طرح دانتوں کی نمائش کرتا روحا کے قریب چیئر پر بیٹھتا بولا تھا۔۔۔
کیا مسئلہ ہے وہاں جا کر بیٹھ ا۔۔۔
کیوں یہاں کانٹے لگے ہے میں یہی بیٹھو گا ڈراک چاکلیٹ ۔۔۔
روحا جو جنجھلاتی ہوئ بول رہی تھی جب صام بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
کچھ شرم کر لے وہائٹ چاکلیٹ بابا ماما سامنے بیٹھے ہے ۔۔۔
روحا صام کا ہاتھ پکڑتے بولی تھی جو اس کا جوس کا گلاس اٹھاتے پی رہا تھا ۔۔۔
تو انہیں پتہ ہے ہم میاں بیوی ہے اچھا یار یہ چینی کم کھایا کرو مجھے میٹھا نہیں پسند ۔۔۔
صام روحا کا جوس کا گلاس پورا پیتے ہوۓ سرگوشی کرتے بولا تھا ۔۔۔
افففف ٹھرکی یہ شوگر فری جوس تھا اور میٹھا ہمیں بھی پسند نہیں جاۓ یہاں سے کیوں تنگ کر رہے ہے ۔۔۔۔
روحا اپنا خالی گلاس اس کے ہاتھوں سے لیتی دبا دبا غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔
اب کیا اپنے منہ سے نوالہ نکال کر دو آپ کو کھانے کے لیے اپنا ناشتہ کرے صام ۔۔۔
روحا جو پلیٹ میں پڑے آملیٹ کو کھا رہی تھی جب صام بھی فوک کے ساتھ ویسے ہی اس کے ساتھ کھانے لگ گیا تھا ۔۔۔
جب روحا پھر سے بولی ۔۔۔۔
نہیں نوالہ دو گی تو میٹھا ہو گا وہ میں ایسے ہی کام چلا لیتا ہو ۔۔۔
صام آنکھ ونک کرتا ذومعنی الفاظ ہوتا مسکرایا تھا ۔۔۔۔
اففففف جاۓ کھاۓ ہم جا رہے ۔۔۔
روحا شرمندہ ہو رہی تھی کیونکہ آفندی صاحب بہت گہری نظروں سے دونوں کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
تبھی کرسی سے اٹھتی وہ جنجھلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
ہاۓ مرچ کھا ل۔۔۔۔
خبردار صام اگر آپ نے پانی پیا اور یہی بیٹھے رہے سکون سے ۔۔۔۔
صام جو آملیٹ کھا رہا تھا جب مرچ محسوس کرتا چلایا تبھی روحا غصہ سے بات کاٹتی چلاتی ہوئ وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔۔۔
————————————————————
پکا یقین ہے ڈیول یہاں آے گا مجھے نہیں لگتا ایسا کچھ بھی ککڑ ۔۔۔
مستیقم اور منان ایک سنسنان جگہ پر آۓ تھے جب مستیقم آس پاس دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
وہ آۓ گا ہمیں یہی خبر ملی تھی ۔۔۔۔
چلو دھیان سے دیکھو آس پاس ۔۔۔
منان اپنی لوڈ ہوئ گن کو پکڑتے ہوشیار ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
آہہہہہ۔۔۔۔
پکڑو دونوں کو ہاہاہاہااہا کتنے ناسمجھ پولیس والے ہو ۔۔۔
مستیقم اور منان آہستہ آہستہ چلتے ہوۓ جا رہے تھے جب ان پر کچھ لوگوں نے جال گراتے قید کیا تھا ۔۔۔
ہم پکڑے گے وہ کیسے ۔۔۔۔
مستیقم شوک میں آتا بولا تھا ۔۔۔۔
نہیں ہم ناچ رہے ہے دیکھو میرا ڈانس ۔۔۔
منان چڑاتا ہوا دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
لیکن تم میری شادی پر ناچتے یار ۔۔۔
مستیقم معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ہم یہاں شادی پر نہیں آے جو اتنے سکون سے کھڑے ہو کتنے افسوس کی بات ہے ایس پی اور ڈی ایس پی پکڑے گے ہے ۔۔۔
منان غصہ سے چلاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
دیکھو صاف بات ہے یہ ڈر گے ہم سے تبھی انہوں نے پکڑا تھا ۔۔۔۔
ورنہ ہم آرام سے پکڑ لیتے ۔۔۔
مستیقم سامنے دیکھتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
ہم نکلنے گے ک۔۔۔۔۔
ہاہاہاہہا تم لوگوں کو قید کرنا ہمارا مقصد تھا ۔۔
چچچچچ کتنے افسوس کی بات ہے پولیس والے جان نہ سکے چلو مدعے پر آتا ہو میں پہلے اس مستیقم آفندی کو مارنا چاہو گا کیونکہ یہ اس صام کا بھائ ہے ۔۔۔
دونوں آپس میں بحث کر رہے تھے جب وہاں انہیں آواز سنائ دی جو ان لوگوں نے لیپ ٹاپ آن کرتے سنائ تھی ۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاایایا کیا ایک چوزہ مجھے مارے گا واہ ہ ہ ہمت ہے تو سامنے آ میں ڈرتا نہیں ہو ۔۔۔
مستیقم اچانک سنجیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
مطلب ہمیں ڈیول نے پکڑا ا۔۔۔۔
ڈیول نے نہیں دہشتگرد فرحان ملک نے پکڑا ہے ہمیں ۔۔۔
منان جو غصہ سے چلاتا بول رہا تھا تبھی مستیقم
بات کاٹتا دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
اوووو شیٹ ہم کیسے بھول گے یہ ہمارا کتنا بڑا دشمن ہے چلو دیر کس بات کی انہوں نے ابھی ہمارا روپ نہیں دیکھا ۔۔۔۔
منان طنزیہ مسکراہٹ لاۓ آنکھوں میں چمک لاتے بولا تھا ۔۔۔۔
ضرور ویسے بھی میں نے کافی عرصے سے کسی کو مارا نہیں ۔۔۔۔
مستیقم بھی آنکھوں میں چمک لاتے بولا تھا ۔۔۔
وہ دونوں قابو میں ہونے کی وجہ سے اتنے ہی پرسکون کھڑے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔۔۔۔
ارے یار گانا لگاٶ مجھے سنا ہے ۔۔۔۔
مستیقم ان لوگوں کو مخاطب کرتا بولا تھا جو منہ کھولے حیریت سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
یہ پاگل ہے کیا ایس پی مجھے تو یہی لگتا ہے ۔۔۔
ایک آدمی دوسرے کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
شاہد چل ان کا کام تمام کرے ۔۔۔
آدمی اپنے لوگوں کو اشارہ کرتا بولا تھا ۔۔۔
ہاۓ یہ تو ویسے ہی آ گے چلو کوئ نہ ہم بنا سونگ سنے بھی مار سکتے ہے سب کو۔۔۔
مستیقم اپنی یونفارم کی شرٹ اتارتے اپنی طرف آتے لوگوں کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔۔
لیکن یہ کیا اب ہر طرف دھواں ہی دھواں ہو چکا تھا کوئ نہیں جان پا رہا تھا کون کہاں ہے ۔۔۔
جبکہ منان اور مستیقم طنزیہ ہنسی لیے ہنس رہے تھے ۔۔۔
ہاہاہہاہاہا۔۔۔
آہہہ بچارے اگر بچ گے تو ۔۔۔
مستیقم اور منان بھی سب کو مارتے طنز کرتے بولے تھے ۔۔۔۔
———————————————————–
روحا بیٹا بات سنو ۔۔۔
روحا جو منہ بناۓ ہال میں جا کر بیٹھ چکی تھی اسے وہاں بیٹھے ایک گھنٹہ سے اوپر ہو گیا تھا جب آفندی صاحب اس کے پاس آتے بولے تھے ۔۔۔
جی بابا ۔۔۔
روحا منہ کا زوایہ صیح کرتی بامشکل بولی تھی ۔۔۔
بیٹا تم ہی ہو جو میرے صام کو ٹھیک کر سکتی ہو دیکھو وہ تمہاری ہر بات مانتا ہے ۔۔۔
تو چاہو تو بیٹا اسے اچھا انسان بنا سکتی ہو ۔۔۔
تم جانتی ہو یہ اتنا ایٹیٹوڈ والا ہے بچپن میں بھی کسی سے بات نہیں کرتا تھا نہ ہی کھیلتا تھا بس سڑی ہوئ شکل لے کر بیٹھ جاتا تھا ۔۔۔۔
میں نے لندن اس لیے بھیجا تھا کہ وہاں جا کر اچھا انسان بن جاۓ گا پر بیٹا یہ تو نکما آوارہ انسان بن گیا ۔۔۔۔
میں نے نوٹ کیا ہے وہ تمہاری بات مان لیتا ہے تم کہو اسے وہ آفس جوائن کرے میرے سارے بچے کام کر رہے اپنے پاٶں پر کھڑے ہے ایک یہ ہی رہ گیا مجھے اپنا صام بہت عزیز ہے میں اسے اچھا بزنس مین دیکھنا چاہتا ہو ۔۔۔
آفندی صاحب آبدیدہ ہوتے بولے تھے ۔۔۔
بابا ہم سمجھ گے آپ کی بات پر وہ اتنی بھی نہیں مانتے ہماری ا۔۔۔۔
مانتا ہے میں نے دیکھا ہے تم نے پانی پینے سے منع کر دیا وہ ویسے ہی ادھر بیٹھا ہے آنکھوں سے مسلسل پانی نکل رہا اس کے لیکن تمہاری مان کر پانی نہیں پیا اور سوچ تم جو کہو گی وہ سب کچھ کر لے گا میرے لیے بیٹا پلیز اسے مانا لو ۔۔۔
روحا جو پوری بات سنتی بول رہی تھی جب انہوں نے بات کاٹتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔۔
روحا کو شوک لگا تھا وہ تو غصہ میں بول کر آئ تھی ۔۔۔
لیکن بابا ہم نے غصہ سے کہا تھا افففف ہمیں بلکل سمجھ نہیں آتی ان کی ۔۔۔
روحا بے بسی سے اپنا سر پکڑتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
صام شروع سے محبت کے لیے ترسا ہے اتنی اکڑ میں رہتا تھا کبھی نہیں کہتا تھا کہ اسے محبت ہے ہم سے لیکن ہم جانتے تھے ایسے ہی وہ تم سے محبت کرتا ہے بس۔۔۔
ٹھااااااا۔۔۔۔
آفندی صاحب پیار سے بول رہے تھے جب ڈائنگ ہال میں کچھ ٹوٹنے کی آواز آئ تھی ۔۔۔
آپ فکر مت کرے ہم دیکھ لے گے بابا ہم کہتے ہے انہیں ۔۔۔
روحا گہرا سانس لیتی حامی بھرتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
خوش رہو میرا بیٹا ۔۔۔
آفندی صاحب اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔۔
———————————————————–
تو سکون سے کیوں کھڑا ہے ککڑ مار ان کو ہاے میں تھک گیا ۔۔۔
مستیقم مسلسل سب سے لڑتا مارتا سکون سے منان کو کھڑے دیکھ چلایا تھا ۔۔۔۔
کیونکہ ان کی موت آ چکی ہے تو چھوڑ دے ۔۔۔
منان سامنے دھواں میں چلتے آتے ڈیول کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
جو اپنے ہاتھوں میں دونوں گنز لیے وہ سب پر وار کرتا انہی کی طرف آ رہا تھا ۔۔۔
جیسے جیسے وہ چلتا آ رہا تھا اسے روکتے آدمی وہی زمین بوس ہوتے موت کی گہری نیند گر پڑے تھے ۔۔۔
ویسے مجھے پتہ نہیں تھا دو ٹکے کے پولیس والے پکڑے جاۓ گے چچچچ ۔۔۔
ڈیول چلتا ہوا منان کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
اتنا بھی غرور نہیں ہونا چاہے مسٹر ڈیول ایک دن آۓ گا جب تم میرے حوالے ہو گے ۔۔۔
منان بھی مسلسل سب پر گولیاں برساتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
ہاہاہاہہا خواب اچھا ہے پر وہ کیا ہے صرف رات کو خواب دیکھنا چاہے صحت کے لیے اچھا ہے ۔۔۔
مستیقم کے پیچھے کھڑے آدمی کو شوٹ کرتے ڈیول نے قہقہ لگاتے کہا تھا ۔۔۔
ہاے شکریہ ڈیول جی میری جان بچا دی میری تو شادی بھی نہیں ہوئ ۔۔۔
مستیقم سب لاشوں کو دیکھتا بولا تھا جہاں جگہ جگہ سب موت کی نیند پڑے سو رہے تھے ۔۔
تبھی ڈیول کے کندھے پر ہاتھ رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔
اچھا معافی یہ آنکھوں سے مسلسل پانی کیوں نکل رہا ۔۔۔
مستیقم ڈیول کی سرخ گرین آنکھوں کی گھوری دیکھتا بات بدلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
تم سے مطلب اب جاٶ یہاں سے ڈیول بس ایک دفعہ مدد کرتا ہے اتنا ٹائم نہیں ہوتا میرے پاس جو دو ٹکے پولیس والوں کو بچاتا رہو۔۔۔۔
ڈیول منان کے چہرے کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
تو بھی شکر منا کہ ہم نے قید نہیں کیا تجھے آج چھوڑ رہے تمہیں ہم ۔۔۔
اچانک منان اپنے ناخن میں چپھے بلیڈ سے ڈیول کی گردن پر وار کرتے غصہ سے چلایا تھا ۔۔۔
ہمممم زرا فرق نہیں پڑا ڈیول کے لیے یہ زخم بہت معمولی ہے کچھ اور سوچو ۔۔۔
ڈیول طنزیہ مسکراہٹ لاۓ اپنی گردن سے خون کی نکلی بوند کو صاف کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
تیری ت۔۔۔۔۔
بس کر منان وہ چلا گیا ہے ۔۔
منان دانت پیستا ہوا بولنے والا تھا جب ڈیول ہاتھ اوپر کرتا جیسے آیا تھا ویسے ہی چلتا ہوا جا رہا تھا ۔۔۔
اس کا صاف اشارہ تھا وہ ہر کسی کے منہ نہیں لگتا ۔۔۔
چھوڑو گا نہیں میں ایک دفعہ جان کیا بچا دی اکڑ دیکھو ۔۔
منان دور جاتے ڈیول کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
ڈیول کی آنکھوں سے پانی کیوں نکل رہا تھا ۔۔۔
مستیقم گہری سوچ میں ڈوبا بولا تھا ۔۔۔
———————————————————–
پانی پی لے صام ۔۔۔
روحا دوبارہ ڈائنگ ہال میں آتی بولی تھی ۔۔
جہاں شان بے نیازی سے صام وہی کرسی پر لیٹا موبائل یوز کر رہا تھا ۔۔۔
صام ہم آپ سے بات کر رہے ہے ۔۔۔
صام کو خاموش دیکھتے روحا قریب جاتی دات پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
صام ہم آخری دفعہ کہہ رہے پانی پی لے کیوں اتنے ضدی ہے ۔۔۔
روحا اس کی آنکھوں سے مسلسل پانی نکلتا دیکھ اب فکرمندی سے بولی تھی ۔۔۔۔
وہ جانتی تھی مرچ زیادہ کھانے سے صام کی طیعبت خراب ہو جاتی تھی ۔۔۔۔
چلے آپ نہیں مانتے نہ مانتے بھاڑ میں جاۓ ہم بھی جا رہے ۔۔۔
موبائل میں مگن صام کو دیکھتے اب روحا جنجھلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
افففف یہ ضدی ہے بابا بھی پریشان ہو رہے کہاں پھس گے ہم ۔۔۔
روحا ہال میں ابھی آئ تھی جب بے چینی سے ویٹ کرتے آفندی صاحب کو دیکھتی دل میں سوچا تھا ۔۔۔
صام دیکھیں ہماری طرف چلے پانی پی لے ۔۔۔
روحا واپس آتے صام کے قریب فرش پر بیٹھتی پانی کا گلاس پکڑاتی پیار سے بولی تھی ۔۔۔
تم ضدی ہو تو میں بھی ضدی ہو جانتی ہو میری ضدی کو جاٶ یہاں سے میں نے پانی نہیں پینا ۔۔۔
صام روحا کے ہاتھ سے گلاس لیتا گراتا غصہ سے بولا تھا ۔۔۔۔
صام آپ کی آنکھوں سے آنسو گر رہے پلیز اچھا پانی نہیں پینا تو کچھ میٹھا کھا لو ٹھرکی ۔۔۔
روحا اب کھڑی ہوتی دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
یہاں آو ۔۔۔
صام روحا پر ترس کرتا اٹھ کر بیٹھتے ہوۓ روحا کو پاس بلاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔
آپ ایسا ویسا تو کچھ نہیں کرے گے ۔۔۔
روحا منہ بناتی اس کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
پاس آو پھر بتاٶ گا ایسا ویسا کیا ہوتا ہے ۔۔۔
صام روحا کی حالت انجواۓ کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
صام آپ کی گردن پر خون کا نشان کیوں ہے ۔۔۔
روحا پاس بیٹھتی اس کی گردن پر لگے خون کو دیکھتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
تم یہاں پانی پلانے آئ ہو یا خون دیکھنے جاٶ یہاں سے ۔۔۔
اچانک صام غصہ میں آتا بولا تھا ۔۔
اچھا اچھا پانی پ۔۔۔
لیکن میں نے پانی نہیں پینا ۔۔۔
روحا جو جلدی سے بول رہی تھی جب صام اس کے چہرے کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
اچھا آئسکریم کھا لیے ۔۔۔
روحا جلدی سے کچن میں جاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
یہ لی کھاۓ ۔۔۔
روحا جلدی سے ائسکریم کا باٶل لے کر آتی خوشی سے بولی تھی ۔۔۔
تم کھاٶ ۔۔۔
صام اسے کمر سے پکڑتا اپنے قریب لاتا بولا تھا ۔۔۔
مرچی آپ کو لگ رہی مجھ ن۔۔۔
جاٶ یہاں سے پھر ۔۔۔
روحا بیزار ہوتی بول رہی تھی جب صام پھر غصہ کرتا بولا تھا ۔۔۔
کیا ہے صام کیوں تنگ کر رہے ہم نے رونے لگ جانا پھر ۔۔۔
روحا تنگ آتی رونے والی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
اچھا میری مس لائف تم کھاٶ پھر میں کھاٶ گا اب ٹھیک ۔۔۔
صام روحا کے لبوں کو سہلاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
جبکہ اس کی آنکھوں سے مسلسل پانی نکل رہا تھا ۔۔۔۔
آپ کی آنکھوں کی وجہ سے ہم کھا رہے کیونکہ پانی کافی نکل رہا آپ کا ۔۔۔
روحا صام کی آنکھیں دیکھتی حامی بھرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
روحا اب منہ بناتی آئس کریم کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔
جتنی دیر وہ آئس کریم کھا رہی تھی صام کی نظریں اسی پر تھی۔۔۔
اب تو کھا لے صام ہم بس کر رہے ۔۔
روحا آئس کریم چھوڑتی اب روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔
اچھا کھاتا ہو اب یہ لاسٹ بائٹ لے لو۔۔
صام اسے گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
جیسے ہی اس نے لاسٹ بائٹ منہ میں ڈالی ویسے ہی صام نے اس کا منہ اوپر کر کے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں جکڑا۔۔
روحا کے منہ سے آئسکریم وہ اپنے منہ میں ڈال چکا تھا۔۔۔
آئسکریم کو چھوڑ کر اب وہ اس کے لبوں پر اپنا لمس چھوڑ رہا تھا۔۔
روحا حیران پریشان سی آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی جو اس کے لمس سے اپنی جلن کم کرنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔
روحا غصہ سے اب اپنے ناخن اس نے صام کی گردن پر زخم پر مارے تھے ۔۔۔
لیکن صام کو زرا پرواہ نہیں تھی وہ تو مدہوش ہوۓ اپنی سانسیں اس کی سانسوں میں منتقل کر رہا تھا ۔۔۔
بی۔۔۔۔
آفندی صاحب جو اندر آ رہے تھے جب سامنے کا منظر دیکھتے وہی اپنے الفاظ روکتے نظریں چڑاتے جلدی سے باہر چلے گے تھے ۔۔۔
جبکہ صام اپنے بابا کو دیکھ چکا تھا لیکن روحا کو اس نے پھر بھی نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔۔
چ۔چھوڑے ہمیں جنگلی انسان وحشی غلطی ہو گی جو آپ کے پاس آۓ مر جاۓ تھوڑا سا بے ہودہ انسان بے شرم ہر جگہ آپ کا رومنیس جاگ جاتا ہے کچھ لحاظ ہی نہیں ۔۔۔
روحا زور سے صام کے پیٹ میں مکا مارتی گہرے گہرے سانس لیتی ایک ہی بار غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔۔
آہہہ ظالم عورت ۔۔
صام روحا کی حالت انجواۓ کرتے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
ٹھرکی ہم ظالم نہیں ہے توبہ ہے آپ کے پاس آے اب ہم نہیں آۓ گے ۔۔۔۔
روحا غصہ سے چلاتی وہاں سے تن فن کرتی چلی گی تھی ۔۔۔۔
ہاہااہا ہاے مس ڈراک چاکلیٹ سنو تو سہی میں کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
صام کا جاندار قہقہ گونجا تھا پورے ہال میں ۔۔۔۔
————————————————————
شکر ہے میرا بیٹا مسکرایا تو سہی ۔۔۔۔
آفندی صاحب اندر آتے صام کے پاس جاتے پیار سے بولے تھے ۔۔۔۔
ویسے بابا آپ کو پتہ تھا ہم اکیلے ہے تو کیوں یہاں آۓ تھے ۔۔۔
صام مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
روحا ٹھیک کہتی ہے تم ٹھرکی ہو چکے ہو زار جو شرم ہو تم میں باپ کے سامنے ہی ایسی بات کر رہے ہو ۔۔۔
آفندی صاحب گھبراتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔۔
وہ کیا ہے نہ میرا نام صام آفندی ہے بابا کیا کرو ہو ہی ایسا ویسے شکریہ آپ نے مس کالی ہو میرے پاس بھیجا ۔۔۔
صام آفندی صاحب کے گلے لگاتے خوشی سے چہکتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
بچی ہے کم تنگ کیا کرو بیٹا ا۔۔۔
توبہ توبہ بچی ہے وہ آپ نے ابھی اسے دیکھا نہیں لڑنے پر آ جاۓ تو شیرنی بن جاتی ہے مس ڈراک چاکلیٹ ۔۔۔
آفندی صاحب ابھی بول رہے تھے جب صام بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
ہاں بولو زی ۔۔۔
صام فون پر زرجان سے بات کرتا بولا تھا ۔۔۔
نعمان بھاگ گیا پولیس کی قید سے ہم کیا کرے گے ۔۔۔
زرجان پریشان ہوتا بولا ۔۔
کچھ نہیں کرے گے ہم پکڑ لے گے تم بس میری بہن کا خیال رکھو ۔۔۔
جانتے ہو اگر ہم اس دن ایسا نہ کرتے تو نعمان کبھی بھی یافی کو طلاق نہیں دیتا بس تمہارے لیے ایسا کروایا میں نے ۔۔۔۔
صام مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جانتا ہو یار تم نے مدد کی تبھی ہوا ورنہ نعمان کہاں طلاق دیتا یافی کو ویسے میں نے سوچا نہیں تھا وہ اتنی جلدی ہماری باتوں می ۔۔۔
چٹاخ۔۔۔۔
زرجان جو مسکراتا ہوا بول رہا تھا جب سامنے سے آتی یافی نے ساری بات سنتے زرجان کے منہ پر تھپڑ مارا تھا ۔۔۔
یافی یافی میری بات سنو تم نے ادھوری بات سننی ہے ۔۔۔
زرجان یافی کے پیچھے آتا بولا تھا جو غصہ سے روم کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔
ہاہاہااہاہاہہا بچارہ دلبر جانی پتہ نہیں کیوں شوہر ڈرتے ہے اپنی بیویوں سے ۔۔۔
صام فون سے سب سنتا اب قہقہ لگاتے زرجان کی حالت انجواۓ کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
میں نے بلکل نہیں ڈرتا مس کالی سے ۔۔۔
صام مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
صاممممممممم۔۔۔۔
روحا صام کے پیچھے کھڑی غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔
روحا ۔مس کالی۔۔مس ڈراک چاکلیٹ ۔مس لائف ۔۔
کالی کوکا کولا یار بات سنو میری ۔۔۔
صام روحا کی آواز سنتا جلدی سے اس کے پاس آتا بولا تھا ۔۔
جبکہ روحا اب اگنور کیے وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔۔
ظالم بیوی یارررررر۔۔۔
صام بے بسی سے چلایا تھا جبکہ روحا اگنور کیے چلی گی تھی ۔۔۔۔
