Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 32)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 32)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
بابا جان بابا ابھی آفس جا رہے شام کو ملے گے ۔۔
آہان جو آئنیہ کے سامنے کھڑا اپنے کورٹ کے بٹن بند کر رہا تھا جب اسے احمد کے رونے کی آواز آئ تھی ۔۔۔
تبھی وہ ہنستے بولا تھا ۔۔۔
اچھا بابا وعدہ کرتے ہے جلدی آ جاۓ گے ا۔۔۔۔
آہان بیڈ کے قریب جاتا احمد کو گود میں آٹھاۓ بول رہا تھا جب اسے واش روم سے باتھ لیتی باہر آتی ہیر نظر آی ۔۔
اس کے الفاظ وہی روک چکے تھے ۔۔۔
آپ جاۓ میں احمد کو دیکھ لو گی لیٹ ہو رہے آپ ۔۔
ہیر اپنی مسکراہٹ روکے پاس آتی بولی تھی ۔۔۔
ا۔اچھا پکڑو اسے ۔۔۔
آہان اپنی حالت پر قابو پاتا بامشکل بولا تھا اب وہ کوئ غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا جس سے ہیر کو دکھ ہوتا ۔۔۔۔
احمد بیٹا بابا جلدی آ جاۓ گے آپ انیجل موم کے پاس جاٶ ۔۔
ہیر اس کے گال چومتی بولی تھی ۔۔
لیکن انیجل موم سو رہی اور گندے چاچو گھورتے ہے ۔۔
احمد معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
اچھا آپ ایسا کرو اپنے ٹوائز روم میں جاٶ میں آتی ہو ۔۔۔
ہیر مسکراتی روم میں بنے چھوٹے سے شیشے کے ٹوائز روم میں چھوڑ کر آئ تھی جہاں کافی بچوں والے ٹوائز تھے ۔۔۔۔
آج رات جلدی آ جاۓ آپ احمد سوتا نہیں ہے جب تک آپ نہ آ جاۓ آہان پھر ساری رات جاگتا ہے ۔۔۔
آہان جو وہی کھڑا اپنے فون میں بزی تھا جب اسے اپنے سینے پر نرم سے ہاتھ محسوس ہوۓ ساتھ ہی ہیر کی آواز سنائ دی ۔۔۔
تم اداس نہیں ہوتی کیا ہیر ۔۔۔
آہان اپنا رخ موڑے ہیر کو کمر سے پکڑے بولا تھا ۔۔
بلکل نہیں ۔۔
ہیر اپنی مسکراہٹ روکے بولی تھی ۔۔۔۔
کیونکہ اسے آہان کی معصوم سی شکل دیکھتے ترس آ رہا تھا ۔۔۔
لیکن میں تو اداس ہو جاتا ہے پورے چار سال تڑپ کر گزارے ہے پتہ نہیں کب یہ تڑپ ختم ہو گی ۔۔۔
آہان اپنا کنٹرول کھوتا ہیر کے بھیگے بالوں میں چہرہ چھپاۓ بولا تھا ۔۔۔
شرم کرے ہمارا بیٹا ادھر ہی ہے ۔۔۔
ہیر سرخ چہرہ لیے بولی تھی کیونکہ اسے آہان کے لب اپنی گردن پر محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔۔
بہت محبت کرتا ہو میں تم سے بس ایک غلطی کی وجہ س۔۔۔۔
آہان بس کرے میں نے آپ کو معاف کیا بار بار ایک ہی بات کہتے ہے جو ہونا تھا ہو گیا ۔۔۔
آہان اب اپنے لب اس کے گال پر سہلاتے ہوۓ بول رہا تھا جب ہیر بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔
پکا تم نے معاف کر دیا تم کہتی ہو میں گھر والوں کو بتانے کے لیے تیار ہو میری جان ۔۔
آہان شدت جذبات میں آتا ہیر کا چہرہ پکڑے چومتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
نہیں آہان آپ کسی کو نہیں بتاۓ گے یہی کافی ہے آپ کو احساس رہا اور آج بھی آپ مجھے عزت دے رہے ہے میرے لیے کافی ہے بس بھول جاۓ سب کچھ ۔۔
ہیر مسکراتے ہوۓ اس کی گرین آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
تم نہیں جانتی کتنی خوشی دی ہے میں ہمیشہ ایسے ہی محبت کرو گا ۔۔۔۔
آہان خوشی سے پاگل ہوتا اپنے لب اس کے لبوں پر رکھنے والا تھا جب رک گیا ۔۔۔
ابھی بھی ڈرتے ہے کیا پلیز جو ہو گیا وہ بھول جاۓ میں اب اپنی زندگی آپ اور احمد کے ساتھ گزارنا چاہتی ہو ۔۔۔۔
ہیر آہان کو کالر سے پکڑے اپنے قریب لاتی بہکے ہوۓ انداز سے بولی تھی ۔۔۔۔
تم نہیں جانتی کتنا بڑا بوجھ ختم ہوا دل سے آج مجھے سکون کی سانس آ رہی ہے ۔۔۔
آہان ہیر کے چہرے پر حیا کے رنگ دیکھتا اس کے لبوں کو قید کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
آہان مدہوش ہوا سب بھول کر بس ہیر کی سانسوں کو محسوس کر رہا تھا ۔۔۔
———————————————————–
ک۔کدھر جا رہے آپ صام ابھی رات ہی طیبعت خراب تھی آپ کی ۔۔
روحا نیند سے جاگتی اٹھی تھی جب دیکھا صام بزی ہوا اپنا سامان پیک کر رہا تھا ۔۔۔
ارے میری جان رات اتنا سکون دیا تھا تم نے بس میں ٹھیک ہو گیا اور میں ڈی ڈی کو چھوڑنے جرمنی جا رہا دو ہفتوں بعد آو گا خیال رکھنا اپنا ۔۔۔
صام بنا دیکھے جلدی جلدی اپنی چیزیں رکھ رہا تھا جانتا تھا اگر ایک دفعہ روحا کی طرف دیکھ لیا وہ سب بھول جاۓ گا ۔۔۔
لیکن ڈی ڈی کو اس کا ڈیڈ لینے آ جاۓ آپ مت جاۓ ۔۔۔
روحا بیڈ سے اٹھتی اسے بیک ہگ کیے بولی تھی ۔۔۔
صام نے آنکھیں بند کیے اپنے سینے پر اس کے نرم گرم ہاتھ جبکہ بیک پر ملائم ہونٹوں کا لمس محسوس کیا تھا ۔۔۔۔
جانتی ہو میں ایسے نہیں جاٶ گا کیوں میرا صبر آزما رہی ہو مس لائف اگر میرے اندر کا جانور جاگ گیا تو سوچ تمہاری حالت کیا ہو گی ۔۔۔
صام ویسے ہی کھڑا روحا کے ہاتھوں پر اپنے بھاری ہاتھ رکھتا بہکے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
روحا اس کے دل پر اپنے ہاتھ رکھتی اس کی ہارٹ بیٹ محسوس کرتی مسکرائ تھی ۔۔۔
کیونکہ اسے پتہ تھا یہ ایٹیٹوڈ بواۓ صرف اسی کے سامنے بے بس ہوتا تھا ۔۔۔
آپ جانور نہیں بن سکتے ہمارے سامنے ۔۔۔
روحا مسکراتی صام کے سامنے آتی بولی تھی ۔۔
جیسی تمہاری حالت ہے میں جانور منٹوں میں بن سکتا ہو میری جان ۔۔۔
صام روحا کو گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ی۔یہ ہمارے ک۔۔۔۔
میرے پاس ہے تمہاری شرٹ روز محسوس کیا کرو گا تمہاری قربت میری جان ۔۔
روحا اپنی حالت دیکھتی ہکلاتے ہوۓ بولی تھی جہاں اس کی نائٹ شرٹ کی بجاۓ صام کی شرٹ میں ملبوس تھی جو گھٹنوں تک آ رہی تھی ۔۔
جب صام نے اس کی شرٹ بیگ سے نکال کر دیکھائ تھی ۔۔۔
کیا طریقہ ہے یہ آ۔۔۔
ٹائم کم ہے میرے پاس بعد میں بول لینا اکیلی ہی ۔۔۔
جلدی سے یہاں کس کرو میرے تاکہ مجھے روز تمہاری سانس محسوس ہو ۔۔۔
روحا کو سرخ چہرہ لیے بولنے والی تھی جب صام اپنی شرٹ کے بٹن کھولے بولا تھا ۔۔۔
لیکن صام جانا ضروری ہے کیا ۔۔
روحا اداس ہوتی بولی تھی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کیوں اداس ہوئ ۔۔
ہاں میری جان جانا بہت ضرور ہے میں ایک آرمی آفسر ہو میرا ایک کام رہتا ہے ۔۔۔
صام زبردستی روحا کا چہرے پکڑے اپنے دل کے مقام پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔
ہم کاٹے گے آپ کو صام ۔۔۔
روحا اچانک پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔
کیوں رو رہی ہو مارا نہیں ہو میں سمجھی ایسے مجھے کمزرو بنا رہی ہو ۔۔۔
صام بامشکل کنٹرول کرتا زرا سخت لہجے سے بولا تھا ۔۔۔
جہاں بھی جاٶ ساتھ تمہارے یہ سب جاۓ گے ۔۔
یہ چین کو کبھی خود سے دور مت کرنا کھانا پینا آرام سے اور اس چونے کے ساتھ انجواۓ کرنا میری اجازت ہے کورنا کی جعلی ویکسین کے ساتھ مت رہنا ۔۔۔
کومل سے بھی دور رہو زور رات کو تم یہ میری شرٹ پہن کر سویا کرو گی ۔۔۔
رات کو سونا بھی ہے یہ نہیں رات کو بھی ناولز پڑھو ۔۔۔۔
روحا نے اسے کس نہیں کیا تھا تبھی صام اسے بیڈ پر بیٹھاۓ مسلسل بول رہا تھا ۔۔
جبکہ وہ بس اپنی سرخ براٶن آنکھوں سے گھور رہی تھی ۔۔۔
ہ۔ہم کچھ نہیں کرے گے بھاڑ میں جاۓ ہم اپنے بابا کے پاس چلے جاۓ گے کبھی نہیں آۓ گے ۔۔۔
روحا سوں سوں کرتی روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔
براٶن بال جو پونی سے نکل کر اس کی گردن اور چہرے کو چھو رہے تھے صام کی شرٹ پہنے جو گھٹنوں اور بازو سے نیچے آ رہی تھی سرخ انار جیسا چہرہ ناک لیے وہ بیٹھی صام کو معصوم سی بچی لگی تھی ۔۔۔
روحا میرا میٹر مت گھوماو ورنہ سب بھول جاٶ گا تم نے کبھی ایسا ری ایکٹ نہیں کیا تو آج کیوں تمہیں تو نفرت تھی مجھ سے تو یہ کیا تماشا کیا ہے ادھر آو ۔۔۔
صام جان بوجھ کر غصہ میں چلاتا اسے پاس بلاۓ بولا تھا ۔۔۔
اس بیگ میں جتنی بھی چیزیں پڑی ہے سب پر کس کرو جلدی سے۔۔۔
پاس آتی روحا کو دیکھتے وہ نظریں چڑاتے بولا تھا ۔۔۔
روحا اب بھی منہ بناتی بیگ میں صام کی شرٹس آرمی یونفارم گنز چاقو بلیڈز منی بمب سب پر کس کیا تھا ۔۔۔
اس کا غصہ دیکھتے روحا کی ہمت نہیں ہوئ تھی وہ پوچھ سکے کہ وہ اتنا کچھ کیوں لے کر جا رہا ہے ۔۔۔
گڈ گرل اب یہاں بھی کس کرو ۔۔
صام روحا کو کمر سے پکڑے اسے قریب لاتے بولا تھا ۔۔۔
مسسسسس لائف خبردار اب ایک آنسو بھی آیا میں کاٹو گا پھر وہی ۔۔۔
صام خاموش آنسو بہاتی روحا کو دیکھتے بے بس ہوتا دانت پیستے اس کے دل کے مقام پر انگلی رکھے بولا تھا ۔۔۔
اب خوش ہے جاۓ یہاں سے ۔۔
روحا جلدی سے کس کرتی پیچھے ہوتی روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔
آپنا خیال رکھنا میری جان ۔۔
صام روحا کے قریب آتا اسے ماتھے سے چومنے والا تھا جب روحا جا کر بیڈ پر بیٹھ گی تھی ۔۔۔
صام اپنے آپ پر قابو پاتا ویسے ہی باہر چلا گیا تھا ۔۔۔
————————————————————
چلو چونے دو ہفتوں کے لیے روحا بے بی تمہاری ہوئ ۔۔۔
بس اپنی حد میں رہنا ۔۔۔
صام نیچے آتا سب سے ملتا احمد کے پاس آتا بولا تھا ۔۔۔
کیوں جا رہا ہے ہم سب جانتے ہے ڈی ڈی کو ڈی ایم سر لینے آ رہے ہے جبکہ تو اپنے میشن کے لیے جا رہا ہے ۔۔۔
مستقیم منان زرجان تینوں اس سے گلے ملتے بولے تھے ۔۔۔
ہاہاہاا تم لوگوں کو کیسے پتہ چلا ۔۔
وہ چاروں باتیں کرتے پلیس سے باہر آۓ تھے جب صام نے قہقہ لگایا ۔۔۔
اپن نے بتایا ہے اپن تو ڈیڈ کے ساتھ جا رہا ہے تم کیوں جا رہے جبکہ ک۔۔۔
شیر کو کبھی کبھی کتے اور گیڈروں کو باہر لانے کے لیے منظر سے غائب ہونا پڑتا ہے میں بس فرحان کو منظر پر لانے کے لیے غائب ہو رہا ہو ۔۔۔
ڈی ڈی اپنی گاڑی کے پاس آتی غصے سے بولی تھی ۔۔۔۔
جب صام سردپن سے بات کاٹتا بولا تھا ۔۔۔
لیکن صام اس میں خطرہ ہے تو جہاں جانا چاہتا ہے جانتا ہے وہاں سے صرف لاش ملتی ہے ۔۔
مستقیم پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔
فرحان ملک نے پچاس لاکھ لڑکیوں کی سمگلنگ پیرس کرنے والا ہے اور تم سب جانتے ہو اس لڑکیوں کی عمر صرف پانچ یا دس سال ہو گی ۔۔۔
سوچو ان سب کی زندگیاں خراب ہو جانی ہے میں اپنے وطن کی بچیوں کو بچاٶ گا مستقیم چاہے اپنی جان دینی پڑ جاۓ ۔۔۔
وہ اس وطن کی عزت ہے ایک کلی ہے جو کل کو ہمارے وطن کے لیے خوبصورت سی پھول بنے گی لیکن فرحان جیسے درندے انہیں تباہ و برباد کرنا چاہتے ہے ۔۔۔۔
بس میں بچاٶ گا سب کو اگر میری
جان چلی گی تو تم لوگ روحا کا خیال رکھنا ویسے بھی نفرت کرتی ہے مجھ سے ۔۔
صام سردپن لاۓ بولا تھا ۔۔۔
لیکن صام جج نے تو کہا تم کہی نہیں ج۔۔۔
میں جاٶ گا سب کو پتہ میں جرمنی جا رہا جبکہ تم لوگوں کو پتہ میں ویزرستان کے سب سے بڑے دہشتگرد کے آڈے پر جا رہا ہو جہاں مجھے فرحان ملے گا ۔۔۔
زرجان جو بول رہا تھا تب صام وحشت لیے بولا تھا ۔۔۔
ہممم چلو اللہٌکی حفاظت میں جاٶ ۔۔۔
سب اسے ملتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔
ہم جانتے تھے آپ جرمنی نہیں کہی اور جا رہے ہے صام ۔۔
اپنی ونڈو میں کھڑی روحا نیچے آرمی گاڑی میں بیٹھتے صام کو دیکھتی دل میں بولی تھی ۔۔۔
وہ۔دیکھ رہی ہے صام ۔۔
مستقیم صام کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
جانتا ہو پتہ ملی بھی نہیں مجھ سے نہ ہی یہاں تک آی ۔۔۔
صام اوپر ونڈو کی طرف دیکھتا بولا تھا جب روحا ونڈو سے پیچھے ہو گی تھی ۔۔۔
لگتا ہے سانڈ ٹھرکی کی انرجی ختم ہو رہی ہے ۔۔
ڈی ڈی ماحول کو ٹھیک کرنے کے لیے بولی تھی ۔۔۔
وہ صام ٹھرکی کی انرجی کہاں ہے میں بس وہی لے کر آیا ۔۔۔
صام جلدی سے اپنی گاڑی سے نکلتا پلیس سے اندر بھاگ کر جاتا بولا تھا ۔۔۔
ہاہااہاہااہاہا دونوں پاگل ہے ابھی کیا بول رہا تھا اور اب کیا ۔۔۔۔
مستقیم منان زرجان ڈی ڈی قہقہ لگاتے ہنسے تھے ۔۔۔
———————————————————-
آپ آ گے ہم جانتے تھے صام ۔۔۔
روم میں انٹر ہوتے صام کو دیکھتی روحا خوشی سے چہکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
میں اپنی انرجی لینے آیا ہو مس لائف ۔۔۔
صام بھاگ کر آتا روحا کو کمر سے پکڑے بیڈ پر گراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
صام مت جاۓ ہمیں ڈر لگتا ہے جیسے ہم دور ہو جاۓ گے آپ سے اور پتہ نہیں کیوں ہمیں آج رونا آ رہا ہے ۔۔۔
روحا کروٹ چینج کیے صام کے سینے پر بیٹھتی اداس ہوتی بولی تھی ۔۔۔
دیکھو مس لائف میں جہاں جا رہا ہو وہاں لاکھوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہے جس کو میں نے بچانا ہے ۔۔۔
اگر میں خود غرض ہو گیا تو فائدہ ایک آرمی آفسر کا ۔۔۔
ا۔۔۔۔۔
صام جو اسے سمجھا رہا تھا جب روحا نے اپنے لب اس کی گردن پر رکھے ۔۔۔
میرے لیے اپنے وطن ک۔۔۔
صام بامشکل اپنی سانسوں کو بحال کیے بول رہا تھا جب روحا بلکل مدہوش ہوئ اپنے لب اس کے گال کے ڈمپل پر رکھے تھے ۔۔۔
تم چاہتی ہو میں جانور بنو تو روحا بے بی کنٹرول کرو اپنے جذبات کو اگر زندہ لوٹ آیا تو پھر یہی سے کام جاری کرے گے ابھی مجھے بہت دیر ہو رہی ہے ۔۔۔
اپنا بہت سارا خیال رکھنا اور اپنی انرجی بھی بناٶ یہ روتی دھوتی روحا مجھے آج پسند نہیں آئ مجھے اپنی شیرنی روحا چاہے جو اپنے ٹھرکی صام کو پھاڑ کھانے کو آتی ہے ۔۔۔
صام روحا کے بالوں میں انگلیاں پھساۓ اس کے چہرے کو اپنے چہرے کے پاس لاتے آہستہ سے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتے وہ بولا تھا ۔۔۔
روحا بھی آنکھیں بند کیے اس کا لمس محسوس کر رہی تھی جب صام نے جھٹکے سے اسے بیڈ پر گرایا تھا ۔۔۔۔
میرے جنون سے آگے میرے وطن کی محبت ہے مس لائف سوری میں پہلے اپنا فرض نبھا لو اگر واپس لوٹ آیا تو اپنے ٹھرکی صام کو پاٶ گی ۔۔۔
اپنا خیال بلکل مت رکھنا کیونکہ میں جانتا ہو تم میرا کہنا ہرگز نہیں مانتی ۔۔۔
صام جلدی سے بنا دیکھے کہتا روحا کو روتے ہوۓ چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔۔۔
جانور جنگلی ہم بلکل یاد نہیں کرے گے آپ کو ٹھرکی وحشی ۔۔
روحا سرہانے پر منہ دے اپنے لبوں پر صام کا لمس محسوس کرتی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
کیا ہوا ہے انیجل تم ایسی تو نہ تھی ۔۔۔
دو دن بعد مستقیم اور مرحا روحا کے روم میں آے تھے جب مستقیم روحا کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ہمیں کیا ہوا لالہ ہم ٹھیک ہے ا۔۔۔
دیکھ رہا ہے کتنی ٹھیک ہو دو دن سے کچھ کھا پی نہیں رہی اپنے پاس گارڈز کو بھی ہٹا دیا ۔۔
وہ تمہاری حفاظت کے لیے تھے انیجل ۔۔
روحا زبردستی مسکراہٹ لاۓ بولی تھی جب مرحا ٹوکتی بولی ۔۔۔۔
ہمیں نہیں چاہے ایسی حفاظت مرحا جس سے وحشت ہو ۔۔
روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
اچھا چھوڑو ماما کہہ رہے تم زیدی انکل کے پاس چلی جاٶ دل اداس نہیں ہو گا ۔۔۔
مستقیم مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
یہ ٹھیک ہے ہم ابھی بابا کے پاس جاۓ گے لالہ ۔۔۔
روحا اچانک خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔
چلو تیار ہو جاٶ ۔۔
مستقیم بھی خوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔
————————————————————
کیا ہے ٹڈی ابھی گھر آیا ہو تم بچوں کی طرح گود میں آ جاتی ہو ۔۔
مستقیم روحا کو اس کے گھر چھوڑے ابھی اپنے روم میں آیا تھا جب روم میں انٹر ہوتے ہی اسے سامنے مرحا بائیں پھیلاۓ دیکھا جس کا صاف مطلب تھا اسے گود میں لے ۔۔۔۔
تبھی مستقیم اسے اپنی گود میں آٹھاۓ بیڈ کی طرف لاتے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں تو تم سانڈ جیسے اتنے لمبے ہو میں اتنی چھوٹی سی تبھی کہتی ہو تاکہ
تمہارے چہرے کے پاس میرا چہرہ آۓ ۔۔۔
مرحا اپنے لب اس کے گال پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہا اتنا پیار خریت ۔۔۔
مستقیم مرحا کی حرکت انجواۓ کرتا بولا تھا ۔۔۔
اتنے پیارے کیوں ہو تم مجھے دن با دن اچھے لگنے لگے ہو سب کا خیال رکھتے ہو ۔۔۔
مرحا اپنے لب اس کے دوسرے گال پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
اور تم اتنی ٹھرکی کیوں ہو رہی دن با دن ۔۔۔
مستقیم سکون سے اسے کمر سے پکڑے اپنے قریب لاتا بولا تھا ۔۔۔
جہاں دونوں کے لب ایک دوسرے سے ٹچ ہو رہے تھے ۔۔
تم ٹھرکی نہیں نہ اس لیے ۔۔۔
مرحا اپنے لب اس کے لبوں پر نرمی سے رکھتی بولی تھی ۔۔۔
مستقیم کے دل کو سکون آیا تھا اس کی محبت اس سے خوش تھی ۔۔۔۔
———————————————————-
واقعی صام ہمیں یہ کرنا چاہے ۔۔۔
ویزرستان کے سنسنان جگہ پر رات کے اندھیرے میں پوری آرمی فورس کھڑی تھی جب جنرل ڈی ایم یونفارم میں ملبوس صام کو دیکھتے بولے تھے ۔۔۔
جی سر فرحان یہی ہو گا ۔۔۔
صام نے پختہ عزم لیے بولا تھا ۔۔۔
سوچ لو خطرہ کافی ہے جان کو جانتے ہو یہاں پانچ آڈے ہے کوئ ایک آڈے پر خفیہ بمب لگے ہے جہاں تمہارے قدم لگے وہی موت ملے گی ۔۔۔
جنرل ڈی ایم بولے تھے ۔۔۔
یہ تو میرے لیے اعزاز کی بات ہو گی سر اگر مجھے شہادت ملی ۔۔۔
صام اپنی آنکھوں میں چمک لاۓ بولا تھا ۔۔۔۔
مجھے بہت خوشی ہوئ اپنے اتنے قابل ہونہار آفسرر کو دیکھ کر مجھے فخر ہے مسٹر میجر صام آفندی آپ جیسے قابل آفسرر آج بھی زندہ ہے ۔۔۔
ویسے کسی سے بات کرنا چاہو گے مطلب کیا پتہ تم زن ۔۔۔
جی سر جانتا ہو میں مستقیم سے بات کرنا چاہو گا ۔۔۔۔
صام ڈی ایم کی بات کاٹتا بولا تھا ۔۔۔
لیکن مستقیم سے کیوں تم اپنی بیوی سے بات کرو
ڈی ایم حیران ہوتے بولے تھے ۔۔
سر اگر میں نے روحا سے بات کی تو شاہد یہی سے بھاگ جاٶ گا بس مستقیم سے بات کرو گا ۔۔۔۔
صام ویسے ہی سکون سے بولا تھا ۔۔۔
چلو تم جلدی سے بات کرو جانتے ہو پندرہ منٹ کے اندر یہ آپریشن پورا کرنا ہے ۔۔۔
ڈی ایم اپنے ساتھ باقی فوج کو لے کر جاتے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں صامے تم ٹھیک ہو۔۔۔۔
میرے پاس ٹائم کم ہے مجھے جلدی سے بتاٶ تم سب ٹھیک ہو گھر سے باہر تو سکیوڑٹی کے بغیر تو نہیں نکلتے ۔۔۔
مستقیم خوشی سے بول رہا تھا فون پر جب صام سامنے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
جہاں چار آڈوں پر آرمی ٹوٹ پر دشمنوں پر حملہ کر رہی تھی ۔۔۔
ہاں ہم سب ٹھیک ہے روحا نے گارڈز ہٹا دے ہے اپنا خیال نہیں رکھتی وہ ا۔۔۔
ہیلو ہیلو ۔۔۔
مستقیم جو جلدی جلدی بول رہا تھا جب صام کا فون کاٹ ہوا ۔۔۔
شیٹ کاٹ ہو گیا فون کوئ بات نہیں زندگی رہی تو بات ہو جاۓ گی ۔۔۔۔
الله أكبر۔۔۔
ڈی ایم کا اشارہ ملتے ہی صام پانچویں آڈے کی طرف جاتا آسمان کی طرف منہ آٹھاۓ نعرہ لگاتے بھاگا تھا ۔۔۔۔
وہ نہیں جانتا تھا آگے زندگی ملے گی یا نہیں لیکن صام کی آنکھوں میں چمک تھی شہادت کے لیے وہ جانتا تھا یہاں سے بچ کر نکلنا بہت مشکل تھا ۔۔۔
————————————————————
صام ہمیں چالیس لاکھ لڑکیاں مل چکی ہے پر فرحان وہاں بھی نہیں تھا ۔۔۔
صام اپنی آرمی فورس کے ساتھ دشمنوں سے لڑنے میں مصروف تھا سب کی یونفارم اور شوز خون سے بھر چکے تھے ۔۔۔۔
جب ائیر پیس کے ذریعے اسے ڈی ایم کی رعب دار آواز سنائ دی ۔۔۔
ڈرپوک انسان تھا سر وہ تبھی ایسا ہوا خیر یہ باقی کی لڑکیاں میں باہر بھیج رہا ہو ۔۔۔
صام جلدی جلدی زنجیر سے باندھی چھوٹی چھوٹی بچیوں کو کھولتا بولا تھا ۔۔۔۔
ٹائم تھوڑا تھا صام کی جان لبوں پر آئ تھی کیونکہ کافی بچیاں ایسی تھی جو چل نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔
راستہ بناٶ جلدی سے ۔۔۔
صام سب کو موت کے گھاٹ اتارتا اب بچیاں باہر بھیجنے کے لیے اپنی آرمی فورس کو آڈر دیا تھا ۔۔۔
جب ساری آرمی ایک ہی قطار میں کھڑی ہو چکی تھی۔۔۔۔
آڈے کے باہر ساری آرمی تھی جبکہ صام اندر ہی کھڑا لڑکیوں کو گود میں اٹھاتا سب کی طرف دے رہا تھا ۔۔۔۔
جب سارے آفسرر ون باۓ ون لڑکیوں کو گود میں آٹھاۓ آڈے سے دور لے جا کر بھاگے جا رہے تھے ۔۔۔
اور جلدی جلدی آرمی وین کے پاس جاتے لڑکیاں وہاں پر چھوڑ رہے تھے ۔۔۔
ساری آرمی نے ایسے شوز پہنے تھے کہ جہاں بھی انہیں خفیہ بمب زمین پر محسوس ہوتا وہی ریڈ مارک شو ہوتا اور وہ جگہ چینج کیے بھاگتے لڑکیاں باہر لے کر جا رہے تھے ۔۔۔۔
سر آپ بھی باہر آ جاۓ لڑکیاں با حفاظت ہم نے وین تک پہنچا دی ہے ۔۔۔
ایک آرمی آفسرر آڈے کے باہر آتا جلدی سے بولا تھا کیونکہ ڈی ایم اشارہ کر چکا تھا وہ آپریشن پورا کر چکے تھے ۔۔۔
شکریہ آفسررز یہ سب آپ سب کے تعاون پر ہوا ورنہ میں اکیلا کیس۔۔۔
نہیں سر ہمت تو آپ کی تھی جنہوں نے اتنی مشکل سے بنا شوز کے لڑکیاں باہر لاتے تھے ۔۔
صام اپنے رب کا شکر ادا کرتا پھر ان سب کا شکر ادا
بول رہا تھا جب آفسرر مسکراتا اس کی طرف دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
جہاں صام خون اور پیسنے سے لت پٹ بنا شوز کے خون آلود پاٶں لے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔
شوز وہ اپنے اتار چکا تھا کیونکہ اسے بھاگنے میں مشکل ہوتی تھی ۔۔۔
بچاٶ بچاٶ ۔۔۔
صام جیسے ہی باہر نکلنے والا تھا جب اسے چیخنے کی آواز سنائ دی ۔۔۔
جاٶ تم میں دیکھ لیتا ہو ۔۔
صام جلدی سے اندر انٹر ہوتا آفسر کو بولا تھا ۔۔
نہیں سر یہ چال ہو سکتی ہے کیونکہ ساری بچیاں ہم نے بچا لی ہے پھر ی۔۔۔
نہیں میری ضرورت ہے اس عورت کو دیکھو وہ شاہد حاملہ ہے ۔۔
صام اپنے سامنے خون میں لت پت عورت کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
صام تم اندر بلکل نہیں جاٶ گے بہت ہوا ہم نے بچیاں بچ۔۔۔۔
ڈی ایم دور سے کھڑے چلاۓ تھے جب صام بنا سنے اندر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
———————————————————–
آپ یہاں کیوں ہے جانتی تھی خطرہ ہے چلے ساتھ میرے ۔۔
صام جلدی سے بھاگتا اس عورت تک پہنچتا بولا تھا ۔۔۔
بچاٶ بچاٶ میں اپنے بچے کو مرنا نہیں چاہتی مجھے گود میں آٹھا لو ۔۔
وہ عورت جلدی سے صام کے سینے لگے بولی تھی ۔۔۔
جبکہ ہئیر پیس پر ڈی ایم غصے سے چلا رہے تھے یہ ایک چال ہے لیکن صام کچھ نہیں سنائ دے رہا تھا ۔۔۔
م۔میں کیسے میں نے تو ۔۔
دیکھو مجھے بچاٶ تمہیں اس شخص کی قسم ہے جس سے تم بے حد محبت کرتے ہو ۔۔۔
ایک پل کے لیے صام گھبرایا تھا کیونکہ روحا کے علاوہ اس نے کبھی لڑکی کو چھوا نہیں تھا تبھی عورت اسے واسطے دے تھے ۔۔۔
مس لائفففف۔۔۔
صام کی نظروں کے سامنے روحا کا چہرہ آیا تھا تبھی وہ عورت کو گود میں آٹھاۓ بھاگا تھا ۔۔۔
صام رک جاٶ وہی یہ چال ہے کیوں اپنی جان کو خطرہ دے رہے ہو دیکھو تمہارے پاس شوز بھی نہیں ہے ۔۔۔
۔۔س۔سر۔سب کو۔بچ۔بچا ل۔لیا اس۔کو۔بھی ب۔چا لیتے ۔ہے ۔اگر۔می۔میری قسمت می۔میں شہاد ہ۔ت ہوئ مل جاۓ ۔گی۔
و۔ی۔یسے بھی سر یہ ۔عورت۔ماں۔بن۔بنے والی ہے ا۔س کا بچہ م۔مر جاۓ ۔گا اگر ۔می۔ن نے چھوڑ د۔دیا۔۔۔
ڈی ایم ویسے ہی چلاۓ تھے جب پھولے سانس سے بھاگتا صام بامشکل بولا تھا
آڈے کے دروازے کے قریب آتے صام کو فیل ہوا تھا جیسے ڈی ایم واقعی صیح کہا رہا تھا ۔۔۔
کیونکہ صام جلدبازی میں خفیہ بمب پر پاٶں رکھ چکا تھا وہی عورت صام کو دھکا دیتی قہقہ لگاتی جلدی سے آڈے سے باہر بھاگ گی تھی ۔۔۔
ٹشو پ۔ٹشو پیپر س۔سر ۔۔۔
ڈی ایم جو تھوڑا سکون میں آیا تھا یہ دیکھ کر صام زندہ سلامت باہر آ رہا ہے جب اسے صام کے کوڈ ولڈز سنائ دے صاف مطلب تھا صام کو اپنی موت دیکھ گی تھی ۔۔۔۔
گو فاسٹ آفسرز ہمیں میجر صام کو بچانا ہے جلدی کرو ۔۔۔
ڈی ایم جلدی سے پوری آرمی کو الرٹ کرتے دھاڑے تھے ۔۔۔
روحا میری جان یہ ٹھرکی صام صرف تمہارا رہے گا ہمیشہ ۔۔
صام اپنی آنکھیں بند کرتا تصور میں روحا سے مخاطب ہوتا کلمہ پڑھتے مسکرایا تھا ۔۔۔۔
اس سے پہلے آرمی اسے بچاتی جب ایک ہی بمب سے سارا آڈا دیکھتے ہی دیکھتے ہوا میں اُڑ چکا تھا ۔۔۔۔
صامممممممم۔۔۔
ڈی ایم زور سے چیخا تھا اب فائدہ کوئ نہیں تھا جیسے بچانے کی کوشش کی تھی وہی سب کو چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔۔۔
———————————————————–
تم سمجھ کیوں نہیں رہے نعمان میں جان سے طلاق لے لو گی پہلے یہ پیسے رکھو ۔۔
یافی کافی شاپ پر بیٹھی نعمان کو پیسے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
دور سے منظر زرجان بیٹھا غصہ سے دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ مستقیم سے ملنے آیا تھا پر وہ ابھی نہیں آیا تھا ۔۔۔
کتنے پیسے ہے ۔۔۔
نعمان پیسے لیتے ہوۓ بولا تھا ۔۔
پانچ کڑور ہے یہ اب میں چلتی ہو ۔۔
یافی جلدی سے کہتی وہاں سے اٹھی تھی رات کے اس وقت اکیلی وہ یہاں آ چکی تھی ۔۔۔
۔ج۔نا۔جان آ۔۔۔۔
کیا ہوا ڈر گی آہہہہ کیوں ڈری ہو مجھ سے فیا ۔۔
اس سے پہلے یافی جاتی جب اس نے اپنے سامنے کھڑے زرجان کو سرخ گرے آنکھیں لیے دیکھتی ڈرتی بولی تھی جب زرجان اسے کہنی سے پکڑے غصہ سے بولا تھا ۔۔
چھوڑ بیوی ہے م۔۔۔
تیری نہیں میری بیوی ہے سنا تم نے ۔۔۔
نعمان زرجان کے سامنے بول رہا تھا جب زرجان نے غصے سے اس کا سر پکڑے شیشے کے ٹیبل پر مارتے دھاڑا تھا ۔۔۔
آو تمہیں میں طلاق دو مس فیا ۔۔۔
زرجان غصے سے یافی کو بازو سے پکڑے گھیسٹ کر لے کر جاتے وہ بولا تھا ۔۔۔
جبکہ زرجان کو پہلی دفعہ اتنے غصے میں دیکھ یافی کی جان لبوں پر آی تھی ۔۔
