Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 38)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 38)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
ص۔ص۔صام۔ممم۔۔۔۔
اے ڈی اندھیرے میں چلتا روحا کے مکے لات کھاتا ویسے ہی جا رہا تھا جب روحا صام کو اپنے سے دور ہوتا دیکھ طاقت لگا کر چیخی تھی ۔۔۔
وہی روحا کے منہ سے ایک بار پھر خون کی الٹی آی تھی اور وہی وہ اے ڈی کے شولڈر ہر بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔
اے ڈی ابھی بھی روحا کو اٹھاۓ کرنٹ کے جھٹکے کھا رہا تھا اسے یہ تک معلوم نہیں ہو پا رہا تھا ایک لڑکی میں کرنٹ کہاں سے آتا ہے ۔۔۔
صام جو فون پر بات سن رہا تھا وہی روحا کی چلانے کی آواز سنی تھی ۔۔۔۔
جیسے ہی اس نے پیچھے موڑ دیکھا تھا وہی بت بن چکا تھا ۔۔۔
انی۔۔۔
دیور جی یہ کیا طریقہ کوئ انیجل کو لے کر جا رہا آپ یہاں کھڑے ہے ۔۔۔
اس سے وہ کچھ کہتا جب مرحا پیچھے آتی غصہ ہوتی بولی تھی ۔۔
سکیوڑٹی پکڑو اسے یہ باہر نہیں جانا چاہے ۔۔۔
کون ہے جو آفندی پلیس آ کر انیجل کو لے کر جا رہا ہے ۔۔۔
وہ سوئمنگ پول سے بھاگتا بڑے گیٹ کی طرف گیا تھا ۔۔۔
مرحا کیا بول رہی وہ نہیں سن رہا تھا ۔۔
سوری سر ہم ایسا نہیں کر سکتے ۔۔
گارڈ نے سر جھکاتے کہا تھا ۔۔
کیوں ج۔۔۔
سر ہم ڈیول کی بات کو نہیں مانا چھوڑ سکتے آپ بھی جانتے ہے وہ پھر کیا کرتے ہے۔۔۔
سکیوڑٹی ہیڈ سر جھکاۓ بولا تھا ۔۔
کون ہے یہ ڈیول ا۔۔۔
یار میں مستقیم ہو صام نہیں صام وہاں کومل کے پاس ہے ۔۔
وہاں شور زیادہ تھا تبھی میں فون سننے یہاں آیا تھا ۔۔۔
انیجل کے چیخنے کی آواز سنائ دی تو دیکھا کوئ اسے لے کر جا رہا تھا ۔۔۔
مستقیم دانت پیستے مرحا کی طرف موڑتا ہوا بولا تھا ۔۔
لیکن تم مجھے صا۔
ہم دونوں ہم شکل ہے یار بس آنکھوں کا کلر ایک جیسا نہیں ہے ۔۔
میرے خیال سے انیجل مجھے صامے سمجھی تھی ۔۔۔
آو میرے ساتھ زرا اس صامے کو میں دیکھتا ہو ۔۔
مستقیم مرحا کو کندھوں سے پکڑے ساتھ جاتا بولا تھا ۔۔۔
———————————————————
چٹاخ۔۔۔
صام کومل کے ساتھ کھڑا بات کر رہا تھا جب شدید طش میں آتے مستقیم نے اسے تھپڑ مارا تھا ۔۔۔
اب کیا دورہ پڑ گیا تجھے ۔۔۔
صام سکون سے اسے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
انیجل کہاں ہے بول جلدی ۔۔۔
مستقیم صام کو کالر سے پکڑے آنکھیں دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
مجھے کیا پتہ اس کورنا کی جعلی ویکسین کے ساتھ ہو ۔۔۔
ویسے بھی مجھے پرواہ نہیں جس کے ساتھ بھی جاۓ ۔۔۔
صام لاپرواہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
تم باز نہیں آو گے اپنی حرکتوں س۔۔۔
کیا سب منہ اٹھا کر دیکھ رہے چلے جاۓ سارے پارٹی ختم ہو شاباش ۔۔
گارڈز ان کو عزت سے نکالے ۔۔۔
مستقیم دانت پیستا بول رہا تھا جب صام خاموش کھڑے مہمانوں کو دیکھتا غصہ سے دھاڑا تھا ۔۔۔
کیا ہوا چمپین ۔۔۔
آہان منان زرجان یافی ہیر مرحا آفندی صاحب وردہ بیگم پاس آ گے تھے جب آہان پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
انیجل لالہ اسے پ۔۔۔
بھاگ گی آپ کی انیجلللللللللللل۔۔۔
ڈھونڈ سکتے ہے تو ڈھونڈ لے ۔۔۔
فضول کے ڈرامے لگاۓ ہے سب نے یہاں ۔۔
مستقیم آہان کو بتا رہا تھا جب صام بات کاٹتا شدید غصہ میں آتا دانت پیستا وہاں سے واک آوٹ کر چکا تھا ۔۔۔
سب کے سروں پر بمب پھوڑا تھا صام نے جو اب سکون سے آفندی پلیس سے نکل رہا تھا ۔۔
بلیک بیو۔۔۔
ہیررر ۔۔
ہیر روتے ہوۓ چلائ تھی جب وہ زمین بوس ہوئ تھی ۔۔
وہی آہان چلایا تھا ۔
———————————————————-
ہیر میری جان آنکھیں کھولو ۔۔۔
آہان اسے بیڈ پر لٹاۓ اس ہوش میں لاتے فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔
مستقیم باقی سب کو ہینڈل کر چکا تھا ۔۔۔
آہ۔آہان۔میری بلیک بیوٹی ایسی نہیں ہے اس نے تو ہمیشہ خود کو چھپا کر ر۔۔۔
شششش کچھ نہیں ہوا انیجل کو وہ ٹھیک ہے جس کے پاس وہ ہے اپنی سانسوں سے بھی زیادہ اس کی حفاظت کرے گا ۔۔۔۔
تم فکر مت کرو ۔۔۔
آہان ہیر کو چپ کرواتے بولا تھا جو مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔
ک۔کس کے پاس ہے مجھے ملنا ہے بلیک ب۔۔۔
ڈیول کے پاس ہے وہ ہیر اور یقین کرو اتنی حفاظت ہم نہیں کر سکتے جیتنی وہ کرے گا ۔۔۔
ہیر روتے ہوۓ بول رہی تھی جب آہان اسے اپنے سینے سے لگاۓ بولا تھا ۔۔۔
حفاظت کی۔۔۔۔
آہان ہیر کو آہستہ آہستہ سب کچھ بتا چکا تھا ۔۔۔
پکا آہان وہ ٹھیک ہو گی ڈیول کو کہے میری بات کرواو د۔۔۔
یار ڈیول کسی کی نہیں سنتا اگر اس پر کسی کی چلتی ہے وہ انیجل ہی ہے ہم بھی سکون سے تبھی بیٹھے ہے تم ریلکس رہو ہم سب ساتھ ہے ۔۔
انیجل کو کچھ نہیں ہو گا بس میں زرا آیا۔۔۔
آہان ہیر کو سب بتاتا اسے پر سکون کرتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
————————————————————
یہ کیا طریقہ تھا ڈیول کم از کم ہم سب کو بتا دیتے ۔۔۔
زرجان منان آہان مستقیم نوفل سارے ڈیول کے اسپشیل روم میں کھڑے تھے ۔۔
جب آہان غصے سے بولا
تھا ۔۔
کوئ غلط کام نہیں کیا مجھے کرنے دے سب کچھ آپ سب جاٶ ۔۔
لیکن کیوں ڈیول پہلے کیا کم مصیبت ہے صام پر کیس ہوا ہے قتل کا اب یہ انیجل گم ہو گی سب سوشل میڈیا پر خبریں گھوم رہی ہے ا۔۔۔
میں سب کچھ ہنیڈل کر لو گا اب تم سب لوگ جاٶ ۔۔۔
آہان بول رہا تھا جب ڈیول سکون سے بات کاٹتا بولا تھا ۔۔
لیکن ڈیول یہ غلط بات ہے پھر بھی ہم سب جانتے ہے تم انیجل کے لیے کتنے سیریس ہو ۔۔۔
نوفل ڈیول کے شولڈر پر ہاتھ رکھتا دوسرا ہاتھ گھومتا بولا تھا ۔۔
کچھ بھی غلط نہیں ہے انیجل کی جان خطرے میں ہے ویسے بھی انیجل میری ہے میں جیسے مرضی اسے ہنیڈل کرو ۔۔
ڈیول دوٹوک بولا تھا ۔۔
وہی سارے واپس چلے گے تھےجانتے تھے ڈیول کتنا ضدی تھا ۔۔۔
————————————————————
احمد بیٹا سو جاٶ تمہارے بابا آتے ہی ہو گے ۔۔
ہیر شیشے کے سامنے کھڑی بیڈ پر لیٹے احمد کو دیکھتی بولی تھی ۔۔
جو نیند سے جھول رہا تھا لیکن پھر بھی آنکھیں کھولے لیٹا تھا ۔۔۔
ماما بابا آتے ہو گے آپ فون کرے ۔۔
انیجل موم بھی نہیں ورنہ میں موم کے پاس چلا جاتا۔۔
احمد اداس ہوتا بولا تھا ۔۔۔
انیجل موم سو گی ہے تمہاری آو آج چاچو کے ساتھ سو جاٶ چونے ۔۔
میں جانتا ہو تم اداس ہو گے ۔۔۔
اس سے پہلے ہیر بولتی جب صام نائٹ ڈریس پہنے روم میں آتا بولا تھا ۔۔۔
لیکن تم کو احمد نہ۔۔۔
بھابھی مجھے دے چونے کو میں آج رات اپنے پاس سولا لو گا ۔۔
آپ ریسٹ کرے ۔۔
ہیر صام کو دیکھتی بول رہی تھی جب صام احمد کو گود میں آٹھاۓ روم سے باہر لے گیا تھا ۔۔
جبکہ احمد برے برے سے منہ بنا رہا تھا ۔۔۔
———————————————————
احمد کدھر گیا ہے ۔۔
آہان روم میں آتا بولا تھا ۔۔۔
جہاں ہیر نائٹ ڈریس پہنے بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔۔
وہ صام لے گیا کہتا وہ ہنیڈل کر لے گا پھر میں نے بھی جانے دیا ۔۔
ورنہ آپ تو جانتے ہے وہ کتنا ضدی ہے ۔۔
ہیر آہان کو مسکراتی ہوئ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں ضدی تو ہے کافی وہ شروع سے ۔۔
آہان بیڈ پر ہیر کے قریب آتا بولا تھا ۔۔۔
کیا ہوا تھکن ہو گی کیا میں دبا دو ۔۔۔
آہان بیڈ پر تھکا ہارا بیٹھا تھا جب ہیر اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتی فکر مندی سے بولی تھی ۔۔
ارے میری جان جہاں تم جیسی پیاری بیوی ہو وہاں تھکن کیسی بس میرے پاس رہا کرو ۔۔۔
آہان ہیر کے ہاتھوں کو چومتا اپنے سامنے لاتا مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔
میں تو بہت خوش نصیب ہو مجھے آپ جیسے شوہر ملے ۔۔
ہیر آہان کی گرین آنکھوں کو چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اچھا جی یہ بات ہے میں سوچ رہا تھا اب احمد کے بعد ایک چھوٹی سی پری آنی چاہے جو بلکل تمہاری جیسی ہو ۔۔
آہان ہیر کو پکڑے بیڈ پر لٹاۓ اس کے اوپر جھکے بولا تھا ۔۔۔
آہان آپ کب سے بے شرم ہو گے ۔۔
بلیک بیوٹی الزام لگاتی ہے میرے کیوٹ سے دیور پر وہ بے شرم ہے ۔۔۔
اور بلیک بیوٹی آپ کو ایویں کہتی ہے اس کا لالہ معصوم ہے میں بتاٶ گی اس کا لالہ بے شرم ہے ۔۔
ہیر سرخ چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔
یار ایک خواہش کی بتائ ہے دیکھو میں کتنا معصوم ہو ۔۔۔
آہان چہرے پر معصومیت لاۓ اپنی شرٹ اترے بولا تھا ۔۔
جی جی معصومیت دیکھ رہی ہے ۔۔۔
آپ جیسے چار پانچ اور ہو گے تو بس معصومیت ہی ختم ہو جانی ۔۔۔
ہیر آہان سے نظریں چڑاتی ہوئ مذاق کرتے بولی تھی ۔۔
بڑی زبان چل رہی لگتا بند کرنی پڑے گی ۔۔
آہان اپنے لب اس کی گردن پر رکھے بولا تھا ۔۔۔
ہاہاہہاہاایا آہان کیا ہے میں نے سونا ہے ۔۔۔
ہیر کو گدگدی ہوئ تھی تبھی وہ قہقہ لگاتی کروٹ چینج کیے بولی تھی ۔۔۔
میں تمہاری اجازت سے تمہارے قریب آنا چاہتا ہو ہیر یہ نہیں چاہتا پھر میں کوئ غ۔۔۔
آپ ایسا کیوں کہتے ہے آہان میں آپ کی ہی ہو ۔۔
آہان اس کے کان میں سرگوشی کرتے بول رہا تھا جب ہیر بات سنتی دوبارہ اس کی طرف دیکھتی روٹھے پن سے بولی تھی ۔۔۔
لیکن میں ایسا ہی چاہتا ہو مجھے بیٹی چاہے ۔۔۔
بلکل تمہاری جیسی ۔۔
آہان دوبارہ اپنے لب اس کے گال پر رکھتا بولا تھا ۔۔۔
یہ جو کر رہے میری اجازت کے بنا ہی کر رہے کتنے بڑے ڈرامے باز ہے ۔۔۔
ہیر آہان کے شولڈر پر مکا مارتی پھر اسے پکڑتی آنکھیں بند کرتی بولی تھی ۔۔۔
شکریہ میری جان ۔۔
آہان ہیر کی اجازت پاتے اس کے لبوں کو نرمی سے قید کیے بولا تھا ۔۔
اب آہان آہستہ آہستہ اپنی شدت اس پر لٹا رہا تھا ۔۔۔
جبکہ ہیر کبھی شرماتی کبھی گھبراتی اس کے سینے میں منہ چھپا رہی تھی ۔۔۔
————————————————————
ٹڈی تمہاری ہڈی میں چین نہیں کیا ۔۔۔۔
مستقیم روم میں آیا تھا جب مرحا مستقیم کی شرٹ پہنے بیڈ پر ناچ رہی تھی ۔۔
تبھی وہ جلدی سے اسے پکڑے بولا تھا ۔۔۔
میں نے کیا کیا یہ سب اس چپکلی کا قصور ہے سانڈ ۔۔۔
مرحا مستقیم کی گود میں بیٹھی بچوں جیسی شکل بناۓ بولی
تھی ۔۔
کہاں چپکلی ہے اور ایسے ناچتے ہے کیا جانتی ہو کیسی حالت ہے ۔۔۔
مستقیم مرحا کے ننھا سا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتا اس کے ماتھے کو چومتا بولا تھا ۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا مجھے تم ہو میرے ساتھ ۔۔
مرحا اس کے سینے سے لگتی وہاں اپنے لب رکھے بولی تھی ۔۔۔
لیکن میں ہر وقت تو نہیں رہ سکتا یار ان چھوٹے موٹے جانوروں سے ڈرنا چھوڑ دو ۔۔۔
مستقیم مرحا کے گال چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
میں نائٹ ڈریس پہنے ہی گی تھی جب وہ منحوس چپکلی دیکھ لی پھر جلدی جلدی تمہاری شرٹ پہن لی ۔۔۔
مرحا اب اپنی شرٹ مستقیم کو دیکھاتی بولی تھی جو اس پر کافی کھلی تھی ۔۔۔
اس لیے کہا تم خیال رکھو اپنا مجھے بچے سے زیادہ تمہاری فکر ہے بچے سے پہلے مجھے تم چاہے لیکن تم س۔۔۔
سانڈڈڈ۔۔۔۔
مستقیم اب غصے میں آتا ڈانٹ رہا تھا جب مرحا بچوں جیسی شکل بناۓ بولتی رونا سٹارٹ کر چکی تھی ۔۔
اچھا سوری سوری میری جان بس معاف کرو دل کرے تو مجھے مارو لیکن رو مت ۔۔۔
مستقیم جلدی سے پرسکون ہوتا مرحا کے آنسو اپنے لبوں سے چنتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
می۔میں نے بات ہی نہیں کر۔۔۔
مرحا اب اس کی گود سے اٹھتی روٹھے پن سے بول رہی تھی جب مستقیم اسے زور سے کمر سے پکڑے اس کے لبوں کو اپنی قید میں کر چکا تھا ۔۔۔
جب مرحا بھی مزاحمت کیے بنا اپنا آپ اس کے سپرد کر چکی تھی ۔۔۔
————————————————————
یہ تم نے بریانی بنائ ہے ۔۔۔
ہاے میرا بہت دل کر رہا تھا اس ٹائم بریانی کھانے کو شکریہ ۔۔۔
ہانیہ کپڑے چینج کیے روم میں آئ تھی ۔۔
جب بیڈ پر منان کو بریانی لے دیکھ وہ خوشی سے پاگل ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں تم نے پارٹی میں بھی کچھ نہیں کھایا بس بنا لی کیا میں بنا نہیں سکتا تم بھی تو میرے لیے بناتی ہو ۔۔۔
آو یہاں چیک کرو کیسی ہے ۔۔۔
منان ہانیہ کا ہاتھ پکڑے اپنے پاس بیٹھاۓ مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔
ضرور وہاں دل ہی نہیں کیا کچھ کھانے کو پر یہ ضرور کھاٶ گی ۔۔۔
ہانیہ خوش ہوتی جلدی سے پاس بیٹھتی بریانی کھانے لگ گی تھی ۔۔
ت۔م۔تم بھی کھاٶ کتنی یمی ہے تم روز مجھے ایسی بنا کر دینا ۔۔۔
ہانیہ بریانی سے منہ بھرے بول رہی تھی ۔۔۔
جبکہ منان بس مسکراتا ہوا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
چلو میں کھلاتی ہو ۔۔
ہانیہ نے چپ بیٹھے منان کو خود اپنے ہاتھوں سے کھلا رہی تھی ۔۔۔
جب ہانیہ کی انگلیاں اس کے لبوں سے ٹچ ہوئ وہی ہانیہ کا چہرہ شرم سے سرخ ہوا تھا ۔۔
کیا ہوا کھلاو مجھے ۔۔۔
منان اس کے چہرے پر حیا کی لالی دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ج۔جی۔۔۔
ہانیہ گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔
جیسے ہی ہانیہ نے اپنا ہاتھ منان کے لبوں کی طرف لائ وہی منان نے اس کا ہاتھ پکڑے اس کا چہرہ اپنے قریب لاۓ اس کے لبوں کو قید کیا تھا ۔۔۔
وہی ہانیہ نے شرماتے ہوۓ اپنی آنکھوں کو بند کیا تھا ۔۔۔
————————————————————
میں چاہتا ہو پیاری سی بیٹی ہو بلکل تمہاری جیسی یافی ۔۔۔
یافی شیشے کے سامنے کھڑی اپنی ساڑھی کے پلو کو پینز سے آزاد کر رہی تھی ۔۔
جب زرجان روم میں آتا اسے کمر سے پکڑے اپنی تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھے بولا تھا ۔۔۔
واقعی جان ۔۔۔
یافی خوش ہوتی اپنا رخ اس کی طرف کرتی بولی تھی ۔۔
یس میری جان سب کے بے بی ہو رہے اب ہمارا بھی ہونا چاہے ۔۔۔
زرجان یافی کا پلو نیچے گراے وہاں اپنے لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔
لی۔ک۔زر۔۔۔
اپنے دماغ سے سب نکال دو فضول سوچو کو بس میرے بارے میں سوچا کرو مجھے محسوس کیا کرو ۔۔۔
یافی اسے دور کرتی گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی ۔۔
جب زرجان اسے گود میں آٹھاۓ بیڈ لاتا لٹا کر بولا تھا ۔۔۔
ا۔اگر وہ آ۔گ۔۔۔
وہ مر چکا ہے اب کبھی وہ ہماری لائف میں نہیں آۓ گا ۔۔۔
بس مجھے فیل کرو ۔۔۔
یافی ڈرتے ہوۓ بول رہی تھی جب زرجان سکون سے بولتا اس کے گلابی ہونٹوں کو قید کرتا اس میں اپنی سانسیں منتقل کر رہا تھا ۔۔۔
یافی بھی سب کچھ زرجان پر چھوڑے سکون میں آ چکی تھی ۔۔
———————————————————–
“”دو دن بعد۔۔۔
س۔۔سر ہمیں مسز صام کہی نہیں ملی ۔۔
شعیب کا آدمی سر جھکاۓ بولا تھا ۔۔
جہاں شعیب شراب پی رہا تھا ۔۔
کہاں گی بلیک بیوٹی دو دن ہو گے کیا زمین نگل گی یا آسمان ۔۔
پہلے وہ ایٹیٹوڈ صام آفندی کم تھا جو یہ ڈیول کا بچہ بھی آ گیا ۔۔۔
آہہہہہہ ۔۔۔
کہاں چلی گی ہو بلیک بیوٹی واپس آ جاو ۔۔
شعیب غصے سے شراب کا گلاس توڑے چلایا تھا ۔۔۔
چچچچ پہلے صام بے بی پھر تم اب روحا کا تیسرا عاشق بھی آ گیا ۔۔۔
اس کے مزے ہے سب کو تڑپا رہی ہے ۔۔
ایک میں ہو جس کے پ۔۔۔۔
شٹ اپ جیسٹ شٹ اپ مس کومل یہ جو چند سانسیں چل رہی ہے اسے ہی غنمیت سمجھو ۔۔
ورنہ بلیک بیوٹی کے خلاف میں کوئ بات نہیں سن سکتا ۔۔
جاٶ دفع ہو جاٶ وہ تمہاری طرح بدکردار نہیں ہے ۔۔۔
کومل روم میں آتی شعیب کی حالت پر افسوس کرتی بولی تھی جب شعیب اسے گردن سے دبوچتے غرایا تھا ۔۔۔۔
انہہ کیسے مجنوں بنے ہو ۔۔
اس کے شوہر کو فکر نہیں تم مر رہے ہو ۔۔۔
کومل اپنی گردن چھڑواتے وہاں سے جاتی آگ اگلتی چلی گی تھی ۔۔
———————————————————–
کیا رونا دھونا ڈالا ہے کیسے رو رہی ہو وہ بھاگ گی اپنے عاشق کے ساتھ ۔۔
پہلے دو لوگوں کو پاگل کیا اب تیسرا آ گیا ۔۔۔
جو گی ہے اسے فکر ہی نہیں ہے ۔۔
کومل آفندی پلیس آئ تھی ۔۔
جب ہال میں بیٹھی ہیر کو روتا دیکھ وہ اپنا غصہ ہیر پر اتارتی بولی تھی ۔۔
کیا بکواس ہے یہ زبان سنھبال کر بات کرو ۔۔۔
بہن ہے میری وہ دو دن ہو گے ا۔۔۔
ہاں تو وہی کہہ رہی ہ۔۔۔
چٹاخ ۔۔
ہیر روتے ہوۓ بول رہی تھی جب کومل دوبارہ بولنے والی تھی تبھی آہان نے کومل کے تھپڑ مارا تھا ۔۔۔
صام کی وجہ سے برداشت کر رہا میں ورنہ تم جیسی لڑکیوں کو ایسی موت دو کہ پناہ مانگو گی ۔۔۔
آہان کی گرج دار آواز گونجی تھی ۔۔۔
دفع ہو جاٶ یہاں سے شکل گم کرو ۔۔۔
آہان کومل کو دھکا دیتا ہیر کو لے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔
کیونکہ دو دن سے احمد کو بہت تیز بخار تھا جس کی وجہ سے سب گھر والے پریشان تھے ۔۔۔
وہ نہ کچھ کھا رہا تھا نہ پی رہا تھا ۔۔
اسے بس اپنی انیجل موم چاہے تھی ۔۔۔
تبھی ہیر ضبط کرنے کے بادجود رونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔
چچچ کومل کیا زندگی ہے سب سے تپھڑ کھاتی ہو ۔۔
اس سے اچھا اپنا یہ منحسوس چہرہ لے کر دفع ہو جاٶ۔۔۔
مستقیم واک کرتا اندر آتا کومل کا سرخ چہرہ دیکھتا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔
انہہ۔۔
جب کومل اسے گھورتی وہاں سے واک آوٹ کر چکی تھی ۔۔۔
———————————————————-
کب آو گے تم مجھے اور بھی کام ہے ۔۔
اے ڈی غصے سے ڈیول کو فون کرتا بولا تھا ۔۔
کیوں کیا ہوا تجھے۔۔
ڈیول سکون سے بولا تھا ۔۔
یہ مس کھڑوس دو دن سے کچھ بھی نہیں کھا رہی ۔۔۔
نہ ہی بول رہی ہے ایسا لگتا بت ہو اوپر سے اتنی حسی۔۔۔۔
قابو میں کرو زبان اپنی اےڈی انیجل میری ہے صرف میری میں نے تمہاری مدد کی تم نے میری اب حساب برابر ہوا۔۔۔
اسے کھانے کو دو کچھ خیال رکھو ۔۔
رہی بات بولنے کی وہ نہیں بولتی جب اس کا موڈ ہو تبھی بولتی ہے ۔۔۔
اپنا کام کرو ابھی میں مصروف ہو کسی کو موت کے گھاڈ اتار رہا ہو ۔۔
اےڈی روحا کی طرف ہی دیکھتا بول رہا تھا جب ڈیول غصہ سے غرایا تھا ۔۔
ہاں تو سنھبال لو آ کر ورنہ میں بہک جاٶ گا پھر مجھ سے شکایت مت کرنا ڈیول ۔۔۔
اےڈی شطانی مسکراہٹ لاۓ ڈیول کو چیلچنگ انداز سے بولا تھا ۔۔۔
اے ڈی تیری لاش پکی میرے ہاتھوں سے بنے گی تیری ہمت کیسے ہوئ میری انیجل کے بارے میں ایسا سوچنے کی ۔۔۔
ڈیول اب سب کام چھوڑے فون میں غرایا تھا ۔۔۔
میں بھی معصوم سا بندہ ہو میرا بھی دل ہے جہاں اتنی خوبصورت لڑکی ہو رات کی تنہائ ہو وہاں سب کچھ ہوتا ہے ڈیوللللللل۔۔۔
اے ڈی بھی شدید غصہ میں آتا غرایا تھا ۔۔
جو ہاتھ اسے لگاٶ گے وہی ہاتھ کاٹو گا اب میں تیرا تو ڈیول کے ساتھ ہی غداری کرے گا ۔۔۔
ہاہاہہاہاہااا۔۔۔
اے ڈی قہقہ لگاتا فون کاٹ چکا تھا ۔۔۔
ہیلی نکالو میرا میں نے ابھی اور اسی وقت اپنی انیجل کے پاس جانا ہے اور یہ اےڈی کو اوپر پہنچانے کا انتظام بھی کرو ۔۔۔
ڈیول سب کچھ چھوڑے آڈر دیتا وہاں سے واک آوٹ کر چکا تھا ۔۔۔
وہ بھول چکا تھا کس کو موت دینے والا تھا ۔۔۔
بس یاد تھا تو صرف اتنا اس کی انیجل کو خطرہ ہے اے ڈی سے ۔۔۔
————————————————————
بڑی خوبصورت ہو ویسے صام آفندی کے مزے ہے ۔۔۔
میری شادی نہ ہوئ ہوتی تو تم سے کرتا میں ۔۔
اےڈی روحا کو بیڈ پر سکون سے بیٹھے دیکھ اس کے قریب بیٹھتے بولا تھا ۔۔۔
ڈراک براٶن بال بکھرے ہوۓ جو گردن اور اس کے گال کو چھو رہے تھے ۔۔۔
جبکہ دو دن پہنا ڈریس اب خون سے بھرا گندہ ہو چکا تھا ۔۔۔
ڈراک براٶن آنکھوں کے نیچے حلقے گلاب جیسے ہونٹ خون سے بھرے خشک ہو چکے تھے ۔۔
وہ یک ٹک ایک ہی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
نہ بول رہی تھی نہ ہی کوئ رسپانس دے رہی تھی ۔۔۔۔
واقعی مس کھڑوس ہو ورنہ میرے سامنے کسی کا ایٹیٹوڈ نہیں چلتا لیکن تم میں الگ ہی بات ہے ۔۔۔
اےڈی خاموش بیٹھی روحا کے گال کو چھوتے بولا تھا ۔۔۔
جب اسے کرنٹ لگا تھا ۔۔۔
ہاہاہہااا کیا کرنٹ کھاتی ہو دو دن سے دیکھ رہا تم سے کرنٹ آتا ہے ۔۔
اےڈی پھر قہقہ لگاتا بولا تھا ۔۔۔
روحا چپ تھی ۔۔۔
صام نے تمہیں گولی دی تھی لیکن اس کا اثر کم ہو گیا ہونا پھر کیوں نہیں بولتی میں نے تمہاری آواز سنی ہے ۔۔۔
اے ڈی سے اب برداشت نہیں ہوا تھا روحا کا چپ ہونا وہ دو دن سے اسے بلا رہا تھا وہ جان بوجھ کر چپ بیٹھی تھی ۔۔۔۔
ویسے اپنی ہونٹوں پر کیا لگاتی ہو گلابی ہے
اوپر سے بلیک کلر
اتنا پہنتی ہو تاکہ میرے جیسا بندہ بہک جاۓ ۔۔۔
اےڈی روحا کی گردن پر لگے بالوں کو چھوتے بولا تھا ۔۔۔
د۔ر۔و۔
روحا دو دن بعد اب تھوڑا اٹکتے بولی تھی ۔۔۔
ارے کتنی پیاری آواز سے چلو اور بولو ۔۔۔
اےڈی خوش ہوتا دوبارہ روحا کو چھوتے بولا تھا ۔۔۔
۔د۔ور۔دور رہو وحشی درندے ۔۔
صامممم۔صاممممم۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ روحا کو چھوتا جب وہ شدید طش میں آتی اسے دھکا دیتی چلائ تھی ۔۔۔
ہاہاہا جس کی بیوی ہو اسے تو خبر ہی نہیں خیر میں تو ہ۔
آہہہہہ۔۔۔
اے ڈی روحا کی طرف قدم بڑھاۓ بول رہا تھا جب روحا نے واس اٹھا کر اس کے سر پر مارا تھا ۔۔۔
تبھی وہ چلایا تھا ۔۔۔۔
تمی۔۔۔
سر یہ ڈیول سر نے بھیجا ہے ۔۔۔
روحا کی سانسیں اٹکی تھی اےڈی کو اتنے طش میں دیکھتے اس سے پہلے وہ کچھ کرتا جب ملازمہ روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں کرو تیار اسے میں آتا ہو ۔۔۔
اےڈی کے ماتھے سے خون نکل رہا تھا جب وہ غصے اسے گھورتا باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
فل اندھیرے میں بیڈ پر بلیک سیو لیس نائٹی پہنے جس کا فرنٹ اور بیک گلا کافی ڈیپ تھا اور نائٹی اس کی تھائ تک آ رہی تھی ۔۔۔
روحا کے دونوں ہاتھ کمر سے باندھے ہوۓ تھے ۔۔۔
جبکہ وہ اندھیرے میں نائٹی پہنے سسک رہی تھی ۔۔۔
ص۔صام۔۔۔۔
روحا کو اندھیرے میں کوئ اپنے پیچھے بیٹھتے محسوس ہوا تھا تبھی وہ روتے بولی تھی ۔۔
اس نے بھاگنے کی کوشش کی تھی لیکن ملازمہ اسے نائٹی پہناۓ باندھ کر چلی گی تھی ۔۔۔
لیکن روحا کی جان تب لبوں پر آئ تھی جب کسی کی ٹھنڈی انگلیاں اس کی نائٹی کے اندر گی تھی ۔۔۔۔
