Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 37)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 37)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
شکریہ میری جان مجھے یہ خوشی دینے کے لیے میں بہت خوش ہو۔۔۔
مرحا واش روم سے نائٹ ڈریس پہنے باہر آئ تھی جب مستقیم نے اسے گود میں اٹھاتے بیڈ کی طرف جاتے کہا تھا ۔۔۔
تمہارا شکریہ میرے سانڈ مجھے مکمل کر دیا ۔۔۔
مرحا اپنا سر اس کے سینے پر سر مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
مجھے بیٹی چاہے تمہاری جیسی ٹڈی سی ۔۔۔
مستقیم اسے نرمی سے بیڈ پر لیٹاتے خود بھی ساتھ لیٹے وہ پیار سے بولا تھا ۔۔۔
میرے بچے جو ہو گے وہ سارے بڑے ہو گے میری طرح ٹڈے نہیں تمہارے جیسے سانڈ ہو ۔۔۔
ہاے میرا بیٹا ہو بلکل تمہارے جیسے ۔۔۔
مرحا واپس اپنا سر مستقیم کے سینے پر رکھے بولی تھی ۔۔۔۔
لیکن میں چاہتا تھا چھوٹی سی پیاری سی بیٹی ہو ا۔۔۔۔
بلکل نہیں میں ہی کافی ہو تمہارے لیے ٹڈی تم مجھے گود میں اٹھا لیتے کافی ہے بس میرے بچے بڑے ہو گے بس ۔۔۔۔
مرحا اپنے لب اس کی تھوڑی پر رکھتی ضدی انداز سے بولی تھی ۔۔۔۔
اچھا بابا مان لیا اب خوش ہو چلو سو جاٶ تمہیں اپنا خیال رکھنا ہے ۔۔۔
مستقیم مرحا کو پکڑے اپنے سینے سے اوپر لاتا پیار سے بولا تھا ۔۔۔
جب مرحا کا چہرہ اس کے چہرے کے قریب آیا تھا ۔۔۔۔
ویسے کیسا فیل کر رہی ہو مطلب ک۔۔۔
اففف مستقیم میں بلکل ٹھیک ہو پریشان نہ ہو ۔۔
مستقیم مرحا کے لبوں پر انگلی پھیرتا ہوا بولا تھا جب مرحا مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
پھر ٹھیک ہے چلو گڈ نائٹ کس کرو پھر سو جانا ۔۔۔
مستقیم شرارتی انداز سے بولا تھا ۔۔
میرا موڈ ن۔۔۔
اس سے پہلے مرحا بہانہ بناتی پیھچے ہوتی جب مستقیم اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔
مستقیم کی حرکت پر مرحا مسکرائ تھی ۔۔۔
———————————————————-
آ۔پ یہاں کیسے نکلے باہر چلے اٹھے ۔۔
روحا جلدی سے روم کی لائٹ آن کی تھی جب بیڈ پر شرٹ لیس صام کو لیٹے دیکھ وہ غصے سے بولی تھی ۔۔۔
اوووو ہلیو پاگل افریقہ کی بندری یہ میرا روم ہے غور سے دیکھو ۔۔
صام ویسے سکون سے لیٹا بولا تھا ۔۔۔۔
لیکن ہم تو اپنا روم سمجھ کر آئ تھے چلے ہم ج۔۔۔۔
تھوڑا بولا کرو کچھ دنوں سے تمہاری زبان زیادہ کھول گی ہے ۔۔۔
اس سے پہلے روحا روم سے باہر جاتی جب صام نے بے تکی سی بات کہی تھی ۔۔
کیوں آپ کو مسئلہ ہے ہماری زبان ۔۔
آہہہ۔آہ۔۔۔
روحا جو شدید غصے میں آتی دوبارہ بیڈ کے قریب آتی بول رہی تھی ۔۔۔
چلاتے اس نے اپنا سر پکڑا تھا ۔۔۔
کیا ہوا کیا مرنے والی تو نہیں جلدی بتاٶ میں اپنا سوٹ لے کر آو ۔۔۔
صام روحا کی طرف ویسے ہی لیٹا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
جہاں روحا کی آنکھیں منٹوں میں سرخ ہوئ تھی ۔۔۔
ص۔صام پین ۔ہو ۔ر۔رہا۔ہے ک۔کافی اہہہ۔۔۔
روحا وہی کھڑی اپنے سر کو پکڑے اٹکتے ہوۓ بولی تھی کیونکہ اسے آنکھوں سے دیکھائ بھی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔
زیادہ بولنے کی وجہ سے ہوا ہے یہاں آو پہلے بھی کہا تھا کم بولو اب ایک آواز نہ آۓ ۔۔۔
صام سکون سے روحا کو کمر سے پکڑے اپنے اوپر گراتے بولا تھا ۔۔۔۔
جب روحا بچوں جیسی شکل بناۓ سکون سے اس کے سینے پر لیٹ چکی تھی ۔۔۔۔
ہاہاہہا آسٹریلیا کا بندر کیا نام دیا ہے ۔۔۔
روحا اب خاموش لیٹی اس کے شرٹ لیس سینے پر اپنی نرم انگلیاں چلاتی کچھ لکھ رہی تھی ۔۔
جب صام قہقہ لگاتا بولا تھا ۔۔۔۔
آہہہہہ آہہہہہ آہہہہ۔۔۔
کیا ہوا زیاد۔۔۔۔
صام ابھی نیند میں گیا ہی تھا جب اسے روحا کے چلانے کی آواز آئ جو اس کے اوپر بیٹھی چلا رہی تھی تبھی وہ بولا ۔۔۔
آج ہمارے ڈمپل بواۓ کا برتھ ڈے ہے صام ہم کیسے بھول گے ہم ابھی آۓ ۔۔
روحا جلدی سے اترتی ہوئ خوشی سے پاگل ہوتی بولتی بنا صام کی پرواہ کیے روم سے باہر چلی گی تھی ۔۔۔
تبھی کہتا ہو کم بولا کرے اس کی چیخ سن کر کسی کو بھی ہارٹ اٹیک آ سکتا ہے ۔۔
توبہ ہے ایک چونے کا ہی برتھ ڈے ہے کون سا کوئ فلم سٹار ہے انہہ ۔۔۔۔
صام برے برے سے منہ بناتا اوندھے منہ کیے بیڈ پر لیٹ چکا تھا ۔۔۔
———————————————————–
کیا ہوا بلیک بیوٹی طعبیت ٹھیک ہے تمہاری ۔۔
روحا جب کافی سارے گفٹس لیے آہان کے روم میں انٹر ہوئ تو سارے ہی وہاں موجود تھے تبھی ہیر نے پاس آتے فکر مندی سے پوچھا ۔۔
جی آپی ہم ٹھیک ہے کہاں ہے ڈمپل بواۓ ہم لیٹ ہو گے بارہ بجے کے دس منٹ ہو گے ۔۔۔
روحا کے دونوں ہاتھ گفٹس سے بھرے ہوۓ تھے تبھی وہ بے تابی سے پوچھتی بولی تھی ۔۔
جب تک اس کی انیجل موم نہ آ جاتی تب تک کہاں ہم احمد کو وش کرتے آو ابھی سو رہا وہ ۔۔
آہان روحا کے پاس آتا مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
لالہ اب ایسی بھی بات نہیں آپ کا حق زیادہ بنتا ہے ۔۔۔
ہم تو آنی ہے اس ک۔۔۔۔
تمہارا زیادہ حق بنتا ہے بلیک بیوٹی آہان نے بتایا مجھے کسے راتوں کو جاگ کر احمد کا خیال رکھتی
تھی یہ احساس تو میں نے بھی نہیں پایا جو ت۔۔۔
ارے جلدی آو ہم کب سے ویٹ کر رہے اپنے پوتے کو باہوں میں لینے کے لیے ۔۔۔
ہیر مسکراتی ہوئ روحا سے بول رہی تھی جب آفندی صاحب بے تاب ہوتے بولے تھے ۔۔۔
ہپی برتھ ڈے ٹو یو ہپی برتھ ڈے ڈمپل بواۓ ۔۔۔۔
سب احمد کے پاس آے زور زور سے تالیاں بجاۓ بولے تھے ۔۔۔۔
احمد اتنا شور سنتے اپنی ننھی گرین آنکھیں کھولتا حیران ہو کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ماما ۔۔۔
احمد اتنے سب کو دیکھتا ہیر کو ڈھونڈتا بولا تھا ۔۔۔۔
جب سب کے قہقہ گونجے تھے ۔۔۔
باری باری سارے اسے وش کر رہے تھے ۔۔
جبکہ وہ کبھی ایک کی باہوں میں تو کبھی دوسرے کی باہوں میں جا رہا تھا ۔۔۔۔
بس کرو بچیوں میرے پوتے کو چوم چوم کر لال کر دیا ۔۔۔۔
وردہ بیگم احمد کو لیتی بولی تھی جہاں مرحا اور روحا اسے چوم رہی تھی ۔۔۔۔
ہاہااہا اللہٌنے مجھے کتنی پیاری ہیرے جیسی بہوئیں دی ہے ا۔۔۔۔
بابا آپ کے بیٹے ہیرے جیسے ہے تبھی بہوئیں ایسی ملی ہے ۔۔
آفندی صاحب اپنی ہنستی مسکراتی فمیلی کو دیکھتے بول رہے تھے جب مستقیم شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
ہاہہاہاہہاہہا۔۔۔
مستقیم کی بات پر سب کے قہقہ گونجے تھے ۔۔۔
کیوں آپ لوگ کوئلے ہوتے تو ہ۔۔۔
مرحا بول رہی تھی جب سامنے انٹر ہوتے صام کو دیکھتی چپ کر چکی تھی ۔۔۔
صام کو دیکھتے سارے خاموش ہو گے تھے ۔۔۔
ان کو دیکھ کر آپ سب ایسے خاموش ہو گے جیسے ڈیول ہو ۔۔۔
روحا سب کو خاموش دیکھتی اپنے پیچھے کھڑے صام کو دیکھتی دانت نکالے بولی تھی ۔۔۔
بڑے دانت نکال رہے ہے تمہارے کتنی دفعہ کہو چپ رہا کرو ۔۔۔
صام اس کے کان میں سرگوشی کرتا دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
کیوں آپ کو ہمارے دانت نہیں پسند ہمارے ہے نکالے یا نہ نکالے ایویں بولنے لگ جاتے آپ ۔۔
انہہ۔۔۔
روحا صام کی طرف دیکھتی برا سا منہ بناۓ بولتی احمد کے پاس چلی گی تھی ۔۔۔
ارے چونے یہاں آو چاچو سے ملو ۔۔۔
صام احمد کو گھورتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
کیا طریقہ ہے یہ احمد ابھی چلتا ہے ل۔۔۔۔
بابا میں بھی تو چل کے ہی آیا ہو یہاں تک یہ پانچ قدم نہیں چل سکتا ۔۔۔
آفندی صاحب غصے سے بول رہے تھے جب صام سکون سے بات کاٹتا بولا تھا ۔
بات وہ ان سے کر رہا تھا جبکہ نظریں اس کی روحا پر تھی جس کی آنکھیں سرخ سوجی ہو چکی تھی ۔۔۔
جاٶ بیٹا چاچو کے پاس ۔۔
آہان احمد کو نیچے قالین پر چھوڑے بولا تھا ۔۔۔
جب احمد لڑکھڑاتا ہوا صام کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔۔
احمد جیسے ہی صام کے پاٶں تک پہنچا ویسے ہی صام اسے ایک پاٶں سے پکڑے الٹا لٹکا چکا تھا ۔۔۔
یہ کیا ح۔۔۔
ہپی برتھ ڈے ڈمپل بواۓ مجھے ایسے ہی وش کرنا آتا ہے ۔۔۔
اس سے پہلے روحا بولتی جب صام سکون سے احمد کو الٹا کیے بولا تھا ۔۔
اہہ۔۔
اپنی جنگلی انیجل موم کی طرح ہو میں تو وش ہی کر رہا تھا ۔۔۔۔
احمد بھاں بھاں روتا صام کے سینے پر کاٹ چکا تھا ۔۔
کیونکہ الٹا ہونے سے احمد کا منہ اس کے سینے پر آ رہا تھا تبھی اس نے کاٹا تھا ۔۔۔
تبھی صام اسے سیدھا کیے بولا تھا ۔۔
یہ لو گفٹ ۔۔
صام اب احمد کو قالین پر کھڑا کیے اس کے برابر نیچے بیھٹے ایک چھوٹا کا باکس کھولتا ہوا اس میں ڈائمنڈ چین نکالے اس کی گردن میں ڈالے بولا تھا ۔۔۔۔
جس پر لٹل چمپین لکھا تھا ۔۔۔
احمد کو چین پہناۓ صام نے اس کے گال چومے تھے پھر اسے گود میں اٹھایا تھا ۔۔۔
ہم ڈمپل بواۓ کو اپنے ساتھ لے جاۓ ہیر آپی ۔۔۔
روحا جلدی سے احمد کو صام سے لیتی بولتی کسی کی سنے بنا وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
بھابھی آج چونے کی برتھ ڈے بس اسی لیے چھوڑ دیا اسے میں نے ۔۔
صام ہیر کی طرف دیکھتا دانت پیستے خود بھی باہر چلا گیا تھا ۔۔۔
ہاہہاہاا۔۔۔
روحا صام کی حرکت پر سب کے قہقہے گونجے تھے ۔۔۔
———————————————————-
کیا ہے کیوں لائ ہو اس چونے کو اٹھاٶ یہاں سے ۔۔۔
میں تم سے بات کر ر۔۔۔۔
صام شدید غصے سے روم میں آتا روحا کو دیکھتا بول رہا تھا جو احمد کو آرام سے بیڈ پر لٹاۓ صام کو اگنور کیے اس پر چادر دینے والی تھی جیسے ہی روحا نے تھوڑا اوپر بازوں اٹھائ تھی ۔۔۔
وہی صام روحا کی نائٹ شرٹ تھوڑی سی اوپر اٹھی تھی اور پیٹ پر چمکتی چین دیکھتا وہی خاموش ہو چکا تھا ۔۔۔۔
ت۔م۔مجھے اگنور کر رہی ہ۔۔۔۔
صام وہی اپنی نظریں اٹکاۓ ہکلاتے بول رہا تھا جب روحا نے اپنی سرخ سوجی آنکھیں اٹھاتے بولی تھی ۔۔۔۔
آپ کو ہماری آواز اچھی نہیں لگتی اس لیے۔۔۔
اچھا ایک شرط پر اس چونے کو سونے دو گا ۔۔
صام بیڈ کے قریب آتا ویسے ہی گہری نظروں سے دیکھتے بولا تھا ۔۔
وہ بھول چکا تھا روحا اور اس کی لڑائ چل رہی ہے اگر یاد تھا تو صرف اتنا روحا اس کا جنون تھا صرف اسی کی ہے ۔۔۔
بولے جلدی لائٹس آف کرنی ڈمپ۔۔۔
ریمو کرو اپنی شرٹ ابھی ۔۔۔
روحا اپنا ڈوپٹہ اتارتی بول رہی تھی جب صام بہکا ہوا بولا تھا ۔۔
دماغ خراب ہو گ۔۔۔۔
جلدی سے ریمو کرو شرٹ میں نے چین دیکھنی ہے پھر ہی یہ چونا یہاں سوۓ گا ورنہ ابھی اٹھا کر باہر پھیک دو گا ۔۔۔
روحا جو گھبراتے بول رہی تھی جب صام کی نظریں اب روحا کی نائٹ شرٹ سے اس کی گردن سے نیچے کی طرف جاتی وہ بولا تھا ۔۔۔
اچھا آپ نے چین دیکھنی ہے ہم شرٹ ریمو نہیں کرتے بس تھوڑی سی اوپر کرتے پھر دیکھ لینا آپ ۔۔
روحا جلدی سے مانتی بولی تھی کیونکہ احمد نیند میں جا رہا تھا ۔۔۔
چلو ک۔۔۔
اس سے پہلے صام بولتا جب روحا بیڈ پر بچوں جیسے چلتی گھٹنوں کے بل آتی صام کے قریب آتی ڈرتے ڈرتے اپنی شرٹ تھوڑی سی اوپر کی تھی وہی صام اس کا سفید پیٹ دیکھتا چپ ہو گیا تھا ۔۔۔
ص۔صام۔۔
روحا کا دھیان احمد کی طرف تھا تبھی اسے وہاں صام کے دہکنے لب محسوس ہوۓ تھے ۔۔۔
روحا تڑپتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
انیجل موم آ جاۓ نیند آ رہی۔۔۔
احمد آنکھیں بند کیے ویسے ہی لیٹتا بولا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
ص۔صام چھوڑے ہمیں ہم تھک گے ہے ۔۔۔
روحا کب سے ویٹ کر رہی تھی صام اسے چھوڑے گا لیکن وہ مدہوش ہوا کبھی اپنے لب رکھتا تو کبھی اپنی انگلیاں چین میں پھساۓ چین کو گھومتا تبھی روحا تھک کر اپنے بازوں صام کے شولڈر پر اور چہرہ اس کے سر پر رکھتے بولی تھی۔۔۔۔
ص۔آ۔۔۔
روحا ایک دفعہ بولنے والی تھی جب صام اسے کمر سے پکڑے ویسے ہی بیڈ پر لیٹاتا خودی اس کے اوپر جھکا تھا ۔۔۔
روحا سمجھ گی وہ بہک چکا ہے ۔۔۔
ص۔صام پلیز احمد کو س۔۔۔۔
روحا صام کا سر اپنے پیٹ سے زبردستی اٹھاتے بول رہی تھی جب صام نے شرٹ کے اندر ہاتھ ڈالے اس کی شرٹ کو اوپر کیا تھا ۔۔
وہی روحا کا سانس روک چکا تھا ۔۔۔
صام کے مضبوط باڈی کے سامنے نازک سی روحا آج بے بس ہوئ تھی ۔۔۔
کیونکہ وہ مکمل بہکا ہوا اپنی پیاس بجھا رہا تھا ۔۔۔
ہ۔م۔ہمیں سونا ہے آپ ۔بھ سو جاۓ۔۔۔
روحا ہمت جمع کیے جلدی سے اسے دور کیے اٹھتی صام کی شرٹ اتارے اسے احمد کے ساتھ لٹاۓ بولی تھی ۔۔۔
صام کی آنکھوں کی طرف دیکھنا روحا کو محال لگ رہا تھا کیونکہ وہ سرخ گرین ہو چکی تھی ۔۔۔
صام نے بس خاموش نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔
سو جاۓ آسٹریلیا کے بندری پھر کہے گے چونا تنگ کرتا ہے ۔۔۔
روحا اپنی شرٹ ٹھیک کیے صام کے ماتھے پر کس کرتی مسکراتے بولی تھی ۔۔۔۔
جبکہ اس کی سرخ سوجی آنکھوں سے آنسو ٹوٹا کر گرا تھا جیسے صام نے اپنے ہاتھ سے اس کا آنسو صاف کیا تھا ۔۔۔۔
بہت جلد افریقہ کی بندری ۔۔۔
روحا نے پھر صام کے شرٹ لیس سینے پر اپنی انگلی سے کچھ لکھا تھا جب صام مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہے صام کمبل ہمیں دے۔۔۔
آدھی رات کو روحا گہری میں نیند میں صام سے کمبل لیتی بولی تھی ۔۔
بیڈ کے ایک کونے روحا جبکہ دوسرے کونے صام تھا درمیان میں احمد سو رہا تھا ۔۔۔
کمبل تینوں کو کم پڑ رہا تھا ۔۔۔
اب روحا زور سے کمبل اپنی طرف کھیچتی تو صام اپنی طرف کھیچ لیتا ۔۔۔
کافی دیر سے یہ کام چل رہا تھا ۔۔۔
صام اپنی طرف تو روحا اپنی طرف کمبل کھیچ لیتی تھی ۔۔۔۔
صام کیا ہے آپ کو ہم نے مارنا ہے آپ کو ۔۔۔
آخر روحا نیند میں جھولتی اٹھ کر بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔۔
میرا قصور نہیں تم یہ چونا ساتھ لائ ہو ورنہ ہمارے لیے یہ کمبل کافی تھا ۔۔۔
صام سکون سے لیٹا بولا تھا ۔۔۔
اس کی نظریں بھٹک کر بار بار روحا کے سرہاپے پر جا رہی تھی ۔۔۔
وہ ایک ننھا سا بچہ ہے حد ہے صام کوئ آپ جیسا سانڈ نہیں پورے بیڈ پر پھیلے ہے ۔۔۔
ہمیں نیند آ رہی ہے ہمارا سر بھی پھٹ رہا ا۔۔۔۔
روحا نیند میں ہی بیزار سی شکل بناۓ بول رہی تھی جب صام نے کمبل میں بیٹھی روحا کو اپنی طرف کیھچتے ہوۓ اپنے سینے پر گرایا تھا ۔۔۔۔
پتہ کیا قصور اس کمبل کا نہیں ہم دونوں کا ہے ہمیں ایک دوسرے کی قربت کی عادی ہو گی ہے ۔
اب سکون سے سو جاٶ پکا تنگ بلکل نہیں کرو گا ۔۔۔
روحا خاموش اس کے سینے میں منہ چھپاۓ لیٹ چکی تھی جب صام اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا آرام آرام سے بول رہا تھا ۔۔۔۔
صام کو اب سکون کی نیند آنی تھی کیونکہ اس کے بازو پر احمد جبکہ سینے پر گہری نیند روحا سو رہی تھی ۔۔۔
جہاں صام کو اپنے سینے پر اس کی نرم گرم سانسیں پڑھتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔
اس کے دل میں جلتی آگ کو ٹھنڈک مل رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
یہ لو انیجل جوس پیو ۔۔۔
صبح جب روحا جاگی وہ بیڈ پر اکیلی سو رہی تھی ۔۔۔
جبکہ احمد اور صام وہاں نہیں تھے ۔۔
اس سے پہلے وہ اٹھتی جب مرحا روم میں آتی جوس کا کلاس لاتی بولی تھی ۔۔۔
ارے بھابھی یہ کیا آپ کو ریسٹ چاہے آپ ہمیں ہی جوس دے رہی لالہ کو پتہ چلا گیا ہم تو گے جان سے ۔۔
روحا جلدی سے اٹھتی مرحا کو بیڈ پر بیٹھاتی مسکراتے ہوۓ بولی تھی۔
تمہارا لالہ کچھ نہیں کہے گا یہ میں ہی لے کر آئ اور یہ اتنی عزت کیوں مطلب آپ بھابھی بلا بلا یار میں ایک ننھی بچی لگتی ہو تمہارے سامن۔۔۔۔
لیکن آپ بڑی ہے مجھے سے عہدے میں ۔۔۔
مرحا مسکراتی ہوئ بول رہی تھی روحا اپنے بالوں کا جھوڑا بناۓ بولی تھی ۔۔۔
یار دل میں عزت ہونی چاہے تم کرتی ہو عزت میری یہ بھابھی مت کہو مجھے ایسے لگتا بڑی عمر کی عورت ہو ۔۔۔
مرحا ویسے ہی مسکراتے بولی تھی ۔۔۔
اچھا چلے مان لیا اب خوش ویسے یہ نیچے کیسا شور ہو رہا ۔۔۔
روحا چلتی ہوئ ونڈو سے باہر دیکھتی بولی تھی جہاں لان میں کافی لوگ کھڑے تھے ۔۔۔
ہاں احمد کی برتھ ڈے پارٹی ہے رات کو تم تیار ہو جانا یہ ڈریس بھی آ گیا تمہارا ۔۔۔
مرحا بیڈ سے اٹھتی بولی تھی جب راضیہ ایک خوبصورت سا ڈریس لائ تھی جو بلیک کلر کا نیٹ کا سارا تھا ۔۔۔۔
ہممم۔۔
روحا کے سر میں درد تھا بے حد تبھی وہ بس اتنا بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
اچھا ہیر آپی تیار ہو جاتی ہو آپ ڈمپل بواۓ کو تیار کرے ۔۔۔
شکر ہے کیوٹ لیڈی باس آپ آ گی ۔۔۔
ہمارے سارے بھائ کتنے پیارے لگ رہے ہے ۔۔۔
روحا رات کو ہال میں آئ تھی جہاں ہیر مرحا یافی ہانیہ سب نے سیم مہرون کلر کی ساڑھیاں پہنی تھی ۔۔۔
جبکہ مستقیم آہان منان زرجان نے چاکلیٹی شرٹس ساتھ بیلو جنیز ساتھ مہرون کورٹ پہنے تھے ۔۔۔
وہ چاروں بھی خوبصورت لگ رہے تھے ۔۔
تبھی روحا ان سب کو دیکھتی بول رہی تھی ۔۔
صام کب سے دیکھ رہا تھا روحا کی زبان پٹر پٹر چل رہی تھی جبکہ اس کی آنکھیں اور زیادہ سرخ ہو چکی تھی ۔۔۔۔
اووو افریقہ کی بندری خود بھی تیار ہو جاٶ سب کو بولے جا رہی ہو ۔۔۔
صام نے منہ بناتے کہا تھا ۔۔۔
آسٹ۔۔۔۔
روحا اپنا رخ صام کی طرف کرتی بول رہی تھی جب الفاظ منہ میں رہ چکے تھے ۔۔۔
جہاں وہ اپنی وجہہ پرسینلٹی لے خوبصورت سی بالوں کی پونی بناۓ سرخ گرین آنکھوں میں وحشت لاۓ عنابی ہونٹ بلیک شرٹ بلیک ہی پینٹ شرٹ کے اوپری بٹن کھولے تھے ۔۔۔
جس سے روحا کو اپنے نام کا آر اور ایس کا لاکٹ دیکھائ دے رہا تھا ۔۔۔
روحا کو رشک آیا تھا اپنی قسمت پر جس کو اللہٌنے اتنا خوبصورت شوہر دیا تھا ۔۔۔۔
ہمم تیار ہو جاۓ گے۔۔۔
روحا چلتی ہوئ صام کے قریب جاتی بولی تھی ۔۔۔
جو صام ہال کی ونڈو کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔
جبکہ روحا اور صام کے درمیان پردہ آ رہا تھا ۔۔۔
ہم چلتے ہے باہر تم لوگ آ جانا۔۔۔
سب کہتے باہر چلے گے تھے ۔۔۔
اب ہال میں روحا اور صام ہی کھڑے تھے ۔۔۔
آپ ب۔۔۔
روحا بولنے والی تھی جب صام نے ایک ہی جھٹکے سے روحا کو کلائ سے پکڑے پردے کے ساتھ اپنے پاس لایا تھا ۔۔۔
اب پردہ دونوں کے اوپر آ چکا تھا ۔۔۔
کی۔۔۔
روحا پھر بولنے والی تھی جب صام نے جھکتے اس کے گلابی زخمی لب کو اپنی قید میں کیا تھا ۔۔۔
روحا نے آنکھیں پھاڑے اس کی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑا تھا ۔۔۔
صام روحا کی آنکھوں میں ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
روحا پریشان ہو چکی تھی کیونکہ ہال سے کوئ بھی گزر سکتا تھا جبکہ صام لاپرواہ سا ہوا اپنی سانسیں اس میں منتقل کر رہا تھا ۔۔۔
اس سے پہلے روحا اسے چھوڑتی جب اسے محسوس ہوا اس کے منہ کے اندر کوئ کڑوای چیز گی ہے ۔۔۔۔
ص۔صام۔ہم۔نے الٹ۔الٹی کت۔۔۔۔۔۔۔
روحا صام کو دھکا دیتی بول رہی تھی جب اس کی آواز چلی گی ۔۔۔
روحا نے پریشان ہوتے جلدی سے اپنی گردن پکڑتی صام کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔
روحا کا حلق تک کڑوا ہو چکا تھا۔۔
ی۔۔۔
روحا نے آواز نکالنے کی کوشش کی جب وہ ناکام ہوتی صام کی طرف دیکھا ۔۔۔
آج کل کچھ زیادہ بول رہی تھی مجھے تمہاری یہ آواز بلکل نہیں پسند اس لیے تمہارے منہ میں ایک گولی ڈالی تاکہ میرے کانوں کو تین دن سکون رہے ۔۔
اب تم بولو گی پھر اٹک اٹک کر اگر کوشش کر سکو ۔۔۔
چلو جاٶ تیار ہو جاٶ تمہارے ڈمپل بواۓ کا برتھ ڈے ہے روحا بےبییییییی۔۔۔۔
صام شطانی مسکراہٹ لاۓ روحا کی طرف جھکے اس کی پلکوں پر پھونک مارتے کہتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
س۔ا۔سان۔۔۔
آہہہ۔۔۔
روحا نے غصے سے بولنے کی کوشش کی تھی جب خودی اپنا درد کرتا گلا پکڑے منہ بناتے روم میں چلی گی تھی ۔۔۔
———————————————————–
انیجل موم کدھر ہے گندے چاچو ۔۔۔
احمد صام کے شولڈر پر بیٹھا سیم اسی کی طرح ڈراسینگ کیے منہ بناتے بولا تھا ۔۔۔
کیونکہ آج صام احمد کو خود لے پوری پارٹی میں گھوم رہا تھا ۔۔۔
آتی ہو گی چونے تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔
میری بیوی ہے ۔۔۔
صام دانت پیستے ہوۓ بولا تھا جیسے احمد روحا کو لے کر بھاگ جاۓ گا ۔۔۔۔۔
کیا میری بیوی بھی بن سکتی ہے انیجل موم ۔۔۔
احمد اپنی تھوڑی صام کے سر پر ٹکاۓ معصومیت سے بولا تھا ۔۔
اوےے آج کی رات صام آفندی نے تجھے سے آفر دی ہے تو میرے ساتھ رہ سکتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں میری معصوم بیوی پر نظر رکھ
لے ۔۔
صام احمد کو ایک جھٹکے سے اپنے شولڈر سے اترے بولا تھا ۔۔۔
انیجل موم میری بیوی بنے گی دیکھنا گندے چاچو ۔۔۔
احمد صام کی ٹانگوں کے پاس کھڑا اپنا چہرہ اوپر اٹھاۓ چلیچنگ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔
اوووو میری بیوی کو میرے جیسے سانڈ شوہر پسند ہے پہلے میرے جیسے بن جاٶ پھر میں تمہیں روحا کی فوٹو کاپی لڑکی دو گا چاچو کا وعدہ ہے اب بھاگ جا یہاں سے۔۔۔
صام احمد کے برابر بیٹھتے سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
تو میں آپ جیسا ہی ہو یہ آنکھیں یہ ڈمپل بس بال اور قد جیسے مجھے ۔۔۔
وہ میں بابا سے کہو گا وہ لندن سے لا دے گے۔۔۔۔
احمد اپنی ننھی گرین آنکھیں صام کی سرخ گرین آنکھوں میں گھاڑتے نڈر ہوتا بولا تھا ۔۔۔
لالہ آپ اپنی یہ لندن کی پیدوار لے یار میرا میٹر گھوم رہا یہ نہ ہو ضائع ہو جاۓ ۔۔۔
صام احمد کو پاٶں سے پکڑے الٹا کرتے سامنے ہیر اور آہان کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
کیا یار میرے معصوم بچے پر ظلم کرتے رہتے ہو ۔۔۔
تمہارے بچے ہو گے تو دیکھنا میں نے بھی ایسا ہی ظلم کرنا ۔۔۔
آہان ہنستا ہوا صام کے پاس آتا احمد کو لیتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
“بچوں کی ماں اپنے قریب نہیں آنے دیتی بچے کہاں سے ہو گے ۔۔۔
ہاے صام آفندی کے چھوٹے چھوٹے دکھ ۔۔۔
کیا بول رہا ہے ۔۔
آہان صام کی بڑابڑاہٹ سنتا بولا تھا ۔۔۔
کچھ نہیں لالہ آپ کا بچہ معصوم نہیں ٹھرکی ہے ابھی سے میری بیوی پر نظر رکھی ہے ۔۔۔۔
بیوی سے یاد آیا دیکھو کہاں ہے ۔۔۔
صام جلدی سے آس پاس دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ارے وہ رہی انیجل یہی آ رہی ہے ۔۔۔
آہان سامنے سے آتی روحا کو دیکھتے بولا تھا ۔۔۔
جہاں نیٹ کی شارٹ گھیر والی فراک جو کمر تک آتی تھی ساتھ کپیری بالوں کی سادہ سی چیٹیا کے ہر بل میں چھوٹے چھوٹے ڈائمنڈز لگاے تھے ۔۔۔
جو ناگن کی طرح کمر سے نیچے جھول رہی تھی ۔۔۔
یہ ڈائمنڈز اسے صام نے ہی گفٹ کیے تھے یہ کہا کر اسے اس کے بال پیارے لگتے ہے ۔۔۔
اپنے سرخ سفید چہرے پر کوئ میک اپ نہیں کیا تھا ۔۔۔
بس ہلکا سا پنک لیپ لوس لگایا تھا ۔۔۔۔
اس کی سرخ ڈراک براٶن آنکھیں اور زیادہ حیسن لگ رہی تھی ۔۔
صام روحا کا سادہ سا روپ دیکھتے وہی گم صم ہو چکا تھا ۔۔۔
سفید زخمی پاٶں میں کالا ہی کھوسہ پہنے اسی کی طرف چلتی آ رہی تھی ۔۔
روحا آہستہ آہستہ قدم آٹھاتی آ رہی تھی وہی صام کی سانسیں رک رہی تھی ۔
اس سے پہلے صام اسے بلاتا جب روحا اگنور کیے صام کے پاس سے گزارتی لان میں انٹر ہوتے شعیب کے پاس چلی گی تھی ۔۔۔
ہاہہاہاہہاہا۔۔
وہی آہان کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
جب صام نے بس گھورا تھا ۔۔۔
———————————————————–
کیا ہوا بلیک بیوٹی بول کیوں نہیں رہی ۔۔
شعیب روحا کی طرف ہوس بھری نظروں سے دیکھتے اسے خاموش کھڑے دیکھ بولا تھا ۔۔۔
پارٹی پر بھی اسی نے بلایا تھا ۔۔۔
اوو اچھا کوئ بات نہیں تم آرام کرو بلیک بیوٹی ۔۔
روحا نے موبائل پر ٹائپ کر کے بتایا تھا اس کا گلا خراب ہے بولا نہیں جاتا تبھی وہ مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
ا۔۔
اگر باتیں ہو گی تو کیک کٹ کر لے ۔۔۔
اس سے پہلے شعیب بولتا جب صام دانت پیستے اُونچی آواز سے بولا تھا ۔۔
م۔می۔میرا ڈمپل۔ب۔بواۓ۔۔۔
احمد کے ساتھ کھڑے سب نے کیک کٹ کیے تھا جب روحا احمد کو گود میں لیتی اس کے گال چومتی اٹکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
یہ منظر صام نے کنٹرول کیے دیکھا تھا ۔۔۔
جہاں روحا اسے ہی پیار کر رہی تھی ۔۔۔
اچھا مجھے تو پیار کرنے دو پھپو ہو میں ۔۔۔
یافی روحا سے احمد لیتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ج۔جی ۔
نہیں بولا جا رہا تو مت بولی انیجل ریسٹ کر لو ۔۔۔
روحا بول رہی تھی جب مستقیم بولا تھا ۔۔۔
سارے مہمان اب احمد کو وش اور گفٹس دے رہے تھے ۔۔۔
جبکہ مستقیم آہان منان زرجان صام یافی ہیر مرحا ہانیہ سارے باتوں میں مصروف ہو چکے تھے ۔۔
جبکہ شعیب کومل کے پاس کھڑا تھا۔۔۔۔
وہی اکیلی کھڑی روحا سر درد سے تڑپتے پلیس کے اندر بھاگی تھی ۔۔۔
اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے سر کے اندر کسی نے کرنٹ چھوڑ دیا ہو ۔۔۔
———————————————————
۔ص۔ا۔ہ۔ی۔ر۔آ۔پی۔ل۔لا۔لہ۔۔۔۔
روحا روم میں آتی بیڈ پر درد سے تڑپتی لیٹ چکی تھی جب درد حد سے باہر ہوا تو وہ درد سے چلاتے اٹک اٹک کر سب کو بلا رہی تھی ۔۔۔
نیچے اتنا شور میوزک کی آواز سے روحا کی آواز باہر نہیں جا رہی تھی ویسے بھی صام کا روم ساونڈ پروف تھا ۔۔۔
ہ۔ہم۔مر۔ح۔کو بلا۔ت۔۔۔۔
روحا مشکل سے بیڈ سے اٹھتی کھڑی ہوئ تھی جب لڑکھڑا کر نیچے قالین پر گری تھی ۔۔
کیونکہ آنکھوں کے سامنے اندھیرہ چھا رہا تھا ۔۔۔۔
ص۔صاممم۔۔۔
کہ۔ا۔ں۔ہ۔۔۔
آہہہہ۔۔آہہ۔۔۔
روحا ہمت کرتی کھڑی ہوئ تھی جب دوبارہ گری تھی ویسے ہی وہ چلائ تھی جب منہ سے خون کی الٹی آئ تھی ۔۔۔
———————————————————–
روحا روحا ۔۔۔
یہ کیسے ہوا ۔۔۔
صام نے جب دیکھا پورے فکیشن میں نہیں روحا تبھی وہ پریشان سا ہوتا ڈھونڈتا پلیس آتا روم میں آیا تھا ۔۔۔
جب بکھری حالت میں گری روحا خون سے بھرا چہرہ بکھرے بال دیکھتے صام کے پاٶں کے نیچے سے زمین نکلی تھی ۔۔۔
ص۔ا۔پین۔ہ۔۔ر۔ا ۔۔
ہ۔ما۔رے۔ب۔۔۔
روحا اٹکتے صام کو دیکھتی اپنے بال نوچتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
نہیں نہیں کچھ نہیں ہوا میری جان دیکھو تمہارا صام آ گیا کہاں پین ہو رہی ہے ۔۔
صام نیچے بیٹھتا اس کی چٹیا سے ڈائمنڈز نکالے بولا تھا ۔۔۔
۔ی۔ہ۔۔۔
روحا کی آواز بلکل چلی گی تھی ۔۔۔
اب وہ ایسی ہو گی تھی جیسے بت ہو ۔۔۔
میری روحا تو بہت بہادر ہے آو یہاں وہ جو گولی دی شاہد اس لیے خون آیا ۔۔۔
صام روحا کو بیڈ پر بیٹھاۓ خودی بول رہا تھا ۔۔۔
کیونکہ وہ اسے نہیں بتا سکتا تھا روحا کی حالت کیوں ایسی ہو رہی تھی ۔۔۔
اب کیسا فیل ہو رہا ۔۔۔
اب وہ روحا کا سر اور شولڈر دبا رہا تھا تبھی وہ بولا ۔۔۔
آج تو تمہارے ڈمپل بواۓ کی برتھ ڈے ہے تو ڈانس تو کرو گی ۔۔۔
صام آہستہ آہستہ روحا کی فراک کے بٹن کھولے شولڈر پر مساج کر رہا تھا جب روحا نے اپنی انگلی سے اس کے گال پر سکون لکھا تھا ۔۔۔
تبھی صام مسکراتے بولا تھا ۔۔۔۔
لو اب خون بھی صاف کر دیا اب پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔
صام نے جب دیکھا روحا کی آنکھیں سرخ ہونا کم ہو چکی ہے تبھی شولڈر چھوڑے اس نے اس کے لبوں پر لگے خون کو صاف کرتے کہا تھا ۔۔۔
نہیں اب پین نہیں ہو گا اگر ہوا تو مجھے بتانا اور بولو مت میں ہو تمہاری ہر بات سمجھنے کے لیے ۔۔۔۔
روحا نے جب دیکھا اس کی حالت ٹھیک ہو رہی تبھی اپنا چہرہ صام کی گردن میں چھپاۓ اپنی انگلی سے اس کے گال پر لکھتے پوچھا تھا تبھی صام بولا تھا ۔۔۔۔
چ۔چلے۔با۔ہ۔۔۔۔
روحا اپنا چہرہ اٹھاتے صام کی طرف دیکھتی اٹکتے بولی تھی ۔۔۔
آو باہر چلے ۔۔
صام روحا کو کھڑا کیے اس کے بال کھولے بولا تھا ۔۔۔
سوری میری جان میری وجہ سے تم یہ درد سہہ رہی ہو میں پہلی دفعہ اتنا مجبور ہوا ہو ۔۔۔
صام نے جب دیکھا روحا کے منہ سے دوبارہ خون نکل رہا تھا تبھی وہ دکھی ہوتا اس کے کان میں سرگوشی کرتا نرمی سے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کرتا بولا تھا ۔۔۔
روحا دیکھ سکتی تھی صام واقعی بے بس کھڑا اس کا خون پی رہا تھا ۔۔۔
وہ جانتی تھی کتنا پریشان ہو چکا تھا ۔۔۔
چ۔چل۔۔۔
ششش جب بولو گی پین ہو گا اب بلکل چپ ۔۔۔
روحا آہستہ سے دور ہوتی سرخ چہرہ لیے بول رہی تھی جب صام اس کے بھیگے ہونٹوں پر انگلی رکھتا سخت لہجے سے بولا تھا ۔۔۔
چلو شکر ہے پین کم ہوا تمہارا اب مت بولنا اب بولی تو زبان کاٹ دو گا ۔۔۔
روحا اپنے ڈوپٹے سے صام کے لبوں سے خون صاف کرتی آنکھوں سے اشارہ کرتی بولی تھی جب صام اسے سینے سے لگاۓ بولا تھا ۔۔۔۔
———————————————————–
ویسے اب تم پھپھا کٹنی والا کردار ادا کرو گی میرے بچوں کے ساتھ ۔۔
مستقیم یافی کی طرف دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
پھپھا کٹنی والا رول پر ادا کرتے ہو چوزے کافی دن ہو گے تجھے مارا نہیں ۔۔۔
یافی مستقیم کے پیٹ پر کہنی مارتی بولی تھی ۔۔
جبکہ پاس کھڑے آہان ہیر مرحا منان ہانیہ زرجان سارے ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ۔۔
مستقیم اور یافی کی لڑائ دیکھ کر جو یہ بھول گے تھے وہاں پارٹی چل رہی ہے ۔۔۔
اے شرم کر اب تو باپ بنے والا می۔۔۔
بچاٶ مجھے اس سوتیلی ناگن سے ۔۔
مستقیم یافی کے بال کھیچتا بول رہا تھا جب یافی نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اس کے بالوں میں پھساۓ اس کے سر کو جھٹکا دیا تھا ۔۔
تبھی مستقیم دہائ دیتا چلایا تھا ۔۔۔
باپ بنے والے ہو تو تھوڑی عقل بھی کیا کرو دیکھنا تیرے بچے ہو جاۓ سامنے آ کر فساد ڈالا کرو گی پھر تیرے بچوں کو بتاٶ گی پھپھو ہوتی کیسی ہے ۔۔۔
مجھے پہلے ہی بدنام کر دیا تو نے چوزے ۔۔۔
یافی اب زور و شور سے مستقیم کے بالوں کو کھیچتی بولی تھی ۔۔۔۔
دیکھ سوتیلی ناگن میں ایس پی ہو رحم کر میرے یہاں کولیگ بھی آۓ ہے میری بھی کوئ عزت ہے ۔۔
مستقیم اب منت کرتا بولا تھا ۔۔
کیونکہ سب انہیں ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔
ن۔۔
ارے چھوڑو یافی بس کرو بچہ ہے آو ڈانس کرے انجواۓ کرو اسے منہ نہ لگایا کرو جانتی تو ہو پاگل ہے ۔۔۔
اس سے پہلے یافی بولتی جب آہان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
چھوڑ دیا میں نے اب ۔۔
یافی احسان کرتی اسے چھوڑتی بولی تھی ۔۔
جہاں مستقیم کے بال گھونسلہ بن چکا تھا ۔۔۔
آو بلیک بیوٹی ڈانس کرے ۔۔۔
صام اور روحا لان میں آے تھے جب شعیب سامنے آتا روحا کے آگے ہاتھ کرتا مسکراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
صام اور روحا دونوں ہی سکون میں تھے ۔۔۔
روحا خاموشی سے چلتی ڈانس فلور پر آ تھی ۔۔۔
———————————————————-
“ہے نہ تجھ پر نظر میری “
”آنکھوں میں ہی آنکھیں باتیں ہوتی ہے “
“آ جا باہوں میں آ میری “
“ایسے ہی دونوں میں شروع ہوتی ہے ““![]()
ڈانس فلور پر سارے کپلز ڈانس کر رہے تھے ۔۔
شعیب روحا کے ساتھ جبکہ صام کومل کے ساتھ تھا ۔۔۔
روحا اور صام ایک دوسرے کو ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔
کومل نے صام کے شولڈر پر ہاتھ رکھے تھے ۔۔۔
شعیب نے بھی جیسے ہی روحا کی کمر پر ہاتھ رکھنا چاہا اسے کرنٹ لگا تھا ۔۔۔
اہہہ۔۔۔
ک۔کی۔۔۔
شعیب کو چیختے روحا نے مسکراہٹ روکے پوچھا تھا ۔۔۔
تم نے کرنٹ لگایا ہے مجھے ل۔۔۔
جب کسی غیر محرم کو چھو گے تبھی کرنٹ لگے گا ابھی ہماری طلاق نہیں ہوئ تو میں شوہر ہو اس کا جاٶ یہاں سے تم ۔۔
شعیب ابھی بول رہا تھا جب صام اسے پیچھے کرتا روحا کو کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ بولا تھا ۔۔۔
دیکھو مجھے تو نہیں لگا کرنٹ ۔۔۔
کیونکہ میں شوہر ہو اب جاٶ ہمیں ڈانس کرنے دو ۔۔۔
صام شعیب کا دھواں ہوا چہرہ دیکھتا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔
جب شعیب غصے سے چلا گیا تھا ۔۔۔
————————————————————
“ڈسکو دیوانے “
آ انہہ۔۔
“ڈسکو دیوانے “
“نشلی ہی رات “
“ہاتھوں میں ہاتھ “
“ناچے گاۓ ساتھ “
“ڈسکو دیوانے “![]()
ڈانس فلور پر اب مدھم لائٹس چل رہی تھی سارے ایک دوسرے کے ساتھ ڈانس کر رہے تھے ۔۔۔
روحا سکون سے صام کے سینے سے لگی آہستہ آہستہ ڈانس کر رہی تھی ۔۔۔
واقعی مسز صام یہ لڑکی ہے ۔۔۔
دور بار اسٹنڈ کے پاس بیٹھے اے ڈی نے اپنے آدمی سے پوچھا تھا ۔۔۔
جہاں وہ اپنے سامنے روحا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جی سر اسے ہی کڈنپ کرنا ہے ۔۔
آدمی بھی سامنے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ہممم۔۔
اے ڈی سوچ میں پڑ چکا تھا کیسے اتنی سکیوڑٹی میں روحا کو کڈنپ کر سکے ۔۔۔
“”کھیل جا راتوں کا کھیل یہ تھوڑی دیر “
“جھوم جا باہوں میں آ کے تو تھوڑی دیر “
“نظروں سے ہی میں تجھ کو سمجھا دو گا “
”رات باقی ہے ساری رات بس ہوش اُڑا دو گا بس تھوڑی دیر “![]()
روحا کب سے اس کے سینے لگی آنسو کنٹرول کیے کھڑی صام کی تیز چلتی دھڑکنوں کو سن رہی تھی ۔۔۔
بس تھوڑی دیر میری جان پھر سب ٹھیک ہو جاۓ گا ۔۔۔
سب کی نظروں میں صام روحا ڈانس کر رہے تھے جبکہ صام جانتا تھا روحا اس کے سینے سے لگی اب پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔۔
جبھی صام اس کے بالوں میں انگیاں چلاۓ ضبط کرتا بول رہا تھا ۔۔۔
دھوکا نہیں دے رہا میر۔۔۔
روحا روحا کہاں جا رہی ہو یار ۔۔۔
روحا نے غصے سے اس کی گردن پر کاٹتے ہوۓ انگلی سے لکھا تھا تبھی صام آنکھیں بند کیے بول رہا تھا ۔۔۔
جب روحا پیچھے ہوتی وہاں سے بھاگی تھی ۔۔
تبھی صام بے بس ہوتا چلایا تھا ۔۔
————————————————————
ہاے ۔۔
روحا بھاگ کر آتی سوئمنگ پول کے پاس آتی کنٹرول کرتی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔۔
جب اسے اپنی پیشت پر کسی کی بھاری آواز سنائ دی تھی ۔۔۔
می۔۔۔
روحا نے جب پلٹ کر پیچھے کھڑے اے ڈی کو اجنبی نظروں سے دیکھا تھا وہی روحا کا حسین روپ دیکھ کر اے ڈی کے الفاظ دم توڑ چکے تھے ۔۔۔
ک۔و۔
روحا نے حیرت لیے زرا غصے سے بولنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔
آج پتہ چلا یہ صام آفندی اور ڈیول تم پر کیوں جان دینے کو تیار ہے تم تو میری سوچ سے بھی زیادہ خوبصورت ہو ۔۔۔
اب تم ڈیول کے پاس جاٶ گی ۔۔۔
اس سے پہلے اے ڈی بھی اپنا ہوش کھوتا تبھی کنٹرول کیے وہ اس کے پاس جاتا سنجیدہ ہوتا بول رہا تھا ۔۔۔
ڈ۔ی۔۔۔
روحا نے اے ڈی کے پیچھے ڈیول کو کھڑے دیکھا تھا جو چہرے پر ماسک لگاۓ اپنی سرخ گرین آنکھوں سے سکون سے روحا کی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
روحا کو ایسے محسوس ہوا تھا جیسے کچھ غلط ہونے والا تبھی وہ بھاگی تھی ۔۔
مس کھڑوس مجھ سے زیادہ چالاک ہے ۔۔
انسان کو اپنے کام کرنے کے لیے لیا کچھ کرنا پڑتا ہے ڈیول یہ اچھا نہیں ک۔۔۔
میرے آدمی تمہارے آڈے پہنچ گے ہے اے ڈی میں نے اپنا کہہ پورا کیا اب تم کرو اور زرا کم بولا کرو زہر لگتی مجھے یہ فضول بولنے والی آواز ۔۔
میری انیجل کو حفاظت سے میرے روم تک پہنچا دینا ۔۔۔
اے ڈی دانت پیستے ڈیول کی طرف دیکھتا بول رہا تھا جب ڈیول کندھے اچکاتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
روکو مس کھڑوس تم ڈیول کی ہو یہ نکھرا اسے دیکھنا اپنے صام کو چھوڑ دو۔۔۔
روحا وہاں سے بھاگتی لان کی ایک طرف آئ تھی جہاں سامنے صام فون پر کھڑا بات کر رہا تھا اس سے پہلے وہ صام تک جاتی جب اے ڈی نے اس کی فراک بیک سے پکڑی تھی ۔۔۔
فراک کا ایک بازو شولڈر سے پھٹتا اے ڈی کے ہاتھ میں آیا تھا تبھی وہ نظریں چڑاتے بولا تھا ۔۔۔
چ۔ھ۔۔۔
روحا واپس اے ڈی کی طرف موڑتی اس کے پیٹ میں کہنی مارتی دانت پیستے غصے سے بولی تھی ۔۔
بہت جنگلی ہو تم یہ ڈیول ہی ہنیڈل کرے گا چلو سات۔۔
اہہ۔۔
اے ڈی کنٹرول کرتا روحا کو کمر سے پکڑنے والا تھا جب اسے کرنٹ لگتے و
ہ چلایا تھا ۔۔۔
کتنا چالاک ہے ڈیول جانتا تھا اس مس کھڑوس میں کرنٹ آتا ہے ویسے مس کھڑوس اپنے ساتھ کرنٹ لے کر گھومتی ہو ۔۔۔
تمہاری تو یہ آنکھیں ہی کافی ہے کرنٹ دینے کے لیے ۔۔۔
اے ڈی شدید طش میں آتا روحا کو اٹھاۓ اپنے شولڈر پر ڈال چکا تھا ۔۔۔
وہ جانتا تھا روحا بول نہیں سکتی ایسا ہی ہوا جیسے ہی روحا کو پتہ چلا وہ صام سے دور جا رہی ہے وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اے ڈی کے شولڈر بیک پر مکے اور لات مار رہی تھی ۔۔۔۔
ص۔ص۔صام۔ممم۔۔۔۔
اے ڈی اندھیرے میں چلتا روحا کے مکے لات کھاتا ویسے ہی جا رہا تھا جب روحا صام کو اپنے سے دور ہوتا دیکھ طاقت لگا کر چیخی تھی ۔۔۔
وہی روحا کے منہ سے ایک بار پھر خون کی الٹی آی تھی اور وہی وہ اے ڈی کے شولڈر ہر بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔
اے ڈی ابھی بھی روحا کو اٹھاۓ کرنٹ کے جھٹکے کھا رہا تھا اسے یہ تک معلوم نہیں ہو پا رہا تھا ایک لڑکی میں کرنٹ کہاں سے آتا ہے ۔۔۔
صام جو فون پر بات سن رہا تھا وہی روحا کی چلانے کی آواز سنی تھی ۔۔۔۔
جیسے ہی اس نے پیچھے موڑ دیکھا تھا وہی بت بن چکا تھا ۔۔۔
