339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 19)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

ت۔ت۔تم اتنی خوبصورت تھی مس لائف ۔۔

صام ہکلاتے ہوۓ سامنے پانی سے بھیگتی ہوئ روحا کو دیکھتا بولا تھا ۔۔

جہاں بلیک ساڑھی فل گیلی ہوئ اس کے جسم سے چپکی ہوئ تھی جبکہ بالوں کا بن کھول کر اس کی کمر اور گردن پر گیلے بال چپک چکے تھے ۔۔۔۔

جسم سے کالا رنگ اتر کر سارے فرش کو کالا کر رہا تھا ۔۔۔

جبکہ پانی میں کھڑی روحا غصہ سے صام کو گھور رہی تھی ۔۔

اب پتہ چل گیا اتنے شوک کیوں ہو رہے سارا آپ کا قصور ہے توبہ ہمارا سارا رنگ اتر گیا ۔۔۔۔

روحا اپنے سرخ سفید بازو کو دیکھتی غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔۔

ت۔تم بہت خوبصورت ہو یار افففف بلکل خطرناک والا روپ ہے یہ مجھے تو تم نے جٹھکا دیا ہے بجلی کے ٹرانسفارم والا ۔

صام اپنی گیلی شرٹ ریمو کرتا روحا کے پاس آتا اسے کمر سے پکڑتا بولا تھا ۔

کیا بکواس ہے یہ اور چھوڑے ہمیں ٹھرکی ہم گیلے ہوۓ ہے پتہ نہیں کون سا ٹائم تھا جو آپ جیسی بلا ہمارے سر پڑی ۔۔۔

روحا غصہ سے جنجھلاتی ہوئ صام کے سینے پر مکے مارتی بولی تھی ۔۔۔

ویسے اتنی خوبصورت تھی تو مس کالی ڈراک چاکلیٹ کیوں بنی تھی تم ۔۔

صام ویسے ہی اسے گود میں آٹھاۓ روم کی طرف جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

چھوڑے ہمیں ٹھرکی بے ہودہ انسان ۔۔۔

روحا پھر طش سے چلائ تھی لیکن صام کو کوئ فرق نہ پڑا تھا ۔۔۔

وہ تو اس کا حسن دیکھ کر ہی پاگل ہو گیا تھا ۔۔۔

ویسے دیکھو تمہارے ہاتھ خوبصورت ہے یا میرے مس لائف ۔۔۔

صام روحا کو روم میں لاتے بیڈ پر بیٹھاتے ہوۓ اپنے ہاتھ دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

بھاڑ میں جاۓ ہماری بلا سے ۔۔

روحا بیڈ سے اٹھتی پاٶں ٹیچتی ہوئ واش روم کی طرف جاتی بولی ۔۔

میں ابھی تک شوک میں ہو کیوں کالی بنی تم حالانکہ اتنی خوبصورت ہو بہت سی لڑکیاں دیکھی میں نے لیکن آج تک ایسا حسن نہیں دیکھا یار تم تو مجھے جنون سے آگے والی سیڑھی تک پہنچا رہی ہو ۔۔

صام روحا کی نرم نازک سی کلائ پکڑے ایک ہی جھٹکے میں پاس لاتے بولا تھا ۔۔۔

دماغ ہل گیا آپ کا ٹھرکی چھوڑے ہم نے چیج کرنا ہے ۔۔

روحا تو گھبرا گی تھی صام کی باتیں سنتے تبھی منصوعی غصہ کرتی بولی تھی ۔۔۔

تمہیں پتہ ہے جنون کے بعد کیا ہوتا ہے ۔۔۔

صام روحا کو ٹاول دیتا دوبارہ بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

جبکہ روحا صام کی باتوں کے سحر میں کھوئ ٹاول لیے اس کے بال خشک کرتی کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔۔

جنون کے بعد موت ہوتی ہے مس لائف اور تم مجھے وہ موت دو گی میں جانتا ہو ۔۔۔

صام روحا کو کمر سے پکڑتے اپنے قریب لاتے بولا ۔۔

ک۔کی۔کیسی باتیں کر رہے آپ۔۔۔

روحا کو صام کی گرم سانسیں اپنے پیٹ پر محسوس ہو رہی تھی تبھی ہکلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

تمہارے ہاتھوں سے مجھے موت بھی قبول ہے مس لائف بس کبھی چھوڑنا مت میں ہرگز نہیں اب پوچھو گا تم کالی کیوں بنی بس مجھے پہلے بھی تم سے جنون والا عشق تھا اور اب بھی ۔۔۔

روحا کے ہاتھ صام کے بالوں کو خشک کر رہے تھے جبکہ صام کے ہاتھ کی انگلیاں روحا کی کمر پر رینگ رہی تھی ۔۔۔۔

مس لائف گیلی تو تم بھی ہو آو چیج کروا دو جان ۔۔۔

صام مسلسل روحا کا پیٹ گیلی ساڑھی کی وجہ سے دیکھ رہا تھا تبھی خود پر کنٹرول نہ کرتے وہاں اپنے لب رکھے وہ بولا تھا ۔۔۔

ک۔کوئ۔کوئ ضرورت نہیں ہم کر لے گے۔۔۔

روحا ایکدم اس سے دور ہوتی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

ہیر آپی ٹھیک کہتی تھی تمہیں بلیک بیوٹی کیونکہ تم ہو ایسی جیسے کالے بادلوں میں چاند چمکتا ہے اپنی آب و تاب میں ویسے تم بھی بلیک کلر میں ایسی چمکتی ہو مس لائف ۔۔۔

صام روحا کے پاس جاتا ایک ہی جٹھکے میں ساڑھی کا پلو اتار چکا تھا ۔۔۔۔

ہم بات نہیں کرے گے صام آپ کے ساتھ بھی نہیں رہے گے ماما کے پاس چلے جانا ہم نے ۔۔۔

روحا ساڑھی کا پلو اترتے دیکھ رونی صورت بناے بولی تھی ۔۔

جانتی تھی صام کی کمزوری کو ۔۔۔

جو مرضی کرو پر اس روم میں ۔۔۔

میں خود کبھی تمہاری اجازت کے بنا قریب نہیں آنا چاہتا اب جاٶ یہاں سے ۔۔۔۔

صام روحا کو بنا پلو کے دیکھتے نظریں چڑا گیا تھا تبھی رخ موڑے وہ بولا تھا ۔۔۔۔

انہہ ٹھرکی بے شرم انسان ۔۔۔

روحا صام کی کمر پر مکا مارتی منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔

مس لائف پھر بتاٶ میں کتنا ٹھرکی اور بے شرم ہو ۔۔۔

صام روحا کی حرکت پر مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

مر جاۓ تھوڑا سا ۔۔۔

روحا جلدی سے واش روم کی طرف بھاگتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

ہاہاہااہاہاہا ایک شرط پر ۔۔۔۔

صام قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

کیسی شرط ۔۔۔

روحا نے اندر سے آواز دی تھی ۔۔۔

موت تمہارے ہاتھ سے ہو میری پھر منظور ہے سو بار مرنے کو تیار ہو ۔۔۔

صام بیڈ پر ویسے ہی لیٹے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

اگر اللہٌنے شکل اچھی دے دی ہے تو بکواس بھی اچھی کر لیا کرے ۔۔۔

روحا کا دل تیزی سے د ھڑکا تھا تبھی دوازے سے منہ باہر نکالتی وہ برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔

ہاں تو مس لائف شکل تو تمہاری اچھی ہے تبھی تو اتنا خوبصورت بولتی ہو افففف میں تو پاگل ہوتا جا رہا تمہارے لیے ۔۔۔

صام واش روم کا دوازہ کھولتا دیکھ جلدی سے انٹر ہوتے وہ شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔

اہہہہہ آہہہہ یہ کیا بے ہودگی ہے صام آپ واش روم ہی آ گے ہم بتا رہے ہم نے بات ہی نہیں کرنی کچھ شرم حیا ہوتی ہے آپ نے وہ بھی ختم کر دی ۔۔۔

روحا جو باتھ روب پہنے کھڑی تھی جب صام کو اندر آتے دیکھ وہ غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔۔

کیوں اپنے ان گلابی ہونٹوں کو تکلیف دیتی ہو اتنا بول کے بس آنکھوں سے اشارہ کر دیا کرو ۔۔۔۔

صام واش روم کی لائٹس آف کیے روحا کے پاس آتا بولا تھا ۔۔۔۔

ص۔صا۔صام ٹھرکی ہمیں اندھیرے سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔

روحا اندھیرا دیکھتی ڈرتے ہوۓ صام کے گلے لگے بولی تھی ۔۔۔۔

تبھی لائٹس آف کی ویسے مس لائف تم خون اندھیرہ بارش سب سے ڈرتی ہو کوئ ایسی چیز ہے جس سے تم نہیں ڈرتی ۔۔۔

صام روحا کا باتھ روب کی ڈوری کھولے بولے تھا ۔۔۔۔

آ۔آپ سے ڈر نہیں لگتا ہمیں ۔۔۔

روحا زور سے صام کے شولڈر پکڑے گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔

اچھی بات ہے مس لائف مجھ سے ڈرنا بھی نہیں ۔۔۔

صام اپنے لب روحا کے شولڈر پر رکھتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔

انہہ ٹھرکی۔۔۔۔

روحا صام کے سینے میں منہ چپھاۓ بولی تھی ۔۔۔

تمہارا ہی ٹھرکی ہو ۔۔۔

صام روحا کو شرٹ پہناۓ بولا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

توبہ ہے پہلے کالی بن کر گھومتے تھے تب یہ ٹھرکی جان نہیں چھوڑتا تھا اب تو اصلی روپ میں آ گے ہم یہ تو کھا جاۓ گے ہمیں اففف کیا کرے ۔۔۔

روحا وردہ بیگم کے روم میں بیٹھی مسلسل سوچ رہی تھی ۔۔۔

وہ صام سے جان بچاتی وردہ بیگم کے روم میں آ چکی تھی ۔۔۔

تم یہاں ہو روحا بیٹا صام کب سے دھونڈ رہا ہے ۔۔

وردہ بیگم روم میں آتی مسکراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

نہ۔نہیں ماما بس وہ احمد سے کھیلنے آۓ تھے ہم کہاں ہے وہ ۔۔

روحا اپنی گھبراہٹ پر قابو پاۓ بولی تھی ۔۔۔

وہ تو صام کے ساتھ بیٹا ہے ۔۔۔

وردہ بیگم پاس آتی بولی تھی ۔۔۔۔

دیکھو بیٹا میں جانتی ہو صام کو پتہ چل گیا تم کالی نہیں تھی وہ تب بھی تم سے محبت کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہے ۔۔

میرا بیٹا بہت معصوم ہے روحا وہ پوری زندگی محبت کے لیے ترسا ہے جب اسے محبت کی ضرورت تھی تب ہم نے لندن بھیج دیا پہلے تو ایٹیٹوڈ والا تھا اب تو زیادہ بن گیا ۔۔۔

کسی سے بات نہیں کرتا ایک تم ہو جس سے وہ بات کرتا ہے پلیز بیٹا تم ہی ہو جو میرے صام کو خوشی دے سکتی ہے میں جانتی ہو تم بس یہ سوچتی ہو مرد ہوس کا بچاری ہے ۔۔۔

لیکن بیٹا ہر کوئ ایک ج۔۔۔

بھاں بھاں بھاں ۔۔۔۔

وردہ بیگم جو روحا کو سمجھا رہی تھی جب احمد کے رونے کی آواز آی تھی ۔۔۔

دیکھیں ماما آپ کہتے وہ ٹھرکی معصوم ہے توبہ ہے اگر ہم بتاۓ وہ کتنے معصوم ہے خودی شرمندہ ہو جاۓ گی ایک ننھے سے بچے کو مار رہے ہے ۔۔۔۔

روحا غصہ میں آتی بولی تھی ۔۔۔

ہاہاہہاہا تو تم ہی میرے بیٹے کو تڑپا رہی ہو صبح سے رات ہونے والی تم یہی بیٹھی ہو وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہو چکا ہے ۔۔۔۔

توبہ کیسے لڑتے ہو ٹام اینڈ جیری جیسے اب جاٶ ورنہ وہ احمد کو ہی مارتا رہے گا ۔۔۔

وردہ بیگم مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

————————————————————

دیکھو چونے مجھے شوق نہیں تمہیں منہ لگاٶ یہ تو بس مس لائف کے لیے تمہیں اپنی گود میں بیٹھایا ہے دیکھ نہیں رہی مجھے ۔۔۔

صام احمد کو گود میں بیٹھاۓ اسے تھپڑ مارتے بولا تھا ۔۔

جبکہ احمد بھی غصہ سے اسے گھورتے رو رہا تھا ۔۔۔۔

بھاں بھاں ۔۔۔

چل بس کر میری مس لائف آ گی ۔۔

صام سامنے سے آتی روحا کو دیکھتا ہوا بولا تھا جو فل غصے سے دیکھتی آ رہی تھی ۔۔۔

کیا طریقہ ہے یہ صام بچے کو مار رہے ہے حد ہے کون سی آفت آ گی تھی چھوڑے اب اسے ۔۔۔

روحا احمد کو غصہ سے لیتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

آہہہہہہ مس لائف شکر تم آ گی ویسے کہاں تھی ۔۔۔

صام ریلکس ہوتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

بھاڑ میں گے تھے آپ نے جانا ہے کیا ۔۔۔۔

روحا احمد کے کس کرتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں چلو بھاڑ میں ساتھ چلتے ہے اس چونے کو مت لے کر جانا ۔۔۔

صام جلیس ہوتا بولا تھا ۔۔۔

۔م۔مو۔مو۔موم ٹ۔ٹھ۔ٹھرکی چاچو برے ہے ۔۔۔

احمد روتے ہوۓ صام کی شکایت لاتے بولا تھا ۔۔۔

ابے چل ہٹ یہاں سے میری مس لائف کے پاس رہتے ہو چونے جاٶ اپنے باپ کے پاس جاٶ ۔۔۔

صام برے سے منہ بنایا اسے روحا سے زبردستی پکڑتے بیڈ پر گراتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

کیا طریقہ ہے بچہ ہے صام دیکھیں رو رہا وہ ۔۔

کہاں تھی جانتی ہو میری سانس ہو ایک پل بھی نظر نہ آو تو مرنے والا ہو جاتا ہو پھر بھی اتنا تڑپتی ہو مجھے ۔۔۔

صام روحا کی بات اگنور کیے اسے کمر سے پکڑتے بولا تھا ۔۔۔۔

واقعی شرم نہیں ہے آپ میں بچے کے سامنے ہی شروع ہو گے توبہ ہے صام ہم کتنا تنگ ہے آپ سے افففف۔۔۔

روحا احمد کو دیکھتی بولی تھی جو آنکھیں پھاڑے دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

ہاےےے یہ ادا جب افف کرتی ہو دل کرتا کھا جاٶ تمہیں پھر سے اففف کرنا ۔۔۔

صام روحا کی گردن پر لب رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔

اگر چاہتے ہے رات ہمارے ساتھ بیڈ پر سوۓ گے تو شرافت سے چھوڑ دے ہمیں صاممممممم۔۔۔

روحا صام کو دیکھتی دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

چلو پھر رات کو ملے گے جان ۔۔۔

صام روحا کے لبوں کو چومتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

انتہا کے ٹھرکی افففف افففف توبہ توبہ ۔۔۔۔

روحا صام کو دھکا دیتی احمد کے پاس جاتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاہاہہاہاہاا مس لائف ۔۔۔

صام قہقہ لگاتا روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

دیکھو رضیہ یہی رہنا اگر ہمیں کچھ چاہے ہو تو بتاۓ گے ۔۔۔

روحا واش روم میں جاتی ہوئ ملازمہ کو باہر کھڑی کرتی بولی تھی ۔۔۔

ج۔جی میم ۔۔

ملازمہ بھی حامی بھرتی ہوئ بولی ۔۔۔

شکر رات ہو گی اب مس لائف اکیلی ہو گی اس چونے کو پاس نہیں آنے دینا میں نے ۔۔۔

صام خوشی سے روم میں انٹر ہوتا سوچتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

تم۔یہاں کیا کر رہی ہو وہ بھی رات کے وقت ۔۔

صام روم میں ملازمہ کو دیکھتا غصہ سے دھاڑا تھا ۔۔۔

و۔وہ۔وہ س۔سر میم۔ن۔۔۔

کیا سب کی سانسیں اٹک جاتی ہے مجھ سے بات کرتے ۔۔

جاٶ میں دیکھ لو گا تمہاری میم کو ۔۔

صام غصہ سے دھاڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

وہ۔وہ سر میم اندر ہے انھوں نے کہا تھا وہ مجھے بتاۓ گی انہیں کوئ چیز چاہے تو میں د۔۔۔

بس بس کیسے پٹر پٹر بولتی ہو جاٶ یہاں سے شوہر تم نہیں میں ہو میں دیکھ لو گا ۔۔۔

حد ہے میں شوہر ہو کہ اس کے پاس نہیں رہتا جیتنا یہ سب رہتے ہے ۔۔۔

صام ملازمہ کو غصہ سے بولتا ہوا اسے نکال چکا تھا ۔۔۔۔

رضیہ تم ایسا کرو وڈراب کی جو الماری ہے اس کی نیچے والی ڈراز کھولو وہاں پرسنل سامان ہو گا وہ مجھے لا دو ۔۔

صام ابھی غصہ سے سوچ رہا تھا جب اسے روحا کی آواز سنائ دی تھی ۔۔۔

ہاےےےے میری مس لائف نے مجھے کام کہا فکر ہی نہ کرو جان ۔۔

صام خوشی سے وڈراب کی طرف جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

وڈراب کے دراز سے سامان دیکھتا صام ایک پل کے لیے گھبرا گیا تھا۔۔۔۔

کہاں مر گی تھی کتنی دیر سے ویٹ کر رہی میں ۔۔

صام وہ سامان روحا کو دے رہا تھا جب روحا اندر سے غصہ سے چلائ تھی ۔۔۔

جبکہ صام کے پیسنے چھوٹ گے تھے وہ سامان دیتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

احمد بیٹا تنگ مت کرو موم کو ہم بزی ہے ۔۔۔

روحا بیڈ پر بیٹھی لیپ ٹاپ یوز کر رہی تھی جبکہ احمد پاس بیٹھا لیز کھا رہا تھا جب وہ بولی ۔۔۔۔

یہ دودھ پی لو مس لائف اور میڈیسن بھی کھانا ۔۔۔

صام روم میں آتا سنجیدہ شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔

کیوں ہم نہیں پی رہے ہم ٹھیک ہے ٹھرکی ۔۔۔

روحا بنا دیکھے بولی تھی ۔۔۔

م۔موم۔ آ۔آپ مجھے لیز دے کھانے کو۔۔۔

احمد لیز کھاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

احمد بیٹا آپ خود کھ۔۔۔

بھاں بھاں ۔۔

روحا جو بنا دیکھے بول رہی تھی جب احمد نے رونا شروع کیا ۔۔۔

اچھا دیتے ہے اور صام آپ کیوں اتنا سیریس ہوۓ ہے ۔۔۔

روحا لیز اپنے لبوں میں رکھتی احمد کی طرف چہرہ کرتی بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ صام سیریس شکل لیے بیٹھا تھا ۔۔۔۔

چونے بس کرو تمہارے ہاتھ نہیں ہے کیا ہر وقت یہاں رہتے ہو اپنے بابا کے پاس جاٶ ۔۔

رضیہ رضیہ ۔۔۔

صام روحا کو دیکھتا غصہ سے بولا تھا جو اپنے لبوں میں لیز رکھتی ویسے ہی احمد کو کھلا رہی تھی ۔۔۔

کیا ہو۔۔۔

تمہاری طیبعت نہیں ٹھیک مس لائف خیال رکھو اور اسے صبح سے پہلے روم میں آنے نہ دینا رضیہ ورنہ تمہارا آخری دن ہو گا ۔۔۔

صام روحا اور رضیہ دونوں کو مخاطب کرتا بولا تھا ۔۔۔

کیا مسئلہ ہے آپ کا بچہ ہے آپ کو کیا کہتا ہے اور ہمیں کچھ نہیں ہوا ۔۔۔

روحا غصہ سے چلائ تھی کیونکہ اس کا ڈمپل بواۓ روتے ہوۓ وہاں سے گیا تھا ۔۔۔

لیٹ جاٶ تمہیں پین ہو رہا ہو گا چلو تمہارے پاٶں پین ہو رہے ہو گے تم ریسٹ کرنا ۔۔

اچانک صام روحا کو پاٶں سے پکڑتے سیدھا لیٹاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

کیا پاگل ہو گے آپ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کیا ہوا طیعبت کو ایویں ٹیشن لے رہے ہے ۔۔۔

روحا حیران سی ہوتی بول رہی تھی جبکہ وہ صام کا چہرہ دیکھ رہی تھی جو اتنی فکرمندی سے بیٹھا تھا ۔۔۔

یہ میں نے دیکھا نیٹ سے تبھی پوچھ رہا تمہیں پین تو نہیں ہو رہا مس لائف تم جانتی ہو زرا ہی تکلیف سے میں کتنا تڑپتا ہو ۔۔۔

صام اپنا موبائل روحا کے سامنے کرتا پریشانی سے بولا تھا ۔۔۔

اففف توبہ آپ بھی نہ صام اچھا یہاں آے ہمیں نیند آی ہے ۔۔۔

روحا موبائل میں وہ چیز دیکھتی سمجھ گی تھی صام کیوں پریشان ہوا تھا تبھی بات

بدلتے وہ بولی تھی ۔۔۔۔

پکا مس لائف پین تو نہ۔۔۔

پکا صام ہم ٹھیک ہے آپ سو جاۓ ۔۔۔

صام روحا کے قریب لیٹتا ہوا بول رہا تھا جب روحا اپنا رخ اس کی طرف کرتی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔

پھر ٹھیک ہے اگر زیادہ پین ہو تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہے میں نے پڑھا ابھی کہ لڑکیوں کو پی۔۔۔

صام ہمیں نیند آ رہی آپ ہمیں سونے دے گے ۔۔۔

روحا صام کی بات کاٹتی جلدی سے گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

یہاں آو ۔۔۔

صام روحا کو پکڑتا اپنے سینے پر لیٹاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

ہم بیڈ پر سو جاتے اپنے اوپر کیو۔۔۔

تمہاری نازک سی کمر پین کر رہی ہو گی تم یہاں ساری رات سوٶ گی ۔۔

روحا جو گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب صام اس پر اپنی گرفت مضبوط کرتا بولا تھا ۔۔۔

ایسے تو ساری رات آپ درد میں رہے گے اگر ہم آپ کے اوپر ایسے ہی رہے ا۔۔۔

مجھے درد نہیں ہوتا مس لائف درد تب ہوتا جب تم تکلیف میں ہوتی ہو ۔میں جانتا ہو تمہیں پین ہے بس مجھے بتا نہیں رہی ۔۔۔۔

صام روحا کی بات کاٹتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ویسے ہمیں ہنسی آ رہی ٹھرکی ۔۔

روحا صام کے اوپر اسی کے سینے میں منہ چپھاۓ بولی تھی ۔۔

کیوں ہنسی کیوں ۔۔۔

صام مسکراتا ہوا بولا تھا روحا کے لب اسے اپنے سینے پر ٹچ ہوتے محسوس ہو رہے تھے ۔۔

کیسے خیال رکھتے ہے جیسا ہم بچہ ہو ایک ایک چھوٹی چیز کا ہم بڑے ہو گے اور یہ پین تو ہر ماہ ہوتا ا۔۔۔۔

تم میرا بے بی ہی ہو مس لائف ۔۔۔

صام روحا کے لبوں کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔

حد ہے صام اتنے بڑے ہے ہم ۔۔۔

روحا اپنا چہرہ موڑتی منہ بناتی بولی تھی ۔۔

ہاں بڑی تو ہو چکی تم مس لائف ۔۔

صام روحا کو گہری نظروں سے دیکھتا ذومعنی بات بولا تھا ۔۔۔

بے شرم بے بی چھوٹے ہوتے ہے جیسے ہمارے ہو گے ۔۔۔

روحا مکا اس کے سینے پر مارتی بے خیالی میں بول چکی تھی ۔۔۔

میرا بے بی تم ہو بس ۔۔۔

میں نہیں چاہتا میرے اور میرے بچے کے درمیان کوئی آئے اس لئے ہمارا کوئی بےبی نہیں آئے گا۔۔۔

میں اپنی مس لائف کو کبھی بھی نہیں بانٹوں گا۔۔۔

بس ہم دونوں ہی ایک دوسرے کی زندگی ھیں۔۔

صام روحا کو اپنے ساتھ زور سے لگاے جنونیت سے بولا تھا ۔۔۔

لیکن بے بی ہونا چاہے جیسے ڈمپل بواۓ ہے صام ۔۔

روحا بھی ضد کرتی بولی تھی ۔۔۔

لیکن مجھے نہیں پسند

۔۔اور میں ہوں نا تمہارا بےبی۔۔

صام معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔

واٹ آپ بے بی کہاں سے لگتے ہے سانڈ جیسے ہے ۔۔۔

روحا دل کھول کر قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔

صام اسے ہنستا دیکھ کر حیران ہوا۔۔

کیونکہ اس نے روحا کو بہت کم ہنستے ہوۓ دیکھا تھا ۔۔۔

اچھا بتاٶ پین تو نہیں ہو رہا ۔۔۔

صام پھر پریشان ہوتا روحا کی کمر پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ہماری بات سننے ۔۔۔

روحا کچھ سوچتی اپنے لب صام کے کان کے پاس لاتی بولی تھی ۔۔۔

اچھا پھر ٹھیک ہے ۔۔

صام روحا کی بات سنتا سکون میں آتا بولا تھا ۔۔۔

ہاں ٹھرکی انسان اب سو جاۓ ہم ۔۔

روحا مسکراتی ہوئ اپنا چہرہ صام کی گردن میں چپھاۓ بولی تھی ۔۔۔

ویسے مجھے نہیں پتہ تھا تم بلیک کے علاوہ پنک کلر بھی یوز کرتی ہو ۔۔۔

صام روحا کی گرم سانسیں اپنی گردن میں محسوس کرتا شوخ ہوتا اس کے کان میں سرگوشی کرتے بولا۔۔۔

آ۔آپ واقعی ب۔بے شرم ہے صام ماما آپ کو معصوم کہتے ہے حد ہے چھوڑے ہمیں ۔۔۔

روحا کرنٹ کھاتی اٹھ کر بیٹھتی شرمندہ ہوتی سرخ چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔

صام اسے بتا چکا تھا اس کا سامان اس نے دیا تھا ۔۔۔

اچھا سوری اب آو سو جاٶ ۔۔۔

صام اس کی حالت انجواۓ کیے بولا تھا ۔۔۔

مس لائف تم جانتی ہو بےبی کیسا ہوتا ہے ۔۔۔

صام دوبارہ روحا کو اپنے اوپر لیٹاۓ کچھ سوچتا بولا تھا ۔۔۔

ہاں ہم جانتے ہے ۔۔۔

نیند میں جاتی روحا بولی تھی ۔۔

کیسے ۔۔۔

صام نے بھی دو ٹوک پوچھا ۔۔۔

کس سے بے بی ہوتا ۔۔۔

روحا ویسے ہی نیند میں بولی تھی ۔۔

واٹٹٹ۔۔۔

صام شوک سے چلایا تھا ۔۔۔

پھر کیسے ہوتا بے بی ہم نے یہی سنا ہے ۔۔۔

روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔

ہاں۔ایسا ہی ہوتا ہو گا چلو سو جاٶ میری معصوم مس لائف ۔۔۔

صام بات مانتا اسے سونے کو کہا جانتا تھا وہ نیند میں جا رہی تھی اب ۔۔۔۔

———————————————————–

آہہہ۔اہہہ۔۔۔

آدھی رات کو روحا جو کروٹ چیج کرنے والی تھی جب ویسے ہی صام کی گرفت میں چلائ تھی ۔۔۔

کیونکہ صام ویسے ہی سیدھا لیٹا اسے گرفت میں لیے جاگ رہا تھا ۔۔۔

کیا ہوا مس لائف پین ہو رہا میں ڈاکٹر کو فون کرو ا۔۔۔۔

بس بس صام کیوں اتنا پریشان ہے بتایا تو ہے ہم ٹھیک ہے اور آپ سوۓ نہیں کیا آدھی رات ہو گی ۔۔۔

روحا صام کی سرخ آنکھیں دیکھتی خود پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

تم بتاٶ جاگی کیوں ہو ۔۔۔

صام بات اگنور کیے بولا تھا ۔۔۔

ہم نے کروٹ چیج کرنی تھی آپ ہمیں بیڈ پر لیٹا دے ۔۔۔

روحا اب پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

صامبدلتے وہ بولی تھی ۔۔۔۔

پکا مس لائف پین تو نہ۔۔۔

پکا صام ہم ٹھیک ہے آپ سو جاۓ ۔۔۔

صام روحا کے قریب لیٹتا ہوا بول رہا تھا جب روحا اپنا رخ اس کی طرف کرتی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔

پھر ٹھیک ہے اگر زیادہ پین ہو تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہے میں نے پڑھا ابھی کہ لڑکیوں کو پی۔۔۔

صام ہمیں نیند آ رہی آپ ہمیں سونے دے گے ۔۔۔

روحا صام کی بات کاٹتی جلدی سے گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

یہاں آو ۔۔۔

صام روحا کو پکڑتا اپنے سینے پر لیٹاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

ہم بیڈ پر سو جاتے اپنے اوپر کیو۔۔۔

تمہاری نازک سی کمر پین کر رہی ہو گی تم یہاں ساری رات سوٶ گی ۔۔

روحا جو گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب صام اس پر اپنی گرفت مضبوط کرتا بولا تھا ۔۔۔

ایسے تو ساری رات آپ درد میں رہے گے اگر ہم آپ کے اوپر ایسے ہی رہے ا۔۔۔

مجھے درد نہیں ہوتا مس لائف درد تب ہوتا جب تم تکلیف میں ہوتی ہو ۔میں جانتا ہو تمہیں پین ہے بس مجھے بتا نہیں رہی ۔۔۔۔

صام روحا کی بات کاٹتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ویسے ہمیں ہنسی آ رہی ٹھرکی ۔۔

روحا صام کے اوپر اسی کے سینے میں منہ چپھاۓ بولی تھی ۔۔

کیوں ہنسی کیوں ۔۔۔

صام مسکراتا ہوا بولا تھا روحا کے لب اسے اپنے سینے پر ٹچ ہوتے محسوس ہو رہے تھے ۔۔

کیسے خیال رکھتے ہے جیسا ہم بچہ ہو ایک ایک چھوٹی چیز کا ہم بڑے ہو گے اور یہ پین تو ہر ماہ ہوتا ا۔۔۔۔

تم میرا بے بی ہی ہو مس لائف ۔۔۔

صام روحا کے لبوں کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔

حد ہے صام اتنے بڑے ہے ہم ۔۔۔

روحا اپنا چہرہ موڑتی منہ بناتی بولی تھی ۔۔

ہاں بڑی تو ہو چکی تم مس لائف ۔۔

صام روحا کو گہری نظروں سے دیکھتا ذومعنی بات بولا تھا ۔۔۔

بے شرم بے بی چھوٹے ہوتے ہے جیسے ہمارے ہو گے ۔۔۔

روحا مکا اس کے سینے پر مارتی بے خیالی میں بول چکی تھی ۔۔۔

میرا بے بی تم ہو بس ۔۔۔

میں نہیں چاہتا میرے اور میرے بچے کے درمیان کوئی آئے اس لئے ہمارا کوئی بےبی نہیں آئے گا۔۔۔

میں اپنی مس لائف کو کبھی بھی نہیں بانٹوں گا۔۔۔

بس ہم دونوں ہی ایک دوسرے کی زندگی ھیں۔۔

صام روحا کو اپنے ساتھ زور سے لگاے جنونیت سے بولا تھا ۔۔۔

لیکن بے بی ہونا چاہے جیسے ڈمپل بواۓ ہے صام ۔۔

روحا بھی ضد کرتی بولی تھی ۔۔۔

لیکن مجھے نہیں پسند

۔۔اور میں ہوں نا تمہارا بےبی۔۔

صام معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔

واٹ آپ بے بی کہاں سے لگتے ہے سانڈ جیسے ہے ۔۔۔

روحا دل کھول کر قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔

صام اسے ہنستا دیکھ کر حیران ہوا۔۔

کیونکہ اس نے روحا کو بہت کم ہنستے ہوۓ دیکھا تھا ۔۔۔

اچھا بتاٶ پین تو نہیں ہو رہا ۔۔۔

صام پھر پریشان ہوتا روحا کی کمر پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ہماری بات سننے ۔۔۔

روحا کچھ سوچتی اپنے لب صام کے کان کے پاس لاتی بولی تھی ۔۔۔

اچھا پھر ٹھیک ہے ۔۔

صام روحا کی بات سنتا سکون میں آتا بولا تھا ۔۔۔

ہاں ٹھرکی انسان اب سو جاۓ ہم ۔۔

روحا مسکراتی ہوئ اپنا چہرہ صام کی گردن میں چپھاۓ بولی تھی ۔۔۔

ویسے مجھے نہیں پتہ تھا تم بلیک کے علاوہ پنک کلر بھی یوز کرتی ہو ۔۔۔

صام روحا کی گرم سانسیں اپنی گردن میں محسوس کرتا شوخ ہوتا اس کے کان میں سرگوشی کرتے بولا۔۔۔

آ۔آپ واقعی ب۔بے شرم ہے صام ماما آپ کو معصوم کہتے ہے حد ہے چھوڑے ہمیں ۔۔۔

روحا کرنٹ کھاتی اٹھ کر بیٹھتی شرمندہ ہوتی سرخ چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔

صام اسے بتا چکا تھا اس کا سامان اس نے دیا تھا ۔۔۔

اچھا سوری اب آو سو جاٶ ۔۔۔

صام اس کی حالت انجواۓ کیے بولا تھا ۔۔۔

مس لائف تم جانتی ہو بےبی کیسا ہوتا ہے ۔۔۔

صام دوبارہ روحا کو اپنے اوپر لیٹاۓ کچھ سوچتا بولا تھا ۔۔۔

ہاں ہم جانتے ہے ۔۔۔

نیند میں جاتی روحا بولی تھی ۔۔

کیسے ۔۔۔

صام نے بھی دو ٹوک پوچھا ۔۔۔

کس سے بے بی ہوتا ۔۔۔

روحا ویسے ہی نیند میں بولی تھی ۔۔

واٹٹٹ۔۔۔

صام شوک سے چلایا تھا ۔۔۔

پھر کیسے ہوتا بے بی ہم نے یہی سنا ہے ۔۔۔

روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔

ہاں۔ایسا ہی ہوتا ہو گا چلو سو جاٶ میری معصوم مس لائف ۔۔۔

صام بات مانتا اسے سونے کو کہا جانتا تھا وہ نیند میں جا رہی تھی اب ۔۔۔۔

———————————————————–

آہہہ۔اہہہ۔۔۔

آدھی رات کو روحا جو کروٹ چیج کرنے والی تھی جب ویسے ہی صام کی گرفت میں چلائ تھی ۔۔۔

کیونکہ صام ویسے ہی سیدھا لیٹا اسے گرفت میں لیے جاگ رہا تھا ۔۔۔

کیا ہوا مس لائف پین ہو رہا میں ڈاکٹر کو فون کرو ا۔۔۔۔

بس بس صام کیوں اتنا پریشان ہے بتایا تو ہے ہم ٹھیک ہے اور آپ سوۓ نہیں کیا آدھی رات ہو گی ۔۔۔

روحا صام کی سرخ آنکھیں دیکھتی خود پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

تم بتاٶ جاگی کیوں ہو ۔۔۔

صام بات اگنور کیے بولا تھا ۔۔۔

ہم نے کروٹ چیج کرنی تھی آپ ہمیں بیڈ پر لیٹا دے ۔۔۔

روحا اب پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

صامبدلتے وہ بولی تھی ۔۔۔۔

پکا مس لائف پین تو نہ۔۔۔

پکا صام ہم ٹھیک ہے آپ سو جاۓ ۔۔۔

صام روحا کے قریب لیٹتا ہوا بول رہا تھا جب روحا اپنا رخ اس کی طرف کرتی بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔

پھر ٹھیک ہے اگر زیادہ پین ہو تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہے میں نے پڑھا ابھی کہ لڑکیوں کو پی۔۔۔

صام ہمیں نیند آ رہی آپ ہمیں سونے دے گے ۔۔۔

روحا صام کی بات کاٹتی جلدی سے گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

یہاں آو ۔۔۔

صام روحا کو پکڑتا اپنے سینے پر لیٹاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

ہم بیڈ پر سو جاتے اپنے اوپر کیو۔۔۔

تمہاری نازک سی کمر پین کر رہی ہو گی تم یہاں ساری رات سوٶ گی ۔۔

روحا جو گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی جب صام اس پر اپنی گرفت مضبوط کرتا بولا تھا ۔۔۔

ایسے تو ساری رات آپ درد میں رہے گے اگر ہم آپ کے اوپر ایسے ہی رہے ا۔۔۔

مجھے درد نہیں ہوتا مس لائف درد تب ہوتا جب تم تکلیف میں ہوتی ہو ۔میں جانتا ہو تمہیں پین ہے بس مجھے بتا نہیں رہی ۔۔۔۔

صام روحا کی بات کاٹتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ویسے ہمیں ہنسی آ رہی ٹھرکی ۔۔

روحا صام کے اوپر اسی کے سینے میں منہ چپھاۓ بولی تھی ۔۔

کیوں ہنسی کیوں ۔۔۔

صام مسکراتا ہوا بولا تھا روحا کے لب اسے اپنے سینے پر ٹچ ہوتے محسوس ہو رہے تھے ۔۔

کیسے خیال رکھتے ہے جیسا ہم بچہ ہو ایک ایک چھوٹی چیز کا ہم بڑے ہو گے اور یہ پین تو ہر ماہ ہوتا ا۔۔۔۔

تم میرا بے بی ہی ہو مس لائف ۔۔۔

صام روحا کے لبوں کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔

حد ہے صام اتنے بڑے ہے ہم ۔۔۔

روحا اپنا چہرہ موڑتی منہ بناتی بولی تھی ۔۔

ہاں بڑی تو ہو چکی تم مس لائف ۔۔

صام روحا کو گہری نظروں سے دیکھتا ذومعنی بات بولا تھا ۔۔۔

بے شرم بے بی چھوٹے ہوتے ہے جیسے ہمارے ہو گے ۔۔۔

روحا مکا اس کے سینے پر مارتی بے خیالی میں بول چکی تھی ۔۔۔

میرا بے بی تم ہو بس ۔۔۔

میں نہیں چاہتا میرے اور میرے بچے کے درمیان کوئی آئے اس لئے ہمارا کوئی بےبی نہیں آئے گا۔۔۔

میں اپنی مس لائف کو کبھی بھی نہیں بانٹوں گا۔۔۔

بس ہم دونوں ہی ایک دوسرے کی زندگی ھیں۔۔

صام روحا کو اپنے ساتھ زور سے لگاے جنونیت سے بولا تھا ۔۔۔

لیکن بے بی ہونا چاہے جیسے ڈمپل بواۓ ہے صام ۔۔

روحا بھی ضد کرتی بولی تھی ۔۔۔

لیکن مجھے نہیں پسند

۔۔اور میں ہوں نا تمہارا بےبی۔۔

صام معصوم سی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔

واٹ آپ بے بی کہاں سے لگتے ہے سانڈ جیسے ہے ۔۔۔

روحا دل کھول کر قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔

صام اسے ہنستا دیکھ کر حیران ہوا۔۔

کیونکہ اس نے روحا کو بہت کم ہنستے ہوۓ دیکھا تھا ۔۔۔

اچھا بتاٶ پین تو نہیں ہو رہا ۔۔۔

صام پھر پریشان ہوتا روحا کی کمر پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ہماری بات سننے ۔۔۔

روحا کچھ سوچتی اپنے لب صام کے کان کے پاس لاتی بولی تھی ۔۔۔

اچھا پھر ٹھیک ہے ۔۔

صام روحا کی بات سنتا سکون میں آتا بولا تھا ۔۔۔

ہاں ٹھرکی انسان اب سو جاۓ ہم ۔۔

روحا مسکراتی ہوئ اپنا چہرہ صام کی گردن میں چپھاۓ بولی تھی ۔۔۔

ویسے مجھے نہیں پتہ تھا تم بلیک کے علاوہ پنک کلر بھی یوز کرتی ہو ۔۔۔

صام روحا کی گرم سانسیں اپنی گردن میں محسوس کرتا شوخ ہوتا اس کے کان میں سرگوشی کرتے بولا۔۔۔

آ۔آپ واقعی ب۔بے شرم ہے صام ماما آپ کو معصوم کہتے ہے حد ہے چھوڑے ہمیں ۔۔۔

روحا کرنٹ کھاتی اٹھ کر بیٹھتی شرمندہ ہوتی سرخ چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔

صام اسے بتا چکا تھا اس کا سامان اس نے دیا تھا ۔۔۔

اچھا سوری اب آو سو جاٶ ۔۔۔

صام اس کی حالت انجواۓ کیے بولا تھا ۔۔۔

مس لائف تم جانتی ہو بےبی کیسا ہوتا ہے ۔۔۔

صام دوبارہ روحا کو اپنے اوپر لیٹاۓ کچھ سوچتا بولا تھا ۔۔۔

ہاں ہم جانتے ہے ۔۔۔

نیند میں جاتی روحا بولی تھی ۔۔

کیسے ۔۔۔

صام نے بھی دو ٹوک پوچھا ۔۔۔

کس سے بے بی ہوتا ۔۔۔

روحا ویسے ہی نیند میں بولی تھی ۔۔

واٹٹٹ۔۔۔

صام شوک سے چلایا تھا ۔۔۔

پھر کیسے ہوتا بے بی ہم نے یہی سنا ہے ۔۔۔

روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔

ہاں۔ایسا ہی ہوتا ہو گا چلو سو جاٶ میری معصوم مس لائف ۔۔۔

صام بات مانتا اسے سونے کو کہا جانتا تھا وہ نیند میں جا رہی تھی اب ۔۔۔۔

———————————————————–

آہہہ۔اہہہ۔۔۔

آدھی رات کو روحا جو کروٹ چیج کرنے والی تھی جب ویسے ہی صام کی گرفت میں چلائ تھی ۔۔۔

کیونکہ صام ویسے ہی سیدھا لیٹا اسے گرفت میں لیے جاگ رہا تھا ۔۔۔

کیا ہوا مس لائف پین ہو رہا میں ڈاکٹر کو فون کرو ا۔۔۔۔

بس بس صام کیوں اتنا پریشان ہے بتایا تو ہے ہم ٹھیک ہے اور آپ سوۓ نہیں کیا آدھی رات ہو گی ۔۔۔

روحا صام کی سرخ آنکھیں دیکھتی خود پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

تم بتاٶ جاگی کیوں ہو ۔۔۔

صام بات اگنور کیے بولا تھا ۔۔۔

ہم نے کروٹ چیج کرنی تھی آپ ہمیں بیڈ پر لیٹا دے ۔۔۔

روحا اب پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

صام

صام کا جنونی پن دیکھتی وہ اکثر پریشان ہو جاتی تھی ۔۔۔۔

اچھا تم ایسا کرو الٹی لیٹ جاٶ ا۔۔۔

صام آپ کے پاس ہی ہے بھاگے نہیں جا رہے کیوں خود کو تکلیف دے رہے ہے ہم جاتے ہے آپ کی خود کی کمر اکڑ گی ہو گی کب سے ہم ایسے سو رہے ہم یہاں لیٹ جاۓ گے ۔۔

روحا صام کی بات کاٹتی زرا غصہ سے بولی تھی ۔۔۔

اچھا چلو ایک جگہ پر جا کے سوتے ہے آو ۔۔۔

صام روحا کو خود سے آٹھاۓ دوبارہ گود میں لیے بولا تھا۔۔۔

افففف صام بہت تنگ کرتے ہے ہم انسان ہے چل سکتے ہے ۔۔۔

روحا اس کا اتنا کیئر والا انداز دیکھتی آج واقعی ڈر گی تھی ۔۔۔

یہاں آو ۔۔

ٹیرس پر آۓ صام نے اسے ایک فل نرم ملائم قالین پر لیٹایا تھا ۔۔

وہ اتنا سوفٹ تھا روحا کو محسوس ہوا جیسے وہ ہوا میں اُڑ رہی ہو ۔۔۔

ایک شرط پر آپ بھی سوۓ گے صام ۔۔۔

روحا صام کی طرف دیکھتی بولی جو ویسے ہی جاگتے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

ہاں ضرور میری مس لائف نے کہا ہے آج میں سو ٶ گا ۔

صام اپنی ٹانگوں سے روحا کی ٹانگوں کو قابو کیے اسے سینے سے لگاۓ بولا تھا ۔۔۔

اب یہ کیا اپنی سانڈ جیسی ٹانگوں کو ہمارے اوپر ر۔۔۔۔

روحا سرخ چہرہ لیے صام کی طرف دیکھتی بول رہی تھی جب صام اس کے لبوں کو قید کرتا اس کی گرم سانسوں کو محسوس کر رہا تھا ۔۔۔

پاگ۔پاگل ٹھرکی تھوڑی نرمی سے کیا بات کر لیے ٹھرک پن کرنے لگ جاتے ہے ۔۔۔

روحا اس کے سینے پر مکے مارتی کروٹ چیج کیے برے برے منہ بناۓ بولی تھی جبکہ سانسیں اس کی تیز ہوئ پڑی تھی ۔۔۔

تمہاری یہ گرم سانسیں صام آفندی کی نیند کی ڈوز ہے مس لائف اب مجھے نیند آ جاۓ گی ۔۔۔

صام پھر اپنی ٹانگوں کو اس کے اوپر رکھے روحا کی گردن چومتے ہوۓ بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔

ص۔صام۔سو جا۔جاۓ پلیز۔۔۔۔

روحا جو آنکھیں بند کیے صام کا لمس اپنی گردن اور کمر پر محسوس کر رہی تھی جب اسے صام کے ہاتھ آگے اپنے پیٹ پر محسوس ہوتے اوپر کی طرف جاتے محسوس ہوۓ تھے ۔۔

تبھی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

میرا ڈوز دو پھر سو جانا ۔۔۔

صام روحا کا چہرہ اپنی طرف کرتا بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔

سو ٹھرکی مرے ہو گے تب جا کہ آپ پیدا ہوۓ ہو گے ٹھرکی انسان ۔۔۔

روحا دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

اور جب تمہیں عقل ملی ہو گی تب تم نے کہا ہو گا مجھے حسن دے کیونکہ عقل سے پیدل ہو تم جبکہ حسن کی دیوی ہو ۔۔۔

مجھے یہ حسن کی دیوی ہر روز ہر پل چاہے یہ تمہارا ٹھرکی اس بات پر سمجھوتا نہیں کر سکتا ۔۔۔

صام روحا کے لبوں کو قید کیے بولا تھا ۔۔۔

روحا گہری نیند میں جاتی خاموش ہو چکی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی صام اسے اتنی آسانی سے نہیں چھوڑے گا ۔۔۔

————————————————————

کیا ہوا چمپین رات سوۓ نہیں کیا ۔۔۔

صبح ناشتہ ٹیبل پر سارے بیٹھے تھے جب آہان نے صام کی سرخ گرین آنکھیں دیکھتا فکر مندی سے بولا تھا ۔۔

وہ ڈبل اے مس لائف کی طعیبت نہیں ٹھیک تھی ت۔۔۔

کیا ہوا انیجل کو انیجل اب کیسی ہو ڈاکٹر کو بلا لیتے ہے ۔۔

آہان صام کی بات سنتا درمیان میں ہی فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔

ارے ڈبل اے مس لائف کو ڈاکٹر کی ضرورت نہیں وہ ای۔۔۔

صامممممم آپ نے شاہد آج آفس کی ایک ڈیل کرنی تھی ۔۔۔

روحا جو جوس پی رہی تھی صام کے لبوں پر ہاتھ رکھتی گھورتی ہوئ دانت پیستی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

صام روحا کی بات یاد کرتا چپ ہو گیا تھا۔۔۔

ہاں ہاں آپ کو کیوں بتاۓ ہماری پرسنل بات ہے آج میں آپ کو ڈیل کا بتاٶ گا ۔۔

صام جلدی سے بات بدلتا ہوا بولا تھا ۔۔

جبکہ وہاں بیٹھی وردہ بیگم کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔

ویسے شیر کو قابو کرنے والی شیرنی آ گی ہے مجھے بہت خوشی ہوئ صام کو اتنا خوش دیکھتے ۔۔۔

آفندی صاحب وردہ بیگم کے کان میں سرگوشی کرتے صام اور روحا کو دیکھتے بولے تھے جہاں صام روحا کی طرف ہی مسلسل دیکھ رہا تھا ۔۔۔

ہاں تو میرا بیٹا شیر ہے تو اس کی ٹھکر کی ہی آنی چاہے تھی ۔۔

وردہ بیگم بھی ان دونوں کو خوش دیکھتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

————————————————————

ڈبل اے آپ جانتے تھے مس لائف کالی نہیں پھر کیوں چھپایا ۔۔۔

صام اور آہان دونوں بزنس آفس کی کوئ ڈیل ڈسکس کر رہے تھے جب صام بولا ۔۔

ہاں ہم سب جانتے تھے بس تم نہیں جانتے تھے ۔۔۔

آہان فائل دیکھتا بولا تھا ۔۔

لیکن کیوں ۔۔

صام ناسمجھی سے بولا ۔۔۔

وہ انیجل بتا دے گی خودی ہم کام کر لے ۔۔۔

آہان صام کو کھوۓ ہوۓ دیکھتا بولا تھا ۔۔

ڈ۔۔

لالہ لالہ آپ ہمارے ساتھ چلے گے ۔۔

اس سے پہلے صام کچھ کہتا جب روحا پریشان سی بھاگی ہوئ آتی بولی تھی ۔۔۔

کیا ہوا انیجل سب ٹھی ۔۔۔۔

لالہ ہمیں آپ کی ضرورت ہے پلیز ہمارے ساتھ چلے ۔۔

آہان جو پریشان ہوتا بول رہا تھا جب روحا بات کاٹتی بولی تھی ۔۔

ریلکس مس لائف میں چلت۔۔۔

نہیں ہم لالہ کے ساتھ جاۓ گے اور خبردار آپ ہمارۓ ہمارے پیچھے ۔۔

روحا صام کی بات کاٹتی پریشان ہوتی بولی ۔۔

لیکن مس لائف تم پ۔۔۔

ہم ٹھیک ہے آپ ڈمپل بواۓ کا اور اپنا خیال رکھنا ۔۔۔

روحا صام کی بات کاٹتی اس کے ہاتھوں کو پکڑتی بولی تھی ۔۔

آو انیجل ہم چلتے ہے ۔۔

آہان گاڑی کی چابی لیتا پریشان سا باہر جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

مس لائف اگر کچھ زیادہ مسئلہ ہوا تو مجھے فون کرنا میں آ جاٶ گا ورنہ میرا دل نہیں کر رہا تم ایسے جاٶ ۔۔

صام پریشان ہوتا روحا کا چہرہ پکڑتا بولا تھا ۔۔۔

ہم جلدی آ جاۓ گے صام آپ خیال رکھنا ۔۔۔

روحا اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔

جبکہ صام اپنے ماتھے پر اس کا لمس ابھی بھی محسوس کر رہا تھا ۔۔۔