339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 27)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

چچچچ ڈیول اتنا کمزور ہو گیا ہم نہیں جانتے تھے ۔۔۔

وہ چاروں طنزیہ مسکراہٹ لاۓ ڈیول کے سامنے کھڑے بولے تھے ۔۔۔۔

کیوں آے ہو یہ میری لڑائ ہے میں ہنیڈل ک۔۔۔۔

تم ہنیڈل کرو گے سیرسیلی اپنی حالت دیکھو ۔۔۔

اتنے کمزور لگ رہے ہو لگتے ہی نہیں تم وہی ڈیول ہو جو ایک منٹ میں ایک جیتے جاگتے انسان کو زندہ زمین میں گاڑ دیتے ہو ۔۔۔

ایک انیجل کا نام سن کر اتنے کمزور ہو گے تم حالانکہ انیجل کو اپنی طاقت بناٶ ۔۔۔

چچچچچ افسوس صد افسوس ہمیں تم سے یہ امید نہیں تھی تم سے اچھا تو وہ ٹھرکی صام ہے جس کی طاقت انیجل ہے ۔۔۔

ڈیول جو دانت پیستے غرا رہا تھا جب ان میں سے ایک بات کاٹتا بولا تھا ۔۔۔

بڑی زبان چل رہی ہے آج کل تیری مسٹر ایس پی مستقیم آفندی ۔۔۔

ڈیول کو ایک اور کرنٹ کا شوک لگا تھا جب وہ چلاتے بولا تھا ۔۔۔

ڈیوللللللل۔۔۔۔

ڈیول کی ناک سے خون نکلتا دیکھ چاروں تڑپے تھے ۔۔۔

جاٶ یہاں سے میں دیکھ لو گ۔۔۔۔

جیسے آج تک تم نے ہم چاروں کو بچایا ہے آج ہم تجھ بچاۓ گے ۔۔۔۔

ریڈ ہڈی لونگ شوز چہرے پر ماسک لگاۓ جبکہ گرین آنکھوں میں چمک لیے آہان آفندی بولا تھا ۔۔۔۔

سیم ویسی ہی لک لیے بیلو کلر کی ہڈی میں ڈی ایس پی منان مہرون کلر کی ہڈی میں ایس پی مستقیم گرین کلر کی ہڈی میں زرجان تھا ۔۔۔

چاروں نے اپنے چہرے پر ماسک لگاے تھے جبکہ آج چاروں کی آنکھیں چمک رہی تھی ۔۔۔

اوےےےے بزدل انسان سامنے آ یہ ڈیول کو کیوں پکڑا ہے ہمیں پکڑ کہ دیکھا ۔۔۔

مستقیم آس پاس دیکھتے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

میرے خیال سے مجھے اس کرنٹ کی تاروں سے باہر نکلو ۔۔۔

ڈیول ان چاروں کو گھورتے بولا تھا جو اب سکون سے آس پاس دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

اللہٌنے ہاتھ پاٶں دے ہے اتنے بڑے سانڈ ہو اٹھ جاٶ ۔۔۔

مستقیم ڈیول کو ہاتھوں سے پکڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جان پیاری نہیں تجھے ۔۔۔۔

ڈیول اپنی سرخ گرین آنکھوں میں وحشت لاۓ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ارے میں مذاق کر رہا تھا ۔۔۔

اوےےے آٶ باہر یار اچھا ایسے نہیں آو گے چلو دلبر جانی ڈانس کر شاہد وہ آ جاۓ ۔۔۔

آہان زرجان منان جو گن لوڈ کیے ساری جگہ دیکھنے میں مصروف تھے جب مستقیم بولا ۔۔۔

یار کبھی جو سیریس ہو جاٶ دیکھ نہیں رہے میصبت میں پھسے ہے تجھ ڈانس کی پڑی ہے ۔۔۔

زرجان برے برے منہ بناتا بولا تھا ۔۔۔۔

مجھ معصوم کے سامنے ہی تیری یہ لمبی زبان چلتی ہے ورنہ اس سوتیلی ناگن کے سامنے تو چپ ہوتا ہے جیسے ننھا کاکا ہو جس کے منہ میں زبان نہ ہو ۔۔۔۔

مستقیم بھی آس پاس دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

ویسے تم لوگ کیسے آۓ مطلب میں تو کسی کو نہیں بتایا ڈی ڈی کو بھی نہیں بتایا ۔۔

ڈیول اپنی شرٹ اتارتے ہوۓ بولا تھا ۔۔

یہ آئ برو دیکھ رہے ہو ریڈ ہو گیا تھا تو ہم سمجھ گے ہم میں سے کوئ میصبت میں ہے ۔۔

جب پتہ کیا تو تم ہی نہیں تھے ہمارے ساتھ سو ہم آ گے ۔۔۔

منان سکون سے بولا تھا ۔۔۔

لیکن میرے خون نہیں آیا جسم سے جو تم لوگوں کو پتہ چلتا ۔۔۔

ڈیول ابھی بھی سوچتا بولا تھا کیونکہ ڈیول نے سب کے آئ برو میں ایک ایسی چیپ لگائ تھی جو بھی میصبت میں ہو گا یا جسم سے خون نکلے گا تبھی وہ آی برو ریڈ ہو گی ۔۔۔

دیکھو اپنے پاٶں اور یہ شرٹ کیوں اتار دی آج ہم سب مارے گے سب کو تم ریسٹ کرو ۔۔۔۔

زرجان اندھیرے میں مدھم چلتی لائٹس کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

سب جانتے تھے ڈیول اپنی شرٹ اتار دے تو مطلب سب کو بنا کوئ مہلت دے وہ موت کے گھاٹ اتار دے گا ۔۔۔

ارے یہ کرنٹ کی وجہ سے خون نکل رہا ہے ۔۔۔

ڈیول اپنے سرخ سفید پاٶں کو خون آلود دیکھتا پرسکون ہوتا بولا تھا ۔۔۔

کہاں آدمی ہے یار یہاں تو کوئ بھی نہ۔۔۔۔

میرے پیچھے پیچیس آدمی کھڑے ہے مستقیم تمہارے پیچھے پندرہ زرجان تمہارے پیچھے بیس منان تمہارے پیچھے اٹھارہ اور آہان آپ کے پیچھے سولہ آدمی کھڑے ہے ۔۔۔۔

مستقیم بیزار سی شکل بناۓ بول رہا تھا جب ڈیول بات کاٹتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

تمہیں کیسے پتہ چلا ۔۔۔

منان حیران ہوتا بولا ۔۔۔

آہٹ سے زرا دماغ کو فوکس کر کے محسوس کرو اپنے پیچھے کتنی آہٹ سنائ دیتی ہے ۔۔۔

ڈیول نے اچانک رخ بدلتے فائر کرتے کہا تھا ۔۔۔

جہاں پیچھے کھڑے اندھیرے میں آدمی درد سے چلاۓ تھے ۔۔۔

ارے واہ مطلب اتنے لوگ آج تو مزہ آ جاۓ گا مارنے میں ۔۔

مستقیم سب کی درد کی آواز سنتا خوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔

میں نہیں جانتا تھا ڈیول اتنا بزدل ہے اپنے ساتھ اپنے چمچوں کو لاۓ گا ۔۔۔

وہ سارے وہی تھے جب ایک آواز گونجی ۔۔۔

ہاں میں واقعی بزدل ہوا بہادر تو تم ہو جو ابھی تک سامنے نہیں آۓ ۔۔۔

ڈیول نے اندھیرے کی طرف دیکھتے کہا ۔۔۔۔

م۔میں بزدل نہیں سامنے ہو ۔۔۔

شیبر روشنی میں سب

کے سامنے آتا ایک منٹ کے لیے ڈرتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

جہاں بنا شرٹ خون آلود مضبوط سینہ نیلی رگیں ابھری ہوئ تھی جبکہ وہ اپنی سرخ گرین آنکھوں میں وحشت اور چہرے پر سردپن لاۓ ڈیول کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

ارے تم تو مرحا کے کزن ہو ہاں یاد آیا تم ہی فرحان کے خاص آدمی ہو ۔۔۔

تمہیں میں مارو گا ۔۔۔

مستقیم غصہ میں آتا دانت پیستا ہوا شیبر کی طرف جاتا بولا تھا ۔۔۔۔

دیکھ کیا رہے ہو مارو ان سب وحشوں کو ۔۔۔

شیبر اپنی گھبراہٹ پر قابو پاۓ بولا تھا ۔۔۔

ہاں کرو حملہ ہم سب تیار ہے ۔۔۔

آہان بھی غصہ سے غرایا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اب چاروں بنا جان کی پرواہ کیے سب کو موت کے گھاٹ اتار رہے تھے ۔۔۔

جبکہ ڈیول سکون سے کھڑا تھا ۔۔۔۔

نہیں مستقیم اس کو مارنا نہیں ہے یہی ہے جو فرحان کو جانتا ہے اسے نے دیکھا ہے اسے ۔۔۔۔

مستقیم جو سب کو مارتا شیبر کے سینے پر لوڈ گن کیے کھڑا تھا جب ڈیول بولا ۔۔۔

لیکن ہم ویسے بھی پ۔۔۔۔

ویسے کیسے کروا لے گے جانتے ہو تین سال سے ہم ڈھونڈ رہے فرحان کو ابھی تک نہیں ملا یہی ایک راستہ ہے بعد میں چاہے تم مار دینا ۔۔۔

مستقیم جو اب غصہ سے دانت پیستا بول رہا تھا جب ڈیول بولا ۔۔۔۔

چل آ جا تجھے میں آہہہہہ آہہہہ۔۔۔۔

مستقیم جو شیبر کو پکڑے اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا جب اسے لات پڑی ۔۔۔

کیا تکلیف ہے تجھے اب تم کیوں آۓ ہو تمہیں منع کیا تھا ۔۔۔

مستقیم اپنے سامنے بلیک ہڈی چہرے پر ماسک لگاۓ گرین آنکھوں والے کو دیکھتا غصہ سے چلایا تھا ۔۔۔

میں نے روم میں بند کیا تھا تم کو ۔۔

ڈیول بھی اسے یہاں دیکھتا دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔

میں آ گیا بس ۔۔۔

وہ سکون سے بولا تھا ۔۔

اوےے معشوق اٹھ جا اب اتنی زور سے ماری بھی نہیں ہے ۔۔۔

وہ مستقیم کو ہاتھ سے پکڑتا اوپر آٹھاتے گرین آنکھوں میں چمک لیے بولا ۔۔۔

تم کیوں آے ہو یار ہم سب ہنیڈل کر لیتے تم انیجل کا خیال رکھتے وہ ملی یا نہیں ۔۔۔

زرجان منان آہان اس کے پاس آتے بولے تھے ۔۔۔

وہ گھر ہی ہو گی دیکھ لینا ویسے میرا فیورٹ کام ہے یہ ۔۔۔

وہ پھر سکون سے بولتا اپنی ہڈی سے ہتھوڑی نکالتا اپنے سامنے اتنی لاشیں دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

ہاں تم دیکھ لو ا۔۔۔۔

آہہہہ لالہ لالہ ۔۔۔

سب کا دھیان اس کی طرف تھا جب شیبر نے مستقیم پر شوٹ کرنے لگا تھا جب آہان سامنے آتا اسے بچا گیا تھا ۔۔۔۔

پکڑو اس کو اتنی درد ناک موت دو گا تجھے میں ۔۔۔

ڈیول شیبر کو پکڑتے غصہ سے بولا تھا ۔۔۔

لالہ آپ ٹھی۔۔۔

ہاں یار ٹھیک ہو بس گولی چھو کر نکل گی ۔۔۔

آہان مستقیم کا پریشان چہرہ دیکھتے مسکراتے بولا تھا ۔۔

چلو بھی گھر چلے لاشیوں کو ٹھکانے یہ لگا لے گا ہمیں جانا چاہے رات کافی ہو رہی ہے ۔۔۔

زرجان سب کچھ ٹھیک ہوتا بولا تھا ۔۔۔

میری انیجل جب تک میں اسے نہ دیکھ لو سکون نہیں آنا ۔۔۔

ڈیول اب سب کچھ بلاۓ وہاں سے بھاگتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

لو یہ تو گیا ہمیں بھی جانا چاہے ۔۔۔

منان ڈیول کو دیوانہ وار بھاگتے ہوۓ دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

دیکھو ڈیول نے کہا تھا اسے مارنا نہیں لیکن یہ تو نہیں کہا تھا اسے موت دیکھائ نہ جاۓ ۔۔۔

مستقیم شیبر کو پکڑتے دانت نکالتے بولا تھا ۔۔۔

ہاں جو مرضی کر پر یہ مرنا نہیں چاہے چھوٹے ۔۔

آہان سکون سے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتا بولا تھا ۔۔۔۔

شکریہ لالہ ۔۔۔

مستقیم خوش ہوتا شیبر کو بے ہوش کرتا اپنے کندھے پر ڈالۓ سکون سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

کہاں تھے تم صام بے بی ۔۔۔

کومل سامنے صام کو دیکھتے پریشانی سے بولی تھی ۔۔۔

روحا نہیں مل رہی مجھے پتہ نہیں کہاں چلی گی سب تمہاری وجہ سے ہوا ۔۔۔

صام غصے میں آتا کومل کو گردن سے پکڑے بولا تھا ۔۔۔۔

اپنے عاشق کے ساتھ بزی ہے تمہیں تو نظر ہی نہیں آئ ۔۔

کومل ریلکس ہوتی بولی تھی ۔۔۔

کیا بکواس ہے یہ کتنی دفعہ کہا ہے زبان نہیں پیاری تو بتا دو میں کاٹ کے کر دو ۔۔۔

صام سرخ گرین آنکھوں میں طش لاتا اس کی گردن دبوچے وہ بولا تھا ۔۔۔

م

میں۔چ۔جھو۔جھوٹ ۔نہیں بول ۔۔رہی تم۔بھی دیکھ لو آو۔۔۔۔

کومل کا سانس بند ہونے لگا تھا جب وہ بامشکل بولی تھی ۔۔۔

میں بلکل یقین نہیں کرو گا میری مس لائف ایسی ن۔۔۔۔

جاٶ روحا کے روم میں وہ اپنے ٹیرس پر ہے سکون سے بیٹھی شعیب سے بات کر رہی ہے ۔۔۔

صام اسے چھوڑتا غصہ سے بول رہا تھا جب کومل بولی ۔۔۔۔

تیار رہو بہت جلد تمہاری یہ زبان کاٹو گا میری مس لائف پر الزام لگاتی ہو وہ تمہارے جیسی نہیں ہے ۔۔۔

صام غصہ سے دھکا دیتے وہاں سے جاتا بولا تھا ۔۔۔۔

ہاہاہہاہاہہاہااہا مس کھڑوس وہ دن دور نہیں جب صام بے بی تمہیں گھر سے خود نکالے گا ۔۔۔

کومل دونوں کے درمیان آگ لگاتی قہقہ لگاتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔

————————————————————

ہاہاہہاہاہہااہاا واقعی اس کا یہ مطلب

ہے ہاے ہمیں یقین بلکل نہیں آ رہا اتنی پیارا لفظ ہے ۔۔۔

صام شدید غصے میں ٹیرس پر آیا تھا جب اسے روحا کا قہقہ سنائ دیا تھا ۔۔۔۔

ہاے میری جان ہنس رہی ہے ۔۔۔

صام کے دل کو سکون حاصل ہوا تھا اس کی آواز سنتے تبھی وہ واپس جاتا بولا تھا لیکن روحا کے الفاظ سنتا وہی روک گیا ۔۔۔

مطلب ک۔۔۔

صام روحا کی باتیں سنتا کومل کی بات سوچتا بولا تھا ۔۔۔۔

ارے میری جان ادھر ہے میں نے ہر جگہ تمہیں ڈھونڈا لیکن تم یہاں ہو ۔۔۔

صام اپنا غصہ کنٹرول کرتا روحا کے پاس آتا بولا تھا جو جولے پر بیٹھی فون میں بزی تھی ۔۔۔

آپ کیوں آے ہے جاۓ اپنی بیوی کے پاس ۔۔۔

روحا منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔

تم نہیں جانتی میں کتنا پریشان ہوا تھا تمہیں ان چند گھنٹوں میں اپنے سامنے نہ دیکھ کر ۔۔

صام روحا کے موڈ کی پرواہ کیے بنا جولے پر بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔

زہ دلتہ نہ دفع شہ۔(جاٶ یہاں سے دفع ہو جاٶ )….

روحا ویسے ہی سکون سے بولی تھی کیونکہ صام اسے کمر سے پکڑتے اپنے قریب لایا تھا ۔۔۔

مطلب بتاٶ اور یہ کس سے سکھی ہے ۔۔

صام اپنے لب اس کی گردن پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔

اس کا مطلب ۔۔۔۔

ہاں یاد آیا ہمیں نیند آئ ہے یہی کہا ہم نے چھوڑے ہمیں ٹھرکی اپنی بیوی کے پاس جاٶ ۔۔۔۔۔

روحا گھبراتی صام کو خود سے دور کرتی بولی تھی ۔۔۔

مجھے محسوس تو کرنے دو یار کہ تم ٹھ۔۔۔۔

کیا ہے صام ہر وقت ہمارے ساتھ رہتے ہے تنگ آ گے ہم کبھی کوئ کام بھی کر لیا کرے ہڈ حرام جاۓ یہاں سے ۔۔۔۔

روحا جلدی سے اٹھتی صام کو خود سے دور کرتی کہتی وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔۔

زہ دلتہ نہ دفع شہ۔(جاو یہاں سے دفع ہو جاٶ)….

ہاہااہاہہاہہاہااہاہا ۔۔۔۔میری معصوم مس لائف ۔۔۔

صام دوبارہ روحا کی بات دوہراتا قہقہ لگاتا بولا تھا کیونکہ وہ جان چکا تھا روحا نے جھوٹ بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

کہاں رہ گے تھے مانی مجھے بتا کر تو جاتے ۔۔۔

منان جو ڈرتے ڈرتے روم میں انٹر ہو رہا تھا جب ہانیہ نیند سے بھری آنکھیں لے منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔۔

ارے جان کام آ گیا تھا اچھا چھوڑو تم جاگ کیوں رہی ہو ۔۔۔

منان ہانیہ کو گود میں آٹھاۓ بیڈ پر لاتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

تم نہیں تھے تو میں کیسے سو جاتی ۔۔۔

ہانیہ ویسے ہی منہ بناۓ بولی ۔۔۔

اہہہہ میری جان ٹائم نہیں تھا تمہیں بتا سکتا چلو اب موڈ ٹھیک کرو ۔۔۔

منان ہانیہ کے گال چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

مجھے نیند آئ ہے ۔۔۔

ہانیہ منان کے لب اب اپنی گردن پر محسوس کرتی شرماتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

چلو پھر سو جاٶ ویسے بھی صبح ہونے والی پھر تم کہو گی مانی تم نے سونے نہیں دیا ۔۔۔

منان ہانیہ کی نیند کی فکر کرتا شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔

بے شرم پولیس والا ۔۔۔

ہانیہ منہ بناتی اپنا منہ منان کے سینے میں چھپاۓ بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

ارے ہانیہ کافی ٹائم بعد ملی ہو میں تم سے ۔۔۔

صبح منان اٹھتا پولیس اسٹیشن چلا گیا تھا جبکہ ہانیہ شاپنگ کرنے مال آئ تھی ۔۔

جب اسے کلاس فیلو مہرین ملی تھی ۔۔۔۔

بس یار شادی ہو گی ت۔۔۔۔

واہ ہ شادی کر لی ویسے تمہارے شوہر نے قبول کر لیا مطلب تمہارا چہرہ اب تو ٹھیک بھی ہو گیا ۔۔۔

ہانیہ جو اپنی کلاس فیلو سے ملتی مسکراتی ہوئ بول رہی تھی جب مہرین بات کاٹتی اس کا خوبصورت چہرہ دیکھتی بولی تھی ۔۔

ہاں یار منان بہت اچھے ہے ۔۔۔

ہانیہ اور وہ کیفے آی تھی جب ہانیہ مسکراتی ہوئ سب کچھ بتا رہی تھی ۔۔۔

یہ تو اچھی بات ہے ورنہ کوئ بھی شوہر ایسا نہیں ہوتا اچھا چھوڑو مجھے دیکھاٶ تو سہی پک جیجو کی ۔۔۔۔

مہرین خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں یہ دیکھو ڈی اپس پی منان ۔۔۔

ہانیہ بھی خوش ہوتی شرماتے ہوۓ اپنے فون سے منان کی پک دیکھا رہی تھی ۔۔۔

یہ تو وہی ہے جس نے تمہارے چہرے پر تیزاب گرایا تھا ۔۔

مہرین منان کی شکل دیکھتی حیران ہوتی بولی تھی ۔۔۔

کیا بکواس ہے مانی ایسا نہیں اگر ایسا ہوتا تو شادی کیو۔۔۔

دیکھو میں غلط بھی ہو سکتی ہو تم پریشان نہ ہو شاہد یہ منان وہی نہ ہو ۔۔۔

مہرین پریشان ہوتی بولی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کافی عرصے بعد ہانیہ پھر دکھی ہوتی ۔۔۔

ہمم۔۔۔۔

ہانیہ پریشان سی بولتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔

————————————————————

کیا ہوا میری جان کو آج کافی خاموش ہے ۔۔۔

منان رات کو روم میں آتا بولا تھا جب سے وہ گھر آیا تھا تب سے اسے خاموش دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

کچھ نہیں بس ایک سوال ذہین میں اٹک گیا ۔۔۔

ہانیہ اجنبی نظروں سے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

تو میری جان مجھے بتاٶ میں جواب دیتا ہو ۔۔۔

منان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

کیا واقعی منان نے ایسا لیکن ایسا ہوتا تو یہ مجھ سے اتنی محبت کیوں کرتا ۔۔۔

ہانیہ منان کا خوبصورت چہرہ دیکھتی دل میں سوچا ۔۔

کیا ہوا ۔۔۔۔

تم سچ بولنا یہ بتاٶ میرے چہرے پر تیزاب تم نے گرایا تھا ۔۔۔

ہانیہ دوٹوک بولی تھی ۔۔۔

ی۔یہ کیسا سوال ہے ا۔۔۔

میں نے جو پوچھا وہی جواب دو پلیز میں جانا چاہتی ہو کیوں ایسا کیا تم نے ۔۔۔۔

ہانیہ چیختی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ی۔یہ جھو۔جھوٹ ۔۔۔

جان لے لو گی میں اپنی اگر تم نے ابھی جواب نہ دیا منان ۔۔۔

ہانیہ غصے میں آتی فروٹ باسکٹ سے چھری لیتی اپنی نبض پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاں ہاں میں نے کیا یہ اب چھوڑو اسے ۔۔۔

منان جلدی سے مانتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

کیوں مانی ۔۔۔

ہانیہ درد سے چلاتے بولی تھی ۔۔۔

———————————————————–

””ماضی ۔۔۔۔

““دو سال پہلے ۔۔۔۔

یار ککڑ یہ ڈیول نے کیوں پانی منگوایا ہے ۔۔۔

مستقیم اپنے ہاتھ میں شیشے سے بھری سفید پانی کی بوتل کو ہلاتا بولا تھا ۔۔۔

اسی کو پتہ ہو گا یہ پانی ہے یا نہیں اچھا اب ہلاٶ تو نہ گر جاۓ گا ۔۔۔

منان اور مستقیم ڈیول کے کہنے پر ایک بوتل ائیرپورٹ سے لینے آۓ تھے جو خاص جرمنی سے آئ تھی ۔۔۔

ویسے یہ پانی تو پاکستان بھی مل سکتا تھا اس نے جرمنی سے کیوں منگوایا ۔۔۔

مستقیم ابھی بھی وہ بوتل ہلاتا بولا تھا ۔۔۔

شکر ہے مہرین تم آ گی چلو چلے ۔۔۔

ہانیہ مہرین کو ائیرپورٹ سے باہر آتی مہرین کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

یار لیٹ ہو گی چلو چلے ۔۔

مہرین اپنا سامان ساتھ لے کر جاتی بولی تھی ۔۔۔

ویسے تمہارا چہرہ بہت پیارا ہے ۔۔۔

مہرین ہانیہ کا سرخ سفید چہرہ دیکھتی تعریف کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

اب اتنا بھی خوبصورت نہیں ۔۔۔

ہانیہ اور مہرین باتیں کرتی سامنے سے آتے منان اور مستقیم کے پاس سے گزرتی بولی تھی ۔۔۔۔

مجھے دے بوتل تم نے گرا دینی ہے ۔۔۔

منان اور مستقیم ہانیہ کے پاس سے گزرے تھے جب منان نے زور سے بوتل اسے سے لیتے کہا تھا ۔۔۔

جب بوتل کا ڈھکن کھولتے کچھ پانی ہانیہ کے چہرے پر گرا تھا ۔۔۔۔

لیکن ہانیہ اور منان دونوں نے محسوس نہیں کیا تھا ۔۔۔۔

یار چہرے پر جلن ہو۔۔۔۔اہہہہہہ آہہہہہہ۔۔۔۔

ہانیہ اپنے چہرے پر خارش کرتی مہرین کو بتا رہی تھی جب درد سے تڑپتی ہوئ بولی ۔۔۔

کیا ہوا ہانیہ ہانیہ ۔۔۔

مہرین پریشان ہوتی ہانیہ کا سرخ چہرہ دیکھتی بولی جو ایک سائیڈ سے پورا جل چکا تھا ۔۔۔

ارے کوئ چلایا ہے دی۔۔۔

چھوڑ یار ڈیول کو یہ بوتل دینی ہے ۔۔۔

منان جو پیچھے موڑے زمین پر گرتی ہانیہ کو درد سے تڑپتے ہوۓ دیکھتا بول رہا تھا جب مستقیم اسے ساتھ لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

“”حال ۔۔۔۔

میں نہیں جانتا تھا وہ تیزاب تھا ۔۔۔۔

جب ڈیول کے پاس گے تو اس نے بتایا وہ پانی نہیں تیزاب تھا ۔۔۔ایسا تیزاب جو آہستہ آہستہ جسم کو جھلسا دیتا ہے مجھے بہت دکھ ہوا یہ جان کر وہ لڑکی تم تھی جس پر وہ تیزاب گرا ۔۔۔

بہت ڈھونڈا تمہیں پھر یونی میں ملی اس کے بعد شادی کر لی ۔۔۔

منان اپنا جرم مانتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

لیکن یہ محبت تھی میری ہمدردی نہیں ہانیہ میری غلطی تھی مجھے اسی وقت تم سے معافی مانگنی چاہے تھے لیکن افسوس مجھے بعد میں پتہ چلا تھا ۔۔۔۔

منان ہانیہ کی طرف دیکھتا بولا تھا جو سپاٹ چہرہ لیے کھڑی تھی ۔۔۔

کافی لے کر آتی میں ۔۔

ہانیہ سکون سے بولتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔

———————————————————–

کافی مانی ۔۔۔

منان جو سوچتا ہوا بیٹھا تھا جب ہانیہ کافی لائ تھی ۔۔۔

ہانیہ میری بات ۔۔۔۔

تم جانتے ہو جب میرا چہرہ جل گیا تب میں نے ہر اس انسان کی باتیں سنی جس کو کبھی بلایا بھی نہیں تھا ۔۔۔

منان جو بولنے والا تھا جب ہانیہ سکون سے بولی تھی ۔۔۔

جبکہ منان کافی پی رہا تھا ۔۔۔

بابا اتنے پریشان ہو گے تھے میرے رشتے بھی آتے تو بس شکل دیکھ کر انکار کر دیتے ۔۔۔

مجھے اس انسان سے نفرت ہونے لگی تھی جس کی وجہ میں اتنے درد میں رہتی تھی ۔۔۔

بچے میرے قریب نہیں آتے تھے ڈرتے جو تھے میری شکل دیکھ کر ۔۔۔

میں ڈپریشن کا شکار ہو گی ہر وقت گم رہتی تھی سوچتی رہتی تھی آخر میرا قصور کیا تھا جو میرے ساتھ ہوا ایسا ۔۔۔۔

پھر تم آۓ مانی ۔۔۔

ہانیہ منان کی طرف دیکھتی بولی تھی جو بیڈ پر بٹھا تھا کافی وہ پی چکا تھا ۔۔۔

مجھے لگا تم محبت کرتے ہو تم نے مجھے اپنايا ایسی شکل کے ساتھ لیکن افسوس تم نے ہمدردی کے لیے شادی کی تھی ۔۔۔

ہانیہ بیڈ سے کھڑی ہوتی درد سے چلائ تھی ۔۔۔

ہانیہ وہ ہمدردی نہیں م۔۔۔

آہہییی ۔۔۔

منان جیسے ہی بولنے والا تھا جب اس کے ناک سے خون آیا ۔۔۔۔

ہمدردی تھی تمہاری وہ ساری اور یہ چہرہ بھی ٹھیک تم نے تبھی کروایا میرا ۔۔۔

ہانیہ طش میں آتی بولی تھی جبکہ آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے ۔۔۔

نہیں تم غلط۔۔۔۔۔

منان پھر بولنے والا تھا جب اس کے منہ سے خون نکالا تھا ۔۔۔

نفرت تھی مجھے اس

انسان ہے جس کی وجہ سے درد سہہ میں نے تبھی میں آج اسے درد دے کر موت دے رہی ہو ۔۔۔

ہاہاااہاہہاہااہا منان تم مرو گے تڑپو گے ویسے ہی جیسے میں تڑپی تھی ۔۔۔

ہانیہ منان کی حالت دیکھتی بولی تھی جہاں اس کی آنکھیں ریڈ ناک اور منہ سے خون نکل رہا تھا جبکہ ہونٹ نیلے ہو چکے تھے ۔۔۔

مطلب تم نے مجھے ز۔۔۔۔

ہاں کافی میں زہر تھا مسٹر منان مجھے نفرت ہے تم سے ۔۔۔۔

منان جو درد سے تڑپتا بول رہا تھا جب ہانیہ نفرت سے بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔

ہ۔۔۔۔

اس سے پہلے منان کچھ بولتا جب وہ درد سے تڑپتے بے ہوش ہوتا بیڈ پر سیدھا گر چکا تھا ۔۔۔

جبکہ ہانیہ سکون سے کھڑی اسے موت کے منہ میں جاتی دیکھ رہی تھی ۔۔۔