Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 42)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 42)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
ہاے ہمارا س۔۔۔۔
صبح روحا نے بڑی مشکل سے آنکھیں کھولتی اپنا بھاری ہوتا سر پکڑے آس پاس دیکھتی بول رہی تھی ۔۔۔
جب اپنی سانسوں کے قریب صام کو سوتا پایا تھا ۔۔۔۔
کشادہ صاف پیشانی گہرے کالے بال جو بکھر کر سارے ماتھے پر آۓ تھے ۔۔
مغرور تکھی ناک جو غصہ سے بھری رہتی تھی۔۔۔
عنابی ہونٹ جیسے اس نے زور سے بیچ رکھا تھا ۔۔۔
روحا تو صام کا خوبصورت چہرہ دیکھ ہی بہک رہی تھی ۔۔۔
ہاے کتنے معصوم لگ رہے ویسے یہ کب آۓ ۔۔۔
روحا اپنا ہاتھ صام کے گال پر رکھتی سوچتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اہہہ ڈمپل بھی ہے ہاۓ ۔۔
روحا آسانی سے صام کے گال پر لب رکھتی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔
لگتا رات کو آۓ لیکن ہمیں یاد کیوں نہیں آ رہا ۔۔۔
روحا اب اپنا سر پکڑتے اٹھ کر بیٹھتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
ہمارے ہونٹ کہتے پنک ہے ان کے بھی ہے۔۔۔
روحا گہری نیند سوۓ صام کو دوبارہ دیکھتی اس کے اوپر جھکی اس کے لب پر انگلی رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
دل پر قابو نہ پاتے روحا نے بڑی نرمی سے اس کے لب کو اپنے لبوں سے چھوا تھا ۔۔۔
وہی روحا اپنی حرکت پر شرمائ تھی ۔۔۔۔
ہاے کیسے ہم نے کر دیا روحا بے شرم ہو گی ۔۔۔
روحا ویسے ہی اپنی تھوڑی صام کی تھوڑی پر رکھتی اپنی حرکت پر شرماتے سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
یہ غلط ہے میری جان میری نیند کا فائدہ اٹھایا جا رہا۔۔۔
اب بتاٶ کون بے شرم ہے ۔۔۔
روحا ابھی سوچ رہی تھی جب صام اپنی سرخ گرین آنکھیں کھولتا اسے کمر سے پکڑے اپنے قریب لاتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
روحا کے لب اس کے لبوں سے ٹچ ہو رہے تھے ۔۔۔
ک۔کیا ک۔۔۔
روحا گھبراتے ہوۓ بولنے والی تھی جب اس کے لب پھر اس کے لبوں سے ٹچ ہوۓ ۔۔۔
یہ جو صبح صبح گڈ مورننگ کرتی ہو میری اس کی وجہ پوچھ رہا۔۔۔۔
صام نے کروٹ چینج کیے سکون سے پوچھا تھا ۔۔۔
و۔وہ۔ہم۔صام آپ کب آۓ۔۔۔۔
روحا سے جب بات نہ بنی تو جلدی سے بات بدلتی بولی تھی ۔۔۔
تمہیں کچھ بھی یاد کیا ۔۔۔
صام نے اپنی ناک اس کی گردن پر سہلاتے پوچھا تھا ۔۔۔
نہیں بس سر درد رہا کافی ا۔۔۔۔
روحا اپنے سر پر ہاتھ رکھتے بول رہی تھی ۔۔۔
جب صام نے اپنا چہرہ نیچے جھکاتے اس کی شرٹ اوپر کیے پیٹ پر لگی چین پر لب رکھے تھے ۔۔۔
وہی روحا کی دھڑکن تیز ہوئ تھی ۔۔۔
کوئ بات نہیں میں یاد کروا دو گا اچھا یہ شرٹ آج پھر میری پہنی ہے ۔۔۔
صام اپنے لب اور انگلی اس کی چین پر گھومتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
نہ۔نہ ک۔کرے صام سچ گدگدی ہوتی ہمیں ۔۔۔
روحا اپنی ہنسی کنٹرول کیے اس کا چہرہ پکڑے اپنے قریب لاتی بولی تھی ۔۔۔
کیوں اتنی خوبصورت ہو مس لائف ۔۔۔
صام روحا کی سوجی آنکھوں کو چومتے عقیدت سے بولا تھا ۔۔۔
آپ کیوں جنونی اور بے شرم ہے یہ بتاۓ ہمیں ۔۔۔
روحا صام سے الٹا سوال کرتی بولی تھی ۔۔۔
چالاک ہو گی ہو تم خیر چلو ساچن جانا ہے ۔۔۔
صام روحا کی بات سنتا مسکراتے ہوۓ اس کی ناک چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
وہ جان گیا تھا روحا کو کچھ بھی یاد نہیں تھا ۔۔۔
ہ۔ہم۔ن۔۔۔۔
روحا اب گھبراتے ہوۓ بول رہی تھی کیونکہ صام نے اس کی شہ رگ پر لب رکھے تبھی تھے ۔۔
اس سے پہلے روحا کے لفظ پورے ہوتے کہ صام نے اس کے لبوں کو لاک کیا تھا ۔۔۔
وہ ایسے اپنی شدت سے اس کی سانسوں کو پی رہا تھا جیسے کتنے عرصے کا پیاسا ہو ۔۔۔۔
————————————————————
چٹاخخ۔۔۔
سارے جانے کے لیے تیار ہو چکے تھے سارے بڑی گاڑی میں بیٹھ چکے تھے جب کومل بھی تیار ہوتی آ رہی تھی وہی صام نے سب کے سامنے اسے تپھڑ مارا تھا ۔۔۔
کیوں مارا مجھے اب ۔۔۔
کومل نے شدید غصے سے پوچھا تھا ۔۔
باقی سب کا بھی کہنا تھا ان کی بیویوں کو نہیں کچھ بھی یاد تبھی صام اب پریشان ہوا تھا ۔۔۔
تم نے سب کو نشہ دیا جانتی تھی مرحا اور ہانیہ کیسی حالت میں تھی پھر ب۔۔۔۔
تمہیں پکا یقین ہے وہ نشہ میں نے دیا صام بے بی ایسی کوئ بات نہیں ۔۔۔
انہہہ ثبوت مل جاۓ تب بولنا مجھے۔۔۔
کومل اپنا غصہ کنٹرول کرتی بامشکل سکون سے بولتی بولی تھی ۔۔۔۔
لیکن صام کا دھیان ان شعیب کی طرف تھا جو روحا کے پاس کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
تم کیوں آ۔۔۔۔
اس کو ہم نے بلایا ہے اگر کومل جا سکتی ہے تو شعیب بھی جاۓ گا ۔۔۔
تم جاٶ بیٹھو ہم آتے ہے ۔۔۔
صام شدید غصے میں اپنی بھاری قدموں سے چلتا روحا کے پاس جاتے بول رہا تھا جب روحا مسکراتی ہوئ شعیب کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
پاگل عورت جس انسان سے بچا کر میں تم سب کو لے کر جا رہا تم اسے ہی ساتھ لے کر جانے کی بات ک۔۔۔
عورت ہو گے آپ سمجھے ہمیں عورت مت کہے دوسری بات آپ کچھ بھی نہیں جانتے سانڈ ہمیں سب پتہ ہے اب چلے ورنہ ہم روک جاۓ گے ۔۔۔
صام دانت پیستے بول رہا تھا جب روحا برے برے منہ بناتی کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
تم عورت نہیں تو کی
۔۔۔
ہم انیجل ہے ۔۔
صام اپنا سر پکڑے گہرے دکھ سے بول رہا تھا جب روحا دور جاتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
روحا کو مسکراتے دیکھ صام کا غصہ جاگ کی طرح بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
———————————————————–
کیا ہے صام آپ ہمیں گھر نہیں چھوڑتے اب گاڑی میں بھی سٹارٹ ہو گے حد ہے ۔۔۔
روحا اپنی سیٹ پر بیٹھی ہوئ تھی جب سارے چپکے ہوۓ صام نے اس کی گردن پر لب رکھے تھے وہی روحا شرمندہ ہوتی دانت پیستی بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ سب اپنی اپنی سیٹ پر اپنی بیویوں کے ساتھ بیٹھے تھے ۔۔
روحا شعیب کے ساتھ جبکہ کومل صام کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔
لیکن صام نے جیسے تیسے کرتے روحا کو اپنے پاس بلا لیا تھا ۔۔۔
تو تمہیں کیا ہو رہا مجھے اپنا کام کرنے دو ۔۔۔
صام سرگوشی کرتے اس کے کان کی لو کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔
لالہ بھی ہے سب یہی ہے کیوں ہمیں بے بس کر رہے ہے صام ۔۔۔۔
روحا اب سرخ چہرہ لیتی شرمندہ ہوتی بولی تھی ۔۔۔
جب صام اسے پکڑ کر اپنی سیٹ پر اپنی گود میں بیٹھا چکا تھا ۔۔
تمہیں۔مئسلہ یہ ہے سب دیکھ رہے ۔۔۔
صام نے اپنی سیٹ سے اٹھ کر سب کو دیکھا جہاں آہان ہیر مرحا مستقیم زرجان یافی منان ہانیہ کومل شعیب سارے سفر کو انجواۓ کرتے باہر کے خوبصورت نظارے دیکھنے میں مصروف تھے ۔۔
تبھی وہ دوبارہ روحا کی گردن پر لب رکھتے پوچھا تھا ۔۔۔
آپ باہر کے نظارے دیکھے صام جی۔۔۔۔
میں دیکھ ہی رہا نظارے بڑے خوبصورت ہے ۔۔۔
صام نے اپنی سیٹ پر لگے بٹن کو دباتے روحا کی طرف گہری نظروں سے دیکھتے کہا تھا ۔۔۔
جہاں سب کی سیٹوں پر بڑے خوبصورت پردے گرے تھے ۔۔۔
اب کوئ کچھ بھی نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔۔
پردے گرتے دیکھ روحا کی اب سانس روکی تھی ۔۔۔
جو انسان بائیک پر بیٹھ کر اتنا رومینس کر سکتا تھا وہ اپنی گاڑی میں کیا کرتا یہی سوچ کر روحا کی جان لبوں میں آئ تھی ۔۔۔
ص۔صام ہم ک۔کرنٹ دے گے ۔۔۔
روحا نے جب دیکھا صام اب بنا ڈرے اپنا رومینس جاری رکھے اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے اپنی طرف جھکایا تھا اس سے پہلے وہ اپنے لب اس کی لبوں پر رکھتا جب روحا گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
تم میں ویسے ہی کرنٹ بہت ہے جو میں روز پیتا ہو میری جان ۔۔
صام اسے آنکھ ونک کرتا اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔
روحا کے دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی صام کی حرکت پر تبھی سرخ چہرہ چہرہ لیے وہ اسے مکے مار رہی تھی ۔۔۔۔
ل۔لالہ گاڑی روکے ۔۔۔
روحا جلدی سے جان چھڑواتی آہان کو آواز دیتی گہرے سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔
کیا ہوا انیجل ۔۔۔
آہان نے پریشان ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔
و۔و لالہ دل ۔گھبرا رہا۔۔۔
آہان نے گاڑی روک دی تھی تبھی روحا پیسنے سے بھیگا چہرہ لیے صام کی مسکراتی گہری نظروں کو اگنور کیے بولی تھی ۔۔۔
———————————————————–
اچھا میری جان واپس گاڑی میں آ جاٶ اب پکا میں تنگ نہیں کرو گا ۔۔۔
صام سمجھا تھا روحا مذاق کر رہی ہے لیکن جب اسے گاڑی سے باہر اترتے دیکھ وہ پریشان ہو چکا تھا ۔۔
کیونکہ گاڑی شام کے وقت ایک سنسنان سے جنگل میں روکی تھی جب روحا جلدی سے گاڑی سے باہر نکلی تھی ۔۔۔
تبھی صام اب پریشان ہوتا باہر نکلتے بولا تھا ۔۔۔
بلکل نہیں آپ زیادہ بے شرم ہو گے صام ہم یہی جنگل میں رہے گے ۔۔۔
روحا تیز تیز چلتی جاتی بول رہی تھی ۔۔۔
وہ صام سے بھاگنا چاہتی تھی ۔۔۔
تبھی آس پاس نہیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔
مس لائف دیکھو ناراض ہونا وہاں جا کر ہو جانا پکا میں کچھ نہیں کہو گا تم واپس آ جاٶ جنگل ہے ۔۔
صام اس کے پیچھے بھاگتا ہوا آتا بول رہا تھا کیونکہ روحا بنا دیکھے بھاگی جا رہی تھی ۔۔۔
چیمپن کیا ہوا ہے انیجل کدھر جا رہی ہے ۔۔۔
اب آہان بھی گاڑی سے نکلتا پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔
رات کا سایہ چھا رہا تھا انہیں بس تھوڑی دیر میں ساچن پہنچ جانا تھا ۔۔۔
وہ لالہ بس ناراض ہو گی آپ ایسا کرے آپ لوگ جاۓ میں لے آو گا انیجل کو ۔۔۔
صام بات گول کرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
تم کیسے آٶ گے ۔۔
لالہ میری ہیوئ بائیک آپ لوگ جاۓ ۔۔۔
صام کی نظروں سے روحا اوجھل ہو چکی تھی تبھی جلدی سے کہتا بھاگ چکا تھا ۔۔۔
————————————————————
اندھے ہے دیکھ نہیں سکتے کیا ۔۔۔
روحا تیز تیز چلتی آگے آ چکی تھی وہ بار بار پیچھے بھی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
وہ پیچھے ہی دیکھتی جا رہی تھی جب سامنے سے کسی سے ٹکرائ تھی ۔۔۔
تبھی اپنی غلطی نہ مانتے وہ اگلے بندے پر چڑ دوڑی تھی ۔۔۔
سامنے والا بندہ روحا کا حیسن روپ دیکھتا وہی گم صم ہو چکا تھا ۔۔۔
بلیک ہی شرٹ بلیک ہی کپیری پہنے ساتھ بلیک ہی لونگ کورٹ کیپ پہنے وہ ایک سردی سے بچنے والی بچی لگ رہی تھی ۔۔۔
جو تھوڑی سی سرد ہواٶں سے اس کے گال اور ناک سرخ ہو چکے تھے ۔۔۔
جو اب غصے سے سامنے والے کو گھور رہی تھی ۔۔۔
روحا کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔۔۔
کیونکہ ٹکر بہت سخت تھی ۔ ۔
جب وہ کچھ دیر بعد سمبھلی اور نظریں اٹھایں تو سامنے شہروز چوہان گم صم سا کھڑا تھا۔۔
تبھی وہ غصے سے بولی تھی ۔۔۔
روحا بے اختیار پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔ ۔
کیونکہ شہروز کی آنکھیں اندر سے ریڈ تھی ۔۔۔
وہی وہ اس کی کلایی کو اپنی مضبوط گرفت میں لیتے ہوے غرا کر کہا ۔ ۔۔
ہیلو دیکھ کر چلنا نہیں آتا تمہیں یہ جان بوجھ کر ٹکرایی ہو ۔۔
شہروز اس کی براٶن آنکھوں میں دیکھتا غرایا تھا ۔۔۔
روحا کی کلائ پکڑے شہروز کو کرنٹ کا جھٹکا لگا تھا ۔۔۔
لیکن وہ مضبوطی سے اس کی نازک کلائ پکڑے کھڑا تھا ۔۔۔
روحا ویسے ہی سکون سے کھڑی تھی کیونکہ جانتی تھی سامنے والے بندے کو کرنٹ کے کتنے جھٹکے لگ چکے ہے ۔۔۔
لیکن وہ غیض و غضب کی تصویر بنا کھڑا تھا ۔۔
اور پھر وہ اسی انداز میں بولا ۔۔۔
کچھ پوچھا ہے میں نے ؟؟ اگر نہیں بتا سکتی تو معافی مانگو ۔۔۔
معافی وہ کیوں ؟؟ غلطی تمہاری ہے تم مانگو ہم مر جاوں گے لیکن معافی نہیں مانگیں گے ۔۔
اس نے ایک جھٹکے سے کلایی اس کی مضبوط گرفت سے چھڑاتے ہوے ضدی انداز میں کہا ۔۔۔۔
وہ اسے کچھ دیر دیکھتا رہا اور پھر طنزیہ انداز میں اس پر ہنسا اور بولا ۔۔۔
شہروز کو روحا کا انداز اچھا لگا تھا جو نڈر ہوتی اس کی ٹھکر میں کھڑی تھی ۔۔۔
تم جانتی میں کون ہوں ؟؟
نہیں کیا تم جنت کے پتے والے جہان ہو یا روحِ یارم والے یارم ہو ۔۔۔
یا دہشتِ وحشت والے عالم یا داٶد ہو ۔۔۔
روحا جلدی سے دوٹوک بولی تھی ۔۔۔
وہی شہروز کے چہرے پر مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔
ہممم ناولز لور ہو ۔۔۔
ہم۔ تمہیں نہیں جانتے اور نہ ہی جاننے میں کوئ دلچسپی نہیں ہے۔۔
تم جو بھی ہو xyz ہمارا کوئ لینا دینا نہیں ہے ہٹو ہمارے راستے سے ۔۔
روحا اس کی بات اگنور کیے دھکا دیتی آگے کو بھاگی تھی ۔۔۔
روحا کو اس طرح بھاگتے دیکھ وہ ایک بار پھر اس کی کلائ کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں بری طرح مروڑتے ہوے اس نے غراتے ہوے کہا ۔۔۔
اسے اب کرنٹ کے جھٹکے کافی زیادہ لگ رہے تھے لیکن وہ اگنور کیے بولا تھا ۔۔۔
معافی تو تمہارا باپ بھی مانگیں گا تم مجھے جانتی نہیں ہو تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے مجھ سے زبان درازی کر کے میں زبان کھینچ لیا کرتا ہوں جو میرے سامنے منہ کھولنے کی گستاخی کرتے ہیں ۔ ۔۔۔
اس بار روحا نے اپنا ہاتھ پورا زور لگا کر چھڑایا اور ایک زناٹےدار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا تھا ۔۔۔
ہمارے بابا تک جانے کی ضرورت نہیں جاہل جنگلی انسان شکل دیکھی اپنی حیوان لگتے ہو ۔۔
یہ دو نمبر کا رعب ہم پر مت ڈالو ہم ڈرتے نہیں تم سے ۔۔۔
ہم ایسا بلکل بھی نہیں کروں گے ہم معافی نہیں مانگے گے سمجھے ۔۔
روحا غصے میں لفظ چبا چبا کر اب آنکھیں اس کی آنکھوں میں ڈال کر گویا شیر کی مانند غراتی بولی تھی ۔ ۔۔۔
تم نے جو غلطی کی ہے اس کا خمیازہ تمام عمر تمہیں بھگتنا پڑے گا ۔۔۔
جسٹ ویٹ اینڈ واچ ۔۔۔
شہروز اب شدید طش میں آتا بولا تھا ۔۔
وہ ابھی تک حیران تھا کیسی لڑکی تھی جو اکیلی سنسنان رات کے اندھیرے میں کھڑی نڈر ہوتی لڑ رہی تھی اس سے ۔۔۔
لیکن ہمارا موڈ نہیں آپ جیسوں کی طرف دیکھنے گا انہہ۔۔۔
روحا اب برا سا منہ بناتی بولی تھی ۔۔
ت۔۔۔
مس لائففففف۔۔۔
اس سے پہلے شہروز کچھ کہتا جب اسے صام کی آواز سنائ دی تھی ۔۔۔
صامممممم۔۔۔۔
روحا صام کی جلدی سے آواز سنتی صام کی طرف بھاگتی چیختی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
صام کا دھیان شہروز کی طرف نہیں گیا تھا اس کے لیے ابھی روحا ضروری تھی ۔۔۔
شہروز کو جلیس ہوئ تھی صام سے جس کے سینے سے لگی روحا اب چہکتی کچھ بول رہی تھی ۔۔۔
کہاں تھی میری جان میں ڈ۔۔۔
صام روحا کا چہرہ پکڑے بول رہا تھا جب روحا نے اس کے لبوں پر لب رکھے تھے ۔۔۔
دور سے کھڑے شہروز نے یہ منظر آنکھیں پھاڑے دیکھا تھا ۔۔۔۔
کیا بات ہے اب بتاٶ کون بے ش۔۔۔۔
صام آپ کو پتہ ہم نے کسی کے تپھڑ مارا ہاے مزہ آ گیا ۔۔۔
صام حیران ہوتا بول رہا تھا جب روحا اس کی گود میں آتی چہکتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
مطلب شیرنی بنی تھی ۔۔۔۔
صام روحا کو گود میں آٹھاۓ واپس جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ہاں اس نے ہمارا ہاتھ پکڑ لیا پھر ہم نے تپھڑ مارا ۔۔۔
روحا اب سکون سے صام کی گود میں جھولتی اس کے گال تھوڑی کو چھوتی بول رہی تھی ۔۔۔
جبکہ صام آرام سے سنتا قدم اٹھاتا اپنی ہیوی بائیک پر بیٹھا رہا تھا ۔۔۔
یہ کون ہے ۔۔۔
شہروز اب بائیک پر بیھٹے صام کو دیکھتا اپنے گارڈ سے پوچھا تھا ۔۔۔
جو پیچھے گری چار لاشیوں کو ٹھکانے لگانے میں مصروف تھا ۔۔۔
سر یہی میجر صام آفندی اور یہ اس کی بیوی تھی ۔۔۔
یہ لاشیں بھی صام نے بھیجی تھی آپ کو ۔۔
گارڈ سر جھکاۓ بولا تھا ۔۔
ہممم مطلب شوہر شیر ہے تو بیوی بھی ایسی ہوئ مجھے بڑی پسند آئ مجھے ہر حال میں یہ چاہے
تپھڑ مارا اس نے تو بدلہ تو بنتا ہے ۔۔۔
شہروز سطانی مسکراہٹ لاۓ اپنے گال کو سہلاتے بولا تھا ۔۔۔
جہاں اسے ابھی بھی روحا کا لمس محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
س۔سر یہ ڈیول ہے ا۔۔۔۔
ڈیول ہے تو کیا ہوا ویسے بھی میں جان گیا یہ ڈیول کی کمزوری ہے ۔۔۔
اور مجھے کمزوری سے کھلینے میں مزہ آتا ہے ۔۔۔
گارڈ ابھی بول رہا تھا جب شہروز بات کاٹتا گاڑی میں بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔
گارڈ اب پریشان ہو چکا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا ڈیول کے قہر سے اور یہ بھی جانتا تھا روحا اس کی کمزوری نہیں طاقت تھی ۔۔۔
————————————————————
ہم کہاں آے ہے صام ۔۔۔
سارے ساچن پہنچ گے تھے ۔۔۔
ان کا فارم ہاوس ایک پہاڑ پر بنا ہوا تھا ۔۔
جس کے آس پاس جنگل ہی جنگل تھا ۔۔
تبھی لکڑی کے بنے خوبصورت فارم ہاوس کو دیکھتے روحا خوشی سے بولی تھی ۔۔۔
ہم کراچی آۓ ہے ۔۔
صام پورے فارم ہاوس کے ہیٹر آن کرتا سکون سے بولا تھا ۔۔
کیونکہ وہ جانتا تھا روحا کو برف باری کتنی پسند ہے اگر اسے پتہ چل جاۓ تو ابھی فارم ہاوس سے باہر چلی جاۓ گی ۔۔۔
تبھی وہ جھوٹ بولا تھا ۔۔۔
پھر ہمیں کیوں بھالو بنایا ہے ۔۔
روحا اپنی طرف دیکھتی منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔
پورے راستے صام نے اپنا کورٹ دستانے کیپ تک روحا کو پہنا دی تھی ۔۔۔
جس کی وجہ سے وہ ایک پھولا ہوا بھالو لگ رہی تھی ۔۔۔
تبھی اب وہ بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ میری جان کیوٹ بہت لگتی ہے ۔۔۔
صام روحا کے گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
انہہ ڈرامہ۔۔۔
روحا منہ بناتی کہتی بڑی مشکل سے چلتی اپنے روم میں چلی گی تھی ۔۔۔
تم نے جھوٹ کیوں بولا ۔۔
آہان نے پریشان ہوتے پوچھا ۔۔
لالہ باہر دیکھے رات ہونے والی اور ہم سب نے اپنے میشن میں جانا ہے رات کو ہی ۔۔۔
باہر برف باری اتنی زیادہ ہو رہی ہے پھر جانتے ہے یہ پاگل لڑکی برف دیکھنے چلی جاۓ گی ۔۔۔
میں نہیں چاہتا اسے یا کسی کو بھی کچھ ہو ۔۔
صام نے تسلی سے جواب دیا تھا ۔۔۔
———————————————————–
آخر تم آ ہی گے یہاں ۔۔۔
سارے رات کا کھانا کھا رہے تھے جب صام شعیب کی طرف دیکھتا دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
کیوں نہیں آ سکتا میں ڈیول ۔۔
شعیب مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
وہی سب حیران ہوۓ تھے ۔۔
ت۔۔
میں سب جانتا ہو تم ڈیول ہو ۔۔
اس سے پہلے صام بولتا جب شعیب سکون سے بولا تھا ۔۔۔
پھر بھی تم نے میری انیجل کو دکھ دینے کا سوچا کیوں جانتے ہو میری نس نس میں بستی ہے وہ کیوں اس پر چیپس لگائ جانتے تھے اس کی جان کو خطرہ تھا ۔۔۔
صام نے جب دیکھا اب کچھ چھپانا ممکن نہیں تبھی شعیب کو گردن سے دبوچتے ہوۓ شدید غصے سے غرایا تھا ۔۔۔
کیا ۔بکوا۔بکواس ہے میری دشمنی تم سے ہے بلیک بیوٹی سے نہیں ۔۔
میں محبت کرتا ہو اس سے اور کیوں بلیک بیوٹی کے ساتھ ایسا کرو گا ۔۔
شعیب اپنی گردن چھڑواۓ غصہ سے بولا تھا ۔۔۔
سارے ہکا بکا کھڑے ہو چکے تھے دونوں کو لڑتے دیکھ کر ۔۔۔
تم جھوٹ بولتے ہو میں سب جانتا ہو اب یہ بہانہ بنا رہے ہو ۔۔۔
صام شعیب کی آنکھ پر مکا مارتے طش سے بولا تھا ۔۔
ت۔۔۔
اس سے پہلے شعیب بولتا جب صام نے اسے قالین پر گراتے اس کے اوپر آۓ وحشیوں کی طرح مارنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔
چھوڑو چمپین کیا ہو گیا۔۔
آہان مستقیم منان زرجان سارے پریشان ہوتے اسے چھڑواتے بولے تھے ۔۔۔
کیونکہ شعیب کو مسلسل مار کر اسے خون سے لت پت کر دیا تھا ۔۔۔
چھوڑے مجھے یہ جھوٹا ہے ہمارے ساتھ رہ کر بھی جھوٹ بول رہا آپ جانتے ہے مس لائف کی حالت کیسی ہوئ تھی اور یہ نشہ بھی اسے ہی دے رہا ۔۔۔
صام اسے مار مار کر ہلکان کر چکا تھا ۔۔۔
تم سمجھتے کیا ہو میں اگر مار کھا رہا ہو تو صرف بلیک بیوٹی کی وجہ سے اور تم ہو کہ وحشی بنے گھوم رہے ہو ۔۔۔
شعیب بھی شدید طش میں آتا کروٹ چینج کیے اسے مکے مارتے بولا تھا ۔۔
دونوں کی ہاتھاپائ شروع ہو چکی تھی ۔۔
جب لڑائ میں ہی دونوں کی شرٹ پھٹتے اتر چکی تھی ۔۔۔
وحشی تو میں بنو گا وہ بھی شوق سے ابھی بتاتا ہو میں ۔۔۔
صام جلدی سے اسے دھکا دیتا اپنی جینز سے گن نکالے غصے سے غرایا تھا ۔۔۔
روکو صام تمہیں انیجل نے روکا ہے ۔۔۔
جب مستقیم نے دیکھا صام اپنی گن لوڈ کیے شعیب کے سینے پر رکھ چکا ہے تبھی وہ بولا ۔۔۔
انیجل نے ڈیول کو روکا ہے صام کو نہیں مستقیم لالہ ۔۔۔
صام اپنی گردن موڑے شدید طش سے دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
و۔ہ۔۔۔
روحا سیڑھیوں سے اترتی بول رہی تھی جب ہال کو میدانِجنگ دیکھتی بھاگتی ہوئ صام کے سامنے آئ تھی ۔۔
ک۔کیا طریقہ ہے صام یہ۔۔۔
روحا آنکھیں دیکھاتی ہوئ طش سے چلائ تھی ۔۔۔
پیچھے ہٹو یہاں سے میں اب۔۔۔۔
کیا کرے گے آپ بتاۓ ہمیں شعیب کو مار دے گے حد سے ۔۔۔
صام روحا کی طرف بنا دیکھے بول رہا تھا جب روحا اس کی گن والا ہاتھ پکڑے بولی تھی ۔۔۔
وہی صام نرم پڑ
چکا تھا روحا کا لمس پاتے ۔۔۔
کیا بات ہے اپنے عاشق کو بچانے آ گی تم ۔۔
کومل صام کو پرسکون پاتے دیکھ غصے سے بولی تھی ۔۔۔
ہاں بچانے آ گے تمہیں مئسلہ ہے تم بھی بچا لو ۔۔۔
روحا اسے پھاڑ کھانے کو دوڑی تھی ۔۔
وہی کومل برا سا منہ بناۓ اپنے روم میں چلی گی تھی ۔۔۔
روحا چھوڑو کورنا کی جعلی ویکسین کا ہاتھ ورنہ شوٹ کر د۔۔۔
تو کرے شوق سے ہمیں شوٹ پہلے اپنے اندر کے وحشی کو کنٹرول کرے ۔۔۔
روحا جو شعیب کا ہاتھ پکڑے سیڑھیوں کی طرف لے کر جا رہی تھی جب صام بولنے والا تھا تو روحا اسے گھورتی کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
———————————————————–
اب کیوں آئ ہو جاٶ یہاں سے ۔۔۔
رات کو روحا جب صام کے روم میں آی تو صام اسے دیکھتا روٹھے پن سے بولا تھا ۔۔۔
ہم تو سونے آۓ ہے بس ۔۔
روحا اپنے گرم کپڑے اتارتے ہوۓ سکون سے بولی تھی ۔۔
اب بس وہ ایک شرٹ اور کپیری میں کھڑی تھی ۔۔
جب صام بولا ۔۔۔
سارے کپڑے پہنوں سردی لگ ج۔۔۔
نہیں پہن رہے کیا کرے گے ویسے بھی ہم ناراض ہے آپ سے ۔۔۔
روحا صام کی بات کاٹتی سکون سے بیڈ پر لیٹتی بولی تھی ۔۔۔
ناراض مجھے ہونا چاہے تم کیوں ہو ۔۔
صام بھی اپنی شرٹ اتارے اس کے ساتھ رضائ میں آتا حیران ہوتا بولا تھا ۔۔۔
آپ غلط ہے صام کیا پتہ شعیب ٹھیک کہہ رہا ہو ۔۔۔
کبھی کبھی ہم جو آنکھوں سے دیکھتے ہے وہ سچ نہیں ہوتا۔۔
روحا صام کی طرف رخ کیے صام کے زخمی ہونٹ پر نرمی سے انگلی پھیرتے بولی تھی ۔۔۔
میں سب جانتا ہو شعیب ایسا ہی ہے تم نہیں جانتی یہ سب اسی نے کیا ہے ۔۔۔
صام روحا کا ہاتھ پکڑتے اسے چومتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
لیکن ص۔۔۔
بس کرو مس لائف ورنہ مجھے غصہ آ جاۓ گا پھر میں ناراض ہو جاٶ گا ۔۔۔
روحا ابھی بول ہی رہی تھی جب صام اسے ٹوکتے اس کے لبوں پر جھکتے بولا تھا ۔۔۔
ہم بھی ایسے انسان کے ساتھ نہیں رہ سکتے تو صیح غلط نہ دیکھ پا رہا ہو ۔۔۔
اس سے پہلے صام اپنی مرضی کرتا جب روحا ایک ہی جٹھکے میں اٹھتی صوفے پر جا کر بیٹھتی غصے سے بولی تھی ۔۔۔۔
ک۔۔۔
سونے دے ہمیں ورنہ ہم باہر چلے جاۓ گے ۔۔۔
صام روحا کا ایسا روپ دیکھتے حیران ہوتے بول رہا تھا جب روحا صوفے پر لیٹتی بنا کمبل کے بولی تھی ۔۔۔
———————————————————-
روحا اپنی مرضی سے صوفے پر آ تو چکی تھی لیکن آدھی رات ہوتے ہی اسے سردی لگ رہی تھی ۔۔
اس سے سویا بھی نہیں جا رہا تھا صام کی قربت کی وہ عادی ہو چکی تھی ۔۔
تبھی بے چین ہوتی وہ کروٹ چینج کر رہی تھی ۔۔۔
صام بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اسے اپنی کیوٹ سی انیجل پر پیار آیا تھا جو اس کی عادی ہوتی جا رہی تھی لیکن بتاتی ہرگز نہیں تھی ۔۔۔
ص۔صام جا۔۔۔
سو جاٶ ورنہ اگر میں جاگا تو تمہارا سونا مشکل ہو جاۓ گا ۔۔۔
روحا کو جب لگا اسے صوفے پر جگہ تنگ پڑ رہی ہے اور ساتھ ہی اسے اپنی ٹانگوں پر گرمائش محسوس ہوئ وہ جان گی صام ہی پاس آتا لیٹا ہے اس سے پہلے وہ بولتی جب صام اپنے دونوں کے اوپر اچھے سے رضائ لیتے روحا کو اپنے سینے پر لیٹاۓ کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
ن۔نفرت ہے ہمیں آپ سے ٹھرکی۔۔۔
روحا اس کی گرفت میں بے بس ہوتی رونی صورت بناۓ صام کے دل کے مقام پر کاٹتی بولی تھی ۔۔۔
اور مجھے اپنی انیجل سے جنون ہے ۔۔۔
صام روحا کی سرخ ہوتی ناک کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔
جیسے جیسے رات گزر رہی تھی سردی کی شدت سے روحا صام کے سینے سے لگتی سکڑی سمیٹی جا رہی تھی ۔۔۔
وہی صام کو روحا کی قربت سے سکون اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔
————————————————————
کیوں کرتے ہو ایسا تم جانتے ہو ڈیول کی انیجل ہے وہ ۔۔۔
وہ شعیب کے زخموں پر مرہم لگاتی آنسو بہاتی بولی تھی ۔۔۔
میری بلیک بیوٹی ہے وہ سمجھی ۔۔۔
شعیب اسے بالوں سے پکڑتے غصہ سے غرایا تھا ۔۔۔
وہ اپنی نیلی سرخ آنکھیں اس کی براٶن آنکھوں میں گھاڑتے بولا تھا ۔۔
تمہیں شرم نہیں آتی میرے ہی سامنے انیجل کا نام لیتے ہو جانتے بھی ہو مجھے تم سے عشق ہے ۔۔۔
وہ آنسو بہاتی اسے شکوے بھری نظروں سے بولی تھی ۔۔۔
نہیں وہ میری ہے اور تم دور رہا کرو میں اچھا انسان بلکل نہیں ہو ۔۔
اچانک شعیب اسے دھکا دیتا بولا تھا ۔۔۔
لیکن مجھے تم ہر طرح سے عزیز ہو تمہاری ہر برائ قبول ہو ۔۔۔
میں دن با دن تمہارے عشق میں ڈوبی جا رہی ہو ۔۔۔
اسے دکھ ہوا تھا جیسے شعیب نے گرایا تھا ۔۔
لیکن وہ عادی ہو چکی تھی تبھی سکون سے اس کے قریب آتی وہ بولی تھی ۔۔۔
انہہ۔۔
تم چھوڑ د۔۔۔۔
اس سے پہلے شعیب بولتا جب وہ اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکی تھی ۔۔۔۔
وہ جانتی تھی ایک وہی تھی جو رات کے اندھیرے میں بھی شعیب کا اصلی روپ دیکھتی تھی ۔۔۔۔
شعیب کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔
اسے پتہ چل گیا تھا کہ وہ اس کی کمزوری جانتی تھی۔۔۔۔
تمہیں
بھی کمزوری سے کھیلنا آ گیا ۔۔۔
شعیب اسے خود سے دور کرتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں تمہارے ساتھ رہتے مجھے سب۔۔۔
وہ مسکراتی ہوئ بول رہی تھی جب شعیب بولا تھا ۔۔۔
تم نے کافی ٹائم بعد میرے اندر کا جانور جاگایا ہے اب سزا تو ملے گی ۔۔۔
شعیب اپنی شرٹ اتارتے اس پر حاوی ہوتا بولا تھا ۔۔۔
وہ مسکرائ تھی آخر وہ اسے پرسکون تو کر چکی تھی ۔۔۔
