Ehd-E-Wafa By Mehar Rania Readelle50315 Ehd-E-Wafa (Episode 25)
No Download Link
Rate this Novel
Ehd-E-Wafa (Episode 25)
Ehd-E-Wafa By Mehar Rania
ہاں میں نے ویسا ہی کیا ہے لیکن دونوں میاں بیوی مانتے ہی نہیں ہے میرا سارا پلان خراب ہو چکا۔۔۔
کومل غصے سے فون پر بات کرتی بولی تھی ۔۔۔
تم ہی ہنیڈل کر لو پھر اس کھڑوس کو میرے قابو میں نہیں آنے والی ۔۔
کومل شدید غصہ میں آتی پھر بولی تھی ۔۔۔
م۔۔۔۔
چٹاخ۔۔
کومل فون پر بات سنتی بولنے والی تھی جب اچانک اسے تھپڑ پڑا تھا ۔۔
میں ٹھیک کہتا تھا تم ملی ہو کسی کے ساتھ اور کیا بکواس کی تم نے مس لائف کو اس پکس کا پتہ ہے ۔۔۔
صام کومل کو بازو سے پکڑتے دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
ہاں دیکھی ہے اس کھڑوس نے لیکن وہ ڈری نہیں جانتے ہو کیوں ۔۔
کومل نڈر ہوتی بولی ۔۔
کیوں ۔۔
صام نے آی برو آٹھاتے پوچھا ۔۔۔
““کچھ دن پہلے ۔۔۔
بہت غرور ہے لیکن جانتی نہیں صام بے بی کو تم سے پہلے جانتی ہو ۔۔
کومل روحا کو دیکھتی بولی تھی ۔۔
ارے تم یہی ہو ہم سمجھے تھے چلی گی ہو ۔۔
روحا واش روم سے باہر نکلتی سکون سے بولی تھی ۔
بلیک کلر کی نیٹ کی فراک جو اسے فل کور کیے تھی براٶن بھیگے بال جو گیلے ہوۓ کمر سے چپکے ہوۓ تھے صاف شفاف چہرے سے پانی ٹپک رہا تھا ۔۔۔۔
کومل لڑکی ہو کہ بھی روحا کا ایسا روپ دیکھتی ایک پل کے لیے نظریں چڑا گی تھی ۔۔۔
یہ پکس دیکھو ۔۔۔
کومل فون میں سے روحا کی پکس اسے دیکھاتی بولی تھی ۔۔۔
جھوٹ ہے کوئ اور ڈرامہ کرو ۔۔۔
روحا ریلکس ہوتی اسے فون واپس کرتی بولی ۔۔
بڑی تیز ہو جانتی ہو یہ فوٹو شاپ ہے لیکن یہ والی پکس دیکھو ۔۔۔
کومل دوبارہ پکس دیکھاتی بولی ۔۔۔
ی۔یہ جھوٹ ہے ان دونوں پکس کے تمہاری شکل ہے تم نے جان بوجھ کر ہماری اور صام کی پک لگای ہے ج۔۔۔
چچچچ کیا ہوا روحا بے بی ڈر گی اہہہہہ۔۔
روحا صام اور کومل کی غلط پک دیکھتی ہکلاتے ہوۓ بول رہی تھی جب کومل طنز کرتی بولی ۔۔۔
صام بے بی پر قتل کا کیس ہوا اب یہ اگر میں نے اتنی غلط پک آفندی انکل کو دیکھائ تو سوچو کیا ہو گا ویسے بھی سوشل میڈیا اتنا فاسٹ ہے ۔۔۔
انکل ویسے بھی ہارٹ پیشٹ ہے اگر اتنی بدنامی ہو گی ت۔۔۔
کوملللللللل تم حد سے باہر جا رہی ہو ۔۔
کومل جو مسکراتی بول رہی تھی جب روحا غصے سے دھاڑی تھی ۔۔
نکاح ہو گیا میرا تم رخصتی کروا دو بس ۔
کومل بے نیاز ہوتی بولی تھی ۔۔۔
جاٶ ہو جاۓ گی رخصتی انجواۓ کرو بس یہ صام والی پکس صام کو مت دیکھانا کیونکہ ہم جانتے ہے وہ انسان کیسا ہے ۔۔۔
روحا بے نیاز ہوتی بولی ۔۔۔
تم نہیں جانتی روحا صام ایسا ہی ہے ت۔۔۔
صام ایسا بلکل نہیں ہے جو لڑکا تین سال پہلے نکاح کر کے چلا گیا اب واپس آیا تو آسانی سے اپنا حق لے سکتا تھا لیکن آج بھی صام کو ہماری اجازت کی ضرورت ہے ۔۔۔
تم ایسی بکواس کر رہی ہو دیکھتے ہے صام کس کے پاس جاتا ہے تم بھی آزما کر دیکھ لو ۔۔۔
چاہے ہم لڑتے ہو لیکن اتنا یقین ہے ایک دوسرے پر بیوی ہے ہم اس کے وہ جو چاہے کچھ بھی کر سکتا لیکن نہیں ۔۔
خیر ہم بتا بھی کسے رہے جس کا کردار صاف ہ۔۔۔
روحاااا۔۔۔
روحا جو طنز کرتی مسکراتی بول رہی تھی جب کومل چیخی ۔۔
کیا ہوا دکھ لگا اہہہ ہمیں فرق نہیں پڑا جاٶ یہاں سے تمہاری رخصتی ہو جاۓ گی ۔۔
روحا مذاق کرتی بولی تھی ۔۔۔
چھوڑو گی نہیں تمہیں ۔۔
تمہیں بہت غرور ہے اپنے حسن پر ایک دن ایسا آۓ گا صام خود دھکے دے کر تمہیں نکالے گا ۔۔
کومل دانت پیستی ہوئ کہتی باہر چلی گی تھی ۔۔۔
انہہہ اس ٹھرکی کو ہم نہیں چھوڑے گے ۔۔
روحا صام کے بارے میں سوچتی بولی تھی ۔۔
————————————————————
مطلب تم نے یہ گھیٹا پکس مس لائف کو دیکھائ ۔۔
صام کومل کو گردن سے پکڑتے غصے سے بولا تھا ۔۔
ہاں وہ اپنی پک دیکھ کر نہیں ڈری لیکن تمہاری دیکھ کر ڈر گی ویسے ہی تم نے کیا تم بھی روحا کی پکس دیکھتے ڈرے ہو ۔۔۔
وہ غلط ہ۔۔۔
تم میں اور روحا جانتے ہے یہ پکس نقلی ہے جبکہ دنیا والے اصلی سمجھے گے صام بے بی ۔۔۔
صام جو بول رہا تھا جب کومل اس کے لبوں پر انگلی پھیرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
دور رہو جاہل بدکردار لڑکی بنا نکاح کے تم کیسے میرے قریب آ سکتی ہو ۔۔
صام کومل کو دھکا دیتے بولا تھا ۔۔۔
بدکردار تمہاری بیوی بھی ہے یہ میں ثابت کرو گی ۔۔
کومل زمین پر گری زہر اگلتی بولی تھی ۔۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہے جانتی ہو گولی سے اُڑا دو گا بس مجبور ہو میں پر اتنا بھی نہیں کہ تمہیں کچھ کہہ نہ سکو ۔۔۔۔
صام اس کے قریب بیٹھتا طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔
ک۔کیا کرنے والے ہ۔۔۔۔
کومل صام کی آنکھوں میں وحشت دیکھتی ڈرتے ہوۓ بول رہی تھی جب صام بولا ۔۔۔
کومل بے بی کو میرا پیار چاہے تو میں وہی کرنے والا ۔۔۔
صام اپنی پینٹ سے بلیٹ نکالتا اسے مارتے بولا تھا ۔۔۔
آہہہہہ جنگلی انسان بچاٶ ۔۔۔
کومل کو امید نہیں تھی صام اسے اتنی بے دردی سے مارے گا تبھی وہ چیخی تھی ۔۔۔
چلاٶ یہ روم ساونڈ پروف ہے ۔۔
صام جنونی ہوتے اسے مسلسل مار رہا تھا ۔۔۔
———————————————————–
اہہہہ کیا طریقہ ہے سانڈ جنگلی سڑک چھاپ پولیس والے ۔۔
مستقیم روم میں آتے اسے بیڈ پر گرا تھا جب مرحا درد سے چیخی تھی ۔۔۔
خودی کہا درد ہو رہا تبھی سیدھا بیڈ پر گرا دیا ۔۔۔
مستقیم اسے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
پیچھے ہٹو میں نے ڈریس چینج کرنا ہے ۔۔
مرحا مستقیم کو دور کرتی بیڈ سے اٹھتی بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
دیکھ کسے رہا ہے بندہ مدد ہی کر دے ۔۔
مرحا آہینے کے سامنے کھڑی اپنی میکسی کی زپ کھول رہی تھی جب اس نے شیشے پر دیکھا مستقیم مسلسل ٹھٹکی باندھے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ایک نمبر کا بور انسان ہے ۔۔
مرحا سے زپ کھول نہیں رہی تھی وہ جنھجلاتی بولی ۔۔۔
اتنی ٹڈی ہو یار تھوڑی سی بڑی نہیں ہو سکتی تھی تم ۔۔۔
مستقیم مرحا قریب آتا اسے پکڑے سٹول پر کھڑا کیا اب مرحا مستقیم کے سینے تک آ رہی تھی ۔۔
کیوں آے ہو ۔۔
مرحا منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔
تمہاری ہلیپ کرنے کیونکہ نیند اتنی آئ ہے اور تم لائٹس آن کی ہے ۔۔۔
مستقیم مرحا کی گردن دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ہمممم۔۔۔
مرحا خاموشی سے اتنا بول سکی ۔۔۔
گرے کلر کا تھری پیس پہنے وہ ویسے ہی تیار سا اپنی گہری کالی آنکھوں میں سردپن لاۓ چہرے پر سنجیدگی اپنے عنابی ہونٹوں کو دباۓ وہ مسلسل مرحا کی بیک زپ کھولنے میں مصروف تھا ۔۔۔
ہاے میں کتنی خوش قسمت ہو مجھے یہ سانڈ ملا ہاے کتنا خوبصورت ہے ہاں ابھی ناراض ہے مجھ سے ۔۔
مرحا اسے دیکھتی مسلسل سوچ رہی تھی ۔۔
یار اسے کپڑے کیوں پہنتی ہو جب یہ زپ نہ کھولے میں انیجل کو بلا لاٶ ۔۔
مستقیم مسلسل زپ کھولنے میں مصروف تھا جب بیزار ہوتا وہ بولا تھا ۔۔۔
جانتا ہو میں خوبصورت ہو اب اتنا دیکھ کر نظر لگاٶ گی ۔۔
شیشے میں مرحا کو اپنی طرف دیکھتے وہ بولا تھا ۔۔۔
م۔مست۔مستقیم ۔۔۔
مرحا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی جب اسے اپنی میکسی کی زپ ٹوٹتے اور اپنی کمر پر مستقیم کے لب محسوس ہوۓ تھے ۔۔
تبھی وہ ہکلائ تھی ۔
س۔سوری سانڈ ۔۔
مرحا جو اپنی گردن اور کمر پر مستقیم کا لمس محسوس کر رہی تھی جب رخ موڑے اس کے سینے سے لگی وہ بولی تھی ۔۔۔
کس بات کی سوری ۔۔۔
مستقیم بہکا ہوا اس کی گردن پر لب رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔
وہ۔الزام ل۔۔۔
جاٶ سو جاٶ ۔۔
مرحا جو بول رہی تھی جب مستقیم اس سے دور ہوتا بولا تھا ۔۔۔
مرحا اپنی رونی شکل لیے وہی کھڑی رہ گی ۔۔۔
———————————————————–
اب بیٹھی کیوں ہو سو جاٶ ۔۔۔
ریڈ کلر کے نائٹ ڈریس میں ملبوس مرحا کو دیکھتے مستقیم بیڈ پر لیٹے بولا تھا ۔۔۔
وہ اسے ایک بے بی گرل لگی تھی چھوٹی سی ۔۔۔
وہ تم سانڈ بن کے پورے بیڈ پر لیٹے ہو میں کہاں سوٶ گی ۔۔۔
مرحا معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
کیا اب اتنا بھی سانڈ نہیں ہو دیکھو اتنی جگہ ہے بیڈ پر ۔۔۔
مستقیم حیران ہوتا بولا تھا کیونکہ بیڈ پر کافی جگہ تھی اور مرحا جھوٹ بول رہی تھی ۔۔۔
نہیں ہے جگہ یہاں ہ۔۔۔
اتنی جھوٹ مت بولا کرو ٹڈی صاف کہو میرے ساتھ سونا ہے ۔۔۔
مرحا کو منہ نیچے کرتی بول رہی تھی مستقیم اس کا بازو پکڑے اپنے سینے پر گراے بولا تھا ۔۔۔
ہاں ہگ بھی کرو گی میں کبھی اکیلی نہیں سوئ ۔۔۔
مرحا جلدی سے اسے ہگ کرتی بولی تھی ۔۔۔
لیکن میں ن۔۔۔
تم نہ کرو میں کرو گی ماما کو کرتی تھی میں ۔۔
مستقیم مرحا کی چالاکی پر مسکراہٹ روکے بول رہا تھا جب مرحا اپنا ننھا سا چہرہ اس کی گردن میں چھپاۓ بولی ۔۔۔
اچھا اب سو جاٶ پھر ۔۔۔
مستقیم جلدی سے مسکراہٹ روکے بولا تھا ۔۔۔
ٹڈی ہاتھ کنٹرول کرو ورنہ میں کنٹرول سے باہر ہو جاٶ گا ۔۔۔
مستقیم جو بامشکل آنکھیں بند کیے سونے والا تھا جب مرحا کا ننھا سا ہاتھ وہ کبھی اپنی گردن سینے اور تھوڑی اور لبوں پر محسوس کر رہا تھا تبھی وہ بولا ۔۔۔
تمہیں کیا ہے اپنے شوہر کو ہاتھ لگا رہی میں بور انسان سڑک چھپاپ پولیس والا ۔۔۔
مرحا منہ بناتی اپنے کام میں دوبارہ بزی ہوتی بولی تھی ۔۔۔
بڑی تیز ہو سچی اتنی ننھی سی بچی ہو دیکھنے میں اور اندر سے افففف توبہ مجھ معصوم پر ظلم ۔۔۔۔
مستقیم مرحا کو پکڑے اپنے سینے پر لیٹاۓ مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں تو میں بھی مان رہی کون سا بچی ہو ہاے میرا قد ہی اتنا رہ گیا دیکھو میری ٹانگیں چھوٹی ہے میرے ہاتھ بھی ننھے سے ا۔۔۔۔۔
اور تمہارے یہ ننھے سے ہونٹ بھی چھوٹے ہے ظلم ہوا تمہارے ساتھ ۔۔۔
مرحا جو اپنا پرانا دکھ لیے بول رہی تھی جب مستقیم اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب لاتے اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔
جبھی مرحا کو نرمی سے چھوڑے اس کا سرخ چہرہ دیکھتے بولا تھا ۔۔
مرحا خاموشی سے اب منہ بند اس کے سینے میں چہرہ چھپاۓ سونے لگ گی تھی ۔۔۔
ہاہہاہاہااا آج سے تمہاری یہ پٹر پٹر چلتی زبان ایسے بند کرو گا ٹڈی ۔۔۔
مستقیم مرحا کو شرماتے دیکھ دل کھول کر قہقہ لگاتا بولا تھا ۔۔۔
جب مرحا بھی مسکراتی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔
————————————————————
یہ کیا نرم سا فیل ہو رہا ۔۔۔
مستقیم جو گہری نیند میں تھا جب صبح اسے اپنے ہونٹوں کے پاس کچھ نرم سا فیل ہوا تبھی وہ جاگتے سوچ رہا تھا ۔۔۔
واٹ یہ ٹڈی کا پاٶں افففففف ابھی تو پوری زندگی گزارنی ہے میں نے اس کے ساتھ یہ پاگل کر دے گی مجھے۔۔۔
مستقیم نے جیسے ہی آنکھیں کھولی تو اسے شوک لگا تھا مرحا کا پاٶں اس کے منہ پر آیا تھا جبکہ وہ گہری نیند میں الٹی لیٹی ہوئ تھی ۔۔۔۔
یہ تو وہ حساب ہو گیا ایک چھوٹے بچے کو پالنا مجھے یہ بیوی چھوٹی ملی ہے ۔۔۔
مستقیم غصے سے جنھجلاتا اٹھ کر مرحا کو پکڑے سیدھے کرتا بولا تھا ۔۔۔
اپنے چہرے کے قریب کرتے مستقیم نے اسے گہری نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔
اب شفاف دودھیا ملائی جیسے چہرے پر سرخی چھائی ہوئی تھی۔
پیشانی پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں اورخمدار گھنی لرزتی ہوئی پلکیں اس کے حسن کو مزید بڑھا رہی تھی۔
وہ بے خود سا اس کے ایک ایک نقش کو دیکھ رہا تھا۔جیسے اس کے چہرے کو آنکھوں میں جذب کر لینا چاہتا ہو۔
اس کا دل کیا کہ اس کے چہرے کو چھوئے لیکن اس سر پھری لڑکی سے کچھ بعید نہیں تھا کس پل کیا کر گزرے۔۔۔۔
نظریں بھٹک کر اس کے کٹاؤ دار چھوٹے سے لبوں سے الجھیں۔۔
ٹڈی ۔۔۔
مستقیم دل کے ہاتھوں مجبور ہوتا سرگوشی کرتا اس کے لبوں کو قید کیا تھا ۔۔۔
اور اس کی دھیمی چلتی ہوئی سانسیں روک دیں۔۔۔۔
مرحا اپنے لبوں پر گرم سانسوں کو محسوس کرتی اور اس کا جارہانہ عمل پر جھٹ پوری آنکھیں کھولے ۔۔۔
۔تڑپ اٹھی ۔۔۔۔۔
آنکھیں کھولے اس نے مستقیم کو دیکھا تھا جو سب کچھ بھلاۓ اس کی سانسیں پی رہا تھا ۔۔۔
مرحا اپنے ننھے ہاتھوں سے پورا زور لگا کر اسے دھکا دیتے ہوئے خود سے ہٹا گئی ۔۔۔۔
گہرے سانس لیتے ہوئے اٹھ کر بیٹھی ۔۔۔۔
سانڈ ۔۔۔لوفر ۔۔۔ پولیس والے ۔۔۔تم۔۔۔۔تم نا نہایت ہی ۔۔۔
مرحا سرخ چہرہ لیے گہرے سانس لیتی بولی تھی جب وہ بولا ۔۔۔
رومانٹک سانڈ یہی کہنا چاہی تھی ۔۔۔
مستقیم اس کے بھیگے لبوں کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
سانڈ ہو تم لوفر کوئ ایسے بھی کرتا ہے میری سانس چلی جاتی ۔۔۔
مرحا ابھی بھی اسے گھورتے بولی ۔۔۔
لو سانس چلی جاتی تو میں ایسے سانس واپس دیتا ۔۔۔
مستقیم شرارتی انداز سے اسے قابو کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
ماما باباببببببببااااا۔۔۔
مرحا صبح صبح مستقیم کا ایسا روپ دیکھتی جلدی سے ڈرتے ہوۓ اس دھکا دیتی چلاتے واش روم چلی گی تھی ۔۔۔
ہاہاہہاہاا ٹڈی ۔۔۔۔
مرحا واش روم کا دروازہ بند کیے گہرے گہرے سانس لیے رہی تھی جب اسے مستقیم کا قہقہ سنا تھا ۔۔۔۔
————————————————————
کیسی ہو مرحا ۔۔۔
مرحا جو ناشتہ کے بعد ڈر کے وہی ہال میں بیٹھی تھی جب ڈی ڈی اس کے پاس آتی بولی ۔۔۔
ٹھیک تم کیسی ہو ۔۔
مرحا اداس سی شکل بناۓ بولی ۔۔۔
ارے اپن کو کیا ہونا میں تو فٹ ہو تو ایسی اداس کیوں ہے ۔۔
ڈی ڈی مرحا کا چہرہ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
وہ سانڈ ناراض ہے مجھ سے تبھی ۔۔۔
مرحا آنکھوں میں آنسو لاتی بولی تھی ۔۔۔۔
تو ایک تھپڑ مارو وہ س۔۔۔
ڈی ڈی میں سیریس ہو ۔۔۔
ڈی ڈی جو ببل چباتی بول رہی تھی تبھی مرحا ٹوکتی بولی ۔۔۔
اچھا اپن تم کو بتاۓ گا اسے مناٶ کیسے ۔۔۔
ڈی ڈی کچھ سوچتی بولی تھی ۔۔۔
————————————————————
اسے منانا کہتے ہے ڈی ڈی ایسا لگ رہا تشدد ہو رہا تم چاہتی ہو میں سانڈ کو مارو یہ مکے لاتیں گولی تھپڑ ۔۔۔
مرحا ڈی ڈی کی باتیں سنتی غصے سے بولی تھی ۔۔۔
لو اپن ایسے ہی سب کو مناتا ہے مکے لات گولی سے اب اپن کو کیا پتہ کیسے منایا جاتا ہے ۔۔۔
ڈی ڈی بے نیاز ہوتی بولی تھی ۔۔۔
تم اپنے مجرموں کو ایسی مناتی ہو وہ شوہر ہے میرا ا۔۔۔۔
تو اپن کا کوئ شوہر نہیں اپن نہیں جانتا کیسے منایا جاتا ہے اپن کا ایسا شوہر ہوتا اپن گولی سے اُڑا دیتا ۔۔۔
مرحا جو بول رہی تھی تبھی ڈی ڈی بات کاٹتی غصہ میں آتی بولی ۔۔۔
انیجل یا یافی آپی سے پوچھے ۔۔۔
تم لڑکی صرف شکل سے ہو ورنہ حرکیتں لڑکوں جیسی ہے ۔۔۔
مرحا منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں اپن کا قصور نہیں اپن ایسا ہی ہے میری منانو تو گنڈے کو ایسے ہی مارو ا۔۔۔
بس بس ڈی ڈی تم چاہتی ہو میں بیوہ ہو جاٶ کون سے بیوی ہو جو پیار کی بجاۓ ایسے مار کھٹائ سے مناۓ گی ۔۔۔
ڈی ڈی اپنے غصے کو کنٹرول کیے بول رہی تھی جب مرحا بولی ۔۔۔۔
اپن کو پیار نہیں آتا کیا اپن اب مر جاۓ بکواس کرتی ہو تمہیں مشورہ بھی نہیں
دینا چاہے اپن کا ٹائم ویسٹ کر دیا ۔۔۔
ڈی ڈی غصے سے اٹھتی بولی تھی ۔۔۔
جاٶ میں یافی آپی سے پوچ۔۔۔۔
یافی باس بزی ہے اپنے شوہر کے پاس ایک اپن کی فری تھا تمہیں سمجھانے کے لیے لیکن تم ٹڈی سنتی ہی نہیں ۔۔۔۔
مرحا کچھ سوچتی بول رہی تھی جب ڈی ڈی بولی تھی ۔۔۔
لیکن یہ طریقہ غلط تھا میں کیسے مارو اتنا تھوڑا پیار والا طریقہ سکھاٶ ۔۔۔
مرحا منت کرتی بولی ۔۔۔
دیکھ بہن اپن کو پیار کرنا نہیں آتا اگر اپن کا شوہر ہوتا تو کرتا پیار چل تمہیں اپن بتاۓ گا ۔۔۔
ڈی ڈی اپنے فون کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
سچی وہ کیسے ۔۔۔
مرحا جلدی سے حامی بھرتے بولی ۔۔۔
وہ ایسے ۔۔
ڈی ڈی مسکراہٹ روکے فون اس کے سامنے کرتی بولی ۔۔۔
کیا ایسا ہو گا۔۔۔۔
مرحا پریشان ہوتی بولی ۔۔۔
ارے اپن کا فون سب بتاتا ہے جلدی آ ۔۔
ڈی ڈی مرحا کو اٹھاتی اپنے شولڈر پر ڈالتی اپنے روم میں لے گی تھی ۔۔۔
———————————————————–
واقعی مستقیم ایسے مان جاۓ گا ۔۔۔
رات مرحا اپنے روم کے باہر کھڑی ڈی ڈی کے پاس پریشان ہوتی بولی ۔۔۔
دیکھو اپن نے وہی کیا جو فون کے نیٹ نے بتایا تھا ۔۔۔
ڈی ڈی مرحا کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
دیکھو لو وہ غصہ نہ کرے ایسا نہ ہو میں مر جاٶ تم اپنی ماما سے پوچھو تو میری ماما ہوتی تو بتا دیتی ۔۔۔
مرحا اپنا گلا تر کرتی بولی تھی ۔۔۔
اپن نے موم کو فون کیا تھا ۔۔۔
پھر ۔۔۔
مرحا نے بے تابی سے پوچھا تھا پریشانی کے مارے اس کے پیسنے چھوٹے ہوۓ تھے ۔۔۔
موم نے اپن کی انسلٹ کر دی ۔۔۔
ڈی ڈی برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔
مرحا پھر بولی ۔۔۔
اپن نے فون کیا اب اپن کو کیا پتہ تھا موم کے پاس فوفہی مسکان ماموں ہاشم ارتضٰی چاچو ثانی چاچی جلاد ڈیڈ بیٹھے ہے ۔۔۔
اپن نے اُونچی آواز سے پوچھا شوہر کو کیسے منایا جاتا ہے موم نے جواب دینے کی بجاۓ انسلٹ کر دی باقی سب کے قہقے تھے ۔۔۔
تو تم آرام سے پوچھ لیتی ا۔۔۔۔
اے دماغ خراب نہ کر اپن نے ایک انسلٹ کروا لی جلاد ڈیڈ بھی ہنس پڑے یہ بھی اپن کو فوفہی مسکان نے بتایا ہے اور کچھ نیٹ سے دیکھ لیا ۔۔۔
اب بھی اگر گنڈا نہ مانا تو اپن سے گولی لینا ایک ہی شوٹ سے وہ اوپر پہنچ جاۓ گا ۔۔۔
مرحا جو بول رہی تھی جب ڈی ڈی غصے میں آتی بے قابو ہوتی اسے روم کے اندر دھکا دیتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
اب اپن لڑکی ہے تو کون سا جانتے ہے شوہر کو کیسے منایا جاتا ہے جلاد ڈیڈ اپن ناراض ہے موم سے ۔۔۔
ڈی ڈی فون پر ڈی ایم سے بات کرتی برا سا منہ بناتی بولی ۔۔۔
ہاہااہہاہہا بیٹا ماما آپ کی اور آپ۔۔۔
موم ایسی نہیں ہوتی بیٹی کو سمجھاتی ہے اب اپن نے ایک سوال ہی پوچھا تھا اس میں غصہ کرنے والی کیا بات تھی ۔۔۔
اپن کہتا ہے اسے گولی سے اُڑا ۔۔
ڈی ڈییییییی۔۔۔
ڈی ڈی جو مسکراتی بول رہی تھی جب ڈی ایم کی دھاڑ سنائ دی وہ جانتی تھی ڈی ایم تبھی اسے ڈی ڈی کہتا جب شدید غصے میں آتا تھا ۔۔۔
ارے اپن جیسٹ مذاق کر رہا تھا جلاد ڈیڈ بلا اپن کی یہ مجال جو آپ کی دھڑکن مسز محمل کو کچھ کہا سکے ۔۔۔
دھڑکن جلدی سے بولی تھی وہ اپنے باپ کی نیلی آنکھوں میں اچانک غصہ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
کام پر فوکس کرو مس ڈی ڈی ورنہ جلدی جرمنی آو ا۔۔۔
ارے اپن کا پارٹنر آ گیا اب اپن چلتا ہے ۔۔۔
ڈی ڈی اپنے سامنے بلیک ہڈی پہنے بلیک ہی لونگ شوز پہنے دستانے پہنے ہاتھوں میں ایک لاکٹ گھومتا اپنی سرخ گرین آنکھوں میں وحشت لیے وہ ڈی ڈی کے سامنے کھڑا اندھیرہ کر چکا تھا ۔۔۔
ہڈی کی فرنٹ پر ڈیول لکھا ہوا تھا ۔۔۔
تم لوگ پھر وہی کام کرنے لگے ہو میں تبھی تمہیں یہاں نہیں آنے دے رہا تھا یہ تو۔۔۔
ارے جنرل سر کیوں پریشان ہو رہے اگر اسی کام سے ڈرتے تھے تو ڈی ڈی کو کیوں ایسا بنایا تھا خیر آج تو قہر برسے گا ان سب پر کافی دن سے سکون میں تھا میں ۔۔۔
ڈی ایم ایکدم پریشان ہوتا بول رہا تھا جب وہ اپنی گرین آنکھوں میں وحشت اور چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا ۔۔۔
دیکھو ڈیول تم ایس۔۔۔
چلو ڈی ڈی ۔۔
ڈی ایم جو بول رہا تھا جب وہ فون بند کرتا ڈی ڈی کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
یس سر اپن ریڈی ہے ۔۔۔
ڈی ڈی اسے سولٹ کیے ساتھ چلتی بولی تھی ۔۔۔
جہاں وہ اپنے آدمیوں کو لیے ڈی ڈی کے ساتھ اندھیرے میں چلتا جا رہا تھا ۔۔۔
————————————————————
ڈی ڈی کی بچی کہاں پھسا دیا ۔۔۔
مرحا جو پریشان سی روم میں انٹر ہوئ تھی جب سامنے کا منظر دیکھتے وہ دل میں سوچ تھا ۔۔۔
اب اسے لگا تھا وہ پھس چکی ہے ۔۔۔
کیونکہ جس کو وہ منانے آۓ تھی وہ خودی روم کو اتنا خوبصورت سا سجاۓ بیڈ پر سکون سے بیٹھا تھا ۔۔۔
ارے ٹڈی کہاں تھی صبح سے ویٹ کر رہا ۔۔۔
مستقیم مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جہاں وہ بال کھولے ایک فل اپر پہنے پریشان سی کھڑی تھی ۔۔۔
م۔میں ڈی ڈی کے ساتھ ۔۔
مرحا ناومل سے ہوتی بولی تھی ۔۔۔
اچھا یہاں آو میں آج کچھ کہنا چاہتا ہو ۔۔۔
مستقیم اسے ہی دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
تم ناراض نہیں ہو کیا ۔۔۔
مرحا اسے سکون سے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
پورے روم کو ریڈ روز سے سجایا گیا تھا ہر طرف اس کی خوشبو پھیلی ہوئ تھی ۔۔
مدھم چلتی لائٹس روم کا خوابناک سا ماحول بنا رہا تھا ۔۔۔
جانتی ہو ہماری پہلی ملاقات کیسے ہوئ تھی ۔۔
مستقیم اس کی طرف چلتا ہوا آتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں جانتی ہو جب۔۔۔
مرحا ابھی بول رہی تھی جب مستقیم نے ایک ہی جھٹکے میں اسے کمر سے پکڑے اپنے قریب لایا تھا ۔۔۔
مرحا کی سانسیں روک چکی تھی مستقیم کی کلون کی خوشبو سے ۔۔۔۔
“”کچھ ماہ پہلے ۔۔۔۔
ارے دیکھو ککڑ کتنی پیاری بچی ہے لگتا ہے گم ہو گی ائیرپوٹ پر ۔۔۔
مستقیم زرجان کو لینے ائیرپوٹ آیا تھا جب اسے ریڈ جینز ریڈ ہی شرٹ پہنے ٹیل پونی ہائ ہلیز پہنانے مرحا آس پاس دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
ہاں بچی پیاری ہے ہلیز کی وجہ سے بڑی لگ رہی ہے ۔۔۔
چل آ جا ہلیپ کرتے ہے ۔۔۔
مستقیم مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
وہ مرحا کو ایک بچی ہی سمجھا تھا ۔۔۔
بے بی آپ کچھ ڈھونڈ رہی کیا ۔۔۔۔
منان مستقیم اس کے پاس جاتے بولا تھا جبکہ مستقیم مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
منان مرحا کو دیکھتا بولا تھا ۔۔
جی بھائ وہ میرے ماموں نے آنا تھا ۔۔۔
مرحا مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
اچھا ۔۔۔
منان مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
کون سی کلاس میں پڑھتی ہو شاہد مٹیرک میں ہو گی ۔۔۔
مستقیم دانت نکالتا ہوا بولا ۔۔۔
سانڈ بھائ میں نے ایل ایل بی کیا ہے سمجھے ۔۔۔
مرحا مستقیم کی طرف دیکھتی بولی ۔۔۔
کیییییییاااااااااا۔۔۔۔
مستقیم کی چیخ پورے ائیرپورٹ میں گونجی تھی ۔۔۔
یس اب میں چلتی ہو ۔۔۔
مرحا اترا کر کہتی وہاں سے جانے والی تھی ۔۔۔۔
ہاے یہ زمانہ بھی دیکھنا تھا یہ بونی اور ایجوکشن اتنی ۔۔
مرحا واپس جا رہی تھی جب اسے مستقیم کی حیرت میں ڈوبی آواز سنائ دی ۔۔۔۔
بونی کہاں میں دیکھو اپنی حالت چلتے پھیرتے گنڈے لگتے ہو ۔۔۔
مرحا اپنے ہاتھ میں کافی کا گرم کپ اس کے اوپر گراتی غصہ سے بولتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔
چھوڑ مجھے یہ ٹڈی مجھ پر ایس پی مستقیم آفندی پر کافی گرا گی ۔۔
مستقیم غصہ سے مرحا کی طرف گیا تھا جب منان نے اسے پکڑے روکا تھا تبھی وہ دانت پیستا بولا تھا ۔۔۔
ایس پی مستقیم ابھی تم نے بنانا ہے جانی چل آ جا پہلے دلبرجانی کو لے ہم ۔۔۔
منان طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔
طعنے نہ دے دیکھنا بن جاٶ گا ایس پی جس دن بنا اسی دن اس ٹڈی پر کیس کرو گا ۔
مستقیم برے برے سے منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔
————————————————————
اسی دن سے تم میری محبت بن گی بہت خوش ہوا تھا تم میری زندگی میں آ گی ۔۔
جس دن تم مجھے دلہن بنی ملی میں تمہاری عزت بچانے کے لیے گھر لے آیا میں جانتا تھا بابا مان جاتے ہماری شادی کے لیے ۔۔۔
محبت تم واقعی محبت کرتے مجھ سے ۔۔۔
مرحا اپنے خیالوں سے باہر آتی شوک ہوتی بولی تھی ۔۔
ہاں محبت جس دن نکاح ہوا اس دن تم میرا عشق بن گی ۔۔۔
مستقیم مرحا کی ننھی سی ناک چھومتے بولا تھا ۔۔۔
س۔سوری مستقیم میں اس دن ڈر گی تھی کہ کہی بابا مجھے گھر نہ نکال دے تبھی جھوٹ بول دیا ۔۔۔
مرحا اچانک آنسو لاتی بولی تھی ۔۔۔
جانتا ہو تم ڈر گی تھی تبھی ایسا ہو ویسے اچھا ہی ہوا اگر تم ایسا نہ کرتی تو کبھی بھی ہماری شادی جلدی نہ ہوتی ۔۔۔
مستقیم مرحا کے آنسو اپنے لبوں سے چنتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
مطلب تم ناراض نہیں تھے ۔۔۔۔
مرحا شوک ہوتی بولی تھی ۔۔۔
نہیں ہاں دکھ ہوا تھا تھوڑا سا جب تم نے الزام لگایا پھر سوچا تم بھی اپنی جگہ ٹھیک تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اگر واقعی تمہیں گھر سے باہر بابا نکال دیتے تم کہاں جاتی لیکن پھر مجھے سکون اس بات کا ہو گیا تھا اب سے تم میری ہی رہو گی ۔۔۔
مستقیم ہلکے سے اس کے چھوٹے لبوں کو چھوتے بولا تھا ۔۔۔
پھر یہ غصہ ناراضگی والا ڈرامہ تھا کیا میں ایویں پریشان ہوتی رہی ۔۔۔
مرحا اسے دور کرتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں اتنا تو حق بنتا تھا ۔۔۔
مستقیم سکون سے مسکراتے بولا تھا۔۔۔
چلے جاۓ سو جاۓ میں جاتی ہو ۔۔۔
مرحا جلدی سے جان بچاتی وہاں سے جاتی بولی تھی کیونکہ مستقیم کو پتہ نہیں تھا وہ کیسے منانے والی تھی ۔۔
ارے روک۔۔۔۔
مستقیم جو اسے بازو سے پکڑے اپنی طرف لانے والا تھا جب اس کا اپر ہاتھوں میں آتا پورا اتر چکا تھا ۔۔۔
وہی مستقیم کے الفاظ منہ میں ہی رہ گے تھے ۔۔۔
“““تیری ہاہٹوں میں جیی لو گا “
“تیری چاہت میں جی لو گا “![]()
“جو پا کہ بھی نہ پا سکو“
“تیری دھڑکنوں میں جی لو گا “![]()
![]()
““دیکھے ہر گھڑی دل میرا دیکھے کیوں تجھے““
“کہ دو جہاں کو پا لیا ہو ““![]()
““”پا کہ تجھے میں کھویا کھویا “
“ کھویا کھویا من کھویا کھویا پا کہ جو تجھے میں کھویا کھویا ““![]()
![]()
![]()
پنک کلر کی نائٹی پہنے جو بامشکل اس کے گھٹنوں تک آ رہی تھی جیسے مرحا شرم کے مارے بازو پھیلاۓ آنکھیں بند کیے کھڑی تھی ۔۔۔
واٹ تم ایسے مناٶ گی مجھے ۔۔
مستقیم مرحا کا حسین روپ دیکھتا شوک میں جاتا بولا ۔۔
تم ناراض ہو گے تھے تبھی اب تو ناراض نہیں میں چینج کر کے آئ ۔۔۔
مرحا جلدی سے گلا تر کرتی واپس جاتی بولی تھی ۔۔۔
لیکن اب میں ناراض ہو چلو مناٶ مجھے ۔۔
مستقیم مرحا کو گود میں آٹھاۓ بیڈ کی طرف لے کر آتے بولا تھا ۔۔۔
میں ہر گز نہیں منا رہی سانڈ یہ بھی ڈی ڈی نے پھسا دیا۔۔۔
مرحا کی جان لبوں پر آئ تھی اسے کیا پتہ تھا خودی پھس جاۓ گی ۔۔۔
ارے واہ اس چڑیل نے ایسا آئنڈیا دیا ۔۔۔
مستقیم اپنا ہاتھ اس کی گردن پر پھیرتے بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔
اور نہیں تو کیا ایویں پ۔۔۔
ششششش اب آواز مت آۓ بس مجھے محسوس کرو ۔۔۔
مرحا جو غصے سے منہ بناۓ بول رہی تھی جب مستقیم اس کے لبوں پر انگلی رکھے بولا تھا ۔۔۔
ل۔لیکن ا۔۔۔
مرحا اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتی بول رہی تھی جب مستقیم اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔
مرحا کو اس کے عمل میں نرمی محسوس ہو رہی تھی تبھی وہ بھی آنکھیں بند کیے سکون سے لیٹ گی ۔۔۔
اسے اب مستقیم کے لبوں کا لمس گردن اور بیوٹی بون پر محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
محبت کرتی ہو ۔۔۔
مستقیم واپس اپنا چہرہ اس کے چہرہ کے قریب لاتے بولا تھا ۔۔۔
نہیں کرتی میں محبت تم سے سانڈ ۔۔۔
مرحا مستقیم کی آنکھوں میں اپنی لیے طلب دیکھتی شرماتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
لیکن میں تو کرتا ہو محبت ۔۔۔
مستقیم اس کے لبوں کو دوبارہ قید کیے اس پر حاوی ہوا تھا ۔۔۔
مرحا خود سپردگی دیتی مستقیم کی گردن میں بازو حائل کرتی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔
وہ خوش تھی جس انسان سے محبت کی تھی وہ بھی اس سے محبت کرتا تھا یہ اسے مستقیم کے ہر عمل سے پتہ چل رہا تھا ۔۔۔
———————————————————–
میں کہہ تو رہی ہو پیسے مل جاۓ گے اور زرجان سے طلاق بھی لے لو گی اب فون مت کرنا ۔۔۔
یافی نعمان سے فون پر بات کرتی غصے سے بولتی فون کاٹ چکی تھی ۔۔
بڑی جلدی ہے تمہیں مجھ سے طلاق لینے کی پہلے حق ادا کرو ۔۔۔
زرجان یافی کی ساری بات سن چکا تھا تبھی غصہ میں آتا اس کا بازو پکڑے بولا تھا ۔۔
ہ۔ہاں لے لو میں کون سا منع کر رہی ۔۔۔
یافی زرجان کی پہلی دفعہ سرخ گرے آنکھیں دیکھتی ہکلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
یہ تو اچھی بات ہے ۔۔
زرجان دانت پیستا یافی کو گود میں آٹھاتے بیڈ پر گراتا بولا تھا ۔۔۔
کیا طریقہ ہے یہ زرجان ۔۔
یافی زرجان کا ایسا روپ دیکھتی ڈرتے بولی تھی ۔۔۔۔
کون سا طریقہ تم طلاق لینا چاہتی ہو تو میں یہی کرو گا دراصل تمہیں میری اتنی محبت راس ہی نہیں آئ ۔۔۔
زرجان اپنی شرٹ اتارتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
محبت نہیں ہمددری تھی تم۔۔۔
یہ کیا کر رہے ۔۔۔
یافی اپنے آنسو کنٹرول کیے بول رہی تھی جب زرجان کو اس کے پاٶں باندھتے دیکھ چلائ تھی ۔۔۔
ہمددری کرنے والا تمہارے باقول ۔۔
زرجان طنزیہ مسکراہٹ لاے اب یافی کے دونوں ہاتھ بیڈ کے ساتھ باندھتے بولا تھا ۔۔۔
تم ایسا کچھ ب ۔۔۔۔
یافی کی ریڑ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئ تھی جب زرجان اس کے ہاتھ پاٶں باندھنے کے بعد اس کے منہ کو بھی باندھ چکا تھا ۔۔۔۔
کیا ہوا یافی جان ڈر گی ۔۔۔
زرجان اس کے اوپر جھکتے اس کی گردن پر کاٹتے طنز کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
یافی خاموشی سے زرجان کا ایسا روپ سہہ رہی تھی جبکہ آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے ۔۔
