484.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 33)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

زرجان میری بات سنو پلیز میرا قصور نہیں ہے ۔۔

زرجان گھر آتا گاڑی سے نکلتا یافی کو ویسے ہی روم میں لاتا بیڈ پر گرایا تھا ۔۔۔

جب یافی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

شیٹ اپ جیسٹ شیٹ اپ تمہیں میں نے جیتنی محبت عزت دی تم نے ناجائز فائدہ آٹھایا پہلے بھی کہا تھا مجھے صرف تم سے محبت ہے اور کسی سے نہیں ۔۔۔

کیوں گی تھی وہاں اس لالچی انسان کے پاس جانتی ہو وہ کیسا ہے پھر ب۔۔۔

تم نہیں جانتے اس کے پاس میری پکس ہے وہ پکس جب میں اس کی بیوی تھی کیا برداشت کرتے اس پکس کو دیکھ کر جو نعمان کے ساتھ تھی میری ۔۔۔

میں نہیں جانتی تھی میری قمست ایسی ہو گی نعمان کو ہی اپنا سب کچھ مانا تھا تبھی وہ پکس لیتا تھا میری میں تو پاگل تھی میری آنکھوں پر محبت کی پٹی باندھی تھی بس اسی پر یقین کیا لیکن یہ مرد ذات ہوتے ہی ایسے ہے ۔۔۔

اگر وہ پکس تم بھی دیکھ لیتے تو منٹوں میں مجھے طلاق دیتے اس سے اچھا نہیں تھا میں خودی طلاق لے لیتی تاکہ میرا بھرم رہ جاتا شاہد میری قسمت میں محبت نہیں اور بابا ماما کو بھی یقین ہوتا ان کی بیٹی کی قسمت ایسی ہے ۔۔۔

زرجان جو غصہ کنٹرول کیے بول رہا تھا جب یافی غصہ سے پھٹتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

کیا ہوا مسٹر زرجان ظفر شاہ چپ ہو گے آہہہہہ اب کیوں نہیں بول رہے اب بولو نہ کہ یافی مجھے صرف تم سے محبت ہے اور وہ تھرڈ کلاس کی لائنز بولو بلا بلا بلا ۔۔۔

یافی زرجان کو چپ کھڑا دیکھتے طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولی تھی ۔۔۔

تم مجھے طلاق دے دینا میں نہیں رہنا چاہتی اب تھک گی م۔۔۔

زبان نکال کر ہاتھ میں رکھ دو گا اگر اب طلاق کا لفظ لیا تو ۔۔

کیا کہا تم نے میں یقین کر لیتا ان پکس پر تو سنو میری بات دھیان سے۔۔۔

جس دن نعمان نے تمہیں بلیک میل کرنا سٹارٹ کیا اسی دن اس نے مجھے موبائل پر وہ پکس سینڈ کر دی تھی ۔۔۔

میں نے دیکھ کر یقین کر لیا وہ فوٹو شاپ تھی اصلی نہیں تھی ۔۔۔

اسے آفر کیا وہ یہ پکس ڈیلیٹ کرنے کے لیے کتنے پیسوں میں کرے گا ۔۔۔

جانتی ہو اس جاہل لالچی انسان نے کتنے پیسے لیے ۔۔۔

زرجان یافی کو کندھے سے پکڑے دانت پیستے بولا تھا جبکہ یافی ایسی ہو گی تھی جیسے بت ہو ۔۔۔

پانچ کڑور مانگے اس نے لیکن میں نے بیس کڑور دے اسے اور اسی وقت وہ پکس ختم کروائ ۔۔۔

یہ کام صرف دو دن میں ہوا اور نعمان پیسے لے کر چلا گیا لیکن مجھے انتظار تھا کہ تم خود میرے پاس آٶ مجھے بتاٶ اپنی پریشانی لیکن تم تو انا کی دیوی ہو صرف اپنی انا یاد رہی میری محبت میرا عشق بھول گی ۔۔

کیا میرا عشق اتنا دوغلا تھا یافی کہ تم نے ایک منٹ کے لیے بھی بھروسہ نہیں کیا یہی سوچ لیتی میں شوہر ہو محبت نہ سہی ۔۔۔

تم نے مجھ سے شیئر نہیں کچھ خودی اسے پیسے دینے چلی گی اور خودی طلاق مانگ لی وا۔ہ۔ہ مس فیا زرجان مجھے اپنے آپ پر ہنسی آ رہی ہے میں نے تم جیسی لڑکی سے محبت کی جو کسی کی انکھوں میں محبت دیکھ کر بھی انجان بنی رہی ۔۔۔

زرجان طنزیہ تالیاں بجاتے بولا تھا ۔۔۔

باقی یہ نعمان کی بات وہ صرف ایک کام کی وجہ سے زندہ رہ رہا تھا ۔۔۔۔

ا۔۔۔

ہاں ہلیو مار دو اسے آج ڈبل زی کسی پر رحم نہیں کرے گا بہت چھوٹ دی اسے میں نے ۔۔

اس سے پہلے زرجان کچھ کہتا جب فون رنگ ہوا تبھی وہ یافی کی طرف دیکھتا دانت پیستا ہوا بولا تھا ۔۔۔

تمہیں طلاق چاہے صبح مل جاۓ گی اب جاٶ یہاں سے ۔۔۔

زرجان یافی کو بازوں سے پکڑے روم کے باہر چھوڑتے بولا تھا ۔۔

ج۔جان۔جا۔۔۔۔

خبردار اگر ایک لفظ بھی نکلنا میں نے شوٹ کر دینا تمہیں ۔۔

یافی جو روتے ہوۓ بول رہی تھی جب زرجان بات کاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

کیا کرے لالہ انیجل کو بتاۓ کیا ۔۔۔

مستقیم آہان کو ایک فون کال آئ تھی تبھی دونوں گھبراتے ہوۓ ہال میں آے تھے جب مستقیم بولا ۔۔

نہیں انیجل کو مت بتانا ابھی تو اسے صام کی محبت محسوس ہوئ ہے اور اب ہی صام ۔۔۔

جی انیجل کیا ہوا کیوں رو رہی ہو سب ٹھیک ہے ۔۔۔

اس سے پہلے آہان کچھ اور کہتا جب مستقیم کو روحا کا فون آیا تبھی وہ پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔

کیونکہ روحا رو رہی تھی ۔۔

ل۔لاہ۔لالہ صام ٹھیک ہے کیا ہم۔ہمارا فون بھی نہیں آٹھا رہے آپ پوچھے زرا ۔۔

روحا ہچکی لیتی بامشکل بولی تھی ۔۔

صام ٹھیک ہے انیجل ابھی بات ہوئ کہتا تھا جلدی گھر آ جاۓ گا ۔۔۔

مستقیم بامشکل آنسو کنٹرول کیے بولا تھا ۔۔۔

لیکن ہمیں ایسا لگ رہا جیسے دل پھٹنے والا ہو ۔۔۔

ہمیں بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے سانس نہیں آ رہا ہمیں لالہ آپ کہا رہے صام ٹھیک ہے ہماری بات کروا دے پھر ۔۔۔

روحا فون پر غصے میں آتی روتی ہوئ چیخی تھی ۔۔۔

ریلکس انیجل ابھی وہ سویا ہے ا۔۔۔

ہم نے بات ہی نہیں کرنی یہ اچھی بات ہے پہلے اتنی توجہ دو پھر اگنور کر دو ۔۔۔

ہم بھی اب فون نہیں کرے گے ۔۔۔

مستقیم جو بول رہا تھا تبھی روحا غصہ سے کہتی فون کاٹ کر چکی تھی ۔۔۔۔

انیجل کو بتانا چاہے تھا بیوی ہے اس کی ۔۔

مستقیم آہان کی طرف دیکھتا غصہ سے بولا تھا ۔۔۔

بتا دیتے تاکہ انیجل مر جاۓ وہ پہلے ہی بکھری ہے ابھی تو کچھ بتایا ہی نہیں خیر چلو ہمیں چلنا چاہے ۔۔

آہان پریشان ہوتا اپنی ہڈی پہنے باہر جاتا بولا تھا ۔۔

جب مستقیم بھی ہڈی پہنے چلا گیا تھا ۔۔۔

———————————————————–

اب کیوں کھڑی ہو سو جاٶ ۔۔

زرجان لائٹس آف کیے بیڈ پر سونے لیٹا تھا جب یافی ڈھیٹ بنی روم کے سینٹر میں کھڑی ہو چکی تھی ۔۔

زرجان سمجھا تھا وہ تھک کر سو جاے گی پر وہ وہی کھڑی تھی ۔۔۔

جب سامنے نائٹ ڈریس پہنے بال کھلے اپنے ہونٹوں کو دانتوں میں دباۓ وہ سر جھکاۓ کھڑی تھی ۔۔۔

یافی کو دیکھتے زرجان بولا تھا ۔۔۔

سوری جان ۔۔۔

یافی معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔

جاٶ یہاں سے پہلے ہی سر درد کر رہا میرا ۔۔۔

زرجان بامشکل کنٹرول کیے بولا تھا کیونکہ وہ یافی کو دیکھتا بہک رہا تھا ۔۔۔

کیا چاہے اب تمہیں یافی کیوں تنگ کرتی ہو جانتی ہو تم مجھے کتنی عزیز ہو بس دماغ گھوم گیا میرا ۔۔۔

زرجان سے رہ نہیں گیا تبھی بیڈ سے اٹھتے یافی کے قریب آیا تھا جب یافی بچوں جیسے خوش ہو کر اسے ہگ کر چکی تھی تبھی وہ اپنی انگلیاں اس کے بالوں میں پھیرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

محبت ہے تم سے مجھے بس یہ چاہتی ہو مجھے بھی ویسی محبت چاہے جیسی تم کرتے ہو ۔۔۔

یافی مسکراتی ہوئ اس کے سینے پر لب رکھتی بولی تھی ۔۔۔

کیوں ایسا کرتی ہو ۔۔

زرجان مکمل مدہوش ہوا یافی کے ڈمپل پر لب رکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

تم میرے نخرے آٹھاتے اس لیے ۔۔۔

یافی اپنے بائیں اس کی گردن پر حائل کرتی اس کا ناک چومتی بولی تھی ۔۔۔۔

کیوں چاہتی ہو میں کچھ ایسا و۔۔۔

آج کچھ بھی کرو میں بلکل نہیں روکو گی یہ فیا زرجان صرف زرجان کی پوری کی پوری ۔۔۔

اس سے پہلے زرجان بول رہا تھا جب یافی اپنے لبوں سے اس کی لب نرمی سے چھوتے شرماتے ہوۓ اپنا سر اس کے سینے پر رکھ چکی تھی ۔۔۔

واقعی یعنی کہ م۔۔۔

کیا ہے زرجان اب ایسا تنگ کرے گے ۔۔

زرجان شرارتی انداز سے یافی کا چہرہ تھوڑی سے اٹھاۓ بول رہا تھا جب یافی شرماتی گھبراتی بولی تھی ۔۔۔

ہاۓ جیتنا تم نے تنگ کیا آج میں کرو گا ۔۔۔

زرجان نے اپنے لب اس کی گردن پر سہلاتے ہوۓ کہا تھا ۔۔

ہاہاہہاہا زرجان گدگدی ہو ر۔۔

یافی قہقہ لگاتی بول رہی تھی جب زرجان نے اس کے لبوں کو قید کیا تھا ۔۔۔

دونوں مدہوش ہوۓ ایک دوسرے کے لمس کو محسوس کر رہے تھے ۔۔۔

آج کی رات دونوں کو محبت مل چکی تھی دونوں اس ساتھ سے بے حد خوش تھے ۔۔۔۔

———————————————————–

صام آپ ہمارے ساتھ اچھا نہیں کر رہے پہلے محبت دی اب چلے گے ۔۔

واقعی ٹھرکی ہے کسی لڑکی کے ساتھ ہو گے ہماری کہاں یاد آتی ہو گی ۔۔۔

ہم کیوں یاد کر رہے ہے ۔۔

روحا اپنے روم میں بیڈ پر لیٹی صام کی شرٹ پہنے اور ایک سرہانے پر صام کی شرٹ پہناۓ اس اپنے سینے سے لگاۓ وہ خودی بول رہی تھی ۔۔۔

کیا ہمیں محبت ہو گی صام سے ۔۔

نہیں نہیں اس ٹھرکی سے محبت کون کرے اب ہم پکا یاد نہیں کرے گے دو دن ہو گے ایک دفعہ بھی فون نہیں کیا بھول گے اپنی مس لائف کو ۔۔۔

جب روحا خودی کہتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔

اب دو ہفتوں بعد آ جاۓ ہم نے بولنا ہی نہیں ہے بس بات ختم بلکہ ہم نے فون ہی توڑ دینا ۔۔

روحا خود سے مسلسل بات کر رہی تھی جب غصہ میں آتی اپنا فون اٹھاتی دیوار پر مارتی بولی تھی ۔۔

کیا ہے صام کدھر چلے گے ہے ایک یہ ہمارے دل کو سکون نہیں آ رہا کیوں کیوں ایسا کیا ہمارے ساتھ ۔۔

یہ سرہانا بھی فیل نہیں کروا رہا صام کہ آپ ہمارے پاس ہے حد ہے ۔۔۔

روحا اب اپنا غصہ سرہانے پر اتارتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ہم نے سونا ہی نہیں ہے بس بات ختم ۔۔۔

روحا اٹھ کر قالین پر بیٹھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

صام آ جاۓ ہمیں ضرورت ہے آپ کی پلیز آ جاۓ دیکھیں آپ کی مس لائف ڈراک چاکلیٹ ہاہاہااہاا ہم نے ڈراک چاکلیٹ بن جانا ہے ۔۔

ہم نے اس کورنا کی جعلی ویکیسن کے پاس چلے جانا اگر آپ صبح تک نہ آے ۔۔

رونے کی وجہ سے اس پر نیند حاوی ہو رہی تھی تبھی غصے سے بڑابڑاتی قالین پر لیٹتی بول رہی تھی ۔۔۔

————————————————————

“””دو ہفتوں بعد۔۔۔۔۔

جی سر خبر ٹھیک ہے میجر صام شہید ہو گیا میری آنکھوں کے سامنے اسے دفن کیا گیا تھا ۔۔۔

فرحان بیٹھا شراب پی رہا تھا جب اسے اپنے خبری کا فون آیا تھا ۔۔۔

واقعی لاش کو کس نے لیا تھا ۔۔

فرحان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جی سر ایس پی مستقیم ڈی ایس پی منان اور اس کا بزنس مین لالہ آہان

آفندی لینے آۓ تھے ۔۔۔

اس نے تفصیل سے خبر دی ۔۔

ہاے مطلب بلیک بیوٹی میری میرے تو مزے ہے بس صام میرے راستے سے ہٹ گیا ۔

فرحان خوشی سے چکہتے ہوۓ بولا تھا ۔۔

کیوں کیا ایسا تم نے شع۔۔۔

فرحان نام میرا سمجھی ۔۔۔

کومل اسے دیکھتی دانت پیستی بولی تھی ۔۔۔۔

مسٹر شعیب فرحان ملک اب خوش کیوں مار دیا تم نے جانتے تھے ابھی مجھے جائیداد چاہے ت۔۔۔

یار کومل تم نہیں جانتی بلیک بیوٹی کیا چیز ہے یہ تو بہت کم کام کیا اب میرا موڈ خراب مت کرو میں نے جانا ہے بہت جلد اپنی بلیک بیوٹی کے پاس ۔۔۔

شعیب خباثت لاۓ بولتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔

روحا ۔روحا روحا پہلے صام اب یہ شعیب بھی روحا تمہیں تو میں چھوڑوں گی نہیں اب دیکھنا میں کرتی کیا ہو ۔۔۔

کومل شدت طش میں آتی بولتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔

دکھ تو اسے کافی ہوا تھا صام کا سن کر اب وہ شعیب کو کھونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔

————————————————————

منا۔منان کیسے ہے آپ اور کب آے ۔۔

ہانیہ جو کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھی جب اسے اپنی۔کمر پر منان کا ہاتھ محسوس ہوا ۔۔

تبھی وہ ہکلاتی بولی تھی ۔۔

نہیں ڈر تو ایسے رہی ہو جیسے میں جن ہو ۔۔

منان ہانیہ کا رخ اپنی طرف کرتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

وہ اس دن جو میں نے کیا پھر تم مجھے بلاتے ہی نہیں تھے اس لیے پوچھا ۔۔۔

ہانیہ شرمندہ ہوتی بولی تھی ۔۔۔

ارے یار اسے بھول جاٶ اتنا تو بنتا تھا میرے لیے غلطی میری بھی تھی مجھے واپس آ کر دیکھنا چاہے تھا ۔۔۔

منان ہانیہ کو کمر سے پکڑے کچن شلیف پر بیٹھاتے بولا تھا ۔۔۔

لیکن مجھے ایسا نہ۔۔۔

چھوڑو یار میرا موڈ بہت اچھا ہے چلو کس کرو مجھے ۔۔۔

ہانیہ جو سر جھکاۓ بول رہی تھی جب منان اس کے لبوں پر انگوٹھا پھیرتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔۔

می۔میں کھانا بنا ر۔۔۔

ہانیہ گھبراتے شرماتے بول رہی تھی جب منان نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھساۓ اس کا چہرہ اُونچا کیے اس کے لبوں پر لب رکھ چکا تھا ۔۔۔۔

اس سے پہلے منان مدہوش ہوتا کوئ اور گستاخی کرتا جب ہانیہ جلدی سے اسے دھکا دیتی واش روم کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔۔

ہانیہ میری جان ہانیہ کیا ہوا ۔۔۔

منان پریشان ہوتا اس کے پیچھے بھاگتے بولا تھا ۔۔۔۔

پ۔پتہ نہیں کاف۔کافی دن ہو گے چکر بھی آ رہے اور متلی بھی ہو رہی شاہد کچھ کھایا پیایا نہیں ۔۔۔

ہانیہ واش روم سے باہر آتی گہرے گہرے سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔

تو میری جان مجھے بتانا چاہے تھا چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہے لگتا کمزوری ہو گی ہے خیال بھی تو نہیں رکھتی تم ۔۔۔

منان جلدی سے ہانیہ کو گود میں اٹھاۓ باہر گاڑی کی طرف جاتا بولا تھا ۔۔

ارے مانی میرے کپڑے صیح نہیں چینج کرنے دیتے ۔۔۔

ہانیہ منان کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

کچھ نہیں ہوتا ۔۔

منان گاڑی سٹارٹ کرتا بولا تھا ۔۔۔

————————————————————

ہیر کہاں ہو یار ۔۔

آہان روم میں آتا بولا تھا ۔۔۔

جہاں پورے روم میں ہیر نہیں تھی ۔۔

ادھر ہی ہو آہان آپ کتنی جلدی پریشان ہو جاتے ہے بس احمد کے کپڑے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

ہیر جلدی سے وڈراب روم سے باہر چہرہ نکالتی بولی تھی ۔۔۔

میں اداس ہو جاتا ہو کیوں اتنا بزی رہتی ہو ۔۔

آہان ہیر کے قریب آتا اسے کمر سے پکڑے اپنے لب اس کی گردن پر سہلاتے بولا تھا ۔۔۔

کیا ہے آہان آپ شروع ہو گے ابھی وہ میرا پٹاخہ بیٹا آتا ہی ہو گا پھر یہ رومینس بھول جاۓ گے ۔۔۔

ہیر مسکراہٹ روکے بولی تھی ۔۔۔

بیٹا باپ پر نہیں گیا اپنی ماں پر چلا گیا ہے میں تو بہت معصوم ہو ۔۔۔

آہان ہیر کا رخ اپنی طرف کرتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔۔

جی دیکھ رہی میں کتنے معصوم ہے آپ آہان ایک نمبر کے چالاک ہے ۔۔

ہیر اس کی گرین آنکھوں کو چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

اور ماں کتنی چالاک ہے یہ میں اچھے سے جانتا ہو ۔۔۔

آہان ایک ہی جٹھکے میں ہیر کو گود میں آٹھاۓ بیڈ کی طرف جاتا بولا تھا ۔۔

آپ سے کم ہو ۔۔

ہیر نے اپنے دانت اس کی ہلکی ڈراھی والے گال پر گھاڑے تھے ۔۔۔

ہاے تم تو ظالم بھی ہو بس میں بھی ایسا کاٹو گا ۔۔

آہان ہیر کو آرام سے بیڈ پر لٹاۓ اس کے گال پر اپنے دانت رکھتے بولا تھا ۔۔۔

خبردار آہان آپ نے کاٹا مجھے تو ماما کے پاس چلی جا۔۔۔

ہیر جو ڈرتی بول رہی تھی جب آہان نے اپنے لب گال سے لاتے اس کے لبوں پر رکھ دے تھے ۔۔۔۔

ہیر آہان کا لمس پاتی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔

اسے آہان کا ردعمل ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ایک چھوٹی سی گڑیا ہو ۔۔۔

م۔ماما بابا ۔۔۔

اس سے پہلے دونوں مدہوش ہوتے جب انہیں دروازے پر احمد کی آواز سنائ دی ۔

ارے بابا کی جان کیا ہوا میرے بیٹے کو ۔۔۔۔

آہان ہیر کو نرمی سے چھوڑے خودی دروازے کے پاس احمد کو پکڑے گود میں آٹھاۓ بولا تھا ۔۔۔

ہیر اپنا سرخ چہرہ لیے وہی کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔

میں نے مس کیا

آپ کو بابا ۔۔۔

احمد اپنے ننھے لب اس کے گال پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔

می ٹو میری جان ۔۔۔

آہان دیوانہ وار احمد کا چہرہ چومتے بولا تھا ۔۔۔

بابا گندے چاچو کب آۓ گے اور انیجل موم بھی نہیں آئ آپ مجھے لے جاۓ گے وہاں ۔۔۔۔

احمد اداس ہوتا بولا تھا ۔۔

و۔وہ تمہارے چاچو کام پر ہے جلدی آ جاۓ گے اور انیجل کو گھر بلا لے گے ہم ۔۔۔۔

آہان جلدی سے اپنی پریشانی چھپاتے بولا تھا ۔۔

ہیر یہ سب دیکھ چکی تھی لیکن چپ رہی ۔۔۔

چلو میرا لٹل چپمین بتاۓ گا دن کیسا گزارا ۔۔۔

آہان احمد کو لے بیڈ پر لیٹتے اپنی شرٹ اتارے اپنے مضبوط سینے پر احمد کو بیٹھاۓ بولا تھا ۔۔۔

ہیر نے نظریں چڑائ تھی آہان کا سینہ دیکھ کر ۔۔۔

آ۔آہان آپ کھانا کھا لیتے پہ۔۔۔۔

کھانا تو میں کھا چکا ہو بس آرام چاہے یہاں آو ۔۔۔

ہیر گھبراہٹ پر قابو پاتی بول رہی تھی جب آہان اسے گہری نظروں سے دیکھتا اس کا بازو پکڑے بولا تھا ۔۔۔۔

ہیر اس کی بات کا مطلب سمجھتی شرمائ تھی ۔۔۔۔

اب یہ حالت تھی ۔۔۔۔ہیر کی گود میں آہان کا سر تھا جبکہ آہان کے سینے پر ننھا سا احمد بیٹا بلکل ہیر کی طرح پٹر پٹر بول رہا تھا ۔۔۔

جس میں سے احمد اپنی باتوں سے صام کی شکایتں لگا رہا تھا ۔۔۔

جبکہ آہان احمد کے ساتھ ہیر کے ہاتھوں کا لمس بھی محسوس کر رہا تھا ۔۔۔

ہیر خوش تھی اس کی فمیلی ممکل ہو چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

کیا ہے آپ کام اپنا پورا نہیں کر سکتی حد ہے اگر نہیں کر سکتی تو جاۓ یہاں سے ۔۔

روحا اپنے سامنے ملازمہ کو غصے سے ڈانٹ رہی تھی ۔۔۔

س۔سوری می۔۔۔

کیا سوری آپ کو کام ہی نہیں کرنا آتا جاۓ یہاں سے ۔۔۔

ملازمہ جو ڈرتے بول رہی تھی جب روحا پھر چلائ تھی ۔۔۔

ارے بیٹا کیا ہوا ہماری بیٹی آج غصہ کیوں کر رہی ہے ۔۔۔

زیدی صاحب روحا کو اپنے سینے سے لگاۓ بولا تھا ۔۔۔

بابا یہ کام اچھا نہ۔۔۔

کیا ہوا ہے روحا تم یہاں دو ہفتوں سے رہ رہی ہو کیوں سکون نہیں ہے تمہیں ۔۔۔

میں دیکھ رہا ہو تم نے آفندی ہاوس بھی نہیں گی نہ ہی فون کیا پھر یہاں سارا دن کوئ نہ کوئ کام میں بزی رہتی ہو ۔۔۔

رات کو سونے کی بجاۓ لیپ ٹاپ یا ناولز پڑھنے لگ جاتی ہو ۔۔۔

ساری رات نہیں سوتی بات بات پر چڑتی ہو غصہ کرتی ہو ہوا کیا ہے ۔۔

یہ پانچویں ملازمہ ہے جو ان دوہفتوں میں چینج کی ہے میں نے تمہارے کہنے پر کہ یہ کام اچھا نہیں کرتی ۔۔

زیدی صاحب پریشان ہوتے بولے تھے ۔۔۔

کچھ نہیں بابا بس ویسے ہی احمد سے نہیں ملے شاہد اس لیے ۔۔

روحا اپنے آنسو کنٹرول کیے بولی تھی ۔۔۔

تو مل آو احمد سے جاٶ میں نے منع تو نہیں کیا گھومو پھرو تم ایسی حالت بنائ تو صام آ کر مجھے بولے گا ۔۔

زیدی صاحب سمجھ گے تھے وہ صام کے لیے اداس تھی بس بتا نہیں رہی تھی تبھی مسکراتے بولے تھے ۔۔۔۔

چلو جاٶ اچھا سا تیار ہو جاٶ احمد سے مل کر آو اور شاپنگ کرو جا کر اس کے لیے ۔۔

زیدی صاحب اسے بہلاتے بولے تھے ۔۔۔

جی بابا ۔۔۔

روحا رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ اس کا دل نہیں کر رہا تھا باہر جانے کو ۔۔

————————————————————

ہم جاۓ کیا ۔۔

روحا تیار سی شیشے کے سامنے کھڑی بولی تھی ۔۔۔

جہاں صام کی ہی شرٹ پہنے ساتھ جینز پہنے وہ بالوں کو پونی ٹیل کیے اپنے اوپر حجاب سیٹ کرتی بولی تھی ۔۔۔

بنا میک اپ آنکھوں کے نیچے پڑے حلقے زرد پیلا رنگ مرجھائ ہوئ لگ رہی تھی یہ تو وہ روحا نہیں تھی جو صام کے سامنے نڈر رہتی تھی ۔۔۔

ہم نہیں روے گے اب بلکل نہیں روے گے یہ آنسو کیوں آ رہے ہے ۔۔۔

روحا کو صام کی شرٹ سے اس کے کلون کی خوشبو آ رہی تھی تبھی وہ بے بس ہوتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

نہیں ہم روحا ہے روحا کبھی کمزور نہیں پڑے گی بھاڑ میں جاۓ صام ٹھرکی وحشی حیوان درندہ جنگلی ڈیش ڈیش دیکھے صام ہم آپ کو گالیاں دے رہے اب تو آۓ یہ کہنے روحا بے بی تم گندی ہو چکی ہو ۔۔۔

روحا غصے میں آتی روم کی ہر چیز گراتی چیختی بولی تھی ۔۔۔

کیونکہ اس نے اپنے روم کی ہر چیز پر صام کے الٹے نام رکھے تھے ۔۔۔

بیڈ کے دونوں سرہانے پر ایک پر وحشی ایک پر درندہ اور اپنے یوز کی ہر چیز پر صام کے الٹے نام رکھے تھے ۔۔۔۔

تاکہ کہی سے صام آ جاۓ اور اسے ڈانٹے اور روحا اپنے دل کا سارا غصہ اس پر اتار دے ۔۔۔۔

ہم جا رہے جنگلی وحشی حیوان ۔۔

روحا پورے روم کی بکھری حالت دیکھتی مسکراتی باہر چلی گی تھی جانتی تھی صام کو گندگی کتنی بری لگتی تھی ۔۔۔

————————————————————

ٹڈی وہ کام ہی نہ کیا کرو جو نہ ہو سکے کیسی دن یہاں سے گر کر مر جاٶ گی ۔۔۔

مستقیم گھر آتا روم میں آیا تھا جب اسے الماری سے لٹکتی ہوئ مرحا نظر آئ تھی ۔۔۔

تبھی مسکراہٹ روکے اس کمر سے پکڑتے اپنے شولڈر پر بیٹھا چکا تھا ۔۔۔

یہ شرٹ تمہاری

اوپر رہ گی تھی بس وہی نکال رہی تھی جب یہ ٹیبل گر گیا اور میں لٹک گی ۔۔۔۔

مرحا کی ٹانگیں مستقیم کے مضبوط سینے پر لگ رہی تھی جبکہ وہ بچوں جیسے سکون سے شولڈر پر بیٹھی مستقیم کی کیپ اتار رہی تھی ۔۔۔

جو اس نے یونفارم کے ساتھ پہنی تھی ۔۔۔

نہ کیا کرو کام میری جان ملازم ہ۔۔۔

میں بیوی ہو سانڈ اور مجھے خوشی ہوتی ہے ۔۔

سارا دن بور رہتی ہو ۔۔۔

مستقیم اپنے ہاتھوں سے اس کی ٹانگوں کو پکڑے اپنا چہرہ اوپر اٹھاۓ بول رہا تھا جب مرحا اپنا منہ اس کے سر پر رکھتی معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔

تو میری جان احمد ساتھ کھیل لیا کرو ۔۔۔

مستقیم جانتا تھا واقعی وہ بور ہوتی تھی کیونکہ جب تک وہ کسی کو تنگ نہ کر دیتی تھی تب تک اسے چین نہیں آتا تھا ۔۔

احمد ساتھ کھیلتی ہو لیکن جب وہ ہیر بھابھی کے پاس چلا جاتا تو بور فیل کرتی ۔۔۔۔

مرحا نے مستقیم کو اشارہ کیا تھا وہ اسے نیچے اتار دے ۔۔۔

اب کیا چاہتی ہے میری یہ ٹڈی ۔۔۔

مستقیم مرحا کو اتارے اپنے سامنے لاتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

میں چاہتی ہو ہمارے بھی بے بی ہو چھوٹے سے جن سے میں ہر وقت کھیل سکو میں انہیں تنگ کرو ۔۔۔

مرحا مستقیم کی شرٹ کے بٹن کھولے بولی تھی ۔۔۔

سیریسلی تم ایسا چاہتی ہو پہلے خود کو ہنیڈل کرنا سکھ لو ۔۔۔

مستقیم مرحا کی خواہش سنتا مسکراہٹ روکے بولا تھا ۔۔۔

کیونکہ اس کے لیے مرحا ہی ایک چھوٹی بچی تھی جس کا کام وہ خود کرتا تھا ۔۔۔

میں تمہاری بے بی ہو لیکن جو ہمارا بے بی ہو گا وہ ہم دونوں ہنیڈل کرے گے سانڈ ۔۔۔

مرحا اس کی شرٹ اتارے اپنی انگلیاں اس کے سینے پر پھیرتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ہمممم سوچو گا پہلے تم بتاٶ آج میری ٹڈی نے کیا کیا ۔۔

مستقیم مرحا کو اپنی گود میں لیتا بولا تھا ۔۔۔

جانتا تھا مرحا اسے اپنی اور ہیر کی شرارتیں بتاۓ بنا نہیں رہے گی وہی ہوا وہ ایک ریڈیو کی طرح شروع ہوتی بتا رہی تھی ہیر اور اس نے مل کر پلیس کے کتنے گارڈز کو تنگ کیا تھا ۔۔۔۔

کیا ہے سانڈ م۔میں آپ کو بتا ر۔رہی ا۔۔۔

شششش تم بتاٶ میں سن رہا ہو ۔۔۔۔

مرحا جو بولنے میں مگن تھی جب مستقیم نے اپنے لب اس کی گردن پر رکھے تھے ۔۔۔

جب مرحا بول رہی تھی جب مستقیم اپنی کہتا اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔

مرحا مستقیم کا ایسا دیوانہ وار روپ دیکھتی ہر دفعہ شرما جاتی تھی ۔۔۔

آج بھی شرماتے وہ اپنی آنکھوں کو بند کر چکی تھی ۔۔۔

————————————————————

کیا ہے اب جاٶ سارے یہاں سے ہم گھر آ جاۓ گے ۔۔

روحا شاپنگ کرنے مال جانے والی تھی جب اپنی گاڑی کے پاس بیس کے بجاۓ چالیس گارڈز دیکھتی غصے سے بولی تھی ۔۔۔

وہ تو ہٹا چکی تھی یہ دوبارہ کیوں آۓ یہی سوچ کر روحا بولی تھی لیکن سب گارڈز ایسے ہو گے تھے جیسے بت ہو ۔۔۔

روحا جانتی تھی یہ حرکت صام کی ہے تبھی پورے راستے روحا پہلے ان سب کو بلاوجہ گھوماتی رہی کہ شاہد سارے تھک جاۓ لیکن اسے فائدہ نہیں ہوا۔۔۔

تبھی مال آ گی وہ جس بھی شاپ پر جاتی لوگ اتنے گارڈز دیکھ کر خودی راستہ چھوڑ دیتے ۔۔

روحا خود تو تھک چکی تھی پورے مال کے دس چکر لگا کر لیکن وہ سارے گارڈز ڈھیٹ بنے ساتھ ساتھ گھوم رہے تھے ۔۔۔

اس نے جان بوجھ کر مال کے چکر لگاۓ تھے لیکن اس میں کامیاب نہ ہو سکی تھی ۔۔۔

تبھی تھکن سے چور ہوتی روحا جنجھلا کر بولی تھی ۔۔۔۔

میم آپ جوس پ۔۔۔

ہمیں نہیں پینا جوس جاٶ سارے یہاں سے ہمیں نہیں چاہے اتنی وحشت بھری سکیوڑٹی جس نے یہ سب کیا ہے اسے کہو یہاں آے تم سب بھاڑ میں جاٶ ۔۔۔

ایک گارڈ جوس کا کلاس لاتا بول رہا تھا جب روحا غصہ سے بولی تھی ۔۔۔۔

لیکن میم آپ کی حفاظت ب۔۔۔۔

ہم مر نہیں رہے یا سڑک پر دہشتگرد آ گے ہے ہم زندہ ہے دیکھو ہمارے ہاتھ پاٶں ہم چل سکتے ہے ایک منٹ کے اندر بھاگ جاٶ سارے ورنہ ۔۔۔۔

ورنہ میم ۔۔۔

گارڈ جب بول رہا تھا تبھی روحا ٹوکتی ان کو چل کر بتا رہی تھی ۔۔۔

سب سے ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو چکا تھا کیونکہ انہیں روحا کی حرکتیں کیوٹ لگ رہی تھی ۔۔۔

تبھی گارڈز بولے تھے ۔۔۔۔

ہم ۔۔ہم وہ گاڑی دیکھ رہے ہم اس کے نیچے آ جاۓ گے اگر آپ لوگ یہاں سے نہ گے ۔۔۔

روحا کو اپنے سامنے اتنی گارڈز کی فوج دیکھتی وحشت ہو رہی تھی ۔۔۔

اس کی حفاظت کرنے کے لیے صام ہی کافی تھا وہ یہ ٹبر لے کر کیوں گھومتی جب صام ان سب پر بھاری تھا اس کے لیے ۔۔۔۔

ج۔۔۔۔

چلو چلے یہاں سے ۔۔۔۔

اس سے پہلے گارڈ کچھ کہتا جب ان سب کے کان کے ئیر پیس پر ایک مخصوص آواز آئ تھی ۔۔۔

جب دیکھتے ہی دیکھتے وہ چونٹیوں کی مانند وہاں سے ایک منٹ میں غائب ہوۓ تھے ۔۔۔۔

جبکہ روحا ہکا بکا کھڑی تھی اسے سمجھ ہی نہیں آیا تھا ہوا کیا ہے ۔۔۔۔

————————————————————

ص۔صام ہم جانتے تھے آپ آۓ گے ۔۔۔

روحا خود کو تکلیف دیتی وہی دھوپ میں کھڑی ہو

چکی تھی جانتی تھی صام اسے دکھ تکلیف میں جب دیکھے گا فورًا آے گا ۔۔۔

تبھی اپنے پاس صام کے کلون کی خوشبو پاتی روحا نے چہکتے ہوۓ چہرہ اوپر آٹھاۓ دیکھا تھا ۔۔۔

مسز صام آفندی کیسی ہے آپ ۔۔۔

ڈ۔ڈیول۔ڈیول آپ یہاں ۔۔۔

روحا اپنے سامنے بلیک ہڈی پہنے بلیک ہی لونگ شوز پہنے چہرے پر بلیک رومال باندھے وہ اپنی سرخ گرین آنکھوں وحشت لاۓ بولا تھا ۔۔۔

جب روحا ڈرتے بولی تھی وہ تو صام سمجھی تھی ۔۔۔۔

جی ویسے مجھے نہیں پتہ تھا تمہارا شوہر اتنا غریب ہو جاۓ گا کہ تمہیں دھوپ میں کھڑا ہونا پڑے گا ۔۔۔

ڈیول ویسے ہی اسے دیکھتا چھتڑی کھولتا روحا کے اوپر سایہ لاتا بولا تھا ۔۔۔

ہمارے شوہر غریب نہیں سمجھے آپ آرمی آفسرر ہے آپ جیسے نکمے نہیں ہے ۔۔۔

روحا چھتڑی سے باہر نکلتی منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔

ہاہاہاہا سیرسیلی ۔۔۔

ڈیول روحا کی حرکت انجواۓ کرتا قہقہ لگایا تھا ۔۔۔

ص۔صام۔۔۔۔

ڈیول کا ایسا قہقہ سنتے روحا جٹھکے سے واپس موڑتی حیرت سے بولی تھی ۔۔۔

ارے مسز صام کیا ہوا میں تمہارا وہ نکما شوہر نہیں ہو ۔۔۔

ڈیول ویسے ہی ساتھ چلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

آپ ہو بھی نہیں سکتے انہہ۔۔۔

روحا برا سا منہ بناتی آگے جاتی بولی تھی ۔۔

ہاں کہاں وہ امیرزادہ کہاں میں غریب ۔۔۔۔

ڈیول ویسے ہی ساتھ جاتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

اچھی بات ہے آپ نے مان لی آپ ہمارے شوہر جیسے بھی نہیں ہو سکتے وہ تو اتنے اچھے ہے ۔۔۔

روحا بھی تحمل سے بولی تھی ۔۔۔

ویسے آپ نے یہ چہرہ کیوں چھپایا ہوتا ہے ۔۔۔

اچانک روحا روکتی بولی تھی جب پیچھے آتے ڈیول سے ٹکڑاتے ٹکڑاتے بچی تھی ۔۔۔

میں بہت خوبصورت ہو تبھی لڑکیاں دیوانی ہو جاتی ہے ۔۔۔

پیسنے سے بھیگی روحا کو دیکھتے ڈیول سکون سے بولا تھا ۔۔۔

کوئ نہیں کہہ سکتا تھا جو انسان اتنے سکون سے کھڑا نرمی سے بات کر رہا تھا وہ ابھی چالیس لوگوں کا قتل صرف دس منٹ میں کر کے آیا تھا ۔۔۔

ہاہایہاہا خوبصورت آپ نہیں خوبصورت ہمارے شوہر ہے آپ تو ویسے ہو ہی نہیں سکتے جانتے ہے ان کے سکس پیک ہے ڈمپل ہے غصہ وحشت سب سے بڑی بات ٹھرکی بھی ہے ۔۔۔

آپ کے پاس کیا ہے سواۓ ان سڑی ہوئ آنکھوں کے جہاں انجانا سا خوف آتا ہے دیکھ کر ہمیں ۔۔۔

روحا قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔

ڈیول نے دیکھا تھا روحا نے قہقہ لگایا تھا لیکن اس کی آنکھیں آنسوں سے بھر چکی تھی ۔۔۔

میرے پاس انیجل ہے ۔۔۔

ڈیول کھوۓ ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔

مطلب آپ کی بیوی کیسی رہتی آپ جیسے حیوان کے ساتھ ہاےےےے صام ایسے ہوتے ہم کبھی نہ رہتے ۔۔۔

روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔

ڈیول اس کی ہر بات پر صام ایسا ہوتا صام ویسا ہوتا سن رہا تھا ۔۔۔

جاٶ گھر اب شاہد تمہارا شوہر ویٹ کر رہا ہو۔۔۔

ڈیول بات بدلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

صام یہاں نہیں ہے آئیڈیا آپ ہمیں مارے ۔۔۔

روحا پہلے اداس ہوتی بول رہی تھی جب کچھ سوچتی چکہتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

کیا ۔۔۔

ڈیول نے حیرت سے پوچھا تھا ۔۔

ارے ہمیں نقصان پہنچاۓ صام آ جاۓ گا وحشی بن کر ۔۔

روحا معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔

جاٶ گھر میری انیجل مجھے مار دے گی اگر تمہیں نقصان دیا اتنی پیاری بیوی ہے میری اس ٹھرکی صام کی وجہ سے انیجل مجھ سے ناراض ہو جاۓ گی ۔۔۔

ڈیول نے دیکھا روحا نہیں مان رہی تھی جلدی سے اپنی ہیوئ بائیک پر بیٹھتے وہ غصے سے غراتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔

انہہ ڈرپوک ڈیول ہمارے صام سے ڈر گے ۔۔

روحا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولی تھی ۔۔۔

———————————————————–

ارے بلیک بیوٹی کہاں رہ گی تھی ۔۔

روحا بیزار سی شکل بناۓ گھر انٹر ہوئ تھی جب سامنے شعیب کو دیکھتے منہ بنایا تھا ۔۔۔

ہم شاپنگ پر گے تھے ۔۔۔

روحا صوفے پر بیٹھتی تھکے تھکے انداز سے بولی تھی ۔۔

کیا ہوا اداس ہو ۔۔

شعیب اس کا بھیگا چہرہ دیکھتے ہوس لیے بولا تھا ۔۔۔

نہیں بس ویسے ہی تم کیوں آۓ ہو ۔۔۔

روحا کو آج الجن ہو رہی تھی اس کی نظروں سے تبھی وہ منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔

میں نے سنا ہے تمہیں پشتو آتی ہے زرا مجھے بھی بول کر سناٶ ۔۔

شعیب تھوڑا سا روحا کے قریب آتا بولا تھا ۔۔

ہاں ضرور ہمیں صام نے سکھایا تھا ہم بولتے ہے ۔۔

روحا ملازمہ سے پانی کا کلاس لیتی پیتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

بابا کدھر ہے ۔۔۔

روحا نے ملازمہ سے پوچھا تھا ۔۔۔

وہ سر سو رہے ۔۔

ملازمہ کہا کر چلی گی تھی ۔۔۔

———————————————————

ستاہ شکل دہ کدو پشان دے۔

(تمہاری شکل کدو جیسی ہے )..

تہ سہ یے دہ کرونے جعلی دوائی .

(تم کیا ہو ایک کورنا کی جعلی ویکیسن )…

ستہ تہ گورم نو مالہ اُلٹے رازی ۔

(تمہاری طرف دیکھو میں مجھے الٹی آتی ہے )…

تہ زماہ بدی شی ..

(آی ہیٹ یو )

وایہ زہ ستاہ بکواس نہ آورے دل غواڑمہ۔

(بولتے جاٶ میں آپ کی بکواس نہیں سنا چاہتی )…

ڈوبہ شہ مڑہ شہ دہ کرونے جعلی دوائی۔

(ڈوب کے مر جاٶ تم کورنا کی جعلی ویکیسن )..

روحا بڑے پیار سے بول رہی تھی اسے مطلب کا نہیں پتہ تھا ۔۔۔

یہ پشتو کے ہاتھ پاٶں کیوں توڑ رہی ہو بلیک بیوٹی مطلب جانتی ہ۔۔۔۔

یہ تمہاری تعریف تھی صام نے سکھائ ہے کیا پسند نہیں آئ تمہیں ۔۔۔

شعیب غصہ کنٹرول کیے بول رہا تھا جب روحا خوشی سے بولی تھی ۔۔۔

کیا صام صام لگا رکھی ہے بھول جاٶ اسے اب ۔۔۔

اچانک شعیب اپنے حیوانی روپ میں آتے روحا کو کندھوں سے پکڑے جنجھوڑتے ہوۓ بولا تھا ۔۔

جب روحا ک حجاب کھول کر نیچے گرا تھا ۔۔۔

کیا بے ہودگی ہے شعیب ۔۔۔

چٹاخخ۔۔۔

روحا طش میں آتی اسے تھپڑ مارتی بولی تھی ۔۔۔

بس بہت ہوا تم صرف میری ہو بلیک بیوٹی بہت جلد تم سے شادی کرو گ۔۔۔

ہم شادی شدہ ہے اتنا کمزور مت سمجھے مسز صام آفندی ہے ایک آرمی آفسرر کی بیوی ۔۔۔

شعیب جو بہکا ہوا اپنا چہرہ روحا کی گردن میں چھپانے والا تھا جب روحا اسے دھکا دیتی طش سے چلائ تھی ۔۔۔۔

کہاں کا صام مر چکا ہے دو ہفتے پہلے ۔۔۔

شعیب مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ب۔بکواس ہے یہ جھوٹ ت ۔۔۔

ہاہاہااہاہ تمہیں پتہ نہیں کیا وہ مر چکا ہے پوچھو جا کر اپنے ان دونوں لالہ سے جنہوں نے خود دفنایا ہے اپنے ہاتھوں سے ۔۔۔

روحا کا دل بند ہوا تھا صام کا سن کر لیکن ہمت جمع کرتی وہ بول رہی تھی جب شعیب قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

چچچچ وطن کی حفاظت کرتا دنیا سے ہی چلا گیا ہاےےےے اب تم صرف میری ہو بہت جلد میں اپنے پاس لے جاٶ گا بلیک بیوٹی ۔۔۔۔

روحا ہکا بکا زمین پر بیٹھی تھی جب شعیب قریب بیٹھتا آرام سے بولتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔

نہی۔نہین ۔نہیں صامممممممممم صامممممم۔۔۔

نہیں ہمارے دل کی دھڑکن چل رہی ہمیں سانس آ رہی تو یہ سب بکواس ہے یہ سب صام ہمیں نہیں چھوڑ سکتے ابھی تو ہم نے آپ کو بتانا تھا ہمیں عشق ہے آپ سے صامممم۔۔۔

روحا دھاڑے مارتی اپنے بال نوچتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔

کبھی وہ اپنی دھڑکن چیک کرتی تو کبھی اپنی سانسیں جو کہ ٹھیک چل رہی تھی ۔۔۔۔

اتنی آسانی سے تو نہیں چھوڑ سکتے آپ صام ہم بھی وہی آۓ گے آپ کے پاس ہمیں یہاں وحشت بھری دنیا میں نہیں رہنا جہاں درندے ہو ۔۔۔

روحا جلدی سے فروٹ باسکٹ سے چھڑی آٹھاتی اپنی کلائ پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔

ارے میری جان تو شیرنی ہے کبھی کمزور نہیں ہو سکتی میری انرجی ہو تم ۔۔

اس سے پہلے روحا چھڑی سے اپنی کلائ کاٹتی جب اسے صام کی گونج اپنے کانوں سنائ دی تھی ۔۔۔

————————————————————

ارے اندھی ہو کیا جانور ابھی گر جاتی میں ۔۔

کومل جو تیار سی سڑھیوں سے آ رہی تھی جب ہال میں انٹر ہوتی بکھری حالت میں روحا کو اپنے پاس آتی دیکھ بولی تھی ۔۔

جو اس سے ٹکڑاتی اوپر چلی گی تھی بنا سنے ۔۔۔

پاگل لڑکی اب صام کا افسوس کرنے آئ ہو گی ۔۔

کومل برا سا منہ بناتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔

———————————————————–

لالہ ہم نے صام سے ملنا ہے ۔۔

روحا اسٹڈی روم میں انٹر ہوتی مستقیم اور آہان کو دیکھتی بولی تھی ۔۔

انیجل تم یہاں آو ہ۔۔۔

آہان مستقیم روحا کی ایسی حالت دیکھتے بولے تھے ۔۔۔

جو بکھری ٹوٹی سی روحا کھڑی تھی ۔۔

ہم نے صام سے ملنا ہے ابھی اور اسی وقت ہم جانتے ہے آپ لوگ جانتے ہے وہ کہاں ہے ۔۔۔

روحا بات کاٹتی غصہ سے دانت پیستے بولی تھی ۔۔۔

دیکھو انیجل ہم صبح لے کر جاۓ گ ۔۔۔

مستقیم نے اسے بہلانا چاہا تھا جب روحا اپنی کلائ پر چھڑی رکھتی غصہ سے دھاڑی تھی ۔۔۔

ابھی اور اسی وقت ہم نے صام سے ملنا ہے ورنہ ہم نے جان دے دینی اپنی ۔۔۔

روکو انیجل ہوش سے کام لو صام م۔۔۔۔

لالہ۔۔۔۔ہمیں صام۔سے ملنا ہے ابھی ۔۔۔۔

آہان جو بول رہا تھا تبھی روحا طش میں آتی اپنی کلائ کاٹتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

جب اپنے ہی خون دیکھ کر روحا کی سانسیں روکی تھی ۔۔۔

انیجل یہ کیا کیا پاگل لڑک۔۔۔

لالہ صام چاہے ابھی اور اس۔اسی و۔۔۔۔

مستقیم آہان نے جلدی سے روحا کے پاس جاتے اس کی کلائ پکڑے کہا تھا جب روحا روتے ہوۓ کہتی ان کی باہوں میں جھول چکی تھی ۔۔۔

کیا کرے ۔۔

مستقیم نے پریشانی سے پوچھا تھا ۔۔

انیجل کو وہاں بھیج دیتے ہے خودی دیکھے گی تو اس کے دل کو صبر آ جاۓ گا ۔۔۔

آہان نے روحا کو گود میں اٹھاۓ نیچے کی طرف بھاگا تھا جبکہ اس کی کلائ سے خون مسلسل نکل رہا تھا ۔۔۔

دیکھو انیجل صام ادھر

ہے ہمت ہے تو مل لو جا کر ۔۔۔

مستقیم آہان نے رات کے اندھیرے میں ایک سنسنان جگہ پر گاڑی روکتے کہا تھا ۔۔۔

روحا کی کلائ پر پٹی ہو چکی تھی ۔۔

آ۔آپ نہیں آے گے ۔۔

روحا گاڑی کے اندر ہی جگہ دیکھتی ڈرتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔

نہیں تم جاٶ نکلو باہر ۔۔۔

مستقیم اسے باہر نکالتا جلدی سے گاڑی بھاگا چکا تھا ۔۔۔

جبکہ روحا اپنے سامنے رات کے اندھیرے میں ڈوبے قبرستان کو دیکھتے ڈری تھی ۔۔۔۔

صا۔م۔صام م۔۔۔۔

روحا اندر جاتی انتی قبریں دیکھتی روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔