339.3K
50

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ehd-E-Wafa (Episode 7)

Ehd-E-Wafa By Mehar Rania

خ۔خون۔خون صام وہاں تھا ۔۔۔۔

روحا ہمت کرتی بامشکل گاڑی تک صام کے ساتھ آئ تھی پر جیسے ہی وہ گاڑی کے پاس پہنچی تبھی گھبراتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

ہاں دیکھ لیا تھا اب گھبرا کیوں رہی ہو چلو گاڑی میں بیٹھو ۔۔۔

صام آنکھوں میں سردپن لاۓ بولا تھا ۔۔۔۔

ن۔نہیں ۔و۔خو۔ن خون ہمیں چکر آ رہ۔۔۔۔۔

روحا روحا شیٹ یار پھر سے بے ہوش ہو گی ۔۔۔۔

روحا نے اکھڑتی سانسوں کے درمیان بول رہی تھی جب چکرا کر صام کے اوپر گری ۔۔۔۔۔

ہاے کتنے چھوٹے دل کی ہے پتہ نہیں کیوں ڈر جاتی ہے ۔۔۔۔

صام روحا کو گود میں آٹھاۓ گاڑی میں بیٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

———————————————————–

آہہہ تم ڈرا دیا مجھے۔۔۔

ہانیہ جو کچن میں کھڑی رات کا کھانا بنا رہی تھی جب منان نے اسے بیک ہگ کیا تبھی وہ چلاتے ہوۓ بولی ۔۔۔

کیوں میری شکل کیا اتنی ڈروانی ہے ۔۔۔۔

منان اپنے لب ہانیہ کے کان پر رکھتا سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔

د۔دور رہو کھانا بنا لو تم جلدی آ گے ۔۔۔

ہانیہ اسے گھبراتے دور کرتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں سوچا اپنی پیاری سی بیوی سے بایتں کر لو میں اور یہ کھانا چھوڑو میں باہر سے لے کر آیا ہو چلو پہلے تھوڑی باتیں کر لے ۔۔۔۔

منان ہانیہ کو گود میں آٹھاۓ روم کی طرف لے کر جاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

جبکہ ہانیہ شرم کے مارے چپ ہو گی تھی ۔۔۔

————————————————————

میں لیپ ٹاپ یوز کیسے کرتے ہے وہ سکھا رہی تمہیں اور تم مجھے دیکھی جا رہے ہو ۔۔۔۔

یافی زرجان کی طرف گھورتی ہوئ بولی جو صرف اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔

ہاں تو سکھ ہی رہا ہو ویسے تم کتنی پیاری ہو یافی ۔۔۔۔

زرجان یافی کو کمر سے پکڑتا اپنے قریب لاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

یہ کیسا سکھنا ویسے تم اتنے بڑے بزنس مین ہو کیا لیپ ٹاپ یوز نہیں کرتے ۔۔۔

یافی حیران ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاں تو مجھے یوز کرنا آتا ہے یہ تو تمہارے پاس بیٹھنے کا بہانہ ہے ۔۔۔۔

زرجان اپنے لب یافی کے کان کی لو پر رکھتا بہکتا ہوا بولا ۔۔۔۔

لیکن جان میری پھر وہی بات تم اچھی لڑکی سے شادی کر لو میں تمہارے قابل ہرگز نہیں ہو ۔۔۔

میں یہ نکاح کبھی نہ کرتی اگر صام نہ کہتا مجھے ۔۔۔۔

یافی اچانک اس کی گرے آنکھوں میں دیکھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔۔

اگر میں کہو مجھے یہی لڑکی چاہے تھی پھر یافی تمہارے علاوہ مجھے کوئ بھی لڑکی نہیں چاہے تھی ۔۔۔۔

زرجان یافی کی گردن پر لب رکھتا ہوا بولا ۔۔۔۔

لی۔۔۔۔

اچھا تمہیں پتہ میں ترکی گیا تھا اور اب مجھے پتہ چلا میری بیوی کو ترکی جانے کا کتنا شوق ہے ۔۔۔۔۔

اس سے پہلے یافی کچھ کہتی جب زرجان بیڈ پر اسے اپنے ساتھ لیٹاتا ہوا بات بدلتے بولا تھا ۔۔۔۔

ہاں مجھے بہت پسند ہے ترکی پر کبھی گی نہیں ا۔۔۔۔

یافی بھی اس کے سینے پر سر رکھتی مسکراتی ہوئ ترکی کی باتیں کرنے لگ گی تھی ۔۔۔۔۔

جو کہ زرجان سکون سے مسکراتا ہوا اسے سن رہا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

اب ہم ٹھیک ہے آپ جاۓ یہاں سے ۔۔۔

روحا روم کے بیڈ پر لیٹی ہوئ تھی جب اپنی آنکھیں کھولتی ہوئ وہ اپنے قریب بیٹھے صام کو دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔۔

نہیں تمہاری طیعبت نہیں ٹھیک اور مجھے لے کر جانا ہی نہیں چاہے تھا آج کی رات میں تمہارے ساتھ لیٹو گا ۔۔۔۔

صام روحا کی طرف دیکھتا بیڈ پر لیٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

کس خوشی میں ٹھرکی چلے جاۓ یہاں سے ورنہ ہم غصہ کرے گے ۔۔۔۔

روحا بھک سے بیڈ سے آٹھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

یار بیوی ہو میری ا۔۔۔۔

ہاہاہاہاہہا کیا بیوی اوووو وہ ہ ہ مسٹر صام آفندی کو آخرکار یاد آ ہی گیا ہم بیوی ہے آپ کے ۔۔۔۔

روحا صام کی بات کاٹتی قہقہ لگاتی تالیاں بجاتی ہوئ طنز کرتی بولی ۔۔۔۔۔

کیا بکواس ہے میں کون سے بھولا تھا تم بیوی ہو کہ نہیں سب یاد ہے مجھے اب اتنا بھی غافل نہیں ہو میں مس کالی ۔۔۔

صام غصہ سے بیڈ سے اٹھتا روحا کے پاس جاتا بولا تھا جو آئنیہ کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کا جوڑا بنا رہی تھی ۔۔۔۔۔

لیکن آپ کو تو یہ کالی بیوی پسند نہیں ٹھرکی آپ کے لیے وہ میک اپ کی دوکان ٹھیک ر۔۔۔۔۔

اگر شکل اچھی نہیں تو بات ہی اچھی کر لیا کرو ۔۔۔سوچ سمجھ کر بولا کرو ورنہ جانتی ہو میرے غصہ کے بارے میں ۔۔۔

روحا جو بول رہی تھی تبھی صام روحا کا ہاتھ پکڑتا اپنی طرف رخ کرتا غصہ سے بولا تھا ۔۔۔۔

ہاں تو کون سا غلط کہہ رہے ہم آج یاد بھی آپ کو تب آیا جب ہمارا ہاتھ اس لڑکے کے ہاتھ میں تھا ورنہ آپ ۔۔۔۔

شششششش اتنا بولو جیتنا سہہ پاٶ ۔۔۔۔

روحا جو پھر بول رہی تھی جب صام نے غصہ سے اسے دیوار کے ساتھ پن کرتے کہا تھا ۔۔۔

روحا اس کی گرین سرخ آنکھیں دیکھتی ایک منٹ کے لیے

چپ ہو گی تھی ۔۔۔۔

بیوی ہو میری تمہیں چھونے کا حق صام آفندی کو ہے ابھی تو ہاتھ کاٹا تھا تم نہ ہوتی تو آنکھیں نوچ لیتا میں ۔۔۔۔

صام روحا کے گال کو سہلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

حیوان ہے آپ کوئ ایسا بھی کرتا ہے ہاتھ ہی کاٹ دیا آپ نے ۔۔۔

زرا رحم نہیں آیا آپ کو ۔۔۔

اور کیا بیوی بیوی لگا رکھی ہے نہیں ہے ہم آپ کی بیوی نہ ہی آپ شوہر ۔۔۔۔

روحا صام کو دھکا دیتی طش سے چلائ تھی ۔۔۔۔

““ہوتے ہی تیری شام تیری گلیوں میں آنا جانا “

”ایسے ہی چلتا رہے یہ تیرا میرا ملنا ملانا ““💓

“اب تک رہے اکیلے ہم اس زمانے میں “

“کتنے موسم لگے ایک تم کو پانے میں “💓

““مدہوش مجھے نہ کر دینا ہونٹوں کی راحت سے 💋

”خالی خالی دل کو بھر دے گے محبت سے “

“خالی خالی دل کو بھر دے گے محبت سے ”😍

یہ تمہاری آنکھیں میری ہے ۔۔۔۔

صام دوبارہ روحا کے قریب جاتا اس کی آنکھوں پر لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔

ص۔ا۔

یہ گال کتنے نرم ہے ۔۔۔۔

روحا جو گھبراتے بولنے والی تھی جب صام نے اپنے لب اس کے گال پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔

صام د۔ور رہے ہم سے ورنہ ہم مارے گے ۔۔۔۔۔۔

روحا کی جان تب نکلی جب صام کے لب اسے اپنی تھوڑی پر محسوس ہوۓ تبھی ہکلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔۔

صام ٹھرکی د۔دور ۔رہے ۔ہم۔ب۔۔۔۔

روحا ایک دفعہ پھر ہمت جمع کرتی بول رہی تھی جب صام بنا کچھ سنے اس کے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

روحا تو تڑپ ہی گی تھی صام کے جلا دینے والے لمس سے جو اسے بڑی نرمی سے چھوم رہا تھا ۔۔۔۔۔

چٹاخ ۔۔۔۔

کیوں کر رہے ایسا گن آتی ہے ہمیں آپ کی قربت سے جو ہر لڑکی کے ساتھ کرتے وہی میرے ساتھ کر رہے ہے ۔۔۔۔

آج تین سال بعد یاد آیا بیوی ہے ہم تب بیوی یاد نہیں آئ تھی جب اپنے مقصد کے لیے نکاح کر کے چلے گے تھے ۔۔۔۔

کبھی پوچھا تک نہیں تھا ہمیں کہ ہم کہاں ہے جی رہے یا مر گے ۔۔۔۔

یہ نکاح اگر ہم نے کیا تو ماما کی وجہ سے ورنہ آپ ہمارے شوہر نہیں ہے ۔۔۔۔

ہوس پوری کرنی ہے تو بیوی یاد آ گی آپ کو ۔۔۔

روحا صام کو خود سے دور کرتی تپھڑ مارتی ہوئ پھٹ پڑی تھی ۔۔۔۔

صام غصہ سے اپنی گرین آنکھیں لے گھور رہا تھا ۔۔۔۔

کیوں تم یہ ہوس سمجھتی ہو جب۔۔۔۔

آپ جیسے مردوں کو سب ہوس پوری کرنی آتی ہے جیسے میری آپی کے ساتھ ہوا اور آج وہ ہمارے ساتھ نہیں رہی ۔۔۔۔

صام جو اسے دیکھتا بول رہا تھا جب روحا پھر طش سے چلائ تھی ۔۔۔۔

دیکھو روحا سارے مرد ایک جیسے نہیں ہوتے تم تو بیوی ہو میری ا۔۔۔۔

ہوس ہی پوری کرے گے آپ بھی جس دن یہ کام ہوا اسی دن بھول جاۓ گے آپ بیوی بھی تھی ۔۔۔۔

جیسے میری آپی زندہ نہیں رہی ویسے ہی ہمارے ساتھ ہو گا ہم جانتے ہے ۔۔۔

صام جو اسے کندھوں سے پکڑتا سمجھا رہا تھا جب روحا روتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

کیا ہوس ہوس لگا رکھی ہے جانتی ہو اس کا مطلب بھی بیوی ہو تین سال ہو گے ہمارے نکاح کو حق رکھتا ہو میں تم پر لیکن آج تک تمہارے قریب نہیں آیا میں ورنہ تم روک نہیں سکتی مجھے ۔۔۔۔۔

اگر تمہاری بات میں سن لیتا ہو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم فضول بولتی رہو ایک صرف تم ہو مس لائف جو صام آفندی کو چھو سکتی ہے ۔۔

ورنہ کسی کی اتنی اجرات نہیں کوئ تپھڑ بھی مار دے مجھے ۔۔۔

صام روحا کا چہرے ہاتھوں میں دبوچتا چبا چبا کر بولا تھا ۔۔۔

ہاں تو آپ بھی مار لیے ہمیں ہم نے جو کہنا تھ۔۔۔۔

روحا جو نڈر ہوتی ویسے ہی بول رہی تھی جب صام نے دوبارہ اس کے ہونٹوں کو قید کیا تھا ۔۔۔

اس دفعہ روحا کو صام کے عمل میں شدت محسوس ہوئ تھی ۔۔۔۔

چھو۔ڑ۔ے کتنی دفعہ کہا ۔گن۔۔۔

روحا جلدی سے ہمت جمع کرتی دور کرتی بامشکل ایک سکینڈ کے لیے بول پائ تھی جب صام نے دوبارہ اسے اپنے قابو میں کیا تھا ۔۔۔۔

بے بس ہوتی روحا نے صام کے شولڈر پکڑے تھے ۔۔۔۔

تم کیا سمجھی تھی تمہیں یہ تپھڑ مارو گا جیسے تم نے مجھے مارا ۔۔

غلط مس لائف میری قربت سے تمہاری جان جاتی ہے بہت رہ لیا مجھ سے دور تم نے اب اپنی خیر مناٶ کل سے میں تمہیں اپنی اس قربت سے پل پل مارو گا ۔۔۔۔

ایک کس تو تم سے برداشت نہیں ہوئ سوچ آگے کیسے سہہ پاٶ گی مجھے ۔۔۔۔

تیاری کرو صبح تمہاری رخصتی ہے کالی چاکلیٹ ۔۔۔

صام روحا کو نرمی سے چھوڑا اس کے لبوں سے خون صاف کرتا بہکے ہوۓ انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔

روحا جو گہری سانس لیتی اسے ہی گھور رہی تھی ۔۔۔۔

ڈرتے نہیں ہے ہم آپ سے سمجھے بڑا شوق ہے رخصتی کا کرے پر میری ایک شرط بھی پوری کرے ۔۔۔۔

روحا اسے دور کرتی نفرت سے چلاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔۔

شرط تمہاری پوری ہو یا نہیں لیکن کل رخصتی ہو گی ورنہ اٹھا کر لیے جاٶ گا ۔۔۔۔

صام روحا کو باہوں میں بھرتا بیڈ پر بیٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

گھیٹایا ٹھرکی ۔۔۔۔

روحا نفرت سے منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔۔

وہ تو کل پتہ چلے گا مس کالی میں کتنا ٹھرکی ہو ۔۔۔۔

تب تک جیتنا سونا ہے سو لو ۔۔۔۔

صام دوبارہ روحا ککو زبردستی کس کرتا آنکھ ونک کرتا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ روحا اب سوچ رہی تھی آگے کیا ہو اس کے ساتھ ۔۔۔

——————————————————–

اب بتاٶ کون ہو تم ۔۔۔

ہانیہ منان کے ساتھ بیڈ پر بیٹھتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

میں ڈی ایس پی منان کھوکھر ہو ۔۔۔۔

یہ میرا ایک میشن تھا جس کو پورا کرنا تھا ۔۔۔۔

مطلب۔۔۔

ہانیہ نے شوک ہوتے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔۔

میرے پاپا ماما جرمنی رہتے ہے شروع سے ہم کچھ عرصہ پاکستان رہے تھے ۔۔۔

پر واپس چلے گے پر مجھے پاکستان سے محبت تھی میں نے یہاں پولیس فورس جوائن کر لی ۔۔۔

کچھ عرصہ پہلے پتہ تھا تمہاری یونی میں ایک ایسا گروہ ہے جو خواجہ سراوں کو پکڑ کر باہر کے ممالک کو بیج دیتے ہے ۔۔۔۔

بس انہیں پکڑنے کے لیے ایسی لک بنائ تھی ۔۔۔

منان مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

سچی آپ خواجہ سرا نہیں ۔۔۔

ہانیہ آنکھوں میں چمک لاتی مسکراتی اس کے ہاتھ پکڑتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاں میری مدد تمہارے بابا نے کی تھی پر اب ان کی جان خطرے میں تھی کیونکہ وہ گروہ ابھی تک نہیں جانتا میں خواجہ سرا نہیں ہو ۔۔۔

تبھی انہیں سف ہاوس رکھا ہے تمہاری وجہ سے پریشان تھے تو میں نے کہا میرے ساتھ نکاح کروا دے ویسے بھی مجھے ہانیہ سے محبت ہے ۔۔۔۔

منان ہانیہ کی گال سہلاتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

م۔مح۔محبت واقعی کیا لیکن میرا چ۔۔۔۔

ہانیہ جو ہکلاتے ہوۓ بول رہی تھی جب منان نے اپنے لبوں میں اس کے لب قید کیے ۔۔۔

ہانیہ کو حیران ہو گی تھی ہوا کیا تھا تبھی منان کے شولڈر مضبوطی سے پکڑے تھے ۔۔۔

“بے موسم بارشوں تیرے سنگ ہی بھیگنا ہے “

“بے موسم بارشوں تیرے سنگ ہی بھیگنا ہے “😍

“جیتنی بھی سانسیں میری سب تیرے سنگ جینا ہے 😍

بہت محبت کرتا ہو تم سے ہانیہ اور تمہارا چہرہ بلکل ٹھیک ہے آئنیدہ ایسی بات مت سوچنا ۔۔۔۔

منان ہانیہ کو نرمی سے چھوڑتا اس کے بھیگے لب پر انگوٹھا پھیرتے ہوے بولا تھا ۔۔۔۔

ج۔جی۔۔۔

ہانیہ گہرا سانس لیتی اتنا بول سکی ۔۔۔۔

———————————————————–

کتنا ذلیل انسان ہے ہو گا امیرزدہ اس کا مطلب یہ نہیں کسی کا بھی ہاتھ کاٹ دے ۔۔۔۔۔

ہے کیا اس کالی میں جو میرا ہاتھ تک کاٹ دیا ۔۔۔۔

وہ لڑکا اپنے کاٹے ہاتھ کو دیکھتا درد چلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ابے کون ہے اب یہاں تنگ م۔۔۔۔

ک۔کو۔ن۔ہو۔

وہ اپنے سامنے بلیک ہڈی پہنے بالوں کو پونی میں قید کیے اپنی سرخ گرین آنکھوں سے آگ اگلتا ہاتھ میں ایک چوڑی کو گھومتا اس کے سامنے کھڑا تھا جب وہ لڑکا بولا تھا ۔۔۔۔

تیری موت ہو میں ویسے صام آفندی نے آدھا کام کیا یار ہاتھ کاٹ دیا ۔۔۔۔

آنکھیں بھی نوچنی چاہے تھے ۔۔۔۔

جس طرح تو میری انیجل کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

ڈیول اپنی گردن کو ٹیرھا کرتے بولا تھا ۔۔۔

م۔ط۔ل۔وہ ایک کالی لڑکی او ۔۔۔۔

لڑکے نے ہکلاتے ہوۓ بولا تھا جبکہ اس کی سانس تک اٹک گی تھی ۔۔۔۔

پہلی بات میں جانتا ہو تمہاری یہ غلیظ نظریں میری انیجل کے جسم پر کیسے گھوم رہی تھی ۔۔۔

دوسری بات وہ کالی نہیں کالے تو تم جیسے لوگ ہو جو ہر کسی پر ہوس بھری نظر رکھتے ہو ۔۔۔

خیر لمبی بات نہیں کرنی ان آنکھوں سے دیکھا تھا تو نے ویسے آج ڈیول خون نہیں کرے گا ۔۔۔

میری انیجل ڈر گی بہت آج ۔۔۔

ڈیول لڑکے کی آنکھوں پر ہاتھ میں پکڑی چوڑی کو اس کے چہرے پر پیھرتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

معا۔ف کر د۔۔۔۔۔

انیجل صرف ڈیول کی ہے ڈیول انیجل کا سایہ بن کر گھومتا ہے چاہے میں دیکھائ نہ دو پر رہتا اس کے پاس ہی ہو ۔۔۔۔

امید ہے اچھی نیند آۓ گی ۔۔۔۔۔

اسے جو چہرے پر جلن محسوس ہوئ تبھی ڈرتا بول رہا تھا ۔۔۔

جب ڈیول وہاں سے باہر جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

آہہہہہ آہہہہہہہ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔۔

ڈیول ابھی باہر نکلا تھا جب اسے لڑکے کے چلانے کی آواز آئ تھی ۔۔۔۔

تبھی قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

انیجل اگر دن کی روشنی ہے تو ڈیول رات کی اندھیرے والی موت ۔۔۔۔

جب بھی کوئ میری انیجل کو ایسے دیکھے گا یا چھوۓ گا ڈیول تب قہر بن کر برسے گا سب پر ۔۔۔۔

وہ طنزیہ مسکراہٹ لاتے جیسے آیا تھا ویسے ہی بھاری قدموں سے چلا گیا تھا ۔۔۔۔

جبکہ پورا ہاسپٹل کا سٹاف ڈر وخوف میں مبتلا ہو چکا تھا لڑکے کی ایسی حالت کی کس نے تھی ۔۔۔

لڑکا کا ایک ہاتھ کاٹا ہوا جبکہ اس کی دونوں آنکھیں نکل کر گود میں گری ہوئ تھی ۔۔۔

جو کہ ایک خوفناک منظر پیش کر رہا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

تم نے میری عزت خراب کی ۔۔۔

کتنا تڑپی میں روی منت کی پر نہیں تم نے بس اپنی ہوس پوری کی ۔۔۔

تمہیں میں ایک اچھا انسان سمجھتی تھی تو تم حیوان سے بھی بڑ کر ہو ۔۔۔۔

نفرت ہے مجھے تم سے ایسے ہی تڑپو گے ۔۔۔۔۔

آہہہہہ آہہہہہہ نہیں مجھے معاف کر دو م۔۔۔۔۔

وہ گہری نیند م

میں سو رہا تھا جب یہ خواب دیکھتے نیند سے چلایا تھا ۔۔۔

گہری سرخ گرین آنکھوں میں خوف تھا جبکہ ماتھے پر پسینہ آ رہا تھا ۔۔۔۔

کیا کرو کس کو بتاٶ اس رات جو بھی ہوا بس میں بہک گیا تھا ورنہ وہ تو اچھی لڑکی تھی ۔۔۔۔

کتنی دفعہ میں معافی مانگ چکا ہو میں ۔۔۔۔

میرا رب جانتا ہے اس رات جو بھی ہوا میں ہوش میں کہاں تھا ۔۔۔۔

وہ مسلسل اپنی گرین آنکھوں سے آنسو بہاتہ ہوا بولا۔۔۔۔۔

ہاں روحا کے پاس جاتا ہو اسے بتا دو گا سب کچھ ایک وہی ہے جو میری سن سکتی ہے ۔۔۔۔

وہ بیڈ سے اٹھتا شوز پہنتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جبکہ پیسنہ اسے بار بار آہا تھا ۔۔۔۔

————————————————————

آ۔پ یہاں آدھی رات کو ۔۔۔۔

روحا جو گہری نیند میں سو رہی تھی جب اس نے اپنے قریب لیٹے سرخ گرین آنکھیں لیے صام کو دیکھتی بولی ۔۔۔

جو گھبرایا سا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

مس کالی اگر میں تمہیں کوئ بات بتاٶ ا۔۔۔۔۔

ہمیں کچھ نہیں سنا صام آپ جاۓ یہاں سے ہمارا سر بہت درد کر رہا ۔۔۔

ابھی سوۓ ہی تھے ہم صبح بات کرے گے ۔۔۔۔

روحا صام کی طرف بنا دیکھے کروٹ چیج کیے بولی تھی ۔۔۔۔

سن تو لو میری بات یار میں نے ضروری بتانی تھی ۔۔۔۔

صام روحا کو کمر سے پکڑتا اس کے شولڈر پر تھوڑی رکھتا بولا تھا ۔۔۔۔۔

صام ہمارے سر میں درد بہت ہے آنکھیں درد کر رہی ہے آپ سونے دے ہمیں بات ہم پھر کر لیے گے ۔۔۔۔

روحا بیزار ہوتی سرخ آنکھیں لیے بولی تھی ۔۔۔۔۔

اچھا پھر مجھے اپنے پاس سونے دو پکا وعدہ جلدی سو جاٶ گا پلیز۔۔۔۔۔

صام اس کا رخ اپنی طرف کرتا التجا کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

صام کچھ ہوا ہے کیا آپ تبھی بچوں جیسا ری ایکٹ کرتے جب پریشان ہو بتاۓ ہمیں۔۔۔۔

روحا اچانک پریشان ہوتی بولی تھی جانتی تھی اس کو رگ رگ سے ۔۔۔۔

ہاں پریشانی تو ہے پر سو جاٶ مس کالی ویسے بھی آج تم ٹیشن میں رہی ہو ۔۔۔

چلو سو جاٶ میں کچھ نہیں کرتا بس میری سانسوں کے قریب رہو ۔۔۔

اتنا تو کر سکتی ہو میرے لیے ۔۔۔۔

صام روحا کو اپنے قریب لاتا سرخ آنکھیں لیے بولا تھا ۔۔۔۔۔

وہ اسے اتنا قریب کر چکا تھا کہ روحا کے ہونٹ اس کے لبوں کو ٹچ کر رہے تھے ۔۔۔۔۔

روحا بھی بامشکل سانس لیتی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔۔

———————————————————–

ارے صام بے بی میں کیا سن رہی ہو یہ ۔۔۔۔

صام صبح ہوتے ہی اپنے روم میں آ گیا تھا بنا روحا کو بتاۓ ۔۔۔۔

وردہ بیگم اور آفندی صاحب سے اس نے رخصتی کی بات کر لی تھی جس پر دونوں ہی راضی ہو گے تھے ۔۔۔۔

ابھی بھی صام لان میں فکشین کی تیاری کروا رہا تھا جب کومل غصہ سے آتی بولی تھی ۔۔

کیا سن رہی ہو ۔۔۔

یہاں پر پھول سیٹ کرو مس کالی کو بلیک روز اچھے لگتے ہے ۔۔۔

وہ پھولوں والے کے ساتھ بزی ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

تم ایسا نہیں کر سکتے صام بے بی بھول گے وہ رات ا۔۔۔۔

کومل اس رات کچھ نہیں ہوا تھا سمجھی جھوٹ بول رہی ہو میں اتنا بھی بے ہوش نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔

صام آفندی کو اپنے ہوش قابو میں کرنے آتے ہے ۔۔۔۔

شام کو آ جانا مجھے اچھا لگے گا ۔۔۔

صام کومل کی بات کاٹتا سکون سے بولا ۔۔۔

ہوا تھا اس رات سب کچھ مسٹر صام آفندی تم نہیں مان رہے مت مانو لیکن تمہاری وہ کالی بیوی ضرور مانے گی ۔۔۔۔

کومللللللل۔۔۔۔

حد میں رہو تم دوست ہو دوست ہی رہو ورنہ تم میرے روپ سے واقف نہیں ہو جاٶ یہاں سے شکل نہیں دیکھنا چاہتا میں ۔۔۔۔

کومل جو نفرت سے بول رہی تھی جب صام غصہ سے دھاڑا تھا ۔۔۔۔

اس کی دھاڑ سنتے سب وہی چپ کھڑے ہو گے تھے ۔۔۔۔۔

اب میں تمہیں بتاٶ گی کومل کیا کرتی ہے مسڑ صام ۔۔

کومل صام کو دمھکی دیتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔۔۔

————————————————————

جی یافی آپی آپ آی نہیں کیا ۔۔۔۔۔

شام ہونے والی ہے آ جاۓ ہم نے باتیں کرنی ہے ۔۔۔

روحا روم میں چکر لگاتے ہوۓ بولی ۔۔۔۔

یار انیجل کچھ دیر بعد رخصتی ہے تم ریلکس ہو اتنا ورنہ میں سوچ رہی تھی تم غصہ میں ہو گی ۔۔۔

یافی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

ارے جو شرط ہم نے رکھی ہے آپ کا بھائ کبھی پوری نہیں کر پاۓ گا ۔۔۔۔۔

تو بھول جاۓ رخصتی ہو گی ۔۔۔۔

آ جاۓ ہم بھی کپڑے جیچ کر لے ابھی باتھ لیا ہے ۔۔۔

روحا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ باتھ روب پہنے بولی تھی ۔۔۔۔

کیا شرط رکھ لی تم نے جو صام جیسا بندہ نہیں پوری کر سکتا ۔۔۔

یافی حیران ہوتی بولی تھی ۔۔۔

آ۔آپ آ جاۓ پھر بتاتی ہو ۔۔۔۔

روحا سامنے بیڈ پر پڑی چیز دیکھتی ہکلاتے ہوۓ کہتی فون کاٹ کر چکی تھی ۔۔۔

ت۔۔۔ہیلو ہلیو افففف دونوں پاگل ہے پتہ نہیں کیا بننے گا ان کا ۔۔۔۔

یافی جو بول رہی تھی تبھی فون کاٹ ہوتے دیکھ جنجھلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

———————————————————-

م۔مطلب آج رخصتی پکی ہاے ہم نے تو بس ایسے ہی شرط رکھ دی اب کیا ہو گا ۔۔۔۔

روحا پریشان ہوتی بولی تھی جبکہ ماتھے پر پیسنہ آ گیا تھا ۔۔۔۔

آہہہ۔۔۔شششش

مس کالی شرط پوری ہوئ اب تو رخصتی ہو گی آج کی رات اس کے بعد تم اور میں اور یہ خاموشی ہو گی ۔۔۔۔

روحا کو اپنے پیٹ پر بھاری سفید ہاتھ محسوس ہوۓ تھے جب صام اپنی گرین آنکھوں میں چمک لاۓ سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

روحا کی جان لبوں پر آ گی تھی رخصتی کا سوچ کر ہی ۔۔۔۔

می۔۔۔۔

کتنی پیاری خوشبو آ رہی ہے ۔۔۔۔

روحا جو گلا ترک کرتی بولنے والی تھی جب صام اپنے لب اس کے شولڈر پر رکھتا گہرا سانس لیتا بولا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اس کا ہاتھ اب باتھ روب کی ڈروی پر آ چکا تھا ۔۔۔۔

صام کی حرکت پر روحا کی سانس اٹک گی تھی ۔۔۔۔